Darida Chapter no 14

ناول درندہ
قسط نمبر 14
باب دوّم: انتقام
مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°

زافیر کے ذبح خانے میں اللہ رکھا کی چیخیں دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ رہی تھیں۔ کمرے کی فضا جیسے خود اذیت سے کراہ رہی ہو۔ اذیت اب اس کی برداشت سے باہر نکل چکی تھی۔ وہ ادھ کٹا سا وجود بن چکا تھا۔

اسے سٹیل کے ٹھنڈے میز پر کنارے کی طرف لٹایا گیا تھا۔ دونوں کان کاٹے جا چکے تھے۔ آنکھوں کی پلکیں اس مہارت سے کاٹی گئی تھیں کہ وہ ہر بار پلک جھپکنے کی کوشش میں اپنی ہی اذیت بڑھا دیتا۔ خون بہتا ہوا آنکھوں میں جا رہا تھا اور پلکیں کٹ جانے کی وجہ سے اپنی آنکھوں کو اس عذاب سے بچانا ممکن نہیں تھا۔ ہر گزرتا لمحہ اس کی بینائی کو ایک نئے جہنم میں دھکیل رہا تھا۔ ہاتھوں کے تمام ناخن پہلے ہی اکھاڑ دیے گئے تھے۔

اب زافیر اس کا ایک بازو میز سے نیچے لٹکا کر رسی سے باندھ رہا تھا۔ اللہ رکھا کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ نیا حربہ کیوں؟ مگر وہ یہ سوچنے کے قابل کہاں رہا تھا؟ اس کی ساری توجہ صرف ایک چیز پر مرکوز تھی “نجات” لیکن وہ بھی اب ایک ناممکن خواہش بن چکی تھی۔

،جب بازو مضبوطی سے بندھ گیا، زافیر ایک بالٹی اٹھا لایا۔ بالٹی کو بازو کے نیچے رکھ کر اس میں پانی گرم کرنے کے لیے راڈ ڈالا۔ پھر سفاک لہجے میں بولا
“!…میں نے انسانی گوشت کئی طریقوں سے کھایا ہے۔ پکا کر، بھون کر، ابال کر… لیکن آج… آج میں زندہ انسان کے گوشت کا مزہ لوں گا”
زافیر وہیں کرسی پر بیٹھ گیا۔ اللہ رکھا رونے لگا، چیخنے لگا، رحم کی بھیک مانگنے لگا لیکن اُس کی ہر آواز، ہر فریاد، کمرے کی دیواروں میں دم توڑ رہی تھی۔

چند ہی لمحوں میں پانی میں بلبلے ابھرنے لگے۔ زافیر میز کے پیچھے گیا، جہاں ایک سٹیل کا ہینڈل لگا تھا۔ اسے گھمانے لگا۔ جیسے جیسے ہینڈل گھومتا، میز نیچے آتی گئی اور اللہ رکھا کا بندھا ہوا بازو پانی کی سطح کے قریب ہونے لگا۔ پہلے اس کی بغیر ناخن والی انگلیاں پانی میں گئیں۔
ایک اذیت ناک، گھٹی سی چیخ اس کے حلق سے نکل کر فضا میں تحلیل ہوگئی۔ اب اُس کا گلا سوج چکا تھا، آواز دبنے لگی تھی۔ اس لیے چیخوں کی شدت بھی کم ہو رہی تھی۔

،اب اس کا بازو کہنی تک ابلتے پانی میں تھا۔ پانی پہلے ہی کھول رہا تھا اور راڈ مسلسل اس کا درجہ حرارت مزید بڑھا رہا تھا۔ وہ بلبلا اٹھا، کانپنے لگا پھر غصے سے چیخا
“!…آخر تم مجھ سے چاہتے کیا ہو؟ کچھ تو بتاؤ”
،وہ بازو کو کھینچنے کی کوشش کرتا رہا لیکن رسی کی وجہ سے وہ بے بس تھا۔ زافیر اٹھ کر اس کے قریب آیا، کرسی پر بیٹھا اور ایک طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ بولا
“تم خود کو بہت ہوشیار سمجھتے ہو اور باقیوں کو بیوقوف۔”

،اللہ رکھا نے تھر تھراتے لبوں سے جواب دیا
“…ت… تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے… اگر تم مجھے چھوڑ دو، تو میں… میں اسے ایک حادثہ سمجھ کر بھول جاؤں گا”
اس کی ہچکی بندھ چکی تھی۔

،زافیر نے ہونٹوں پر ہلکی مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہا
“…چلو، ایک چھوٹی سی کہانی سناتا ہوں”

پھر اس نے سنجیدگی سے بولنا شروع کیا۔
“انسپکٹر ایان اور تم پرانے دوست تھے۔ ایان کے ہر غیر قانونی کام کا سہارا تم تھے۔ پھر وہ غائب ہوا، تمہیں پتا نہیں تھا کہ وہ کیوں غائب ہوا ہے اور تمہیں پرواہ بھی نہیں تھی۔ لیکن پھر اچانک ایک دن تمہیں ایک اجنبی نمبر سے کال موصول ہوئی۔ وہ ایان کے خاص آدمی کا نمبر تھا۔ تمہاری خدمات خریدی گئیں اور بدلے میں تمہیں بے تحاشا پیسہ ملا۔ ہر مشن کا بھاری معاوضہ… ایسا پیسہ جو کبھی ختم ہونے والا نہیں تھا۔”

