ناول: وارث کون
باب چہارم: تشنہ دیدار
قسط نمبر 16
مصنف: زیاد اصغر زارون
°°°°°°°°°°
عائشہ اس وقت ایک ایسے گھر کے آنگن میں بیٹھی تھی، جس کی دیواریں اور فضائیں اس کے لیے بالکل اجنبی تھیں۔ اس خاموش بستی میں شام کے سائے گہرے ہوتے جارہے تھے۔ صحن میں دودھیا بلب کی تھرتھراتی زرد روشنی چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی، جو عائشہ کے چہرے کی زردی اور آنکھوں کی وحشت کو مزید نمایاں کر رہی تھی۔
عامر کی والدہ نے روایتی سادگی سے صحن کے وسط میں دو چارپائیاں آمنے سامنے بچھا رکھی تھیں۔ ایک پر وہ خود نیم دراز تھیں اور دوسری پر عائشہ کسی شکستہ مجسمے کی طرح سمٹی بیٹھی تھی۔ عامر کی والدہ، جو ایک تجربہ کار اور جہاندیدہ خاتون تھیں، اسے پانی کا گلاس پیش کر چکی تھیں، مگر حیا اور مروت کے باعث انہوں نے آتے ہی سوالات کی بوچھاڑ کرنا مناسب نہیں سمجھا، حالانکہ ان کے دل میں تجسس کا ایک طوفان مچل رہا تھا۔
عائشہ جب سے آئی تھی، اس کے لبوں پر مہرِ سکوت لگی تھی۔ وہ بس خالی نظروں سے زمین کو تک رہی تھی، جیسے وہاں اپنی برباد زندگی کا کوئی سراغ تلاش کر رہی ہو۔ عامر کی والدہ بار بار اسے دیکھتیں، اس کے میلے کپڑوں، گرد آلود بالوں اور تھکن سے چور وجود کا جائزہ لیتیں کہ شاید وہ خود ہی اپنی داستان سنا دے۔
،جب خاموشی کا بوجھ ناقابلِ برداشت ہو گیا، تو انہوں نے نہایت تحمل اور لرزتی ہوئی ہمدرد آواز میں پوچھا
“بیٹی! کس سے ملنا ہے تمہیں؟ اور اتنی دور، اس حال میں کہاں سے آئی ہو؟”
،عائشہ نے دھیرے سے سر اٹھایا، اس کی نظریں سوالیہ نشان بنی ہوئی تھیں۔ اس نے لرزتی آواز میں ہمت مجتمع کی
“یہ۔۔۔ یہ عامر کا ہی گھر ہے نا؟”
ہاں! گھر تو اسی کا ہے، لیکن تم کون ہو؟ اور اسے کیسے جانتی ہو؟” خاتون کے لہجے میں اب تجسس کے ساتھ ساتھ ہلکی سی تشویش بھی شامل ہو گئی تھی۔”
،یہ سنتے ہی عائشہ کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب اُمڈ آیا اور وہ بھرائی ہوئی، لرزتی آواز میں گویا ہوئی
وہ… وہ میرے مرحوم شوہر کے دوست ہیں۔ دونوں میرج ہال پر ایک ساتھ کام کرتے تھے۔”
میرے شوہر چند ماہ پہلے دنیا سے رخصت ہو گئے… سسرال والوں نے بیوہ سمجھ کر میرا سب کچھ چھین لیا اور مجھے بے یار و مددگار گھر سے نکال دیا۔
“میرا… میرا اس دنیا میں اب کوئی نہیں رہا اماں! مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کہاں جاؤں، کس کا در کھٹکھٹاؤں؟
وہ نظریں جھکائے، ہچکیاں دباتے ہوئے خاموش آنسو بہانے لگی۔ اس کی سسکیوں نے صحن کی خاموشی میں ایک ارتعاش پیدا کر دیا تھا۔
کیا عامر کو تمہارے شوہر کی وفات کا پتہ ہے؟” انہوں نے انتہائی ہمدردی سے پوچھا۔”
“،نہیں! وہ تو خود تین ماہ پہلے اچانک غائب ہو گئے تھے۔ میں بہت امید لے کر، بڑی مشکل سے یہاں تک پہنچی ہوں”
اس نے جب یہ بتایا تو عامر کی والدہ کا چہرہ بھی لرز اٹھا۔ وہ چند لمحے ساکت و صامت عائشہ کو دیکھتی رہیں، پھر تڑپ کر اٹھیں اور اس کے پہلو میں جا بیٹھیں، جیسے ایک ماں اپنی دکھی بیٹی کو سینے سے لگانا چاہتی ہو۔
چلو تم اب پریشان مت ہو بیٹی! اللہ مالک ہے۔ عامر آتا ہے تو پھر اس سے بات کرتے ہیں۔ تم یہ بتاؤ کہ کچھ کھاؤ گی؟” انہوں نے پیار سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔”
عائشہ نے نمناک آنکھوں سے انہیں دیکھا، بھوک اور نقاہت اب اس کے اعصاب پر غالب آ رہی تھی، اس نے خاموشی سے اثبات میں سر ہلا دیا۔
اچھا تم بیٹھو، میں ابھی تمہارے لیے کھانا بنا کر لاتی ہوں،” عامر کی والدہ اسے تسلی دے کر باورچی خانے کی طرف بڑھ گئیں۔”
عائشہ ایک بار پھر اس زرد بلب کی روشنی میں اپنی تنہائی اور دکھوں کے ساتھ اکیلی رہ گئی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ جس عامر کی تلاش میں وہ یہاں آئی ہے، وہ خود مہینوں سے غائب ہے۔ تو اب اس کی قسمت کا فیصلہ کیا ہوگا؟ کیا یہ گھر اس کی آخری پناہ گاہ بنے گا یا یہاں بھی کوئی نئی آزمائش اس کا انتظار کر رہی ہے؟
