ناول: وارث کون

باب دوم: شکستہ تقدس

قسط نمبر 9

مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°

فلیٹ کے نیم تاریک کمرے میں عائشہ بیڈ پر ساکت لیٹی تھی، مگر اس کا ذہن یادوں کے تپتے ہوئے صحراؤں میں بھٹک رہا تھا۔
قسمت کے کھیل بھی کتنے نرالے ہوتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب وہ اپنے ماں باپ کے بھرے پُرے گھر میں رہتی تھی تو اس کے اعصاب پر صرف نقیب کا سحر سوار تھا۔ اسے لگتا تھا کہ نقیب ہی اس کی منزل ہے، اس کی کل کائنات ہے۔ مگر آج، جب وہ اسے پا چکی تھی، تو نقیب کا خیال خواب ہو چکا تھا اور والدین کے آنسو، بھائیوں کی محبت اور گھر کی وہ دہلیز جسے اس نے اپنے پیروں تلے روندا تھا، اب اسے چین سے سونے نہیں دیتی تھی۔ یہ پچھتاوا اس کے اپنے غلط فیصلے کا وہ بوجھ تھا جو اب اسے تاحیات اٹھانا تھا۔
وہ انہی تلخ سوچوں میں گم آنکھیں موندے پڑی تھی کہ اچانک خاموشی کو چیرتی ہوئی دروازے پر ایک دستک ہوئی۔

“وہ ہڑبڑا کر اٹھی، چہرے پر تھکن کے آثار سمیٹے دروازے کے قریب پہنچی اور دھیمے لہجے میں پوچھا، “کون ہے؟
دروازہ کھولو،” باہر سے نقیب کی آواز آئی۔ عائشہ نے جیسے ہی کواڑ کھولے، اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ سامنے کھڑا نقیب کسی بےحال مسافر کی طرح دکھائی دے رہا تھا۔”

اس کی قمیض مٹی سے اٹی ہوئی تھی، بال بکھرے ہوئے تھے اور چہرے پر موجود سوجھن اور نیلے نشانات چیخ چیخ کر بتا رہے تھے کہ وہ وحشیانہ تشدد کا شکار ہو کر آیا ہے۔

نقیب! یہ… یہ کیا حال بنا رکھا ہے آپ نے؟” عائشہ کے لہجے میں اضطراب اور پریشانی کی لہر دوڑ گئی۔”

نقیب نے کوئی جواب نہیں دیا، وہ ایک ہارے ہوئے جواری کی طرح لڑکھڑاتے قدموں سے کمرے میں داخل ہوا اور سیدھا بیڈ پر جا کر ڈھیر ہو گیا۔ اس کی خاموشی عائشہ کے ڈر کو مزید بڑھا رہی تھی۔

نقیب! آپ کچھ بول کیوں نہیں رہے؟ کیا کسی سے جھگڑا ہوا ہے؟ آپ کو اس طرح کس نے مارا؟” عائشہ کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی، وہ اس کے قریب آ کر بیٹھ گئی۔”

“جھگڑا نہیں ہوا عائشہ… میں مار کھا کر آیا ہوں،” نقیب نے نہایت نقاہت اور بھرائی ہوئی آواز میں بتایا، “میرے اپنے بھائیوں نے مجھے اس حال تک پہنچایا ہے۔”

مگر کیوں؟ وہ اتنے ظالم کیسے ہو سکتے ہیں؟ آپ نے ان کا کیا بگاڑا تھا؟” عائشہ نے سسکتے ہوئے پوچھا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ سگے بھائی اپنے بھائی کا یہ حال کر سکتے ہیں۔”

،نقیب نے ایک سرد آہ بھری

میں تمہارے زیور کے پیسے بچانا چاہتا تھا۔ میں نے سوچا ایک بار پھر اپنی وراثتی زمین کا مطالبہ کروں تاکہ ہمیں اپنا سونا نہ بیچنا پڑے۔”

“مگر زمین تو دور کی بات، میرا مطالبہ سنتے ہی وہ مجھ پر ٹوٹ پڑے۔

“،اللہ غارت کرے ان ظالموں کو! کتنا بے دردی سے مارا ہے آپ کو”

عائشہ نے تڑپ کر اپنے دوپٹے کے پلو سے اس کے زخموں کو سہلانا چاہا، مگر نقیب نے اسے روک دیا اور ایک مصنوعی بوجھل پن کے ساتھ اٹھ کر بیٹھ گیا۔

“میری نیت صاف تھی عائشہ… میں چاہتا تھا کہ زمین مل جائے اور زیور کے پیسوں سے ہم گھر کھڑا کر لیں، مگر شاید مقدر کو کچھ اور ہی منظور ہے۔”

نقیب نے مکر کا ایک اور پتہ پھینکا۔

آپ انہیں اللہ پر چھوڑ دیں نقیب، اللہ خود ان سے حساب لے گا،” عائشہ نے اسے دلاسا دیا۔”

،نقیب نے پینترا بدلا

پھر میں گاؤں کے نمبردار کے پاس گیا۔ انہوں نے بھائیوں کو بہت ڈانٹا، مگر وہ نہیں مانے۔ وہ پیسوں کا مطالبہ کر رہے تھے۔”

