ناول درندہ
قسط نمبر 1
باب اؤل: متوازی دنیا
مصنف: زیاد اصغر زارون
°°°°°°°°°°
جنگل بیابان میں ایک سہمی ہوئی لڑکی ہانپتی، چیختی، تھرتھراتی ہوئی دوڑ رہی تھی۔ اس کی چیخیں ویرانے میں گونج رہی تھیں مگر جواب میں صرف خاموشی تھی۔ اس کے پیچھے ایک ہولناک، غیر انسانی خدوخال والا وجود، ہاتھوں اور پیروں کے بل کسی خونخوار جانور کی طرح اچھلتا ہوا اس کا پیچھا کر رہا تھا۔ اس کی حرکتیں انسانوں سے زیادہ درندوں جیسی تھیں۔
لڑکی بار بار پیچھے مڑ کر دیکھتی اور جیسے جیسے وہ درندہ اس کے قریب آرہا تھا۔ اس کے جسم کی کپکپی تیز ہوتی جارہی تھی۔ اس کے قدم لڑکھڑانے لگے تھے۔ پیچھے دوڑنے والا وحشی بظاہر انسان تھا مگر انداز ایسا تھا جیسے کوئی بھیڑیا ہو، جو اپنے شکار کے خون کی بو سے مدہوش ہو چکا ہو۔ اس کے الجھے ہوئے بال گند سے چپک چکے تھے اور اس کے نوکیلے دانتوں سے لڑکی کے محبوب کا تازہ گرم خون رس رہا تھا۔
دہشت نے لڑکی کے چہرے سے زندگی نچوڑ لی تھی۔ اس کی چیخیں گلے میں اٹک رہی تھیں۔ وہ مدد کے لیے پکار رہی تھی لیکن آس پاس کوئی ذی روح موجود نہیں تھا۔
اسی دوڑ میں وہ اچانک کسی وجود سے ٹکرا گئی اور زمین پر دھڑام سے گر پڑی۔ اس کی سانسیں بے ترتیب تھیں اور آنکھیں وحشت سے پھیلی ہوئی۔ اس نے اوپر دیکھا تو وہاں ایک پُر کشش مرد کھڑا تھا۔ نفاست سے سنوارے گئے لمبے کالے بال، نفیس لباس جیسے کسی سلطنت کا شہزادہ ہو۔
وہ مرد دو قدم آگے بڑھا، لڑکی کے سامنے کھڑا ہو گیا اور لمحہ ضائع کیے بغیر جیب سے پستول نکالا۔ ایک زوردار دھماکہ ہوا اور گولی درندے کے کندھے کو چیرتے ہوئے گزر گئی۔ خون کے چیتھڑے فضا میں بکھرے۔ وہ ایک درخت سے ٹکرایا اور لمحے سے قبل خود کو سنبھالتے ہوئے ایک سمت بھاگا اور تھوڑی دور جھاڑیوں میں غائب ہو گیا۔
لڑکی کی آنکھوں میں خوف کی پرچھائیاں جمی ہوئی تھیں۔ اس کے لیے وہ منظر، جب اس کے محبوب کا سینہ چاک کر کے درندے نے دل نکال لیا تھا، ذہن سے محو کرنا ناممکن تھا۔
نوجوان نے کچھ دیر تک جھاڑیوں کی سمت دیکھا پھر ریوالور اپنی پینٹ میں اڑس کر لڑکی کی طرف مُڑا،
“ہائے…! میں زافیر ہوں۔”
لڑکی گھٹنوں کے بل بیٹھی رو رہی تھی، جواب دینے کی ہمت نہیں تھی۔
نوجوان نے اردگرد کا جائزہ لیا اور نرمی سے اس کے قریب بیٹھ گیا،
“آپ اس ویران جنگل میں اکیلی کیا کر رہی ہیں؟”
لڑکی نے لرزتے ہوئے جواب دیا،
“ہم… ہم… پکنک منانے آئے تھے… پھر… پھر… ہم پر اس عجیب سی چیز نے حملہ کر دیا، وہ میرے دوست کا دل کچا چبا گیا…”
،محبوب کی موت یاد آتے ہی اس کا دماغ جیسے مفلوج ہوگیا۔ وہ دونوں ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپ کر رونے لگی،
“اوہ میرے خدایا…! یہ کیا ہو گیا۔”
،زافیر نے نرمی سے کہا
“ان درندوں نے ہم سب کو بہت پریشان کر رکھا ہے۔ آج نہیں تو کل ہم ان کا کوئی مستقل حل نکال ہی دیں گے۔ تم ایسا کرو، ابھی میرے ساتھ گھر چلو پھر تمہیں جہاں جانا ہوا، پہنچا دوں گا۔”
