Darinda Chapter no 8

ناول درندہ
قسط نمبر 8
باب اؤل: متوازی دنیا
مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°

ریسٹورنٹ کے گوشے میں، ایک نسبتاً خاموش اور الگ تھلگ ٹیبل پر زافیر اور آزلان آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ کمرے میں نرم مدھم موسیقی کی دھنیں گونج رہی تھیں لیکن آزلان کے چہرے پر چھائی گہری اداسی، ماحول کی ہر نرمی کو پسِ منظر میں دھکیل رہی تھی۔

,زافیر نے کرسی کو ہلکے سے پیچھے سرکایا، پیر پر پیر چڑھایا اور مدھم مگر باوقار لہجے میں بولا
“اب ان سے معافی مانگنے کا وقت گزر چکا ہے آزلان… اب صرف ایک ہی راستہ ہے… اپنے کردار اور مستقل مزاجی سے ثابت کرو کہ تم بدل چکے ہو۔ وہ خود بخود تمہیں معاف کر دیں گی۔”

,عین اسی لمحے ویٹر چائے کی ٹرے لیے آ پہنچا۔ کچھ لمحے گفتگو رک گئی۔ چائے اور ہلکے پھلکے لوازمات ٹیبل پر رکھ کر ویٹر مؤدبانہ انداز میں واپس چلا گیا۔ آزلان نے چند پل کے لیے خاموشی اختیار کی پھر اچانک موضوع بدل دیا

“ان شاءاللہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ میں اب آپ کے ساتھ ہی رہنا چاہتا ہوں۔ مجھے تنخواہ کی پرواہ نہیں۔ میں صرف آپ کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہوں۔ جو حکم دیں گے، وہ سب کروں گا۔”

,زافیر نے بغور اس کے چہرے کا جائزہ لیا جیسے وہ اس کے ارادوں کی گہرائی ناپ رہا ہو۔ پھر قدرے توقف کے بعد نپی تلی آواز میں بولا
“کام تو بہت ہیں لیکن ایک کام فوری ہے۔ مجھے ایک ایسا گھر تعمیر کروانا ہے جو کسی قلعے سے کم نہ ہو۔ ایک محفوظ ترین، ڈیجیٹل اور خودکار گھر۔ ایسا گھر جو ہر خطرے کا مقابلہ کر سکے۔ اگر ساری دنیا جل بھی جائے تو بھی اسے خراش نہ آئے۔”

,آزلان نے چائے کا ہلکا سا سِپ لیا اور گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ اس کی آنکھوں میں منصوبوں کے خاکے ابھرنے لگے تھے۔ پھر جیسے کوئی خیال اسے چونکا گیا ہو، وہ تیزی سے بولا
“سر… اگر آپ برا نہ مانیں تو ایک سوال پوچھوں؟ آپ کا ذریعہ معاش کیا ہے؟ یعنی آپ کس قسم کے بزنس سے وابستہ ہیں؟”

,زافیر نے بلا تامل سر نفی میں ہلایا
“میرا کوئی کاروبار نہیں ہے۔”

,آزلان چند لمحے خاموش رہا پھر حقیقت پسندی سے بولا
“آپ پاکستان کا سب سے مہنگا اور محفوظ ترین گھر بنانے کی بات کر رہے ہیں۔ ایسا گھر ضرور اداروں کی توجہ کا مرکز بنے گا۔ اگر آپ کے پاس کوئی قانونی آمدن کا ذریعہ نہیں تو یقیناً سوال اٹھیں گے۔ اس صورت میں ادارے آپ کو مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔”

,زافیر نے سادگی سے جواب دیا
“میرے پاس وراثت میں ملے ہوئے ہیرے ہیں جو میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کرتا ہوں۔ یہی میری آمدنی کا ذریعہ ہے۔”

,آزلان نے کچھ لمحے سوچا پھر سنجیدگی سے بولا
“تو گویا یہ کالا دھن ہے۔ پھر ہمیں سب سے پہلے اس دولت کو قانونی دائرے میں لانا ہوگا۔ ہمیں ایسے کاروباری راستے اختیار کرنے ہوں گے جن کے ذریعے یہ رقم جائز طریقے سے آپ کے اثاثوں کا حصہ بنے تاکہ ادارے آپ کے خلاف کوئی کارروائی نہ کر سکیں۔”

,زافیر نے قدرے بے صبری سے چائے کا کپ اٹھایا اور کہا
“میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ مجھے چھ ماہ سے ایک سال کے اندر اپنا محفوظ گھر چاہیے۔”