°°°°°°°°°°
شب کی تاریکی پورے علاقے پر پر محیط ہو چکی تھی۔تاریک خاموشی کو چیرتا ہوا ایک شکستہ بائیک کا کرخت اور بھدا شور صحن کی دہلیز تک آن پہنچا۔ یہ عامر تھا، جو دن بھر کی مشقت کے بعد تھکا ہارا گھر لوٹ رہا تھا۔ دو ماہ قبل جیل کی کال کوٹھڑی سے رہائی پانے کے بعد وہ سلطان میرج ہال پر واپس نہیں گیا اور پرانی زندگی سے ناطہ توڑ کر ایک سروس اسٹیشن پر دیہاڑی لگا کر گزر بسر کرنے لگا تھا۔ اسے علم ہی نہیں تھا کہ اس کے پیچھے وقت نے کتنی بے رحمی سے پلٹا کھایا ہے اور نقیب اب اس دنیا میں نہیں رہا۔
بائیک سے اتر کر جب وہ صحن کی طرف بڑھا تو اسے پنکھے کی دھیمی ہوا میں دو چارپائیاں بچھی دکھائی دیں۔ ایک پر اس کی والدہ بیٹھی تھیں، جبکہ دوسری پر ایک دھندلا سا نسوانی وجود اسے اجنبی محسوس ہوا۔ جیسے ہی اس نے قدم مزید آگے بڑھائے، عائشہ کسی سائے کی طرح چارپائی سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔ جیسے ہی اس کا چہرہ واضح ہوا، تو عامر کے قدم وہیں منجمد ہو کر رہ گئے۔ اسے ایک زوردار ذہنی جھٹکا لگا۔ اس نے اپنے وہم و گمان میں بھی نہیں سوچا تھا کہ نقیب کی بیوی اچانک اس کے اپنے گھر میں آن پہنچے گی۔ عامر کی والدہ، جو خاموشی سے تماشائی بنی بیٹھی تھیں، اپنے بیٹے کے چہرے پر پھیلی بے یقینی اور سکتہ دیکھ کر بھانپ گئیں کہ یہ شناسائی پرانی اور گہری ہے۔
،عامر نے چند قدم قریب آ کر تھکی ہوئی، مگر حیرت زدہ آواز میں پوچھا
“آپ یہاں؟ اور… اور نقیب کہاں ہے؟”
،عائشہ نے نظریں جھکائیں، اس کے لہجے میں اب وہ پہلے جیسی کپکپاہٹ نہیں تھی، بلکہ ایک عجیب سا ٹھہراؤ تھا
“وہ۔۔۔ وہ فوت ہو گئے، آج سے تین ماہ پہلے۔”
یہ خبر کسی بم کی طرح عامر کے کانوں میں گونجی۔
نقیب، جو اس کا دوست تھا، بھلے وہ کتنا ہی برا کیوں نہ تھا، اس کی موت کی خبر نے عامر کے دل پر اداسی کی ایک دبیز چادر تان دی۔
،اس نے ایک گہری نظر عائشہ کے بدلے ہوئے وجود پر ڈالی اور ضبط کرتے ہوئے اپنی والدہ سے مخاطب ہوا
“اماں! ذرا چائے تو پلا دیں۔”
والدہ نے خاموشی سے اثبات میں سر ہلایا۔ وہ جانتی تھیں کہ اس وقت ان دونوں کو تنہائی اور گفتگو کی ضرورت ہے، چنانچہ وہ آہستگی سے اٹھیں اور باورچی خانے کی طرف بڑھ گئیں۔
عامر اپنی والدہ کی خالی ہونے والی چارپائی پر بیٹھ گیا، اس کا دماغ سوالوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ نقیب کو کیا ہوا تھا؟ عائشہ نے اس ویران گھر سے یہاں تک کا راستہ کیسے ناپا؟
کیا آپ مجھے تفصیل سے بتا سکتی ہیں کہ یہ سب کیسے ہوا؟ آپ یہاں تک کیسے پہنچیں؟” عامر نے دبی آواز میں پوچھا۔”
عائشہ نے ایک لمبا اور گہرا سانس لیا، جیسے اپنے اندر کے غبار کو باہر نکال رہی ہو۔
…جب آپ اچانک غائب ہوئے، تو نقیب کے اندر کی رہی سہی انسانیت بھی مر گئی۔ وہ ذہنی طور پر بکھر گیا تھا اور اس خلا کو بھرنے کے لیے اس نے نشے کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا”
وہ ایک ایک کر کے ماضی کے تمام خونی ابواب عامر کے سامنے کھولتی چلی گئی۔
“اس نے نقیب کے آخری لمحات، سسرال والوں کی چیل نما نظریں، وراثت کی ہوس میں ان کا درندہ بن جانا اور اسے گھر سے نکال دینا… سب کچھ بیان کر دیا۔
وہ اب رو نہیں رہی تھی، اس کی آنکھوں کے آنسو شاید خشک ہوچکے تھے۔
اس کے لہجے میں ایک ایسی استقامت اور آواز میں وہ اطمینان تھا جو صرف اس وقت آتا ہے جب انسان دکھوں کی آخری حد چھو کر کسی محفوظ ساحل پر پہنچ جاتا ہے۔
°°°°°°°°°°
،عامر نے جب عائشہ کی زبانی اس کے دکھوں کی طویل داستان سنی، تو اس کے دل میں ہمدردی اور ندامت کی ایک لہر دوڑ گئی
،وہ کچھ لمحوں کے لیے خاموش رہا، جیسے ان تمام تلخ حقائق کو اپنے اندر جذب کر رہا ہو۔ پھر اس نے گہری سانس لی اور لرزتے ہوئے لہجے میں کہا
