ناول درندہ
قسط نمبر 10
باب اؤل: متوازی دنیا
مصنف: زیاد اصغر زارون
°°°°°°°°°°
اگلی صبح ٹھیک نو بجے آزلان نے اپنے خفیہ ذرائع استعمال کرتے ہوئے دس خطرناک افراد کا بندوبست کر لیا۔ یہ سب کے سب اشتہاری مجرم تھے۔ چھپتے پھرنے والے، جو ایک بدنام زمانہ گینگسٹر اللہ رکھا کے زیرِ سایہ، شہر سے پرے ایک خفیہ اڈے پر پناہ لیے ہوئے تھے۔ گینگسٹر کو ان افراد کی قیمت کے بدلے بھاری رقم ادا کی گئی تھی اور اسے صاف بتا دیا گیا تھا کہ ان دس افراد کی واپسی کی کوئی ضمانت نہیں۔
رقم اتنی تھی کہ ہر شرط مان لی گئی۔ اللہ رکھا نے نہ صرف اپنے آدمیوں کو تسلی دی بلکہ ان کی مکمل سیکیورٹی کی یقین دہانی کے بعد، انہیں طے شدہ مقام پر روانہ کر دیا۔
اب وہ سب جھاڑیوں میں چھپے سڑک کنارے زافیر اور آزلان کا انتظار کر رہے تھے۔ ہوا میں ہلکی سی نمی تھی، سڑک پر دور دور تک ویرانی چھائی ہوئی تھی۔ ہر طرف ایک غیر یقینی سکوت طاری تھا۔ اسی لمحے سڑک پر ایک چھوٹی وین آ کر رکی۔ دونوں فرنٹ دروازے کھلے اور زافیر و آزلان باہر نکل آئے۔ ان کے چہرے ماسک سے ڈھکے ہوئے تھے اور آنکھوں پر سیاہ چشمے چڑھے تھے۔ انداز سے لگتا تھا کہ وہ کسی بڑے مشن پر نکلے ہیں۔
جھاڑیوں میں چھپے تمام افراد ایک ایک کر کے باہر نکلے اور ان دونوں کے سامنے آ کر خاموشی سے قطار میں کھڑے ہو گئے۔
،آزلان نے سرد لہجے میں سوال کیا
“کیا تمہارے پاس ہتھیار ہیں؟”
،ایک دراز قد شخص نے سر ہلاتے ہوئے جواب دیا
“بس اپنے ذاتی پستول ہیں۔”
،آزلان نے ایک بار گرد و پیش پر نظر دوڑائی، پھر مضبوط لہجے میں بولا
“وہ پستول ہمارے حوالے کر دو۔ مطلوبہ مقام پر پہنچنے پر تمہیں جدید اور خودکار ہتھیار مل جائیں گے۔”
،پھر وہ لمحے بھر کو رکا اور مزید بولا
“اور تسلی کے لیے میں تم سب کی تلاشی بھی لوں گا۔ کسی کو کوئی اعتراض ہے؟”
سب نے خاموشی سے نفی میں سر ہلا دیا۔ ایک ایک کر کے سب نے اپنی پستولیں نکال کر آزلان کو تھمائیں جو انہیں زافیر کے حوالے کرتا گیا۔ زافیر نے یہ تمام ہتھیار وین کے فرنٹ میں موجود اسٹیل کے لاک والے چھوٹے صندوق میں ترتیب سے رکھ دیئے۔
آزلان اب ہر فرد کی تلاشی لینے لگا۔ یہ سب مفرور تھے، اکثر نے احتیاطاً موبائل رکھنا ترک کر رکھا تھا۔ تاہم چند ایک کے پاس چھوٹے خنجر چھپے ہوئے نکلے جو آزلان نے فوراً اپنے قبضے میں لے لیے اور انہیں بھی اسی صندوق میں رکھ دیا۔
تمام کاروائی مکمل ہونے کے بعد، آزلان اور زافیر واپس وین میں جا بیٹھے۔ آزلان فرنٹ سیٹ پر موجود تھا اور اس کے ہاتھ میں ایک خودکار پستول مضبوطی سے تھمی ہوئی تھی۔ احتیاط لازم تھی، وہ جانتا تھا کہ اس کے ساتھ جو لوگ سوار تھے وہ اعتبار کے قابل نہیں اور ایک لمحے کی غفلت موت کا باعث بن سکتی تھی۔
پیچھے تمام افراد خاموشی سے بیٹھ چکے تھے۔ ماحول میں عجیب سا تناؤ تھا۔ وہ سب جانتے تھے کہ کسی بڑے مشن پر لے جائے جا رہے ہیں لیکن کتنا خطرناک…؟ اس کا اندازہ شاید ابھی نہیں تھا۔
وین نے دھیرے سے رفتار پکڑی اور سنسان سڑک پر دوڑنے لگی۔ اس کا رخ ایک نامعلوم منزل کی طرف تھا۔
°°°°°°°°°°
گاڑی سڑک پر تیز رفتاری سے رواں تھی۔ وین میں ایسی خاموشی تھی گویا ان دیکھا خطرہ ہر سمت چھپا بیٹھا ہو۔ آخر وہ مقام آ گیا جہاں سڑک کے ساتھ ایک پہاڑی ڈھلوان تھی جس کے نیچے ایک گہری کھائی تھی۔
سڑک کے کنارے پہنچ کر زافیر نے آزلان کو آنکھوں سے اشارہ کیا۔ آزلان نے فوراً ڈیش بورڈ سے کالی پٹیاں نکالیں اور پیچھے بیٹھے افراد کی طرف بڑھا دیں۔
“یہ پٹیاں دو سے تین منٹ کے لیے آنکھوں پر باندھ لو۔ جب کہا جائے، تب اتارنا۔”
گاڑی میں موجود تمام افراد ایک لمحے کے لیے الجھن کا شکار ہوئے۔ بےچینی ان کے چہروں پر واضح تھی لیکن حکم عدولی کی ہمت کسی میں نہیں تھی۔ سب نے پٹیاں تھامتے ہوئے آنکھوں پر باندھ لیں۔
،زافیر نے ایک نظر آزلان پر ڈالی اور نرمی سے بولا
“تم بھی پٹی باندھ لو… مجھے ڈر ہے، کہیں گھبرا نہ جاؤ۔”
،آزلان کی نظریں زافیر کی آنکھوں سے ٹکرا گئیں۔ اس کے لبوں پر ہلکی سی لرزش تھی مگر آواز میں عزم تھا
“نہیں… مجھے دیکھنا ہے۔”
