Darinda Chapter no 5

ناول درندہ
قسط نمبر 5
باب اؤل: متوازی دنیا
مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°

زافیر نے اپنے شکار کو ایک فولادی میز پر لٹا رکھا تھا۔ وہی سرد، بے رحم میز جو عام طور پر مردہ خانوں میں لاشوں کی چیر پھاڑ کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ میز کی سطح میں باریک سوراخ بنے تھے، جن کے نیچے نصب اسٹیل کی موٹی تہہ سے خون بہتا ہوا پائپ کے ذریعے نیچے رکھی بالٹی میں جمع ہو رہا تھا۔

شکار کے ہاتھ اور پاؤں فولادی ہتھکڑیوں سے میز کے ساتھ اس طرح جکڑے گئے تھے کہ معمولی جنبش بھی ممکن نہیں تھی۔ اس کے منہ پر سیاہ ٹیپ چپکی ہوئی تھی اور آنکھیں بند تھیں۔ لیکن اب بے ہوشی کی طویل دھند چھٹنے لگی تھی۔ ہوش کی پہلی لہر نے جیسے ہی اس کے دماغ پر دستک دی۔ اُسے اپنی حالت کا ادراک ہو گیا۔ وہ مصیبت میں تھا، ایسی مصیبت جس سے بچنا ممکن نہیں تھا۔

وہ تڑپا، جھٹپٹایا، پوری قوت لگا دی مگر ہر کوشش بے سود رہی۔ اس نے بمشکل سر اٹھا کر سامنے دیکھا تو زافیر کو پایا۔ سفید شرٹ پر سیاہ پیش بند باندھے، دونوں ہاتھوں میں چاقو تھامے۔ وہ چاقو آپس میں رگڑ رہا تھا اور اس کی نظریں شکار کی آنکھوں میں گڑی ہوئی تھیں۔
قیدی نے کچھ بولنے، چیخنے کی کوشش کی لیکن منہ پر بندھی ٹیپ نے ہر صدا کا گلا گھونٹ دیا۔ اس کی سسکیوں اور ہچکیوں کی آواز بس ناک سے نکلی ہلکی غراہٹوں میں ڈھل رہی تھی۔

زافیر آہستگی سے قدم بڑھاتا ہوا اس کے قریب آیا۔ اس کی آواز سرد اور بے رحم تھی۔
“چاہتا تو تمہیں بے ہوشی میں ہی مار دیتا… لیکن مجھے مزہ آتا ہے جب شکار کی آنکھوں میں ڈر ناچتا ہے۔”
یہ کہتے ہی زافیر نے ایک تیز دھار چاقو اُٹھایا اور قیدی کے دائیں بازو پر ہلکی سی لکیر کھینچی۔ اگلے ہی لمحے اُس نے ایک کاری وار سے بازو کا گوشت چیر ڈالا۔ خون ایک دھار کی صورت میں نکلا جو میز سے بہتا ہوا فرش تک پہنچا اور زافیر کے پیش بند پر چھینٹیں بکھیر گیا۔

قیدی درد سے تڑپ اٹھا۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ جسم اکڑ گیا اور منہ سے دبی دبی چیخیں بلند ہوئیں جو درد کے خالص اظہار سے زیادہ کچھ نہیں تھیں۔ وہ چیخنا چاہتا تھا مگر اس کی آواز کو جیسے کسی نے دفن کر دیا تھا۔

زافیر نے آرام سے گوشت کا وہ ٹکڑا ایک ٹرے میں رکھا، جیسے کوئی سرجن کسی معمولی آپریشن کے بعد آلہ رکھتا ہے۔ پھر وہ دوسری طرف گیا اور دوسرے بازو پر بھی یہی عمل دہرایا… بے رحمی، مہارت اور تسکین کے ساتھ۔

یہ منظر اتنا خونی، اتنا تکلیف دہ تھا کہ اگر کوئی کمزور دل والا انسان دیکھ لیتا تو شاید صدمے سے وہیں جان دے دیتا۔ مگر زافیر؟ وہ تو اس سارے عمل میں لطف محسوس کر رہا تھا جیسے درد کی ہر لہر اور خون کا ہر قطرہ اُس کے اندر تسکین کی آگ بھرتا ہو۔ یہ صرف تشدد نہیں تھا، یہ اُس لطف اندوز ہونے کا ذریعہ تھا۔