اللہ رکھا کی سسکیاں جاری تھیں۔ اس کا بازو گویا اندر سے جل رہا تھا۔
،زافیر بولتا گیا
پھر تمہیں ایک اور کام ملا… مجھ پر نظر رکھنا۔ تم نے چالاکی سے آزلان کے قریب پہنچ کر اعتماد قائم کیا۔ دوسری جانب تم ایان کو آدھی ادھوری معلومات دیتے رہے لیکن پھر اسے شک ہو گیا۔ “

” جس کا تمہیں ابھی تک پتا نہیں ہے۔ اسی لیے اُس نے مجید بریگیڈ کی مدد لی اور ان کا ایک خاص جاسوس، یعنی حبیب تمہارے لوگوں میں داخل کر دیا۔

اللہ رکھا نے یہ سن کر شدتِ حیرت اور درد سے زافیر کی طرف دیکھا۔ مگر آنکھوں میں نمی کے بجائے خون اُبل رہا تھا۔
پھر وہ رات آئی… جس رات ہمیں ختم کرنے کا حکم ملا اور یہ وہی رات تھی جب آزلان نے تم سے کچھ بندے مانگے۔ تمہاری آنکھوں میں لالچ کا طوفان تھا۔

یہ موقع تمہارے لیے دوہرا وار تھا… ایان کا مشن بھی پورا ہوتا اور ہم سے مزید کمائی کا ذریعہ بھی بن جاتا۔ تم نے دونوں گھروں پر حملہ کرایا۔ “

” میرے گھر کے لیے ایان کی ذاتی ٹیم، آزلان کے لیے اپنے لوگ۔ تم خود کو بچاتے ہوئے تماشہ دیکھنا چاہتے تھے۔
اتنا کہہ کر زافیر نے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ اب ان پلکوں سے محروم آنکھوں میں سفیدی چھا چکی تھی اور جھلی سکڑ کر موت کے قریب ہونے کا اشارہ دے رہی تھی۔

“میں نے کچھ غلط تو نہیں کہا؟”
زافیر نے زہر میں بجھی آواز میں پوچھا۔

،اللہ رکھا بس رو رہا تھا… بمشکل بول پایا
“…مار دو مجھے… خدا کے لیے مار ڈالو”

زافیر نے آہستہ سے سر ہلایا۔
“…نہیں… ابھی نہیں”

وہ اُٹھا، میز کا ہینڈل گھما کر بازو کو ابلتے پانی سے باہر لے آیا۔ پھر ٹرے سے باریک نوک والی چھری اٹھائی۔ کرسی پر بیٹھ کر، اس نے اللہ رکھا کے ابلے ہوئے بازو پر کہنی کے قریب گول دائرے میں ایک چیرا لگایا، جس سے گاڑھا خون رسنے لگا۔ پھر بازو کے لمبائی میں ایک اور کٹ لگایا۔ چھری کو واپس ٹرے میں رکھا، بالٹی ایک طرف کی اور اس کے کندھا پر ہاتھ رکھا۔
پھر جیسے دستانہ الٹا اتارا جاتا ہے، زافیر نے اس کے بازو کی کھال کو کھینچ کر الگ کر دیا۔

اللہ رکھا کے بازو سے ابلے ہوئے گوشت کی بدبو اٹھ رہی تھی۔ اندر کی نیلی نسیں، سرخ پٹھے اور سفید جھلیاں واضح ہو چکی تھیں۔ فرش پر قطرہ قطرہ خون ٹپکنے لگا۔ اب اس کا پورا جسم جھٹکوں میں تھا جیسے موت خود کو زبردستی ٹھونس رہی ہو۔

زافیر نے بالٹی واپس اس کے نیچے رکھی اور میز کو دوبارہ نیچے کرنے لگا۔ اس بار، بازو کھال سے محروم ہو کر پانی میں اُترا۔ ابلتے پانی میں جیسے پورا جہنم سمٹ آیا ہو۔

“…مرنا مت… ابھی کھیل باقی ہے”
زافیر نے زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

جانتے ہو، مجھے کیسے پتہ چلا؟” زافیر نے اس کی پلکوں سے محروم، زخموں سے چُور آنکھوں میں جھانکتے ہوئے سوال کیا۔ اللہ رکھا نے ہچکیوں اور سسکیوں کے بیچ مدھم سی نگاہ اس کی طرف اُٹھائی۔”

ایان مجھے مارنا چاہتا تھا… اور پچھلے دس ماہ سے وہ میری نگرانی کر رہا تھا۔ اگر تمہارے سوا کوئی اور ہمیں مانیٹر کر رہا ہوتا تو اُس رات حملہ کبھی نہ ہوتا۔ “

کیونکہ نگرانی کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ ہم اس وقت گھر پر نہیں تھے۔ حملہ ہمارے بنگلے پر نہیں، گاڑی پر ہوتا۔ لیکن یہاں سب کچھ الٹا ہوا۔

