ناول درندہ
قسط نمبر 15
باب دوّم: انتقام
مصنف: زیاد اصغر زارون
°°°°°°°°°°
انسپکٹر جیسے ہی ذبح گاہ کے دروازے پر پہنچا، زافیر نے فنگر پرنٹ سینسر پر ہاتھ رکھا۔ ایک ہلکی سی “بیپ” کے ساتھ دروازہ کھل گیا۔
جیسے ہی انسپکٹر اندر داخل ہوا، اس کی نظریں کمرے کی غیرمعمولی ساخت پر جم گئیں۔ پورے کمرے… حتیٰ کہ دروازے کی دیواروں پر نرم تھرماپول کی تہہ چڑھائی گئی تھی، جس پر سیاہ مخملی کپڑا اس طرح تنا ہوا تھا جیسے کسی اسٹیج کا پردہ ہو۔ کمرے میں تیز روشنی پھیل رہی تھی جو ہر منظر اور ہر شے کو واضح بنا رہی تھی۔
چِلر کے اندر سبزیاں اور پھل انتہائی سلیقے سے رکھے گئے تھے، ہر چیز ترتیب میں اور صاف ستھری تھی۔ فریج کھولنے پر دو مکمل سالم بکرے دکھائی دیے، جو خون آلود نہیں تھے بلکہ گویا کسی فائیو سٹار ہوٹل کے لیے تیار کیے گئے ہوں۔
انسپکٹر نے چند لمحے فریج کو دیکھا پھر خاموشی سے کیچن کا ہر کونا جانچا۔ اس کی نظروں میں پیشہ ورانہ تفتیش کی چمک تھی مگر زافیر کا چہرہ بےحد پُرسکون اور بےتاثر رہا۔
،پھر اچانک اس کی نظر ایک مضبوط لوہے کے دروازے پر پڑی۔ وہ تھوڑا سا چونکا اور پھر آہستگی سے پوچھا
“یہ دروازہ کھولو۔”
زافیر نے بنا کسی ہچکچاہٹ کے دروازے کی کنڈی کھولی۔ دروازہ چرچراتے ہوئے کھلا اور اندر کا منظر سامنے آ گیا۔
یہ ایک بھٹی کا کمرہ تھا، ایک خاص ساخت کا۔ جس کی تینوں دیواروں پر درجنوں چھوٹی چھوٹی گیس کی نوزلز لگی ہوئی تھیں۔ دیواریں سیاہی مائل تھیں، گویا انہیں جان بوجھ کر سیاہ رکھا گیا ہو تاکہ اندر روشنی بھی دب کر رہے اور گرمی بھی محفوظ رہے۔
،انسپکٹر نے قدم اندر رکھنے سے پہلے ہی پوچھا
“یہ کیا چیز ہے…؟”
،زافیر نے وہی دھیمہ اور شفاف لہجہ برقرار رکھتے ہوئے بتایا
“جی… یہ ایک بھٹی ہے۔ بعض اوقات جب وقت ملے تو یہاں کیک یا بسکٹ بنانے کا شوق پورا کرتا ہوں۔”
،انسپکٹر نے گردن ہلائی۔ کچھ لمحے دیواروں، نوزلز اور زمین پر رکھی چند خالی ٹرے کو غور سے دیکھا پھر ہلکے تبسم کے ساتھ بولا
“کمرے کی سجاوٹ خاصی انوکھی ہے۔ مجھے کافی دلچسپ لگا یہ انتظام۔”
،زافیر کے لبوں پر شوخ سی مسکراہٹ ابھری۔ وہ ایک قدم آگے بڑھا اور مزاحیہ سنجیدگی کے امتزاج سے بولا
“پھر تو آپ کو کسی روز دعوت دینی ہی پڑے گی… یہاں کیک بھی بنائیں گے، بھٹی بھی جلائیں گے، اور جی بھر کر گپ شپ کریں گے۔ خود اپنے ہاتھوں سے آپ کی مہمان نوازی کروں گا۔”
،انسپکٹر نے ہلکا سا قہقہہ لگایا اور کہا
“کیوں نہیں… وقت ملا تو ضرور آؤں گا۔”
اس کے ساتھ ہی وہ دروازے کی طرف مڑا اور آہستہ آہستہ باہر کی سمت چل پڑا۔ باقی تمام افراد بھی خاموشی سے اس کے پیچھے چل دیے۔
…لیکن
وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ جس آدمی کی دعوت پر وہ مسکرا رہا تھا، وہ دراصل انسانوں کا شکاری تھا۔
اور جس بھٹی کا معائنہ وہ کر کے جا رہا تھا، وہ کیک اور بسکٹ کے لیے نہیں بلکہ انسانی ہڈیوں کو جلانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
°°°°°°°°°°
آزلان باقی سپاہیوں کے ساتھ وہیں کھڑا تھا۔ اگرچہ اس کے چہرے پر ہلکی سی گھبراہٹ تھی لیکن وہ مکمل طور پر حواس باختہ نہیں ہوا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ گھبراہٹ کا مطلب کمزوری ظاہر کرنا ہے اور کمزوری یہاں خطرناک ثابت ہو سکتی تھی۔
اس نے خود کو سنبھال رکھا تھا، اپنے اندر کی بےچینی کو چھپا کر چہرے پر ایک محتاط سکون طاری کر رکھا تھا۔ وہ وقت سے پہلے مصیبت کو دعوت دینا نہیں چاہتا تھا۔
چند لمحوں بعد، زافیر اور انسپکٹر دیگر افراد کے ہمراہ واپس لوٹے۔ انسپکٹر کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی اور وہ ایڈووکیٹ عمر فاروق سے ہنسی مذاق اور دوستانہ گپ شپ میں مصروف نظر آیا۔
کوئی دیکھتا تو یہی سمجھتا کہ جیسے وہ محض رسمی کارروائی کے بعد خوشی خوشی رخصت ہو رہے ہوں۔ ان کے چہروں پر ایسا کوئی تاثر نہیں تھا جو یہ ظاہر کرتا ہو کہ ابھی ابھی وہ کسی غیر معمولی مقام یا صورتحال سے گزرے ہیں۔