,آزلان نے آنکھیں بند کر کے گہری سانس لی جیسے اپنے ذہن میں حساب لگا رہا ہو۔ پھر بولا
“دو تین بزنس ایسے ہیں جو تیزی سے کیش فلو پیدا کر سکتے ہیں اور ان کے ذریعے ہم یہ دولت صاف کر سکتے ہیں۔ مگر اس کے لیے مجھے آپ کے شناختی دستاویزات درکار ہوں گے۔”

,زافیر نے سخت مگر سنجیدہ لہجے میں کہا
“میرے پاس شناختی کارڈ نہیں ہے۔”

آزلان کا چہرہ حیرت سے کھل گیا جیسے کوئی ناقابلِ یقین حقیقت سن لی ہو۔
“آپ کے پاس شناختی کارڈ نہیں؟ آپ ایک لگژری گاڑی میں گھومتے ہیں، مہنگے منصوبے سوچتے ہیں اور اتنی دولت رکھتے ہیں…؟”

:زافیر نے سپاٹ چہرے سے جواب دیا
“میرے پاس کوئی دستاویزی شناخت نہیں ہے۔ نہ شناختی کارڈ، نہ پاسپورٹ، نہ پیدائش سرٹیفیکیٹ۔ اس دنیا میں میرا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔”

آزلان کی حیرت مزید گہری ہو گئی۔
“پھر آپ کی بیٹی… کیا اس کا کوئی ریکارڈ موجود ہے؟”

“صرف اسکول میں اس کا نام درج ہے، باقی کچھ نہیں۔”

کچھ لمحے خاموشی رہی۔ پھر آزلان نے قدرے جھجھکتے ہوئے پوچھا،
“آپ کی بیوی…؟”

,زافیر نے سرد لہجے میں کہا
“میری کوئی بیوی نہیں۔ اور آبرو میری حقیقی بیٹی بھی نہیں ہے۔ وہ مجھے ایک جنگل میں لاوارث حالت میں ملی تھی۔ تب سے میں نے اُسے اپنی بیٹی بنا کر پالا ہے۔”

,آزلان نے کچھ دیر خاموشی اختیار کی پھر زیرِ لب مسکرایا
“سر، یہ پریشانی بھی ہے… اور ایک سنہری موقع بھی۔”

,زافیر نے الجھ کر پوچھا
“میں سمجھا نہیں؟”

,آزلان نے اعتماد سے جواب دیا
یہ پاکستان ہے سر۔ یہاں اگر آپ کے پاس پیسہ ہو تو سب کچھ ممکن ہے۔ میں آپ کا اور آبرو کا نادرا میں اندراج کروا سکتا ہوں۔ آپ کو ایک ایسے خاندان کا وارث بنائیں گے جس کا وجود کاغذوں میں ہوگا۔ “

” پٹوارخانے میں کروڑوں کی وراثتی جائیداد بنائیں گے اور آپ کو باقاعدہ شہری حیثیت ملے گی۔

زافیر نے غور سے آزلان کو دیکھا، جیسے اس کی سچائی تول رہا ہو۔

“آپ مجھے اپنا اور آبرو کا مکمل نام لکھ کر دے دیں۔ کل سے ہم اس منصوبے پر کام شروع کر دیں گے۔ ان شاء اللہ، چند مہینوں کے اندر اندر آپ کے لیے کروڑوں کی جائیداد تیار ہو گی اور ساتھ ہی ایک مضبوط بزنس ایمپائر بھی۔”

,زافیر نے نرمی سے جواب دیا
“نام خود ہی لکھ لو… مجھے پڑھنا لکھنا نہیں آتا۔”

آزلان کا ہاتھ ماتھے پر جا لگا۔ وہ ششدر رہ گیا۔
“…سر! یہ تو ایک نیا مسئلہ ہے”

,زافیر نے الجھن سے پوچھا
“کیا یہ پڑھنا لکھنا ضروری ہے؟”

,آزلان نے اثبات میں سر ہلایا
“جی، انتہائی ضروری ہے۔ اگر یہ لازمی نہ ہوتا تو میں کبھی زور نہ دیتا۔ آپ کو پڑھنا لکھنا آنا چاہیے ورنہ آپ کو کوئی بھی آسانی سے دھوکہ دے سکتا ہے۔”
زافیر نے اثبات میں سر ہلایا۔ گویا وہ اس نئے مرحلے کے لیے بھی تیار تھا۔

°°°°°°°°°°

زافیر حقیقی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد، بغیر کسی سرکاری ریکارڈ کے زندگی گزار رہا تھا۔ ایک ایسا وجود جو کاغذی طور پر کہیں درج ہی نہیں تھا۔ اس کی خوش قسمتی کہ وہ اب تک اداروں کی نظروں سے اوجھل رہا، یہی وجہ تھی کہ وہ کسی قانونی پیچیدگی میں نہیں آیا۔ مگر قسمت ہمیشہ مہربان نہیں رہتی اور زافیر یہ بات اچھی طرح جانتا تھا۔