“تم نے آگ لگانے کے لیے، دو طرفہ سازش رچی۔ ہمیں ہمارے مشن کے لیے آدمی دیےتاکہ ہم دور چلے جائیں اور ایان کو یہ کہہ کر پھنسا لیا کہ ہم دونوں اپنے گھروں میں موجود ہیں۔”
زافیر کی آواز میں اب زہر گھل چکا تھا۔

تم نے سوچا ایک چھوٹی سی بچی اور ایک عورت کو قابو میں لانا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ انہیں ختم کر کے مجھے غصے کی آگ میں جھونکو گے اور پھر میری مجبوری کا فائدہ اٹھا کر اپنی خدمات پیش کرو گے۔ “

” دولت، اثر و رسوخ، سب کچھ تمہاری مٹھی میں آ جائے گا۔ تمہیں لگا آزلان کو چکمہ دینا آسان ہے اور شاید ہو بھی… کیونکہ وہ جذباتی ہے، بھروسہ کرتا ہے۔ لیکن میں ویسا نہیں۔”
زافیر کا لہجہ اب شیطانی سکون سے لبریز تھا، آنکھوں میں ہزار سالہ اندھیرے تیرنے لگے۔

“میں نے کئی صدیاں دونوں دنیاؤں میں گزاری ہیں۔ تم جیسے ہزاروں دیکھے، کاٹے اور اپنی خوراک بنائے ہیں۔ تم نے میری بیٹی کو نشانہ بنانا چاہا۔ وہ بچی جس کے لیے میں نے اپنا پورا خاندان مٹی میں ملا دیا۔”

“اور اب تم مجھ سے رحم کی امید رکھتے ہو؟

بالٹی میں پانی جوش مار رہا تھا۔ اللہ رکھا کا بازو، جس کی جلد پہلے ہی اتاری جا چکی تھی، گرم پانی میں گل رہا تھا۔ کمرے میں گوشت گلنے اور خون پکنے کی بھبک دار بُو گھٹن اور متلی کا ماحول بنا رہی تھی۔

زافیر نے خاموشی سے وقت گزرنے دیا۔ وہ اُس وقت تک خاموش رہا، جب تک گوشت کی بو اور منظر ناقابلِ برداشت نہ ہو گیا۔ پھر وہ اُٹھا، ایک گلاس اور نوک دار چھری ٹرے سے لی اور اللہ رکھا کے دوسرے بازو کی نبض کاٹ دی۔ خون چھلک کر گلاس میں گرنے لگا۔ جب گلاس بھر گیا تو اس نے پٹی سے زخم کو کس کر باندھ دیا، میز کو ہینڈل گھما کر اوپر کیا اور کرسی پر بیٹھ کر گلاس سے ایک گھونٹ پیا۔

“تمہارے خون اور گوشت میں کوئی خاص ذائقہ نہیں ہے…” زافیر نے گلاس ایک طرف رکھتے ہوئے کہا۔ پھر اُس نے اللہ رکھا کے بے حِس بازو کا گوشت دانتوں سے نوچا اور سکون سے چبانے لگا جیسے کوئی نایاب کھانا کھا رہا ہو۔

،اللہ رکھا اب نیم بے ہوشی کی حالت میں تھا۔ زبان خشک، آنکھیں زخموں سے سوجی ہوئی اور ہوش و حواس دھندلا چکے تھے۔ مگر زافیر ابھی مکمل مطمئن نہیں تھا۔ اس نے ایک اور گھونٹ پیا اور ٹھہر کر پوچھا
“میرا تم سے صرف ایک سوال ہے… اگر درست جواب دیا تو موت جلدی اور آسان ہوگی۔ ورنہ… تمہیں اس میز پر گلتا سڑتا چھوڑ دوں گا یہاں تک کہ گوشت تم سے خود جدا ہو جائے۔”

اللہ رکھا نے بمشکل ہونٹ ہلائے۔ زافیر نے دوبارہ سوال کیا،
“اب تمہارے بعد میرے گھر پر حملہ کون کون کر سکتا ہے؟”

،چند لمحے مکمل خاموشی رہی۔ پھر اللہ رکھا کی آواز جیسے قبر سے نکلی ہو، ہلکی سی ابھری
“ش… شہریار ملتان… سلیمان سیالکوٹ… رشید لالہ موسیٰ… اختر جہلم… ضمیر سرائے عالمگیر… اشفاق پھالیہ… اختر کوٹ مومن… راحیل ڈھڈھیال… سرفراز کوٹلہ… فرید وزیر آباد…”
،یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گیا۔ زافیر نے تمام نام ذہن نشین کر لیے، پھر مزید جاننا چاہا
“اس کے علاوہ…؟”

م…م… مجھے… ن… نہیں… پتا۔” اللہ رکھا کی آواز مدہم اور ٹوٹی ہوئی تھی۔”

زافیر کچھ لمحے اسے گھورتا رہا پھر خاموشی سے اُٹھا۔ ٹرے سے تیز خنجر اٹھایا اور اس کے گلے پر پھیر دیا۔ گردن سے خون کا فوارہ نکلا، وہ ذرا سا پھڑپھڑایا… پھر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔

°°°°°°°°°°

زافیر بنا چاپ کیے بنگلے سے باہر نکلا۔ رات کی تاریکی دم توڑ چکی تھی اور مشرق کی سمت ہلکی سی سنہری روشنی ابھرنے لگی تھی۔ فضا میں ہر طرف پرندوں کے چہچہانے کی آوازیں تھیں۔ وہ ویگو ڈالے میں بیٹھا اور گاڑی شہر کی طرف موڑ دی۔

کچھ ہی دیر میں وہ سبزی منڈی پہنچ گیا۔ یہاں زندگی جاگ چکی تھی۔ بیوپاریوں کی آوازیں، پھلوں کی خوشبو اور تازہ سبزیوں کی بہار نے ماحول کو یکسر بدل دیا تھا۔ زافیر نے چپ چاپ ایک گٹھری سبزیاں خریدیں اور آگے بڑھ کر قصائی کی دکان پر رُک گیا۔ دکان کے باہر دو سالم بکرے لٹک رہے تھے… زافیر نے وہ دونوں خریدے اور گاڑی میں رکھوا لیے۔

ضروری خریداری مکمل کرتے ہی وہ دوبارہ ویگو میں بیٹھا اور گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔ راستے میں، جب سورج کی پہلی کرنیں سڑک پر سنہری دھار کی صورت گریں، اچانک ایک خیال اس کے ذہن میں کوندا۔
اس نے گاڑی ایک کچی، سنسان سڑک پر ڈال دی۔

چند لمحوں میں وہ اُس مقام تک پہنچ گیا جہاں سڑک کے کنارے وہی بائیک پڑی تھی جو اس نے اجنبی لڑکی سے خریدی تھی، زنگ آلود، پرانی اور خستہ حال۔ جیسے برسوں سے کسی نے اسے اپنایا ہی نہ ہو۔ رات کو اندھیرے میں بائیک کی اس قدر خراب حالت نظر نہیں آئی تھی لیکن اب واضح تھے۔ زافیر کو خود پر ہی ہنسی آرہی تھی۔

،اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔ وہ آہستگی سے بولا
“…بہت ہی شاطر عورت تھی”
اس نے بائیک کو اٹھایا، ڈالے میں رکھا اور گاڑی کا رخ دوبارہ گھر کی طرف موڑ دیا۔
صبح کی روشنی تیز ہو رہی تھی لیکن زافیر کے ذہن میں ابھی تک رات کی تاریکیاں گونج رہی تھیں۔

°°°°°°°°°°

صبح ابھی پوری طرح روشن نہیں ہوئی تھی مگر ایان کے ڈیرے پر زندگی جاگ چکی تھی۔ آنگن میں بچوں کی ہنسی اور چیخ و پکار گونج رہی تھی۔ وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے شور مچا رہے تھے، کبھی کسی کھلونے کے پیچھے دوڑتے تو کبھی کسی بیگ میں ہاتھ ڈالنے کی ضد کرتے۔
اندر ایان اور اس کی بیوی سامان کی آخری پیکنگ میں مصروف تھے۔ باہر وین تیار کھڑی تھی، دروازہ کھلا تھا اور دو تین ملازم جلدی جلدی سامان گاڑی میں رکھ رہے تھے۔

سب کچھ منظم انداز میں ہو رہا تھا مگر فضا میں اک غیر مرئی سی بےچینی تیر رہی تھی۔
چند لمحوں بعد، بچوں کو وین میں بٹھا دیا گیا۔ ایان نے بیوی اور بچوں کے ماتھے چومے، مختصر دعاؤں میں انہیں رخصت کیا اور گاڑی ڈیرے سے روانہ ہو گئی۔

دروازہ بند ہوا تو ایان چند لمحوں تک وہیں برآمدے میں کھڑا رہا۔
اس کی آنکھوں میں اداسی گہری تھی… گویا کچھ قیمتی ہاتھ سے نکل چکا ہو۔ ابھی چند دن پہلے ہی تو بچے پاکستان آئے تھے اور اب… وقت گزرنے سے پہلے ہی رخصت کر دیے گئے تھے۔

اس کے دائیں جانب تھوڑے فاصلے پر اس کے دو خاص آدمی کھڑے تھے… سر جھکائے، سنجیدگی لیے، جیسے کوئی بڑا بوجھ دل پر لیے ہوئے ہوں۔

،ایان نے ان کی حالت پر نظر ڈالی، ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ لبوں پر آئی
“تمہارے چہرے تو صاف بتا رہے ہیں کہ ہمارے برے دن شروع ہو چکے ہیں۔ اب بولو… کیا مصیبت آ گئی ہے؟”

ایک آدمی نے بمشکل سر اٹھایا، نگاہ اب بھی جھکی ہوئی تھی،
“…خبر تو رات کو ہی آ گئی تھی، لیکن آپ کو تنگ کرنا مناسب نہیں سمجھا”

ایان کی آنکھوں میں سنجیدگی گہری ہو گئی۔
“کیسی خبر…؟”
وہ متجسس مگر محتاط لہجے میں بولا

“…اللہ رکھا کے ڈیرے پر حملہ ہوا ہے… سب مارے گئے”