لڑکی نے ہچکیوں میں اثبات میں سر ہلایا اور اس کے ساتھ چل پڑی۔ تھوڑی ہی دور گاڑی کھڑی تھی، وہ اس میں سوار ہو گئے۔ گاری کچی سڑک پر دھول اڑاتی ہوئے آگے بڑھ رہی تھی۔ دائیں بائیں جنگل کے درخت سرسرا رہے تھے اور خشک پتے ٹوٹ کر زمین پر گِر رہے تھے۔
کچھ فاصلے پر ایک پرانی مگر شان دار حویلی آگئی۔ سامنے ایک پرانا، عجیب طرز کا مگر خوبصورت بنگلہ کھڑا تھا۔ انہوں نے گاڑی روکی اور اندر داخل ہو گئے۔
ان کے اندر داخل ہوتے ہی ایک ملازم نے دروازہ بند کر دیا۔ سامنے صوفے پر ایک عمر رسیدہ عورت بیٹھی تھی، جس کی آنکھوں میں بڑھاپے کی تھکن کے بجائے ایک چمک تھی۔
“کیا ہوا؟ کیا تم اپنا کام مکمل کر کے آئے ہو؟”
اس نے غرّا کر پوچھا۔
زافیر نے لڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
“میں نے درندے کو زخمی کر دیا ہے، اس نے لڑکی کے دوست پر حملہ کر کے اسے مار ڈالا۔”
،بوڑھی عورت کا چہرہ بگڑ گیا
“بہت بُرا ہوا… درندوں نے بہت تنگ کر رکھا ہے۔ ناجانے ہمارے کتنے شکار گنوا دیے۔ اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو ہم لوگ بھوکے مر جائیں گے۔”
لڑکی جیسے بےجان ہو چکی تھی۔ اس کے ذہن میں ایک ہی جملہ گونج رہا تھا… “شکار؟”
اس نے زافیر کی طرف خوف سے دیکھا، جس کے ہونٹوں پر ایک شیطانی مسکراہٹ ابھر رہی تھی۔
لڑکی جیسے بجلی کے جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی اور دروازے کی طرف بھاگی مگر سامنے ایک شخص پستول تانے کھڑا تھا۔ قہقہے گونجنے لگے۔ وہ چیختی ہوئی ایک کمرے میں داخل ہوئی مگر وہاں… وہاں ایک آدمی انسانی بازو کے ٹکڑے کر رہا تھا اور ساتھ ہی ایک آدھی کٹی لاش چھت سے لٹک رہی تھی۔
اس نے ایک چیخ ماری، زمین پر گرتے گرتے وہ نکلنے کا راستہ تلاش کرنے لگی مگر زافیر نے اسے بالوں سے دبوچ لیا اور اسے فرش پر گھسیٹتا ہوا قصاب خانے میں لے گیا۔
وہ تڑپتی رہی، روتی رہی، رحم کی بھیک مانگتی رہی مگر وہاں رحم جیسے ناپید تھا۔
اسے ذبح خانے میں لٹا دیا گیا اور ایک شخص نے تیز چھری سے اس کا گلا کاٹ دیا۔
خون کا فوارہ نکلا جو زافیر کے بے تاثر چہرے پر پڑا۔
زافیر نے تڑپتے وجود کو کروٹ پر لٹایا اور زمین پر بہتا خون نالی سے گزرتے ہوئے ایک شیشے کے مرتبان میں گرنے لگا۔
چند لمحات کے بعد لڑکی کا جسم بےجان ہو چکا تھا اور مرتبان… مکمل بھر چکا تھا۔
°°°°°°°°°°
اندھیری شام کے سائے ابھی پوری طرح زمین پر نہیں اترے تھے کہ زافیر کا خاندانی محل اندرونی روشنیوں سے جگمگا اٹھا۔ محل کے باہر جنریٹر کی گڑگڑاہٹ ماحول کو شدید پراسرار بنا رہی تھی۔ محل کے بیچوں بیچ ایک لمبی اور وسیع ڈائننگ ٹیبل سجی ہوئی تھی جو خالص لکڑی کی تھی اور اس پر جمی چمکدار شیشے کی پرت میں ہر چیز منعکس ہو رہی تھی۔ ہلکی پیلی روشنی، کھانے کے برتنوں میں رکھے گئے خون آلود ٹکڑوں پر پڑ کر انہیں اور زیادہ ہولناک بنا رہی تھی۔