آزلان، ایک غیرمعمولی ذہانت کا حامل اور بے حد وفا شعار نوجوان، جو خود کو زافیر کے احسان تلے دبا ہوا محسوس کرتا تھا۔ پوری دلجمعی سے اس کی خدمت میں مصروف ہو چکا تھا۔ وہ زافیر کے لیے ہر وہ کام کرنے کو تیار تھا جو اس کی زندگی کو پُرسکون اور محفوظ بنا سکتا تھا۔

دوسرے ہی روز آزلان نے زافیر کے ساتھ ایک نئے سفر کا آغاز کیا۔ ایک قانونی شناخت بنانے کا سفر۔ اس نے سب سے پہلا قدم ایسے گاؤں کا انتخاب کرکے اٹھایا جو شہر سے بہت دور، بڑے اداروں کی نظروں سے ہٹ کر تھا۔ وہاں اسے ایک ایسا خاندان ملا جس کے بیشتر افراد خاندانی دشمنی کی نذر ہو چکے تھے اور جس کا ایک فرد کئی دہائیاں قبل سے گمشدہ تھا۔

اسی کھوئے ہوئے فرد کے بیٹے کے طور پر زافیر کا اندراج کرایا گیا۔ شناختی کارڈ، بینک اکاؤنٹس، حتیٰ کہ زمینوں کی وراثت… سب کچھ بڑی مہارت سے ترتیب دیا گیا۔ آزلان نے مقامی پٹواری کو رام کر کے کروڑوں روپے مالیت کی زمین زافیر کے کاغذی والد کے نام منتقل کروا دی۔ کہانی کو حقیقت کا رنگ دینے کے لیے گاؤں کے چند معتبر لوگوں کو اعتماد میں لیا گیا اور ان کی تین نسلیں پیچھے کی زمینوں کو زافیر کے کاغذی والد کے نام پر کر دیا گیا۔

پھر کاغذات میں ہی دکھایا گیا کہ زافیر نے وہی زمینیں اصل مالکان کو بھاری رقم کے عوض فروخت کر دیں۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ اصل مالکان کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ سب کچھ صرف کاغذوں میں ہوا اور ہر شریک فرد کو ایک ایک لاکھ روپے بطور ‘تعاون’ ادا کر دیے گئے۔

اس کے ساتھ ساتھ آزلان نے کئی جعلی لاٹری اسکیمیں ترتیب دیں۔ ان اسکیموں میں مخصوص، قابلِ اعتماد افراد سے سرمایہ کاری کروائی گئی اور پھر وہی لاٹریاں زافیر کے نام پر نکلوائی گئیں۔ یوں بڑی مقدار میں کالے دھن کو قانونی آمدنی کا روپ دے دیا گیا۔

دو مہینوں کے اندر آزلان نے ایسا جال بچھایا، جس کی باریکیوں میں الجھ کر شاید کوئی بھی ادارہ سچ تک نہ پہنچ پاتا۔ اب زافیر جو کل تک قانونی طور پر موجود ہی نہیں تھا، آج کروڑوں کی قانونی دولت کا مالک بن چکا تھا۔

آزلان جب زافیر سے جڑا تو کچھ ہی دنوں بعد اس کی والدہ اسپتال سے گھر واپس آ گئی تھیں۔ ان کی صحت پہلے سے بہتر تھی۔ آزلان دن بھر زافیر کے ساتھ رہتا تھا، اس کے تمام معاملات میں شریک ہوتا اور رات کو خاموشی سے گھر لوٹ آتا۔ مگر اس کا اپنا گھر اب اجنبی سا لگنے لگا تھا۔

اس کی ماں نے اُس سے بات کرنا تقریباً بند کر دی تھی۔ اگر آزلان کچھ کہتا تو وہ بس مختصر جواب دے دیتیں۔ نہ نرمی، نہ گلہ، نہ شکوہ… ایک سرد مہری، ایک خفگی ہر پل ان کے لہجے اور نظر میں چھپی رہتی تھی۔ آزلان یہ سب محسوس کرتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ماں کے دل کی ٹھیس ابھی تک تازہ ہے اور ان کے رویے میں جو تلخی ہے اسے مٹِنے کے لیے وقت چاہیے۔