ایان کے قدم ڈگمگا گئے۔ دل جیسے لمحے بھر کو بند ہو گیا ہو۔ وہ تیزی سے برآمدے میں پڑی کرسی کی طرف بڑھا اور بیٹھتے ہی پانی کی بوتل اٹھائی۔
ہاتھ کانپ رہے تھے، بوتل لبوں سے لگا کر اس نے ایک ہی سانس میں آدھا پانی پی لیا۔ پھر آنکھیں بند کر کے گہری سانس لی۔
یہ خبر محض ایک حادثہ نہیں تھی، یہ اس کے لیے شدید دھچکا تھا۔ قریب آتی موت کا اشارہ تھا۔

،اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے، ایان نے نیم شکستہ آواز میں پوچھا
“کتنے لوگ مارے گئے؟ اور… کیا رکھا بھی مارا گیا؟”

“اللہ رکھا اور حبیب غائب ہیں، ان کی کوئی خبر نہیں۔ باقی چھبیس آدمی مارے جا چکے ہیں۔ حملہ منظم تھا، نہ کوئی گواہ بچا اور نہ ہی کوئی ثبوت۔”

ایان نے کرسی سے ٹیک لگائی، آنکھیں بند کیں جیسے پورا منظر ذہن میں دہرا رہا ہو۔ کچھ دیر وہ یوں ہی رہا، پھر آہستگی سے آنکھیں کھولیں اور دھیمی مگر تلخ آواز میں بولا،
“پولیس کو زافیر کے پیچھے لگا دو۔”

،ایک آدمی نے چونکتے ہوئے فوراً کہا
“لیکن سر… بغیر ثبوت کے یہ کیسے ممکن ہوگا؟”

،ایان نے سخت لہجے میں جواب دیا
“…اللہ رکھا نے بتایا تھا کہ وہ زافیر کے گھر جا رہا ہے اور روانگی سے پہلے آزلان کو کال بھی کی تھی۔ اسی کو بنیاد بناؤ۔ انسپکٹر سے کہو کہ اگر ثبوت نہیں ہیں تو پیدا کرو… زافیر کے گھر میں”

“سمجھ گیا، باس۔”
آدمی نے آہستگی سے سر ہلایا۔

،ایان نے کرسی کے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
“تھوڑی دیر بیٹھو۔ پہلے مکمل منصوبہ بندی کرتے ہیں، اس کے بعد ہی کوئی قدم اٹھائیں گے۔”

دونوں آدمی خاموشی سے کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ فضا اب مزید سنجیدہ ہو چکی تھی جیسے کسی بڑی جنگ کی تیاری ہو رہی ہو۔

°°°°°°°°°°

زافیر کے گھر میں آج غیر معمولی سی رونق تھی۔ وہ آرام دہ ٹراؤزر پہنے، ہلکے سے نیم دراز ایک صوفے پر بیٹھا کاجو چبا رہا تھا۔ اس کے ساتھ جُڑی ہوئی آبرو بیٹھی تھی، جس کی چھوٹی انگلیاں اس کے مہنگے موبائل پر رینگ رہی تھیں۔ وہ “سب وے سرفر” کھیل رہی تھی۔ آنکھوں میں معصومیت اور چہرے پر بےفکری کی چمک۔

سامنے، دائیں طرف آزلان بیٹھا تھا۔ اس کے ساتھ ہی مومنہ خاتون، آزلان کی والدہ، اپنے مخصوص متانت بھرے انداز میں موجود تھیں۔ دوسرے صوفے پر ان کے وکیل، ایڈووکیٹ عمر فاروق، سلیقے سے کالے کوٹ پینٹ میں ملبوس، اپنے مخصوص باوقار انداز میں بیٹھے تھے۔ ان کے چہرے پر پیشہ ورانہ اعتماد تھا جبکہ آزلان کی نگاہوں میں الجھنوں کی لکیریں تھیں۔ مگر وہ خاموش رہا جیسے سوچوں کی گرفت میں ہو۔

،زافیر نے نرمی سے ایک اور کاجو اٹھایا، دانتوں میں دبایا اور چباتے ہوئے پوچھا
“آپ کو کیا لگتا ہے، ہم یہ کیس جیت پائیں گے؟”
اس کی آواز میں اعتماد تھا۔

:ایڈووکیٹ عمر نے لب کھولنے ہی تھے کہ اچانک آبرو بےتابی سے بول پڑی
“اوہ ہو…! آپ ہِلے کیوں بابا؟”
اس کے لہجے میں بچوں جیسی خفگی تھی۔ زافیر کی معمولی جنبش نے گیم کا کردار ٹرین سے ٹکرا دیا تھا اور آبرو کی مسکراہٹ ایک لمحے کو بگڑ گئی۔

کمرے میں موجود سب افراد کے چہروں پر بےساختہ مسکراہٹ پھیل گئی۔
زافیر نے شفقت سے آبرو کو اپنے ساتھ لگایا، اس کے سر پر نرمی سے بوسہ دیا اور واپس ایڈووکیٹ عمر کی طرف متوجہ ہوگیا۔ آبرو ایک بار پھر گیم کی دنیا میں کھو گئی۔

،ایڈووکیٹ عمر نے سنجیدگی سے بات کا آغاز کیا
زافیر صاحب، دیوانی مقدمات میں عدالتی کارروائیاں عموماً طویل ہو جاتی ہیں۔ جج حضرات بھی اکثر جان بوجھ کر وقت دیتے ہیں تاکہ دونوں فریقین کسی مفاہمت پر آ جائیں۔ “