“کاش آپ نے مجھے اطلاع دی ہوتی… اگر حالات اس نہج پر پہنچ چکے تھے تو آپ مجھے ایک فون کر دیتیں، میں خود چل کر آتا اور آپ کو اس جہنم سے نکال لاتا۔”
عائشہ کے لبوں پر ایک تلخ اور پھیکی مسکراہٹ رینگ گئی، جس میں بے بسی اور تھکن بھی۔
،آپ کو کیا لگتا ہے؟ کیا میں نے کوشش نہیں کی؟” اس نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا اور پھر خود ہی اس خلا کو پر کیا”
ان تین مہینوں میں کوئی ایک دن ایسا نہیں گزرا جب میں نے آپ کا نمبر نہ ملایا ہو۔”
میں ہر روز، ہر گھنٹے اُمید کا ایک دیا جلاتی اور آپ سے رابطے کی کوشش کرتی، مگر آپ کا نمبر مسلسل خاموش رہا… جیسے آپ اس دنیا سے ہی روٹھ گئے ہوں۔
“پھر جب نقیب کے بھائیوں نے گھر پر دھاوا بولا، تو وہ میرے تن کے کپڑوں کے سوا سب کچھ لے گئے۔ میرا موبائل بھی اور وہ چند روپے بھی جو میری بقا کی آخری نشانی تھے۔
“چلو، جو ہونا تھا وہ تو ہو گیا، گزرے وقت کی لکیروں کو مٹایا نہیں جا سکتا،” عامر نے بھاری آواز میں پوچھا، “اب بتائیے، میں آپ کے لیے کیا کر سکتا ہوں؟ آپ مجھ سے کیا چاہتی ہیں؟”
،عائشہ نے ایک لمحے کے لیے اپنی ہمت مجتمع کی، اس کی نظروں میں اب کوئی لالچ نہیں تھا، صرف زندگی بچانے کی ایک آخری تڑپ تھی
میرے پاس سر چھپانے کو کوئی چھت نہیں ہے عامر صاحب! بس مجھے اپنے گھر کے کسی کونے میں جگہ دے دیں۔”
“بھلے ہی مجھے ملازمہ کی طرح رکھ لیں، مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ بس مجھے ایک ایسا سائبان چاہیے جہاں میں عزت اور عافیت کے ساتھ اپنی سانسیں پوری کر سکوں۔
عائشہ کی اس عاجزانہ درخواست نے فضا میں ایک بوجھل خاموشی پیدا کر دی۔ عامر نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ گہری سوچ کے سمندر میں ڈوب گیا۔ یہ فیصلہ اتنا سادہ نہیں تھا۔ ایک اجنبی بیوہ کو اپنے گھر میں پناہ دینا معاشرے کی نظروں میں کئی سوالات کو جنم دے سکتا تھا۔
“مجھے سوچنے کے لیے تھوڑا وقت چاہیے۔” عامر نے آخر کار نظریں اٹھائیں، “میں آپ کو صبح جواب دوں گا۔”
اسی لمحے عامر کی والدہ باورچی خانے سے تین کپ چائے لے کر برآمد ہوئیں۔ چائے کی بھاپ اور اس کی بھینی بھینی خوشبو نے اس بوجھل ماحول کی تلخی کو تھوڑا کم کر دیا۔ وہ خاموشی سے ان دونوں کے پاس آ بیٹھیں اور چائے کے کپ تھما دیے۔
رات کے اس پہر، پنکھے کی دھیمی آواز اور چائے کے گھونٹوں کے درمیان، وہ سنگین گفتگو اب رسمی باتوں میں بدل چکی تھی۔ عائشہ نے محسوس کیا کہ برسوں بعد وہ کسی ایسے گھر میں بیٹھی ہے جہاں اسے خوف نہیں بلکہ اپنائیت کی مہک آ رہی ہے۔ مگر اسے معلوم تھا کہ اس کا مستقبل اب بھی عامر کے اس ایک جواب پر ٹکا ہوا ہے جو آنے والی صبح اس کا مقدر طے کرے گی۔
°°°°°°°°°°
عامر کی فطرت میں جو لحاظ اور مروت تھی، وہ اس رات کھل کر سامنے آئی۔ عموماً وہ صحن کی کھلی ہوا میں سونا پسند کرتا تھا، مگر گھر میں ایک غیر محرم لڑکی کی موجودگی نے اسے شدید گرمی کے باوجود کمرے کی گھٹن برداشت کرنے پر مجبور کر دیا۔ یہ اس کی جانب سے عائشہ کے لیے پہلا خاموش احترام تھا، جس نے عائشہ کے دل میں اس کے لیے توقیر بڑھا دی۔
صبح جب سپیدہِ سحر نمودار ہوا، تو عامر خمار آلود آنکھوں کے ساتھ کمرے سے باہر نکلا۔ ہاتھ منہ دھو کر جب وہ باورچی خانے کی دہلیز پر پہنچا، تو وہاں کا منظر گھریلو سکون کی تصویر پیش کر رہا تھا۔ اس کی والدہ چولہے پر ناشتہ تیار کر رہی تھیں اور عائشہ قریب ہی ایک چھوٹی پیڑھی پر بیٹھی خاموشی سے اپنا حصہ کھا رہی تھی۔ عامر بنا کسی گفتگو کے اپنی ماں کے پہلو میں بیٹھ گیا اور ناشتہ شروع کیا۔ اس خاموشی میں ایک عجیب سا تناؤ اور مصلحت تھی جسے ہر کوئی محسوس کر رہا تھا۔
جب وہ فارغ ہوا تو اس نے اپنی والدہ کو مخاطب کیا، “اماں! جب آپ ناشتہ کر لیں تو ذرا کمرے میں آئیے گا، مجھے ایک ضروری بات کرنی ہے۔” اتنا کہہ کر اس نے عائشہ پر ایک سرسری، غیر جانبدارانہ نگاہ ڈالی اور اٹھ کر چلا گیا۔