زافیر نے بنا کچھ کہے ریورس گیئر لگایا، گاڑی کو ذرا سا پیچھے کیا، پھر ایک ماہر ڈرائیور کی مہارت سے سٹیئرنگ گھما کر گاڑی کو ڈھلوان پر ڈال دیا۔
“مجھ پر بھروسہ رکھنا…” وہ دھیرے سے بولا۔
گاڑی ڈھلوان پر پھسلنے لگی جیسے کسی پرسرار خلا کی طرف بڑھ رہی ہو۔ ٹائروں کے نیچے پتھر آنے سے گاڑی کو ہچکولے لگ رہے تھے۔ لمحہ لمحہ خوفناک ہوتا جا رہا تھا۔ جیسے ہی آزلان نے ڈھلوان کے اختتام پر گہری کھائی دیکھی تو دل حلق میں آ گیا۔ وہ تیزی سے سیٹ بیلٹ باندھنے لگا اور دل ہی دل میں گناہوں کی معافی مانگنے لگا جیسے زندگی کا آخری لمحہ آن پہنچا ہو۔
گاڑی جیسے ہی ڈھلوان کے آخری سرے پر پہنچی اور لگنے لگا کہ اب کھائی میں گِر جائے گی، آزلان نے خوف سے آنکھیں بند کر لیں، گاڑی اپنے مخصوص مقام پر پہنچ کر یوں غائب ہوگئی جیسے کسی غیر مرئی شیشے کے پار چلی گئی ہو۔ اچانک ایک ہلکا سا جھٹکا لگا… اور گاڑی رک گئی۔
آزلان نے ہلکے سے آنکھیں کھولیں تو زافیر کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
“کیا ہوا؟ ڈر گئے؟” وہ پہلی بار کھل کر ہنسا۔
،آزلان سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے، گھبرائے لہجے میں بولا
“کیا ہم… زندہ ہیں؟”
،زافیر نے ہنستے ہوئے اثبات میں سر ہلایا، پھر پیچھے بیٹھے افراد کو مخاطب کیا
“اب پٹیاں اتار دو۔”
پٹی ہٹاتے ہی ہر چہرے پر حیرت پھیل گئی۔ چند لمحے پہلے وہ پختہ سڑک پر تھے اور اب ان کے گرد و نواح میں گہرا جنگل تھا، جس کے درمیان ایک کچی سنسان سڑک انہیں ایک انجانی دنیا کی جانب لے جا رہی تھی۔ وہ سب ششدر رہ گئے تھے۔
زافیر اور آزلان گاڑی سے باہر نکلے۔ زافیر نے وین کا سلائیڈنگ دروازہ کھولا اور پیچھے کی طرف چلا گیا۔ باقی سب بھی ترتیب سے نیچے اتر آئے۔
آزلان نے وین کا عقبی دروازہ کھولا۔ اندر ایک بھاری بھرکم صندوق پڑا تھا جس پر بڑا سا لوہے کا تالہ جڑا ہوا تھا۔ آزلان نے جیب سے چابی نکالی اور تالہ کھول دیا۔
صندوق کے کھلتے ہی ہر آنکھ چمک اٹھی۔ اندر جدید خودکار بندوقیں، پستول اور چمکتے ہوئے خنجر ترتیب سے رکھے تھے۔ آزلان نے منظم انداز میں ہر فرد کو ایک بندوق، ایک پستول اور ایک چاقو دینا شروع کیا۔
اسلحہ تھامتے ہی ہر چہرے پر جوش اور خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ کوئی بندوق کو گھما کر دیکھ رہا تھا تو کوئی میگزین کھول کر کارتوس گن رہا تھا۔
جب سب کو اسلحہ تقسیم ہو چکا، آزلان نے زافیر کی طرف رخ کیا۔”یہ آپ کے لیے…” اس نے زافیر کو ایک اعلیٰ بندوق، ایک بیلٹ جس میں پستول اور اضافی میگزین لگے تھے اور دو چمکتے خنجر تھمائے۔ خود بھی اس نے ایک خودکار بندوق کاندھے پر لٹکائی اور پستول پینٹ میں اُڑس لیا۔
،زافیر نے اپنے ساتھیوں پر ایک نظر دوڑائی اور مضبوط مگر پُرسکون آواز میں بولا
“ہماری پوری کوشش ہوگی کہ بنا کسی خون خرابے کے مطلوبہ چیز حاصل کریں اور خاموشی سے واپس لوٹ آئیں۔”
،اس کے بعد وہ رُکا، سب کی نگاہوں سے نگاہ ملائی اور مزید بولا
“اگر حالات قابو سے باہر ہوں، تو صرف مخالف کو زخمی کرنا ہے… جان سے نہیں مارنا۔”
اسے یہ تو پتا تھا کہ یہ انسان درندوں یا اس کے خاندان کو جان سے مار بھی نہیں سکتے، بس وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کے ساتھیوں کو اس بات کا پتا چلے۔ اگر وہ کسی کو جان سے مارنے کی کوشش کرتے اور وہ نہ مرتا تو آزلان سمیت سبھی خوفزدہ ہوجاتے جو سارے مشن میں بگاڑ پیدا کر سکتا تھا۔
سب کے چہرے سنجیدہ ہو چکے تھے۔ زافیر نے وین کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی، آزلان اس کے برابر آ بیٹھا، باقی سب پیچھے سوار ہوئے اور وین مخصوص کچی راہوں پر تیزی سے دوڑنے لگی۔
°°°°°°°°°°
زافیر نے جب آبرو کے ساتھ اپنا آبائی بنگلہ چھوڑا تھا، اُس وقت اُس کے خاندان کے کئی افراد شدید زخمی حالت میں تھے۔ اُسے امید تھی کہ وہ سب زندہ بچ گئے ہوں گے اور اُس کی واپسی پر مزاحمت کریں گے۔ اس کا ارادہ تھا کہ وہ پہلے نرمی سے بات کرے گا، مذاکرات کی کوشش کرے گا اور اگر بات نہ بنی، تب ہی کوئی سخت قدم اٹھائے گا۔ مگر اُسے اندازہ نہیں تھا کہ حالات مکمل طور پر پلٹ چکے ہوں گے۔