” …اگر فوری فیصلہ دیا جائے تو اکثر دوسرا فریق ردِعمل میں خطرناک حدتک جا سکتا ہے۔ اسی لیے

ابھی اس کا جملہ مکمل نہیں ہوا تھا کہ اچانک باہر سے سائرن کی تیز آوازیں سنائی دینے لگیں۔
پولیس کی گاڑیوں کی آواز جیسے فضا کو چیر رہی تھی۔
آزلان اور ایڈووکیٹ عمر چونک اٹھے۔ مومنہ خاتون بھی گھبرا گئیں مگر زافیر کے چہرے پر سکون کی ایک پُراسرار تہہ قائم رہی۔

اس نے فوراً موبائل آبرو سے لیا، مخصوص ایپ کھولی اور اسکرین پر موجود ایک آئیکن پر کلک کیا۔ یہ آئیکن مرکزی گیٹ کو آن لائن طریقے سے کھولنے کے لیے تھا۔ گیٹ کا آہنی شور اندر تک سنائی دیا۔

“میرا خیال ہے، ہمیں خود باہر جا کر پولیس سے بات کرنی چاہیے۔”
زافیر نے نرمی سے کہا اور اپنی نشست سے اٹھ کھڑا ہوا۔

آزلان اور ایڈووکیٹ عمر بھی خاموشی سے اس کی پیروی کرتے ہوئے اٹھ گئے۔

،زافیر نے آبرو کی طرف جھکتے ہوئے کہا
“بیٹا، تم یہیں آنٹی کے پاس بیٹھو… ہم بس پانچ منٹ میں آتے ہیں۔”
اس نے موبائل دوبارہ اس کے ہاتھ میں تھمایا اور گھر کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔

جب تک وہ باہر پہنچے، تین پولیس کی گاڑیاں پہلے ہی پارکنگ ایریا میں داخل ہو چکی تھیں۔ ان گاڑیوں سے انسپکٹر، محرر اور اکیس دیگر پولیس اہلکار ترتیب سے اتر چکے تھے۔ ان کے چہروں پر سنجیدگی اور حرکات میں نظم و ضبط نمایاں تھا۔ جیسے وہ کسی بڑی کارروائی کے لیے آئے ہوں۔

گاڑی سے اترتے ہی انسپکٹر تیز قدموں سے بنگلے کی طرف بڑھا۔ اس کے چہرے پر سختی اور مصنوعی جلال صاف جھلک رہا تھا۔ لیکن جیسے ہی اس کی نگاہ ایڈووکیٹ عمر فاروق پر پڑی، اس کے قدم دھیمے ہو گئے۔ چہرے کا تناؤ لمحوں میں نرمی میں بدل گیا اور لبوں پر مصنوعی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
“ارے عمر صاحب…! آپ یہاں؟”
اس نے بظاہر خوشگوار لہجے میں کہا۔

،ایڈووکیٹ عمر فاروق نے ہلکی سی مسکان کے ساتھ مصافحہ کیا اور جواب دیا
“بس، زافیر صاحب سے ایک اہم کیس پر بات کرنی تھی۔ اسی مقصد سے آیا تھا۔”
پھر اس کی نگاہیں بنگلے کے سامنے قطار میں کھڑے اسلحہ بردار سپاہیوں پر جا ٹکیں۔ ماتھے پر ہلکی سی شکن پڑ گئی۔
“لیکن… آپ تو پورا تھانہ ہی اٹھا لائے؟”
وکیل کا لہجہ شائستہ تھا مگر سوال میں چھپی حیرانی نمایاں تھی۔

زافیر اور آزلان خاموشی سے عقب میں کھڑے تھے۔ ایڈووکیٹ کی موجودگی میں دونوں نے لبوں پر مہر لگانا ہی مناسب جانا۔
،انسپکٹر نے فوراً محرر کو آنکھ سے اشارہ کیا جو فوراً گاڑی کی طرف لوٹ گیا۔ پھر انسپکٹر، عمر فاروق کی طرف مڑا اور پیشہ ورانہ انداز میں گویا ہوا
“آپ کو تو معلوم ہی ہوگا کہ آج رات اللہ رکھا کے ڈیرے پر حملہ ہوا۔ گولیاں چلتی رہیں، پورا علاقہ خوف کے سائے میں ڈوب گیا۔”

“جی، وہ سب سنا ہے۔ لیکن آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟”
عمر فاروق نے لہجہ نرم مگر بارعب رکھا۔

“افسران بالا کا سخت دباؤ ہے۔ ہمیں ہر مشکوک فرد کو حراست میں لینے اور ان کے گھروں کی تلاشی لینے کا حکم ہے۔”

“اور یہاں آپ کو مشکوک کون لگ رہا ہے؟”
،ایڈووکیٹ نے فوراً سوال داغا

،انسپکٹر نے گہرا سانس لیا اور اعتماد سے جواب دیا
“اللہ رکھا کے فون کی کال ڈیٹیلز حاصل کی گئی ہیں۔ کل ایک کال آزلان کو بھی کی گئی تھی اور ہمیں اطلاع ہے کہ وہ کل یہاں بھی آیا تھا۔”