°°°°°°°°°°

زافیر کا سیاہ پیش بند اب مکمل طور پر خون میں بھیگ چکا تھا۔ سامنے میز پر، جہاں تھوڑی دیر پہلے ایک انسان تھا، اب صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ بچا تھا، خشک، سفید اور بے جان۔ جسم کا ہر نرم عضو، ہر گوشت کا ٹکڑا وہ تراش کر مخصوص اسٹیل کے ڈبوں میں احتیاط سے رکھ چکا تھا۔ اب انہی ڈبوں کو فریزر میں ترتیب سے رکھ رہا تھا۔

کام مکمل ہونے پر اُس نے ایک بالٹی سے آدھا گلاس تازہ خون بھرا اور فریج سے ایک مشروب نکال کر گلاس کو مکمل کر دیا۔ سُرخ مائع سے لبریز گلاس کو نظروں کے سامنے بلند کرتے ہوئے، اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک ابھری۔ وہ زیرِ لب بڑبڑایا،
“واقعی خون… سب سے لذیذ مشروب ہے۔”
ابھی وہ پہلا گھونٹ حلق سے اتار ہی رہا تھا کہ باہر کے دروازے پر دستک ہوئی۔ ایک لمحے کے لیے وقت جیسے رک گیا۔ زافیر کی دھڑکن تیز ہو گئی جیسے اندر کا وحشی خود کو چُھپانے کے لیے مضطرب ہو۔ اس نے تیزی سے پیش بند اتارا اور واشنگ مشین میں پھینکا، شرٹ بھی اتار کر وہیں ڈال دی۔

“!…بابا”
دروازے کے پار سے معصوم سی آواز اُبھری۔ زافیر کا چہرہ ایک پل میں زرد پڑ گیا۔

“!…بس ایک منٹ… آبرو”
وہ بدحواسی سے حرکت میں آ گیا۔ میز پر موجود انسانی ہڈیاں ایک بڑے بیگ میں بھرنے لگا، ہاتھ کانپ رہے تھے مگر رفتار تیز تھی۔ ہر ہڈی، ہر ثبوت، جلدی سے ایک بڑی ٹوکری میں چھپا دیا۔

“!…بابا”
آواز ایک بار پھر گونجی اور اب اس میں تجسس کے ساتھ بے خبری بھی تھی۔
زافیر نے جلدی سے ہاتھ دھوئے، خون کے نشانات مٹائے، ایک صاف شرٹ پہنی اور آئینے میں خود کو تسلی دی۔ پھر ایک جھٹکے سے دروازہ کھولا، باہر نکلا اور فوراً چابی سے دروازہ لاک کر دیا۔

سامنے چھ سالہ آبرو کھڑی تھی، سنہری آنکھوں میں نیند اور معصومیت کے سائے جھلملا رہے تھے۔ زافیر نے لبوں پر نرم سے مسکراہٹ سجائی، جھک کر اُسے بانہوں میں اٹھا لیا۔

“کیا ہوا میرے بچے کو؟ کیوں نہیں سوئیں آپ؟”
اس نے پیار سے اس کے گال پر بوسہ دیا۔

“سوئی تھی نا… لیکن پھر جاگ گئی۔”
آبرو نے آنکھیں ملتے ہوئے جواب دیا۔

“چلو کوئی بات نہیں… بابا آج خود اپنی پری کو سُلائیں گے۔”
زافیر نے پھر سے اسے بوسہ دیا اور نرمی سے اندر لے آیا۔
بیڈ پر لٹا کر خود بھی اس کے ساتھ لیٹ گیا۔ آبرو نے اپنا ننھا سا سر زافیر کے کندھے پر رکھ دیا اور اسے بڑی بڑی آنکھوں سے دیکھنے لگی۔

“کیا ہوا؟ بھوک لگی ہے کیا؟” زافیر نے پوچھا

“…نہیں”
مختصر اور ہلکا سا جواب آیا۔

“پھر؟”