ٹیبل کے گرد زافیر کے خاندان کے سترہ افراد بیٹھے تھے۔ ہر ایک کا چہرہ عام انسان جیسا تھا مگر آنکھوں میں خون کی ہلکی سی سرخی اور بےرحم ہنسی انہیں کسی اور ہی مخلوق کا روپ دے رہی تھی۔
ہر نشست کے سامنے ایک وائن گلاس رکھا تھا۔ جس میں تازہ انسانی خون بھر کر پیش کیا گیا تھا۔ خون کی گرمائش سے گلاس کی دیواروں پر بھاپ کی ہلکی سی تہہ جمی ہوئی تھی۔ جیسے ابھی کسی زندہ وجود سے نکالا گیا ہو۔ ٹیبل کے بیچ میں بڑے بڑے برتن رکھے تھے جن میں آدھے پکے انسانی گوشت کے لوتھڑے رکھے تھے۔ کہیں بازو کے کٹے ہوئے حصے، کہیں ران کی بھنی ہوئی پٹیاں اور کہیں سینے کے گوشت کے چکنے ٹکڑے۔ ان پر ہلکی سی بھوری تہہ تھی، جیسے انہیں جلدی میں بھونا گیا ہو تاکہ تازگی باقی رہے۔
زافیر کے دائیں جانب اُس کی دادی بیٹھی تھی۔ چمکدار سرمئی آنکھوں والی بوڑھی عورت، جس کا چہرہ جھریوں سے بھرا ہوا تھا مگر اس کی نظریں کسی شکاری کی طرح تیز تھیں۔ اُس نے اپنے دانتوں سے انسانی ہاتھ کی ایک انگلی کھینچ کر نوچی۔
،تھوڑی دیر گوشت اکھاڑنے کی کوشش کی مگر کچھ خاص گوشت نہیں ملا، وہ ناک چڑھا کر گوشت کو ایک طرف رکھتی ہوئی بولی
!…”پتا نہیں، انسانوں کو کیا ہوگیا ہے… اب ماس تو ان پر ہوتا ہی نہیں، بس ہڈی اور چمڑی”
زافیر ہنسا، اُس کی ہنسی میں سرد پن اور مذاق کا رنگ واضح تھا۔ اُس نے خون کا ایک گھونٹ حلق سے اتارا پھر بولا،
“انسان اسے ‘فِٹنس’ کہتے ہیں، دادی۔”
پاس بیٹھا اُس کا بھائی زمار، جس کی پلیٹ میں ایک کٹا ہوا انسانی پاؤں رکھا تھا، ناخن سے انگلی کی ہڈی اکھاڑتے ہوئے بولا،
“خاک فِٹنس ہے… سوائے چمڑی کے کچھ ہوتا ہی نہیں۔”
اسی لمحے زافیر کی بہن نے گہرے سرخ خون کو گلاس سے آہستہ آہستہ گھونٹ گھونٹ پیتے ہوئے ایک آہ بھر کر کہا،
“اگلا شکار کسی مرد کا کرو… کوئی ہٹا کٹا… گھبرو جوان… اب لڑکیوں کے خون میں ذائقہ نہیں رہا۔”
،زافیر نے گردن خم کر کے اس کی طرف دیکھا، لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی
“…جیسے میری بہن کا حکم”
وہ مسکرایا تو اس کی بہن بھی شیطانی ہنسی میں اس کا ساتھ دینے لگی۔
پورے ہال میں اب فقط چبانے، چوسنے اور خون گھونٹنے کی آوازیں تھیں۔ کبھی دانتوں سے گوشت نوچنے کی، کبھی ہڈیوں کے ٹوٹنے کی کڑک، کبھی ہونٹوں پر بہتے خون کو زبان سے چاٹنے کی۔ وہ سب ایک ساتھ اس لڑکی کے گوشت سے لطف اندوز ہو رہے تھے جس کی چیخیں اب ان کے قہقہوں میں گم ہو چکی تھیں۔ گوشت کے ذائقے پر تبصرے، خون کی تازگی کی تعریف اور اگلے شکار کی منصوبہ بندی… سب کچھ ایسے ہو رہا تھا جیسے یہ روزمرہ کی معمولی خاندانی محفل ہو۔
یہ وہ منظر تھا جسے کوئی ذی شعور انسان دیکھ لیتا تو نہ صرف چیخ اٹھتا بلکہ شاید ہوش بھی کھو بیٹھتا۔ مگر زافیر اور اس کے خاندان کے لیے یہ محض ایک اور رات تھی… ایک اور دعوت… ایک اور شکار۔
°°°°°°°°°°