اتنے میں محرر دو کاغذات تھامے واپس آیا۔ ایک سرچ وارنٹ اور دوسرا، آزلان کے وارنٹ گرفتاری۔

،ایڈووکیٹ نے سکون سے وہ کاغذات تھامے، ایک نظر ڈالی اور پھر زافیر کی طرف سوالیہ نگاہ سے دیکھا
“کیا واقعی اللہ رکھا کل یہاں آیا تھا؟”

:زافیر نے فوراً سر نفی میں ہلایا
“نہیں۔ وہ یہاں نہیں آیا۔”

،یہ سن کر عمر فاروق کی نگاہیں انسپکٹر پر جم گئیں۔ اب کی بار اس کی آواز میں قانونی سختی نمایاں تھی
،سُن لیا آپ نے؟ اگر اس کے باوجود تلاشی لینا ضروری ہے تو ہماری کچھ شرائط ہیں”
اوّل، بنگلے کے اندر صرف تین ملازمین داخل ہوں گے اور ان کی مکمل تلاشی ہم خود لیں گے۔
دوئم، میں اور زافیر پوری تلاشی کے دوران آپ کے ساتھ ہوں گے اور اس تمام کارروائی کی ویڈیو ریکارڈنگ ہوگی۔
سوئم، اگر دورانِ تلاشی کسی قسم کی توڑ پھوڑ یا غیر قانونی حرکت ہوئی تو آپ کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
اگر یہ شرائط قبول نہیں، تو ہم اس سرچ وارنٹ کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔
CrPC 103 اور PPC 166اگر آپ نے شرائط ماننے کے باوجود خلاف ورزی کی تو آپ کے خلاف

“کے تحت کارروائی ہوگی۔ اور مجھے یقین ہے، آپ اس کے نتائج بخوبی جانتے ہیں۔

انسپکٹر کے چہرے کی مسکراہٹ پھیکی پڑ چکی تھی۔ اس کی نگاہوں میں ناگواری کا سایہ ابھر آیا لیکن عمر فاروق جیسے سینئر وکیل سے الجھنا اُس کے بس سے باہر تھا۔
تھوڑی دیر کی خاموش کشمکش کے بعد، انسپکٹر نے دو سپاہیوں کو چن لیا۔ اپنے ہتھیار اور موبائل باقی ساتھیوں کے حوالے کیے اور خود تلاشی کے لیے آگے بڑھ آیا۔

،عمر فاروق نے آزلان کی طرف اشارہ کیا۔ آزلان نے آگے بڑھ کر پولیس اہلکاروں کی مکمل تلاشی لی۔ تلاشی مکمل ہونے کے بعد انسپکٹر نرمی سے بولا
“ہم یہاں کسی بدنیتی سے نہیں آئے۔ بس کمروں کی سرسری تلاشی اور پچھلے چار دن کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنی ہے۔”

سی سی ٹی وی کا ذکر سنتے ہی آزلان کے دل میں ایک لہر سی دوڑ گئی مگر اُس نے فوراً اپنے چہرے کے تاثرات سنبھال لیے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

تلاشی کی رسمی کارروائی مکمل ہوئی تو انسپکٹر اپنے دو اہلکاروں سمیت بنگلے کی طرف بڑھا۔
ایڈووکیٹ عمر فاروق نے آزلان کو وہیں رکنے کا اشارہ کیا، موبائل سے ویڈیو کیمرہ آن کیا اور ان کے پیچھے چل پڑا۔ زافیر نے بھی پُرسکون قدموں سے ان کا ساتھ دیا۔

°°°°°°°°°°

انسپکٹر بنگلے کے ہر کمرے میں داخل ہو کر ایک ایک گوشہ تسلی سے جانچ رہا تھا۔ وہ ہر کمرے کو محض سرسری نظر سے نہیں بلکہ محتاط نگاہ سے دیکھ رہا تھا جیسے کسی پوشیدہ راز کو کھوجنے نکلا ہو۔ اگر کوئی دراز یا الماری کھولنے کی ضرورت پیش آتی تو خود ہاتھ لگانے کے بجائے زافیر کو کہتا۔

تمام کمروں کی تلاشی مکمل کرنے کے بعد وہ سیکیورٹی روم میں لگے سی سی ٹی وی مانیٹر کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
چار دن کی مخصوص وقت کی فوٹیج درکار ہے۔” اس نے قدرے سخت لہجے میں کہا۔”

زافیر نے بغیر کسی تردد کے سکرین پر مطلوبہ ریکارڈنگ چلانا شروع کر دی۔
انسپکٹر کو ایان کی طرف سے جو اطلاع ملی تھی، اس کے مطابق ایک رات پہلے بیس مسلح افراد زافیر کے گھر داخل ہوئے تھے اور پھر اچانک ہی غائب ہو گئے تھے۔ اسی دن اللہ رکھا کی بھی یہاں آمد کی خبر دی گئی تھی۔

