ناول درندہ
قسط نمبر 6
باب اؤل: متوازی دنیا
مصنف: زیاد اصغر زارون
°°°°°°°°°°
زافیر اپنے الگ تھلگ کمرے میں بیڈ پر لیٹا چھت کو یوں گھور رہا تھا جیسے کوئی ان دیکھے سوالات اسے گھیر رہے ہوں۔
ملازمہ کی باتوں نے اس کے ذہن میں ایک ہلچل مچا دی تھی۔
…آبرو
اس کی بیٹی، اس کی دنیا، اس کی واحد امید۔
وہ بچی جس کی ہنسی زافیر کی ساری خاموشیوں کو مٹا دیتی تھی۔
لیکن وہی زافیر، جس نے اپنی زندگی میں سینکڑوں فیصلے سختی سے کیے، اپنی بیٹی کے سامنے اکثر بےبس سا لگتا تھا۔
اُسے خود بھی اعتراف تھا کہ وہ آبرو کو وہ وقت نہیں دے پاتا جو ایک باپ کو دینا چاہیے۔
ابھی تو وہ بچی تھی، خاموش اور معصوم… مگر وقت کا پہیہ رُکتا نہیں۔
ایک دن وہ بڑی ہوگی۔
سوال کرے گی۔
اس کی غیرموجودگی کو محسوس کرے گی۔
اور شاید… زافیر کو کٹہرے میں کھڑا کر دے گی۔
خیالات کا یہ طوفان جب حد سے بڑھا، تو وہ بےچینی سے اٹھ بیٹھا۔
میز پر رکھا ریموٹ اٹھایا اور سامنے نصب ایل ای ڈی آن کر لی۔
اسکرین پر خبریں چل رہی تھیں۔
“ایک بریکنگ نیوز کے ساتھ میں ہوں عروج علی۔
ہمیں اطلاع ملی ہے کہ فیصل آباد کے قریب ہائی وے پر ایک مشتبہ کنٹینر کو حراست میں لیا گیا ہے،
جس میں مبینہ طور پر بچوں کو اسمگل کیا جا رہا تھا۔
مزید تفصیلات جانتے ہیں ہمارے نمائندے شکیل احمد سے، جو موقع پر موجود ہیں۔
جی شکیل، آپ کے پاس کیا تفصیلات ہیں؟”
سکرین پر لمحہ بھر کی خاموشی چھا گئی۔
پھر منظر بدلا۔
ایک سنجیدہ صورت، سانولی رنگت کا رپورٹر شکیل احمد نمودار ہوا۔
پس منظر میں پولیس کی گاڑیوں کی چمکتی بتیوں نے سڑک کو سرخ نیلا کر رکھا تھا۔
“جی عروج، اس وقت میں کنٹینر کے بالکل قریب موجود ہوں۔
پولیس کے مطابق اس کنٹینر سے کئی بچوں کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان بچوں کو غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک اسمگل کیا جا رہا تھا۔
یہ صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ کسی عالمی اسمگلنگ نیٹ ورک کا حصہ ہے۔
ایسا نیٹ ورک جو کئی برسوں سے بچوں کی خرید و فروخت میں ملوث ہے۔”
سکرین پر پھر سے اسٹوڈیو کا منظر آیا۔
“شکیل، کیا آپ کو معلومات ملی ہیں کہ ان بچوں کو اغوا کیسے کیا جاتا ہے؟
اور اسمگلرز کا اصل مقصد کیا ہوتا ہے؟”
شکیل احمد دوبارہ اسکرین پر نمودار ہوا، اب کی بار اس کے لہجے میں سنگینی اور آنکھوں میں بوجھ تھا۔
“عروج، مکمل تفصیلات تو پولیس کے تفتیشی عمل کے بعد سامنے آئیں گی۔
لیکن ابتدائی معلومات کے مطابق،
کئی بچوں کے جسمانی اعضا نکال کر ڈارک ویب پر فروخت کیے جاتے ہیں۔
جبکہ بچیوں کو جسم فروشی کے لیے دیگر ممالک میں اسمگل کیا جاتا ہے۔
جہاں تک اغوا کی بات ہے تو یہ واقعات اب معمول بنتے جا رہے ہیں۔
سکولز، بازار، پارک، یہاں تک کہ گھروں کے باہر کھیلتے ہوئے بچے بھی محفوظ نہیں۔
پولیس کے ریکارڈ میں ایسے بےشمار کیسز موجود ہیں جن میں بچے گھروں سے اغوا کر لیے گئے۔”
“…آپ کا شکریہ شکیل”