“…کہانی سُناؤ نا بابا”
آبرو نے اپنا مخصوص، معصومانہ انداز اپناتے ہوئے کہا۔

زافیر ہلکا سا مسکرایا، آنکھوں میں نرمی آگئی۔
“نہیں… رات کافی ہو گئی ہے… سو جاؤ میری گڑیا۔”

“سنائیں نا بابا… آپ تو میرے اچھے بابا ہیں نا؟”
یہ جملہ سن کر زافیر کے لبوں پر تبسم سا پھیل گیا۔

“اچھے بابا؟ یہ کیا ہوتا ہے؟”
زافیر نے مصنوعی حیرت سے پوچھا۔

“اچھے بابا وہ ہوتے ہیں جو سب سے پیار کرتے ہیں… سب کا خیال رکھتے ہیں، کسی کو مارتے نہیں، سب کی مدد کرتے ہیں۔”

،زافیر چند لمحے خاموش رہا، پھر مزے لیتے ہوئے پوچھا
“تو پھر بُرا بابا کون ہوتا ہے؟”

“جو دوسروں کو مارتا ہے… جو غصہ کرتا ہے… جو کسی سے پیار نہیں کرتا۔”

زافیر کو آبرو کی معصوم باتیں سن کر اچھا لگ رہا تھا۔ اس کی معصوم سے باتیں زافیر کا کل سرمایہ تھیں۔
“…اگر کوئی کسی کو مارے، تو وہ برا ہوتا ہے؟ مگر پولیس والے بھی تو مارتے ہیں”

،آبرو نے سوچتے ہوئے کہا
“لیکن وہ تو برے لوگوں کو مارتے ہیں نا۔”

“تو کیا برے لوگوں کو مارنے والے برے نہیں ہوتے؟”
،زافیر نے سوال کیا۔ آبرو کچھ لمحے چپ رہی، پھر بولی
“پتا نہیں بابا… یہ تو میم نے بتایا ہی نہیں۔”

،زافیر کے چہرے پر ایک بار پھر نرمی سی چھا گئی۔ اس نے پیار سے اس کے گال پر چٹکی لی
“!…تو میرے بچے کو میم سے پوچھنا چاہیے تھا نا”

آبرو پھر سے اس کے کندھے پر سر رکھ کر لیٹ گئی۔
“!اچھا، کل پوچھوں گی… ابھی کہانی سناؤ نا بابا”

زافیر گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔
اسے کوئی کہانیاں آتی نہیں تھیں… اور نہ ہی اس کی زندگی میں ایسا کچھ تھا جو کسی معصوم بچی کو سنایا جا سکتا۔ کچھ لمحے یونہی خاموشی میں گزرے۔ آبرو اُس کے سینے سے لگی خاموشی سے سانس لے رہی تھی۔
زافیر نے آہستہ سے آنکھیں بند کیں… اور اپنے ذہن کے تاریک گوشوں میں جھانکا۔ پھر دھیرے سے، ہلکی آواز میں ایک قدیم کہانی سنانے لگا۔ اپنی دنیا کی ایک پرانی کہانی۔

“ہماری دنیا سے پرے… ایک اور دنیا ہے۔ ایک ایسی دنیا جو چار بادشاہوں کے اختیار میں ہے۔ مٹی کا شہنشاہ شنداق، پانی کا بادشاہ آبیاروس، آگ کا فرماں روا کازمار، اور ہواؤں کا ظالم شاہ، سُمّوم۔
کہتے ہیں کہ دونوں دنیاؤں کے درمیان ایک ایسی دیوار تھی جسے عبور کرنا ناممکن سمجھا جاتا تھا۔
باقی تین بادشاہ اپنی اپنی ریاستوں میں مطمئن تھے۔ لیکن شاہِ سُموم… وہ صرف اقتدار کا پیاسا نہیں تھا… وہ سب کچھ چاہتا تھا۔ وہ دونوں دنیاؤں پر راج کرنے کے خواب دیکھتا تھا۔
اور یہی خواب… بڑی جنگ کی وجہ بن گیا۔