مگر اس کے باوجود وہ ایک وفادار اور نادم بیٹے کی طرح ہر روز اپنی کوششیں دہراتا۔ کبھی دوائیں وقت پر دیتا، کبھی کسی ریسٹورنٹ سے اُن کی پسند کا کھانا لے آتا، کبھی خاموشی سے اُن کے پاس بیٹھا رہتا۔ اسے یقین تھا کہ وقت کے ساتھ سب کچھ بہتر ہو جائے گا اور ایک دن وہ اُسے مکمل طور پر معاف کر کے گلے لگا لیں گی۔ یہی اُمید اسے روز جینے کا حوصلہ دیتی تھی۔

دوسری طرف، زافیر کی قانونی دولت اب آزلان کے ہاتھوں ایک مکمل کاروباری سلطنت کی بنیاد بننے لگی تھی۔ آزلان نے بڑی حکمت عملی سے سرمایہ کاری کا ایک مفصل منصوبہ ترتیب دیا تھا۔ سب سے پہلے اُس نے زافیر کے نام پر متعدد میرج ہال خریدے۔ فرضی تقریبات اور مصنوعی بکنگز کے ذریعے مالی ریکارڈز تیار کیے گئے، جن کے ذریعے کروڑوں روپے قانون کے دائرے میں لائے گئے۔

اس کے بعد پراپرٹی کے شعبے میں قدم رکھا۔ مختلف علاقوں میں زمینیں اور عمارتیں انتہائی کم قیمت پر خرید کر کاغذی کارروائی میں ان کی مالیت چند لاکھ ظاہر کی گئی اور جب بیچنے کا وقت آیا تو اُن کی قیمت کاغذوں میں ہی تین سے چار گنا زیادہ دکھا دی گئی۔ یہ سارا عمل نہایت مہارت سے، قانونی دائرے میں رہتے ہوئے انجام دیا گیا۔

آزلان نے چند قابلِ اعتماد افراد کو کاروباری فرنٹ پر بٹھایا، جن کا کام پیسہ دُگنا کرنا تھا۔ یہی طریقہ کار ریسٹورنٹس، فیکٹریوں اور چھوٹے صنعتی پلانٹس پر بھی اپنایا گیا۔ ہر نئی سرمایہ کاری کے پیچھے ایک تفصیلی منصوبہ بندی تھی اور ہر قدم احتیاط سے اُٹھایا جا رہا تھا۔ آزلان اب نہ صرف ایک چالاک کاروباری ذہن بن چکا تھا بلکہ وہ ایک ایسا معمار بھی تھا جو کالے دھن کو سفید کر کے، زافیر کے لیے ایک محفوظ مستقبل تعمیر کر رہا تھا۔

زافیر کے خوابوں کا محفوظ اور خودکار گھر… اب آزلان کی اوّلین ترجیح بن چکا تھا۔ اُس نے اس خواب کو حقیقت میں ڈھالنے کے لیے ملک کے بہترین انجینئرز میں سے ایک ذہین، قابلِ اعتماد اور تخلیقی ذہن کا انتخاب کیا۔

پہاڑی علاقے کے وسط میں، قدرتی حسن اور تنہائی سے لبریز ایک محفوظ مقام پر تین ایکڑ زمین پر یہ پروجیکٹ شروع ہوا۔
بنگلے کی عمارت صرف چودہ مرلے پر مشتمل تھی لیکن اس کی بنیادیں گہرائی میں کسی زیرِ زمین ریاست کی مانند پھیلی ہوئی تھیں۔ تہہ خانے کا داخلہ عام آنکھ سے اوجھل رکھا گیا۔ خفیہ دروازے اور زیرِ زمین راستے اس انداز میں تعمیر کیے گئے تھے جیسے کسی جنگ کے لیے پناہ گاہ بنائی جا رہی ہو۔ اندرونی ڈھانچہ بنکر نما تھا، جہاں زلزلہ، بمباری حتیٰ کہ ایٹمی جنگ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی تھی۔

پورے گھر میں حفاظتی اقدامات کو اس حد تک یقینی بنایا گیا تھا کہ ہر داخلی و خارجی دروازہ بایومیٹرک سسٹم سے منسلک تھا۔ دیواریں بھاری بھرکم مسلح کنکریٹ سے تعمیر کی گئیں جبکہ کھڑکیوں میں بلٹ پروف شیشے لگائے گئے۔ یہ مکان کسی عام رہائش گاہ کی بجائے ایک جدید دور کا قلعہ تھا۔ سائبر سیکیورٹی سے لیس، جنگی حکمتِ عملی سے متاثرہ قلعہ۔ اور یہ سب کچھ، زافیر صرف اپنی بیٹی آبرو کی حفاظت کے لیے کر رہا تھا۔