عروج کی آواز جیسے کسی گہرے اندیشے میں ڈوبی ہوئی محسوس ہوئی۔
زافیر نے آہستگی سے ریموٹ کا بٹن دبایا اور اسکرین سیاہ ہو گئی۔
کمرے میں خاموشی پھیل گئی لیکن زافیر کے دل میں شور تھا۔
خبر کا ہر منظر، اس کے اندر ایک بےچینی کو بڑھا رہا تھا۔
ایک انجانا خوف اس کے دل میں رینگ گیا تھا۔
وہ خوف جو باپ کی نیندیں چھین لیتا ہے۔
وہ خوف جس میں ایک لمحہ بھی اپنی بیٹی کو تنہا چھوڑنے کا تصور اذیت بن جاتا ہے۔
زافیر کے لیے اب کچھ بھی معمول کا نہیں رہا تھا۔
وہ چوبیس گھنٹے گھر میں قید تو نہیں رہ سکتا تھا مگر دل کا قید خانہ اس کے اردگرد تنگ ہوتا جا رہا تھا۔
اسی کشمکش، اسی بوجھ کے ساتھ…
کب اس کی پلکیں بند ہوئیں،
کب نیند نے اسے گرفت میں لیا،
وہ خود بھی نہ جان سکا۔
°°°°°°°°°°
تین دن بیت چکے تھے۔ زافیر نے خود کو مکمل طور پر گھر تک محدود کر رکھا تھا۔ اندرونِ خانہ ایک ادھورا سا سکوت چھایا ہوا تھا جیسے دیواریں بھی اس کے باطن کی گواہ ہوں۔ فریج کب کا خالی ہو چکا تھا اور اب چاہ کر بھی وہ مزید بھوک برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ شکار پر نکلنا اس کی مجبوری بن چکی تھی۔
انسانی گوشت ایک ایسی لت ہے جو روح پر پنجہ گاڑ لیتی ہے۔ یہ کوئی عام خوراک نہیں، یہ ایک نشہ ہے، جس کا ذائقہ ایک بار چکھنے والا، عام غذا سے گِھن محسوس کرنے لگتا ہے۔
شام کا ہلکا دھندلکا ابھی پوری طرح چھایا نہیں تھا کہ زافیر گاڑی میں بیٹھ کر نکل پڑا۔ اس کا ذہن ابھی تک ملازمہ کی باتوں اور حالیہ دنوں میں لاپتہ ہونے والے بچوں کی خبروں کے گرد ہی گھوم رہا تھا۔ وہ جسمانی طور پر سڑک پر تھا لیکن ذہنی طور پر کسی اور ہی دائرے میں بھٹک رہا تھا۔
وہ شکار کی نیت سے نکلا تھا مگر جب ایک تھانے کے قریب سے گزرا تو ایک جھٹکے میں سوچوں کا رخ بدل گیا۔ گاڑی بےاختیار کچھ فاصلے تک آگے نکل گئی پھر وہ چونکا، بریک لگائی اور اسٹیرنگ گھما دیا۔ اب اس کا رخ تھانے کی طرف تھا۔
اُسے اندازہ ہو چکا تھا کہ خطرہ صرف باہر نہیں، اندر بھی موجود ہے اور اس کی بیٹی محفوظ نہیں ہے۔ اب وہ اپنے آپ کو کسی بڑے فیصلے کے لیے تیار کر رہا تھا۔
°°°°°°°°°°
زافیر اپنی سیاہ فارچونر کے دروازے کو ہلکے سے بند کرتے ہوئے تھانے کے مرکزی گیٹ کی طرف بڑھا۔ شام کے جھٹپٹے میں گاڑی کی چمک اور اس کا قیمتی لباس، تھانے کے عام ماحول میں ایک اجنبی تاثر پیدا کر رہے تھے۔ سکیورٹی پوسٹ پر کھڑا سپاہی جو معمول کے مطابق سست روی سے وقت گزار رہا تھا، یکایک متحرک ہو گیا۔
،وہ چاق و چوبند قدموں سے زافیر کی جانب آیا اور خوش اخلاقی سے مسکراتے ہوئے بولا
“جی سر، کیسے ہیں آپ؟”
زافیر نے مختصر سا توقف کیا، جیسے کسی بھولی بسری یاد سے چونک گیا ہو۔ اُس کی نظریں چند لمحے سپاہی کے چہرے پر ٹھہریں پھر خاموشی سے جیب میں ہاتھ ڈالا اور پانچ ہزار کا نوٹ نکال کر سپاہی کی ہتھیلی پر رکھ دیا۔
“مجھے انسپکٹر صاحب سے ملنا ہے۔” اُس نے دھیمی مگر پراُثر آواز میں کہا۔