عائشہ کو کافی دیر ہوگئی باورچی خانے میں ہی بیٹھے ہوئے، وہ انہی سوچوں میں تھی کہ خدا جانے عامر اسے کیا جواب دے گا لیکن تبھی عامر کی بائیک اسٹارٹ ہونے کی آواز سنائی دی، اس کا دل کسی وسوسے کے زیرِ اثر دھک سے رہ گیا۔ اسے لگا جیسے عامر بنا کوئی جواب دیے اسے حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر چلا گیا ہے۔ وہ اسی اداسی میں ڈوبی برتن سمیٹنے لگی۔ جب عامر کی والدہ واپس باورچی خانے میں آئیں، تو عائشہ کو سِنک پر آستینیں چڑھائے برتن دھوتے دیکھ کر ٹھٹھک گئیں۔
“ارے بیٹا! یہ کیا کر رہی ہو؟ تم بیٹھو، میں کر لوں گی۔”
“انہوں نے ممتا سے اسے روکنا چاہا، مگر عائشہ نے مسکرا کر منع کر دیا، “کوئی بات نہیں ماں جی! مجھے اچھا لگے گا اگر میں آپ کا ہاتھ بٹاؤں۔
“کچھ دیر خاموشی رہی، پھر عامر کی والدہ نے ایک گہرا سانس لیا اور عائشہ کو پرکھتی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا، “بیٹی! کیا تمہاری عدت کی مدت پوری ہو گئی ہے؟
“عائشہ کے ہاتھ ایک لمحے کو رکے، پھر وہ دوبارہ کام میں مصروف ہو گئی، “جی۔۔۔ پرسوں آخری دن تھا۔
تو پھر۔۔۔ آگے زندگی اور شادی کے بارے میں کیا سوچا ہے؟” ان کا سوال عائشہ کے لیے کسی نشتر سے کم نہیں تھا۔”
سوچنا کیا ہے ماں جی! مجھ جیسی لاوارث لڑکی کو اس بے حس دنیا میں کون اپنائے گا؟” اس کے لہجے میں چھپی ہوئی تلخی اور شکست صاف سنائی دے رہی تھی۔”
“عامر کی والدہ نے نرمی سے اسے سمجھایا، “کیوں نہیں؟ تم نے خود کہا تھا کہ عامر تمہاری آخری امید ہے۔ تو کیا یہ بہتر نہیں کہ تمہاری اور عامر کی شادی ہو جائے؟
،عائشہ نے حیرت اور بے یقینی سے انہیں دیکھا،
“لیکن اماں! عامر تو ابھی کنوارا ہے، جوان ہے اور میں ایک بیوہ عورت ہوں جس کا کوئی ٹھکانہ نہیں۔ وہ تو کسی بہتر جیون ساتھی کا حقدار ہے۔”
“دیکھو عائشہ! ہمیں تمہارے یہاں رہنے پر کوئی اعتراض نہیں، مگر تم اس گھر میں کس حیثیت سے رہو گی؟ یہی سوال میں نے عامر سے بھی کیا تھا۔”
انہوں نے عائشہ کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا۔
اور میں نے اسے صاف کہہ دیا ہے کہ اگر تم دونوں کا نکاح ہو جائے، تو تم حقِ زوجیت کے طور پر اس گھر کا اٹوٹ حصہ بن جاؤ گی۔”
” میں نے اپنی رائے دے دی ہے، اب فیصلہ تمہارا ہے۔ کوئی زبردستی نہیں ہوگی۔
،عائشہ نے چند لمحے خاموشی سے اس نئے افق کو دیکھا جو اس کے سامنے وا ہوا تھا۔ جب عامر کی والدہ واپس مڑنے لگیں، تو عائشہ نے دبی آواز میں پکارا
“ماں جی! اگر عامر اس رشتے پر راضی ہے، تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ میں بھی یہی چاہوں گی کہ ایک شرعی اور پاکیزہ رشتے کے ساتھ اس گھر کی دہلیز میں پناہ لوں۔”
عامر کی والدہ کے چہرے پر اطمینان کی ایک لہر دوڑ گئی۔ انہوں نے “جیتی رہو میری بچی” کہہ کر اسے ڈھیروں دعائیں دیں اور باہر نکل گئیں۔ عائشہ نے ایک گہرا سانس لیا۔ آج پہلی بار اسے یقین ہو گیا تھا کہ خدا نے اسے کسی درندے کے ہاتھ نہیں، بلکہ ایک محافظ کے سپرد کر دیا ہے۔
°°°°°°°°°°
عامر اور شیری اپنی شکستہ اور خستہ حال بائیک پر سوار، انجن کے بھدے شور کے ساتھ پھالیہ کی مصروف سڑکوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ یہ بائیک محض ایک سواری نہیں تھی، بلکہ ان کی بے بسی اور جدوجہد کی گواہ تھی۔ پھالیہ پہنچ کر عامر نے پہلا پڑاؤ ملک قمر کے ڈیرے پر کیا۔ ملک قمر، وہ شخص جو میرج ہال کے مالکان میں سے ایک تھا، جس کی انگلیاں چرس کے دھوئیں سے پیلی پڑ چکی تھیں، مگر اثر و رسوخ علاقے کے تھانوں اور کچہریوں میں گونجتا تھا۔
عامر نے قمر کو ساری صورتحال ایک ہی سانس میں سنا دی۔ اس کی آنکھوں میں لرزتی چمک دیکھ کر قمر سمجھ گیا کہ یہ معاملہ محض کاغذات کا نہیں، بلکہ عامر کی انا اور اس عورت کی حرمت کا ہے جسے اس نے پناہ دی تھی۔ قمر کی تائید حاصل کرنے کے بعد، عامر نے بائیک کا رخ بمبلی گاؤں کی طرف موڑ دیا۔