…مگر
فوٹیج میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ نہ حملہ آوروں کی کوئی جھلک، نہ اللہ رکھا کا آنا جانا۔ ہر منظر پُرسکون اور صاف تھا۔
آج رات کی ویڈیو میں، مرکزی ہال کے اندر کا واضح منظر دکھائی دے رہا تھا کہ زافیر گیارہ بجے تک ہال میں بیٹھا رہا، پھر اپنے کمرے میں چلا گیا۔
بیڈ روم کا واحد دروازہ صرف ہال میں کھلتا تھا۔ وہاں سے باہر نکلنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔
اگلی صبح کی ویڈیو میں وہ کمرے سے باہر آتا دکھائی دیا اور پھر اپنی گاڑی میں سوار ہو کر روانہ ہو گیا۔

انسپکٹر نے زافیر کی طرف سوالیہ نگاہ سے دیکھا،
“صبح کہاں گئے تھے؟”

“گھر کے لیے سبزیاں اور گوشت لینے گیا تھا۔” زافیر نے مختصر اور واضح جواب دیا۔

،انسپکٹر نے اثبات میں سر ہلایا اور نرم لہجے میں بولا
“معذرت چاہتا ہوں… ہم بھی نظام کا حصہ ہیں۔ احکامات پر عمل کرنا ہماری مجبوری ہے۔ اگر آپ کو کسی بھی قسم کی زحمت ہوئی ہو تو میں تہہ دل سے معذرت خواہ ہوں۔”

ایڈووکیٹ عمر فاروق کے لبوں پر ہلکی سی فاتحانہ مسکان ابھری۔
،اس نے شائستگی سے جواب دیا
“ارے نہیں جناب…! آپ جیسے فرض شناس افسران ہی ہیں جن کی وجہ سے قانون کا وقار قائم ہے۔ آپ کے ساتھ تعاون ہمارا اخلاقی فریضہ ہے۔”

انسپکٹر کے چہرے پر تعریف سن کر اطمینان کا ہلکا سا رنگ دوڑ گیا۔
،بنگلے کے بیرونی دروازے کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا
“تو عمر صاحب…! اب اس اریسٹ وارنٹ کا کیا کرنا ہے؟”

،عمر فاروق نے نرم مگر نپے تُلے لہجے میں کہا
“مجھے یقین ہے کہ آپ کے تمام شکوک رفع ہو چکے ہوں گے۔ آپ اپنے افسران کو مطمئن کر سکتے ہیں۔ اور اگر آئندہ بھی کوئی سوال اٹھے تو بے فکر رہیے گا، میں خود آزلان کو تھانے لے آؤں گا۔”

جی بہتر ہے۔” انسپکٹر نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔”

،اب عمر فاروق ایک قدم آگے بڑھا، انسپکٹر کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے مسکرا کر بولا
“اور ہاں، ان بےچارے سپاہیوں کو خالی پیٹ مت واپس لے جائیے گا۔ راستے میں کسی ہوٹل سے اچھا سا لنچ کروا دیجیے گا اور ہماری بھابھی کے لیے دو چار اچھے جوڑے بھی لیتے جائیے گا۔ جتنا بل بنے، زافیر صاحب ادا کر دیں گے۔”

انسپکٹر کے چہرے پر چمکتی ہوئی مسکراہٹ آ گئی۔
“…ارے عمر صاحب…! اس کی کیا ضرورت ہے”

“کیوں نہیں جناب…؟ آگے بھی آپ سے کام پڑ سکتا ہے۔ ویسے بھی آپ ہمارے گھر تشریف لائے تو کچھ خاطر تواضع اور تحفے دینا ہمارا حق بنتا ہے۔”

انسپکٹر مسکرا کر آگے بڑھ گیا، وہ آزلان اور باقی اہلکاروں کے قریب پہنچنے ہی والا تھا کہ اچانک اُس کی نظر بائیں جانب کی دیوار پر پڑی۔ وہ چند لمحے ٹھٹھکا پھر گردن گھما کر دیوار کے پار جھانکنے لگا۔
کچھ لمحے اسے بغور دیکھتے رہنے کے بعد وہ چونکا اور زافیر کی طرف مڑ کر کہا،
“مجھے لگتا ہے ہم نے گھر کے اس حصے کو چیک نہیں کیا۔”
یہ کہہ کر وہ اس سمت قدم بڑھانے لگا۔

جس حصے کی طرف وہ جا رہا تھا، وہ دراصل ذبح گاہ تھی… ایک الگ تھلگ حویلی کی شکل میں۔
اس طرف کوئی سی سی ٹی وی کیمرہ نصب نہیں تھا۔ اگر وہ وہاں داخل ہو جاتا تو لازماً ذبح خانے تک بھی جانا چاہتا اور قانونی طور پر موجود سرچ وارنٹ کے تحت اسے روکنا ممکن نہیں ہوتا۔

یہی سوچ تھی جس نے آزلان کے چہرے کا رنگ اُڑا دیا۔
ماتھے پر ٹھنڈے پسینے کے قطرے چمکنے لگے۔
زافیر بھی سنجیدہ ہو گیا لیکن اُس کے چہرے پر جذبات کی کوئی جھلک تک دکھائی نہیں دی۔ وہ اپنے جذبات کو چھپانے کا فن خوب جانتا تھا۔
…آزلان کو اب بخوبی احساس ہو چکا تھا کہ حالات ہاتھ سے نکلنے کو ہیں
اور وہ ایک بہت بڑی مصیبت کے دہانے پر کھڑے ہیں۔

°°°°°°°°°°

جاری ہے۔۔۔۔