⚠️وارننگ: یہ قسط کمزور دل افراد نہ پڑھیں۔
ناول درندہ
قسط نمبر 11
باب دوّم: انتقام
مصنف: زیاد اصغر زارون
°°°°°°°°°°
رات کی تاریکی میں ایک سنسان مقام پر، زافیر اور آزلان نے اپنے ساتھی کو اُتارا۔ بغیر کوئی لفظ کہے وہ واپس مڑے اور گاڑی پوری رفتار سے گھر کی طرف دوڑا دی۔
بنگلے کے مرکزی گیٹ پر جیسے ہی وین رکی، زافیر فوراً نیچے اُتر آیا۔ دروازے کے ساتھ نصب جدید سیکیورٹی سسٹم نے خودکار انداز میں اس کے چہرے کا اسکین کیا۔ ایک لمحے کی خاموشی کے بعد گیٹ میں ہلکی سی چڑچڑاہٹ کی آواز ابھری اور آہستہ آہستہ فولادی دروازہ کھلنے لگا۔ وین اندر داخل ہوئی اور پارکنگ ایریا میں جا رکی۔
گھر مکمل تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ نہ کوئی روشنی، نہ کوئی آواز… سب کچھ غیر معمولی حد تک خاموش تھا۔
دونوں دروازہ بند کرتے ہی باہر نکلے اور محتاط نظروں سے اردگرد کا جائزہ لیتے ہوئے بنگلے کے پچھلے صحن کی طرف بڑھنے لگے۔
پچھلے صحن میں زمین پر بے ہوش پڑے بیس کے قریب افراد کا منظر ان کا منتظر تھا۔ سبھی کے جسم اکڑے ہوئے تھے، ان کے چہروں پر ماسک تھے اور زخمی ہاتھوں میں ہتھیاروں کے نشان واضح تھے۔ اچانک ان میں سے ایک شخص جو نسبتاً مضبوط جسم و دماغ کا مالک معلوم ہوتا تھا، آہستہ آہستہ ہوش میں آنے لگا۔
لیکن اگلے ہی لمحے بنگلے کے خودکار دفاعی نظام نے دوبارہ متحرک ہو کر اس کی حرکت کو محسوس کیا۔ ایک دبی سی آواز کے ساتھ ڈارٹ گن سے ایک اور سرنج اس کے سینے میں پیوست ہو گئی۔ وہ جھٹکے سے پھر وہیں گر گیا۔
زافیر اور آزلان ایک ایک کر کے حملہ آوروں کے چہرے سے ماسک ہٹانے لگے۔ لیکن یہ سب چہرے ان کے لیے اجنبی تھے۔
ان اجنبی چہروں، ان کی منظم تعداد اور ان کے پاس موجود جدید اسلحے نے یہ بات صاف کر دی تھی کہ یہ حملہ کسی عام دشمن کا نہیں بلکہ ایک منظم سازش کا حصہ تھا۔
“اب ان کا کیا کرنا ہے؟” آزلان نے ایک حملہ آور کی نبض چیک کرتے ہوئے پُرسکون انداز میں پوچھا۔
،زافیر نے بنگلے کی دیواروں پر گہری نظر دوڑاتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا
“ان سب کو ذبح خانے پہنچاؤ۔ یہ صرف مہرے ہیں، اصل کھلاڑی کوئی اور ہے… اور میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ میرے دشمن آخر کہاں سے پیدا ہو رہے ہیں۔”
یہ کہہ کر زافیر ایک حملہ آور کی لاش کو کندھے پر اُٹھانے لگا۔ آزلان بھی خاموشی سے آگے بڑھا اور ایک بے ہوش شخص کو سہارا دے کر کھینچنے لگا۔
دونوں نے ایک کے بعد ایک، سب کو اٹھایا اور انہیں ذبح خانے کی جانب لے جانے لگے… ایک ایسا مقام جو شکار کے انجام کے لیے مخصوص تھا۔
°°°°°°°°°°
بنگلے کا لاک ڈاؤن ختم ہو چکا تھا۔ تمام افراد کو ذبح خانے میں منتقل کر کے دیوار کے ساتھ کس کر باندھ دیا گیا تھا۔ ان کے ہاتھ دیوار پر نصب سٹیل پائپ سے ہتھکڑیوں کے ذریعے جکڑے گئے تھے اور کچھ کے ہاتھوں کو پرانی، کھردری رسیوں سے باندھا گیا تھا۔ ان کی ٹانگیں بھی الگ سے مضبوطی کے ساتھ باندھ دی گئی تھیں تاکہ وہ حرکت نہ کر سکیں۔