بنگلے کے باہر پہنچ کر زافیر نے وین کو روکا۔ وہ خود بھی نیچے اترا اور اُس کے پیچھے باقی سب افراد بھی باہر نکل آئے۔ آزلان سمیت سبھی افراد حیرت سے بنگلے کو دیکھ رہے تھے۔ یہ ایک شاندار مگر عجیب طرزِ تعمیر کا حامل گھر تھا۔ ایسا بنگلہ نہ تو انہوں نے پہلے کبھی دیکھا تھا اور نہ ہی سنا تھا۔
میں ایک بار پھر تاکید کر رہا ہوں… کسی کو بھی جان سے مارنے کی اجازت نہیں ہے۔” زافیر نے سنجیدہ لہجے میں کہا اور بندوق پر مضبوطی سے گرفت جما کر آہستہ آہستہ بنگلے کی جانب بڑھنے لگا۔ باقی سب اُس کے پیچھے ہو لیے۔ “
اچانک ایک خون آلود چیخ فضا میں گونجی، سب کے قدم تھم گئے۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک درندہ کسی انجانی سمت سے آیا اور سب سے پیچھے چلنے والے شخص پر جھپٹ پڑا۔ اُس کے نوکیلے پنجے شکار کا سینہ چیر چکے تھے۔ زافیر نے بلا تاخیر گولی چلا دی۔ درندہ سنبھلنے بھی نہیں پایا تھا کہ ایک گولی اُس کے دماغ کو چیرتی ہوئے گزر گئی اور وہ اپنے ہی شکار پر گِر کر ساکت ہو گیا۔
زافیر کو بنگلے کے باہر درندے کی موجودگی پر شدید حیرت ہوئی مگر یہ تو صرف شروعات تھی۔
اچانک چاروں جانب سے ہولناک چیخیں سنائی دینے لگیں۔ لگ بھگ پندرہ کے قریب درندوں نے تین اطراف سے انہیں گھیر لیا۔ سب نے فوراً جوابی فائرنگ شروع کر دی مگر درندے چالاکی سے درختوں کی آڑ میں چھپ گئے۔ گولیاں بے مقصد درختوں سے ٹکرا رہی تھیں اور قیمتی کارتوس ضائع ہو رہے تھے۔
رک جاؤ…! فائر بند کرو…! بنگلے کے اندر چلو…!” زافیر نے زور سے چیختے ہوئے دوڑ لگائی، پیچھے آزلان اور باقی افراد بھی دوڑنے لگے۔ “
مگر بنگلے تک پہنچنے سے پہلے ہی چند درندوں نے چھلانگیں لگا کر مزید تین افراد کو دبوچ لیا۔ گولیاں اندھا دھند برسائی جا رہی تھیں مگر وہ حملہ آور درندوں کو روکنے میں ناکام تھیں۔
درندوں نے ایک شخص کی گردن پر دانت گاڑھ دیے، دوسرے کا دل چیر کر باہر نکال لیا اور تیسرے کے چہرے پر پنجوں کے وار کر کے اُسے پہچان کے قابل بھی نہیں چھوڑا۔
زافیر نے اچانک مڑ کر فائر کھولا اور تین درندے وہیں ڈھیر ہو گئے۔ دو زخمی ہو کر فرار ہو گئے۔ وہ تیزی سے آگے بڑھا اور بنگلے کا دروازہ دھکیلا۔ وہ فوراً کھل گیا اور اندر سے بدبو کا ایک تیز جھونکا باہر آیا۔
جلدی اندر آؤ…!” زافیر نے سب کو آواز دی۔ ایک درندہ پھر درخت کی اوٹ سے نکلا، زافیر نے فائر کیا مگر وہ دوبارہ چھپ گیا۔ وہ خود بھی اندر گھس گیا اور دروازہ اندر سے بند کر دیا۔ “
“آزلان نے ہال میں قدم رکھتے ہی پوچھا، “یہاں کیا ہوا تھا…؟
زافیر کی نظریں چاروں طرف بھٹکنے لگیں۔ یہ وہی ہال تھا جہاں اُس کی اپنے خاندان سے آخری بار تلخ جھڑپ ہوئی تھی۔ اب یہاں بکھری ہوئی لاشیں پڑی تھیں… کٹی پھٹی، گل سڑ چکی۔ ان کی آنکھوں، کانوں اور منہ سے کیڑے رینگتے ہوئے باہر گر رہے تھے۔ یہ سب زافیر کا ہی خاندان تھا۔ اُسے دل میں ایک دھچکا سا لگا۔
ان کی حالت نے اُسے اندر سے توڑ دیا۔ برے سہی مگر وہ سب اُس کے اپنے ہی تھے۔ اس نے کبھی اُن کی ایسی حالت کی خواہش نہیں کی تھی۔ وقت اور حالات نے اُسے اُن کے خلاف لا کھڑا کیا اور اب درندوں نے بچا کچھا بھی ختم کر دیا تھا۔
زافیر کے چار ساتھی پہلے ہی مارے جا چکے تھے، باقی چھ کے حواس جواب دینے لگے تھے۔ ایک شخص دیوار کے قریب جا کر قے کرنے لگا۔ دو اور گھبرا کر اُلٹیاں کرنے لگے۔ بدبو نے اُن کے دماغوں میں طوفان سا پیدا کر دیا تھا۔
“ہم تہہ خانے میں اپنا مطلوبہ سامان لینے جا رہے ہیں۔” زافیر نے اونچی آواز میں کہا۔ “تم سب پورے بنگلے کی تلاشی لو مگر محتاط رہنا۔ یہاں اب پہلے سے کئی گنا زیادہ خطرہ ہے۔”
زافیر نے دیوار کے ساتھ موجود ایک دروازہ کھولا، جس کے پیچھے سیڑھیاں نیچے جا رہی تھیں۔ اُس نے موبائل نکال کر فلیش لائٹ آن کی اور نیچے اترنے لگا۔ آزلان بھی اُس کے پیچھے ہو لیا۔
نیچے پہنچتے ہی آزلان کی آنکھیں چمکنے لگیں۔ ایک بھاری صندوق کھلا پڑا تھا، جس میں رنگ برنگے ہیرے، سونے کی انگوٹھیاں، ہار، کڑے، اور نایاب جواہرات بکھرے ہوئے تھے۔ ساتھ ہی مختلف طرز کی تلواریں، خنجر اور ہتھیار بھی موجود تھے۔
