Darinda Chapter no 9

ناول درندہ
قسط نمبر 9
باب اؤل: متوازی دنیا
مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°

آبرو سکول جا چکی تھی۔ گھر کی فضا میں خاموشی پھیلی ہوئی تھی۔ صرف بوڑھی ملازمہ کی صفائی کی سرسراہٹ اس سناٹے کو توڑ رہی تھی۔ زافیر، اپنے کمرے میں بیٹھا بیرونی گیٹ کے کیمرے کو سکرین پر ٹکائے ہوئے تھا۔ وقت جیسے ٹھہر گیا تھا مگر گھڑی کی سوئیاں مسلسل اس کی امیدوں کو کاٹتی جا رہی تھیں۔

جب گھڑی کی سوئیوں نے بارہ بجنے کا اعلان کیا تو زافیر کے چہرے پر ایک گہری خاموشی چھا گئی۔ اُسے یقین ہو چکا تھا کہ آزلان اب نہیں آئے گا۔ مگر پھر بھی ایک ضد، ایک اندھی اُمید، اسے اپنی جگہ جکڑے بیٹھی تھی۔ وہ کئی گھنٹوں تک خود کو تسلی دیتا رہا کہ شاید… شاید وہ لوٹ آئے۔
مگر وقت گزرتا رہا اور وہ نہیں آیا۔

تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ مزید انتظار کے بعد زافیر نے مایوسی سے اپنی نشست چھوڑ دی۔ وہ ابھی اٹھا ہی تھا کہ سکرین پر اچانک بیرونی گیٹ کے سامنے ایک گاڑی نمودار ہوئی۔ گیٹ پر نصب چہرہ شناس مشین نے شناخت کے بعد داخلے کی اجازت دے دی۔ لمحہ بھر کو زافیر کا دل زور سے دھڑکا۔
وہ فوراً گھر سے باہر نکل آیا۔ گیٹ کے قریب آزلان گاڑی سے اتر چکا تھا اور آہستہ آہستہ اُس کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر ایک غیر متوقع سنجیدگی تھی۔ ایسی سنجیدگی جس نے زافیر کو بےچین کر دیا۔

آزلان بالکل اس کے سامنے آ کر رکا۔
“میں نے ساری رات سوچا پھر صبح بھی دل و دماغ کی کشمکش میں رہا۔ یہ فیصلہ میرے لیے آسان نہیں تھا مگر آخرکار میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔”

زافیر خاموش رہا۔ وہ آزلان کی آنکھوں سے جواب کھوجنے کی کوشش کر رہا تھا۔
,آزلان نے گہری سانس لے کر کہنا شروع کیا
“ہمارے ملک میں ظلم، ناانصافی اور بربریت کی ایسی ایسی داستانیں رقم ہو رہی ہیں کہ سن کر روح کانپ جائے۔ بچوں کے ساتھ درندگی، عورتوں کی بےحرمتی، غریبوں پر ظلم… یہ سب معمول بنتا جا رہا ہے۔ انصاف اور انسانیت جیسے ناپید ہو چکے ہوں۔”

,زافیر نے بھنویں چڑھاتے ہوئے الجھن سے کہا
“صاف صاف کہو، مجھے یہ گول مول باتیں سمجھ نہیں آتیں۔”

,آزلان نے اثبات میں سر ہلایا جیسے وہ پہلے سے اس ردِعمل کے لیے تیار ہو
بات سیدھی ہے… آپ آدم خور ہیں، آپ انسانی گوشت کھاتے ہیں، یہ ایک ناقابلِ قبول حقیقت ہے۔ مگر… آپ نے کبھی کسی معصوم پر ظلم نہیں کیا، کسی بےگناہ کو نقصان نہیں پہنچایا، کسی کی عزت پامال نہیں کی۔ ”

“آپ میں وہ برائیاں نہیں جو آج کے انسانوں میں عام ہو چکی ہیں۔ آپ نے آبرو کے لیے اپنے ہی خاندان سے بغاوت کی، میری اور میری ماں کی جان بچائی۔ آپ کے اندر انسانیت کی ایک چمک باقی ہے جو شاید ہم میں بھی نہیں رہی۔

,چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اُس نے فیصلہ کن انداز میں کہا
“میں آپ کے ساتھ ہوں… لیکن ایک شرط پر۔”