سبھی بے ہوشی کے عالم میں تھے، ان کے سر ڈھلک کر سینوں سے لگے ہوئے تھے۔
یہ سب کچھ ترتیب دینے کے بعد وہ دونوں آہستگی سے واپس بنگلے کے اندر داخل ہوئے۔
آزلان کی ماں کو انہوں نے یہ کہانی سنا کر مطمئن کر دیا کہ کچھ آوارہ چور اندر گھس آئے تھے لیکن بنگلے میں داخل ہونے کا راستہ نہ ملنے پر بھاگ گئے۔ مومنہ خاتون نے سُکھ کا سانس لیا اور وہ دونوں ہی تھوڑی دیر بعد خاموشی سے باہر نکل گئے۔
°°°°°°°°°°
ذبح خانے کی سرد اور نم آلود فضا میں ایک شخص کو سٹیل کی میز پر لٹا کر مضبوطی سے باندھ دیا گیا تھا۔ وہ بھی دیگر تمام قیدیوں کی طرح بے ہوشی کے عالم میں تھا۔
تیز سفید روشنی خاموش دیواروں سے ٹکرا کر ماحول کو مزید خوفناک بنا رہی تھی۔
،اپنے کام سے فراغت کے بعد زافیر نے آزلان کی طرف دیکھا اور مضبوط مگر نرم لہجے میں کہا
“تمہارا کام ختم ہو چکا ہے، اب تم چلے جاؤ۔”
،آزلان نے تحمل سے جواب دیا
“نہیں… مجھے دیکھنا ہے۔”
،زافیر کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار ابھر آئے۔ وہ سخت لہجے میں بولا
“…ہر بات پر ضد مت کیا کرو۔ جو کچھ یہاں ہونے والا ہے، وہ تم برداشت نہیں کر پاؤ گے۔ اب جاؤ”
آزلان نے مزید بحث کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ زافیر نے کمرے کا دروازہ کھولا، اسے باہر جانے کا اشارہ کیا اور پھر دروازہ بند کر دیا۔
°°°°°°°°°°
زافیر نے ایک بالٹی میں پانی بھرا اور گلاس بھر کر قیدیوں کے چہروں پر پانی پھینکنے لگا۔ آہستہ آہستہ سب ہوش میں آنے لگے۔ ان کی بے چین حرکتیں اور مدھم کراہیں خاموش کمرے میں گونجنے لگیں۔
میز پر لیٹا شخص بھی نیم وا آنکھوں سے اردگرد دیکھنے لگا اور پھر سبھی قیدیوں کو اپنی قید کا احساس ہوا، انہیں محسوس ہوچکا تھا کہ وہ اپنے مشن میں نہ صرف ناکام رہے بلکہ بری طرح پھنس چکے ہیں۔
،اچانک ایک قیدی دانت پیستے ہوئے بولا
“!…ہمیں جانے دو… ورنہ انجام اچھا نہیں ہوگا”
،زافیر نے اُس کی طرف ترس بھری مسکراہٹ کے ساتھ دیکھا اور کہا
“…مجھے تو تمہارے انجام پر ترس آ رہا ہے”
،پھر وہ سنجیدہ ہوا اور کمر سیدھی کرتے ہوئے بولا
“تمہارے درمیان سینیئر کون ہے؟”
،ایک آواز بلند ہوئی
“!..میں ہوں ان سب کا باس… اور تم میرے اصل باس کو نہیں جانتے۔ بہتر ہے باز آ جاؤ ورنہ تمہاری بیٹی کے چیتھڑے اُڑا دیئے جائیں گے”
،زافیر کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ اس کے گال غصے سے سرخ ہو گئے لیکن اس نے خود پر ضبط کیا۔ وہ دیوار کے ساتھ لٹکی تیز دھار قینچی اٹھا کر پلٹا اور پرسکون لہجے میں بولا
“…مجھے نہیں پتا تم خود کو کیا سمجھتے ہو لیکن میں… نہ ہیرو ہوں… نہ ولن”
،وہ میز پر لیٹے شخص کے قریب آیا اور اس کی قمیض کو قینچی سے کاٹتے ہوئے اپنی نظریں جھکائے ہوئے کہنے لگا
“…لیکن میں ایک چیز ضرور جانتا ہوں”
اس نے سر اٹھایا، سب قیدیوں پر نظر دوڑائی۔ قیدی دہشت سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔
“میں… درندہ ہوں۔”
