Darinda Chapter no 7

ناول درندہ
قسط نمبر 7
باب اؤل: متوازی دنیا
مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°

زافیر نہر کے یخ بستہ پانی میں تیزی سے تیرتا ہوا اُس سمت بڑھ رہا تھا جہاں نوجوان ڈوبا تھا۔ گہرے پانی میں تھوڑی ہی دیر بعد اس کی نگاہ اس لڑکے پر پڑی جو نیم غوطے میں تھا مگر ابھی تک مکمل بے ہوش نہیں ہوا تھا۔ زافیر نے فوراً اسے بازوؤں سے تھام لیا لیکن وہ نوجوان بپھرے ہوئے انداز میں خود کو چھڑانے لگا۔

“…!چھوڑ دو مجھے… مرنے دو… مجھے نہیں جینا”
وہ زار و قطار رو رہا تھا، اس کے الفاظ دل چیر دینے والے تھے۔ مگر وہ ایک نحیف انسان، زافیر کی آہنی گرفت سے کیسے نکل سکتا تھا؟

زافیر نے اسے پوری طاقت سے کھینچتے ہوئے پانی سے باہر نکالا اور کنارے کی طرف لایا۔ زمین پر آتے ہی وہ لڑکا دوبارہ ہاتھ پیر مارنے لگا مگر زافیر نے اُسے قابو میں رکھا اور گھسیٹتے ہوئے گاڑی کی طرف بڑھا۔

پل پر اور نہر کے کنارے لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔ چہروں پر حیرت، کچھ پر تجسس اور کچھ پر تنقید تھی۔ ہر طرف سوالوں کی بوچھاڑ شروع ہوگئی۔

“یہ ٹھیک تو ہے؟”
“دماغ خراب ہو گیا ہے کیا تمہارا؟”
“زندگی سے اتنی نفرت کیوں؟”

,زافیر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ وہ بپھرتے ہوئے گرجا
“!…یہ ٹھیک ہے، زندہ ہے…! اور تم لوگ جا سکتے ہو، تماشا ختم”

لوگ سہم کر پیچھے ہٹنے لگے۔ کچھ مایوسی سے سر ہلا کر پلٹ گئے، باقی بھی آہستہ آہستہ ہجوم سے نکل گئے۔ زافیر نے نوجوان کو زبردستی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بٹھایا، دروازہ بند کیا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔

گاڑی ابھی وہیں کھڑی تھی۔ باہر کا شور اب معدوم ہو چکا تھا اور اندر صرف خاموشی کا راج تھا۔ وہ نوجوان اب بھی رو رہا تھا جیسے اس کے اندر کا درد الفاظ سے باہر نکلنے کی ضد پر تھا۔ زافیر خاموشی سے بیٹھا رہا۔ کبھی کبھار ایسے لمحے صرف وقت ہی سمیٹ سکتا ہے۔
کافی دیر کے بعد جب وہ تھک کر چپ ہوا تو سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا لی۔ سانسیں بے ترتیب تھیں مگر آنکھوں میں اب صرف نمی تھی، طوفان تھم چکا تھا۔

,زافیر نے آہستگی سے پوچھا
“تمہارا نام کیا ہے؟”

نوجوان نے پلکیں اٹھائیں، نگاہ زافیر پر ڈالی پھر نظریں جھکا لیں۔
“…آزلان علی…”

کچھ دیر خاموشی طاری رہی پھر زافیر نے دوبارہ سوال کیا،
“آزلان… مطلب کیا ہے تمہارے نام کا؟”

یہ سوال سن کر پہلی بار آزلان نے زافیر کی آنکھوں میں ٹھہر کر دیکھا جیسے اس کے دل کے کسی بند دریچے کو کسی نے چُھو لیا ہو۔
“…بہادر… لیکن میں بہادر نہیں ہوں… اب نہیں”
اس کی آواز ٹوٹ گئی اور آنکھوں میں پھر سے آنسو امڈ آئے۔

,زافیر نے نرمی سے پوچھا
“مرنا کیوں چاہتے ہو، آزلان؟”