وہ ابھی ان کی جانچ ہی کر رہے تھے کہ اوپر سے ایک ساتھی گھبراہٹ میں بھاگتا ہوا نیچے آیا۔ آدھی سیڑھیوں پر لڑکھڑا کر فرش پر آ گرا۔ دونوں اُسے سنبھالنے دوڑے۔
“زافیر نے گھبرا کر پوچھا، “کیا ہوا…؟
“…وہ ہانپتا ہوا، لرزتی آواز میں بولا، “وہ… اوپر… مار دیا… سب کو… مار دیا
زافیر کی آنکھوں میں اضطراب ابھرا۔ “کون؟ کس نے مارا؟” اُس نے اُسے جھنجھوڑا۔
وہ… وہ… بوڑھی… اُس نے…” وہ بمشکل بول پایا۔ “
…زافیر کا دل دہل گیا۔ “بوڑھی؟” اُس کے لبوں سے بے اختیار نکلا۔ وہ جانتا تھا، وہ لفظ کس کے لیے بولا گیا تھا… اس کی دادی کے لیے
“…لیکن یہ کیسے ممکن ہے؟ میں نے تو خود اُس کے سینے میں تلوار اتاری تھی”
دماغ میں سوالوں کا طوفان لیے، زافیر نے فرش پر پڑی ایک بھاری تلوار اٹھائی اور سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔ اپنے ساتھی کو وہیں رکنے کا کہہ کر آزلان نے اپنی بندوق کی میگزین بدلی اور خاموشی سے اُس کے پیچھے ہو لیا۔
°°°°°°°°°°
زافیر کی دادی کے ہاتھ میں ایک تازہ انسانی دل تھا۔ اس کے ہاتھ اور چہرہ خون سے لت پت تھے اور آنکھوں میں جنون کی سرخی بھری ہوئی تھی۔ وہ دل کو دانتوں میں دبائے چبانے میں مصروف تھی۔ تبھی اس کی سرخ، خون آلود آنکھیں زافیر سے جا ٹکرائیں۔ اس نے چبایا ہوا ٹکڑا تھوکا اور ہاتھ میں پکڑا ہوا دل فرش پر دے مارا۔
تم واپس آ ہی گئے؟” اس کے لہجے میں طنز بھی تھا اور غصہ بھی۔”
اچانک بیرونی دروازہ چرچراتے ہوئے کھلا اور ایک کے بعد ایک درندے گھر میں داخل ہونے لگے۔ وہ کسی انسان کی طرح سیدھے کھڑے نہیں تھے بلکہ چاروں ہاتھ پاؤں پر جھکتے، گرجتے، دادی کے پیچھے آ کر دو پیروں پر کھڑے ہوگئے۔
مجھے لگا تھا، آپ مر چکی ہوں گی۔” وہ بظاہر پُرسکون لہجے میں بولا مگر اس کی نظریں مسلسل دادی کے ہاتھوں کی حرکت تول رہی تھیں۔ “
“اتنی آسانی سے نہیں مرتی میں…” وہ سرد اور کٹیلی آواز میں بولی۔ “اگر اُس دن تم مجھے جلا دیتے، تو شاید کچھ اور ہوتا… خیر… اب وقت تمہارے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔”
یہ کہتے ہی وہ دیوانگی سے زافیر کی طرف لپکی۔ زافیر نے ردعمل میں جھٹ تلوار بلند کی اور اس کا وار دادی کی گردن کی جانب بڑھا لیکن وہ حیرت انگیز پھرتی سے تلوار کو ہوا میں ہی روک چکی تھی۔ اگلے ہی لمحے، اس نے دوسرا ہاتھ زافیر کے سینے پر مارا۔ زافیر زور سے دیوار سے جا ٹکرایا، تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور وہ زمین پر گِر گیا۔
ابھی وہ سنبھلنے کی کوشش ہی کر رہا تھا کہ دادی اس پر جھپٹی اور اپنا پیر اس کے سینے پر رکھ دیا۔ اسی لمحے ایک گرج دار آواز فضا میں گونجی۔
“دور ہٹ یہاں سے…!” یہ آواز آزلان کی تھی۔
آزلان نے آتے ہی اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ بوڑھی کے جسم میں بھی کئی گولیاں پیوست ہوگئیں لیکن وہ گِر نہیں رہی تھی۔ وہاں موجود درندے بھی فائرنگ کی زد میں آگئے۔ درندے ایک ساتھ جھنجھلا گئے۔ وہ زخمی ہوکر دروازے کی طرف دوڑے اور بھاگتے ہوئے باہر نکل گئے۔ آزلان کی مہارت نے زافیر کو سنبھلنے کا موقع دے دیا۔ وہ تیزی سے اٹھا، زمین سے تلوار اٹھائی… اسے اٹھتے دیکھ کر آزلان نے فائرنگ روک دی۔
زافیر نے گہری سانس لی اور دانت پیس کر بولا، “شکریہ دادی… لیکن اس بار غلطی نہیں کروں گا۔”
اس نے پوری طاقت سے تلوار کا وار دادی کی گردن پر کیا۔ ایک لمحہ ایسا لگا جیسے وقت رک گیا ہو۔ پھر سر جسم سے الگ ہو کر پیچھے کی طرف گِرا اور دادی کا دھڑ آگے کی طرف لڑکھڑا کر فرش پر آ گِرا۔ گہرے خون کا ایک فوارہ دھڑ سے نکلتا ہوا زافیر کے پیروں کو رنگین کر گیا۔
،زافیر نے ایک لمحے کو سکون کا سانس لیا پھر آزلان کی طرف دیکھ کر سنجیدگی سے کہا
“تہہ خانے سے ہیروں کا صندوق اور باقی جواہرات اٹھا لو۔ تب تک میں دادی کا جسم جلا دیتا ہوں۔”
آزلان خاموشی سے تہہ خانے کی طرف بڑھ گیا۔ زافیر نے دادی کا کٹا ہوا سر اور دھڑ ایک صوفے پر رکھا، کچن سے پٹرول کا گیلن اٹھایا اور صوفے پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ شعلے بلند ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا صوفہ لپیٹ میں آگیا۔ قالین میں آگ پھیلتی جا رہی تھی اور زافیر کی آنکھوں میں ایک گہری تھکن اتر چکی تھی۔