،ایک لمحے کی خاموشی اور پھر اس نے ٹھنڈے لہجے میں کہا
“اور درندے… رحم سے عاری ہوتے ہیں۔”
،زافیر نے قمیض پوری طرح چاک کر دی۔ پھر نظریں اٹھاتے ہوئے لیڈر قیدی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور نرم آواز میں، مگر سفاک انداز سے پوچھا
“اب تم سکون سے سوچو اور بتاؤ تمہیں یہاں کس نے بھیجا؟ اگر سچ بول دیا… تو آسان موت دوں گا۔”
یہ کہہ کر وہ پوری توجہ کے ساتھ میز پر لیٹے قیدی کی طرف متوجہ ہو گیا اور کمرے میں صرف سانسوں، خوف اور دہشت کی آہٹ باقی رہ گئی۔
زافیر نے قینچی آہستگی سے ٹرے میں رکھتے ہوئے ایک پلاس اٹھایا۔ لمحہ بھر کو خاموشی چھا گئی جیسے ہر چیز سانس روک کر منتظر ہو کہ اب کیا ہونے والا ہے۔
اس نے جھک کر قیدی کی انگلی تھامی، پلاس جمایا اور پوری قوت سے ایک ناخن کھینچ ڈالا۔
قیدی کی چیخ فضا چیرتی ہوئی چھت سے ٹکرا گئی۔ اس کے جسم نے مچل کر نکلنے کی کوشش کی لیکن رسیاں بہت مضبوطی سے بندی تھیں۔
…زافیر کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں ابھرا۔ اس نے دوسرا ناخن کھینچا… پھر تیسرا
قیدی کی ہر چیخ، ہر تڑپ کمرے میں بجلی کی طرح کوند رہی تھی۔ اس کی آواز میں درد نہیں اذیت چیخ رہی تھی۔ باقی قیدیوں کے چہرے زرد ہو چکے تھے۔ ماتھے پسینے سے تر تھے اور دل ہول کھا رہے تھے۔
سبھی ناخن نکالنے کے بعد، زافیر نے پلاس واپس رکھ دیا اور ٹرے سے ایک تیز دھار چھری اٹھا لی۔
قیدی اب پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا، التجائیں کر رہا تھا لیکن زافیر کی آنکھوں میں کوئی رحم نہیں تھا۔
رحم…!” وہ سرد لہجے میں بولا۔ “
“رحم… ہیرو کرتے ہیں۔ وِلن سے بھی کچھ امید کی جا سکتی ہے… لیکن درندے…؟”
،وہ آگے جھکا، نگاہیں اس قیدی کی آنکھوں میں گاڑتے ہوئے کہا
“درندے… رحم سے عاری ہوتے ہیں۔”
اس نے چھری قیدی کی چھاتی پر رکھی اور پرسکون مہارت سے کھال چیرتے ہوئے ناف تک لکیریں کھینچ دیں۔ پھر ناف کے دونوں طرف کٹ لگا کر کمر کی طرف لے گیا۔ جیسے وہ کسی جانور کی کھال اتار رہا ہو۔
قیدی کی چیخیں اب دھاڑ بن چکی تھیں۔ درد اس کے جسم سے نہیں، روح سے نکل رہا تھا۔
زافیر کی چھری چلتی رہی۔ کھال آہستہ آہستہ اترتی گئی۔ سینے اور پیٹ کی جلد مکمل طور پر الگ ہو چکی تھی اور اب اس کے اندرونی اعضا… آنتیں، معدہ، گردے… صاف دکھائی دے رہے تھے۔
وہ خون میں لت پت تھا لیکن سانسیں ابھی باقی تھیں۔
زافیر نے گردے کی طرف چھری بڑھائی۔ آہستہ سے ایک گردہ الگ کیا پھر اسے دو حصوں میں کاٹا۔
ایک ٹکڑا دانتوں تلے دبایا، چبانے لگا۔
،جانتے ہو؟” وہ باقی قیدیوں سے مخاطب ہوا”
“انسانی جسم میں سب سے ذائقہ دار حصہ یہی ہوتا ہے۔ میرے خاندان کے کچھ لوگ اسے پسند نہیں کرتے تھے مگر مجھے… ہمیشہ سے بہت پسند رہا ہے۔”
اس نے دوسرا ٹکڑا بھی چبانا شروع کر دیا۔
خاموشی میں بس چیخوں کی گونج، زافیر کی آواز اور خون کی بو تیر رہی تھی۔
،پھر اس نے اطمینان سے کہا
“اچھا تو… ہم کہاں پہنچے تھے؟”
اس نے ٹوکہ اٹھایا اور قیدی کے قریب آیا۔ لیکن وہ اب آخری سانسوں پر تھا، جسم ادھ مرا سا ہوگیا تھا۔