,زافیر کی آنکھوں میں ایک ہلکی سی چمک ابھری
“کیسی شرط؟” اُس نے نرمی سے پوچھا۔

,آزلان نے سنجیدگی سے کہا
“آپ دوبارہ کسی شکار پر نہیں جائیں گے۔ اب سے ہر شکار میں خود چنوں گا۔ کیونکہ آپ انجانے میں کسی مجبور یا بے گناہ انسان کا انتخاب کر سکتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ آپ کا شکار صرف وہی ہو جو واقعی موت کا حقدار ہو۔”

,زافیر کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ اُس نے کوٹ کی جیب سے سگریٹ کی ڈبیا نکالی، دو انگلیوں سے سگریٹ کھینچا اور مسکرا کر بولا
“بس یاد رہے… میرے شکار کی عمر بیس سے پینتیس سال کے درمیان ہونی چاہیے۔”

,آزلان نے نرمی سے پوچھا
“آپ کو کتنے دن کے بعد ایک بندہ درکار ہوتا ہے؟”

,زافیر نے ہنوز مسکراتے ہوئے معنی خیز لہجے میں جواب دیا
“ایک صحت مند انسان… تین دن کے لیے کافی ہوتا ہے۔”

,آزلان کے چہرے پر حیرت چھا گئی۔ وہ بےساختہ ہنس پڑا
“آپ کو دیکھ کر لگتا تو نہیں کہ آپ اتنا کھاتے ہوں گے۔”
زافیر نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بس ہنستے ہوئے سگریٹ ہونٹوں میں دبا لی۔

°°°°°°°°°°

لان کے وسط میں ایک پُرانے سایہ دار شجر کے نیچے دو کرسیاں بچھی تھیں۔ ان پر زافیر اور آزلان نیم دراز انداز میں بیٹھے، گپ شپ میں مصروف تھے۔ دوپہر کی دھوپ میں درخت کی چھاؤں ان پر ایک خاموش، پرامن پردہ ڈالے ہوئے تھی۔ بوڑھی ملازمہ چائے کی ٹرے تھامے قریب آئی تو دونوں لمحہ بھر کے لیے خاموش ہو گئے۔ چونکہ قریب کوئی میز موجود نہیں تھی، اس نے خاموشی سے کپ دونوں کے ہاتھوں میں تھمائے اور خالی ٹرے لیے واپس لوٹ گئی۔

,چائے کا پہلا گھونٹ لیتے ہی آزلان نے زافیر کی جانب دیکھا اور دھیمی آواز میں بولا
“آپ کی خواہش پوری کرنے کے لیے میرے پاس ایک مؤثر منصوبہ ہے۔”

زافیر خاموشی سے اس کی بات سننے لگا، جیسے ہر لفظ کو ذہن میں نوٹ کر رہا ہو۔

“میں کچھ قابل اعتماد افراد چنوں گا۔ ہم انہیں مخصوص ہلکے جرائم میں ملوث کر کے اڈیالہ، کوٹ لکھپت، لانڈی اور مچھ جیل بھجوا دیں گے۔ ان جیلوں کا انتخاب سوچ سمجھ کر ہوگا۔
اڈیالہ سے ہمیں سیاسی قیدیوں، سابق پولیس یا فوجی افسران تک رسائی ملے گی۔
کوٹ لکھپت ہمیں ہائی پروفائل مجرم دے گا… وہ جن کے پاس ماضی کی طاقت اور زیرِ زمین دنیا کا رعب موجود ہوگا۔
لانڈی جیل گینگسٹرز، ٹارگٹ کلرز اور مسلح نیٹ ورکس کا گڑھ ہے۔
اور مچھ جیل میں ہمیں علیحدگی پسند اور سزائے موت کے قیدی ملیں گے۔
اگر ہم نے انہیں چالاکی سے استعمال کیا تو یہ سب ہمارے نیٹ ورک کے مضبوط ستون بن سکتے ہیں۔”

,زافیر نے دلچسپی سے سر ہلایا، پھر سنجیدگی سے پوچھا
“لیکن انہیں باہر کیسے نکالیں گے؟”

,آزلان نے فوراً جواب دیا
“جہاں ممکن ہوا، ہم ان کے کیسز کی پیروی کریں گے۔ کچھ کو عدالتوں سے بری کروائیں گے، کچھ کو ضمانت پر باہر لائیں گے۔
لیکن جو واقعی اہم ہوں گے اور کسی طور پر باہر نہ آسکیں… تو پھر ہم انہیں عدالت یا جیل منتقلی کے دوران، فرار میں مدد فراہم کریں گے۔”

,زافیر نے گہری سانس لی
“لیکن کیا ان پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے؟ تم جانتے ہو، میں پہلے انسپکٹر ایان پر اعتبار کر چکا ہوں… اور وہ مجھے دھوکہ دے گیا۔”