تھوڑی ہی دیر بعد، آزلان اور ایک ساتھی دو بھاری صندوق اٹھائے اوپر آگئے۔ وہ سب گھر سے باہر نکلے، سامان وین میں رکھا اور کچی سڑک پر گاڑی کو دوڑا دیا۔ پیچھے پورے بنگلے میں آگ پھیلتی جارہی تھی۔ یہاں ان کا کام مکمل ہو چکا تھا۔ اب صرف واپسی باقی تھی۔
°°°°°°°°°°
رات گہری ہو چکی تھی اور تاریکی نے ہر سمت کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔ سرد ہوا میں سناٹا ایسا تھا جیسے وقت خود بھی سانس روک کر کھڑا ہو۔ آزلان کی کوٹھی کی چار دیواری پر اچانک ایک سایہ نمودار ہوا اور پھر پیچھے پیچھے چھ مزید۔ ساتوں افراد نہایت پھرتی سے دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوئے۔ ان کے چہرے کالے ماسک میں چھپے ہوئے تھے اور ہاتھوں میں جدید اسلحہ تھا۔ وہ دو دو کے گروہوں میں تقسیم ہو کر دو منزلہ کوٹھی کے دونوں اطراف دبے قدموں بڑھنے لگے۔
کوٹھی کا زیادہ تر حصہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ صرف برآمدے میں ایک مدھم انرجی سیور جل رہا تھا اور دو کمروں کی کھڑکیوں سے پردوں کے پیچھے سے ہلکی پیلی روشنی چھن چھن کر باہر آ رہی تھی۔ گھر کے اندر موت جیسی خاموشی چھائی ہوئی تھی، بس کسی کمرے سے ٹیلی ویژن کی مدھم آواز سنائی دے رہی تھی جیسے کوئی اپنا من پسند پروگرام دیکھ رہا ہو۔
مسلح افراد ایک دوسرے کو ہاتھ کے اشاروں سے ہدایات دیتے ہوئے آہستہ آہستہ آگے بڑھتے رہے۔ ان میں سے ایک پچھلے دروازے کے پاس پہنچا، ہینڈل گھمایا لیکن دروازہ لاک تھا۔ اُس نے جھٹ سائلنسر لگی پستول نکالی اور دو دبی ہوئی گولیاں لاک میں اتار دیں۔ دروازہ بے آواز کھل گیا اور وہ سائے اندر گھس گئے۔ ان کے قدم فرش پر ایسے پڑ رہے تھے جیسے کوئی سانس لینا بھول جائے۔ ہر کوئی چوکنا، ہر قدم ناپ تول کر اٹھایا جارہا تھا۔
اسی دوران اگلی جانب سے فرنٹ دروازہ بھی دھیرے سے کھلا اور باقی افراد بھی گھر میں داخل ہو گئے۔ ان میں سے ایک جو ان سب کا لیڈر معلوم ہوتا تھا۔ اس نے خاموشی سے تین افراد کو اشارہ کیا کہ اوپر جائیں جبکہ باقی افراد نیچے کی منزل پر کمروں کی تلاشی لینے لگے۔ انہوں نے ہر طرف ہر کمرے میں دیکھا لیکن جلد ہی سب پر واضح ہو گیا کہ گھر میں کوئی موجود نہیں تھا۔
ہر شے منظم طریقے سے رکھی گئی تھی۔ روشنیاں، چلتا ٹی وی، سب کچھ ایسا جیسے کوئی ابھی ابھی یہاں سے نکلا ہو یا جیسے کسی نے جان بوجھ کر روشنیاں اور ٹی وی آن چھوڑا ہو تاکہ خالی گھر سمجھ کر چور نہ گھس آئیں۔
،تھوڑی دیر بعد سب دوبارہ ہال میں اکٹھے ہو گئے۔ ایک شخص جو اوپر کی منزل سے نیچے آیا تھا، بولا
“باس، اوپر کے کمروں میں بھی کوئی نہیں ہے۔”
:لیڈر نے اردگرد نظر دوڑائی، گہری سانس لی اور دھیمے مگر سخت لہجے میں بولا
“ہممم… گراؤنڈ فلور بھی خالی ہے۔”
مایوسی اور اشتعال اس کے چہرے سے عیاں تھا۔ اس نے جیب سے موبائل نکالا اور فوراً ایک نمبر ڈائل کر دیا۔
°°°°°°°°°°
تقریباً بیس کے قریب مسلح افراد، زافیر کے گھر سے کچھ فاصلے پر واقع ایک پہاڑی کے عقب میں کھڑے تھے۔ اُن کے چہرے سیاہ ماسک میں چھپے ہوئے تھے اور ہاتھوں پر کسے ہوئے کالے ربڑ کے دستانے چمک رہے تھے۔ ہر ایک کے ہاتھ میں جدید اسلحہ تھا اور آنکھوں میں ایک خاص قسم کی چمک تھی۔
ان میں سے ایک شخص بار بار قدم ناپ تول کر ٹہل رہا تھا۔ اس کی چال، بےقراری اور ماتھے پر پڑی تیوریوں سے صاف اندازہ ہوتا تھا کہ وہی اس گروہ کا سربراہ ہے۔ اُس کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ کسی اہم اطلاع کا منتظر ہے۔
،اچانک اس کی جیب میں رکھے موبائل پر وائبریشن ہوئی۔ اُس نے فوراً موبائل نکال کر کال ریسیو کی اور دھیمی مگر کڑی آواز میں پوچھا
“کیا رپورٹ ہے؟”
،فون کے دوسری جانب سے ہلکی آواز آئی
“گھر خالی ہے، جناب۔”
،وہ ٹھٹکا، پھر تیزی سے بولا
“لیکن تم تو کہہ رہے تھے کہ وہ لوگ گھر میں ہی ہیں؟”
“…گھر کی روشنیاں جل رہی تھیں، ٹی وی چل رہا تھا اور گاڑی بھی باہر کھڑی تھی… تو مجھے لگا”