،زافیر نے گہری سانس لی پھر بقیہ قیدیوں کو سرد نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولا
“یہ مر رہا ہے… اب اگلی باری کس کی ہے؟”
ٹوکہ ایک طرف رکھا اور اس ادھ مرے قیدی کی رسیاں کھولنے لگا۔
خون کی لکیریں فرش پر نہ پھیل جائیں، اس لیے اس نے اسے آہستگی سے گود میں اٹھایا۔
بھٹی کی طرف بڑھا۔ بھٹی کے سامنے آ کر لوہے کا بھاری دروازہ سرکایا اور قیدی کو اندر رکھ دیا۔
دروازہ بند کرنے سے پہلے اُس نے ہلکی آنچ جلائی۔ صرف اتنی کہ قیدی زندہ ہو اور باقی قیدی جلتے گوشت کی بو اور کراہوں کی لرزتی وحشت محسوس کر سکیں۔
چند لمحے بعد، اس نے دروازہ پوری طرح بند کیا… اور پھر آگ تیز کر دی۔
زافیر اپنے کام سے فارغ ہو چکا تھا۔ اب اس کی نگاہیں باقی قیدیوں پر جمی تھیں۔ کمرے میں ایک ایسی خاموشی چھا گئی تھی جو صرف ہولناکی سے پہلے کی ہوا کرتی ہے۔ ہر ایک کی سانس پھنس چکی تھی۔ پیشانیوں پر پسینہ، آنکھوں میں لرزہ اور جسموں میں کپکپی تھی۔
کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اگلی باری کس کی ہوگی۔
،قیدیوں کا لیڈر گھبرا کر جھٹ سے بولا
“!…تم بہت بڑی غلطی کر رہے ہو”
زافیر نے سر ہلایا، جیسے کوئی لطیفہ سنا ہو۔
“ارے… ارے… ابھی نہیں… مزہ خراب مت کرو۔”
وہ ایک قیدی کی طرف بڑھا، جھکا اور آہستگی سے اس کی ٹانگوں کی رسی کاٹی۔ پھر ہاتھوں کی بھی۔ قیدی تو جیسے پہلے ہی تیار بیٹھا تھا، فوراً زافیر پر جھپٹا۔
مگر زافیر نے مہارت سے اس کے پیٹ میں گھونسہ دے مارا۔ وہ پیٹ پر ہاتھ رکھ کر کراہتے ہوئے زمین پر گِر گیا۔ زافیر نے اس کی گردن دبوچ لی اور ایک ہی لمحے میں اسے اٹھا کر میز پر پٹخ دیا۔
قیدی میز سے اترنے کی سرتوڑ کوشش کر رہا تھا، ہاتھ پاؤں مار رہا تھا مگر زافیر اسے کسی خونخوار درندے کی طرح دبوچے ہوئے تھا۔ جیسے شیر کے پنجوں میں پھنسا زندہ بے بس ہرن ہو۔
زافیر نے اسے مضبوطی سے باندھنے کے بعد چاقو اٹھایا اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے، قیدی کی دونوں آنکھیں نوچ ڈالیں۔
چیخیں تھیں… کانپتی، دہاڑتی، اذیت سے چلاتی ہوئی۔ قیدی سر پٹخ رہا تھا لیکن زافیر کا ہاتھ نہیں کانپا اور نہ ہی دل۔
پھر اس نے قیدی کی پیشانی پر چاقو رکھا، ایک کٹ لگایا، کانوں سے گزارتے ہوئے گردن تک لے گیا اور وہیں سے دوسری طرف واپس پیشانی تک۔
…پھر گردن کے قریب چہرے کی کھال میں کٹ لگا کر انگلیوں کی گرفت کے لیے جگہ بنائی، چاقو واپس ٹرے میں رکھا اور ایک ہاتھ سے سر کے بال پکڑے، دوسرے سے ٹھوڑی کے نیچے سے کھینچا
ایک ہی جھٹکے میں قیدی کا پورا چہرہ اس کی کھوپڑی سے الگ کر دیا۔
اس کے جسم میں تھرتھری تھی۔ چیخیں فلک شگاف تھیں۔ آنکھوں کی جگہ سیاہ خالی گڑھے تھے۔ ناک کے علاوہ پورا چہرہ اب محض خون آلود گوشت کا ایک ڈھیر تھا۔
اوہ… ناک رکاوٹ بن گیا۔” زافیر نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ لیڈر کی طرف دیکھا جو غصے اور خوف سے نظریں چرا گیا۔ “