مجبوراً مجھے زمین کے حصول کے لیے وہی رقم انہیں دینی پڑی جو زیور بیچ کر ملی تھی۔ اچھی بات یہ ہے کہ اب ہمیں پانچ مرلے کے بجائے دس مرلے کا پلاٹ مل گیا ہے۔

“میں اینٹوں اور ریت کا آرڈر بھی دے آیا ہوں، کل سے مٹیریل گرنا شروع ہو جائے گا۔ بس ایک دو دنوں میں اسے ادائیگی کرنی ہے۔

نقیب کی اس گھڑی ہوئی کہانی نے عائشہ کے شک کو امید میں بدل دیا۔

“چلیں، آپ دل چھوٹا نہ کریں۔ ہم پرسوں خود وہاں جائیں گے، میں وہ جگہ دیکھ لوں، پھر ہم باقی زیور بھی بیچ دیں گے۔ مکان بن جائے تو سب دکھ ختم ہو جائیں گے۔”

عائشہ اپنی اس شرط پر اب بھی قائم تھی کہ وہ خود زمین دیکھے گی۔

نقیب کے دل میں ایک فاتحانہ مسکان ابھری، مگر چہرے پر سنجیدگی برقرار رکھی۔
ہاں، یہ بہتر ہوگا۔ سچ تو یہ ہے کہ پچھلی بار سنار نے مجھے بہت کم پیسے دیے۔ انہیں شک ہوتا ہے کہ شاید چوری کا مال ہے۔”

“تم ساتھ چلو گی تو زیور کی قیمت بھی اچھی لگ جائے گی اور کسی کو شک بھی نہیں ہوگا۔

ٹھیک ہے، اللہ بہتر کرے گا۔ آپ آرام سے بیٹھیں، میں آپ کے لیے کھانا لاتی ہوں،” عائشہ یہ کہتے ہوئے کچن کی طرف بڑھ گئی۔”
وہ ایک نیک سیرت، وفادار اور باکردار لڑکی تھی، جس کی پاکبازی پر شک کی گنجائش نہیں تھی۔ مگر اس کی بدنصیبی دیکھیے کہ زندگی کے ایک موڑ پر ہونے والی ایک لمحے کی خطا اور ایک جذباتی فیصلے نے اسے نقیب جیسے مکار اور جھوٹے انسان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا۔ وہ اپنے ہاتھوں سے اپنی بربادی کا سامان (زیور) لٹانے کی تیاری کر رہی تھی، یہ جانے بغیر کہ جس گھر کا خواب اسے دکھایا جا رہا ہے، اس کی بنیادیں صرف دھوکے کی ریت پر کھڑی ہیں۔

°°°°°°°°°°

اگلے دن کا سورج طلوع ہوتے ہی نقیب اپنے مکر و فریب کے جال کو آخری شکل دینے کے لیے گھر سے نکل گیا۔ اسے معلوم تھا کہ عائشہ جیسی باشعور لڑکی کو محض باتوں سے بہلانا اب ممکن نہیں، اسے کچھ ٹھوس دکھانا ہوگا۔ بمبلی گاؤں پہنچ کر اس نے نمبردار کی خوشامد کی اور اپنے بھائیوں کے سامنے ایک بار پھر مظلومیت کا ناٹک رچایا، یہاں تک کہ وہ اس کے حصے کی زمین پر اینٹوں کی ایک ٹرالی ڈلوانے پر راضی ہو گئے۔ وہ دس مرلے کا قطعہ زمین، جو کل تک اس کے بھائیوں کے قبضے میں تھا، اب نقیب کی عیاری کا اسٹیج بن چکا تھا۔ اس نے زمین کے گرد نشان لگوائے اور اینٹوں کا ڈھیر یوں لگایا جیسے واقعی کسی خواب کی بنیاد رکھی جا رہی ہو۔

اگلی صبح، دھول اڑاتی اور شور مچاتی اپنی اس پرانی، خستہ حال موٹر سائیکل پر نقیب عائشہ کو لے کر گاؤں کی طرف روانہ ہوا۔ عائشہ، جو اپنے خوابوں کے بوجھ تلے دبی خاموش بیٹھی تھی، ہر جھٹکے کے ساتھ اپنی تقدیر کے بدلنے کی دعا مانگ رہی تھی۔ گاؤں کی کچی سڑکوں سے گزرتے ہوئے جب وہ اس ویران سے پلاٹ پر پہنچے، تو نقیب نے فاتحانہ انداز میں اشارہ کیا،
“دیکھو عائشہ! یہ ہے ہماری اپنی زمین۔ اور وہ دیکھو، اینٹیں آ چکی ہیں۔ اب ہمارا اپنا گھر صرف چند دیواروں کی دوری پر ہے۔”

عائشہ نے نم آنکھوں سے ان بکھری ہوئی اینٹوں اور بنجر زمین کو دیکھا۔ اسے وہاں مٹی اور پتھر نہیں، بلکہ اپنے پچھتاووں کا مداوا نظر آ رہا تھا۔ اسے یقین ہو گیا کہ نقیب سچا ہے اور اس کی دی ہوئی قربانی اب رنگ لانے والی ہے۔ اس اعتماد نے اس کے اندر کے رہے سہے خوف کو بھی ختم کر دیا اور وہ نادانی کی اس نہج پر پہنچ گئی جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا۔