,آزلان نے بےساختہ جواب دیا
“ایان کے دھوکے کی ایک وجہ تھی۔ آپ نے اسے شروع میں ہی اتنی دولت سے نواز دیا کہ اسے نہ نوکری کی پرواہ رہی، نہ وفاداری کی۔ جب کسی کو پہلے ہی سب کچھ مل جائے تو وہ خطرہ مول کیوں لے؟”

,وہ تھوڑا رُکا، پھر اپنا منصوبہ واضح کیا
“اس بار ہم مختلف طریقہ اپنائیں گے۔ افراد کو مخصوص علاقوں تک محدود طاقت دیں گے، ان پر مسلسل نگرانی رکھیں گے، انہیں ماہانہ معقول معاوضہ دیں گے۔ اتنا کہ وہ فائدہ بھی محسوس کریں اور محتاج بھی رہیں۔
انہیں پتا تک نہیں ہوگا کہ ان کا اصل باس کون ہے لیکن وہ ہر وقت آپ کے تصور سے خوفزدہ رہیں گے. ایک بھوت کی طرح جو ہر دیوار کے پیچھے چھپا ہو۔
سب سے اہم بات، ہم ریاستی اداروں میں اپنے آدمی بٹھائیں گے۔ ایسے عہدیداران جو نہ صرف ہمیں تحفظ دیں گے بلکہ اداروں کے سامنے ڈھال بن کر کھڑے ہوں گے۔
اور اگر خدا نخواستہ، پورا نیٹ ورک بھی ٹوٹ جائے… تو بھی کوئی آپ تک نہیں پہنچ پائے گا۔”

,زافیر نے لب بھینچے، لمحہ بھر سوچا اور پھر بولا
“شروع کرو۔ جو کرنا ہے، اب دیر نہیں ہونی چاہیے۔”

,آزلان نے اثبات میں سر ہلایا
“سب سے پہلے ہمیں مالی طاقت بڑھانی ہوگی۔ اس نیٹ ورک کو صرف کالے دھن سے چلایا جا سکتا ہے۔”

زافیر نے مدھم لہجے میں کہا،
“میرے پاس اب زیادہ ہیرے نہیں بچے۔ جو بچے ہیں، انہیں بیچ کر خاطر خواہ رقم حاصل کی جا سکتی ہے مگر مجھے لگتا ہے یہ بھی کافی نہیں ہوگی۔
مجھے ایک بار پھر متوازی دنیا میں جانا پڑے گا، اپنے پرانے بنگلے سے مزید دولت نکالنے۔ اس کے لیے ہمیں کم از کم دس مسلح افراد چاہییں جو تحفظ فراہم کر سکیں۔”

,آزلان نے فوری رضامندی ظاہر کی
“ٹھیک ہے۔ میں بندوبست کرتا ہوں۔ نکلنا کب ہے؟”

,زافیر نے کرسی سے تھوڑا جھک کر سگریٹ جلاتے ہوئے کہا
“آج تو مجھے ایک شکار چاہیے۔ خوراک ختم ہو چکی ہے۔ کل صبح نکلنے پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ بندے تیار ہوں۔”

,آزلان نے مسکرا کر جواب دیا
“میں شام تک شکار لے آؤں گا۔ کل نہیں تو پرسوں صبح نکلیں گے، یہ وعدہ رہا۔”

,پھر وہ کچھ توقف کے بعد سنجیدگی سے گویا ہوا
“لیکن اس سے پہلے… میں آپ کا ذبح خانہ دیکھنا چاہتا ہوں۔”

زافیر نے اثبات میں گردن ہلائی اور خاموشی سے کھڑا ہو گیا۔ وہ دونوں آہستہ آہستہ بنگلے کے عقب کی طرف بڑھنے لگے، جہاں ایک الگ تھلگ حویلی بنی تھی۔ مکمل طور پر چار دیواری سے جدا، خاموش اور پراسرار۔

یہی زافیر کا ساؤنڈ پروف ذبح خانہ تھا۔ دروازہ صرف اس کے فنگر پرنٹ سے کھلتا تھا۔ جیسے ہی دروازہ کھلا، ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اندر کی ہولناکیوں کی خبر لایا۔
اندر ہر چیز نہایت ترتیب سے رکھی گئی تھی۔ چار مختلف اقسام کے اسٹیل ٹیبل، ایک بڑا چِلر، جدید فریج، صنعتی واشنگ مشین، کیچن کا مکمل سیٹ اپ اور ایک کونے میں لوہے کا دروازہ… جس کے پیچھے گیس پریشر سے چلنے والی ایسی بھٹی تھی جو چند منٹ میں ہڈیوں کو راکھ میں بدل دیتی تھی۔