زافیر نے وہ اتری ہوئی کھال قیدی کے سینے پر رکھ دی اور لال مرچ کی ڈبیا اٹھا لایا۔
قیدی کا چہرہ، جس پر اب کھال نہیں تھی، سرخ اور سوجا ہوا تھا، خون رِس رہا تھا۔ زافیر نے مرچ اس کے چہرے پر انڈیلنا شروع کی۔
قیدی کے چیخنے کی آواز نے کمرے کے در و دیوار کو ہلا دیا۔ جیسے دیواریں لرز رہی ہوں اور چھت خود چیخ رہی ہو۔
زافیر کے چہرے پر پھر سے سکون اتر آیا۔
“کیا ابھی تک ارادہ نہیں بدلا…؟”
یہ کہتے ہوئے اس نے دوبارہ چاقو اٹھایا اور قیدی کے بازو کی کھال آہستہ آہستہ چھیلنے لگا۔ جیسے کوئی پھل چھیل رہا ہو، اس نے مکمل بازو کی کھال اتار دی۔ پھر نرمی سے وہیں سے گوشت کاٹ لیا۔
اسی انداز میں دوسرے بازو سے بھی گوشت کاٹا۔ پھر دونوں بازوؤں کا گوشت کاٹ کر چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کیا۔
وہ گوشت اٹھا کر برتن میں رکھا، دھویا اور فرائنگ پین میں ڈال کر آئل شامل کیا۔
اب چولہے پر گوشت بھوننے کی آواز تھی اور قیدیوں کی سانسیں جیسے حلق میں اٹکی ہوئی تھیں۔
،زافیر نے پلٹ کر لیڈر کو دیکھا
“مجھے تو بہت بھوک لگ رہی ہے… کیا تم اپنے ساتھی کا گوشت کھانا چاہو گے؟”
اب باقی سب کا شک یقین میں بدل چکا تھا۔
گردہ چبانے پر کچھ کو گمان ہوا تھا کہ شاید یہ صرف ڈرانے کا طریقہ ہے۔
…لیکن اب… اب انہیں معلوم ہو چکا تھا کہ وہ واقعی ایک وحشی آدم خور کے ہتھے چڑھ چکے ہیں۔ جہاں موت انعام ہے اور زندگی اک بددعا
°°°°°°°°°°
زافیر ایک بڑی اسٹیل کی ٹرے میں انسانی گوشت رکھے، خاموشی سے کرسی پر بیٹھا تھا۔ کمرے میں صرف بُھنے گوشت کی مہک اور قیدیوں کی سسکیوں کی آوازیں تھیں۔ وہ ایک کانٹے کی مدد سے گوشت کے چھوٹے ٹکڑے اٹھا کر آہستگی سے چبا رہا تھا۔
پھر اچانک، جیسے کسی بات کی یاد نے اسے چونکا دیا ہو، وہ اپنی جگہ سے اٹھا۔ ایک سائیڈ ٹیبل سے جگ اٹھایا اور آہستہ قدموں سے میز کی طرف بڑھا جہاں نیم مردہ قیدی بندھا پڑا تھا۔
زافیر نے بغیر کچھ کہے، نہایت خاموشی سے اس کی گردن پر چھری پھیر دی۔
ایسا محسوس ہوا جیسے وہ قیدی درد کی انتہا کو چھو کر بے حس ہو چکا ہو… اس کے جسم نے جھٹکے تو دیے مگر ویسی تھرتھراہٹ نہیں تھی جیسی کسی عام انسان کی گردن کٹنے پر ہوتی ہے۔
اس کا خون میز پر لگے جالی نما سوراخ سے بہتا ہوا نیچے پائپ کی جانب بڑھنے لگا۔ زافیر نے عین پائپ کے نیچے جگ رکھ دیا۔
آدھا جگ بھی نہیں بھرا تھا کہ خون رکنے لگا۔ وہ ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے جگ اٹھا لایا، اسے میز پر رکھا اور ایک گلاس میں خون انڈیل کر دو تین لمبے گھونٹ بھر لیے۔
زافیر کے ہونٹوں پر خون کی سرخی پھیلی تو اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی روشنی چمکنے لگی۔ وہ روشنی جو صرف سائیکو کِلرز یا درندوں کی آنکھوں میں دکھائی دیتی ہے۔
،اس نے گوشت کا ایک اور ٹکڑا اٹھاتے ہوئے سرد لہجے میں کہا
“اچھا تو بتاؤ… تمہیں کس نے بھیجا ہے؟”
،ایک قیدی سہمے ہوئے لہجے میں چیخ پڑا
“اسے بتا دو… ورنہ یہ ہمیں بھی تڑپا کر مارے گا اور کھا جائے گا…!”