انسپکٹر جیسے ہی سپاہیوں کے قریب پہنچا۔ واپس مڑتے ہوئے تینوں سے باری باری مصافحہ کیا، نرمی سے الوداع کہا اور پھر گاڑی میں بیٹھ گیا۔
اس کے فوراً بعد باقی سپاہی بھی خاموشی سے گاڑی میں سوار ہو گئے۔ گاڑی نے آہستہ آہستہ زافیر کے بنگلے کو پیچھے چھوڑنا شروع کر دیا۔
°°°°°°°°°°
ایڈووکیٹ عمر فاروق بھی جا چکا تھا۔ زافیر اور آزلان ذبح خانے میں خاموشی بیٹھے تھے۔ ذبح خانے کی فضا اب قدرے ساکت اور سنجیدہ ہو چکی تھی۔ زافیر ایک سیگریٹ کو ہونٹوں میں دبائے، دھوئیں کے گہرے کش لے رہا تھا۔ سامنے کرسی پر خاموش بیٹھا آزلان، بغور اُسے دیکھ رہا تھا۔ اُس کی نظریں جیسے زافیر کے چہرے پر چھپے راز پڑھنے کی کوشش کر رہی ہوں۔
،زافیر نے کچھ دیر تک آزلان کی نظریں نظر انداز کیں، مگر آخرکار خاموشی توڑتے ہوئے پوچھا
“کیا سوچ رہے ہو؟”
،آزلان کی نظریں بدستور گہری تھیں، مگر لہجہ ہلکا سا لرز رہا تھا
“اللہ رکھا کو آپ نے ہی مارا ہے، نا؟”
،زافیر نے پلکیں جھپکائیں، پھر نہایت سکون سے پلٹ کر سوال داغا
“تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے؟”
،آزلان کی آواز میں اب تھوڑی سختی تھی، جیسے وہ زافیر کو صرف دوست نہیں، ایک مشکوک ملزم کی نظر سے دیکھ رہا ہو
“آپ جانتے تھے کہ پولیس یہاں آئے گی۔ اُس سے پہلے ہی سب کچھ تیار تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج تبدیل ہو چکی تھی، ذبح خانہ ایک عام کیچن جیسا لگ رہا تھا۔ ہر چیز جیسے پہلے سے پلان کی گئی ہو۔”
،زافیر نے سیگریٹ زمین پر پھینکی، بوٹ سے اُسے مسلا، اور ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے بولا
“اللہ رکھا شروع سے ایان کے لیے کام کر رہا تھا۔ وہ ہم پر نظر رکھے ہوئے تھا اور ہر بات ایان تک پہنچاتا تھا۔”
:آزلان نے جھٹ سے پلٹ کر سوال داغا
“اور آپ کو ایسا کیوں لگا؟ جس کے لیے آپ نے اکیلے ہی اپنی زندگی خطرے میں ڈال دی۔ کیا آپ کے پاس کوئی پختہ ثبوت یا دلیل تھی۔”
،زافیر کے چہرے پر ایک عجیب سا اعتماد تھا، جیسے ہر بات کا ثبوت اُس کے سینے میں دفن ہو
“ثبوت میرے پاس سینکڑوں ہیں۔ مگر ہر ایک کو بیان کرنا محض وقت کا ضیاع ہے۔ میں اُسے گزشتہ رات یہیں لایا تھا۔ ایک ایک بات اُس سے اگلوا لی۔”
،آزلان نے چونک کر پوچھا
“جیسا کہ…؟”
زافیر کی نظریں اب سنجیدہ ہو چکی تھیں:
“ایان کا نیٹ ورک پنجاب بھر میں پھیلا ہوا ہے۔ اللہ رکھا نے اپنی موت کے بدلے چند نام بتا دیے… ایان کے خاص لوگ جو مختلف علاقوں میں کام کر رہے ہیں۔”
،آزلان نے فوراً موبائل نکالا، نوٹ پیڈ کھولتے ہوئے بولا
“بہتر ہے کہ ہم ان پر نظر رکھیں۔ ان کے نام بتائیں، میں ان کے بارے میں معلومات لیتا ہوں۔”
زافیر نے چند لمحے سوچا، پھر ٹھہر ٹھہر کر ایک ایک نام اور اُن کے مقام لکھوانے لگا۔ آزلان ہر نام کو پوری توجہ سے نوٹ کرتا جا رہا تھا۔
“تم نے اللہ رکھا پر بھروسہ کیا… اور اس نے ہمیں دھوکہ دیا۔ ہمارے گھروں پر حملے کروائے۔”
،زافیر کی آواز میں ٹھہراؤ تھا، جو ضبط کے پردوں سے چھن کر باہر آ رہا تھا۔ اُس نے آزلان کی آنکھوں میں گہری نظروں سے جھانکا، چند لمحوں تک خاموش رہا جیسے الفاظ چُنتے ہوئے سوچ رہا ہو، پھر آہستگی سے بولا
“…یاد رکھو آزلان
کبھی بھی غنڈوں اور بدمعاشوں پر بھروسہ مت کرنا۔ ایسے لوگ صرف استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ سب مفاد پرست ہوتے ہیں۔ ان کے خون میں وفا نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔”
،آزلان نے نرمی سے سر جھکایا اور دھیمے لہجے میں بولا
“اگر واقعی اللہ رکھا نے ہمیں دھوکہ دیا ہے… تو یہ میری غلطی تھی اور میں اپنی غلطی پر شرمندہ ہوں۔”
،زافیر کے چہرے پر ایک نرم مسکراہٹ ابھری۔ وہ دھیرے سے بولا