…آزلان ہر چیز کو گہرائی سے دیکھ رہا تھا۔ کل تک جو چیز اسے خوفزدہ کرتی تھی، آج وہی اسے کسی ایڈونچر جیسی لگنے لگی تھی۔ وہ ایک ایک تفصیل پر غور کرتا، سوچتا
کہ یہاں کیسے کسی انسان کو ٹکڑوں میں کاٹا جاتا ہوگا؟
کس ترتیب سے صفائی ہوتی ہوگی؟
اور جب اس کا ذہن تصور کے آخری منظر تک پہنچا کہ وہ گوشت کیسے پکا کر کھایا جاتا ہوگا تو ایک خفیف سی جھرجھری اس کی ریڑھ کی ہڈی سے گزر گئی۔
مگر وہ خاموش رہا… کیونکہ یہ خوف اب اس کے لیے کشش بن چکا تھا۔

°°°°°°°°°°

پنجگور کے مشرق میں، بلیدہ کے مقام پر ایک وسیع اور محفوظ حویلی قائم تھی۔ مضبوط اور بلند دیواروں کے اندر ایک عالیشان بنگلہ تھا۔ جس کی حفاظت کسی چھاؤنی سے کم نہیں تھی۔ گیٹ پر چار مسلح گارڈز ہر وقت پہرہ دیتے جبکہ ہر پندرہ فٹ کے فاصلے پر بنی چوکیاں مسلسل نگرانی میں مصروف تھیں۔ ہر چوکی پر دوربینیں نصب تھیں، جو چاروں اطراف کا مکمل منظر واضح کرتی تھیں۔ تمام محافظ کانوں میں کلک ایئر پیس لگائے، ہروقت رابطے میں رہتے۔ چھت پر بھی گشت پر مامور افراد ہر آٹھ گھنٹے بعد شفٹ میں بدل دیے جاتے تاکہ حفاظتی نظام کبھی کمزور نہ پڑے۔

حویلی کے اندرونی لان میں، جہاں کچھ بچے بے فکری سے کھیل رہے تھے، وہیں قدرے فاصلے پر ایک صوفے پر نیم دراز انسپکٹر ایان بیٹھا تھا۔ اب وہ چوہدری ایان کہلاتا تھا اور اس کا انداز و اطوار مکمل طور پر ایک بااثر سردار کی جھلک دیتا تھا۔ سامنے میز پر چند فائلیں رکھی تھیں اور اُن کے روبرو مجید بریگیڈ اور بی ایل ایف کے کچھ کمانڈرز اپنی نشستوں پر براجمان تھے۔ دونوں گروہوں کے درمیان حالیہ دنوں میں تنازع پیدا ہوا تھا اور آج کی ملاقات اسی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے رکھی گئی تھی۔

مجید بریگیڈ کا ہائی کمانڈر عطا خان یار اور بی ایل ایف کا سربراہ کشف الرحمٰن بلوچ کسی مسئلے پر الجھ رہے تھے۔ دونوں کے لہجوں میں ناراضگی اور طنز صاف جھلک رہا تھا۔

,ایان نے قدرے بلند لیکن پرسکون لہجے میں مداخلت کی
“ہم یہاں مسائل کا حل نکالنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، مہربانی کریں اور اس بحث کو یہیں ختم کریں۔”

,عطا خان نے سخت بلوچ لہجے میں کہا
“نہیں چوہدری صاحب… ہم نے اسے پہلے ہی خبردار کیا تھا… ان کا بندہ جاسوس ہے، فوج کو ہمارے راز دیتا ہے… ہمارے پاس ثبوت موجود ہے۔ اگر یہ خود اسے ختم کرتا تو ہم کیوں مداخلت کرتا؟”

,کشف الرحمٰن بھی جوش سے بولا
“وہ ہمارا وفادار ساتھی تھا۔ تم جو ثبوت دکھا رہا ہے وہ ناقابلِ اعتبار ہے۔ اگر ہم چاہے تو تمہاری پوری بریگیڈ کو ایک ہی وار میں ختم کر سکتا ہے۔”

,عطا خان غصے سے جھلایا
“!…تو کوشش کر کے دیکھ لے”

,مزید بدمزگی سے پہلے ہی ایان نے مداخلت کی
“مار دو ایک دوسرے کو تاکہ دشمن کو آسانی ہو جائے۔ تم لوگ کس انا کی جنگ میں پھنسے ہو؟”