،سپاہی نے مہارت سے نوٹ کو جیب کی تہہ میں چھپایا، اثبات میں سر ہلایا اور قریب پڑی کرسی کھینچتے ہوئے ادب سے کہا
“بس دو منٹ سر… اجازت لے کر آتا ہوں۔”
سپاہی تیزی سے اندرونی راہداری کی طرف بڑھ گیا، جیسے اچانک اسے کوئی بہت اہم کام سونپ دیا گیا ہو۔ انسپکٹر کے آفس کے باہر چند افراد پہلے ہی انتظار میں بیٹھے تھے مگر سپاہی نے ان سب کو نظرانداز کرتے ہوئے سیدھا دروازہ کھول دیا۔
دفتر کا اندرونی منظر صاف ستھرا مگر دباؤ زدہ تھا۔ میز کے پیچھے بیٹھا شخص تقریباً چھتیس سال کا ہوگا۔ گندمی رنگ، سخت نقوش، ہلکی بڑھی ہوئی داڑھی اور آنکھوں میں وہ مخصوص چمک جو بہت ایماندار لوگوں میں ہوتی ہے یا بہت چالاک اور کرپٹ لوگوں میں۔ اس کے سینے پر ایک دھات کا بیج چمک رہا تھا جس پر کندہ تھا۔ ‘Ayyan’
سپاہی اس کے قریب جھکا، آہستگی سے کچھ کہا، جس پر ایان نے ہلکے سے اثبات میں سر ہلایا۔ وہ سپاہی اس تھانے کا ‘باہمی مفادات’ والا خاص آدمی تھا جو آنے جانے والوں سے نرمی، ہمدردی اور رشوت، تینوں کا امتزاج نکال کر اپنی جگہ بنائے ہوئے تھا۔
دو منٹ بعد آفس کا دروازہ کھلا۔ اندر بیٹھے افراد جو اپنے مسائل لیے منتظر تھے، حیرانی سے زافیر کو گھورتے ہوئے باہر نکل آئے۔ ان کی جگہ پورے اعتماد کے ساتھ زافیر اندر داخل ہوا۔
،ایان نے رسمی مسکراہٹ کے ساتھ کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
“بیٹھیں محترم۔ بتائیں، ہم آپ کی کیا مدد کر سکتے ہیں؟”
زافیر نے خفیف سا شکریہ ادا کیا، بیٹھ گیا۔ وہ کچھ لمحے خاموش رہا۔ جیسے الفاظ کا انتخاب کر رہا ہو یا پھر اندر سے خود کو آمادہ کر رہا ہو۔ کمرے میں ہلکی روشنی، پنکھے کی مدھم آواز اور باہر سے آتی گاڑیوں کی آوازیں مل کر ایک ایسا ماحول بنا رہی تھیں جہاں خاموشی بھی معنی خیز لگتی تھی۔
زافیر کی نگاہیں میز پر ٹکی تھیں لیکن دماغ کہیں اور تھا۔ شاید اپنی بیٹی آبرو کے گرد ایک حفاظتی دائرہ کھینچنے کے منصوبے میں۔
“میری ایک چھوٹی سی بیٹی ہے… جو مجھے دنیا کی ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے۔ اور مجھے ہر وقت یہ خوف کھائے جاتا ہے کہ کہیں اُسے کچھ ہو نہ جائے۔”
زافیر کی آواز میں اضطراب تھا۔ اس کی نظریں میز پر جمی تھیں مگر ذہن کسی اور سمت بھٹک رہا تھا۔
،انسپکٹر ایان نے سنجیدگی سے اثبات میں سر ہلایا اور چہرے پر فکرمندی سجا کر بولا
“آپ کا خوف بالکل بجا ہے سر۔ موجودہ حالات واقعی پریشان کن ہیں۔ خاص طور پر بچوں سے متعلق جرائم میں جو اضافہ ہوا ہے، اُس نے سبھی والدین کو خوفزدہ کر رکھا ہے۔”
“کیا آپ نے وہ خبر دیکھی… بچوں کے اغواء والی؟” زافیر نے اچانک سر اٹھا کر پوچھا۔
“جی ہاں۔ اور یقین کریں، مجھے بھی وہ خبر شدید پریشانی میں مبتلا کر گئی تھی۔ اس وقت کئی ٹیمیں متحرک ہیں۔ انشاء اللہ جلد ہی اس گروہ کو انجام تک پہنچا دیا جائے گا۔”
ایان نے ضبط اور پیشہ ورانہ تحمل سے جواب دیا، مگر زافیر کی مسلسل باتوں سے اس کے لہجے میں خفیف سی جھنجھلاہٹ در آئی تھی۔