تم میرے چھوٹے بھائی ہو، آزلان۔ میرے لیے ایسے ہی عزیز ہو جیسے آبرو… میری جان ہے۔”
“یہ تمہارے سیکھنے کی عمر ہے، اپنی جان مت گنوانا۔ باقی ہر غلطی کی معافی ہے تمہیں۔
زافیر کے محبت بھرے لہجے نے آزلان کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیر دی۔ وہ آہستگی سے اُٹھا، زافیر کے قریب آیا، اس کا ہاتھ تھاما اور جھک کر ہاتھ کی پشت کو عقیدت سے چومتے ہوئے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔
،پھر اُس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا
“جانتے ہیں باس… مجھے کیا لگتا ہے؟”
زافیر خاموشی سے اسے دیکھتا رہا، جیسے وہ الفاظ کا انتظار کر رہا ہو۔
،آزلان کی آواز میں گہری اپنائیت تھی
دنیا میں کوئی بدصورت یا خوبصورت نہیں ہوتا۔”
“ہمیں جن سے محبت ہو جاتی ہے… ہماری آنکھیں انہیں مکمل خوبصورتی کا نمونہ سمجھتی ہیں۔
:وہ چند لمحے رُکا، پھر گویا ہوا
اور اس دنیا میں کوئی بھی انسان مکمل اچھا یا برا نہیں ہوتا۔”
…جو ہم پر مہربان ہو، وہ ہزار برائیوں کے باوجود ہمیں فرشتہ لگتا ہے
“اور جو ہم سے بدسلوکی کرے، وہ چاہے جتنا نیک ہو، ہمیں شیطان محسوس ہوتا ہے۔
،زافیر نے اس کے ہاتھ پر اپنا دوسرا ہاتھ رکھ دیا، اُس کے چہرے پر شفقت تھی، آواز میں نرمی تھی
“اور تمہیں کیا لگتا ہے؟ میں کیسا ہوں؟ اچھا… یا برا؟”
:آزلان چند لمحے سوچتا رہا، پھر شرارت سے مسکراتے ہوئے بولا
…معصوم لوگوں کے لیے آپ فرشتے کا دوسرا روپ ہیں”
!اور جو معاشرے کے ناسور ہیں، اُن کے لیے آپ… شیطان کا بھیانک چہرہ
،زافیر زیرِ لب مسکرایا، پھر گہری سانس لیتے ہوئے بولا
جانتے ہو آزلان… جب میں دوسری دنیا میں تھا، تو مجھے کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ میں معصوم لوگوں کو بھی مار رہا ہوں۔”
…میرے لیے انسان صرف ماس کا ذریعہ تھے
…لیکن جب آبرو کے لیے اپنے خاندان سے بغاوت کی، زخمی حالت میں مستقل طور پر اس دنیا میں داخل ہوا
تو ایک بوڑھے کسان نے میری جان بچائی۔ تین دن تک میری خدمت کی۔
تب پہلی بار مجھے احساس ہوا… کہ میں نجانے کتنے معصوموں کی جان لے چکا ہوں۔
“اور پہلی بار مجھے اپنے وجود سے نفرت ہونے لگی۔
زافیر کی آواز میں ایک عجیب تھکن تھی، جیسے برسوں کا بوجھ لفظوں میں اُتر آیا ہو۔
میں نے انسانی گوشت سے کنارہ کشی کی کوشش کی لیکن یہ نشہ ایسا ہے جو جان نہیں چھوڑتا۔”
میں شکار کرنا تو نہ چھوڑ سکا لیکن اتنی عقل ضرور آ گئی… کہ کس کا شکار کرنا ہے اور کس کی حفاظت۔
میں یہ بھی جانتا ہوں کہ میری اس دنیا میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
میں صرف آبرو کے لیے ہوں۔
…جب وہ جوان ہو جائے گی… اس کی شادی کر دوں گا
“پھر۔۔۔
زافیر کی آواز رُک گئی۔
،آزلان نے متجسس انداز میں پوچھا
“پھر کیا؟”
زافیر نے آسمان کی طرف دیکھا، ایک ٹھنڈی سانس لی اور کہا،
“پھر… میں اپنا وجود ہمیشہ کے لیے ختم کر دوں گا۔”
آزلان کا دل جیسے ایک لمحے کو تھم گیا ہو۔
،وہ نرمی سے، مگر مضبوط لہجے میں بولا
…اگر میں مر گیا، تو الگ بات ہے”
“لیکن میرے جیتے جی ایسا کبھی نہیں ہوگا۔
زافیر کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔
…تم جانتے ہو نا آزلان”
“میں جو ارادہ کر لوں… پھر اُسے پورا کر کے ہی دم لیتا ہوں۔
،آزلان کو اُس کی بات پر خفگی سی محسوس ہوئی۔ اُس نے موضوع بدلنا بہتر سمجھا
اب آگے کا لائحہ عمل کیا ہے؟”
“کیا میں مختلف جیلوں سے گینگسٹرز اور جرائم پیشہ افراد کو اکٹھا کرنا شروع کروں؟
زافیر کا چہرہ سنجیدہ ہوگیا۔
نہیں۔ ایسے لوگ قابلِ اعتماد نہیں۔”
ہم اللہ رکھا کو آزما چکے ہیں۔
،اب ہمیں ایسے لوگ چاہییں… جنہیں خریدنا ممکن نہ ہو
“جو پیسے کے لیے نہیں، مقصد کے لیے لڑیں۔
:آزلان نے حیرت سے پوچھا
“اور ایسے لوگ ہمیں کہاں سے ملیں گے؟”
زافیر کے لبوں پر اعتماد بھری مسکراہٹ پھیل گئی۔
فوج، کمانڈو فورس اور انٹیلیجنس کے ریٹائرڈ افراد۔”