اس کی بات پر سب خاموش ہو گئے۔

“جب کوئی قوم حالتِ جنگ میں ہو تو چھوٹے اختلافات کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔ دشمن تمہیں مٹانے کے در پے ہے اور تم خود ایک دوسرے کو کمزور کر رہے ہو۔”

یہ سن کر تمام کمانڈرز طنزیہ انداز میں مسکرائے جیسے ایان انہیں کسی بچے سے ڈرانے کی کوشش کر رہا ہو۔
,ایان نے بات جاری رکھی
“میں جانتا ہوں تم انہیں کچھ نہیں سمجھتے لیکن مت بھولو کہ ان کے پاس وسائل کی فراوانی ہے۔ اور تمہارے پاس گنتی کے ہتھیار اور افراد ہیں۔ تم نے مجھے یہاں اس لیے جگہ دی کیونکہ تم اسلام آباد اور پنجاب میں اپنا اثر چاہتے تھے۔ میں نے وہی دیا، ایک مضبوط نیٹ ورک۔”

,چند لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ بولا
“مجھے اطلاع ملی ہے کہ اگلا آرمی چیف جنرل راجہ اکرام بھٹی کو بنایا جا رہا ہے۔ ایک بے رحم اور شاطر جنرل۔ اگر تم اب بھی بٹے رہے تو وہ تم سب کو جڑ سے اکھاڑ دے گا۔”

,یہ کہہ کر ایان نے فائلیں اٹھا کر ہر کمانڈر کو تھما دیں اور بولا
“ان میں اس جنرل کے تمام بڑے کارنامے درج ہیں۔ پڑھ کر اندازہ لگا لینا کہ تم کس بلا کا سامنا کرنے جا رہے ہو۔”

,تمام کمانڈر فائلیں کھول کر دیکھنے لگے۔ ان کے چہرے بتا رہے تھے کہ وہ گہرے اضطراب میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ ایان نے موقع پا کر پھر پوچھا
“اب بتاؤ… کیا تم اختلافات جاری رکھنے کے متحمل ہو سکتے ہو؟”

,کشف الرحمٰن بلوچ نے فائل سے نظر اٹھا کر گہری سنجیدگی سے کہا
“ہمیں باقی تنظیموں کو بھی اعتماد میں لینا ہوگا۔ لگتا ہے یہ جنگ اب شدید تر ہونے والی ہے۔”

,ایان نے اثبات میں سر ہلایا
“میں کب سے یہی کہنے کی کوشش کر رہا ہوں… امید ہے اب تم سب بات سمجھ گئے ہو۔”

کسی نے جواب نہیں دیا لیکن فائلوں میں چھپی تفصیلات نے ان سب کے چہروں سے رنگ اڑا دیے تھے۔

°°°°°°°°°°

آزلان اپنا پہلا شکار زافیر کے مخصوص کمرے میں بے ہوشی کی حالت میں لے آیا تھا۔ وہ شکار ایک بڑی عمر کا مرد تھا، جس کی عمر پچاس کے لگ بھگ لگتی تھی۔ اس کے سر کے بال آدھے سے زیادہ سفید ہو چکے تھے اور چہرے پر گزرے وقت کی تھکن صاف جھلکتی تھی۔ آزلان نے اسے ایک بڑے کالے بیگ میں ڈال کر کمرے تک پہنچایا اور میز پر رکھتے ہی زِپ کھول دی۔

,زافیر نے جیسے ہی شکار کی حالت دیکھی، اس کی آنکھوں میں ناگواری در آئی۔ وہ کچھ لمحے خاموش رہا پھر دبے ہوئے غصے سے بولا
“میں نے تمہیں واضح طور پر کہا تھا کہ شکار کی عمر بیس سے پینتیس سال کے درمیان ہونی چاہیے۔”

آزلان کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار نمایاں تھے۔ اس کی آواز میں لرزش تھی اور ہاتھ ہلکے ہلکے کانپ رہے تھے۔
“یاد ہے سر… مگر آج پہلا دن تھا، تھوڑی مشکل پیش آئی۔ اس لیے جیسے تیسے ایک بندہ ہاتھ لگا… آپ آج اس سے کام چلا لیں، نرم گوشت نکال لیں… باقی خود جلا دیجیے گا۔ کل تک آپ کو مطلوبہ شکار لا دوں گا۔”

زافیر نے آزلان کے کانپتے لہجے کو محسوس کر لیا۔ وہ جانتا تھا کہ آزلان نے ایک نہایت غیرمعمولی اور خطرناک ذمہ داری قبول کی ہے اور آغاز میں کچھ جھجک یا پریشانی فطری ہے۔