“میں چاہتا ہوں کہ آپ میرا ساتھ دیں… تاکہ ہم اس نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔”
زافیر کی بات نے گویا ایان کے اعصاب پر ضرب لگائی۔
،اس نے بمشکل اپنے چہرے کے تاثرات قابو میں رکھے اور نرمی سے لیکن الفاظ میں تلخی لیے کہا
“یہ ہمارا دائرۂ اختیار نہیں بنتا سر۔ ہمیں پہلے ہی اپنی حدود میں بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ لوگ غائب ہو رہے ہیں، شکایات کا انبار لگا ہے۔ اگر ہم بس انہیں سنبھال لیں تو یہی بڑی بات ہے۔”
زافیر خاموش ہو گیا۔ کمرے میں سناٹا چھا گیا۔
،پھر ایان نے پیشہ ورانہ لہجے میں گفتگو کا تسلسل جوڑا،
میں آپ کی پریشانی محسوس کرتا ہوں۔ مگر آپ کو اندازہ نہیں… یہ محض اغواء نہیں۔ یہ ایک عالمی مافیا ہے۔ انسانی اعضا کی غیرقانونی تجارت، ڈارک ویب پر بچوں سے متعلق گھناؤنا مواد اور نجانے کیا “
” یہ ایک زیرزمین دنیا ہے… جس کا صفایا کرنا، محض قانون کی طاقت سے ممکن نہیں۔
،زافیر نے میز کی طرف جھکتے ہوئے دھیرے سے پوچھا
“اگر میں واقعی اس گروہ کو جڑ سے ختم کرنا چاہوں… تو کیا یہ ممکن ہے؟”
:اس کے لہجے میں عجیب سا ٹھہراؤ اور آنکھوں میں آگ تھی۔ ایان نے چند لمحے اس کی آنکھوں میں دیکھا جیسے کسی پوشیدہ نیت کو جانچ رہا ہو۔ پھر آہستہ آہستہ لفظوں کو چبا چبا کر بولا
“اگر… آپ سنجیدہ ہیں… تو آپ کو ایک خفیہ نیٹ ورک بنانا ہوگا۔ ایک ایسی تنظیم… جو ان کا سامنا کر سکے۔ آپ کو لوگوں کی ضرورت ہوگی… وقت کی… اور سب سے بڑھ کر دولت کی۔ بے شمار دولت۔ پیسہ پانی کی طرح بہانا پڑے گا۔”
:زافیر چند لمحے کچھ سوچتا رہا پھر آہستگی سے جیب سے اپنا والٹ نکالا۔ اُس کی حرکات میں غیرمعمولی اعتماد تھا۔ اُس نے والٹ کی ایک خفیہ جیب سے ایک ننھا سا مگر چمکتا ہوا گلابی ہیرا نکالا اور میز پر رکھتے ہوئے بولا
“یہ دو قیراط کا ہیرا ہے۔ بلیک مارکیٹ میں اس کی قیمت پندرہ سے بیس کروڑ تک ہے۔”
انسپکٹر نے ہیرا اٹھایا، چند زاویوں سے گھما کر دیکھا۔ اسے ہیروں کی پہچان نہیں تھی لیکن نگاہیں اُس کی چمک سے خیرہ ہو گئیں۔
“یہ واقعی نایاب لگ رہا ہے مگر… جس کام کا آپ ذکر کر رہے ہیں، وہ ایک ہیرے سے ممکن نہیں۔”
زافیر کی آنکھوں میں سنجیدگی مزید گہری ہو گئی۔
“اگر میرے پاس ایسے ہزاروں ہیرے ہوں… تب آپ کی کیا رائے ہوگی؟”
ایان کا رنگ فق ہو گیا۔ وہ دنگ رہ گیا۔ نظریں بیک وقت زافیر اور ہیرے، دونوں پر مرکوز تھیں۔
“ہزاروں ہیرے…؟” وہ زیرِلب بڑبڑایا، “پھر تو… آپ آدھی دنیا خرید سکتے ہیں۔”
،زافیر کے پُراعتماد رویے نے انسپکٹر کے رویے میں جھرجھری پیدا کر دی۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے ہیرا واپس کرنا چاہا لیکن زافیر نے ہاتھ روک لیا
“اگر آپ میرا ساتھ دینے کی حامی بھریں… تو یہ ہیرا آپ کا ہے۔”
ایان نے جلدی سے اپنے حواس مجتمع کیے، قریب رکھی ڈائری سے ایک خالی صفحہ پھاڑا، ہیرا اس میں لپیٹا اور خاموشی سے اپنی جیب میں رکھ لیا۔ پھر جلدی سے ایک پتہ اور نمبر لکھ کر زافیر کی طرف بڑھایا۔