آزلان نے پلکیں موند لیں۔ چند ثانیے کچھ کہنے کا حوصلہ جمع کرتا رہا لیکن لبوں تک آکر سب لفظ دم توڑ گئے۔ وہ بس خاموش بیٹھا رہا جیسے اپنے اندر کے طوفان کو سمیٹنے کی آخری کوشش کر رہا ہو۔

“بتاؤ مجھے…” زافیر کی آواز میں ایک نرمی تھی، جیسے وہ لفظوں سے آزلان کے زخموں پر مرہم رکھنا چاہتا ہو، “شاید میں تمہارے کسی کام آسکوں۔”

,آزلان نے آنکھیں نم کرتے ہوئے سر جھکا لیا پھر بے رحم انداز میں بولا
“مجھے بھیک نہیں چاہیے۔”

“زافیر نے خالص سنجیدگی سے جواب دیا، “میں نے ایسا تو نہیں کہا۔ میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ تم نے مرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

,آزلان کی سانس بھاری ہوگئی۔ اس نے گردن سیدھی کی، آنکھیں بند کیں اور جیسے سینے میں چھپا طوفان باہر نکالنے کو تیار ہو گیا ہو۔ پھر بہت آہستہ، ٹھہرے ہوئے مگر زخمی لہجے میں گویا ہوا

“…میں صرف تین سال کا تھا… جب میرے ابو نے میری امی کو طلاق دے دی۔ لیکن بس یہی نہیں… انہوں نے عدالت میں لکھ کر دے دیا کہ میں ان کا بیٹا نہیں ہوں۔ انہوں نے کہا، یہ ناجائز اولاد ہے”

,آزلان کی آواز بھیگ چکی تھی لیکن وہ بولتا گیا
“میری ماں…. وہ ایک باحیا، صاف دل خاتون تھیں۔ مگر میرے ابو نے انہیں بدکردار بنا کر عدالت میں پیش کیا، ان کے کردار پر کیچڑ اچھالا۔ میری نانی تو پہلے ہی دنیا سے جا چکی تھیں اور ایک سال بعد نانا بھی دنیا چھوڑ گئے۔”

آزلان کا لہجہ اب کانپنے لگا تھا جیسے وہ ہر لفظ کے ساتھ ٹوٹ رہا ہو۔

“میرے ابو کے جھوٹ کی وجہ سے امی کے لیے کوئی رشتہ نہیں آتا تھا۔ ان کے دامن پر جو داغ لگا دیا گیا تھا، وہ ہماری زندگی پر سایہ بن کر چھا گیا۔ حتیٰ کہ میرے ماموں اور میری چھوٹی خالہ بھی میری امی کو اس سب کا قصوروار سمجھنے لگیں۔”

اس نے ہچکیاں لیں جیسے لفظوں سے پہلے آنکھیں چیخ رہی ہوں۔
“ایک دن امی نے تھک ہار کر وہ گھر چھوڑ دیا… ہم شہر آگئے۔ کرائے کا ایک چھوٹا سا مکان تھا۔ وہ تعلیم یافتہ تھیں، ایک مارٹ میں کیشیئر کی نوکری مل گئی۔ بارہ بارہ گھنٹے کام کرتیں اور میں… میں گھر میں اکیلا بیٹھا رہتا۔”
اس کا لہجہ اب شرمندگی سے بوجھل تھا۔

“اکیلے پن کی وجہ سے میں چڑچڑا سا ہوگیا۔ میں امی سے بدتمیزی کرتا، چیختا، چلاتا… لیکن وہ ماں تھی۔ خاموشی سے میری سخت باتیں سہتی رہتی تھیں۔ ان کی آنکھوں میں صرف پیار ہوتا تھا۔ میں پڑھائی میں اچھا تھا… کالج تک پہنچ گیا۔ پھر ایک دوکان پر سیلز مین کی نوکری مل گئی۔ لیکن میری بدتمیزی ویسی کی ویسی رہی۔ ماں ہمیشہ خاموش رہیں۔”