,وہ اپنی کرسی سے ٹیک لگاتے ہوئے نرم لہجے میں گویا ہوا
“یاد رکھو… خود کو بلاوجہ خطرے میں مت ڈالو۔ بہتر ہے کہ تم ایک قابلِ اعتماد ٹیم بناؤ جو تمہارے لیے شکار کرے۔ خود کسی سے الجھنے کی ضرورت نہیں۔ کام کو نظام کے تحت کرو ورنہ پکڑے جاؤ گے۔”

آزلان نے سر جھکاتے ہوئے ادب سے اثبات میں سر ہلایا۔
“میں دھیان رکھوں گا۔”

,زافیر نے ایک ہلکی سانس لی اور اطمینان سے کہا
“ٹھیک ہے، اب جاؤ… صبح بات کریں گے۔”
آزلان خاموشی سے پلٹا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔ جبکہ زافیر کرسی پر بیٹھا سوچ میں گم، میز پر بے ہوش پڑے بدن کو بغور دیکھ رہا تھا۔

°°°°°°°°°°

رات کے ٹھیک آٹھ بج رہے تھے۔ خاموشی سے ڈھکی حویلی کے داخلی دروازے پر ایک سیاہ شیشوں والی گاڑی آ کر رکی۔ انجن کی آواز بند ہوئی تو ماحول میں پہلے سے طاری سنّاٹا مزید گہرا ہو گیا۔ گاڑی سے دو جوان اترے، دونوں نے ایک ہی سادہ مگر چاق و چوبند انداز میں لباس پہن رکھا تھا۔ وہ کسی تردد کے بغیر بنگلے کے مشرقی حصے میں واقع ایک مخصوص کمرے کی طرف بڑھے۔

دروازہ کھلا تھا۔ کمرے میں چوہدری ایان جو کبھی ایک اعلیٰ پولیس افسر ہوا کرتا تھا، اب چادر اوڑھے، نیم اندھیرے میں ایل ای ڈی پر خبریں دیکھ رہا تھا۔ جیسے ہی ان دونوں کی موجودگی کا احساس ہوا، اس نے ریموٹ سے آواز بند کی اور ریموٹ میز پر رکھتے ہوئے ان کی طرف دیکھا۔

دونوں افراد بنا کسی رسمی سلام دعا کے سیدھا اس کے قریب والے صوفے پر بیٹھ گئے۔
,ایان نے قدرے سنجیدگی سے سوال کیا
“کوئی نئی خبر؟”

,ایک آدمی نے تفصیل دی
“زافیر اب معاشی طور پر بہت مضبوط ہو چکا ہے۔ اس کا قریبی ساتھی آزلان نہایت ذہین اور چالاک ہے۔ وہ زافیر کی شناخت کو بڑی ہوشیاری سے مضبوط کرتا جا رہا ہے۔”

,ایان نے ناگواری سے چہرہ سکوڑا اور خشک لہجے میں بولا
“یہ تو تم پچھلی بار بھی بتا چکے ہو۔ کچھ نیا سناؤ۔”

,وہ شخص قدرے جھجکتے ہوئے بولا
سر… ہمیں شک ہے کہ زافیر لوگوں کو اغواء کر کے غائب کر دیتا ہے۔ جو بھی اس کے قریب دیکھا گیا، وہ پھر کبھی نہیں دکھائی دیا۔ اور آج رات، آزلان نے ایک عمر رسیدہ شخص کو اپنی گاڑی میں بٹھایا۔ ”

“دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ شخص راضی خوشی گاڑی میں سوار ہوا اور آزلان اسے سیدھا زافیر کے نئے بنگلے کی طرف لے گیا۔

“نیا بنگلہ؟” ایان چونک کر سیدھا ہو بیٹھا۔
“یہ بات تم لوگوں نے پہلے کیوں نہیں بتائی؟”

,دوسرا شخص گھبرا کر بولا
“سر، وہ ابھی کچھ دن پہلے ہی وہاں شفٹ ہوا ہے۔ ہمیں لگا کوئی خاص بات نہیں، اسی لیے نظر انداز کر دیا۔”

,ایان کا چہرہ سرخ ہو گیا، اس کی آواز میں بجلی کوندی
“دماغ خراب ہے تمہارا؟ وہ ایک قلعہ بنا رہا ہے اور تم کہہ رہے ہو اہم نہیں؟”

,پہلا شخص فوراً وضاحت دینے لگا
“نہیں سر… وہ بنگلہ بظاہر عام سا لگتا ہے، کوئی سیکیورٹی گیٹ یا آہنی دیواریں نہیں ہیں۔”