گاؤں کی تنگ گلیوں میں بائیک کا شور اجنبی محسوس ہو رہا تھا۔ عامر کی نظریں پگڈنڈیوں پر نہیں، بلکہ انصاف کے اس مبہم سے راستے پر تھیں جو اسے کرم داد کے گھر تک لے جا رہا تھا۔ لوگوں سے پوچھتے پوچھتے جب وہ مطلوبہ مکان کے سامنے پہنچے، تو ایک عجیب سی منحوس خاموشی نے ان کا استقبال کیا۔ عامر نے بائیک اسٹینڈ پر کھڑی کی، اپنی قمیض کے کالر درست کیے اور آگے بڑھ کر لوہے کے بھاری گیٹ پر دستک دی۔
تھوڑی دیر بعد گیٹ کا ایک پٹ کھلا اور رحم داد برآمد ہوا۔ اس کے چہرے پر مشکوک نظریں اور لہجے میں دیہاتی درشتگی تھی۔ گیٹ کو اپنے پیچھے مضبوطی سے بند کرتے ہوئے اس نے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا، مگر اس کی آنکھوں میں تجسس کے انگارے دہک رہے تھے۔
جی! آپ کون؟ اور کیا کام ہے؟” اس نے پوچھا۔”
“عامر نے اپنے جذبات کو آہنی گرفت میں رکھتے ہوئے جواب دیا، “کیا ہم بیٹھک میں بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں؟ یہ گلی گفتگو کے لیے مناسب نہیں۔
رحم داد تذبذب کا شکار ہوا، مگر عامر کے چہرے پر چھائے ہوئے ایک عجیب سے جاہ و جلال نے اسے مجبور کر دیا۔
“!وہ تالا کھول کر اندر گیا، گھر کی خواتین کو پردے کا حکم دیا اور پھر فاتحانہ انداز میں گیٹ کھول کر انہیں اندر بلایا۔ “آئیں جناب
بیٹھک میں داخل ہوتے ہی عامر کی نظریں ان صوفوں پر پڑیں جن پر اسے بٹھایا گیا تھا۔ یہ وہی صوفے تھے جو عائشہ کی ذاتی ملکیت تھے، جنہیں نقیب کی موت کے بعد ان گدھوں نے نوچ لیا تھا۔
چائے پیئیں گے؟” رحم داد نے مروت کے نام پر زہر اگلنے کی تیاری کی۔”
نہیں، اس کی ضرورت نہیں۔ بس کچھ ضروری بات کرنی ہے،” عامر کی آواز میں برف جیسی سردی تھی۔”
اس کی نظریں کمرے کے ہر اس کونے کا طواف کر رہی تھیں جہاں عائشہ کی چھینی ہوئی خوشیاں سسک رہی تھیں۔
“رحم داد بیڈ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا، جیسے وہ کوئی قاضی ہو اور عامر اس کا مجرم۔ “جی بتائیں، میں سن رہا ہوں۔
،عامر نے پہلو بدلا اور سنجیدگی سے گویا ہوا
میں اور نقیب ایک ہی جگہ کام کرتے تھے۔ میرا اس سے بھائیوں والا تعلق تھا۔ جب نقیب کی بیوہ کو یہاں سے نکالا گیا، تو اس کے پاس کوئی جائے پناہ نہیں تھی۔”
“وہ تپتی سڑکوں پر ٹھوکریں کھاتی ہمارے گھر پہنچی۔
عائشہ کا نام سنتے ہی رحم داد کے چہرے پر حقارت کی لکیریں ابھریں۔
“تو ہم کیا کریں؟ وہ بدچلن جہاں مرضی جائے، ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں۔”
عامر کی آنکھوں میں ایک لمحے کو اژدھے جیسی زہریلی سختی اتری، ایک لمحے کو اس کا جی چاہا کہ ابھی اسے دھو ڈالے لیکن خود پر ضبط کر گیا۔ اس کا لہجہ اب مزید دھیما اور خطرناک ہو چکا تھا۔
آپ نقیب کے بھائی ہیں، اسی لیے میں آپ کی عزت کرتا ہوں۔”
میں یہاں عائشہ کے کردار کی وکالت کرنے نہیں آیا، نہ ہی مجھے اس سامان میں دلچسپی ہے جو آپ نے اس سے چھینا ہے۔
“میں صرف اس کا نکاح نامہ، شناختی کارڈ اور نقیب کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ لینے آیا ہوں۔
رحم داد نے ایک طنزیہ قہقہہ لگایا۔
“کیا ہمیں نادان سمجھ رکھا ہے؟ ہم تمہیں یہ کاغذات دیں تاکہ تم کل کو جائیداد پر دعویٰ ٹھوک دو؟ سوچنا بھی مت، یہاں سے تمہیں دھتکار کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔”
عامر کے لبوں پر ایک ایسی مسکراہٹ پھیلی جو دیکھ کر رحم داد کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑ گئی۔ یہ ایک شکاری کی مسکراہٹ تھی۔
سنیے رحم داد صاحب! میں آپ کو ایک قصہ سناتا ہوں۔” عامر نے موضوع ایسے بدلا جیسے وہ کوئی فلسفی ہو۔”
جب میں پندرہ سال کا تھا، مجھے ایک سیاہ ناگ نے ڈسا تھا۔ زہر پورے وجود میں خون بن کر دوڑنے لگا۔”