زافیر کے لبوں پر زہریلی مسکراہٹ پھیل گئی۔ باقی سب قیدیوں نے بھی اپنے لیڈر کی طرف نظریں موڑ لیں… کچھ رو رہے تھے، کچھ گڑگڑا رہے تھے، سب ایک ہی فریاد کر رہے تھے،
“!…بتا دو… خدارا بتا دو”
لیکن وہ خاموش تھا۔ وہی لیڈر جو کبھی ان سب کا حوصلہ تھا، اب پتھر بن کر بیٹھا تھا۔
زافیر آہستہ آہستہ اپنی جگہ سے اٹھا۔ اس کے ہاتھ میں اب ایک دھاتی کٹر تھا۔ وہ قیدیوں کی طرف بڑھا، جیسے قصائی جانوروں کی صف میں سے انتخاب کرنے آ رہا ہو۔
پہلا قیدی کانپنے لگا۔ زافیر نے اس کے ہاتھ کو پکڑا اور کٹر کے ایک ہی دباؤ سے انگلی کاٹ دی۔
قیدی کی چیخ ایسی تھی جیسے کسی نے آسمان کو چیر دیا ہو۔
پھر دوسرا قیدی، تیسرا، چوتھا… ہر قیدی کی ایک ایک انگلی کٹی۔ درد، خون، چیخیں اور کمرے میں پھیلی بدبو جیسے موت کا ننگا رقص کر رہی ہو۔
زافیر کی آنکھوں میں کوئی نرمی نہیں تھی۔ یہ وہ درندہ تھا جو رحم کے لفظ سے ناآشنا تھا۔
ہر قیدی رو رہا تھا، کانپ رہا تھا اور رحم کی بھیک مانگ رہا تھا۔ لیکن وہ سب اس انسان سے رحم مانگ رہے تھے جس کے اندر درندگی کے سوا کچھ نہیں تھا۔ اس کی نظر میں صرف وہی انسان تھے جو اس کے پیارے تھے، باقی سب جانوروں کی مانند تھے۔
کٹر کو واپس رکھتے ہوئے زافیر نے ایک ٹوکہ اٹھایا۔
وہ سیدھا لیڈر کے پاس آیا، نیچے بیٹھا اور ایک ہی ضرب میں اس کا آدھا پاؤں کاٹ ڈالا۔
ٹوکہ اتنی شدت سے مارا گیا کہ فرش پر دھات کی کھرچ سنائی دی۔
لیڈر کی چیخ نے باقیوں کی روحیں لرزا دیں۔ اس کے جسم میں شدید اکڑاؤ سا ابھرا۔ اس کے پاؤں سے نکل کر فرش پر خون کی ایک موٹی لکیر بن چکی تھی۔
زافیر اٹھا… تھوڑی دور گیا اور ایک لکڑی کا صندوق کھولا۔ اس میں سے کپڑے کی موٹی پٹیاں نکالیں۔
واپس آ کر ایک ماہر سرجن کی طرح، اس نے لیڈر کے پاؤں پر پٹیاں باندھنا شروع کیں۔
“اب تو بتا دے یار… کیوں سب کی موت اتنی مشکل بنا رہا ہے؟”
یہ کہتے ہوئے زافیر خاموش ہو گیا۔ بس فرش پر بیٹھ کر لیڈر کے زخم پر پٹیاں لپیٹتا رہا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو جیسے یہ سب صرف ایک رسمی سی بات ہو۔
°°°°°°°°°°
پٹی لپیٹنے کے بعد زافیر نے باقی پٹیاں دوبارہ صندوق میں رکھیں اور آہستہ آہستہ اوزاروں سے بھری دیوار کی طرف بڑھا۔ اس کے قدموں کی چاپ سن کر قیدیوں کے جسموں میں ایک سرد لہر دوڑ گئی۔ ان سب کی نظریں اس پر جمی تھیں۔ خوفزدہ، تھر تھراتی ہوئی جیسے ان کی سانسیں رک گئی ہوں۔ سب کے ذہن میں ایک ہی بات گردش کر رہی تھی،
“اب کیا ہونے والا ہے؟”
زافیر نے دیوار پر لٹکی ایک بڑی دھاری دار چھری اٹھائی۔ اس کی دھار شفاف اور چمکدار تھی۔ وہ چھری ہاتھ میں گھماتے ہوئے قیدیوں کی جانب بڑھا، اس کی آنکھوں میں ایک جنونی چمک تھی۔
“…جیسا لطف آج مل رہا ہے”
،اس نے دھیمی آواز میں کہا جیسے کسی راز کا انکشاف کر رہا ہو
“پہلے زندگی میں کبھی نہیں ملا۔”
،پھر وہ قیدیوں کے بالکل قریب آ گیا اور سرد لہجے میں بولا
“جب تم لوگ میری بات سن ہی نہیں رہے… تو یہ کان کس کام کے…؟”
اگلے ہی لمحے، چھری ایک قیدی کے کان پر چمکی۔
…ایک کٹ… ایک چیخ… اور پھر بہتا ہوا گرم خون
…قیدی تڑپنے لگا، چیخنے لگا لیکن زافیر نے ایک لمحے کی بھی مہلت نہیں دی
اس کا دوسرا کان بھی کاٹ ڈالا۔ خون اس کے کندھوں پر بہتا ہوا اس کے لباس میں جذب ہونے لگا۔