،تمہیں لگا…” اس نے جملہ مکمل کرنے نہیں ہونے دیا اور غصے سے حاکمانہ لہجے میں بولا “
“تم لوگ کوئی بھی کام ڈھنگ سے نہیں کرتے۔”
،پھر آواز مدہم کرتے ہوئے بولا
“تم لوگوں کا کام ختم ہوا۔ تم فوراً وہاں سے نکل جاؤ۔ ہم اب دوسرے گھر پر کارروائی کریں گے۔”
،دوسری طرف سے آواز آئی
“…اگر ہماری کسی مدد کی”
لیکن اُس نے کال کاٹ دی اور موبائل جیب میں واپس ڈال لیا۔
،اس نے اردگرد کھڑے افراد پر ایک نظر دوڑائی اور سرگوشی کے انداز میں بولا
“چلو… ہمیں اب پیچھے کی دیوار سے اندر داخل ہونا ہے۔”
یہ کہہ کر اس نے بندوق دونوں ہاتھوں میں سنبھالی، نظریں سامنے جمائیں اور بغیر کوئی آواز پیدا کیے جھک کر چلنے لگا۔ باقی افراد بھی فوراً اُس کے پیچھے حرکت میں آ گئے۔ سب کے قدم اتنے ہلکے تھے کہ لگتا تھا وہ زمین کو چھوئے بغیر آگے بڑھ رہے ہوں۔ پہاڑی کا سایہ، تاریکی کی چادر اور سرد ہوا… سب کچھ ایک خطرناک معرکے کی پیش گوئی کر رہا تھا۔
°°°°°°°°°°
کچی سڑک پر وین دھول اڑاتی ہوئی تیز رفتاری سے دوڑے جا رہی تھی۔ زافیر کی نظریں مکمل یکسوئی کے ساتھ سڑک پر جمی ہوئی تھیں۔ آزلان برابر والی نشست پر بیٹھا، گہری سوچوں میں گم تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک انجانی الجھن تیر رہی تھی۔ وین کی پچھلی سیٹ پر بیٹھا ان کا ساتھی خوفزدہ انداز میں سِمٹا بیٹھا تھا، جیسے کچھ دیر پہلے دیکھا ہوا منظر اب بھی اس کے ذہن پر منقش ہو۔ اس کے چہرے پر خوف اور گھبراہٹ اب بھی ناچ رہے تھے۔
،چند لمحوں بعد آزلان نے جیسے کسی خیال کے تحت پیچھے مڑ کر اُس شخص کی طرف دیکھا۔ آواز میں سکون تھا مگر بات میں گہری چالاکی چھپی ہوئی تھی
“اگر تمہارا باس پوچھے تو بس یہی کہنا کہ ایک مسلح گروہ نے اچانک حملہ کر دیا اور باقی سب ساتھی مارے گئے۔”
آزلان خاموش ہو گیا، شاید جواب کا منتظر تھا لیکن پیچھے بیٹھا شخص گم سم رہا۔ خاموشی اس کی رضامندی یا الجھن کا پتہ نہیں دیتی تھی۔
،آزلان نے تھوڑی سی مزید گردن پیچھے موڑتے ہوئے ایک بار پھر کہا
“جو ہونا تھا وہ تو ہو گیا… اگر تم سچ بولو گے تو تم پر کوئی یقین نہیں کرے گا۔ لیکن اگر میری بات مانو گے تو پچاس لاکھ روپے تمہارے ہوں گے۔”
،یہ سنتے ہی اُس شخص کی آنکھوں میں ایک لمحاتی چمک ابھری۔ خوف کے پردے میں چھپی لالچ کی ایک ہلکی جھلک۔ اُس نے خود پر قابو پاتے ہوئے قدرے جھجھکتے ہوئے پوچھا
“اور… یہ کب ملیں گے؟”
،آزلان کے لبوں پر ایک مدھم سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے نرمی سے کہا
“اپنے باس کو اطلاع دے کر مجھے کال کرنا۔”
،اس کے ساتھ ہی اس نے جیب سے وزٹنگ کارڈ نکالا اور اس کے حوالے کرتے ہوئے بات مکمل کی
“اگر تم آگے بھی ہمارے ساتھ کام کرنا چاہو تو ہمیں خوشی ہوگی۔”
نن… نہیں، میں دوبارہ یہاں نہیں آنا چاہتا…!” اُس نے بےچینی سے کہا۔ ‘
،آزلان نے ہلکا سا قہقہہ لگایا اور نرمی سے وضاحت کی
“ارے نہیں، تم غلط سمجھ رہے ہو۔ ہم خود بھی یہاں دوبارہ نہیں آئیں گے۔ ہمیں جو چاہیے تھا، وہ ہمیں مل چکا ہے۔”
میں… سوچ کر بتاؤں گا۔” اُس نے کارڈ جیب میں رکھتے ہوئے کہا اور خاموش ہو گیا۔ “
،وین بدستور دھول اڑاتی آگے بڑھتی رہی۔ کچھ لمحوں بعد زافیر نے تشویش سے موبائل پر وقت دیکھا اور گہری سانس لے کر بولا
“بہت زیادہ دیر ہو گئی ہے۔”
،آزلان نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا پھر خود بھی وقت چیک کیا اور کہا
“نہیں تو، ہمیں گھر سے نکلے ہوئے ابھی تین گھنٹے بھی پورے نہیں ہوئے۔”
زافیر نے آہستگی سے سر ہلاتے ہوئے کہا،
“نہیں… یہاں ایک گھنٹہ، اصل دنیا کے آٹھ گھنٹوں کے برابر ہے۔”
یہ سن کر آزلان کے چہرہ کا رنگ اُڑ گیا، جیسے کسی نئے انکشاف نے اسے لمحہ بھر کو ساکت کر دیا۔ پیچھے بیٹھے شخص کے لیے یہ بات کسی معمے سے کم نہ تھی، وہ بس حیرت سے دونوں کی طرف دیکھتا رہا۔
،آزلان نے زافیر کو تسلی دیتے ہوئے کہا
“اگر ایسا بھی ہے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں… میری امی آبرو کے ساتھ ہیں، وہ اسے سنبھال لیں گی۔”
،زافیر نے ہلکی تشویش کے ساتھ جواب دیا
“وہ تو ٹھیک ہے… لیکن وہ بہت ضدی ہے۔”