زافیر کی خصوصی ہدایت پر گھر میں ایک ساؤنڈ پروف کمرہ بھی شامل کیا گیا۔ اس کمرے کی بناوٹ کسی قصاب خانے اور جدید صنعتی کچن کے امتزاج جیسی تھی۔ ہر اوزار، ہر مشین، ہر کونا اس قدر مخصوص اور ترتیب شدہ تھا کہ دیکھنے والے کو الجھن میں ڈال دیتا۔ آزلان کے ذہن میں بارہا سوال ابھرا کہ یہ کمرہ کس مقصد کے لیے تیار کیا جا رہا ہے مگر اُس نے اپنی زبان کو روکنا ہی بہتر سمجھا۔ وہ زافیر کے بھیدوں کو چھیڑنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا، نہ ہی اُس وقت زافیر نے کسی کو اعتماد میں لینا مناسب سمجھا۔

یہ تعمیر کسی عام گھر کی نہیں تھی۔ یہ اس شخص کی رہائش گاہ تھی جو دنیا سے بےنیاز، قانون سے بالاتر اور ماضی کے بھاری رازوں سے جُڑا ہوا تھا۔ اس قلعے میں زافیر کے حکم کے بغیر ایک اینٹ بھی ہلانا ممکن نہیں تھا۔

آزلان کو زافیر کے ساتھ کام کرتے ہوئے اب ایک سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔ یہ ایک سال دونوں کی زندگیوں میں حیرت انگیز تبدیلیاں لے کر آیا تھا۔ ایسی تبدیلیاں جو شاید کسی عام انسان کی پوری زندگی میں بھی نہ آ سکیں۔

زافیر جو کبھی اس دنیا میں بے نام و نشان تھا۔ اب ایک باقاعدہ شناخت رکھتا تھا۔ آبرو جو کبھی جنگل کی خاموشی میں ملی ایک لاوارث بچی تھی، کاغذی اعتبار سے اب اس کی سگی بیٹی تھی۔ اس کی قانونی حیثیت نہ صرف مستند تھی بلکہ ہر سرکاری ادارے کے ریکارڈ میں محفوظ بھی۔ زافیر کے نام پر کروڑوں کی جائیداد، کاروبار اور سرمایہ درج ہو چکا تھا۔ وہ اب باضابطہ طور پر ارب پتی انسان بن چکا تھا۔ اس کی ملکیت میں وہ شاندار خودکار بنگلہ بھی تھا جو اپنی نوعیت کا واحد اور مثالی نمونہ تھا جسے دیکھ کر لوگ ششدر رہ جاتے تھے۔

دوسری طرف آزلان کی زندگی بھی گویا ایک خواب کی مانند سنور چکی تھی۔ وہ اب زافیر کا محض ملازم نہیں بلکہ اُس کا قابلِ اعتماد ساتھی تھا۔ اس کے زیرِ استعمال اپنی ذاتی گاڑی تھی اور زافیر کے بنگلے سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک پُرسکون، چھوٹا مگر خوبصورت گھر تھا۔ جو زافیر نے اس کے لیے خریدا تھا، جہاں وہ اپنی ماں کے ساتھ رہتا تھا۔

وقت کے ساتھ اُس کی والدہ کا رویہ بھی نرم پڑ چکا تھا۔ اُن کے اور آزلان کے درمیان جو خاموش فاصلے تھے، وہ اب محبت اور اعتماد سے پُر ہو چکے تھے۔ تین بار وہ زافیر سے مل چکی تھیں۔ اُن کی نگاہوں میں زافیر ایک فرشتہ صفت انسان تھا۔ ایک ایسا رئیس زادہ، جس نے ان کے بیٹے کو موت کے دہانے سے کھینچ کر زندگی بخشی اور پھر اپنی چھاؤں میں اسے مقام، وسائل اور تحفظ عطا کیا۔

انہیں اس بات کا اندازہ تک نہیں تھا کہ زافیر کی یہ دنیا جو بظاہر شان و شوکت اور شرافت سے مزین تھی، درحقیقت ایک پیچیدہ اور رازوں سے بھری دنیا تھی۔ وہ نہیں جانتی تھیں کہ اس دولت کی بنیاد میں وہ کاغذی چالاکیاں، منصوبہ بند کاروباری سازشیں اور غیر رسمی راستے چھپے ہوئے تھے، جن کا خالق اس کا اپنا بیٹا تھا۔
لیکن ماں کا دل مطمئن تھا، بیٹے کی آنکھوں میں چمک تھی اور زندگی بظاہر پُرسکون بہاؤ میں رواں دواں تھی۔