آزلان کی آواز اب تھرتھرا رہی تھی جیسے ہر لفظ اسے اندر سے کاٹ رہا ہو۔

“پھر کل… کل وہ دن آیا جس نے مجھے توڑ کر رکھ دیا۔ میرے ابو… وہی شخص… دوکان پر آئے۔ میں نے انہیں تصویروں میں دیکھا تھا، فوراً پہچان لیا۔ میں بھاگ کر ان کے پاس گیا۔ وہ مجھے نہ پہچان پائے لیکن جب میں نے بتایا کہ میں ان کا بیٹا ہوں… تو انہوں نے مجھے گلے لگا لیا۔”
آزلان لمحے بھر کو چپ ہوا پھر آواز میں سرد سی تلخی اتر آئی۔

“پھر انہوں نے مجھے الگ لے جاکر بیٹھایا… اور امی کے خلاف بولنے لگے۔ میرے ذہن میں پہلے ہی نفرت تھی، وہ مزید زہر گھولتے گئے۔ میں… میں سنتا رہا اور اندر ہی اندر وہ نفرت مجھے جلا گئی۔”

یہ کہتے کہتے آزلان کا ضبط ٹوٹ گیا۔ اس کے آنسو بے قابو ہو گئے۔ وہ دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپائے سسکنے لگا جیسے برسوں کی تڑپ اب لفظوں کے ذریعے باہر نکل رہی ہو۔
زافیر خاموش تھا۔ وہ کچھ نہیں بولا، صرف دیکھتا رہا۔

جب آزلان کی سسکیاں تھوڑی مدھم ہوئیں، وہ سر جھکائے بیٹھا رہا۔ آنکھیں سرخ تھیں، دل لہو مگر اس کے لہجے میں ایک تھکن تھی… ایسی تھکن جو صرف وہی محسوس کر سکتا ہے جو اندر سے مر چکا ہو۔

“میں شام کو گھر آیا تو امی ابھی تک مارٹ سے واپس نہیں آئی تھیں۔ جیسے ہی وہ آئیں… میں ان پر برس پڑا۔ طوفان کی طرح۔ میری زبان زہر سے بھری ہوئی تھی۔ میں چلّایا، طعنے دیے… اُنہیں فاحشہ کہا… اور یہ بھی کہا کہ ابو نے بالکل صحیح کیا جو آپ جیسی عورت کو طلاق دے دی۔”

آزلان کی آواز کانپنے لگی۔ آنکھوں سے بہتے آنسو اب اس کے گالوں سے نیچے، اس کی گود میں ٹپکنے لگے تھے لیکن وہ رکنے کے بجائے اور زیادہ شدت سے بولنے لگا۔

“میں چیختا رہا… انہیں بُرا بھلا کہتا رہا۔ میں نے کہا، بہتر ہوتا وہ آپ کو جان سے مار دیتے… انہوں نے آپ کو زندہ چھوڑ کر غلطی کی۔”

“امی پہلے تو چپ رہیں… بس خاموشی سے سنتی رہیں۔ ان کی آنکھیں جھکی ہوئی تھیں… شاید وہ میری آواز سے زیادہ اپنے نصیب کا بوجھ سن رہی تھیں۔ پھر اچانک جیسے اُن کا ضبط کا بند ٹوٹ گیا ہو، وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔”

,آزلان کی ہچکیاں تیز ہو گئیں۔ اس کی آواز گلے میں اٹک گئی پھر اس نے خود کو سنبھالا اور آگے بڑھا

“وہ رو رہی تھیں… مگر مجھے ایک لمحے کو بھی ترس نہیں آیا۔ میں صرف اپنی نفرت اُگلتا رہا۔ آخرکار تنگ آکر امی نے مجھے ایک تھپڑ مارا… بس ایک تھپڑ…! لیکن وہ تھپڑ میرے اندر بھرا زہر نکالنے کے بجائے میرے جنون کو ہوا دے گیا۔”
اب وہ بری طرح کانپنے لگا تھا۔

“مجھے طیش آگیا… میں نے اپنی ماں کو مارنا شروع کر دیا۔ وہی ماں جس نے اپنی پوری زندگی میرے لیے قربان کر دی تھی… میں نے اُسے بے دردی سے مارا… میں رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ وہ بے ہوش ہو گئیں… لیکن میں… میں رُکا نہیں… جیسے مجھ پر کوئی جن سوار ہوگیا ہو۔”