“یہ میرے گھر کا پتہ ہے… اور ذاتی نمبر۔ میں چاہوں گا آپ کل دوپہر کا کھانا میرے گھر پر کھائیں۔ وہاں آرام سے بات ہوگی۔”
،زافیر نے اپنی جیب سے موبائل نکالا اور اسے انسپکٹر کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
“مجھے لکھنا پڑھنا نہیں آتا۔ براہِ کرم آپ خود نمبر سیو کر دیں… اور گھر کا پتہ زبانی سمجھا دیں۔”
ایان نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا پھر خاموشی سے موبائل تھاما اور اپنا نمبر محفوظ کرنے لگا۔
°°°°°°°°°°
اگلے دن زافیر دوپہر کے وقت انسپکٹر ایان کے گھر پہنچ چکا تھا۔ کھانے میں ابھی کچھ وقت باقی تھا۔ وہ دونوں بیٹھک میں آمنے سامنے صوفوں پر بیٹھے تھے۔ ماحول خاموش مگر کشیدگی سے بوجھل تھا۔
،ایان نے ٹھنڈی سانس لے کر، نپے تُلے اور پرسکون لہجے میں بات شروع کی
“معاف کیجیے گا محترم… مگر ہم سرکاری ملازم ہیں اور اس ڈیجیٹل دور میں ہر بات کھلے عام کرنا… موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔”
“زافیر نے الجھن بھرے انداز میں ابرو چڑھائے، “میں سمجھا نہیں۔
،ایان نے قدرے محتاط لہجے میں وضاحت کی
“تھانے میں آپ سے کھل کر بات کرنا ممکن نہیں تھا۔ اور یہاں بھی… موبائل فونز کی موجودگی ہمیں مکمل محفوظ نہیں رکھتی۔”
یہ کہتے ہوئے اُس نے جیب سے اپنا موبائل نکالا اور زافیر کی طرف اشارہ کیا،
“براہِ کرم، آپ بھی اپنا موبائل دے دیں۔”
،زافیر نے بغیر کچھ کہے موبائل اس کے حوالے کر دیا۔ ایان نے دونوں موبائل سوئچ آف کیے اور میز پر رکھ کر ایک گہری سانس لی۔ پھر وہ صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر اعتماد سے گویا ہوا
“میں نے آپ کی بات پر ساری رات غور کیا ہے… اور میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔ میں آپ کا ساتھ دوں گا۔”
،زافیر کی نظریں فوراً اس کے چہرے پر جم گئیں
“پھر کیسے ختم کریں گے آپ اس تنظیم کو؟”
،ایان کا چہرہ سنجیدہ ہو چکا تھا۔ اس نے جھکتے ہوئے آہستہ مگر مضبوط لہجے میں کہا، “اگر وسائل کی کمی نہ ہو تو ہم ایک پھیلتا ہوا نیٹ ورک بنا سکتے ہیں۔ جیلوں سے خطرناک مگر ذہین مجرموں کو اپنے ساتھ شامل کریں گے۔ پولیس کے وہ افسران جنہیں قیمت کا مطلب معلوم ہو، ان سے خفیہ تعاون حاصل کریں گے۔ مفرور عناصر، اسمگلرز، ہیکرز اور جاسوس… سب اس نیٹ ورک کا حصہ بن سکتے ہیں۔
” ہتھیاروں کی کمی نہیں ہوگی اور اگر دولت بہتی رہے تو بڑے بڑے سرکاری افسران اور سیاست دانوں کو بھی ہم خرید سکتے ہیں۔ پہلے پاکستان میں جڑیں مضبوط کریں گے پھر بیرونِ ملک قدم بڑھائیں گے۔
،زافیر نے بغور اس کی بات سنی پھر پرسکون مگر حاکمانہ انداز میں بولا
“مجھے ان تفصیلات سے غرض نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ذاتی اسسٹنٹ بن کر رہیں۔ ایک مینیجر کی طرح۔ میرے ہر لفظ کی تعمیل کریں، ہر حکم پر بنا سوال لبیک کہیں۔ جو کچھ میں چاہوں، وہ میرے لیے مکمل ہو۔”