کائنات کے بے شمار رازوں میں سے ایک راز ایسا بھی ہے جو عام انسانی فہم سے ماورا ہے۔ ایک ایسی دنیا جو ہماری آنکھوں سے اوجھل ہے مگر ہمارے وجود کے عین برابر سانس لیتی ہے۔ اسے “متوازی دنیا” کہا جاتا ہے۔ ایک متوازی دنیا… جدا مگر جڑی ہوئی۔ انسانی دنیا میں اسے اکثر افسانہ، دیوانوں کا خواب یا سائنسی بکواس سمجھا جاتا ہے۔ مگر سچ یہ ہے کہ متوازی دنیا ایک زندہ، دھڑکتی اور خوفناک حقیقت ہے۔
یہ دنیا انسانوں کی دنیا سے اس قدر قریب ہے کہ اکثر انسان ان کے سائے سے گزر جاتے ہیں اور انہیں خبر تک نہیں ہوتی، اور کچھ غلطی سے وہاں پہنچ جاتے ہیں اور کبھی واپس لوٹ کر نہیں آ پاتے۔
حقیقی دنیا اور متوازی دنیا میں فرق صرف یہ ہے کہ وقت مختلف انداز میں بہتا ہے۔ ہوا میں سرگوشیاں بستی ہیں اور زمین ایسی مخلوقات سے آباد ہے جو نظر آئیں تو انسانوں کا دل دھک سے رہ جائے۔ وہاں زندگی کا پیمانہ مختلف ہے، احساسات کی نوعیت مختلف اور سب سے بڑھ کر… وہاں کے باسی “انسان” نہیں ہوتے، چاہے وہ دکھنے میں ویسے ہی کیوں نہ ہوں۔
متوازی دنیا میں صرف زافیر اور اس کا خاندان ہی انسانوں میں سے تھے… کبھی وہ انسان ہی تھے لیکن اب انہیں انسان کہنا انسانیت کی توہین تھی۔ ان کی شکل و صورت، بدن کے خدوخال، حتیٰ کہ ان کی آوازیں آج بھی انسانی تھیں مگر حقیقت میں وہ انسانوں کے روپ میں درندے تھے۔ وہ انسانوں سے کئی گنا طاقتور ہوچکے تھے، ان کی پھرتی، آنکھوں کی بینائی، سونگھنے کی حس اور حتیٰ کہ سوچنے کی رفتار بھی عام انسان سے درجنوں گنا تیز ہوچکی تھی۔ ان کے دل انسانی دل کی طرح ہی دھڑکتے تھے لیکن دلوں میں جذبات نہیں تھے۔ وہ کئی صدیوں سے وہیں تھے لیکن ہمیشہ ہی حقیقی دنیا سے تعلق برقرار رکھا۔ جوں جوں حقیقی دنیا ترقی کر رہی تھی، وہ بھی خود کو بہتر کر رہے تھے۔ انسانی دنیا سے وہ شکار کے ساتھ ساتھ اپنی سہولت کے لیے ضروری سامان بھی خرید کر لاتے تھے۔
متوازی دنیا اور انسانی دنیا کے درمیان کئی دروازے تھے۔ قدیم، خفیہ اور غیر مرئی دروازے، کسی سنسان پہاڑی پر، شہر کے بیچوں بیچ، کسی پرانے کنوئیں میں، کھنڈر میں یا کسی بند دروازے کا روپ دھارے یہ کئی جگہوں پر تھے۔
زافیر اور اس کا خاندان زیادہ تر متوازی دنیا میں ہی رہتے تھے۔ جہاں وہ خاموشی سے شکار کا انتظار کرتے۔ بعض اوقات کوئی انسان انجانے میں اس دنیا میں قدم رکھ لیتا اور ان کا شکار بن جاتا تھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ خود نکلتے، انسانوں کی دنیا میں داخل ہوتے، اپنے خوبصورت چہروں اور الفاظ سے اعتماد حاصل کرتے اور پھر کسی نہ کسی کو بہلا پھسلا کر واپس متوازی دنیا میں لے آتے۔ وہاں ان کا شکار پہلے حواس سے کٹ جاتا، پھر ذہنی طور پر توڑا جاتا اور آخر میں جسمانی طور پر ختم کیا جاتا۔ ان کے لیے یہ ‘شکار’ نہ صرف خوراک تھی بلکہ ایک رواج، ایک دلی تسکین اور ایک سلسلہ تھا جو صدیوں سے چلتا آ رہا تھا۔
°°°°°°°°°°
نیلے آسمان تلے، ایک رنگین یونیورسٹی بس دھیرے دھیرے بل کھاتی سڑک پر رواں دواں تھی۔ اس کے اندر، نوجوانی کی بے فکری اپنی تمام تر شوخیوں کے ساتھ جھوم رہی تھی۔ لڑکے اور لڑکیاں اپنے اساتذہ کے ہمراہ قدرتی حسن کی آغوش میں سیر کے لیے نکلے تھے اور بس کی فضا قہقہوں، تالیوں اور تیز موسیقی سے گونج رہی تھی۔