زافیر نے گہری سانس لی مگر کچھ نہیں بولا۔ یہ وہ لمحے تھے جن میں لفظ چھوٹے پڑ جاتے ہیں۔

“امی کی چیخوں نے پڑوسیوں کو چونکا دیا۔ انہوں نے پولیس بُلا لی۔ پولیس آئی، مجھے روکا، ماں کو ہسپتال پہنچایا… اور مجھے حوالات میں ڈال دیا۔”

آزلان کا لہجہ اب شکست خوردہ ہو چکا تھا۔ “رات کے پہلے پہر تک میں خود کو بہلانے کی کوشش کرتا رہا، خود کو تسلیاں دیتا رہا کہ جو کیا، ٹھیک کیا۔ خود کو دلائل دیتا رہا، جیسے کوئی وکیل ہو جو قاتل کو بےگناہ ثابت کر رہا ہو۔

” لیکن ضمیر کی آواز… وہ نہیں رکتی… وہ اندر سے چیختی ہے۔ صبح ہونے سے پہلے مجھے سمجھ آگئی… کہ میں نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا، سب سے خوفناک گناہ کر دیا ہے۔

اس نے لمبی سانس لی جیسے لفظوں کا بوجھ دل پر آن پڑا ہو۔

میں حوالات میں بیٹھا رو رہا تھا… اپنے رب سے معافی مانگ رہا تھا۔ تب ایک پولیس والا میرے پاس آیا۔ اُس کی آنکھوں میں نفرت نہیں، تکلیف تھی۔ اُس نے مجھے گالیاں بھی دیں، نصیحتیں بھی کیں۔ “

‘” پھر حوالات کا دروازہ کھولا اور کہا، ‘خدا تمہیں معاف نہیں کرے گا، جب تک تم اپنی ماں سے معافی نہ مانگو۔ وہ بہت نازک حالت میں ہیں… اگر دیر ہو گئی تو تمہیں کبھی معافی نہیں ملے گی۔

آزلان کی آواز اب ٹوٹنے لگی تھی جیسے الفاظ بھی سسکیاں بن چکے ہوں۔

وہی سپاہی مجھے اپنی بائیک پر ہسپتال لے گیا۔ میں نے ایمرجنسی وارڈ میں جا کر دیکھا… میری ماں… میری ماں بے ہوش تھیں… بے حس و حرکت۔ چہرے پر چوٹوں کے نشان… لیکن آنکھیں پر سکون تھیں۔ ”

,جیسے وہ تھک گئی ہوں، جیسے وہ ہار مان چکی ہوں، جیسے اب وہ کچھ نہیں سننا چاہتیں۔ میں اُن کے بستر کے پاس بیٹھ گیا۔ ہاتھ پکڑ کر بس روتا رہا… اور کہتا رہا
“…امی، میں بہت برا ہوں… معاف کر دیں… امی پلیز… ایک بار آنکھیں کھول لیں… مجھے دیکھ لیں… کچھ تو بولیں

اس کی آواز بند ہوگئی۔ وہ سر جھکا کر دبی آواز میں رونے لگا۔
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ صرف آزلان کی سسکیاں سنائی دے رہی تھیں اور زافیر کی آنکھوں میں ازل کی سنجیدگی جو برسوں کی سختی کو برقرار رکھے ہوئے تھی۔

“وہ اب کہاں ہیں؟” زافیر نے نرمی اور تحمل سے پوچھا۔

آذلان کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔ اُس کی آواز کپکپاتی ہوئی لبوں سے نکلی،
“ڈاکٹر کہہ رہے تھے کہ وہ شاید آج کی رات بھی نہ نکال سکیں… وہ میری وجہ سے مر رہی ہیں۔ میں نے… میں نے اپنی امی کو مار ڈالا۔ میں مجرم ہوں… میرا مر جانا ہی بہتر ہے۔”
وہ بےاختیار رو رہا تھا۔ الفاظ جملوں میں نہیں، بس آنسوؤں میں بہہ رہے تھے۔

زافیر چند لمحے خاموش رہا۔ اس کے چہرے پر سنجیدگی کی پرچھائیاں پھیل گئیں۔ پھر اُس نے آہستگی سے گاڑی کے اگنیشن میں چابی گھمائی، انجن کی دھیمی گڑگڑاہٹ سنائی دی۔