انہوں نے زندگی میدانِ جنگ میں گزاری ہوتی ہے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد عام زندگی میں فِٹ نہیں ہو پاتے۔
…اگر ہم انہیں اچھا مقصد، مناسب گائیڈنس اور بہتر معاوضہ دیں
“تو یہ لوگ ہمارے لیے جان بھی داؤ پر لگا سکتے ہیں۔
:آزلان پُرجوش انداز میں بولا
میں آج سے ہی کام شروع کرتا ہوں۔”
“سب سے پہلے اپنی سیکیورٹی ٹیم تشکیل دیتے ہیں تاکہ ہم آزادی سے اپنا نیٹ ورک بنا سکیں۔
زافیر نے اثبات میں سر ہلایا۔
کل تک کم از کم دس قابلِ بھروسا گارڈز کا بندوبست کر لو۔”
“باقی معاملات ہم آہستہ آہستہ مکمل کریں گے۔
آزلان نے سر ہلایا۔
زافیر کی بات میں وزن تھا۔
وہ جان چکا تھا، وفادار اور تربیت یافتہ لوگ ہی اصل طاقت ہوتے ہیں۔
°°°°°°°°°°
اپنی سیکیورٹی اور خفیہ نیٹ ورک کی تشکیل کے لیے ایک ایک شخص کو تلاش کرنا گویا ریگستان میں سوئی ڈھونڈنے کے مترادف تھا۔ جہاں انہیں جسمانی طور پر تربیت یافتہ جنگجوؤں کی اشد ضرورت تھی وہیں قیادت کے قابل، حاضر دماغ اور وفادار ٹیم لیڈرز بھی درکار تھے۔ اسی مقصد کے تحت آزلان نے ریٹائرڈ بریگیڈیئرز حساس اداروں کے سابقہ افسران اور کمانڈو فورس کے ماہر کمانڈرز کی تلاش کا عمل شروع کر دیا تھا۔
یہ ایک نازک اور خطرناک مہم تھی کیونکہ ایسے افراد کو جمع کرنا جو ماضی میں ریاستی رازوں کے امین رہے ہوں، خود ریاستی اداروں کی نظروں میں آنے کا سبب بن سکتا تھا۔ مگر آزلان کو ایک سطح پر اطمینان تھا کہ ان کا مقصد مجرمانہ نہیں بلکہ اصلاحی تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر کبھی حالات بگڑ بھی گئے اور ریاستی ادارے ان کے خلاف حرکت میں آ گئے تو وہ نہ صرف اپنی پوزیشن واضح کر سکتے تھے بلکہ ضرورت پڑنے پر نیٹ ورک کو وقتی طور پر تحلیل کر کے اپنی پرانی زندگی میں واپس لوٹ جانا بھی ان کے لیے مشکل نہیں ہوگا۔
زافیر نے اسی سوچ کے تحت فوری اقدامات اٹھائے۔ پہلے ہی روز اپنے ذرائع استعمال کرتے ہوئے کمانڈر زید تک پہنچ گیا۔ اس کی وساطت سے وہ کمانڈو فورس کے دس قابل اعتماد اور جنگی مہارت رکھنے والے سپاہی اپنی ذاتی سیکیورٹی کے لیے حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔ اب انہوں نے ہمانڈر زید کے ساتھ ایک اہم میٹنگ رکھی تھی۔ زافیر کی منصوبہ بندی نہایت منظم تھی۔ اس کا ارادہ تھا کہ اعلیٰ سطح کے ہر افسر کے تحت بیس سے پچیس افراد پر مشتمل ایک الگ ٹیم تشکیل دی جائے تاکہ ضرورت کے وقت ہر ٹیم خود کفیل اور ذمہ دار ہو۔
دوسری طرف، اللہ رکھا کے اچانک غائب ہو جانے سے ایان کو زبردست جھٹکا لگا تھا۔ اُس کی نگرانی کا نظام تقریباً مفلوج ہو چکا تھا۔ جس کی بدولت زافیر اور آزلان کی حرکات پر نظر رکھنا اب اس کے لیے تقریباً ناممکن ہو گیا تھا۔ ایان یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ زافیر اب محض ایک تنہا شکاری نہیں بلکہ سابقہ فوجی و خفیہ ایجنسیوں کے افسران پر مشتمل ایک منظم فورس کی بنیاد رکھ رہا ہے۔
ابھی تک ایان کو جو اطلاعات مل رہی تھیں، ان میں بس یہی ذکر تھا کہ زافیر نے چند گارڈ رکھ لیے ہیں۔ وہ انہیں عام غنڈے یا پرائیویٹ باڈی گارڈ سمجھ کر نظر انداز کر رہا تھا۔ اسی خوش فہمی میں مبتلا ہو کر وہ ابھی تک پُرسکون تھا۔ اُسے ذرا سا بھی اندازہ نہیں تھا کہ اگر یہ نیٹ ورک مکمل طور پر فعال ہو گیا تو اس کی بقا کے امکانات صفر ہو جائیں گے۔ اگر اسے یہ خبر ہو جاتی کہ زافیر اب معمولی شکار نہیں بلکہ خفیہ تربیت یافتہ جنگجوؤں کا سالار بن رہا ہے… تو شاید وہ ملک چھوڑنے میں بھی دیر نہ لگاتا۔
°°°°°°°°°°
زافیر نے تین دن قبل اللہ رکھا کے ڈیرے پر حملہ کیا تھا اور اب اُس کے پاس ایک مکمل تربیت یافتہ سیکیورٹی ٹیم موجود تھی۔ رات کو ان کی رہائش کے لیے آزلان کا بنگلہ مخصوص کر دیا گیا تھا۔