شاہِ سُمّوم نے پہلی ضرب شنداق کی فوج پر لگائی۔
وہ بے پناہ طاقتور اور ناقابلِ شکست دکھائی دیتا تھا۔ شہنشاہ شنداق نے برسوں تک اُس کی یلغار کا مقابلہ کیا لیکن وہ دن بہ دن کمزور پڑتا جا رہا تھا۔
جب اس نے محسوس کیا کہ شکست قریب ہے تو اُس نے باقی دو بادشاہوں سے مدد مانگی۔
کازمار اور آبیاروس جانتے تھے کہ اگر آج شنداق ہارا… تو کل ان کی باری ہوگی۔

تینوں نے متحد ہو کر شاہِ سُمّوم کا مقابلہ کیا… اور بالآخر اسے شکست دے دی۔
اس کے سر سے تاج چھین لیا گیا اور تاج چھنتے ہی، سُمّوم اور اُس کی پوری فوج… مادی وجود کھو بیٹھی۔
وہ سب… کالے، بگولے جیسے دھوئیں میں بدل گئے۔

…لیکن
یہ انجام نہیں تھا۔ بلکہ ایک نیا آغاز تھا۔
اب وہ ہواؤں کی ایسی فوج بن چکے تھے جسے نہ روکا جا سکتا تھا، نہ مارا۔ وہ دھواں تھے… بے جسم، بے آواز اور بے رحم۔
کوئی ہتھیار، کوئی طاقت، کوئی آگ اُن پر اثر نہیں کرتی تھی۔

تینوں بادشاہ اکٹھے ہوئے اور ایک نئی حکمتِ عملی پر غور کیا۔
کئی دنوں کی مشاورت کے بعد، انہوں نے ایک نئی سلطنت تخلیق کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک روشنی کی سلطنت جو اس بگولہ فوج کو ایک مخصوص اور محدود علاقے میں قید رکھ سکے۔

اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی دنیا اور انسانی دنیا کے درمیان چند خفیہ دروازے قائم کیے۔
فیصلہ ہوا کہ جو انسان ان دروازوں میں سے گزر کر پہلی بار اُن کی دنیا میں قدم رکھے گا… اُسے روشنی کی سلطنت سونپی جائے گی۔
وہی واحد انسان ہوگا… جو ان بے جسم بگولوں کو قابو میں رکھ سکے گا۔”

زافیر یہ سب کہتے ہوئے رُک گیا۔ اُس کی نظریں آہستہ آہستہ آبرو کی طرف مڑیں جو اب گہری نیند میں جا چکی تھی۔
ننھا سا چہرہ، ساکت پلکیں اور پرسکون سانسیں…
زافیر خاموشی سے مسکرایا۔
جھک کر اُس کی پیشانی پر نرمی سے بوسہ دیا۔ اُس کا سر آہستگی سے اپنے کندھے سے ہٹا کر تکیے پر رکھا اور خود بیڈ سے اٹھ کر دبے قدموں کمرے سے باہر نکل گیا۔

°°°°°°°°°°

زافیر ایک بار پھر اپنے قصاب خانے میں موجود تھا۔ ایک ایسا کمرہ جہاں دیواریں بھی گویا خاموشی سے چیخیں سن چکی تھیں۔ یہ جگہ اس کے خونی شوق کا مرکز تھی۔
کمرے میں تین بھاری فولادی میز تھے۔ جن پر وہ چیر پھاڑ کا کام کرتا تھا۔ ایک جانب ایک بڑی صنعتی فریج تھی، جس میں وہ انسانی اعضا محفوظ رکھتا تھا اور دیوار کے ساتھ بھٹی نصب تھی۔ ایک تیز آگ اگلتی ہوئی بھٹی، جس کا کام تھا ہڈیوں کو راکھ میں بدل دینا۔