،آزلان نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
“میری امی بھی ایک ماں ہیں، بچوں کو سنبھالنا جانتی ہیں۔”
یہ کہتے ہوئے اُس کے لہجے میں پراعتمادی اور سکون جھلک رہا تھا۔ زافیر نے خاموشی سے اثبات میں سر ہلایا اور نظریں دوبارہ سڑک پر مرکوز کر دیں۔
°°°°°°°°°°
آزلان کی والدہ، مومنہ بتول بیڈ پر نیم دراز، پشت تکیے سے ٹکائے، آنکھوں پر سنہرے فریم کا چشمہ چڑھائے، ایک ادبی رسالے کے صفحات الٹ پلٹ رہی تھیں۔ ان کے پہلو میں، دوسری جانب آبرو خاموشی سے کمبل اوڑھے کروٹ لیے سو رہی تھی۔ کمرے میں نیم تاریکی تھی اور باہر کی خنکی اندر ایک ہلکی سی سرد لہر کی صورت محسوس ہو رہی تھی۔
مومنہ بتول کا دھیان بار بار دیوار پر لگی گھڑی کی سوئیوں کی طرف جا رہا تھا۔ جو آگے بڑھنے سے انکاری تھیں۔ وقت جیسے کسی ان دیکھے بوجھ تلے تھم سا گیا تھا۔ رسالے کے لفظ اب ان کی توجہ کھینچنے سے قاصر ہو چکے تھے۔ وہ محض وقت گزاری کی ایک ناکام کوشش تھی۔
اچانک ایک دھیمی سی گڑگڑاہٹ سنائی دی۔ ایسی جیسے کسی مشین کے بھاری پرزے آپس میں ٹکرا رہے ہوں۔ ساتھ ہی دروازے کے کھلنے کی ہلکی سی آواز آئی۔
… چونک کر وہ تیزی سے بیڈ سے اٹھیں اور دبے قدموں کمرے سے باہر نکل کر ہال میں پہنچیں۔ وہاں بظاہر سب کچھ ویسا ہی تھا… خاموش اور ساکت
مگر جب ان کی نظر کھڑکیوں اور مرکزی دروازے کی طرف گئی تو دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔
اندرونی جانب سے کھڑکیوں اور دروازوں کو آہستہ آہستہ سٹیل کی بھاری سلائیڈنگ چادریں ڈھانپ رہی تھیں۔ یہ ایک غیر معمولی منظر تھا… کچھ ایسا جو نہ معمول کا تھا، نہ ہی متوقع۔ وہ ٹھٹھک گئیں۔ ان کے چہرے پر تشویش کی لکیریں ابھر آئیں۔ وہ اچھی طرح سمجھ چکی تھیں کہ یہ خطرے کی علامت ہے۔
پوری کوٹھی میں چکر لگاتے ہوئے وہ ہر کھڑکی کے پاس گئیں، باہر جھانکنے کی کوشش کی مگر ہر جگہ وہی دھندلی سلائیڈز، بند ہوتے منظر۔ جب وہ عقبی حصے میں پہنچیں اور ایک کھڑکی کے نچلے حصے سے جھک کر باہر دیکھا تو انہیں چند سیاہ انسانی ہیولے دیوار پھلانگ کر اندر آتے دکھائی دیے۔
اگلے ہی لمحے وہ آخری کھلی کھڑکی بھی خودکار نظام کے تحت بند ہو گئی۔ مومنہ بتول کا حلق خشک ہونے لگا، دل کی دھڑکن بے قابو ہو گئی اور ماتھے پر پسینے کے قطرے چمکنے لگے۔
وہ واپس کمرے میں گئی، موبائل اٹھا کر آزلان کو کال ملانا چاہی لیکن اس کا نمبر مسلسل بند آرہا تھا، اگلے ہی پل ان کے موبائل کی سروس اڑ گئی۔ ایمرجنسی لاک ڈاؤن کی وجہ سے جیمر بھی ایکٹِو ہوگئے تھے۔
۔No Video، وہ فوراً دوڑ کر اُس کمرے میں گئی جہاں بڑی اسکرین پر سیکیورٹی کیمرے نصب تھے۔ مگر وہاں پہنچ کر اُن کے قدم رک گئے۔ سکرین پر کوئی منظر موجود نہیں تھا۔ ہر خانے میں ایک ہی تحریر جھلملا رہی تھی
…یہ منظر دراصل اس بنگلے کے خفیہ، خودکار سیکیورٹی نظام کا مظہر تھا، ایمرجنسی لاک ڈاؤن
جب بھی کوئی سنگین خطرہ لاحق ہوتا تو یہ پورا بنگلہ ایک ڈیجیٹل قلعے میں تبدیل ہو جاتا۔ ظاہری طور پر عام سا نظر آنے والا یہ بنگلہ، درحقیقت ایک جدید جنگی مورچہ تھا۔ جہاں دفاع اور حملے دونوں کے لیے مکمل تیاری موجود تھی۔ ایسی تیاری جس سے دشمن یکسر لاعلم تھے۔
اسی بنگلے میں، تہہ خانے کے ایک خفیہ گوشے میں ایک خودکار کنٹرول روم موجود تھا۔ صرف زافیر اور آزلان کو اس کی موجودگی کا علم تھا۔ اس کمرے میں لگی ہوئی چالیس کے قریب اسکرینوں پر چاردیواری کے اندر اور باہر کے مناظر براہِ راست نشر ہو رہے تھے۔
ہر مسلح حملہ آور کی نقل و حرکت، ان کے جسم کی حرارت سے ظاہر ہونے والے ہیٹ سگنیچر اسکرین پر نمایاں تھے۔ ہر ایک پر لیزر ٹارگٹ کے سرخ دائرے بنے ہوئے تھے۔ سسٹم خودکار طور پر زوم اِن اور زوم آؤٹ کر کے انہیں مانیٹر کر رہا تھا۔ حملہ آور چاہ کر بھی اس محفوظ نظام کی نگاہوں سے اوجھل نہی ہو سکتے تھے۔
وہ سمجھ رہے تھے کہ انہوں نے ایک عام سا بنگلہ گھیر لیا ہے… لیکن حقیقت میں وہ خود ایک جال میں پھنس چکے تھے۔
°°°°°°°°°°