جب مجھے ہسپتال میں ہوش آیا، تو میرے جسم میں سانس اور خوراک کی نالیاں لگی تھیں۔ مجھے ان نالیوں سے الجھن ہوئی، میں نے ایک ہی جھٹکے میں وہ سب نوچ ڈالیں۔
“یہ جو میری آواز میں سانپ جیسی پھنکار سن رہے ہیں، یہ اسی زہر کا صدقہ ہے۔
رحم داد اسے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے وہ کوئی پاگل ہو۔ مگر عامر کی نظروں میں موجود سچائی اسے اندر تک لرزا رہی تھی۔
،عامر نے بات جاری رکھی
پھر میرا ایک بھیانک ایکسیڈنٹ ہوا۔ ڈاکٹروں نے جواب دے دیا تھا، مگر میں موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑا ہو گیا۔”
“ایک بار زندگی سے بیزار ہو کر زہر کھا گیا، مگر موت نے مجھے قبول کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ میرے اندر پہلے ہی اس سے بڑا زہر موجود تھا۔
“رحم داد نے ہنکارا بھرا، “تو میں کیا کروں؟ جاؤ کسی اور کو ڈراؤ۔
عامر نے تیکھی نظروں سے اسے دیکھا اور اچانک اپنی قمیض کی آستینیں اوپر چڑھا دیں۔ رحم داد کی آنکھیں دہشت سے پھیل گئیں۔ عامر کے دونوں بازوؤں پر جلے ہوئے گوشت، گہرے کٹ اور زخموں کے وہ ہولناک نشانات تھے جو کسی درندے کی چیر پھاڑ کا نتیجہ لگتے تھے۔
دیکھیے! میں اس قدر بے حس ہوں کہ میں نے اپنے جسم کا کوئی حصہ نہیں چھوڑا جہاں خود کو اذیت نہ دی ہو۔”
“پھر ایک شخص نے میرے بزرگوں کو گالی دی، میں اس کے گھر میں گھسا اور اس کے وجود میں چھ گولیاں اتار دیں۔
“رحم داد کے ماتھے پر پسینہ چمکنے لگا۔ اس کے لہجے کی ترخی اب گھبراہٹ میں بدل رہی تھی۔ “کیا تم مجھے دھمکی دے رہے ہو؟
“ارے نہیں…”
عامر نے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔
میں تو بس یہ بتا رہا ہوں کہ میرا ماضی ایک وحشی جانور کی داستان ہے۔”
جب میرا دوسرا ایکسیڈنٹ ہوا اور میری ٹانگ جیپ کے بمپر میں پھنس گئی، تو میں نے درد کی پرواہ کیے بغیر اسے ایک جھٹکے سے باہر نکالا، جس سے ہڈی چار جگہ سے ٹوٹ گئی۔
میں کئی بار اپنے باپ کے سر پر پستول تان چکا ہوں، میں ایک بار پٹرول چھڑک کر خود کو آگ بھی لگا چکا ہوں۔
“میں وہ وحشی ہوں جسے اگر دوبارہ جاگنا پڑا، تو اس بیٹھک کی دیواریں بھی پناہ مانگیں گی۔
“!رحم داد غصے اور خوف کے بیچ جھول رہا تھا۔ “جاہل انسان! تمہیں یہاں سے کچھ نہیں ملے گا۔ دفع ہو جاؤ یہاں سے
عامر نے اجازت طلب نظروں سے شیری کی طرف دیکھا، لیکن اس نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔ عامر نے اپنا موبائل نکالا اور ملک قمر کا نمبر ڈائل کر کے اسپیکر آن کر دیا۔
جیسے ہی دوسری طرف سے کال اٹھی، ملک قمر کی کرخت اور بھاری آواز کمرے میں گونجی۔
“!…ہیلو”
جی قمر صاحب! ہم بمبلی پہنچ گئے ہیں، مگر یہ لوگ شرافت کی زبان نہیں سمجھ رہے۔ میں یہاں کوئی خرابی نہیں چاہتا، آپ ہی بات کر لیں۔” عامر نے فون رحم داد کی طرف کر دیا۔”
اگر وہ سور کا بچہ سن رہا ہے، تو اسے بتا دو کہ انسپکٹر نذیر میرا سگا بہنوئی ہے۔” ملک قمر نے ایک ایسی غلیظ گالی دی کہ بیٹھک کی فضا بوجھل ہو گئی۔”
اگر اس نے شرافت سے کاغذات نہ دیے، تو میں قسم کھاتا ہوں کہ آج کی رات اس کے گھر کی عورتیں اور یہ سب مرد تھانے کی چھت سے الٹے لٹکے ہوں گے۔”
” میں دیکھتا ہوں یہ کیسے نہیں مانتے۔
رحم داد کے چہرے سے رنگت ایسے اڑی جیسے کسی نے خون نچوڑ لیا ہو۔ پولیس اور ملک قمر کا نام سن کر اس کی رہی سہی ہمت بھی جواب دے گئی۔ وہ جانتا تھا کہ ملک قمر جو کہتا ہے، وہ کر گزرتا ہے۔
نہیں قمر صاحب…! اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ یہ شریف لوگ ہیں، شاید بات سمجھ گئے ہیں۔” عامر نے فون کاٹتے ہوئے رحم داد کی آنکھوں میں جھانکا۔”
“دیکھیے! نہ مجھے سامان چاہیے، نہ زمین۔ بس وہ کاغذات دے دیں تاکہ ایک مظلوم عورت سکون سے زندگی جی سکے۔ معاملہ خراب مت کیجیے۔”
