معاشرے کی ناکامی
یہ تصویر کسی ایک لمحے کی نہیں، یہ پورے معاشرے کی ناکامی کا ثبوت ہے، یہاں بھوک صرف پیٹ کی نہیں بلکہ نظام کی بے حسی کی بھی ہے، چند معصوم بچے کچرے کے ڈھیر سے خوراک تلاش کر رہے ہیں اور ہم ترقی، خوشحالی اور مہذب ہونے کے دعوے کر رہے ہیں، سچ یہ ہے کہ اگر کسی ملک کے بچے کچرے میں سے کھانا ڈھونڈنے پر مجبور ہوں تو وہاں ہر بڑی عمارت، ہر نئی سڑک اور ہر ترقی کا نعرہ جھوٹ لگتا ہے،
یہ بچے کسی فلم کا سین نہیں بلکہ ہماری حقیقت ہیں، ان کے ہاتھوں میں کتابیں ہونی چاہئیں تھیں مگر قسمت نے انہیں گندگی میں رزق تلاش کرنے پر لگا دیا، سوال یہ نہیں کہ یہ بچے یہاں کیوں ہیں، سوال یہ ہے کہ ہم کہاں ہیں، ہماری ترجیحات کہاں کھو گئیں، ہم سوشل میڈیا پر لمبی لمبی بحثیں کرتے ہیں، مذہب، سیاست اور اخلاقیات پر لیکچر دیتے ہیں مگر جب عملی قدم اٹھانے کی بات آتی ہے تو سب خاموش ہو جاتے ہیں،
یہ بچے کسی ایک گھر یا ایک علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے سسٹم کی ناکامی ہیں، جہاں امیر مزید امیر ہو رہا ہے اور غریب کی زندگی روز بروز بدتر ہوتی جا رہی ہے، تعلیم ایک خواب بن چکی ہے، بنیادی سہولیات ایک نعمت بن چکی ہیں اور انصاف ایک مذاق، ہم نے معاشرے کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں انسانیت دم توڑ رہی ہے اور ہمیں خبر تک نہیں، ان بچوں کے چہروں پر نظر ڈالیں، یہاں معصومیت بھی ہے اور مجبوری بھی،
یہ وہ عمر ہے جہاں کھیلنا، ہنسنا اور سیکھنا ہونا چاہیے تھا مگر یہاں زندگی کی سخت حقیقتیں ان کے حصے میں آئی ہیں، اصل مسئلہ صرف غربت نہیں بلکہ بے حسی ہے، کیونکہ غربت ہمیشہ سے رہی ہے مگر انسانیت بھی ساتھ رہی تھی، آج ہم نے اپنی آنکھیں بند کر لی ہیں، ہم نے خود کو یہ یقین دلا دیا ہے کہ یہ ہمارا مسئلہ نہیں، یہی سوچ سب سے بڑا جرم ہے، اگر ایک بچہ بھی بھوکا سوتا ہے تو پورا معاشرہ مجرم ہے،
یہ تصویر ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی بدلنا چاہتے ہیں یا صرف افسوس کر کے آگے بڑھ جانا چاہتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ جب تک ہم ان مسائل کو اپنی ذمہ داری نہیں سمجھیں گے تب تک کچھ نہیں بدلے گا، یہ بچے ہمارے فیصلوں، ہماری ترجیحات اور ہماری خاموشی کا نتیجہ ہیں، ہمیں اپنے رویے بدلنے ہوں گے، ہمیں عملی اقدامات کرنے ہوں گے،
!ورنہ یہ منظر کل بھی ہوگا اور شاید اس سے بھی بدتر، اور تب ہم صرف یہ کہنے کے قابل رہ جائیں گے کہ ہم نے سب کچھ دیکھا مگر کچھ نہیں کیا