زافیر اکثر دیر سے بیدار ہونے کا عادی تھا مگر آج خلافِ معمول صبح سویرے ہی اس کی آنکھ کھل گئی۔ جیسے کسی انجانے خیال نے اسے جھنجھوڑ دیا ہو۔ وہ بستر سے اٹھا، کمرے سے باہر نکلا اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا صحن عبور کر کے ذبح خانے کی حویلی کی طرف بڑھ گیا۔ سرد ہوا کی سرسراہٹ اور صبح کے ہلکے سائے ماحول کو مزید پراسرار بنا رہے تھے۔
ذبح خانے میں داخل ہو کر اُس نے دروازہ بند کیا پھر جیب سے موبائل نکالا، فنگر پرنٹ سے لاک کھولا اور ایک مخصوص ایپلیکیشن کھول لی جو پورے بنگلے کے سسٹمز کو کنٹرول کرتی تھی۔ سکرین پر مختلف آئیکنز جگمگا رہے تھے۔ زافیر نے انگلی سکرول کرتے ہوئے نیچے کی طرف سرکائی، پھر ایک مخصوص آئیکن Basement کو منتخب کیا۔
ایک نیا انٹرفیس کھلا۔ پانچ واضح آپشنز سامنے تھے,
Enter
Exit
Outer Entry
Outer Exit
Emergency Exit
زافیر نے Enter پر انگلی رکھی پھر موبائل واپس جیب میں ڈال دیا۔ چند ہی لمحوں بعد ذبح خانے کا فرش دھیرے دھیرے نیچے سرکنے لگا جیسے یہ کوئی خفیہ لفٹ ہو اور آخرکار تہہ خانے کے فرش کے برابر آ کر رک گیا۔ اسی لمحے بیسمنٹ کی تمام روشنیاں جھپک کر جل اٹھیں اور ایک وسیع و عریض خفیہ دنیا منظر پر اُبھر آئی۔
یہ بیسمنٹ اتنا بڑا تھا کہ اگر چاہا جاتا تو چالیس گاڑیاں با آسانی ترتیب سے کھڑی کی جا سکتی تھیں۔ ہر دیوار پر ترتیب سے لگے جدید و قدیم ہتھیار چمک رہے تھے، گویا جنگ کے لیے کسی خاص لمحے کے منتظر ہوں۔ مگر زافیر کی نگاہیں ان ہتھیاروں پر نہیں تھیں۔ وہ کسی اور چیز کے تعاقب میں تھا، ایک بائیک… پرانی، شکستہ اور بے قیمت سی نظر آنے والی ایک بائیک۔
زافیر نے قدم آگے بڑھائے، بائیک کے قریب جا کر اسے تھاما اور پھر دھیرے دھیرے اسے گھسیٹتے ہوئے واپس ذبح خانے کی لفٹ نما سطح پر لے آیا۔
کے آئیکن کو ٹچ کیا۔ فرش دوبارہ اوپر کی طرف بلند ہونے لگااور جیسے جیسے وہ Exit اس کے بعد اس نے دوبارہ موبائل نکالا اور
اوپر جا رہا تھا
زافیر کی آنکھوں میں ایک گہری سنجیدگی اترتی جا رہی تھی۔
°°°°°°°°°°
زافیر سادہ سی سفید شلوار قمیض پہنے اپنے ویگو ڈالے میں کچی سڑک پر دھیرے دھیرے رواں دواں تھا۔ گرمی کی ہلکی نمی، زمین پر اڑتی گرد اور شام کے سنہری سائے ماحول میں ایک غیر مرئی سنسنی پھیلا رہے تھے۔ کچھ دیر بعد وہ اسی مقام پر پہنچا جو رات کے وقت اس کے ذہن پر نقش ہو چکا تھا۔ وہی بنا پلستر کی دیواروں والا، اجاڑ سا مکان جس کے گرد جھاڑیوں کی خاردار باڑ لگی تھی۔
اس نے گاڑی آہستگی سے پیچھے موڑی اور ایک ایسے زاویے پر کھڑی کی، جہاں مکان سے اس کی موجودگی کا اندازہ نہ لگایا جا سکے۔ پھر وہ دروازہ کھول کر اترا اور ڈالے میں رکھی بائیک بغیر کسی دقّت کے زمین پر اُتار لی۔ وہ ایک معمولی انسان نہیں تھا، متوازی دنیا کا ایک ایسا آدم خور، جس کے لیے لوہے کی بائیک بھی پر کی طرح ہلکی تھی۔
بائیک اسٹارٹ ہونے کے قابل تو نہیں تھی لیکن وہ اسے ہاتھوں سے دھکیلتا ہوا گھر کے دروازے تک لے آیا۔ صحن کی کچی زمین پر چند قدم بائیک کو آگے بڑھا کر روکا۔ کمرے کا دروازہ نیم وا تھا مگر باہر کوئی دکھائی نہیں دیا۔ زافیر نے کچھ لمحے انتظار کیا، پھر قدرے بلند آواز میں پکارا،
“کیا گھر پر کوئی ہے؟”
چند لمحے بعد ایک لڑکی دروازے سے باہر آئی۔ اس نے دوپٹے سے سر ڈھانپ رکھا تھا۔ اس کی رنگت گندمی اور نقش عام سے تھے مگر اس کی سادگی میں ایک بے ساختہ کشش تھی۔ زافیر نے اسے دیکھا تو اسے کچھ اپنا پن سا لگا۔ وہ کوئی پری چہرہ حسینہ نہیں تھی لیکن اس کے چہرے میں ایک خاص چمک تھی جو دل میں اترتی چلی جاتی تھی۔
لڑکی نے بائیک کو دیکھا پھر زافیر کو اور ہلکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر پھیل گئی۔
،شرارتی انداز میں بولی
“اوہ آئیے، محترم چور صاحب… آج کیسے آنا ہوا؟”
،زافیر نے نرمی مگر سنجیدگی سے جواب دیا
“میں بائیک واپس کرنے آیا ہوں۔”
یہ سن کر اس کے چہرے سے ہنسی غائب ہو گئی۔