زافیر اور آزلان کے درمیان اعتماد حیرت انگیز طور پر پہلے سے کئی گنا بڑھ چکا تھا۔
اب وہ ایک دوسرے کے اتنے قریب آ چکے تھے کہ آزلان اب صرف ایک ماتحت نہیں رہا تھا۔ وہ زافیر کا دل سے وفادار، جانثار ساتھی بن چکا تھا جو اس کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار تھا۔

آزلان بہت کچھ جانتا تھا مگر ابھی تک وہ زافیر کی حقیقت اور اصل چہرے سے ناواقف تھا۔
وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کا باس ایک ایسا آدم خور ہے جو انسانوں کا گوشت کھاتا ہے… اور یہ عمل صرف کسی جنون کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کی فطرت کا حصہ ہے۔

زافیر اب آزلان پر مکمل اعتماد کرنے لگا تھا۔
وہ اس حد تک پہنچ چکا تھا کہ اپنے سب راز، اپنی اصل شناخت، حتیٰ کہ اپنی خون سے رنگی ہوئی ماضی کی کہانی تک آزلان کے سامنے کھول دینے کا فیصلہ کر چکا تھا۔
زافیر جانتا تھا کہ یہ اعتراف ایک نازک موڑ ہے۔ اس بات کا کوئی یقین نہیں تھا کہ آزلان یہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی اس کے ساتھ کھڑا رہے گا یا نہیں۔
لیکن اب وقت آ چکا تھا۔
اپنے مقصد کی تکمیل، اپنے منصوبے کی اگلی منزل تک پہنچنے کے لیے اپنا نقاب اتارنا ضروری ہوچکا تھا۔
چاہے اس کے بعد آزلان اس کے ساتھ رہے… یا ہمیشہ کے لیے دور چلا جائے۔

°°°°°°°°°°

رات کی تاریکی ہر شے کو اپنی سیاہ چادر میں لپیٹ چکی تھی۔
بنگلے کے لان میں ہلکی ہَوا درختوں کی شاخوں کو چھو رہی تھی اور ان سے نکلنے والی سرسراہٹ ایک انجانے سُر کی مانند ماحول میں گونج رہی تھی۔ زافیر اور آزلان لان کی آرام دہ کرسیوں پر نیم دراز تھے۔ آزلان پورے دن کی کارگزاری بیان کر رہا تھا۔ ہر رقم کا حساب، ہر شخص کا تذکرہ، ہر قدم کی تفصیل۔

لیکن زافیر کی سوچیں کہیں اور بھٹک رہی تھیں۔
اس کے ہاتھ میں آدھی جلی سگریٹ بے دھیانی میں تھمی ہوئی تھی، راکھ بار بار گرتی جا رہی تھی مگر اسے پروا نہیں تھی۔ اس کی آنکھیں تاریکی میں گم، چہرہ بے تاثر اور ذہن کسی ایسے بھنور میں الجھا ہوا تھا جس کا کنارہ آزلان کی سمجھ سے باہر تھا۔

,آزلان کی آواز ایک لمحے کو رکی اور پھر اُس نے نرمی سے دریافت کیا
“کیا بات ہے، باس؟ آپ کچھ الجھے ہوئے لگ رہے ہیں… سب خیریت ہے نا؟”

زافیر نے سگریٹ کا آخری کش لیا، اسے نیچے گھاس پر پھینکا اور بوٹ سے دبا کر مسل دیا۔ پھر آہستہ سے آزلان کی طرف مڑا، آنکھوں میں وہ گہرائی تھی جو عام طور پر وہ چھپا لیا کرتا تھا۔
“کیا تمہیں لگتا ہے کہ تم مجھے مکمل طور پر جانتے ہو؟”
اس کی آواز میں وہ نرمی تھی جو کسی بڑے انکشاف سے پہلے آتی ہے۔

,آزلان نے خفیف مسکراہٹ کے ساتھ سر نفی میں ہلایا
“نہیں، لیکن میرے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ آپ میرے باس ہیں۔”

زافیر نے ہلکی سی سانس بھری جیسے دل پر رکھا کوئی بوجھ آہستہ آہستہ باہر آنے کو تیار ہو رہا ہو۔
“اگر میں تمہیں کہوں کہ میں وہ نہیں ہوں جو تم سمجھتے ہو؟ اگر میرا سچ… تمہارے تصور سے بھی کہیں زیادہ خوفناک ہو؟”

آزلان نے جواب میں پھر وہی وفادار مسکراہٹ دی،
“میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں سر۔ آپ میرے باس ہیں اور میرے لیے یہی کافی ہے۔”