ایک کونے میں چمکتے ہوئے چیر پھاڑ کے اوزار ترتیب سے رکھے تھے۔ چاقو، آری، قینچیاں، ہتھوڑے، اور ایسی کئی چیزیں جن کا وجود صرف تکلیف کے لیے تھا۔
اسی کمرے کی عقبی دیوار میں ایک خفیہ دروازہ تھا جو نیچے تہہ خانے میں اترتا تھا۔ وہاں زافیر نے آتشیں ہتھیاروں کا ذخیرہ جمع کر رکھا تھا۔ خودکار رائفلیں، پستول، گیس بم اور کئی ایسی چیزیں جو عام آنکھیں شاید کبھی نہ دیکھیں۔

زافیر نے وہ ٹوکری اٹھائی جس میں انسانی ہڈیوں سے بھرا بیگ رکھا تھا۔
اس نے بیگ کو بھٹی کے اندر پھینک دیا۔ ہڈیوں کی جلن سے اُٹھنے والی بدبو شاید کسی اور کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتی… مگر زافیر کے لیے یہ اطمینان کا احساس تھا۔

گیس کا نوب گھمایا اور بھٹی کی آگ تیز کر دی۔
اس کے بعد وہ صفائی میں لگ گیا۔ فرش پر گرا خون، میز پر جمی چکنی سرخی اور اوزاروں پر لگے ماس کے ذرات۔ وہ نہایت باریکی سے سب کچھ صاف کر رہا تھا۔
جب ہر چیز دوبارہ ترتیب میں آ گئی تو زافیر فریج کی طرف بڑھا۔
اس نے اندر سے دو انسانی گردے نکالے۔ تازہ، گہرے سرخ اور نمی سے چمکتے ہوئے۔
اس نے گردوں کو کاٹنے کے لیے ایک تیز دھار چاقو اٹھایا اور ماہر سرجن کی مانند انہیں چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کیا۔
پھر اس نے ایک فوک اٹھائی… اور گردے کے ٹکڑوں کو کھانے لگا۔
کچا، خون آلود، بے ذائقہ سا گوشت لیکن زافیر کے لیے یہ بے مثال لذت تھی۔ ایک گہری اور وحشیانہ لذت۔

وہ دل، جگر، گوشت وغیرہ پکا کر کھاتا تھا مگر گردے وہ ہمیشہ کچے ہی کھاتا تھا۔
یہ اس کا مخصوص جنون تھا، ایک ایسا غیر انسانی ذوق جسے وہ خود بھی پوری طرح بیان نہیں کر سکتا تھا۔
کمرے میں صرف چبانے کی دھیمی آواز گونج رہی تھی اور بھٹی میں شعلے ہڈیوں کو نگل رہے تھے۔ گویا یہ دنیا کی سب سے پُراسرار، پُر سکون اور سب سے زیادہ ہولناک شام تھی۔

°°°°°°°°°°

سردیوں کی ایک خاموش اور تھکی ہوئی شام تھی۔
کمرے میں ہلکی مدھم روشنی جل رہی تھی اور کونے میں رکھا ہیٹر ہولے ہولے گنگنا رہا تھا۔
آبرو کمبل میں بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی، ہاتھ میں موبائل تھا اور وہ پوری توجہ سے کوئی گیم کھیل رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں نیلی روشنی جھلملا رہی تھی اور چہرے پر خاموشی چھائی ہوئی تھی۔

سامنے صوفے پر ان کی عمر رسیدہ ملازمہ کمبل میں لپٹی بیٹھی تھی۔ وہ کافی دیر سے آبرو کو یوں اسکرین میں کھویا ہوا دیکھ رہی تھی۔ کبھی اُس کی نظریں دیوار پر لگے گھڑیال پر جاتیں، کبھی وہ آہ بھرتی۔

!…بالآخر اُس نے نرمی سے آواز دی، “آبرو”

“ہاں؟” آبرو نے روکھے لہجے میں جواب دیا۔

“موبائل رکھ کر سو جاؤ، بیٹا۔ بہت رات ہوگئی ہے۔”

“نہیں رکھوں گی!” وہی چڑچڑا انداز

“آنکھیں خراب ہو جائیں گی…” ملازمہ نے شفقت سے سمجھایا۔

“تو میری آنکھیں ہیں نا، آپ کو کیا؟” آبرو کی زبان میں تلخی شامل تھی۔

،ملازمہ نے ایک پل کو اسے بغور دیکھا، پھر دھیرے سے بولی
“بہت بدتمیز ہوگئی ہو تم۔”