رحم داد نے تھوک نگلا، اس کے ہاتھ لرز رہے تھے۔ وہ بغیر کچھ کہے اٹھا اور گھر کے اندر بھاگا۔ چند منٹ بعد وہ ایک بوسیدہ فائل لیے واپس آیا اور اسے عامر کی طرف ایسے اچھالا جیسے وہ کوئی گرم کوئلہ ہو۔
“عامر نے فائل پکڑی، اطمینان سے کاغذات چیک کیے اور اٹھ کھڑا ہوا۔ “امید ہے سب کچھ پورا ہوگا۔
آپ کو جو چاہیے تھا مل گیا، اب جائیں یہاں سے۔” رحم داد نے باہر کا راستہ دکھایا، مگر اس کی آواز میں اب وہ رعب نہیں تھا، صرف ایک خوف زدہ انسان کی تڑپ تھی۔”
“عامر نے گیٹ پر پہنچ کر پلٹ کر دیکھا۔ اس کے لبوں پر ایک زہریلی اور فتح مند مسکراہٹ آئی۔ “دعا کیجیے گا کہ مجھے کسی اور کاغذ کے لیے دوبارہ یہاں قدم نہ رکھنا پڑے۔
وہ اور شیری بائیک پر بیٹھے۔ انجن نے ایک بار پھر وہی بھدا شور مچایا، مگر اس بار اس شور میں ایک فاتحانہ گونج تھی۔ وہ گرد اڑاتے ہوئے گاؤں سے باہر نکل گئے، جبکہ پیچھے رحم داد اپنی شکست اور عامر کی وحشت کے سائے تلے دبا، اپنی ہی دہلیز پر ساکت کھڑا رہ گیا۔
°°°°°°°°°°
آج عامر اور عائشہ کا نکاح منعقد ہو رہا تھا۔ یہ تقریب اس قدر سادہ اور بے ریا تھی کہ دیکھنے والے اگر وہاں موجود ہوتے تو انسانیت اور تقدس کے اس سنگم پر دنگ رہ جاتے۔ اس کمرے کی دیواریں، جو برسوں سے عامر کی تنہائیوں کی گواہ تھیں، آج ایک نئے رشتے کی عکاس بن رہی تھیں۔
کمرے کے وسط میں بچھی لکڑی کی ایک ہی چارپائی پر، حیا اور مروت کے دو فٹ کا فاصلہ رکھے، عائشہ اور عامر بیٹھے تھے۔ عائشہ نے نظریں جھکائے اپنے ہاتھوں کی پوروں کو سختی سے تھام رکھا تھا، جبکہ عامر کے چہرے پر ایک عزم اور ذمہ داری کا وقار مرتسم تھا۔ ان کے سامنے ایک کرسی پر عامر کے والد بیٹھے تھے، جو اس نکاح کے باقاعدہ رجسٹرار بھی تھے۔ وہ نہایت سنجیدگی اور احتیاط کے ساتھ نکاح نامے کے سفید صفحات پر قلم کی جنبش سے ان دو زندگیوں کو قانونی اور شرعی طور پر یکجا کر رہے تھے۔ قریب ہی دوسری کرسی پر امام صاحب رونق افروز تھے، جن کے چہرے کا وقار اور ٹھہراؤ اس سادہ محفل میں برکتیں بکھیر رہا تھا۔
اس کمرے میں کسی بینڈ باجے کا شور تھا نہ ہی مہمانوں کا ہجوم۔ بس دو گواہ، عامر کی بوڑھی والدہ اور قدرت کے فرشتے اس خاموش گواہی کا حصہ تھے۔ جب امام صاحب نے باری باری دونوں سے قول و اقرار لیا، تو عائشہ کے لبوں سے نکلا ہوا “قبول ہے” کا لفظ ایک ایسی دہائی تھی جو اس کے ماضی کے تمام دکھوں کو پیچھے چھوڑ دینے کا اعلان تھی۔
امام صاحب نے نہایت پرسوز آواز میں مختصر سا خطبہِ نکاح پڑھا اور اس کے بعد سب کے ہاتھ دعا کے لیے اٹھ گئے، تو فضا میں ایک عجیب سا سکون اتر آیا۔ دونوں کی خوشحال زندگی اور عافیت کے لیے دعا مانگی گئی اور عائشہ کی بند آنکھوں سے گرا ایک آنسو اس دعا کی قبولیت پر مہر ثبت کر گیا۔
دعا ختم ہوتے ہی عامر کی والدہ، جن کی آنکھوں میں خوشی کے چراغ جل رہے تھے، آگے بڑھیں۔ انہوں نے اپنے لرزتے مگر پر شفقت ہاتھوں سے سب کو مٹھائی پیش کی، جو اس سادہ سی رسم کے باقاعدہ اختتام کا اعلان تھا۔ کوئی ہنگامہ نہیں ہوا، کوئی دکھاوا نہیں تھا، مگر اس سادگی میں ایک ایسی تاثیر تھی جو بڑے بڑے محلات کی تقریبوں میں عنقا ہوتی ہے۔
عائشہ اب زندگی کے ایک بالکل نئے اور اچھوتے دور میں قدم رکھ چکی تھی۔ وہ لڑکی جو چند روز قبل اس بستی میں ایک کٹی پتنگ کی طرح بھٹکتی آئی تھی، آج ایک معتبر گھرانے کی عزت بن چکی تھی۔ عامر اب محض اس کا محافظ نہیں تھا، بلکہ اس اس کی پوری کائنات بن چکا تھا۔ اس نے ایک گہرا سانس لیا اور اپنے رب کی طرف متوجہ ہوئی، اس پختہ امید کے ساتھ کہ جس اللہ نے اسے اس دہلیز تک پہنچایا ہے، وہی اب اس کی زندگی کے باقی ماندہ ایام میں خیر و برکت کے پھول کھلا دے گا۔
°°°°°°°°°°