,زافیر کے ہونٹوں پر لمحہ بھر کو ایک مایوس مسکراہٹ آئی۔ وہ کرسی پر پہلو بدل کر سیدھا بیٹھ گیا اور پہلی بار اس نے دل کی پرتیں کھولنے کی تمہید باندھی
“!…میں تمہیں اپنی کہانی سنانا چاہتا ہوں
اس دنیا میں اگر میں کسی پر بھروسہ کر سکتا ہوں، تو وہ تم ہو آزلان۔
لیکن خبردار رہنا… ہو سکتا ہے یہ کہانی تمہیں ہلا کر رکھ دے۔
ممکن ہے تمہیں مجھ سے خوف آنے لگے لیکن فیصلہ تمہارا ہوگا۔
اگر تم ساتھ رہے تو میں تمہیں ہر خطرے سے محفوظ رکھوں گا… اور اگر جانا چاہو تو تمہیں روکا نہیں جائے گا۔”

یہ کہہ کر زافیر خاموش ہو گیا جیسے اُس کے لفظوں کے پیچھے کئی دہائیوں کی داستانیں دبی ہوں۔ اور وہ سب کچھ بیان کرنے کے لیے الفاظ کی تلاش میں ہو۔

آزلان کی آنکھیں تجسس سے چمک اٹھیں۔
ذہن میں کئی خاکے بننے لگے۔ کبھی زافیر کو کسی خفیہ ایجنسی کا ایجنٹ سمجھتا، کبھی کسی مفرور گینگسٹر کا بیٹا۔ شاید وہ کسی دوسرے ملک سے آیا کوئی جاسوس تھا یا کسی زیرِ زمین نیٹ ورک کا رکن… آزلان ہر حد پار کرنے کو تیار تھا۔

لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ جو کچھ وہ سوچ رہا ہے… وہ تو محض معمولی قیاس تھا۔
زافیر کی اصل تو اس کی سوچ سے کئی گنا بھیانک تھی۔

°°°°°°°°°°

زافیر نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد آہستگی سے بولنا شروع کیا۔ اس کی آواز میں ایک ایسا ٹھہراؤ تھا جیسے کسی پہاڑ کے دامن میں بہتا پرسکون دریا، مگر اس سکون کے نیچے کتنے طوفان چھپے تھے، یہ صرف وہی جانتا تھا۔

وہ آزلان کو اُس حقیقت سے آشنا کرنے جا رہا تھا جسے سچ ماننے کے لیے انسان کو خود سے انکار کرنا پڑتا ہے۔ اس نے اُسے بتانا شروع کیا کہ یہ دنیا جسے وہ مکمل سمجھتے ہیں درحقیقت دو دنیاؤں میں بٹی ہوئی ہے۔ ایک وہ حقیقی دنیا جو آنکھوں سے دیکھی جا سکتی ہے اور ایک دوسری متوازی دنیا جو ان سے الگ ہے۔ جہاں وقت، روشنی اور اخلاقیات کے قوانین بھی الگ ہے۔

زافیر نے اس دنیا کے تین بادشاہوں کا ذکر کیا۔ وہ طاقتور وجود جن کا متوازی دنیا پر غلبہ تھا۔ پھر وہ اپنی کہانی کی جڑوں تک پہنچا۔ اس نے بتایا کہ کیسے اس کے دادی دادا اتفاقاً حقیقی دنیا سے متوازی دنیا میں داخل ہو گئے۔ وہاں کی فضا، وہاں کا ماحول، ان کے جسموں میں اترتا چلا گیا۔ وہ بدلنے لگے۔ بظاہر انسان ہی رہے لیکن ان میں بدلاؤ آنے لگے۔ اُن کی عمریں طویل ہو گئیں، ان کی جسمانی قوت عام انسانوں سے کئی گنا بڑھ گئی مگر اس تبدیلی کی سب سے ہولناک قیمت ان کی انسانیت تھی جو آہستہ آہستہ ختم ہو گئی۔ وہ آدم خور بن چکے تھے۔

زافیر نے ایک اور واقعے کا ذکر کیا۔ ایک اسکول بس کا حادثاتی طور پر متوازی دنیا میں داخل ہونا پھر اس پر درندوں کا حملہ۔ اسی حادثے میں ایک بچی آبرو سے اس کی ملاقات۔ ایک ایسی ملاقات جس نے زافیر کے وجود میں پہلی بار بغاوت کو جنم دیا۔ اُس نے اپنے ہی خاندان کے خلاف بغاوت کر دی۔ ایک پرائی بچی کے لیے اُن رشتوں کے خلاف تلوار اٹھائی جن سے خون کا رشتہ تھا۔