“تو آپ کو کیا؟ آپ میری بابا نہیں ہیں!” آبرو کی آواز میں ایسی کڑواہٹ تھی جو چھوٹے دل میں دبی بڑی خلش کی گواہ تھی۔

یہ سن کر ملازمہ خاموش ہو گئی۔ اس نے الجھنے کے بجائے چپ سادھ لی جیسے وقت کا انتظار ہو۔
چند لمحے ہی گزرے تھے کہ کمرے کا دروازہ کھلا۔
زافیر اندر داخل ہوا۔
اسے دیکھتے ہی آبرو کا چہرہ کھِل اٹھا۔ جیسے پھیکی شام میں دھوپ اُتر آئی ہو۔ وہ موبائل وہیں پھینک کر بیڈ سے اتری اور بھاگ کر اس کی طرف لپکی۔

زافیر کے لبوں پر مسکان پھیل گئی، جھک کر اسے گود میں اٹھایا اور پیار سے اس کے گال پر بوسہ دیا۔ پھر اسے واپس بیڈ پر لا کر بیٹھا دیا۔

“میرا بچہ کتنا پیارا ہے نا؟”
زافیر نے مسکراتے ہوئے ملازمہ کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
شاید وہ چاہتا تھا کہ کوئی اس کی بیٹی کی تعریف کرے تاکہ آبرو خوش ہو جائے… لیکن ملازمہ نے بس پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلا دیا۔
زافیر کے چہرے پر ایک پل کو سنجیدگی چھا گئی۔

اس نے آبرو کو بیڈ پر لٹایا، کمبل اس کے سینے تک اوڑھایا اور نرمی سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

“ایک منٹ بیٹا… میں تمہاری آنٹی کو گیٹ تک چھوڑ آؤں۔”

آبرو نے برا سا منہ بنایا لیکن زافیر خاموشی سے کمرے سے نکل گیا۔ ملازمہ بھی اس کے پیچھے چل دی۔

صحن میں ٹھنڈی ہوا کا ہلکا سا جھونکا آیا۔
زافیر رک کر کھڑا ہو گیا اور ملازمہ بھی اس کے برابر آ کھڑی ہوئی۔

زافیر نے جیب سے سگریٹ کی ڈبیا نکالی، ایک سلگائی اور دو گہرے کش لیے۔

“کیا بات ہے؟ آپ کچھ پریشان لگ رہی ہیں۔ پیسوں کی ضرورت ہے کیا؟”
اس نے نرمی سے پوچھا۔

“نہیں، بیٹا… بس آبرو کو دیکھ کر دل پریشان ہو جاتا ہے۔”
یہ سنتے ہی زافیر نے سگریٹ زمین پر پھینکا اور مکمل توجہ ملازمہ کی طرف کر دی۔

“کیا ہوا آبرو کو؟” اس کی آواز میں فکر چھپی تھی۔

“ہوا تو کچھ نہیں… بس کچھ دنوں سے بہت چڑچڑی ہو گئی ہے۔”

زافیر نے گہری سانس لی۔
“تو کیا باقی بچے کبھی چڑچڑے نہیں ہوتے؟”

ملازمہ نے سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھا،
“ہوتے ہیں، لیکن وہ اپنے ماں باپ کے درمیان ہوتے ہیں۔
یہ بچی تو تنہائی میں پل رہی ہے اور اس کی یہ کیفیت آپ کی وجہ سے ہے۔”

“میری وجہ سے؟” زافیر کی پیشانی پر شکنیں پڑ گئیں۔
“…میں کچھ سمجھا نہیں”

ملازمہ نے جھجکتے ہوئے کہا،
“آبرو نے بتایا کہ آپ اکثر راتوں کو گھر پر نہیں ہوتے۔ نہ دن میں وقت دیتے ہیں، نہ رات کو۔ آپ کے اس رویے کا اُس پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔”

