پاکستان کا معاشی قتل: ایک بھولی ہوئی داستان
“:پاکستان کا معاشی قتل: ایک بھولی ہوئی داستان”— یہ تصویر ہماری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک چبھتا ہوا سوال کرتی ہے
“کیا تمہیں یاد ہے کہ تمہارا گلشن کبھی کتنا سرسبز تھا؟”
بات سنہ 1951 کی ہے۔
مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں ڈھاکہ کے قریب دریا کے کنارے آباد شہر ‘نارائن گنج’ کی گیلی مٹی پر چند لوگ کھڑے ہیں۔ ان میں سے ایک شخص آگے بڑھتا ہے، کدال اٹھاتا ہے اور زمین پر پہلی ضرب لگاتا ہے۔ یہ شخص عبدالواحد آدم جی تھے۔
اس ایک ضرب کے ساتھ صرف کسی فیکٹری کی بنیاد نہیں رکھی جا رہی تھی، بلکہ ایک نوزائیدہ مملکت کے ایک عظیم الشان “صنعتی خواب” کی بنیاد رکھی جا رہی تھی۔
یہ آدم جی جیوٹ ملز کا آغاز تھا۔
چند ہی برسوں میں یہ مل دنیا کی سب سے بڑی جیوٹ ملز میں شمار ہونے لگی۔ 1960 کی دہائی تک اس مل کے پہیے مسلسل گھومتے تھے، جہاں 30 ہزار مزدور کام کرتے اور لاکھوں لوگوں کا رزق اس ایک صنعت سے وابستہ تھا۔
(حوالہ: پاکستان صنعتی ترقیاتی رپورٹس، 1960ء کی دہائی)
اس عروج کے دور میں نارائن گنج کو دنیا نے ایک نیا لقب دیا:
“ڈنڈی آف دی ایسٹ” (مشرق کا ڈنڈی)
یہ نام اسکاٹ لینڈ کے شہر ‘ڈنڈی’ کی مناسبت سے دیا گیا تھا جو اس زمانے میں دنیا کی جیوٹ انڈسٹری کا دل سمجھا جاتا تھا۔ نارائن گنج مشرق میں اس صنعت کا بے تاج بادشاہ بن چکا تھا۔
مگر یہ داستان صرف آدم جی خاندان کی نہیں ہے۔
یہ ان معماروں کی پوری نسل کی کہانی ہے جنہوں نے 1947 کے بعد اس ملک کی معیشت کو اپنے خون پسینے سے سینچا۔ قیامِ پاکستان کے وقت حالت یہ تھی کہ ملکی قومی پیداوار (GDP) میں صنعت کا حصہ بمشکل 7 فیصد تھا۔ نہ ہمارے پاس سرمایہ تھا، نہ کارخانے۔
تب چند خاندان آگے بڑھے اور انہوں نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا:
– آدم جی خاندان: آدم جی جیوٹ ملز اور آدم جی انشورنس کے ذریعے بنیاد رکھی۔
– سہگل خاندان: کوہِ نور ٹیکسٹائل ملز اور میپل لیف سیمنٹ جیسی دیوہیکل صنعتیں کھڑی کیں۔
-ولیکا خاندان: کراچی میں ولیکا ٹیکسٹائل ملز قائم کی، جو ابتدائی دور کی سب سے بڑی صنعتوں میں سے ایک تھی۔
-باوانی خاندان: باوانی ٹیکسٹائل ملز کے ذریعے ہزاروں بے روزگاروں کے گھروں کے چولہے جلائے۔
– داؤد خاندان: داؤد ہرکولیس کارپوریشن کے ذریعے صنعتی اور کیمیائی شعبوں میں انقلاب برپا کیا۔
– حبیب خاندان: حبیب بینک لمیٹڈ کی صورت میں پاکستان کے کمزور مالیاتی نظام کو مضبوط سہارا دیا۔
-اصفہانی خاندان: تجارت اور ایوی ایشن (اورینٹ ایئرویز) میں گراں قدر خدمات انجام دیں، جو بعد میں پی آئی اے (PIA) کی بنیاد بنی۔