,ایان چند لمحے خاموش رہا۔ پھر گہری سانس لیتے ہوئے دھیمی مگر سنجیدہ آواز میں بولا
“اسے پہلے ہی دن مار دینا چاہیے تھا۔ وہ خود کو بہت تیزی سے مضبوط کر رہا ہے۔ اگر یونہی طاقت بڑھاتا رہا تو ایک دن میری گردن تک پہنچ آئے گا۔”

,دوسرے شخص نے محتاط انداز میں پوچھا
“تو پھر اب کیا کرنا ہے، سر؟”

,ایان نے دانت پیستے ہوئے، سرد لہجے میں کہا
“دونوں کو مار ڈالو… زافیر اور آزلان کو۔ بلکہ زافیر کی بیٹی کو بھی ختم کر دو۔”

,پہلا شخص کچھ ہچکچاتے ہوئے بولا
“آزلان تو اپنی ماں کے ساتھ علیحدہ گھر میں رہتا ہے۔”

,ایان کی آواز ایک بار پھر گرج اٹھی
“تو کیا وہ تمہاری خالہ لگتی ہے؟ مار ڈالو اس بڑھیا کو بھی۔ کسی کو بھی زندہ مت چھوڑنا۔”

جی سر…” دونوں یک زبان ہو کر بولے اور خاموشی سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ “

,جب وہ دروازے کی طرف بڑھے تو ایان نے ایک بار پھر نرمی مگر سرد مہری سے کہا
“اور ہاں… کوئی نشان مت چھوڑنا۔”

ان میں سے ایک نے پیچھے مڑ کر “یس باس…” کہا، اور پھر دونوں سائے کی طرح کمرے سے باہر نکل گئے۔

°°°°°°°°°°

کمرہ نیک تاریک تھا، دیواروں پر لٹکے چاقو، چھریاں اور ٹوکے مدھم روشنی میں ایک ہولناک منظر پیش کر رہے تھے۔ فضا میں خفیف سی نمی اور لوہے کی سنسان خوشبو رچی ہوئی تھی۔ کمرے کے وسط میں رکھی ہوئی میز پر، عمر رسیدہ شخص بے ہوش پڑا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ ہوش میں آ رہا تھا۔ سب سے پہلے اس کی نگاہ چھت پر ٹکی، پھر وہ آہستہ سے گردن موڑ کر دونوں جانب دیکھنے لگا۔

ایک طرف آہنی اوزار تھے، دوسری جانب واشنگ مشین کے قریب زافیر ایک کرسی پر خاموشی سے بیٹھا تھا، اس کے چہرے پر عجیب سی سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔

,عمر رسیدہ قیدی نے بے چینی سے اٹھنے کی کوشش کی لیکن فوراً ہی محسوس ہوا کہ وہ مضبوطی سے بندھا ہوا ہے۔ خوف زدہ نگاہوں سے اس نے زافیر کو دیکھا اور گھبراہٹ سے پوچھا
“کون ہو تم؟”

زافیر کے ہونٹوں پر ایک سرد مسکراہٹ ابھری۔
“کیا کرو گے جان کر؟ ویسے بھی تم مرنے والے ہو۔”

“میں یہاں کیسے پہنچا؟ اور… اور آزلان کہاں ہے؟”

آزلان کا نام سنتے ہی زافیر کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ اس نے چونک کر قیدی کی طرف دیکھا۔
“تم آزلان کو جانتے ہو؟”

,وہ میرا بیٹا ہے…” اس کی آواز لرزنے لگی “
“کیا… کیا وہی مجھے یہاں لے کر آیا؟ کیا میرے بیٹے نے مجھے اغوا کیا ہے؟ تم لوگوں کو مجھ سے کیا چاہیے؟”

بوڑھے کی گھبراہٹ بے جا نہیں تھی مگر اب زافیر بھی سخت پریشان دکھائی دے رہا تھا۔ وہ کوئی جواب دیے بغیر تیزی سے کمرے سے نکلا، دروازہ لاک کیا اور تھوڑا آگے جا کر آزلان کو کال ملا لی۔

,آزلان بنگلے کے باہر سڑک پر خاموشی سے ٹہل رہا تھا جیسے اسے پہلے ہی زافیر کی کال کا انتظار ہو۔ جیسے ہی کال کنیکٹ ہوئی، زافیر کا لہجہ بھڑک اٹھا
“یہ کیا پاگل پن ہے؟ تم نے اپنے ہی باپ کو یہاں لا کر پھینک دیا؟”