اسی دوپہر، وہ نقیب کے ساتھ شہر کے ایک سنار کی دکان پر موجود تھی۔ عائشہ نے بوجھل دل کے ساتھ اپنا آخری زیور بھی بیچ دیا۔ جب سنار نے نوٹوں کی گڈیاں نقیب کے حوالے کیں، تو عائشہ کو محسوس ہوا جیسے اس کے وجود سے تحفظ کی آخری چادر بھی کھینچ لی گئی ہو۔ مگر اسے نقیب کی محبت پر بھروسہ تھا، یہی اس کی سب سے بڑی خطا تھی۔

سونا بکتے ہی فضا بدل گئی۔ عائشہ کو اندازہ نہیں تھا کہ اب تک نقیب کے لہجے میں جو شہد جیسی مٹھاس اور برتاؤ میں جو ریشمی نرمی تھی، وہ دراصل اس کے بیگ میں چھپے سونے کی مرہونِ منت تھی۔ زیور کی چمک نے نقیب کی ہوس کو محبت کا لبادہ اوڑھا رکھا تھا۔ اب جبکہ عائشہ بالکل خالی ہاتھ ہو چکی تھی، نقیب کا وہ لالچ جو اسے عائشہ کا اسیر بنائے ہوئے تھا، پل بھر میں دم توڑ گیا۔
وہ بھرم جو ایک مہینے سے قائم تھا، اب ریزہ ریزہ ہونے والا تھا۔ عائشہ سمجھ رہی تھی کہ حالات اب بہتر ہوں گے، لیکن حقیقت یہ تھی کہ اس کی بربادی کا اصل باب اب شروع ہوا تھا۔ اب نقیب کو کسی ناٹک کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ شکار مکمل طور پر اس کے جال میں پھنس چکا تھا اور اس کی قیمت (سونا) بھی وصول ہو چکی تھی۔

°°°°°°°°°°

ایک اور ماہ وقت کی دبیز چادر تلے دب گیا اور نقیب نے بالآخر وہ خوشخبری سنا ہی دی جس کا عائشہ کو شدت سے انتظار تھا، “گھر مکمل ہو گیا ہے”۔
یہ عائشہ کے لیے محض ایک خبر نہیں، بلکہ اس کے پچھتاووں کے زخم پر مرہم جیسا تھا۔ وہ اس دن کو اپنی زندگی کا سب سے خاص موڑ سمجھ رہی تھی، کیونکہ اب وہ اس عارضی اور بدبودار فلیٹ سے نکل کر اس چھت تلے منتقل ہونے والی تھی جسے وہ مان کے ساتھ “اپنا گھر” کہہ سکتی تھی۔

عائشہ اور نقیب نے تندہی سے فلیٹ کا سامان سمیٹا، ایک کرائے کی گاڑی پر لدا اور پرامید نظروں کے ساتھ گاؤں کی طرف روانہ ہو گئے۔ عائشہ کے ذہن میں ایک چھوٹے مگر خوبصورت گھر کا نقشہ تھا، جہاں سفید دیواریں اور اس کی محنت کی خوشبو ہوگی۔ مگر جیسے ہی گاڑی بمبلی گاؤں کے مضافات میں کھیتوں کے بیچ رکی، عائشہ کا دل سینے میں دھک سے رہ گیا۔

سامنے جو منظر تھا، وہ گھر نہیں بلکہ اینٹوں اور مٹی کا ایک بدوضع ڈھانچہ تھا۔ ویران کھیتوں کے بیچوں بیچ گارے سے بنی وہ دیواریں کھڑی تھیں جن پر پلستر کا نام و نشان تک نہیں تھا، گویا وہ دیواریں اپنی ہی بدحالی پر نوحہ کناں ہوں۔ دو کمرے، جن کی چھتوں پر سیمنٹ کے گندے بالے اور اینٹیں رکھی گئی تھیں اور ان کے اوپر کچی مٹی کی ایک تِہہ ڈال دی گئی تھی جو ذرا سی بارش میں بہہ جانے کو تیار تھی۔
فرش کسی قبرستان کی کچی مٹی کی طرح ناہموار اور غیر متوازن تھا، جہاں قدم رکھتے ہی مٹی اڑنے لگتی۔ مکان کے گرد چار دیواری کا نام و نشان تک نہیں تھا، گویا عائشہ کی پرائیویسی اور تحفظ کو سرِ عام نیلام کر دیا گیا ہو۔ نہ کچن، نہ واش روم، صرف دو اندھیرے کمرے جن کے لوہے کے دروازے اس قدر زنگ آلود اور بوسیدہ تھے کہ لگتا تھا کسی کباڑ خانے سے اٹھا کر جبراً یہاں نصب کر دیے گئے ہوں۔

عائشہ ساکت کھڑی اس اینٹوں کے ڈھیر کو دیکھ رہی تھی جو اس کے چھ تولے سونے اور تمام تر قربانیوں کا حاصل تھا۔ اس کی آنکھیں ضبط کے باوجود بھر آئیں اور آواز میں ایک لرزہ پیدا ہو گیا،
“نقیب! تم نے تو کہا تھا کہ گھر مکمل ہو گیا ہے… کیا یہ ہے تمہارا مکمل گھر؟”