تمہاری امی کس ہسپتال میں ہیں؟” اُس نے نرمی مگر فیصلہ کن لہجے میں پوچھا۔ “

“نہیں… اب بہت دیر ہو چکی ہے۔”

زافیر کی نظریں سڑک کے اُس پار خلا میں گم تھیں مگر آواز میں وہی ٹھہرا ہوا عزم تھا۔
“جب تک موت نہ آجائے، تب تک زندگی کا فیصلہ انسان کو کرنے کا کوئی حق نہیں۔ مجھے بتاؤ… وہ کس ہسپتال میں ہیں؟”

سرکاری ہسپتال میں…” آذلان نے سسکتے ہوئے جواب دیا۔”

زافیر نے مزید کوئی سوال نہیں کیا۔ بس رفتار بڑھا دی۔ گاڑی سڑک پر اڑتی ہوئی اندھیرے کے سینے کو چیرتی چلی جا رہی تھی۔ اب اس کا رخ صرف ایک جانب تھا… زندگی اور موت کے بیچ جھولتی ایک ماں کی طرف۔

°°°°°°°°°°

,زافیر جیسے ہی ہسپتال کے داخلی دروازے سے اندر داخل ہوا، فوراً استقبالیہ پر پہنچا اور آزلان کی والدہ کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ چند منٹ بعد وہ ایک سینئر ڈاکٹر کے ساتھ بات کر رہا تھا۔ ڈاکٹر نے انتہائی افسوسناک لہجے میں صورتحال واضح کی
“ان کی حالت بہت نازک ہے۔ یہاں جو ممکن تھا، ہم نے کیا… اگر انہیں فوری طور پر بہتر سہولتوں والے کسی بڑے اسپتال منتقل نہ کیا گیا تو شاید ہم انہیں کھو دیں۔”

,زافیر نے ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر دوسرا سوال کیا
“سب سے قریبی اور بہترین اسپتال کون سا ہے جہاں فوری طور پر منتقل کیا جا سکتا ہے؟”

ڈاکٹر نے ایک بڑے نجی اسپتال کا نام لیا۔ زافیر نے اثبات میں سر ہلایا اور فوراً کارروائی شروع کر دی۔

°°°°°°°°°°

اسپتال کے باہر ایمبولینس پہلے ہی تیار کھڑی تھی۔ آزلان کی والدہ کو نرمی سے اسٹریچر پر لٹا کر گاڑی میں منتقل کیا جا رہا تھا۔ سائرن کی ہلکی آواز ہوا میں گونجنے لگی۔

زافیر تیزی سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھا، ڈیش بورڈ کھولا اور اندر سے پانچ لاکھ روپے نکالے۔ پھر وہ آزلان کے قریب آیا جو اضطراب اور آنسوؤں میں بھیگی آنکھوں کے ساتھ اپنی ماں کے قدموں کے پاس کھڑا تھا۔

“میری بیٹی گھر پر اکیلی ہے، اس لیے میں تمہارے ساتھ نہیں جا پاؤں گا۔” زافیر نے نرم لہجے میں کہا، “یہ رقم رکھ لو، تمہیں ضرورت پڑے گی۔”

آزلان کے ہاتھ کپکپا رہے تھے جب اس نے رقم تھامی۔ اُس کی آنکھوں میں شکرگزاری کی نمی چمک رہی تھی۔
“میں یہ پیسے جلدی لوٹا دوں گا اور آپ کا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گا۔”

,زافیر کا چہرہ بے تاثر تھا۔ اسے جذبات کم ہی محسوس ہوتے تھے۔ دنیا میں صرف ایک آبرو ہی تھی جس کے لیے اس کے دل میں کوئی جذبات تھے۔ اس نے چہرے پر سنجیدگی سجائے کہا
“یہ باتیں بعد کی ہیں۔ ابھی دیر نہ کرو… تمہاری ماں کے لیے ایک ایک لمحہ قیمتی ہے۔”