زافیر خاموش ہو گیا۔
،کچھ لمحے سوچ میں گم رہا پھر دھیرے سے بولا
“تو آپ کو کیا لگتا ہے، مجھے کیا کرنا چاہیے؟”

ملازمہ نے ایک ماں کی طرح شفقت بھرے لہجے میں کہا،
“بیٹا… ماں وہی نہیں جو پیدا کرے، ماں وہ ہے جو وقت دیتی ہے، جو محبت دیتی ہے۔
تم شادی کر لو۔
ایک اچھی عورت کو اپنی زندگی میں لے آؤ، تاکہ آبرو کو ایک ماں کا لمس، ایک ماں کا سایہ نصیب ہو۔”

،زافیر نے سر نفی میں ہلایا
“نہیں… میں شادی نہیں کروں گا۔
میری زندگی میں اگر کوئی ہے، تو وہ صرف میری بیٹی ہے۔”

“تو پھر آپ کو ماں اور باپ دونوں کا فرض نبھانا ہوگا۔”
ملازمہ کی آواز میں اب نرمی کے ساتھ ساتھ سختی بھی تھی۔

“اور وہ میں کیسے کروں…؟” زافیر کی آواز دھیمی پڑ گئی۔

“آسان ہے۔ روز اُسے اسکول چھوڑا کرو۔ ہفتے میں ایک بار اس کے ٹیچرز سے ملو، اسے باہر گھمانے لے جایا کرو۔
اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا کرو، باتیں سنو، ہنسی مذاق کرو۔
پیار، وقت، اور توجہ… یہی تو ماں کا کام ہوتا ہے۔”

زافیر خاموشی سے سنتا رہا۔ ان سادہ لفظوں میں بڑی حقیقت چھپی تھی۔

“شکریہ…” وہ آہستگی سے بولا، “میں اس پر غور کروں گا۔”

ملازمہ نے دروازے سے باہر قدم رکھا تو زافیر نے گیٹ بند کر دیا۔ پھر وہ واپس کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

°°°°°°°°°°

“!بابا… کہانی سنائیں نا”
آبرو نے ہمیشہ کی طرح فرمائش کی، سر زافیر کے کندھے پر رکھا ہوا تھا، آنکھیں آہستہ آہستہ بند ہونے کو تھیں مگر دل ابھی خوابوں کی دنیا میں جانا چاہتا تھا۔

زافیر نے محبت سے اس کی پیشانی چومی، “ساری کہانیاں تو سنا چکا ہوں، اب کیا سناؤں؟”

آبرو نے ضدی انداز میں کہا، “وہی چار بادشاہوں والی کہانی… ایک بار پھر سنائیں نا۔”

:زافیر نے مسکرا کر دھیرے سے کہنا شروع کیا

“کہتے ہیں، ہماری دنیا سے پرے ایک اور دنیا ہے… ایک ایسی دنیا جو روشنی اور رازوں سے بنی تھی۔
وہاں چار بادشاہ حکومت کرتے تھے۔ چاروں ایک دوسرے سے الگ مگر ایک ہی تاج کے نگہبان۔
ایک روز فیصلہ ہوا کہ جو انسان پہلی بار اس دنیا میں داخل ہوگا، اسے ایک نئی سلطنت دی جائے گی۔

!روشنی کی سلطنت
…جس کا کام ہواؤں کی بےقابو فوج کو ایک محدود علاقہ میں قید رکھنا ہوگا”

“پھر کیا ہوا؟” آبرو نے آنکھیں کھول کر دلچسپی سے پوچھا۔

“پھر… کچھ دنوں بعد ایک عورت آئی۔
وہ انسانی دنیا سے آئی تھی۔ ایک سیاہ گھوڑے پر سوار، سنہری تاج پہنے، سیاہ لباس میں لپٹی۔
اس کا حسن بےمثال تھا اور آواز ایسی کہ سُننے والا سحر میں جکڑ جائے۔
مگر اس کی آنکھوں میں شکست تھی… شاید وہ کسی جنگ سے ہاری ہوئی ملکہ تھی۔
اس کے جسم پر گہرے زخم تھے، چہرے پر خون کے داغ۔”
زافیر کہتا رہا اور آبرو اس کی آغوش میں چھوٹی سی دنیا میں کھوئی رہی۔