زافیر اب آگے بڑھتا گیا۔ ایک ایک کر کے، وہ ہر قیدی کے کان کاٹتا گیا۔ چیخیں کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ رہی تھیں لیکن باہر نہیں جا سکتی تھیں… کیونکہ کمرہ مکمل طور پر ساؤنڈ پروف تھا۔ اگر باہر تک یہ چیخیں پہنچی ہوتیں تو شاید اب تک پورا علاقہ دہل چکا ہوتا۔
جب وہ لیڈر کے پاس پہنچا تو وہ خوف سے کانپنے لگا، آنکھیں زور سے بند کر لیں جیسے یہ سب نظروں سے اوجھل کرنے سے ختم ہو جائے گا۔
زافیر رک گیا، اس کے چہرے پر زہریلی مسکراہٹ پھیل گئی۔
“ارے… ارے… ڈرو مت۔ ابھی تمہارے ساتھ کچھ نہیں کروں گا۔”
،وہ آہستگی سے اس کے قریب جھکا، چھری کی نوک اس کی گردن پر ہلکی سی رکھ کر بولا
ابھی تو صرف دکھا رہا ہوں کہ یہ سب کچھ تمہارے ساتھ بھی ہونے والا ہے۔ “
…اور تمہیں تو میں
…مرنے بھی نہیں دوں گا
…تمہاری کھال کھینچوں گا
…تم زندہ رہو گے
…تمہاری ہر انگلی الگ کر دوں گا
…مگر تم سانس لیتے رہو گے
…نہ تمہیں خون بہنے سے مرنے دوں گا
…نہ ہی جینے دوں گا
…بس… تم موت کی فریاد کرو گے
یہ سب تب تک چلے گا، جب تک تم مجھے سب کچھ بتا نہیں دیتے۔
“دن، مہینے، یا سال گزر جائیں… مجھے وقت کی پرواہ نہیں۔
اس کی آواز یوں تھی، جیسے کسی قبر کے اندر سے آ رہی ہو، وہ آواز… جو انسان کو پاگل کر دے۔
قیدیوں کا لیڈر اب صرف جسم کا ایک خول بن چکا تھا۔ ذہن خالی، دل لرز رہا تھا اور روح پر دہشت کی چادر تنی ہوئی تھی۔ اس کی اندرونی دعا یہی تھی کہ کاش اسے دل کا دورہ پڑے اور وہ ابھی… اسی لمحے مر جائے۔
،زافیر نے سر اٹھایا، باقی قیدیوں کی جانب دیکھا اور دھیرے سے کہا
“…ابھی صرف انجوائے کرو”
پھر وہ اگلے قیدی کی طرف بڑھا۔ چیخیں دوبارہ ابھریں، دل خراش چیخیں، کان کے پردے چیرتی ہوئی چیخیں۔
ہر چیخ زافیر کی روح کو راحت دیتی محسوس ہو رہی تھی۔
وہ باقی تمام قیدیوں کے کان کاٹتا گیا، ایک تسلسل سے، جیسے کوئی معمول کا کام کر رہا ہو۔
پھر زافیر جیسے کسی خیال سے چونکا۔ وہ پلٹا اور سیدھا قیدیوں کے لیڈر کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی… مگر وہ مسکراہٹ نہیں تھی، وہ موت کا چہرہ تھا۔
“کیا تم نے کبھی زندہ انسان کو جلتے دیکھا ہے؟”
اس کی آواز سانپ کی سرسراہٹ جیسی تھی۔
یہ سب سے آخر میں تمہارے ساتھ کروں گا۔ لیکن سوچا تمہیں اس درد کا اندازہ پہلے ہی کروا دوں “
“تاکہ انتظار کی تکلیف مزید لذیذ بن جائے۔
یہ کہتے ہی زافیر نے ایک قیدی کی رسیوں کو کاٹ دیا۔
قیدی پر خوف اس قدر غالب آ چکا تھا کہ اس کے پاس کوئی اور راستہ نہیں بچا۔ زافیر پر حملہ کرنے کے بجائے وہ لرزتے قدموں سے دروازے کی طرف دوڑا جیسے موت کو پیچھے چھوڑنے کی ناکام کوشش کر رہا ہو۔
وہ روتے اور چیختے ہوئے دروازہ پیٹنے لگا۔
ہاتھ مارے… کندھا مارا… جھٹکے دیے… مگر وہ دروازہ اپنی جگہ سے ہلنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ اس کی چیخیں کمرے میں گونجتی رہیں مگر باہر کوئی سننے والا نہیں تھا۔
ہر بار وہ پیچھے مڑ کر زافیر کو دیکھتا، جو سیاہ سائے کی مانند آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔ جیسے موت اپنے ہاتھ پھیلائے اس کی طرف چلی آ رہی ہو۔ جب زافیر صرف چند قدم دور رہ گیا تو قیدی دیوار کے ساتھ لگ کر ہاتھ جوڑ کر بیٹھ گیا۔ آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، آواز کانپ رہی تھی۔