بس کے اسپیکرز سے نکلتی ہوئی گانوں کی دھیمی دھیمی دُھنیں اور اس پر تھرکتے قدم، جیسے ہر ایک لمحہ زندگی کا آخری جشن ہو۔ کچھ نوجوان اپنے دوستوں کے ساتھ سیٹیاں بجاتے، موبائل کیمروں سے لمحوں کو قید کرتے نظر آ رہے تھے، کچھ خواتین ٹیچرز اپنے سینیئرز کی اجازت سے اپنے چھوٹے بچوں کو بھی ساتھ لے آئی تھیں۔ وہ اپنے ننھے بچوں کے ساتھ خاموشی سے ان مناظر سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔ سبھی چہروں پر بہار جیسی تازگی اور آنکھوں میں خوابوں کی چمک تھی۔
بس کا ڈرائیور، جس کے چہرے پر عمر کے پچاس برسوں کی تھکن جھلک رہی تھی، گہری سنجیدگی سے سڑک پر نگاہ جمائے ہوئے تھا۔ وقتاً فوقتاً وہ سامنے والے آئینے سے پیچھے ناچتے، ہنستے، چہکتے نوجوانوں کو دیکھتا اور مسکرا دیتا۔ جیسے زندگی کی یہی خوشیاں اسے جینے کا حوصلہ دیتی ہوں۔
“بس یہی عمر ہے انجوائے کرنے کی… پریکٹیکل لائف شروع ہونے کے بعد پھر کہاں ہوش رہتی ہے۔”
اس نے ہلکے سے کہا اور سامنے بیٹھے پرنسپل کی طرف دیکھا جو شاید انہی خیالوں میں گم سڑک کو تک رہے تھے۔ لیکن اگلے ہی لمحے ان کی آنکھوں میں وحشت ابھری اور وہ چیخ پڑے،
“سامنے دیکھو۔”
ڈھلوان کے موڑ پر اچانک ایک تن آور جنگلی بھینسا سڑک پر نمودار ہوا۔ ڈرائیور نے بریک دبایا پر وہ لمحہ قریب تر تھا۔ بس نے بھینسے کو ٹکر ماری، بھینسا سڑک پر گِھسٹتا ہوا دور جا گِرا اور جھٹکے سے بس کا سٹیئرنگ گھوم گیا۔ اگلے ہی لمحے وہ بس… جس میں ابھی خوشی کی محفل برپا تھی، چیختے، گرتے نوجوانوں کے ساتھ، ڈھلوان پر لڑھکنے لگی۔
دھڑکنیں تھم گئیں۔ لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے سے چمٹ گئے، کوئی سیٹ کے نیچے جا گرا، کوئی کھڑکی سے چلاتا رہا۔ ہر طرف کہرام تھا۔ ڈرائیور نے بس سنبھال لی لیکن بریک لگانے کے باوجود بس کے ٹائر گھسٹتے جارہے تھے اور اس کے آگے ہزاروں فٹ گہری کھائی تھی۔
پندرہ فٹ کا فاصلہ اور زندگی کا باب بند ہونے کو تھا۔ ڈرائیور نے مایوسی سے پرنسپل کی طرف دیکھا جیسے اعتراف کر رہا ہو۔
“ہم نہیں بچ پائیں گے۔”
لیکن عین اسی لمحے، جیسے قدرت نے کوئی پردہ ہٹایا ہو۔ وہ بس جو کھائی میں گرنے والی تھی۔ اچانک ایک کچی سڑک پر پہنچ گئی۔ نہ وہ پہاڑ تھا، نہ وہ کھائی۔ سامنے پھیلا ہوا ایک خاموش، پراسرار جنگل تھا۔ جو نہ ختم ہونے والا لگ رہا تھا۔ ہوا ساکت، وقت جیسے تھم چکا تھا۔
بس کا انجن بند ہوچکا تھا۔ وہ تھوڑی دور تک گئی پھر رک گئی۔ سب کچھ رُک گیا۔
یہ لمحہ کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔ وقت، فضا، مقام… سب بدل چکا تھا۔ وہ کہاں تھے؟ وہ کیسے بچ گئے؟ ان سوالوں کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا، مگر جو کچھ بھی تھا، وہ فطرت کی کسی گہری مداخلت کا پتہ دے رہا تھا۔
°°°°°°°°°°