“تین بادشاہوں نے اسے پناہ دی۔ جب وہ زخموں سے سنبھلی تو اسے اس دنیا کا راز بتایا گیا۔
شاہِ سُموم کی کہانی، ہواؤں کی فوج اور روشنی کی سلطنت کی ذمہ داری۔
اسے پیشکش کی گئی کہ وہ اس سلطنت کی نگہبان بنے اور بدلے میں… اُسے امرتا کا انعام ملے گا۔”

زافیر نے آہستگی سے آبرو کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہانی جاری رکھی۔

“وہ ملکہ جو پہلے ہی اپنی دنیا میں سب کچھ کھو چکی تھی، فوراً مان گئی۔
شہنشاہ شنداق نے اپنی آنکھوں کا سرمہ اس کی آنکھوں میں ڈالا،
آبیاروس نے اپنا لعابِ دہن اس کی زبان پر رکھا،
اور کازمار نے اپنی ہتھیلی کی آگ اس کے سینے میں جلائی۔
یوں روشنی کی سلطنت کی سرحدیں متعین کر دی گئیں۔
ایک روشنی کا گولہ بنایا گیا جو پورے علاقے میں پھیل گیا۔
تینوں بادشاہ مطمئن تھے کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔ مگر وہ خوش فہمی کا شکار تھے۔”

زافیر کی آواز میں اب گہرائی اتر آئی تھی۔ آبرو کی سانسیں دھیمی ہو چکی تھیں مگر وہ ابھی بھی سن رہی تھی۔

“…وہ عورت، جو ان کے سامنے مظلوم بن کر آئی تھی
درحقیقت، وہ اپنی دنیا کی سب سے ظالم ملکہ تھی۔
جس نے اپنے باپ کو قتل کر کے تخت چھینا، اپنے بھائیوں کو موت کے گھاٹ اتارا اور جو اس کے خلاف کھڑا ہوا، اس کی کھال اُتار کر چوک پر لٹکا دی۔
ایک ایسی ملکہ، جس کے ظلم کی داستانیں سن کر روحیں کانپ جاتی تھیں۔
…جب دنیا کی سبھی ریاستوں نے اس کے خلاف جنگ کا اعلان کیا اور وہ ہار گئی، تب وہ جان بچانے کے لیے بھاگ نکلی تھی”
زافیر کا لہجہ اب تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔

“اب… اُسے روشنی کی سلطنت مل گئی تھی اور امرتا کا انعام بھی۔
مگر اس کا دل سیاہ تھا۔ چند لمحوں میں ہی اس نے روشنی کی سلطنت کو اندھیر نگری میں بدل دیا۔
ایسی تاریکی کہ سورج بھی وہاں روشنی ڈالنے سے کترائے۔
وہ اپنی نئی سلطنت کی حدود کو بڑھانے لگی۔
اب وہ اندھیر نگری کی ملکہ بن چکی تھی۔
،ایک ایسی دنیا کی حاکم
جس میں صرف اس کی مرضی، صرف اس کا قانون اور صرف اس کا راج ہوتا۔
…وہ دونوں دنیاؤں کو نگلنا چاہتی تھی
تاکہ صرف وہ بچے اور باقی سب کہانیاں بن جائیں۔”

زافیر کی آواز رکی، آبرو کی سانس مدھم ہو چکی تھی۔ وہ نیند کی آغوش میں جا چکی تھی۔
اس کے چہرے پر ایک سکون تھا جیسے وہ جانتی ہو کہ اندھیر نگری صرف کہانیوں میں ہوتی ہے۔
…مگر زافیر جانتا تھا
کہ یہ وہ بھیانک سچ ہے جس سے چاروں بادشاہ خوف کھاتے ہیں۔ اور اس ملکہ کا نام لینے سے بھی ڈرتے ہیں۔ اندھیر نگری کی وہ ملکہ جس کے وجود میں مٹی، پانی اور آگ کی طاقت ہے۔ جسے ہرانا ناممکن ہے۔

°°°°°°°°°°

…جاری ہے