زافیر کو نہ بائیک کی پروا تھی، نہ اس کی قیمت کی۔ وہ بائیک تو محض ایک بہانہ تھی، اس چالاک لڑکی سے ایک بار پھر ملنے کا بہانہ۔
“آپ کی بائیک مجھے بالکل پسند نہیں آئی۔ اُس رات بمشکل دو کلومیٹر چلی، اور بند ہوگئی۔ اندازہ ہے آپ کو، کتنی مشکل میں پڑا تھا میں؟”
اس بار لہجہ مصنوعی خفگی سے بھرا ہوا تھا۔
“لڑکی نے بے نیازی سے کندھے اچکائے، “تو میں کیا کرتی؟ چوروں کی طرح تم ہی گھسے تھے اندر۔ جب پکڑے گئے تو بائیک کے خریدار بن گئے۔
،زافیر نے بائیک کو سٹینڈ پر لگایا، چند قدم پیچھے ہٹا اور بولا
“بحث کا وقت نہیں ہے۔ آپ نے ناکارہ بائیک مجھے مہنگے داموں بیچی۔ میں اسے چھوڑ رہا ہوں اور تھانے جا کر آپ پر فراڈ کا پرچہ کٹوانے والا ہوں۔”
یہ کہہ کر وہ واپس مڑ گیا۔
،لڑکی جو ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ تھانے کچہری کے نام سے ہی کانپ گئی۔ وہ تیزی سے آگے بڑھی، نرم لہجے میں بولی
“رک جائیں… پلیز… میری بات تو سنیں۔”
،زافیر رکا، پلٹا اور لاپرواہ انداز میں بولا،
“جی، فرمائیے۔”
،وہ اب جھجکتے ہوئے بولی
“باتیں تو ہوتی رہیں گی، آپ اندر آئیں۔ کمرے میں بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔”
،زافیر نے نرمی مگر وقار سے انکار کیا
“نہیں، اگر کسی نے دیکھ لیا تو لوگ آپ کے بارے میں باتیں کریں گے۔ میں چند پیسوں کے لیے آپ کی عزت داؤ پر نہیں لگا سکتا۔”
لڑکی کے چہرے پر حیرت کے ساتھ خوشی کی ایک پرچھائی ابھری۔ یہ جان کر کہ وہ انسان عزت و غیرت کے اصولوں کا پابند ہے، دل کو عجیب سا اطمینان ہوا۔
“اگر میں اکیلی ہوتی تو کبھی نہ کہتی، اماں اندر ہی ہیں۔ آپ بے فکر ہو کر آئیے۔”
وہ کہتے ہوئے کمرے کی طرف پلٹ گئی۔
زافیر چند لمحے وہیں کھڑا سوچتا رہا پھر آہستگی سے قدم بڑھاتا ہوا گھر کے اندر داخل ہو گیا۔
ایک بوسیدہ سی چارپائی پر ایک بیمار، سانولی عورت کمبل میں لپٹی لیٹی تھی۔ چہرے کے ایک طرف سے تھوک بہہ رہا تھا جسے لڑکی نے نرمی سے اپنے دوپٹے سے صاف کیا۔ عورت کی ایک جھلک ہی کافی تھی یہ اندازہ لگانے کے لیے کہ وہ فالج کا شکار ہے۔ کمرے کی فضا میں خاموشی اور بیماری کی بو رچی ہوئی تھی۔
لڑکی نے ایک پرانی کرسی کھینچ کر زافیر کے قریب رکھ دی اور خود چپ چاپ دیگچی سے چائے چھان کر ایک کپ میں انڈیل کر، کپ کے سامنے کر دیا۔ زافیر نے ارد گرد نظر دوڑائی تو حیران رہ گیا کہ لوگ اس حالت میں بھی کیسے جیتے ہیں۔ کمرے کا کل اثاثہ دو پیوند لگی چادروں والی چارپائیاں، تین پرانی لکڑی کی کرسیاں، ایک بدشکل میز اور کونے میں رکھی ایک بڑی سی پرانی پیٹی تھی۔ جس پر ایک چھوٹی ٹوکری رکھی تھی، جس میں چمکتے سِلور کے برتن ترتیب سے رکھے گئے تھے۔ سب کچھ غربت کی گواہی دے رہا تھا لیکن صفائی اور سلیقہ بھی دکھائی دے رہا تھا۔
حورا اپنی ماں کے پاس بیٹھ گئی۔ ایک محبت بھری نظر اپنی بیمار ماں کے چہرے پر ڈالی۔ اس کی ماں آنکھوں سے پوچھ رہی تھیں کہ سامنے بیٹھا یہ اجنبی کون ہے۔
اماں، یہ وہی بھلے آدمی ہیں جنہوں نے ابا کی بائیک خریدی تھی۔” حورا نے تھوڑا اونچا بول کر کہا تاکہ اس کی ماں سن سکے۔”
عورت نے زافیر کی طرف شکر گزار نظروں سے دیکھا اور لرزتے ہاتھ سے ہلکا سا اشارہ کیا۔ وہ سلام کر رہی تھیں یا خیریت پوچھ رہی تھیں، زافیر کو اندازہ نہ ہو سکا۔
کیا آپ کے والد بھی یہیں رہتے ہیں؟” زافیر نے نرمی سے پوچھا۔”
“نہیں… وہ دو ماہ پہلے وفات پا گئے۔ اب میری اماں ہی میری کل کائنات ہیں۔” یہ کہتے ہوئے اس نے محبت سے اپنی ماں کے ماتھے پر بوسہ دیا۔
باپ کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں کوئی آنسو نہیں تھے یا شاید وہ اپنی ماں کے سامنے اپنے جذبات چھپا گئی تھی۔
پھر زافیر کی طرف پلٹ کر بولی، “میرا نام حورا ہے۔ کیا آپ کا نام جان سکتی ہوں؟ تاکہ بات میں آسانی ہو۔”
زافیر۔” اس نے مختصر جواب دیا۔”