نقیب نے صورتحال کی سنگینی بھانپتے ہوئے فوراً ایک مصنوعی مسکان سجائی اور عائشہ کا ہاتھ تھامنے کی کوشش کی،
“پریشان کیوں ہوتی ہو میری جان؟ دیکھو، بنیادی ڈھانچہ تو کھڑا ہو گیا ہے نا، باقی کام بھی میں آہستہ آہستہ کما کر مکمل کر لوں گا۔”

عائشہ نے یوں بے دردی سے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچا کہ نقیب کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ “یہ گھر نہیں ہے نقیب! تم نے میرا چھ تولہ سونا لگا دیا اور بدلے میں یہ دو کچے کمرے دیے جن کا فرش تک نہیں؟ کیا چھ تولے سونے کی وقعت تمہاری نظر میں صرف اتنی ہی تھی؟”

نقیب کی مسکان کافور ہو گئی، مگر مکر و فریب کی عادت نے اسے خاموش نہیں رہنے دیا۔ اس نے پینترا بدلا،
“…تمہیں اندازہ نہیں ہے عائشہ، بازار میں آگ لگی ہے، مہنگائی نے کمر توڑ دی ہے”

نقیب! خدا کا خوف کرو!” عائشہ چیخ پڑی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے اور ماتھے پر غصے اور صدمے کی شکنیں ابھر آئیں۔”

پہلے تم تھوڑے سے سامان کے نام پر میری نقدی کے تین لاکھ ہڑپ کر گئے اور اب یہ گارے کی دیواریں کھڑی کر کے کہہ رہے ہو کہ چھ تولہ سونا اس میں صرف ہو گیا؟”

“کیا تم نے مجھے بالکل ہی احمق سمجھ رکھا ہے؟

،عائشہ کے صبر کا بندھن آج ٹوٹ چکا تھا۔ وہ حقیقت کو پہچان چکی تھی کہ نقیب اسے قدم قدم پر لوٹ رہا ہے۔ نقیب نے ایک بار پھر منافقت کا لبادہ اوڑھنے کی کوشش کی

“…ایسا نہیں ہے عائشہ… یقین کرو، تمہارا ایک ایک پیسہ مجھ پر حرام ہے… میں تو بس”

“بس کر دیں نقیب!” عائشہ نے دوپٹے سے اپنے آنسو پونچھے، اس کی آواز میں اب التجا نہیں بلکہ ایک گہری بیزاری تھی۔ “یوں کب تک مجھے بے وقوف بناتے رہیں گے؟”

وہ بے دلی اور بوجھل قدموں کے ساتھ اس مٹی کے ڈھیر کی طرف بڑھ گئی۔ اس کا جی چاہ رہا تھا کہ وہیں زمین پر بیٹھ کر دھاڑیں مار کر روئے اور اپنے ابو کو پکارے۔

،وہ اپنے اندر کی خلش کو زبان دینا چاہتی تھی
دیکھیں ابو! آپ کی عائشہ کیسے برباد ہو رہی ہے… جس نے آپ کی پگڑی اچھالی، وہ آج خود پیروں تلے روندی جا رہی ہے۔”

“دیکھیں ابو، آپ کا کہا سچ ہو رہا ہے، میں دن بدن خسارے کی دلدل میں ڈوبتی جا رہی ہوں۔

نقیب پیچھے کھڑا بالکل ساکت اور خاموش رہا، اس کی نظریں عائشہ کے جھکے ہوئے شانوں پر جمی تھیں۔ اسے اس بات کا ذرہ برابر افسوس نہیں تھا کہ اس نے ایک جیتی جاگتی لڑکی کی زندگی برباد کر دی، اسے تو بس اس بات کی فکر تھی کہ اب عائشہ کو اگلے جھوٹ کے لیے کیسے تیار کرے۔ اسے عائشہ اس وقت ایک ایسی مظلوم معلوم ہو رہی تھی جو اپنا مقدمہ خاموشی سے خدا کی عدالت میں پیش کر کے واپس لوٹ رہی ہو۔

°°°°°°°°°°

رات کے پچھلے پہر کا سناٹا بمبلی گاؤں کے ان کچے کمروں میں کسی زہریلے ناگ کی طرح رینگ رہا تھا۔ گھڑی کی سوئیاں تین بجا رہی تھیں۔ کمرے کے ایک کونے میں لگے زیرو واٹ کے بلب کی مدہم اور زرد روشنی دیواروں پر لرزتے ہوئے سائے بنا رہی تھی، جو عائشہ کی منتشر سوچوں کی عکاسی کر رہے تھے۔ وہ بیڈ پر لیٹی تھی، آنکھیں موندے، مگر نیند اس کی تھکی ہوئی پلکوں سے کوسوں دور تھی۔ دن بھر کی جسمانی مشقت اور سامان کی ترتیب نے اسے توڑ کر رکھ دیا تھا، مگر روح پر چھائی ہوئی ویرانی اور پچھتاوے کا بوجھ اسے نڈھال کر رہا تھا۔