آزلان خاموشی سے اثبات میں سر ہلا کر ایمبولینس میں سوار ہوا۔ وہ اپنی ماں کے قریب جا بیٹھا، اُن کا ہاتھ تھامے، مسلسل کچھ پڑھتا جا رہا تھا۔
اگلے ہی لمحے ایمبولینس کا سائرن زور سے گونجا اور گاڑی تیزی سے سڑک پر دوڑتی چلی گئی، زندگی اور موت کی سرحد کے پار روشنی کی تلاش میں۔

°°°°°°°°°°

ایمرجنسی وارڈ کے باہر ایک ویران سی کرسی پر آزلان بےچینی سے بیٹھا تھا۔ آنکھوں کے گرد حلقے، کپکپاتے ہاتھ اور آنسوؤں کے خشک دھارے اُس کی گزشتہ رات کی اذیت کی گواہی دے رہے تھے۔ اچانک ہال کی روشنیوں کے درمیان اسے زافیر کی پر اعتماد چال دکھائی دی۔ وہ تیزی سے کھڑا ہوا، جیسے کسی مضبوط سہارا دینے والے درخت کی طرف لپک رہا ہو۔

,زافیر رکا اور آزلان کے قریب آتے ہی نرم لہجے میں پوچھا
“تمہاری والدہ کیسی ہیں اب…؟”

آزلان کے چہرے پر اک نئی روشنی سی ابھری۔ جیسے دل میں امید کے دیے پھر سے روشن ہو گئے ہوں۔
“ان کے دماغ اور پھیپھڑوں میں خون جم گیا تھا۔ رات ہی آپریشن ہوا۔ الحمدللہ اب وہ خطرے سے باہر ہیں۔”
اس کی آواز میں سکون بھی تھا اور لرزش بھی۔ خوشی، پچھتاوا اور دکھ سب کچھ بیک وقت جھلک رہے تھے۔
“ڈاکٹر نے کہا کہ وہ شام تک ہوش میں آ جائیں گی۔”

,زافیر نے چند لمحوں تک اُس کی آنکھوں میں گہری نظر سے دیکھا پھر ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا
“یہ تو اچھی خبر ہے… بس ایک بات یاد رکھنا، دوبارہ کبھی کوئی ایسا قدم مت اٹھانا… جس پر تمہیں زندگی بھر پچھتاوا ہو۔”

,آزلان نے سر جھکا لیا۔ شرمندگی کے بوجھ تلے دبا، وہ صرف اتنا کہہ سکا
“ایسا کبھی نہیں ہوگا… میں وعدہ کرتا ہوں۔”

زافیر نے اس کے کندھے پر نرمی سے ہاتھ رکھا جیسے اسے اس کی کمزوریوں سمیت قبول کر رہا ہو۔
“میں اب چلتا ہوں۔ جب تمہاری والدہ ہوش میں آ جائیں گی تو دوبارہ آؤں گا۔”

اتنا کہہ کر وہ مڑا اور آہستہ قدموں سے گاڑی کی طرف بڑھنے لگا۔ آزلان چند لمحوں بعد اس کے پیچھے چلتے ہوئے باہر آیا۔

,زافیر گاڑی کا دروازہ کھول ہی رہا تھا کہ آزلان نے ہچکچاتے ہوئے آواز دی
“وہ… جو پیسے آپ نے دیے تھے…”

,اُس نے جیب سے ایک لفافہ نکالا
“ساڑھے تین لاکھ بچ گئے ہیں، یہ آپ رکھ لیں۔ باقی بھی جلد واپس کر دوں گا۔”

زافیر نے ایک نظر لفافے پر ڈالی پھر نرمی سے لیکن سنجیدہ انداز میں آزلان کے ہاتھ کو آہستگی سے پیچھے دھکیل دیا۔
“یہ اب تمہارے ہیں۔”

,آزلان فوراً بولا
“نہیں سر… آپ کا پہلے ہی مجھ پر بہت بڑا احسان ہے۔ میں یہ پیسے نہیں لے سکتا۔ پلیز واپس لے لیجیے۔”

,زافیر نے جواب دینے کے بجائے اچانک موضوع بدل دیا
“کیا میرے پاس نوکری کرو گے؟”

,آزلان تھوڑا بوکھلا گیا
“ج… جی؟ ہاں… ضرور…! لیکن… کیسی نوکری…؟”