،یہ کہہ کر زافیر نے کوٹ کی جیب سے مخملی کپڑے کی ایک چھوٹی سی تھیلی نکالی۔ اس میں کم و بیش چالیس قیمتی ہیرے جگمگا رہے تھے۔ وہ تھیلی انسپکٹر ایان کی طرف بڑھاتے ہوئے نرمی مگر گہرائی سے بولا
یہ تمہارے ابتدائی اعتماد کی قیمت ہے۔ اور سنو… مجھے ایک ایسا ڈیجیٹل گھر چاہیے جو کسی قلعے سے کم نہ ہو۔ ایک ایسا سسٹم، جس میں میری بیٹی مکمل محفوظ رہے۔ چاہے پوری دنیا آگ کی لپیٹ میں کیوں نا آجائے مگر میری بیٹی محفوظ “
” اور ہاں… اُس گھر میں ایک خفیہ، ساؤنڈ پروف کمرہ بھی ہونا چاہیے۔ ایسا کمرہ… جہاں صرف میرے احکامات کی گونج ہو۔ سمجھ گئے میری بات؟”
،ایان نے لمحہ بھر کو آنکھیں بند کیں، جیسے اپنے اندر کے لالچ اور خوف کے درمیان توازن قائم کر رہا ہو۔ پھر آہستہ سے تھیلی اٹھائی اور اپنی کوٹ کی جیب میں رکھ لیا۔ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولا
“ٹھیک ہے سر… مجھے تین دن کا وقت دیں۔ میں کسی محفوظ اور موزوں جگہ کا انتخاب کر کے آپ سے دوبارہ رابطہ کروں گا۔ وہاں سے ہم نئے گھر کی تیاری شروع کریں گے۔”
اُس کی آنکھوں میں اب چمک تھی جیسے کسی مدفون خزانے کی کنجی مل گئی ہو۔
“ساتھ ہی میں ایک خفیہ نیٹ ورک کے قیام پر بھی کام شروع کر دوں گا۔”
ایان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی مگر وہ مسکراہٹ خواہش سے زیادہ خوف میں لپٹی لالچ کی آئینہ دار تھی۔ اُس کے وجود میں وہ ہلچل تھی جو تب پیدا ہوتی ہے جب کوئی شخص طاقت، دولت اور خطرے کے درمیان پہلی بار قدم رکھتا ہے۔
°°°°°°°°°°
چھ سالہ آبرو، اپنے بابا زافیر کے کندھے پر سر رکھے، خاموشی سے لیٹی ہوئی تھی۔ باہر رات کا سناٹا ہر طرف بکھرا ہوا تھا اور کمرے میں ہلکی مدھم روشنی جگمگا رہی تھی۔ زافیر دھیرے دھیرے اُسی کہانی کے الفاظ دہرا رہا تھا جو وہ کئی بار سنا چکا تھا لیکن آبرو کو ہر بار وہ نئے رنگوں میں نظر آتی تھی۔
اچانک معصومیت سے لبریز اُس کی چھوٹی سی آواز نے زافیر کو بات کرتے کرتے روک دیا۔
“بابا… جو دوسری دنیا والی کہانی آپ نے سنائی تھی… جس میں وہ ملکہ دونوں دنیاؤں کو اپنی اندھیر نگری میں لانا چاہتی تھی؟ کیا وہ کامیاب ہو گئی تھی؟”
،زافیر نے نرمی سے مسکراتے ہوئے اس کی پیشانی چومی اور جواب دیا
“نہیں بیٹا… تینوں بادشاہوں نے مل کر ایک ایسی غیر مرئی دیوار کھڑی کر دی تھی، جس نے ملکہ کی اندھیر نگری کو محدود کر دیا۔ وہ ہمیشہ کے لیے وہیں قید ہو گئی۔”
آبرو نے دلچسپی سے مزید پوچھا،
“اور شاہِ سُموم کی فوج کا کیا بنا؟”
،زافیر نے گہری آواز میں کہا
“وہ فوج بھی ہمیشہ کے لیے اندھیر نگری کے پیچھے قید ہو گئی۔ کہتے ہیں ان تک پہنچنے کے کئی خفیہ راستے ہیں مگر وہ صرف تینوں بادشاہوں کو معلوم تھے۔ اور انہوں نے قسم کھائی تھی کہ وہ نہ خود وہاں جائیں گے، نہ کسی کو راستہ دکھائیں گے۔”
“پھر تینوں بادشاہ واپس چلے گئے تھے؟” آبرو نے آنکھیں پھیلائے سوال کیا۔
“ہاں، لیکن ان کے پیچھے وہ راستے کھلے رہ گئے جو دونوں دنیاؤں کو آپس میں جوڑتے تھے۔ انہی راستوں سے ایک انسانی خاندان متوازی دنیا میں جا بسا۔”