پھر وہ حقیقی دنیا میں آگیا، زخموں سے چور مگر ارادے میں سخت۔ اس نے حقیقی دنیا میں اپنے کیے گئے ہر شکار کی داستان سنائی، ہر وہ لمحہ جس میں اس نے انسانوں کا خون پیا اور ان کا گوشت کھایا۔ اس نے انسپکٹر ایان سے ملاقات اور اس کے ہاتھوں ملنے والی غداری کا ذکر بھی کیا۔ اور پھر آزلان کو بتایا کہ کیوں اب اس کے لیے سچ کو چھپانا ممکن نہیں رہا۔ وہ کون سے مقاصد ہیں جن کی تکمیل کے لیے اسے آزلان کے مکمل تعاون کی ضرورت ہے۔ ایسا مقصد جسے پورا کرنے کے لیے آزلان کا حقیقت سے واقف ہونا ضروری ہے۔

آزلان خاموش بیٹھا سنتا رہا۔ جیسے الفاظ اس کے ذہن میں ہتھوڑے کی طرح برس رہے ہوں، ہر ایک لفظ زلزلے کی مانند تھا۔ اس کے چہرے پر حیرت، خوف اور صدمے کی ملی جلی کیفیات تھیں۔ پسینے کی باریک بوندیں اس کی کنپٹیوں سے بہنے لگیں اور اس کے ہاتھوں کی انگلیاں بے اختیار کپکپا رہی تھیں۔

,جب زافیر سب کچھ بتانے کے بعد خاموش ہوا تو کمرے پر ایک گہری، ناقابلِ برداشت خاموشی چھا گئی۔ زافیر نے آہستہ سے آزلان کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں خوف، گھبراہٹ اور بےیوینی رقصاں تھی۔ وہ ڈرا ہوا تھا مگر چپ رہا۔ آخرکار زافیر نے خود ہی وہ دیوار توڑی

“یہی میری کہانی ہے۔ اب ہمارے درمیان کوئی پردہ نہیں۔ فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے آزلان۔ اگر تم میرا ساتھ دینا چاہو تو میں تمہارا خیر مقدم کروں گا۔ اگر چھوڑنا چاہو… تو میں تمہیں روکوں گا نہیں۔”

اتنا کہہ کر زافیر نے جیب سے سگریٹ کی ڈبیا نکالی، ایک سگریٹ سلگایا اور دھیرے دھیرے کش لینے لگا۔

پہلے دن سے ہی آزلان کے دل میں خواہش تھی کہ زافیر اسے اپنے بارے میں سب کچھ بتائے اور آج جب یہ خواہش پوری ہوئی تو دل فریاد کر اٹھا۔ کاش وہ لاعلم ہی رہتا۔ یہ وہ سچائی تھی جو نعمت بن کر نہیں، عذاب بن کر اتری تھی۔

,بہت دیر تک دونوں خاموش بیٹھے رہے۔ پھر آزلان آہستہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کے قدموں میں بھاری پن تھا لیکن فیصلہ واضح تھا۔ وہ زافیر کی طرف دیکھے بغیر بولا
“…مجھے سوچنے کے لیے وقت درکار ہے۔ اگر میں کل دوپہر بارہ بجے تک واپس نہ آیا”

یہ کہتے ہوئے اس نے نظریں موڑ کر زافیر کی طرف دیکھا۔
“تو سمجھ لیجیے گا، ہم دوبارہ کبھی نہیں ملیں گے۔”

, وہ رکا، پھر دھیرے سے بولا
“میں کوشش کروں گا کہ خود کو سمجھا سکوں مگر مجھے یقین نہیں کہ میں اس راہ پر چل پاؤں گا۔”
زافیر نے اس کی بات پر صرف سر ہلایا۔ جیسے وہ پہلے ہی جانتا ہو کہ یہی ہونا تھا۔

“…میں چلتا ہوں”
اتنا کہہ کر آزلان دروازے کی طرف بڑھا۔ یہ پہلی بار تھا کہ وہ زافیر کے ساتھ الوداعی مصافحہ کیے بغیر جا رہا تھا۔ اس کی پشت شاید خاموشی سے ایک طویل رشتہ توڑ رہی تھی جیسے کسی طویل کہانی کا آخری صفحہ بے صدا پلٹ دیا گیا ہو۔
زافیر وہیں بیٹھا رہا۔ سگریٹ کا آخری کش لیا، اسے بجھایا اور پھر کرسی کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں بند کر لیں۔
جیسے وہ خود کو تسلی دے رہا ہو کہ شاید… شاید آزلان اسے اس کی اصل حقیقت کے ساتھ قبول کر لے۔”

°°°°°°°°°°

…جاری ہے