کافی دیر تک کروٹیں بدلنے کے بعد، عائشہ ایک دم اٹھ کر بیٹھ گئی۔ اس نے پہلو میں لیٹے نقیب پر ایک نظر ڈالی۔ وہ چرس کے خمار میں غرق، دنیا و مافیہا سے بے خبر اوندھے منہ پڑا تھا۔ عائشہ نے لرزتے ہاتھوں سے اس کے بازو کو چھوا، جب اسے یقین ہو گیا کہ نقیب نیند کی گہری آغوش میں ہے، تو اس نے کمال احتیاط سے اس کی جیب میں ہاتھ ڈالا۔ وہاں سے صرف چار سو روپے کے میلے نوٹ برآمد ہوئے، جو اس کے شک کو مٹانے کے لیے کافی نہیں تھے۔
وہ خاموش بیٹھی رہی، سانس روکے اس انتظار میں کہ نقیب کروٹ بدلے۔ تھوڑی دیر بعد جب نقیب نے نیم بے ہوشی میں سیدھا ہو کر لمبا سانس لیا، تو عائشہ دبے قدموں بیڈ کی دوسری سمت گئی۔ اس بار جب اس نے نقیب کی دوسری جیب ٹٹولی، تو چند مڑے تڑے نوٹوں کے ساتھ ایک چھوٹی سی دھاتی چابی اس کے ہاتھ آئی۔ اس چابی کو دیکھتے ہی عائشہ کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک ابھر آئی اور دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ یہ اس صندوق کی چابی تھی جسے نقیب اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتا تھا اور جسے اس نے آج تک عائشہ کے سامنے نہیں کھولا تھا۔

عائشہ نے چابی مضبوطی سے تھامی اور آہستگی سے لوہے کے صندوق کی طرف بڑھی۔ نقیب نشے کی جس وادی میں تھا، وہاں سے اسے واپسی کے لیے کسی صورِ اسرافیل کی ضرورت تھی، مگر عائشہ پھر بھی ایک ایک قدم پھونک پھونک کر رکھ رہی تھی۔ جیسے ہی اس نے تالے میں چابی گھمائی، لوہے کی وہ ہلکی سی چڑچڑاہٹ رات کے سناٹے میں اسے کسی دھماکے کی طرح محسوس ہوئی۔
صندوق کھلا تو اوپر کپڑوں کے دو جوڑے اور چند تہیں لگی چادریں نظر آئیں۔ عائشہ نے انہیں ہٹایا تو اس کے قدموں تلے سے زمین نکل گئی۔ سامنے موت اور بربادی کا سارا سامان سجا تھا۔ ایک لاکھ روپے کی کڑکتی ہوئی گڈی اور کچھ متفرق نوٹ۔ چرس کا ایک بڑا سیاہ گولہ اور ہیروئن کی چار سفید پڑیاں۔ سگریٹ کے دو پیکٹ اور وہ مخصوص ایلومینیم فوائل جو ایک نشئی کی کل کائنات ہوتی ہے۔

عائشہ کے چہرے پر غصے، دکھ اور نفرت کی لہریں ایک ساتھ دوڑ گئیں۔ اسے یقین ہو گیا کہ یہ وہی پیسے ہیں جو اس کے زیور کو بیچ کر حاصل کیے گئے تھے اور جنہیں نقیب مکان کی تعمیر کا نام دے کر نشے کی بھٹی میں جھونک رہا تھا۔

غصے کی شدت میں اس کا جی چاہا کہ کوئی بھاری پتھر اٹھائے اور اس مکار شخص کا سر کچل دے، مگر اگلے ہی لمحے اس کی آنکھوں سے گرم آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی۔

،اس کے دل سے ایک خاموش اور گہری آہ نکلی
کاش! میں نے بھائی فرحان کی باتوں کو سمجھا ہوتا۔ کاش! میں نے اپنے گھر کی پاکیزہ دہلیز پار کرنے سے پہلے اپنے باپ کا ایک بار سوچا ہوتا۔”

“کاش! میں اس نشئی کے میٹھے زہر میں نہ گھلی ہوتی۔

مگر اب اس کاش کا کوئی مداوا نہیں تھا۔ اس نے اپنی واپسی کے تمام پل خود اپنے ہاتھوں سے جلا دیے تھے۔ ایک بیٹی جب بیاہ کر جاتی ہے تو اس کے پیچھے باپ کا سایہ اور بھائیوں کا مضبوط کندھا ہوتا ہے، مگر عائشہ نے تو وہ کندھے خود ہی جھٹک دیے تھے۔ وہ اب ایک ایسی لاوارث عورت بن چکی تھی جس کے پاس پچھتاوے کے لیے آنسو تو تھے، مگر سر چھپانے کے لیے کوئی معتبر دیوار نہیں تھی۔

اس نے تھرتھراتے ہاتھوں سے وہ پیسے اپنی تحویل میں لیے، چرس اور ہیروئن کے پیکٹ اٹھائے اور کسی سائے کی طرح اپنی الماری کی طرف بڑھی۔ اس نے وہ سارا سامان اپنے ذاتی دراز میں رکھ کر اسے لاک کر دیا۔ یہ نقیب کے خلاف اس کی پہلی خاموش جنگ تھی۔ پھر واپس پلٹ کر اس نے صندوق اسی طرح بند کیا اور جا کر بیڈ پر لیٹ گئی۔
رات کا آخری پہر تھا، کچی چھت سے مٹی کی بو آ رہی تھی اور عائشہ کی آنکھوں میں نیند کے بجائے سوچوں کا ایک طوفان برپا تھا۔ وہ زندگی کے اس مقام پر کھڑی تھی جہاں پیچھے مڑ کر دیکھنے کی ہمت تھی اور نہ ہی آگے بڑھنے کا حوصلہ۔ اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ کچا مکان نہیں، بلکہ اس کے ارمانوں کی وہ قبر ہے جس میں اسے جیتے جی دفن کر دیا گیا ہے۔