،زافیر لمحے بھر کو رُکا، جیسے ماضی کی دھند میں کچھ ڈھونڈ رہا ہو پھر بولا
میری دادی بتاتی تھیں کہ متوازی دنیا کی فضا حقیقی دنیا سے بالکل مختلف تھی۔ وہاں کا ماحول، وہاں کا وقت، سب کچھ الگ تھا۔ پھر اُس خاندان میں عجیب سی وحشت اُتر آئی۔ “
” وہ لوگ آنے والے انسانوں کو پکڑ کر کھا جاتے تھے۔ یہاں تک کہ ان میں کچھ ایسے بھی تھے جن کی بھوک کبھی ختم نہ ہوتی۔ ایک بار… انہوں نے اپنی ہی بہن کو کاٹ کر کھا لیا۔”
،آبرو نے خوف زدہ انداز میں سر اٹھا کر کہا
“کتنے ظالم تھے وہ…! پھر کیا ہوا بابا؟”
،زافیر کی آنکھوں میں اداسی سی تیرنے لگی
“جنہوں نے اپنی بہن کا گوشت کھایا، وہ سب پاگل ہو گئے۔ ان کی بھوک اور بڑھ گئی۔ وہ مکمل درندے بن گئے۔ خاندان نے انہیں نکال دیا… اور وہ جنگلوں میں بھٹکنے لگے۔ ہمیشہ کے لیے… تنہا اور وحشی۔”
،چند لمحے خاموشی چھائی رہی۔ زافیر نے چھت کو گھورتے ہوئے مدھم لہجے میں کہا
“وہ دنیا… بہت عجیب ہے بیٹا۔ وہاں وقت بھی ہماری دنیا سے مختلف ہے۔ جیسے وہاں کا ایک مہینہ، ہماری دنیا کے ایک سال کے برابر ہو۔”
،آبرو نے فوراً پہلو بدلا اور تھوڑی بےصبری سے بولی
“!اچھا بابا… چھوڑیں یہ سب! جو پہلے کہانی سنا رہے تھے، وہی سنائیں نا”
زافیر کے ہونٹوں پر ایک نرم سی مسکراہٹ آگئی۔ اس نے ماضی کی تلخی کو ذہن سے جھٹک کر پھر سے وہی پرانی کہانی شروع کر دی۔
“…پھر وہ لڑکا گہرے پانی میں اُترا… لیکن پانی اتنا سرد تھا کہ اس کی سانسیں منجمد ہونے لگیں”
اور یونہی وہ کہانی سناتا رہا… لفظ لفظ، لہجہ لہجہ… اور آبرو، زافیر کے سینے سے لگی، نرمی سے سانسیں لیتی، کہانی سنتے سنتے نیند کی گہری وادی میں اُتر گئی۔
°°°°°°°°°°
پانچ دن گزر چکے تھے۔ زافیر ہر دن، ہر لمحہ انسپکٹر ایان کی کال کا منتظر رہا لیکن دوسری طرف مکمل خاموشی چھائی رہی۔ آخرکار، بے چینی کے عالم میں وہ خود تھانے پہنچ گیا۔ وہاں پہنچ کر جب اس نے ایان کے بارے میں دریافت کیا تو ایک غیر متوقع انکشاف اس کا منتظر تھا۔
“انسپکٹر صاحب؟ وہ تو پانچ دن سے لاپتہ ہیں۔ نہ کوئی اطلاع، نہ کوئی رابطہ۔ بیوی بچے بھی غائب ہیں۔ پولیس بھی تلاش میں ہے۔ ان کا گھر بھی سنسان پڑا ہے۔”
یہ الفاظ زافیر کے دل پر پتھر کی مانند گرے۔ لمحہ بھر کے لیے وہ ساکت ہو گیا۔ آنکھوں میں ایک گہرا سایہ اُتر آیا۔ وہ بغیر کچھ کہے، خاموشی سے واپس پلٹ آیا۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی اس کا چہرہ سخت ہو چکا تھا۔ آنکھوں میں غصہ آگ کی مانند دہک رہا تھا۔
اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ انسپکٹر ایان نے اس کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ اس نے جس انسان پر اعتماد کیا تھا، وہ اسی لالچ کے ہاتھوں بکھر گیا تھا۔ اور کیوں نہ ہوتا؟ اتنے نایاب ہیرے دیکھ کر کسی کی بھی نیت خراب ہو سکتی تھی… وہ تو پھر بھی ایک رشوت خور افسر تھا جو ہر دن مفادات کی تجارت کرتا تھا۔