“پہلی بار یہ نام سنا ہے۔ بہرحال…” وہ نرمی سے بولی لیکن پھر اس کے لہجے میں ہلکا سا طنز آ گیا، “یہ بائیک میرے ابا کی تھی۔ ہم بیچنا چاہتے تھے مگر کوئی خریدار نہیں مل رہا تھا۔ پھر اچانک آپ کو پسند آ گئی۔”
زافیر نے نظریں جھکائیں اور بس مسکرا دیا۔
ماں نے حورا کو ہلکی سی کہنی ماری، جس پر وہ چونک کر بولی، “یہ صاحب رات کو اضافی پیسے دے گئے تھے، وہی واپس لینے آئے ہیں۔”
،وہ اپنی جگہ سے اٹھی، پیٹی کھولی، اندر سے ایک چھوٹا بیگ نکالا اور گن کر پانچ ہزار کے گیارہ نوٹ نکالے۔ تھوڑی دیر سوچا، ایک نوٹ واپس رکھ دیا اور باقی دس نوٹ زافیر کی طرف بڑھاتے ہوئے شرمندہ سی آواز میں بولی
“میں نے بیس ہزار رکھ لیے ہیں۔ باقی آپ کو لوٹا رہی ہوں۔ اُس رات لالچ میں آکر زیادہ لے لیے تھے۔”
زافیر نے خاموشی سے نوٹ پکڑے اور پھر پوچھا، “آپ تعلیم یافتہ لگتی ہیں، کہاں تک پڑھی ہیں آپ؟”
“میں ایم بی اے کر رہی تھی، دو سمیسٹر باقی تھے۔ ابا نے مشکلات اور غربت کے باوجود مجھے پڑھایا۔ انہوں نے میرے بارے میں بہت خواب دیکھے تھے لیکن زندگی نے وفا نہیں کی۔”
،اس کا لہجہ بھرا سا تھا لیکن فوراً ہی اس نے خود کو سنبھالا اور لبوں پر مصنوعی سی مسکان لا کر بولی
“اب تو بائیک کی حالت پر آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ اضافی رقم تو واپس کر دی ہے نا۔”
،زافیر نے اس جملے کو نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا
“کیا آپ کہیں نوکری کرتی ہیں؟”
،حورا نے تھوڑا توقف کیا، چھت کو دیکھا، پھر آہ بھرتے ہوئے کہا
“کوشش کی تھی مگر ہر جگہ ایکسپیرینس لیٹر مانگتے ہیں۔ جب نوکری ہی نہیں تو تجربہ کہاں سے لاؤں۔”
،زافیر نے تھوڑا سوچ کر کہا
“اگر میں آپ کو نوکری کی آفر دوں تو؟”
،حورا کے چہرے پر حیرت ابھری لیکن اجنبی مرد کی آفر پر الجھن بھی نمایاں ہوئی
“کیسی نوکری؟ اور کیا کام ہوگا؟”
“میری بیٹی کے لیے ایک گورنس چاہیے۔ آپ پڑھی لکھی ہیں، باہمت بھی ہیں۔ اگر آپ اسے سنبھالیں تو مجھے خوشی ہو گی۔”
“تنخواہ کتنی ہوگی؟” وہ اب قدرے سنجیدہ ہو گئی۔
،زافیر نے ہاتھ میں پکڑے پچاس ہزار روپے اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
“یہ پہلی تنخواہ کے طور پر رکھ لیجیے۔”
،حورا نے پیسوں کی طرف دیکھتے ہوئے معنی خیز انداز میں کہا
“یہ بہت زیادہ ہیں۔ ایک گورنس کی نوکری کے لیے اتنی رقم… مجھے نہیں لگتا آپ صرف تعلیم دینے کے لیے یہ سب دے رہے ہیں۔”
،زافیر نے سنجیدگی سے وضاحت کی
“میری بیٹی خود آپ کو گیٹ پر لینے آیا کرے گی اور واپس بھی گیٹ تک وہی چھوڑے گی۔ اگر کبھی آپ کو میری نیت میں ذرا سا بھی شک ہوا تو آپ فوراً نوکری چھوڑ سکتی ہیں۔”
،حورا سوچ میں پڑ گئی پھر اپنی ماں کی طرف دیکھا اور اونچی آواز میں کہا
“اماں، یہ چاہتے ہیں کہ میں ان کی بیٹی کو پڑھاؤں، کیا میں ہاں کر دوں؟”
،بوڑھی عورت کے ہونٹوں نے مشکل سے ایک لفظ ادا کیا
“ہاں…”
حورا کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی، اس نے پیسے تھام لیے۔
،زافیر اٹھا اور بولا
“کیا آپ بائیک چلا لیتی ہیں؟ یا مجھے روز گاڑی بھیجنی پڑے گی؟”
“بائیک چلانا آتی ہے… مگر وہ تو بیچ چکی ہوں۔”
“تو یہ بائیک امانتاً رکھ لیں۔ مرمت کا خرچ بتا دیجیے گا۔ بائیک میری رہے گی مگر آپ جب تک کام کریں گی، استعمال کر سکتی ہیں۔”
،حورا شرارتی انداز میں بولی
“رات والے رویے کے لیے معافی چاہتی ہوں مگر شرمندہ نہیں ہوں۔ جو طریقہ آپ نے اپنایا وہ ٹھیک نہیں تھا۔”
جانتا ہوں۔” زافیر مسکرایا۔”
“اب اجازت دیجیے۔”
،وہ دروازے سے نکل کر صحن میں پہنچا ہی تھا کہ پیچھے سے آواز آئی
“!…زافیر صاحب، ایک منٹ”
،وہ پلٹا تو حورا کمرے سے نکل چکی تھی اور ہنستے ہوئے بولی
“آپ کو کیا لگتا ہے میں پنچھی ہوں یا پری؟ ایڈریس کے بِنا کیسے پہنچوں گی؟”
زافیر نے شرمندگی سے مسکراتے ہوئے مکمل پتا بتایا پھر دروازہ کھولا اور خاموشی سے صحن سے نکل گیا۔ فاصلے پر کھڑی گاڑی تک پیدل پہنچا، جو حورا کے گھر سے دیکھی بھی نہیں جا سکتی تھی۔