ایان کے بھیجے گئے تمام مسلح افراد، ایک ایک کر کے عقبی دیوار پھلانگ کر بنگلے کے اندر داخل ہو چکے تھے۔ وہ سب احتیاط سے اپنے قدم جما کر لان میں پھیل چکے تھے، گرد و پیش کا جائزہ لے رہے تھے۔ ماحول میں ایک خاموش مگر بے چین سی سنسنی پھیلی ہوئی تھی۔ ابھی تک سب کچھ قابو میں محسوس ہو رہا تھا۔
چند لمحوں بعد، ان کا لیڈر… جو اب تک باہر ہی کھڑا حالات کا مشاہدہ کر رہا تھا… وہ بھی دیوار پھلانگ کر اندر آ گیا۔ جیسے ہی اس کے قدم لان میں پڑے، منظر یکسر بدل گیا۔
اچانک فضا میں ایک چیخ گونجی… پھر دوسری… پھر تیسری… اور پھر پورا لان جیسے انسانی چیخوں سے گونج اٹھا۔
یہ شور، وہم نہیں تھا۔
بنگلے کی دیواروں، چھتوں اور کونے کونے میں چھپے خودکار دفاعی نظام متحرک ہو چکے تھے۔ سائلنسر لگے خودکار ہتھیار، جنہیں صرف بیرونی خطرات پر ردعمل دینا سکھایا گیا تھا، ایک کے بعد ایک ایکٹیویٹ ہو رہے تھے۔ فضا میں ہلکی مگر مسلسل “ٹھک ٹھک” کی آوازیں ابھرنے لگیں جیسے کوئی غیر مرئی ہاتھ نرمی سے دروازہ کھٹکھٹا رہا ہو۔ لیکن یہ دروازہ نہیں، جان لیوا گولیاں برس رہی تھیں۔
پانچ سیکنڈ کے اندر، ایک بے آواز طوفان اٹھا۔
ہر مسلح شخص کے دونوں ہاتھوں پر انتہائی درستگی سے گولیاں برسیں۔ وہ اپنے ہتھیاروں کو تھامنے کے بھی قابل نہ رہے۔ بندوقیں ہاتھوں سے چھوٹ کر زمین پر گریں اور ان کی چیخیں فضا میں گونجنے لگیں۔ درد اور خوف نے انہیں دیوار کی طرف دوڑنے پر مجبور کر دیا لیکن وہ بھاگ نہیں سکے۔
بنگلے کی دیواروں میں چھپی ڈارٹ گنز، جو ہر زاویے کو کور کرتی تھیں، خودکار انداز میں حرکت میں آ چکی تھیں۔ چھوٹے چھوٹے، مگر مہلک سرنج نما ڈارٹس ہوا میں فائر ہوئے۔ کوئی گردن پر لگا، کوئی کمر میں اور کوئی پیٹ میں پیوست ہو گیا۔ اثر فوری تھا۔ چند ہی لمحوں میں سب ایک ایک کر کے زمین پر گرتے چلے گئے اور مکمل طور پر بے ہوش ہوگئے۔
زافیر کا بنگلہ ایک جدید قلعہ تھا، جس کا ہر گوشہ، ہر دیوار، ایک سوچے سمجھے نظام کا حصہ تھے۔
حملہ آور خوش قسمت یا شاید بدقسمت تھے کہ بنگلے کے دفاعی سسٹم نے جان لیوا وار نہیں کیا تھا۔ ان کا صرف اسلحہ ناکارہ بنایا گیا اور خود انہیں غیر فعال کر دیا گیا۔ کسی کو ہلاک نہیں کیا گیا۔
اب اس قلعے میں نہ داخل ہونا ممکن تھا اور نہ ہی یہاں سے نکلنا ممکن تھا۔ زافیر کے لوٹنے تک یہ پورا بنگلہ مکمل لاک ڈاؤن میں جا چکا تھا۔
°°°°°°°°°°
آزلان نے پیچھے بیٹھے اپنے ساتھی کو ایک کالی پٹی تھمائی۔
“،یہ آنکھوں پر باندھ لو”
اس نے خاموشی سے پٹی لے کر آنکھوں پر چڑھا لی۔ زافیر مکمل دھیان کے ساتھ وین چلا رہا تھا۔ چند منٹ بعد اس نے وین کو کچی سڑک سے ہٹایا اور دو درختوں کے درمیان سے گزارا۔ اگلے ہی لمحے، جیسے وین فضا میں تحلیل ہو گئی ہو، وہ منظر سے غائب ہو چکی تھی۔
،اب وین ایک سنسان گاؤں کی کچی سڑک پر نمودار ہو چکی تھی۔ آسمان پر گھنے بادل چھائے تھے اور فضا میں ایک عجیب سی خاموشی تھی۔ زافیر نے رفتار کم کی اور آزلان نے پیچھے دیکھتے ہوئے نرمی سے کہا
“اب تم پٹی اتار سکتے ہو۔”
اس شخص نے آہستگی سے پٹی اتاری۔ اگلے ہی لمحے اس کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا۔ آنکھوں میں حیرت، چہرے پر خوف اور سانسوں میں الجھن تھی۔
وہ صبح کے وقت روانہ ہوئے تھے۔ گھڑی کے حساب سے بمشکل دو سے ڈھائی گھنٹے ہی گزرے تھے۔ لیکن یہاں باہر مکمل رات چھائی ہوئی تھی۔ اس کے لیے یہ منظر ایک خواب یا بدترین وہم جیسا تھا۔ عام انسان ایسے لمحات میں اپنا ذہنی توازن کھو سکتا ہے۔
اچانک زافیر کے موبائل سے ایک تیز “بیپ” کی آواز ابھری۔
یہ کوئی عام نوٹیفکیشن نہیں تھا… یہ ایمرجنسی الارم تھا۔ زافیر نے فوراً ڈیش بورڈ سے موبائل اٹھایا۔
اسکرین پوری طرح سرخ تھی۔ درمیان میں ایک چمکتا ہوا وارننگ آئیکن نمودار ہوا اور اس کے نیچے چند الفاظ وقفے وقفے سے جل بجھ رہے تھے۔
،اسکرین پر لکھا تھا
⚠️ SYSTEM ALERT ⚠️
UNAUTHORIZED ENTRY DETECTED
ENGAGING COUNTERMEASURES…
SITUATION UNDER CONTROL ✅
زافیر اور آزلان کے چہرے پر بے چینی اور پریشانی کے آثار پھیل گئے تھے۔ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ گھر میں کس نے گھسنے کی کوشش کی، بس دل کو اتنا اطمینان تھا کہ حالات قابو میں تھے۔
°°°°°°°°°°
…جاری ہے