,زافیر نے گہری نظر سے اس کی طرف دیکھا اور نرمی سے پوچھا
“کیا نوکری کی نوعیت اہمیت رکھتی ہے؟”

آزلان فوراً گویا ہوا،
“نہیں، بالکل نہیں…! اگر آج میں اور میری امی زندہ ہیں تو وہ صرف آپ کی وجہ سے۔ آپ کے لیے میں ہر جائز و ناجائز کام کرنے کو تیار ہوں۔”

,زافیر نے اثبات میں سر ہلایا
“میں کل شام سے پہلے آؤں گا۔ پھر تفصیل سے بات ہوگی۔”

اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔

“اور یہ پیسے…؟” آزلان نے پھر ہمت کر کے پوچھا۔
,زافیر نے اگنیشن میں چابی گھمائی اور نگاہیں سڑک پر جمائے ہوئے بولا
“اسے اپنی پہلی تنخواہ سمجھ لو۔”
گاڑی کا انجن گرجا اور زافیر کی کار اسپتال سے نکل کر سڑک پر رواں ہو گئی۔

آزلان وہیں کھڑا رہ گیا۔ ایک لمحے کو جیسے وقت رک گیا ہو۔ حیرت اس کے چہرے سے صاف جھلک رہی تھی۔
ایک اجنبی شخص، جو پہلے اُس کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔ نہ صرف اُس کی ماں کی جان بچا گیا بلکہ نوکری کی پیشکش بھی دے گیا… بغیر کسی شرط، سوال یا امتحان کے۔ نہ قابلیت پوچھی، نہ تعلیم، نہ تجربہ۔ بس ایک خاموش بھروسہ تھا جو زافیر نے آزلان پر کر لیا تھا۔

آزلان کے دل میں اک عجیب سی ہلچل پیدا ہونے لگی۔ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ وہ کن راہوں کا مسافر بننے جا رہا ہے۔ ایک ایسا سفر، جس کی منزل ابھی انجان تھی لیکن جس کے ہمسفر نے بغیر مانگے سب کچھ دے دیا تھا۔
,وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا
“میں یہ قرض کبھی نہیں اتار سکوں گا۔”

°°°°°°°°°°

اسپتال کے خاموش کمرے میں دیوار پر لگی گھڑی کی ٹِک ٹِک اور ایک بستر پر لیٹی ماں کی ٹوٹتی سانسیں، کمرے میں ایک عجیب سی بوجھل خاموشی بھر رہی تھیں۔

آزلان اپنی ماں کے پیروں کے قریب زمین پر دوزانو بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں، چہرہ آنسوؤں سے تر اور دل ندامت سے چور تھا۔ وہ مسلسل روتا جا رہا تھا، ہر ہچکی کے ساتھ پچھتاوے کا بوجھ اور ہر آنسو کے ساتھ شرمندگی کا سمندر اس کے اندر اُمڈ رہا تھا۔

بیڈ پر لیٹی اس کی ماں… جس کا چہرہ صدیوں کی تھکن لیے چپ چاپ چھت کو گھور رہا تھا… اب بھی خاموش تھیں۔ سر، بازو اور دائیں پسلی پر سفید پٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔ ان کی آنکھوں کے گوشوں سے آنسو بہہ کر تکیے میں جذب ہو رہے تھے مگر وہ پلک تک نہیں جھپک رہی تھیں۔

آزلان نے ان کے پاؤں تھام رکھے تھے جیسے وہ ان کی ناراضگی کو اپنی گرفت سے روکنے کی کوشش کر رہا ہو۔ مگر وہ نہ پاؤں کھینچ رہی تھیں، نہ ہی اسے ایک نظر دیکھنے کو تیار تھیں۔ صرف چھت کو گھورتی رہیں جیسے وہاں اپنے درد کا کوئی مطلب ڈھونڈ رہی ہوں۔

پھر اچانک، پہلی بار ان کے لب لرزے۔ آواز بہت دھیمی مگر دل کو چیر دینے والی تھی۔
“…تم نے میرا بہت دل دکھایا ہے، آزلان”