“!…خدا کے لیے… مجھے جانے دو… میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں… مجھے جانے دو… میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گا… وعدہ کرتا ہوں، کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گا”
زافیر نے ایک جھٹکے سے، اسے گردن سے دبوچ لیا۔ اس کی گرفت لوہے کی مانند سخت تھی جیسے کسی نے گردن کے گرد آہنی شکنجہ کَس دیا ہو۔
،زافیر کی آنکھوں میں جنون کی جھلک تھی، اور آواز میں غصے کی گھن گرج
“!…میرے گھر پر حملہ کرنے سے پہلے بچوں کا سوچنا چاہیے تھا”
قیدی کو لگ رہا تھا جیسے زندگی اس کے جسم سے نچوڑ لی گئی ہو۔ زافیر اسے گھسیٹ کر میز تک لایا، ہتھکڑی لے کر اس کی کلائیاں پیچھے باندھ دیں۔
…پھر اسے منہ کے بل زمین پر گرا دیا، پیر رسی سے باندھے اور رسی کو کھینچ کرہتھکڑیوں سے گزارا
رسی اس شدت سے کھینچی گئی کہ قیدی کو لگا اس کی کمر کی ہڈی ٹوٹ گئی ہو۔ درد کی ایک شدید لہر اس کی چیخ بن کر فضا میں بلند ہوئی۔
زافیر اسے گھسیٹتے ہوئے بھٹی کے قریب لے آیا۔ اس بھٹی کا دروازہ مسلسل حرارت سے سرخ ہو چکا تھا، جیسے آگ خود لوہے میں سما گئی ہو۔ زافیر نے گیس کا دباؤ کم کیا پھر لوہے کی سلاخ سے دروازہ کھولا۔ ایک جھلسا دینے والی گرم لہر کمرے میں پھیل گئی۔
“!…تم لوگوں نے غلط جگہ قدم رکھا… تم نے ایک درندے کی بیٹی کو مارنے کی کوشش کی”
اس کے لہجے میں آگ دہک رہی تھی۔ لمحے بھر کو قیدی کی چیخیں خاموش ہو گئیں پھر زافیر نے ایک زور دار جھٹکے سے اسے بھٹی کے دہکتے جالی دار فرش پر پھینک دیا۔ جوں ہی جسم گرم جالی سے ٹکرایا، ایک سراند جیسی آواز نکلی اور اگلے ہی لمحے وہ قیدی تڑپتے ہوئے چیخنے لگا۔ چیخیں ایسی کہ لگتا تھا خود ہوا کانپنے لگی ہو۔ زافیر نے گیس کا بہاؤ معمولی سا بڑھا دیا۔
…بس اتنا کہ قیدی زندہ رہے… سسکتا رہے… جلتا رہے… روتا رہے… اذیت میں گھلتا رہے
قیدی کی چیخیں وقت کے ساتھ مزید بھیانک ہوتی جا رہی تھیں جیسے کوئی آہستہ آہستہ موت کو آوازیں دے رہا ہو مگر موت خود اس سے نظریں چُرا رہی ہو۔
لیڈر ایک طرف کانپ رہا تھا۔ اس کا دل بیٹھا جا رہا تھا۔ اس کے اعصاب شکست خوردہ ہو چکے تھے، وہ خود کو اس جلی ہوئی کھال میں محسوس کر رہا تھا۔ گھٹن اس کی سانسوں کو دبا رہی تھی۔
“!…رک جاؤ… خدا کے لیے رک جاؤ”
،وہ چلایا
“!…میں سب کچھ بتاؤں گا… بس پلیز، رک جاؤ”
یہ سننا تھا کہ زافیر نے فوراً گیس ہلکی کر دی، ایک چاقو اٹھایا اور بھٹی میں پڑے قیدی کے سینے میں اتار دیا۔ قیدی کی تڑپ ایک جھٹکے میں تھم گئی۔ زافیر کا اپنا ہاتھ بھی بھٹی کی تپش سے بری طرح جھلس گیا تھا۔ وہ پلٹا، دروازہ بند کیا اور آگ کا پریشر فل پر کھول دیا۔
زافیر قیدیوں کے لیڈر کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ اس کے چہرے پر اب بھی وہی جنونی سکون تھا۔
“سچ کہوں تو… مجھے بھی اب تم لوگوں پر رحم آنے لگا ہے۔”
،لیڈر نے لرزتے ہونٹوں سے کہا
“میں جانتا ہوں تم ہمیں زندہ نہیں چھوڑو گے۔ میں سب بتانے کو تیار ہوں… بس وعدہ کرو… ہمیں اذیت ناک موت نہیں دو گے۔ بس ایک ہی وار میں مار دینا۔”
زافیر کا چہرہ سنجیدہ ہو گیا۔
“اگر تم نے سچ بتایا… تو میں اپنا وعدہ نبھاؤں گا۔”
لیڈر چند لمحے خاموش رہا۔ آنکھیں بند کیں جیسے ماضی کے صفحات کو کھولنے کی کوشش کر رہا ہو۔ وہ اندر ہی اندر الجھ رہا تھا۔
کہاں سے شروع کرے…؟
کس راز سے پردہ اٹھائے…؟
اور… کیا واقعی زافیر اپنا وعدہ نبھائے گا…؟
یہ سوالات اس کے دل و دماغ میں بری طرح گردش کر رہے تھے۔
°°°°°°°°°°
…جاری ہے