زافیر کو ان ہیروں کے کھو جانے کا دکھ نہیں تھا۔ اس کے پاس ایسے سینکڑوں ہیرے تھے اور متوازی دنیا میں واقع اُس کے گھر میں ہزاروں کی تعداد میں بےشمار قیمتی پتھر اور خزانے موجود تھے۔ لیکن اسے جو چیز اندر سے جھنجھوڑ گئی تھی، وہ دھوکہ تھا۔ وہ بےوفائی… جو انسپکٹر ایان نے اس کے ساتھ کی۔ اور دھوکہ زافیر کے نزدیک ناقابلِ معافی جرم تھا۔
وہ جانتا تھا کہ اب اسے نئی پلاننگ کی ضرورت ہے۔ یہ دنیا رحم نہیں کھاتی۔ یہاں جینے کے لیے طاقت درکار ہے… اور طاقت؟ طاقت صرف اُسی کے پاس ہوتی ہے جس کے پاس اپنا نیٹ ورک ہو، اپنی وفادار فوج ہو، اپنے وسائل ہوں اور دشمنوں سے کئی قدم آگے سوچنے کی صلاحیت ہو۔
زافیر نے آسمان کی طرف دیکھا۔ سورج ڈھل رہا تھا لیکن اس کے اندر ایک نیا سورج طلوع ہو رہا تھا۔ انتقام، اختیار اور کنٹرول کا سورج۔
اب وہ صرف ایک باپ نہیں رہا تھا جو اپنی بیٹی کو محفوظ رکھنا چاہتا تھا۔ اب وہ ایک نظام بنانے والا شخص بننے جا رہا تھا… ایک سایہ جو قانون، جرم اور طاقت کی حدوں سے آزاد ہو کر اپنی دنیا خود بنانا چاہتا تھا۔
°°°°°°°°°°
زافیر کی زندگی اب ایک مقصد کے گرد گھوم رہی تھی۔ ایک محفوظ دنیا، ایک ایسا نظام جس پر وہ مکمل اختیار رکھے۔ صبح سے شام تک وہ جرائم پیشہ افراد کی تلاش میں سرگرداں رہتا، ایسے لوگوں کو کھوجتا جنہیں وہ اپنے مقصد کے لیے استعمال کر سکے۔ مگر انسپکٹر ایان کے دھوکے نے اسے محتاط بنا دیا تھا۔ اب وہ ہر چہرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتا، ہر وعدے کو دھوکے کا پیش خیمہ سمجھتا۔
تین ماہ اسی کرب، اسی تلاش اور اسی وسوسے میں گزر گئے۔ دن کے اجالے میں وہ شکار پر نکلتا، رات کی تاریکی میں اپنی بیٹی کے گرد ایک محفوظ دیوار بنانے کا خواب بُننے لگتا۔ اس کی آنکھوں میں ہر وقت ایک سوال تھا، “کیا اس دنیا میں کوئی ایسا ہے جس پر بھروسا کیا جا سکے؟”
ایک شام، سورج ڈھل چکا تھا۔ وہ گاڑی میں تنہا گھر واپس جا رہا تھا۔ فضا میں ہلکی ہلکی خنکی گھل رہی تھی۔ جب اس کی گاڑی نہر پر بنے ایک پرانے پل سے گزری تو اچانک ایک منظر نے اس کی توجہ کھینچ لی۔
پل کے کنارے ایک نوجوان کھڑا تھا۔ سر جھکائے، آنکھوں سے آنسو بہا رہا تھا۔ زافیر کی گاڑی اس کے قریب سے گزر گئی لیکن اس کی نگاہ سائیڈ ویو مِرر میں پیچھے کی طرف جم گئی۔ وہ نوجوان اب بھی وہیں کھڑا تھا…
!… اور پھر ایک لمحہ… ایک جھٹکا… اس نوجوان نے پل سے نہر میں چھلانگ لگا دی
زافیر کے دل میں ایک ہول اٹھا۔ اس کا پاؤں بے اختیار بریک تک پہنچا۔ گاڑی ایک دھچکے سے رُکی۔ دروازہ کھلا اور وہ بغیر کچھ سوچے نہر کی طرف دوڑا۔ اس کی آنکھیں اب بھی اس جگہ جمی تھیں جہاں سے نوجوان نے چھلانگ لگائی تھی۔ نہر کا پانی سرد اور گہرا تھا لیکن زافیر نے لمحے کی تاخیر کیے بغیر نہر میں چھلانگ لگا دی
پل پر کچھ راہگیر اس اچانک منظر کو دیکھ کر ٹھٹھک گئے تھے۔ کچھ لوگ دوڑ کر کنارے تک پہنچے، کچھ نے موبائل نکال لیے۔ پانی کی سطح پر ہلچل تھی اور دونوں انسان اندھیری لہروں سے نبرد آزما تھے۔
°°°°°°°°°°
…جاری ہے