زافیر نیم تاریک کمرے میں بیڈ پر لیٹا چھت کو گھور رہا تھا۔ کمرے میں مدھم سرخ بلب کی روشنی تھی جو دیواروں پر پرچھائیاں پھیلا رہی تھی۔ حویلی کی پرانی دیواروں سے ٹکراتی ہوا سیٹیوں جیسی آوازیں پیدا کر رہی تھی۔
اچانک دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا اور رینا، اس کی چھوٹی بہن… تیزی سے اندر داخل ہوئی۔ اس کی سانسیں تیز تھیں اور آنکھوں میں ایک سنجیدہ چمک تھی۔ اس کے ہونٹ ہلتے ہی کمرے کا سکوت ٹوٹا۔
“اُٹھو! جلدی کرو… ہمیں شکار کے لیے جانا ہے…!” وہ تقریباً چیخی۔
زافیر چونک کر سیدھا ہو بیٹھا، جیسے کسی خواب سے حقیقت میں واپس آیا ہو۔
“شکار؟ کہاں ہے شکار؟” اُس نے الجھی ہوئی پیشانی سے بہن کی طرف دیکھا۔
رینا نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر زافیر کی الماری کا پٹ کھولا، اندر جھانکا اور مہارت سے دو چاقو نکال کر اپنے کوٹ کے گہرے جیبی خانوں میں چھپا لیے۔ پھر نیچے سے ریوالور نکالا اور زافیر کی طرف اُچھالا۔
“دادی نے محسوس کی… انسانوں کی موجودگی۔ کافی سارے ہیں اس بار۔ شاید کسی قریبی علاقے سے بھٹک کر ہماری حدود میں آ گئے ہیں۔”
،زافیر نے بغیر کچھ کہے ریوالور کیچ کیا۔ اس کے چہرے پر اب سنجیدگی طاری ہو چکی تھی۔ وہ بیڈ سے اترا اور تیزی سے بوٹ پہنتے ہوئے بولا
“کتنے ہوں گے؟”
“…رینا دروازے کی طرف پلٹتے ہوئے بولی، “دادی نے تعداد تو نہیں بتائی لیکن یہ ایک بڑا موقع ہے
دونوں بہن بھائی اب دروازے کی طرف بڑھ رہے تھے۔ جیسے ہی انہوں نے حویلی کی دہلیز پار کی، ایک سرد اور کٹیلی ہوا نے ان کے چہروں کو چھوا۔ فضا میں غیر معمولی سناٹا تھا جیسے پوری کائنات اپنی سانس روکے ان کی حرکات کو دیکھ رہی ہو۔
صحن کے بیچوں بیچ ایک پرانی، سیاہ رنگ کی جیپ دھیمی دھیمی آواز میں غرغراہٹ کر رہی تھی۔ اسٹیئرنگ پر ان کا بڑا بھائی بیٹھا ہوا تھا، چہرے پر پرسکون مگر قاتلانہ سنجیدگی۔ جیسے ہی وہ دونوں قریب پہنچے، اس نے دروازہ کھولا۔ گاڑی کا انجن دھاڑنے لگا جیسے شکار کی بُو پا چکا ہو۔
زافیر اور رینا اگلی نشست پر بیٹھے ہی تھے کہ جیپ نے رفتار پکڑ لی اور حویلی کے پتھریلے احاطے سے نکل کر سنسان سڑک پر دوڑنے لگی۔ سڑک کے دونوں جانب اندھیرے میں ڈوبے درخت تیزی سے پیچھے کو بھاگتے محسوس ہو رہے تھے۔
“یہ شکار عام نہیں لگتا…” زافیر نے آہستہ سے کہا جیسے خود سے مخاطب ہو۔
رینا نے ہونٹوں پر ایک پراسرار مسکراہٹ سجا کر جواب دیا، “نہ ہی ہم عام شکاری ہیں، بھائی۔”
°°°°°°°°°°
بس میں موجود ہر شخص گویا موت کو چھو کر واپس آیا تھا۔ لمحہ بھر پہلے وہ سب ایک اندھی کھائی میں گرنے والے تھے لیکن جیسے ہی بس ایک انجان اور سنسان سڑک پر نمودار ہوئی، ہر کسی کے چہرے پر حیرت کا طوفان امڈ آیا۔ کسی نے اسے خدائی معجزہ سمجھا، تو کچھ کی آنکھوں میں یہ نیا راستہ بھی ایک اندیشے کے روپ میں لرزنے لگا۔
آج تو ہم بال بال بچے ہیں…” پرنسپل نے گہرا سانس لیتے ہوئے سینے پر ہاتھ رکھا جیسے دل کی دھڑکن کو تھامنے کی کوشش کر رہا ہو۔”