°°°°°°°°°°

بمبلی گاؤں کی فضاؤں میں صبحِ نو کا اجالا پھیل چکا تھا۔ درختوں کی اوٹ سے چھنتی ہوئی سورج کی پہلی کرنیں کچے صحن میں لکیریں سی بنا رہی تھیں۔ پرندوں کی چہچہاہٹ اور دور کہیں سے آتی مویشیوں کی گھنٹیوں کی آواز ایک روایتی پرسکون صبح کا پتہ دے رہی تھیں، مگر ان دو دیواروں کے اندر، جنہیں عائشہ نے اپنی زندگی کی پونجی لٹا کر گھر سمجھا تھا، ایک ہولناک طوفان دبے پاؤں دستک دے رہا تھا۔

رات بھر کی جاگتی، روتی اور پچھتاتی عائشہ کمرے کے کونے میں پڑی ایک شکستہ سی کرسی پر ساکت بیٹھی تھی۔ اس کی سوجھی ہوئی آنکھوں میں اب آنسو نہیں، بلکہ ایک ایسی جھرجھری اور ٹھہراؤ تھا جو کسی بڑے حادثے سے پہلے فضا میں چھا جاتا ہے۔

نقیب کی آنکھ کھلی تو اس نے خواب آلود نظروں سے سامنے دیکھا۔ عائشہ کسی مجسمے کی طرح اسے تک رہی تھی۔ نقیب نے اکڑاہٹ دور کرنے کے لیے کروٹ بدلی اور نیم وا آنکھوں سے پوچھا،
“کیا بات ہے؟ یوں صبح صبح کیا دیکھ رہی ہو؟”

،عائشہ کے لبوں پر ایک زہریلی اور تکلیف دہ مسکراہٹ ابھری۔ اس نے نہایت دھیمے مگر برفیلے لہجے میں جواب دیا
“میں یہ دیکھ رہی ہوں کہ میں کتنی نادان تھی… کتنی جاہل تھی میں، جو تمہارے جیسے شیطان کو فرشتہ سمجھ کر اپنی جنت اجاڑ آئی۔”

نقیب کی آنکھیں جھٹکے سے کھل گئیں۔ یہ شادی کے بعد پہلا موقع تھا کہ عائشہ نے اسے آپ کے بجائے تم کہہ کر مخاطب کیا تھا۔ یہ صرف ایک لفظ کی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ اس عزت اور تقدس کا خاتمہ تھا جو عائشہ نے اس رشتے سے منسوب کر رکھا تھا۔ نقیب کو اپنی سماعت پر یقین نہیں آیا، وہ ہکا بکا ہو کر اسے دیکھنے لگا۔
تبھی عائشہ نے اپنا لرزتا ہوا ہاتھ سامنے کیا اور مٹھی کھول دی۔ ہتھیلی پر صندوق کی چابی چمک رہی تھی۔

“یہ لو… اپنے اس سیاہ صندوق کی چابی، جس میں تم نے میری بربادی کا سامان چھپا رکھا تھا۔”
نقیب کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس نے حواس باختہ ہو کر اپنی جیب ٹٹولی، مگر وہ خالی تھی۔ وہ ایک جھٹکے سے بیڈ سے اٹھا، اس کے چہرے کی رنگت یکسر بدل گئی۔ “تم نے میرا صندوق… میری اجازت کے بغیر کیوں کھولا؟” وہ غرایا۔

وہ تیزی سے عائشہ کے ہاتھ سے چابی جھپٹ کر صندوق کی طرف بڑھا، مگر پیچھے سے عائشہ کی آواز کوڑے کی طرح اس کی پیٹھ پر لگی،
“وہاں اب کچھ نہیں ہے نقیب! میں نے اپنے وہ پیسے لے لیے ہیں جو تم نے میرا سونا بیچ کر چھپائے تھے… اور تمہارا وہ زہر، وہ چرس، وہ ہیروئن… وہ سب میں نے مٹی میں ملا دیا ہے۔”

نقیب ایک پل کو ساکت ہوا، پھر وہ خونخوار نظروں سے مڑا۔ اس کی آنکھوں میں وحشت رقص کر رہی تھی۔
“وہ تمہارے پیسے نہیں تھے! وہ میں نے اپنے ایک دوست سے ادھار لیے تھے۔” اس نے ایک اور غلیظ جھوٹ بولا، مگر عائشہ اب اس سراب سے باہر آ چکی تھی۔

بہت بیوقوف بنا لیا تم نے نقیب… اب نہیں! اب میں تمہاری ان لوریوں میں نہیں آنے والی۔” عائشہ نے دو ٹوک جواب دیا۔”

پیسے کہاں ہیں؟ بتاؤ کہاں رکھے ہیں؟” نقیب دیوانوں کی طرح الماری کی طرف جھپٹا۔”

اس نے عائشہ کے کپڑے، جوڑے اور گھر کا بچا کھچا سامان باہر پھینکنا شروع کر دیا۔ وہ کسی زخمی درندے کی طرح ہر چیز کو الٹ پلٹ رہا تھا، مگر اسے وہ مطلوبہ رقم نہ ملی۔