یہ الفاظ نہیں تھے، قیامت تھی جو آزلان کے سر پر ٹوٹ پڑی۔ اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے کی رفتار تیز ہو گئی۔ اُس نے بے قراری سے اپنی گرفت مضبوط کی جیسے اپنی ٹوٹتی دنیا کو ماں کے قدموں میں باندھنے کی کوشش کر رہا ہو۔

“!…جانتا ہوں امی… جانتا ہوں… پلیز… معاف کر دیں۔ اب ایسا کبھی نہیں ہوگا، خدا کی قسم”
وہ روتے روتے ماں کے پاؤں کو چومنے لگا، بار بار، شدت سے، جیسے ہر بوسہ گناہوں کی معافی کی فریاد ہو۔

,میرا اس دنیا میں تمہارے سوا کوئی نہیں تھا… لیکن… لیکن… اب تم بھی میرے نہیں رہے…” اس کی ماں کے لہجے میں ایسا درد تھا جو دل چیر دینے کو کافی تھا “

“میں صرف آپ کا ہوں، امی… بس ایک بار… ایک آخری بار مجھے معاف کر دیں۔”
اس کے لفظ کسی پھٹے ہوئے ساز کی مانند کمرے میں گونج رہے تھے۔ ہچکیوں کے درمیان اُس کی آواز ڈوب رہی تھی۔

ماں خاموش تھی لیکن اس کے آنسو خاموش نہیں تھے۔ وہ اب بھی چھت کی طرف دیکھ رہی تھی۔ پھر آہستہ آہستہ انہوں نے نگاہیں چھت سے ہٹائیں اور رخ دیوار کی طرف موڑ لیا۔

“میں کیا کہہ سکتی ہوں، بیٹا؟”
آواز اب اور بھی شکستہ تھی۔

“آپ چاہتی تھیں کہ میں سدھر جاؤں، ہے نا؟ دیکھیں نا…! میں سدھر گیا ہوں امی جان۔ میں بدل گیا ہوں… بس ایک موقع دے دیجیے… بس ایک آخری بار۔”
وہ اب بھی رو رہا تھا لیکن اب اس کا رونا بے اثر تھا۔ ماں کے زخم صرف جسم پر نہیں تھے، روح پر بھی تھے۔ وہ ماں جو بیٹے کی ہر ٹھوکر کو دعاؤں سے سہارا دیتی آئی تھی، آج اس کی موجودگی بھی برداشت نہیں کر پا رہی تھی۔

“وقت لگے گا… لیکن سنبھل جاؤں گی۔ تم میرے بیٹے ہو، تمہاری ہر زیادتی بھول جاؤں گی… لیکن ابھی نہیں… ابھی تمہاری موجودگی بھی مجھے تکلیف دیتی ہے۔ چلے جاؤ یہاں سے۔”
بولتے ہوئے ان کی آواز بھرا گئی، یوں لگا جیسے وہ خود بھی زاروقطار رونے لگیں گی۔ لیکن وہ آج عجب خود پر ضبط کیے ہوئے تھیں۔ چند لمحات بعد انہوں نے حتمی الفاظ ادا کیے۔
“اور… اور… جب تک میں خود نہ بلاؤں… میرے سامنے مت آنا۔”

یہ الفاظ نہیں تھے، عذاب تھا، اک سزا تھی۔ آزلان کا دل جیسے ٹوٹ کر قدموں میں بکھر گیا ہو۔ اُس نے آہستہ سے ماں کے پاؤں چھوڑ دیے، ہاتھ کپکپا رہے تھے۔ وہ اٹھا، اپنی ماں کے چہرے کی طرف ایک آخری نظر ڈالی، جیسے کوئی مجرم اپنے مقتول کے چہرے سے نظریں چرانا چاہتا ہو۔

ماں کی آنکھیں اب دیوار پر جم چکی تھیں۔ اور آزلان، بوجھل قدموں کے ساتھ، خاموشی سے دروازے کی طرف بڑھا۔ اُس کے پیچھے کمرے میں صرف دیوار پر لگی گھڑی کی ٹِک ٹِک باقی رہ گئی تھی… اور ماں کے دل پر لگے زخم، جن کا کوئی مرہم نہیں تھا۔

°°°°°°°°°°

…جاری ہے