وہ رات خاموشی کی چادر اوڑھے ہوئے تھی، مگر اس کمرے کے اندر دو دلوں کی دھڑکنیں ایک نئی داستان رقم کر رہی تھیں۔ چھت کے شہتیروں سے ٹکراتی مدھم روشنی میں عائشہ ساکت لیٹی اوپر تک رہی تھی، جیسے ان لکڑیوں کے جال میں اپنی گزری زندگی کے بکھرے ہوئے تانے بانے تلاش کر رہی ہو۔ دوسری چارپائی پر لیٹا عامر، نیم تاریکی میں اس کے مرجھائے ہوئے مگر معصوم چہرے کا طواف کر رہا تھا۔ اس کی نظروں میں ایک عجیب سی تڑپ اور ہمدردی تھی۔ ایک ایسا جذبہ جو صرف کسی ٹوٹے ہوئے وجود کو سمیٹنے والے کے دل میں بیدار ہوتا ہے۔
،کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد، عامر نے خاموشی کے طلسم کو اپنی ہکلاتی آواز سے توڑا
“!عائشہ”
جی!” عائشہ نے چونک کر اپنی نظروں کا زاویہ بدلا اور عامر کی طرف رخ کر لیا۔”
اس کی آنکھوں میں اب وہ پہلے جیسی وحشت نہیں تھی، مگر دکھوں کی ایک گہری راکھ اب بھی وہاں موجود تھی۔
،عامر کا لہجہ جذبات سے لبریز ہو گیا، جیسے وہ اپنے دل کا تمام لہو لفظوں میں انڈیل دینا چاہتا ہو
،عائشہ! تم نے اپنی زندگی میں جو کٹھن وقت دیکھا، جو کرب جھیلا اور جن اندھیروں سے تم گزری ہو… میں وہ سب بدل تو نہیں سکتا”
مگر میرا یہ وعدہ ہے کہ اب تمہیں کوئی دکھ نہیں پہنچنے دوں گا۔
“…میری یہ جی توڑ کوشش ہوگی کہ تمہاری زندگی کا آنے والا ہر لمحہ خوشبوؤں جیسا ہو، تمہیں اتنی خوشیاں اور اتنا سکون دوں کہ تم
،بات کرتے کرتے عامر کا گلا رندھ گیا، آواز میں ایک کپکپاہٹ سی آئی
“کہ تم اپنے ماضی کی تمام تلخ یادوں کو ایک بھولا ہوا خواب سمجھ کر فراموش کر دو۔”
عائشہ نے کوئی جواب نہیں دیا، بس اسے ایسی نظروں سے دیکھتی رہی جیسے کسی ڈوبتے ہوئے کو اچانک ایک مضبوط ساحل مل گیا ہو۔ اس کی خاموشی میں تشکر اور ایک انجانا سا سکون چھپا تھا۔
،عامر نے کچھ سوچتے ہوئے مزید کہا
“اور عائشہ… میں چاہوں گا کہ تمہارے والدین کو بھی منا لوں۔ میں چاہتا ہوں کہ تم دوبارہ اپنوں کے درمیان سر اٹھا کر چلو۔”
نہیں!” عائشہ کے حلق سے ایک گھٹی ہوئی چیخ سی نکلی۔ اس کا چہرہ خوف سے زرد پڑ گیا اور وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھی۔”
“خدا کے لیے ایسا کچھ مت کیجیے گا۔ میں انہیں مزید اذیت نہیں دینا چاہتی۔”
،عامر نے اسے سمجھانے والے انداز میں زور دیا
“دیکھو عائشہ! ہر لڑکی کی یہ فطری خواہش ہوتی ہے کہ اس کے والدین اس کے ساتھ ہوں، اسے بھائیوں کا مان ملے۔ کیا تم نہیں چاہتیں کہ وہ تمہیں معاف کر دیں؟”
،عائشہ نے فوراً اس کی بات کاٹی، اس کے لہجے میں اب ایک اٹل انکار تھا
چاہتی ہوں لیکن پلیز ایسا مت کیجیے گا۔ وہ پہلے ہی میری حماقتوں کی وجہ سے زمانے بھر میں رسوا ہو چکے ہیں۔”
پتہ نہیں کتنے آنسو پی کر اور کتنی مشکلوں سے انہوں نے اب خود کو سنبھالا ہوگا۔ میں ایک بار پھر ان کی زندگیوں میں لوٹ کر تماشہ نہیں بننا چاہتی۔
“وہ اپنی دنیا میں رہیں اور میں اپنی دنیا میں۔ بس یہی سب کے حق میں بہتر ہے۔
عامر کو عائشہ کی اس اٹل ضد کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے۔ وہ خاموش ہو گیا، مگر اس کے ذہن میں ایک خلش باقی تھی۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ عائشہ کا اصل گھر کہاں ہے اور اس کے والدین کون ہیں، کیونکہ عائشہ تو اپنے ماضی کی کتاب کا وہ باب ہمیشہ کے لیے بند کر چکی تھی۔ عامر کی نیت صاف تھی۔ وہ صرف یہ چاہتا تھا کہ اس دکھی لڑکی کو اتنی راحت دے کہ وہ ہنسنا سیکھ جائے۔
مگر وہ بے خبر انسان یہ نہیں جانتا تھا کہ تقدیر کے پردے کے پیچھے کچھ اور ہی لکھا جا چکا ہے۔ عائشہ کی آزمائشوں کا طویل سفر اب اپنے اختتام کو پہنچ رہا تھا، مگر عامر کی زندگی کا وہ کٹھن موڑ اب شروع ہونے والا تھا جہاں قدرت اسے ایک ایسے امتحان میں ڈالنے والی تھی جس کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ اب دیکھنا یہ تھا کہ وہ گناہگار انسان محبت اور صبر کی اس آزمائش پر کتنا پورا اترتا ہے۔
وقت اپنا فیصلہ سنانے کے لیے پر تول رہا تھا اور کمرے میں پھیلی وہ خاموشی جیسے کسی آنے والے طوفان کا پیش خیمہ تھی۔
°°°°°°°°°°
…جاری ہے