“وہ اب تمہاری پہنچ سے دور ہیں نقیب۔ میں تمہیں اپنے باپ کی کمائی اس زہر میں نہیں اڑانے دوں گی۔”

عائشہ کی آواز میں اب ایک عجیب سی ہمت تھی، وہ ہمت جو انسان میں تب آتی ہے جب وہ سب کچھ ہار چکا ہو۔

میں آخری بار پوچھ رہا ہوں، پیسے کہاں ہیں؟ شرافت سے بتا دو ورنہ بہت پچھتاؤ گی!” نقیب نے دانت پیستے ہوئے اسے دھمکایا، اس کا چہرہ غصے سے تمتما رہا تھا۔”

“!کہا نا… اب تمہیں ایک روپیہ نہیں ملے گا”
“!یہ سننا تھا کہ نقیب کی انسانیت کا آخری پردہ بھی چاک ہو گیا۔ وہ چییتے کی طرح جھپٹا اور عائشہ کی گردن اپنے مضبوط ہاتھوں میں دبوچ لی۔ “پیسے دو مجھے
وہ اس کے چہرے کے قریب آ کر چلایا۔ عائشہ کا دم گھٹنے لگا، اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ کر نقیب کے ہاتھوں پر گرنے لگے، مگر اس نے اپنی نظریں نہیں جھکائیں۔

نہیں… دوں… گی،” بمشکل اس کے حلق سے یہ الفاظ نکلے اور اگلے ہی پل ایک زوردار تھپڑ عائشہ کے نازک گال پر پڑا۔”

اس تھپڑ کی گونج کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر عائشہ کے دل میں اتر گئی۔ یہ پہلا موقع تھا جب نقیب نے اس پر ہاتھ اٹھایا تھا۔ عائشہ کو یوں لگا جیسے اس کا سر چکرا گیا ہو، مگر اس کی روح کی چیخ ابھی باقی تھی۔
وہ تمہارے باپ کے پیسے نہیں تھے جو تم نشے پر اڑا دیتے… میں ایک روپیہ نہیں دوں گی!” عائشہ روتے ہوئے چلائی۔”

نقیب نے اسے بالوں سے پکڑا، کرسی سے کھینچا اور بے رحمی سے فرش پر پٹخ دیا۔ عائشہ کا سر فرش سے ٹکرایا تو اسے دنیا اندھیر ہوتی محسوس ہوئی۔ نقیب نے اپنی چھاتی کا پورا بوجھ اس کے پیٹ پر ڈال دیا، اپنا گھٹنا اس کے معدے پر رکھا اور پوری قوت سے ایک مکا اس کے جبڑے پر دے مارا۔ “پیسے دے!” وہ ہذیانی انداز میں چیخ رہا تھا۔

عائشہ درد کی شدت سے تڑپ اٹھی، اس کی دھاڑیں نکل گئیں، مگر وہ خاموش رہی۔ اس کی خاموشی نقیب کے غصے کو مزید ہوا دے رہی تھی۔

نقیب اسے ادھ موا چھوڑ کر اٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔ چند لمحوں بعد وہ ایک بھاری لوہے کے سریے کے ساتھ لوٹا۔ اس کی آنکھوں میں نشے کی طلب اور پیسوں کی ہوس نے اسے اندھا کر دیا تھا۔ اس نے دراز کے لاک پر سریے سے وار کرنے شروع کر دیے۔ لوہے پر لوہے کے ٹکرانے کی آوازیں عائشہ کی سسکیوں کے ساتھ مل کر ایک ہولناک نوحہ بنا رہی تھیں۔ عائشہ فرش پر پڑی کراہ رہی تھی، اس کا پورا جسم درد سے تھر تھر کانپ رہا تھا، مگر اس ظالم کو کوئی پرواہ نہیں تھی۔ اس نے دراز میں سوراخ کر دیے، تالا توڑ ڈالا، مگر دراز خالی تھا، عائشہ پہلے ہی پیسے وہاں سے غائب کر چکی تھی، ایسی جگہ چھپا چکی تھی جو نقیب کے گمان میں بھی نہیں تھی۔ دراز خالی دیکھ کر نقیب کی وحشت انتہا کو چھونے لگی۔

وہ پلٹا اور عائشہ کو بالوں سے پکڑ کر فرش پر گھسیٹنے لگا۔ عائشہ کی چیخیں کچی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آ رہی تھیں۔
“بتا کہاں ہیں پیسے؟ میری دوائی کہاں ہے؟”
عائشہ رو رہی تھی، وہ فریاد کر رہی تھی، مگر یہ مکان گاؤں سے ہٹ کر کھیتوں کے بیچ تھا، جہاں اس کی آواز سننے والا کوئی نہیں تھا۔ وہ بالکل تنہا تھی، اس مکار شخص کے رحم و کرم پر جس کے لیے وہ اپنے سگے بھائیوں کو چھوڑ آئی تھی۔

بتا پیسے کہاں ہیں؟ ورنہ آج میں تجھے جان سے مار دوں گا!” نقیب کو نشے کے توڑ نے پاگل کر دیا تھا۔”