اسی طرح میمن برادری نے ملکی تجارت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کیا۔ کراچی سے ڈھاکہ تک ان کا جال بچھا تھا۔ نارائن گنج میں ان کی اتنی بڑی آبادی تھی کہ لوگ اسے پیار سے “میمن گنج” کہنے لگے تھے۔ یہ وہ سنہرا دور تھا جب عالمی معاشی رپورٹس میں پاکستان کا شمار ایشیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں میں ہوتا تھا۔
پھر تاریخ نے ایک المناک موڑ لیا…
1971 کے سیاسی بحران اور جنگ نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے ملکی صنعتوں کو شدید دھچکا لگا۔ ‘آدم جی جیوٹ ملز’ بھی اس طوفان میں ڈوب گئی۔ مالکان اور خاص طور پر اردو بولنے والے کارکنان نے شدید تشدد سہا، اپنی عمر بھر کی کمائی چھوڑی اور مغربی پاکستان ہجرت پر مجبور ہوئے۔
مگر یہ لوگ ٹوٹے نہیں۔ انہوں نے راکھ سے دوبارہ اڑان بھری۔ کراچی، لاہور اور فیصل آباد میں اسی ہجرت زدہ طبقے نے نئے سرے سے کارخانے لگائے۔
لیکن بدقسمتی دیکھیے، ان کا کڑا امتحان ابھی باقی تھا۔
میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے “نیشنلائزیشن” (قومیانے کی پالیسی) کا نفاذ کر دیا۔1972
بینک… کارخانے… صنعتیں… سب کچھ راتوں رات ریاستی تحویل میں لے لیا گیا۔
جن لوگوں نے ہجرت اور تباہی کے بعد اپنے ناخنوں سے دوبارہ دیواریں کھڑی کی تھیں، ان سے ان کی محنت چھین لی گئی۔ معاشی ماہرین متفق ہیں کہ اس ایک قدم نے پاکستان میں نجی سرمایہ کاری کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ بے یقینی کا ایسا گہرا بادل چھایا کہ کئی مایہ ناز سرمایہ کار دبئی، یورپ اور امریکہ منتقل ہو گئے۔
وہ کارخانے جو کبھی ہزاروں گھروں کے چراغ روشن کرتے تھے، آہستہ آہستہ بیوروکریسی کی بھینٹ چڑھ کر خاموش ہونے لگے۔
آج جب ہم اس تصویر کو دیکھتے ہیں، تو دل میں ایک شدید کسک اٹھتی ہے۔
ان صنعتوں کو کسی بیرونی دشمن نے تباہ نہیں کیا۔
ان کارخانوں پر بھارت نے کوئی بم نہیں گرایا۔
ہم نے اپنے اس گلشن کو اپنے ہی ہاتھوں سے اجاڑا ہے۔
:آج یہ سوال تاریخ کے بند دروازے پر زور زور سے دستک دے رہا ہے
ایک سیاسی رہنما کے ‘عدالتی قتل’ پر دہائیوں بعد مقدمہ دوبارہ کھل سکتا ہے بحث ہو سکتی ہے
تو پاکستان کے اس ‘معاشی قتل’ پر بات کیوں نہیں ہو سکتی؟
کیا وقت نہیں آ گیا کہ ہم اس باب کو دوبارہ کھولیں؟ یہ جانیں کہ کہاں غلطی ہوئی؟ کس ایک فیصلے نے ہمارے صنعتی خواب کو چکنا چور کر دیا؟
:اور سب سے بڑا سوال
کون اس کیس کا مدعی بنے گا؟ اس قوم کی اجڑی ہوئی معیشت کا وارث کون ہے؟