،ڈرائیور کی نظریں جنگل میں کچھ تلاش کر رہی تھیں۔ اس کی آنکھوں میں چھپا خوف لفظوں سے زیادہ بول رہا تھا۔ اس نے پرنسپل کی طرف دیکھے بغیر دھیمی آواز میں کہا
“…نہیں سر… مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا۔ جنگل… جنگل میں کچھ ہے”
پرنسپل نے چونک کر سیٹ بیلٹ کھولی، جھک کر ڈرائیور کے شیشے سے باہر دیکھا اور پھر جو منظر اس نے دیکھا، وہ اس کے وجود کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی تھا۔ جنگل کے سائے میں درختوں کے بیچ، چار انسان نما درندے، ہاتھ اور پاؤں زمین پر ٹِکائے، آنکھوں میں سُرخ شعلے لیے بس کو گھور رہے تھے۔
!…پرنسپل دہشت زدہ ہو کر واپس اپنی نشست پر گر پڑا اور کپکپاتی آواز میں چیخا: “کھڑکیوں کے شیشے فوراً بند کرو… باہر درندے ہیں… خونخوار درندے”
ڈرائیور نے بس سٹارٹ کرنے کی کوشش کی لیکن بس سٹارٹ ہونے کو تیار ہی نہیں تھی۔ شاید ڈھلوان سے لڑھکتے ہوئے کسی پتھر نے خرابی پیدا کر دی تھی۔
سب سہم گئے لیکن ایک اوباش لڑکا اسے مذاق سمجھ کر ہنسا، “سر… کیوں ڈرا رہے ہیں آپ…؟ یہاں درندے کہاں سے آگئے؟”
ابھی وہ جملہ مکمل بھی نہ کر پایا تھا کہ کسی اندھی سمت سے ایک سیاہ سایہ بجلی کی طرح آیا۔ ایک درندہ کھڑکی سے اندر گھسا اور اپنے فولادی پنجوں سے لڑکے کا بازو جکڑ لیا۔ لمحے بھر میں اسے کھڑکی سے باہر گھسیٹ کر لے گیا۔ یہ سب کچھ اتنی تیزی سے ہوا کہ کسی کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا۔
بس میں ایک چیخ فضا کو چیرتی ہوئی گونجی۔
“وہ… وہ درندہ… اسے لے گیا…!” لڑکی نے روتے اور کانپتے ہوئے بتایا۔
تمام چہروں پر خوف کے بادل چھا گئے، آنکھوں سے رنگ چھن گیا، کچھ لڑکوں اور لڑکیوں نے جھانک کر باہر دیکھا اور جو دیکھا، اس نے ان کے دل کی دھڑکن ساکت کر دی۔
درندے اب اس لڑکے کے وجود کو نوچ رہے تھے۔ ایک درندہ اس کی گردن میں اپنے نوکیلے دانت گاڑ چکا تھا اور گہرے خون کو پی رہا تھا۔ دوسرا درندہ اس کا سینہ چیر کر دل نکال چکا تھا جو اب اس کے دانتوں میں تھا اور وہ اسے بے رحمی سے چبا رہا تھا۔ تیسرا درندہ لڑکے کی آنکھیں نوچ کر کھا رہا تھا، جیسے وہ بینائی سے اُس کی روح کو چرا رہا ہو۔
بس میں کہرام مچ گیا۔ چیخیں، رونا، کانپتے ہاتھ اور لرزتے بدن۔ کچھ تو ایسے سکتے میں چلے گئے کہ شیشے بند کرنے کی ہوش ہی نہ رہی۔ البتہ چند مضبوط اعصاب کے طلباء نے فوراً تمام کھڑکیاں بند کر ڈالیں۔ ان کے خیال میں یہ ایک دفاع تھا۔ شیشے ان کے لیے ایک دیوار تھے لیکن وہ غلطی پر تھے۔
یہ درندے صرف جانور نہیں تھے۔ یہ چالاک تھے، ذہین تھے، اور ایک وقت میں… انسان تھے۔ یہ زافیر کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے لیکن حادثات نے انہیں دھیرے دھیرے حیوانی درندگی میں بدل دیا تھا۔
°°°°°°°°°°