اس نے عائشہ کو دیوار کے ساتھ لگایا اور پوری قوت سے ایک ٹھوکر اس کے پیٹ میں ماری۔ عائشہ کا سانس وہیں رک گیا۔ اسے لگا جیسے اس کی روح اس کے جسم سے جدا ہو رہی ہے۔ وہ نہ رو پا رہی تھی، نہ سانس لے پا رہی تھی۔ اس کی آنکھیں پتھرا گئیں۔

نقیب نے ایک اور لات اس کے منہ پر ماری۔ عائشہ کی ناک سے خون کا فوارہ چھوٹا اور اس کا سفید دوپٹہ سرخ دھبوں سے بھر گیا۔ وہ دوبارہ اسے بالوں سے پکڑنے کے لیے جھکا ہی تھا کہ اچانک دروازہ دھڑام سے کھلا۔

گاؤں کے دو تین مرد اور خواتین، جو شاید قریب کے کھیتوں میں کام کر رہے تھے، شور سن کر دوڑے چلے آئے۔ جب انہوں نے ایک نحیف لڑکی کو فرش پر لہولہان اور سسکتے دیکھا تو ان کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ ایک جوان نے لپک کر نقیب کو پیچھے دھکیلا اور اسے قابو کر لیا۔
میں مار ڈالوں گا اسے! یہ چور ہے!” نقیب اب بھی پھنکار رہا تھا۔”

،ایک ادھیڑ عمر شخص، جن کے بال سفیدی مائل تھے، ان کا ضبط جواب دے گیا، انہوں نے نقیب کے منہ پر ایک بھرپور تھپڑ رسید کیا
“بے غیرت انسان! شرم نہیں آتی تجھے ایک معصوم بچی پر ہاتھ اٹھاتے ہوئے؟”

دو خواتین دوڑتی ہوئی عائشہ کے پاس پہنچیں۔ اس کی حالت دیکھ کر ان کی سسکیاں نکل گئیں۔ عائشہ کا چہرہ سوج چکا تھا، ناک سے بہتا خون اس کے کپڑوں پر جم رہا تھا اور وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں تھی۔
“!اوہ میری بچی! تیرا ککھ نہ رووے بے غیرتا”
ایک عورت نے روتے ہوئے عائشہ کا سر اپنی گود میں رکھا۔ دوسری نے اپنے دوپٹے سے اس کے چہرے کا خون پونچھا۔
عائشہ نے جیسے ہی کسی عورت کا لمس محسوس کیا، اس کی ہمت جواب دے گئی۔ وہ ان خواتین کے سینے سے لگ کر اس طرح پھوٹ پھوٹ کر روئی کہ دیکھنے والوں کے کلیجے منہ کو آ گئے۔ وہ صرف درد سے نہیں رو رہی تھی، وہ اپنی تقدیر پر رو رہی تھی۔ وہ ان بھائیوں کو یاد کر رہی تھی جنہوں نے اسے پھولوں کی طرح پالا تھا اور آج وہ ایک اجنبی زمین پر، اجنبیوں کی گود میں سر رکھ کر اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کر رہی تھی۔

بس کر میری بچی… بس کر،” عورت اسے دلاسا دے رہی تھی، مگر عائشہ کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔”

مردوں نے نقیب کو گھسیٹتے ہوئے کمرے سے باہر نکالا اور اسے صحن میں لے جا کر باندھنے لگے۔

عائشہ ان خواتین کے سہارے بیٹھی تھی، مگر اس کا وجود کھوکھلا ہو چکا تھا۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ اس دنیا میں اب بالکل لاوارث ہے۔ اس کے پاس کوئی ایسا گھر نہیں تھا جہاں وہ واپس جا سکے۔ اس کے پاس کوئی ایسا کندھا نہیں تھا جس پر وہ مان سے سر رکھ کر کہہ سکے کہ “بھائی! مجھے بچا لو”۔ اس نے خود اپنے ہاتھوں سے وہ تمام رشتے کاٹ دیے تھے۔

وہ ایسی نہج پر تھی جہاں پچھتاوا بھی ایک عذاب تھا۔ اس نے نقیب کا ظلم بھی سہنا تھا اور اسی کی چھت تلے رہنا بھی تھا، کیونکہ واپسی کی تمام راہیں اس نے خود مٹی ڈال کر بند کر دی تھیں۔ وہ چاہتی تو چیخ چیخ کر دنیا کو اپنی مظلومیت بتاتی، مگر اس کا اپنا ضمیر اسے ملامت کر رہا تھا،
“عائشہ! یہ تمہارا اپنا انتخاب ہے… یہ وہ کانٹے ہیں جو تم نے خود اپنی راہ میں بوئے تھے۔”

وہ لہولہان، شکستہ اور بکھری ہوئی عائشہ اس کچے کمرے کے کونے میں پڑی یہ سوچ رہی تھی کہ کاش موت اسے اس ذلت سے پہلے آ جاتی۔ نقیب کا تشدد تو جسم پر تھا، مگر اپنی نظروں میں گر جانے کی تکلیف اس سے کہیں زیادہ جان لیوا تھی۔ وہ اب ایک ایسی زندہ لاش تھی جسے ہر روز نقیب کے رحم و کرم پر جینا تھا، اور یہی اس کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ تھا۔

°°°°°°°°°°

…جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *