ناول درندہ
قسط نمبر 4
باب اؤل: متوازی دنیا
مصنف: زیاد اصغر زارون
°°°°°°°°°°
زافیر کی آنکھ آہستگی سے کھلی۔ کچھ پل کے لیے سب کچھ دھندلا سا تھا۔ جیسے ہی اُس کی بینائی بحال ہوئی، اُس کی نظر سب سے پہلے چھت پر پڑی۔ پُرانی لکڑی کی شہتیر دار چھت، جس میں کہیں کہیں دراڑیں تھیں اور ایک کونے میں مکڑی کا جالا ہلکی ہوا میں لرز رہا تھا۔ وہ خاموشی سے چھت کو تکتا رہا جیسے وہ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو کہ وہ کہاں ہے، کیا ہو چکا ہے اور یہاں تک کیسے پہنچا۔
اچانک ایک جھٹکے کے ساتھ اُسے بچی کا خیال آیا۔ وہ ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھا اور بوکھلاہٹ میں چاروں طرف نظریں دوڑائیں۔ اس کا سانس تیز ہو چکا تھا۔ کمرے میں نیم اندھیرا تھا، لکڑی کی کھڑکی سے مدھم روشنی اندر آ رہی تھی۔ فرش پر ہاتھ سے بُنے ہوئے پرانے قالین بچھے تھے اور دیواروں پر سادہ کپڑوں کے پردے آویزاں تھے۔
،دروازے کے قریب ایک بزرگ شخص بیٹھا تھا، سفید داڑھی، پر سکون آنکھیں اور ہاتھ میں لکڑی کی چھڑی۔ زافیر کچھ بولنے ہی والا تھا کہ بزرگ نے نرم، متوازن لہجے میں خود ہی کہا
“تمہاری بیٹی محفوظ ہے… باہر بچوں کے ساتھ کھیل رہی ہے۔”
یہ سن کر زافیر کی سانسیں نرم پڑ گئیں۔ دل کی بےچینی کچھ دیر کے لیے کم ہوئی۔ وہ گہرا سانس لیتے ہوئے بستر پر دوبارہ نیم دراز ہو گیا۔ اُس کے چہرے پر تکلیف کے آثار اب بھی نمایاں تھے۔ پیشانی پر شکنیں تھیں اور وہ بار بار آنکھیں بند کر کے ہاتھ سے اپنا ماتھا سہلا رہا تھا۔
،بزرگ نے اس کی کیفیت بھانپتے ہوئے نرمی سے کہا
“تمہارا کافی خون بہہ چکا ہے۔ اسی وجہ سے سر میں درد ہو رہا ہے۔”
،زافیر نے چند لمحے آنکھیں بند رکھیں جیسے خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہو۔ پھر وہ آہستگی سے اٹھ کر دوبارہ بیٹھ گیا۔ کمر کے پیچھے ہاتھ رکھ کر خود کو سہارا دیا اور بولا
“آپ… کون ہیں؟”
،بزرگ نے خفیف سا تبسم کیا اور گہری نظروں سے اُس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے جواب دیا
“میں وہی ہوں جس کی فصل تم نے گاڑی چلا کر برباد کر دی۔”
،زافیر کو جیسے اچانک یاد آیا۔ ایک لمحے کے لیے اُسے شرمندگی نے گھیر لیا۔ اُس نے نظریں جھکاتے ہوئے ہلکی آواز میں کہا
“اوہ…! مجھے معاف کر دیجیے۔ اگر آپ چاہیں تو نقصان کے بدلے میری گاڑی رکھ لیجیے۔”
،بزرگ نے کرسی سے اٹھتے ہوئے، نرمی سے سر ہلایا اور مسکراتے ہوئے کہا
“تمہاری جان بچ گئی، میرے لیے یہی کافی ہے۔ گاڑی اپنے پاس ہی رکھو۔”
پھر وہ آہستہ آہستہ دروازے کی جانب بڑھے۔ جب دروازے کی چوکھٹ پر پہنچے تو ایک لمحے کے لیے رُک کر پیچھے مڑے۔ اُن کی آنکھوں میں ایک عجیب سی شفقت جھلک رہی تھی۔
“میں تمہاری بیٹی کو لے کر آتا ہوں۔”
یہ کہہ کر وہ آہستگی سے کمرے سے باہر نکل گئے اور دروازہ ہلکی آواز کے ساتھ بند ہو گیا۔ زافیر نے ایک گہری سانس لی اور کمزور بدن کے ساتھ بستر پر ٹیک لگا لی۔ اُس کی نظریں دروازے پر جمی تھیں۔
°°°°°°°°°°
دور تک زمین سنّاٹے میں لپٹی ہوئی تھی جیسے وقت تھم سا گیا ہو۔ ایک وسیع و عریض میدان تھا جس میں گھاس کا کوئی نشان نہیں تھا، صرف سخت، بنجر مٹی اور کہیں کہیں خشک دراڑیں تھیں۔ میدان کے بیچوں بیچ ایک تنہا پہاڑ اپنی ہیبت ناک عظمت کے ساتھ کھڑا تھا۔ یہ پہاڑ دیگر پہاڑوں سے الگ اور منفرد تھا۔ نہ اس پر سبزہ تھا، نہ برف بلکہ اس کی دیواریں سیاہ چٹانوں سے بنی ہوئی تھیں جو سورج کی روشنی میں بھی مدھم اور سرد محسوس ہو رہی تھیں۔
پہاڑ کے بیچوں بیچ ایک عظیم، محرابی دروازہ نصب تھا جو بظاہر بند دکھائی دیتا تھا لیکن اُس کے گرد کوئی عام فضا نہیں تھی۔ دروازے کے دونوں جانب دو عجیب و غریب مجسمے کھڑے تھے۔ یہ مجسمے خاکی مٹی سے تراشے گئے تھے۔ ان کا چہرہ بندر جیسا تھا لیکن آنکھوں میں پتھر کی بجائے شعلہ سا بھڑک رہا تھا۔ ہاتھوں کی انگلیاں صرف تین تھیں، موٹی اور نوک دار۔ ان کے پاؤں گول تھے، جن کے گرد چاروں طرف چھوٹی چھوٹی انگلیاں نکلی ہوئی تھیں۔
رینا اور زمار خاموشی سے قدم بہ قدم آگے بڑھ رہے تھے۔ زمار کے لیے چلنا مشکل ہورہا تھا۔ اسی لیے اس کے قدم نہایت دھیمے آگے کی طرف بڑھ رہے تھے۔ رینا بھی زخمی تھی لیکن اس نے خود کو حیرت انگیز طور پر سنبھالا ہوا تھا۔ اُن کے لباس گرد آلود ہو چکے تھے۔ جیسے ہی وہ پہاڑ کے عظیم دروازے کے قریب پہنچے، دونوں مجسموں میں یک دم حرکت پیدا ہوئی۔ پہلے تو ان کے جسم پر دراڑیں پڑیں پھر مٹی کی پرتیں جھڑنے لگیں۔ جیسے کسی کھال کے نیچے ایک زندہ مخلوق آہستہ آہستہ سانس لے رہی ہو۔ کچھ لمحوں بعد دونوں مجسمے مٹی کے قالب سے باہر آ چکے تھے۔ اب ان کے اندر زندگی کی جھلک صاف دیکھی جا سکتی تھی۔ ان کے جسم دھات اور گوشت کے ملاپ سے بنے معلوم ہوتے تھے۔ چہرے پر تیز چمکتی آنکھیں کسی قدیم طاقت کا اظہار کر رہی تھیں۔
،اچانک دونوں مخلوقات کی آواز بیک وقت فضا میں گونجی۔ ان کی آواز میں ایسا گونجدار ارتعاش تھا جیسے پورا میدان اس آواز سے کانپ اٹھا ہو
“یہاں کیوں آئے ہو؟”
“!ہم شہنشاہ شنداق سے ملاقات کے لیے آئے ہیں”
،رینا نے سینہ تان کر بلند آواز میں جواب دیا، اس کی آواز میں اعتماد اور دکھ دونوں کی آمیزش تھی
،پہرے داروں میں سے ایک نے طنزیہ انداز میں پوچھا
“وہ تم دونوں سے آخر کیوں ملنا چاہیں گے؟”
رینا نے آگے بڑھ کر اپنی شناخت پیش کی جیسے اپنی ذات کا ثبوت ہی ان کے لیے دروازہ بن جائے۔
“میں فلفان کی پوتی ہوں… اور میں اپنے شہنشاہ شنداق کے حضور اپنی دادی فلفان کی موت کی خبر لائی ہوں۔”
یہ سنتے ہی پہرے داروں کے تیز چمکتے چہرے کچھ لمحوں کے لیے خاموش ہو گئے۔ ایک نے دوسرے کی آنکھوں میں جھانکا جیسے غیر لفظی مشورہ کیا جا رہا ہو۔ پھر دونوں نے دھیمی آواز میں “ہمممم…” کہا اور ایک لمحے بعد ہی پہاڑ کا عظیم دروازہ دھیمی مگر گونجتی آواز کے ساتھ کھلنے لگا۔
دروازے کے پتھریلے پرزے دھیرے دھیرے سرکتے جا رہے تھے جیسے زمین ہل رہی ہو اور گرد و غبار فضا میں بلند ہونے لگا۔ جیسے ہی دروازہ مکمل طور پر کھلا، اندر سے خفیف سی نیلی روشنی باہر چھننے لگی۔ یہ روشنی عام روشنی نہیں تھی، اس میں ایک مقناطیسی کشش تھی، ایک راز چھپا ہوا تھا۔
،اسی لمحے پہرے داروں نے ایک بار پھر بیک وقت کہا
“شہنشاہ آپ دونوں کا انتظار کر رہے ہیں۔”
یہ جملہ کہتے ہی ان کے جسم واپس پتھریلے خول میں جانے لگے۔ جیسے زندگی پھر مٹی کی پرتوں میں چھپ گئی ہو۔ چند ہی لمحوں میں وہ دوبارہ ویسے ہی بے جان اور جامد ہو چکے تھے جیسے وہ رینا اور زمار کی آمد سے پہلے تھے۔
رینا نے زمار کی طرف دیکھا، دونوں کی نگاہوں میں سنجیدگی، خوف اور عزم کی ایک پیچیدہ لہر تھی۔ اور پھر دونوں بوجھل قدموں کے ساتھ شہنشاہ شنداق کی جانب بڑھنے لگے۔ ایک ایسی دنیا کی طرف جس کے بارے میں وہ صرف کہانیاں سنتے آئے تھے۔
°°°°°°°°°°
شہنشاہ شنداق، پتھر سے تراشے گئے ایک عظیم تخت پر اپنے جلال کے ساتھ براجمان تھا۔ اس کا بدن بھی ویسا ہی سخت اور پتھریلا تھا جیسا محل کے دروازے پر کھڑے سنگی محافظوں کا۔ فرق صرف یہ تھا کہ شنداق دیوقامت تھا۔ اس کے قدموں کے سامنے رینا اور اس کا بھائی زمار محض بکری کے بچوں کی مانند لگ رہے تھے، چھوٹے، کمزور اور خاموش۔
“مجھے فلفان کی موت کا دکھ ہے… وہ ہماری بہت اچھی دوست تھی۔”
شنداق کی آواز میں ایسی گرج تھی کہ پہاڑ تھرتھرانے لگا اور زمین کانپنے لگی۔
،رینا نے لب کھولے، آنکھوں میں نمی اور لہجے میں درد لیے
“…انہیں ہمارے بھائی زافیر نے قتل کیا… اور ساتھ ہی پورے”
شہنشاہ نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔
“تمہارے محل میں داخل ہوتے ہی… میں تمہارے من کی ہر پرت پڑھ چکا ہوں۔ تم یہاں اس لیے آئی ہو کہ اپنی بہن اور بھائی سے انتقام لینے کے لیے ہماری فوج مانگو۔ ایک ایسی فوج… جو حقیقی دنیا میں داخل ہو کر انہیں ختم کر دے۔”
،رینا فوراً گھٹنوں کے بل جھک گئی، زمار نے جھکنے کی کوشش کی لیکن درد کی شدت سے جھک نہیں پایا، اس نے فقط سر جھکا دیا
“اگر آپ ہماری مدد کریں تو ہم نہ صرف آپ کی پرانی دوست کا انتقام لیں گے بلکہ آپ کا احسان بھی زندگی بھر یاد رکھیں گے۔”
شہنشاہ شنداق نے سخت لہجے میں جواب دیا،
“یہ ممکن نہیں… ہم متوازی دنیا اور حقیقی دنیا کے بیچ پردے کے نگران ہیں۔ ہمارا فرض ہے کہ اس توازن کو قائم رکھیں۔ ہم نہ اپنی فوج، نہ کسی بھی غیر مرئی مخلوق کو حقیقی دنیا میں داخل ہونے کی اجازت دے سکتے ہیں۔”
،یہ سنتے ہی رینا کا رویہ یکسر بدل گیا۔ آنکھوں کی عاجزی اب غصے کی چمک میں بدل گئی اور لہجہ ایک ناگن کی پھنکار جیسا ہو گیا۔ وہ کھڑی ہو گئی
“تو پھر ہمیں کیوں نہیں روکا؟ ہم بھی انسان نہیں ہیں، پھر بھی ہمیں حقیقی دنیا میں جانے کی اجازت ہے…! آپ کی فوج کو کیوں نہیں؟”
شہنشاہ کی آنکھوں میں بھی سختی ابھری۔”کیونکہ تمہارے خاندان کا تعلق انسانی نسل سے ہے۔ بھلے ہی تم کئی صدیوں سے متوازی دنیا میں ہو لیکن تمہاری اصل فطرت آج بھی انسانی ہے۔ لیکن میری فوج؟
” وہ متوازی دنیا کی مٹی ہیں۔ اگر وہ حقیقی دنیا میں داخل ہوئے تو توازن بِگڑ جائے گا۔ اب جاؤ اور دوبارہ کبھی لوٹ کر مت آنا۔
،زمار نے آہستہ سے رینا کے بازو پر ہاتھ رکھا اور سرگوشی کی
“چلو، رینا… ہمیں جانا چاہیے۔”
لیکن رینا نے اپنا بازو جھٹک دیا۔ اس کے دل میں صرف زافیر کے خلاف انتقام نہیں تھا بلکہ اب شنداق کی بے حسی اور دھوکے نے اسے اندر سے جھلسا دیا تھا۔
میں لوٹوں گی… ضرور لوٹوں گی۔ اور سب سے پہلے تمہاری سلطنت کو راکھ بناؤں گی۔ میں نے سمجھا تھا کہ زافیر کو مار کر میرا انتقام پورا ہو جائے گا… لیکن اب تم بھی اسی جرم کے شریک ہو۔ ”
” تم جس دنیا کے محافظ ہو، میں اس پوری دنیا کو جلا ڈالوں گی۔
:شنداق کا لہجہ مزید سخت ہو گیا
“نکل جاؤ یہاں سے…! ورنہ دروازے بند کر دوں گا اور تم ہمیشہ کے لیے سنگی مجسمہ بن کر رہ جاؤ گی۔”
زمار نے جلدی سے رینا کا ہاتھ پکڑا اور اسے کھینچنے لگا۔ محل کے دروازے دھاڑتی آواز کے ساتھ بند ہونے لگے۔
،رینا کے قدم پیچھے جا رہے تھے لیکن زبان تلوار کی مانند برستی رہی
میں بہت مان لے کر آئی تھی۔ ہماری دادی نے ہمیشہ تم سے وفاداری نبھائی، حقیقی دنیا سے تمہاری ضرورت کی ہر چیز لے کر آئی، تمہارے لیے خطروں کا سامنا کیا لیکن تم نے… تم نے اس وفا کو بے مول سمجھا۔ “
” تمہیں اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔ اب صرف زافیر نہیں… تمہاری سلطنت بھی میرے غضب کا نشانہ بنے گی۔
رینا اور زمار جیسے ہی دروازے سے باہر نکلے، پتھر کی چٹانیں دھڑاک سے بند ہو گئیں۔ اندر محل میں صرف ہلکی نیلی روشنی باقی تھی۔
شہنشاہ نے ہونٹوں ہی ہونٹوں میں کہا،
“…نادان لڑکی”
پھر اگلے ہی لمحے، دیواروں، ستونوں اور فرش کی مٹی اٹھ کر شنداق کے گرد چکرانے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے، وہ بھی ایک خاموش، سرد مجسمے میں بدل گیا۔ جیسے وہ صدیوں سے بیٹھا تھا اور صدیوں تک بیٹھا رہے گا۔
°°°°°°°°°°
زافیر کو اپنے زخمی وجود کو سنبھالنے میں تین دن لگ گئے۔ اس دوران کسان، جو اس کا میزبان تھا، اس کی گاڑی اپنے گھر منگوا چکا تھا۔
اب وہی کسان، اپنی بیوی اور بچوں کے ہمراہ، زافیر اور اس کے ساتھ موجود چھوٹی بچی کو رخصت کرنے کے لیے گاڑی کے پاس کھڑا تھا۔
،زافیر نے نرمی سے بچی کو فرنٹ سیٹ پر بٹھایا۔ پھر وہ کسان کی طرف متوجہ ہوا اور دل کی گہرائی سے کہا
“آپ کا بہت شکریہ۔ اگر زندگی وفا کرے تو آپ کے احسان کا بدلہ ضرور چکاؤں گا۔”
،کسان کے چہرے پر ایک مان بھری مسکراہٹ ابھری۔ اس نے شفقت سے زافیر کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور دھیرے سے بولا
“اس کی کوئی ضرورت نہیں، میرے بچے… اپنی بیٹی کا خیال رکھنا، بس یہی کافی ہے۔”
زافیر نے خاموش مسکراہٹ کے ساتھ ان سب کی طرف دیکھا جیسے آنکھوں ہی آنکھوں میں الوداع کہہ رہا ہو۔
“میں چلتا ہوں… شاید زندگی کسی موڑ پر ایک بار پھر آپ سے ملاقات کروا دے۔”
کسان نے صرف مسکراہٹ سے اس جملے کا جواب دیا اور زافیر کو گلے لگا لیا۔
پھر زافیر نے کسان کے بیٹے سے ہاتھ ملایا، بچی کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کسان کی بیوی کے سامنے احترام سے سر جھکا دیا۔
کسان کی بیوی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور دعا دیتے ہوئے بولی،
“اللہ تم دونوں کی حفاظت کرے۔”
یہ کہہ کر وہ پیچھے ہٹ گئی۔
زافیر نے ایک آخری نظر سب پر ڈالی اور خاموشی سے گاڑی میں بیٹھ گیا۔
گاڑی سٹارٹ ہوئی اور دھیرے دھیرے کچے راستے کو عبور کرتی ہوئی پکی سڑک پر آ گئی۔
اب وہ ایک بے منزل مسافر تھا۔ اس کے آگے کوئی ٹھکانہ نہیں تھا، بس ایک ذمہ داری کا بوجھ تھا۔ ایک ننھی بچی کی کفالت اور حفاظت، جس کے لیے اس نے اپنی خونی پہچان کو خود اپنے ہاتھوں سے ختم کیا تھا۔
یہ بچی اب اس کی کل کائنات تھی۔
لیکن… وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ اس ننھی جان کو کیسے پالے گا؟
وہ متوازی دنیا سے نکل کر اس حقیقی دنیا میں کیسے اپنی جگہ بنا پائے گا؟
بس امید ہی اس کا واحد سہارا تھی… اور یہی امید اسے کالی سڑک پر مسلسل آگے لیے جا رہی تھی۔
°°°°°°°°°°
چالیس ہزار سپاہیوں کی منظم قطاریں ایک وسیع و عریض میدان میں صف بستہ کھڑی تھیں۔ یہ کوئی عام فوج نہیں تھی۔ ان کے جسم انسانی ساخت کے تھے لیکن ہاتھوں میں انگلیوں کی جگہ چمکتے ہوئے نوکدار خنجر جُڑے ہوئے تھے جو گویا اُن کے بدن کا فطری حصہ تھے۔ ان کے جسموں کے مساموں سے پسینہ رواں تھا لیکن یہ پسینہ قطروں میں نہیں بلکہ باریک دھاروں کی صورت میں بہہ کر زمین میں جذب ہو رہا تھا۔ جیسے زمین ان کی توانائی خود پی رہی ہو۔
ان کے سامنے، میدان کے وسط میں، ایک بلند پتھر پر بادشاہ آبیاروس آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا۔ اس کے پورے وجود سے پانی مسلسل بہہ رہا تھا جیسے وہ ایک زندہ چشمہ ہو۔ یہ پانی اس کے جسم سے نکل کر چاروں طرف بہتا ہوا چھوٹے چھوٹے ندی نالوں کی صورت اختیار کرتا جا رہا تھا۔ فضا میں نمی اور خاموش دبدبہ چھایا ہوا تھا۔
رینا اور زمار اس شاہانہ منظر کے سامنے سر جھکائے مؤدب انداز میں کھڑے تھے۔
،آبیاروس نے گہری مگر نرم آواز میں ان دونوں سے مخاطب ہو کر کہا
“میں تمہاری دادی فلفان کو بخوبی جانتا تھا۔ تم دونوں تو شنداق کی سلطنت سے ہو پھر یہاں کیوں آئے ہو؟”
،رینا نے کچھ لمحے خاموشی کے بعد اعتماد سے سر اٹھایا اور واضح لہجے میں کہا
“ہمارے بھائی زافیر نے ہمارے پورے خاندان کو قتل کر دیا۔ اور اب وہ حقیقی دنیا میں روپوش ہو چکا ہے۔ وہ حد سے زیادہ طاقتور ہو چکا ہے اور اُسے صرف ایک عظیم فوج ہی شکست دے سکتی ہے۔
!… ہم آپ سے مدد مانگنے آئے ہیں… انصاف کے لیے، بدلے کے لیے”
،آبیاروس نے گہری سوچ میں چند لمحے آنکھیں بند رکھیں پھر آہستہ سے بولا
“…میں تمہاری فریاد سمجھتا ہوں اور تمہارا درد بھی لیکن میں مجبور ہوں”
،رینا کی آنکھوں میں غصے کی چمک ابھری مگر اس نے خود پر قابو رکھتے ہوئے پرسکون انداز میں سوال کیا
“مجبور؟ ایک عظیم سلطنت کا بادشاہ کیسے مجبور ہو سکتا ہے، میرے آقا؟”
:آبیاروس نے نرمی سے جواب دیا
“ہماری سلطنت ہمیشہ سے امن کی علمبردار رہی ہے۔ ہم کبھی حملہ نہیں کرتے۔ ہماری فوج اپنی جگہ سے حرکت بھی نہیں کر سکتی کیونکہ ان کے ہر قدم کے نشان سے ایک چشمہ پھوٹتا ہے۔ “
“اگر یہ فوج متحرک ہو جائے تو پورے علاقے کو سیلاب نگل سکتا ہے۔ چاروں ریاستیں پانی میں ڈوب جائیں گی۔
،پھر اُس نے توقف کے بعد بات جاری رکھی
“اور اگر میں ان قدرتی قوانین کو نظر انداز بھی کر دوں، تب بھی ایک اور رکاوٹ ہے۔ متوازی دنیا اور حقیقی دنیا کے درمیان حائل پردہ۔ شہنشاہ شنداق کبھی ہمیں اُس پردے کو عبور کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔”
،رینا نے آنکھوں میں حقارت لیے کہا
“!…یہ سب بہانے ہیں، میرے آقا۔ آپ کی طاقت سے میں بخوبی واقف ہوں۔ اگر آپ چاہیں تو تینوں ریاستوں پر قابو پا سکتے ہیں”
،آبیاروس ہلکا سا مسکرایا، گویا ایک معصوم بچی کے دعوے پر پیار آ گیا ہو
“شکریہ کہ تم نے ہمیں اتنا طاقتور سمجھا۔ مگر تمہاری باتوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔”
،رینا نے زمار کی طرف دیکھا اور جان بوجھ کر اسے مخاطب کر کے بادشاہ کو سنانا چاہا
“!…ہم وقت ضائع کر رہے ہیں۔ ہمیں بادشاہ کازمار کے پاس جانا چاہیے۔ وہ ضرور ہماری مدد کرے گا”
،آبیاروس کی مسکراہٹ گہری ہوگئی مگر اس کے الفاظ میں چھپی وارننگ نے ماحول ٹھنڈا کر دیا
…تم چاہے ہمارے ازلی دشمن کازمار سے اتحاد کر لو۔ تب بھی نہ تم، نہ وہ، حقیقی دنیا میں کسی فوج یا طاقت کو لے جا سکتے ہو۔ اور اگر تم شاہِ سُموم کی دہلیز تک پہنچنے کی کوشش کرو گے تو جان لو”
” شہنشاہ شنداق ہمیں اور کازمار،دونوں کو پکاریں گے۔ اور ہم ماضی کی طرح اپنی دشمنی بھول کر شاہِ سُموم کے خلاف ایک ساتھ کھڑے ہو جائیں گے۔
،رینا نے کچھ نہیں کہا۔ اس نے فقط سر جھکایا اور آبیاروس کی طرف آخری نگاہ ڈالی۔ پھر خاموشی سے واپس پلٹ گئی۔ زمار اس کے پیچھے لپکا۔ جیسے ہی وہ فوج کے علاقے سے باہر نکلے، زمار نے بہن سے پوچھا
“تو کیا واقعی ہم کازمار کے پاس جا رہے ہیں؟”
،رینا نے تھکے ہوئے قدموں سے چلتے ہوئے سنجیدگی سے جواب دیا
“ہاں، لیکن ہمیں ایک نئی حکمتِ عملی اپنانی ہوگی۔”
کیسی حکمتِ عملی؟” زمار نے حیرت سے پوچھا۔”
رینا نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا،
“آبیاروس نے جو کچھ کہا، وہ سچ تھا۔ کازمار ہماری مدد نہیں کرے گا مگر اُس نے ہمیں ایک اشارہ دیا ہے۔ ہماری واحد امید شاہِ سُموم ہے۔”
،یہ سنتے ہی زمار کی آنکھوں میں خوف کی ایک لہر دوڑ گئی۔ وہ لرزتی آواز میں بولا
“!…کیا تم پاگل ہو گئی ہو؟ شاہِ سُموم ہمیں سنے بغیر ہی مار ڈالے گا”
،رینا نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور نرمی سے چلتے ہوئے بولی
“جانتی ہوں… اسی لیے ہم پہلے شطرنج کی بساط بچھائیں گے۔ اب ہماری جنگ صرف زافیر سے نہیں بلکہ دونوں دنیاؤں سے ہے۔”
،پھر وہ یکدم رُکی، زمار کی آنکھوں میں جھانکا اور پُرعزم لہجے میں بولی
“اور تمہاری بہن اچھی طرح جانتی ہے کہ دونوں دنیاؤں کو شکست کیسے دینی ہے۔”
زمار جہاں خوف میں ڈوبا ہوا تھا، وہیں دل کے کسی کونے میں اسے اپنی بہن کی ذہانت پر مکمل بھروسا بھی تھا۔ وہ جانتا تھا، رینا جو سوچتی ہے… وہ کر گزرتی ہے… چاہے اس کی قیمت دنیا کا وجود ہی کیوں نہ ہو۔
°°°°°°°°°°
تین سال بعد:
رات کے ٹھیک تین بجے کا وقت تھا۔ زافیر خاموشی سے اپنی گاڑی میں شہر کی سنسان سڑکوں سے گزر رہا تھا۔ واپسی کا سفر طے کر رہا تھا۔ اچانک تین سائے سڑک پر نمودار ہوئے اور اس کی گاڑی کے عین سامنے آ کھڑے ہوئے۔ ان میں سے ایک کے ہاتھ خالی تھے جب کہ باقی دو آتشیں اسلحے سے لیس تھے۔
زافیر نے جھٹکے سے بریک لگائی۔ گاڑی کی روشنی میں ان کے چہرے دھندلے مگر ارادے واضح تھے۔
زافیر کے لبوں پر ایک ہلکی، پراسرار سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ جان چکا تھا کہ یہ معمولی واردات نہیں، بلکہ ایک غلطی تھی… ان ڈاکوؤں کی۔
گاڑی کا دروازہ کھول کر وہ آہستگی سے نیچے اترا۔
“!…ہاتھ گردن پر رکھو اور دھیرے سے آگے آؤ… کوئی چالاکی مت کرنا”
ایک مسلح ڈاکو نے غرّاتے ہوئے حکم دیا۔
زافیر نے خاموشی سے اپنے ہاتھ گردن پر رکھے اور قدم آگے بڑھا دیے۔ اس کی نظریں خالی ہاتھ والے شخص پر مرکوز تھیں جو بظاہر ان کا لیڈر لگ رہا تھا۔
“…تمہارے جسم پر اچھا ماس ہے لیکن باقی دونوں بالکل فضول ہیں”
،زافیر کی آواز میں سنجیدگی تھی
“!…بکواس بند کرو”
،لیڈر نے اس کی بات کو ہنسی میں اڑا کر جھڑک دیا پھر اپنے ساتھیوں کو حکم دیا
“اس کی تلاشی لو اور گاڑی بھی چیک کرو۔”
،زافیر نے نرمی سے مگر طنز بھرے لہجے میں کہا
“…مجھے نہیں لگتا کہ اس کی ضرورت پڑے گی”
اگلے ہی لمحے، اس نے اپنے ہاتھ کی انگلیاں سیدھی کیں اور تیزی سے ایک ڈاکو کے سینے میں گھسا دیں۔ دل کی دھڑکن رکنے سے پہلے ہی وہ اسے کھینچ چکا تھا… زندہ دل، زافیر کے ہاتھ میں۔
دوسرے ڈاکو کے چہرے پر ہوائیاں اُڑ گئیں۔ اس نے بندوق سنبھالنے کی کوشش کی مگر زافیر اس سے پہلے ہی حرکت میں آ چکا تھا۔ ایک زوردار لات بندوق پر پڑی، جو زمین پر جا گری۔ زافیر نے جھپٹ کر اس کی گردن تھامی اور ایک ہلکی سی آواز کے ساتھ گردن ٹوٹ چکی تھی۔
اب صرف ان کا لیڈر ہی بچا تھا جو دردناک منظر دیکھ کر حواس باختہ ہو چکا تھا۔ اس نے بھاگنے کی کوشش کی مگر زافیر کی ایک تیز لات اس کی گردن پر لگی اور وہ زمین بوس ہو گیا۔
“…مت مارو… خدا کے لیے مجھے جانے دو… جو چاہو لے لو”
اس نے کانپتے ہاتھوں سے گڑگڑانا شروع کیا۔
زافیر کے چہرے پر اب زہریلی مسکراہٹ پھیل چکی تھی۔
“مجھے جو چاہیے تھا… تم وہ پہلے ہی دے چکے ہو۔”
“خدا کا واسطہ ہے… مجھے مت مارنا… میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں…!”
وہ روتے ہوئے فریاد کرنے لگا مگر زافیر کی آنکھوں میں کوئی نرمی نہیں تھی۔
“…نہیں ماروں گا”
،زافیر نے آہستگی سے سرنج نکالتے ہوئے کہا
“ابھی تو بالکل نہیں ماروں گا… کیونکہ مجھے باسی ماس پسند نہیں۔”
اس نے سرنج ڈاکو کی گردن میں اتار دی۔
“میں ہمیشہ شکاری بن کر نکلتا ہوں… آج لگا کہ شکار نہیں ملے گا… مگر تم خود ہی میرے راستے میں آ گئے… خوراک بننے کے لیے۔”
چند لمحوں بعد وہ بے ہوش ہو چکا تھا۔ زافیر نے اس کی ٹانگ پکڑی اور گھسیٹتا ہوا گاڑی کے پچھلے حصے کی طرف لے گیا۔ پھر آسانی سے اسے اٹھایا اور ڈگی میں ڈال دیا۔
…زافیر واپس گاڑی میں بیٹھا، چابی گھمائی اور ایک سرد خاموشی کے ساتھ دوبارہ سڑک پر روانہ ہو گیا
جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو لیکن وہ رات، زافیر کے لیے ایک کامیاب شکار کی رات بن چکی تھی۔
°°°°°°°°°°
…جاری ہے