ابھی سناٹا بس پر چھایا ہی تھا، جب ایک اچانک پھٹتے دھماکے کی مانند آواز نے فضا کو چیر ڈالا۔ ایک بھاری پتھر کھڑکی کا شیشہ توڑتا ہوا اندر آ گرا اور بس کے فرش پر گونجتی ہوئی ٹھاہ کی آواز کے ساتھ ٹکرا کر رک گیا۔ لمحہ بھر میں سب کی نگاہیں اس پتھر پر جمنے لگیں۔ جیسےوہ کسی بھی پل کوئی اور انکشاف کرنے والا ہو۔
…… مگر سچ تو یہ تھا کہ وہ صرف آغاز تھا
دوسرا پتھر جیسے موت کا پیغام تھا۔ وہ سیدھا ایک لڑکے کے سر پر آ کر لگا، کھڑکی کا شیشہ چیرتا ہوا اس کی پیشانی سے جا ٹکرایا۔ گرم اور گاڑھا خون اس کی پیشانی سے پھوٹا اور سفید یونیفارم کو رنگین کر گیا۔ اس کے پیچھے بیٹھی لڑکی کی چیخ، بس میں موجود موت کے آنے کا اعلان تھی۔
بس کے باہر سے غراہٹوں کی نحس آوازیں آ رہی تھیں۔ درندے درختوں کے بیچ رینگتے ہوئے، گھات میں تھے۔ پھر یکے بعد دیگرے پتھر برسنے لگے۔ ہر ایک پتھر شیشے کو توڑ کر، گوشت، ہڈی اور خون سے گزر کر، اندر کے ہنستے چہروں کو خوف کے مجسمے میں بدلتا جا رہا تھا۔
کھڑکیوں کے شیشے کرچی کرچی ہو کر طلباء و طالبات کے جسموں میں پیوست ہونے لگے۔ کسی کا چہرہ چھل گیا، کسی کے بازو پر کٹ لگ گیا، کسی کے گال میں شیشے کا ٹکڑا گھس گیا۔ چیخیں اب درد سے بھرپور ہو چکی تھیں۔ کچھ بچوں نے آنکھیں بند کر لیں۔ کچھ اپنی ماؤں کے گلے لگ کر کانپنے لگے۔ اور کچھ پھٹی پھٹی نظروں سے دروازے کو تکتے رہ گئے۔
،ڈرائیور اور پرنسپل، جن کے حواس قدرے بحال تھے، اپنی سیٹوں سے جھٹکے سے اٹھے۔ پرنسپل کی آواز بجلی کی مانند بس میں گونج
!…”سب لوگ فوراً باہر نکلو… اپنی جان بچاؤ… درندے بس میں گھسنے والے ہیں”
ان الفاظ میں جو دہشت چھپی تھی، اس نے بہت سوں کو قدموں پر کھڑا کر دیا۔ بائیں جانب والا دروازہ کھولا گیا۔ کچھ طلباء اور خواتین ٹیچرز اپنے ننھے بچوں کو سینے سے لگائے چیختے، روتے، گرتے پڑتے جنگل کی طرف دوڑنے لگیں۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کس طرف جا رہے ہیں، بس اتنا جانتے تھے کہ کسی طرح ان درندوں سے بچنا ہے۔
لیکن باقیوں کو قسمت نے مہلت نہیں دی۔ بس پر جیسے بھوک سے بے حال شیطان ٹوٹ پڑے۔ نو بھیانک، بدنما، وحشی درندے بس کے دروازے اور کھڑکیوں سے اندر گھسے، ان کی آنکھوں میں صرف خونخوار سرخی تھی۔ ایک درندہ سامنے بیٹھے لڑکے پر کودا اور پلک جھپکتے میں اس کی گردن دانتوں سے چیر دی۔ دوسرا لڑکی کو بالوں سے گھسیٹ کر کھڑکی کے کنارے لے گیا اور اس کے چہرے پر پنجے گاڑ دیے۔ چیخیں… گڑگڑاہٹ… رحم کی فریاد… سب بے کار تھی۔
کچھ ہی لمحوں میں بس گویا قصاب خانے میں بدل چکی تھی۔ ہر سیٹ کے پاس ایک لاش تھی۔ کٹی پھٹی، بَہتی ہوئی، بے چہرہ۔ کہیں آنکھیں نوچ لی گئیں، کہیں دل چاک کر کے نکال لیا گیا۔ کچھ درندے لاشوں کے جسموں سے گرم خون پینے میں مصروف تھے۔ کچھ گوشت چبانے میں ایسے مگن تھے۔
بس اب خاموش ہو چکی تھی۔ وہی بس جو کچھ دیر پہلے موسیقی، ہنسی اور زندگی سے بھرپور تھی۔ اب مردہ جسموں، بہتے خون اور خاموش چیخوں کا مدفن بن چکی تھی۔
°°°°°°°°°°
…جاری ہے