°°°°°°°°°°
بادشاہ آبیاروس سے مایوس ہوکر، رینا اور زمار ایک نئے سفر پر روانہ ہوئے۔ اُن کا رخ کازمار کی سلطنت کی جانب تھا۔ مگر اس بار اُنہوں نے انتقام یا خاندان کی تباہی کی کوئی داستان نہیں سنائی۔ بلکہ خود کو ایسے بےبس اور شکست خوردہ مسافر ظاہر کیا جنہیں حقیقی دنیا نے دھتکارا اور جو پناہ کی تلاش میں جنگلوں میں جا نکلے تھے۔ وہیں ایک حادثاتی راہ نے اُنہیں اس نئی دنیا تک پہنچا دیا۔
رینا نے اپنے شاطر دماغ، چرب زبانی اور دلکش اندازِ بیان سے ایسی من گھڑت کہانی گھڑی کہ نہ صرف کازمار نے انہیں اپنی سلطنت میں پناہ دی بلکہ چند ہی دنوں میں رینا کو اپنے دربار کا خاص رکن بھی بنا لیا۔
محض تین ماہ کے اندر، رینا نے اپنے اعتماد، فہم و فراست اور غیر معمولی قابلیت سے کازمار کا دل جیت لیا اور اُسے شاہی خزانے کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ یہ محض خزانہ نہیں تھا بلکہ ایک خفیہ مقام پر دیگر ریاستوں کے کئی اہم راز بھی پوشیدہ تھے، جن کی حفاظت اب رینا کے ہاتھ میں تھی۔
اُسی خزانے کے کمرے میں آج رات، رینا اور زمار خفیہ طور پر موجود تھے۔ اُن کی نظریں ایک ایسے نقشے کی تلاش میں تھیں جو انہیں شاہِ سُموم تک رسائی دے سکے۔ دیواروں کو ٹٹولتے، فرش کی ایک ایک اینٹ کو کھنگالتے، صندوق کھولتے اور ریک الٹتے ہوئے کئی گھنٹے بیت چکے تھے لیکن کوئی سراغ ہاتھ نہیں آیا۔
،بالآخر، تھک ہار کر دونوں زمین پر بیٹھ گئے۔ زمار نے جھنجھلاہٹ سے کہا
“بےکار ہی اتنا وقت ضائع کیا۔”
،رینا نے ہلکی مسکراہٹ سے اُس کے غصے کو سنبھالنا چاہا
“…ایسا مت کہو… وہ راز یہیں کہیں چھپے ہیں، شاید ہماری نظر ابھی”
،اچانک اُس کی نظریں سامنے ایک چوڑے ستون پر جم گئیں۔ جیسے کوئی انجانی کشش اُسے وہاں کھینچ رہی ہو۔ وہ فوراً اٹھ کھڑی ہوئی
“!…میرے ساتھ آؤ”
اُس کے لہجے میں سنجیدگی تھی۔
زمار اُس کے پیچھے ہو لیا۔ ستون بظاہر تو معمولی لگ رہا تھا مگر اس پر ہلکی ہلکی لکیریں ایسے ابھری ہوئی تھیں جیسے کوئی دروازہ ہو۔ رینا نے ہاتھ سے اسے ٹٹولنا شروع کیا مگر کھولنے کا کوئی طریقہ سمجھ نہیں آیا۔
“!…میرے ساتھ مل کر اسے دباؤ، اندر کی طرف”
رینا نے زمار کو اشارہ کیا۔
دونوں نے اپنی پوری طاقت سے ستون کو اندر کی جانب دبایا۔ چند لمحوں بعد، وہ حصہ دھیرے سے اندر کو گیا اور پھر جیسے کوئی لاک کھلنے کی آواز آئی، دروازہ خود بخود باہر کی طرف کھل گیا۔
سامنے ایک خفیہ کمرہ تھا۔ دیواروں میں ریک لگے تھے جن میں مختلف انداز کے کاغذات تہہ کیے رکھے گئے تھے۔ رینا اور زمار جلدی سے اُن میں کھوج لگانے لگے۔ شاہِ سُموم تک پہنچنے والا راستہ تو نہیں ملا مگر ایک اور قیمتی چیز ہاتھ آ گئی۔ شاہِ سُموم کے روپوش تاج کا مکمل نقشہ۔
نقشے پر ایک خاص مقام کو سرخ نشان سے نمایاں کیا گیا تھا۔ وہ ایک دور دراز علاقہ تھا جہاں پہنچنے کے لیے سنگلاخ پہاڑوں، خطرناک گھاٹیوں اور جنگلوں سے گزرنا پڑتا۔
،دونوں چند لمحے خاموشی سے نقشے کا بغور جائزہ لیتے رہے۔ پھر رینا نے نقشہ احتیاط سے فولڈ کیا، زمار کے ہاتھ میں تھمایا اور سنجیدہ لہجے میں بولی
“…تم کل صبح ہی تاج کی تلاش میں روانہ ہو جانا۔ اور یاد رکھنا”
اُس کی بات ادھوری تھی، مگر لہجہ سخت اور تاکیدی تھ،ا
زمار کی نظریں پوری توجہ سے اُس کے چہرے پر جمی تھیں۔
،رینا نے آنکھوں میں گہری سنجیدگی لیے کہا
“تاج کو براہِ راست مت چھونا… اور نہ اسے پہننا۔ ہم نہیں جانتے، وہ تم پر کیا اثر ڈالے گا۔”
زمار نے اثبات میں سر ہلایا۔
پھر دونوں نے ستون کا دروازہ واپس احتیاط سے بند کیا اور خاموشی سے خزانے کے کمرے سے باہر نکل گئے۔
آج رات، اُن کے ہاتھ ایک ایسی کامیابی لگی تھی جو آنے والے وقت میں دونوں دنیاؤں کی تقدیر بدل سکتی تھی اور جس سے وہ زافیر کی دنیا اجاڑ سکتے تھے۔
°°°°°°°°°°
…جاری ہے