آزلان نے نظریں آسمان کی جانب اٹھائیں۔ تاروں سے بھرا آسمان اس کے آنسوؤں کو چھپا نہ سکا۔ دو موٹے آنسو اس کے گالوں پر بہہ گئے۔
“اس شخص نے میری ماں کو برسوں اذیت دی ہے۔ وہ اسی قابل ہے۔”

زافیر کا لہجہ مزید سخت ہو گیا۔
“تم وقتی جذبات کے بہاؤ میں ہو۔ کل تمہیں اس فیصلے پر افسوس ہوگا۔”

,نہیں ہوگا…” آزلان کی آواز میں درد چھپا تھا “
“یہ فیصلہ جذباتی نہیں تھا۔ میں نے پہلا شکار سوچ سمجھ کر چُنا ہے۔ یہ اب آپ کا ہے۔”

,زافیر لمحہ بھر کو خاموش ہوا، پھر آہستگی سے بولا
“میں اسے چھوڑنے کا سوچ رہا ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ تمہارا جذباتی فیصلہ ہمارے رشتے کو کمزور کر دے۔”

,آزلان تیزی سے بولا
“نہیں…! اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ اگر وہ زندہ رہا تو ہم دونوں کے لیے خطرہ بن جائے گا۔”

,زافیر خاموشی سے سر جھکائے یہ سب سن رہا تھا۔ آزلان کی بات میں وزن تھا لیکن اس کی ناعاقبت اندیشی پر غصہ بھی شدید تھا۔ زافیر نے تھوڑا نرم ہو کر کہا
“آزلان…! یاد رکھنا، یہ تمہارا فیصلہ ہے۔ کل کو اس کا بوجھ میرے سر مت ڈالنا۔”

,جانتا ہوں اور میں یاد بھی رکھوں گا…” آزلان کی آواز اب پتھر جیسی سخت ہو چکی تھی پھر اس نے دانت پیستے ہوئے غصیلے لہجے میں کہا “
“اور ہاں… اسے اذیت ناک موت دیجیے گا۔”
اتنا کہہ کر آزلان نے کال کاٹ دی۔

زافیر چند لمحے یونہی کھڑا رہا، گہری سوچوں میں گم۔ پھر وہ واپس ذبح خانے کی طرف پلٹا۔ فنگر پرنٹ سے دروازہ کھولا اور کمرے کے اندر داخل ہو گیا۔
,زافیر کے قدموں کی آہٹ سن کر قیدی غصے سے چیخا
“!…اس طوائف کے بچے کو بلاؤ…! میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا”

زافیر کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ اس نے آگے بڑھ کر ایک زوردار طمانچہ اس کے منہ پر دے مارا۔

ابھی تک تمہاری اکڑ نہیں گئی؟” وہ دانت پیستے ہوئے بولا۔ “
قیدی کا غرور لمحوں میں ریزہ ریزہ ہوگیا۔ وہ کچھ بولنا چاہتا تھا مگر لفظ اس کے لبوں تک آ کر دم توڑ رہے تھے۔

,زافیر نے ایک تیز دھار چھری اٹھائی اور قیدی کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا
“اپنی اولاد کو کبھی اس مقام تک نہ پہنچاؤ کہ وہ تمہاری موت کو راحت سمجھنے لگیں۔”

“خدا کے لیے… مجھے جانے دو۔ میں آزلان اور اس کی ماں سے معافی مانگ لوں گا… پلیز…!” وہ روتا جا رہا تھا، آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، منہ سے تھوک گِر رہا تھا۔

,زافیر نے ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے کہا
“اب بہت دیر ہو چکی ہے… آزلان چاہتا ہے کہ میں تمہیں اذیت ناک موت دوں… لیکن میں تم پر رحم کر رہا ہوں۔”

یہ کہہ کر زافیر نے ایک ہی جھٹکے میں چھری اس کے گلے پر پھیر دی۔ چھری کی دھار گہری تھی۔ قیدی کا گلا کٹ گیا، خون ایک فوارے کی صورت میں چھوٹا۔ زافیر کا چہرہ لال ہو گیا، فرش پر خون کی بوندیں پھیلنے لگیں۔

قیدی کے جسم نے تڑپنا شروع کیا۔ وہ جھٹپٹایا، ہاتھوں اور پیروں کی رگیں تن گئیں۔ چند لمحے تک زندگی اور موت کی کشمکش جاری رہی پھر ایک جھٹکے کے ساتھ وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔

°°°°°°°°°°

…جاری ہے