ناول درندہ
قسط نمبر 12
باب دوّم: انتقام
مصنف: زیاد اصغر زارون
°°°°°°°°°°
زافیر کے بنگلے پر حملہ کرنے والے گینگ کا لیڈر کافی دیر سے خاموش بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، ہونٹ ہلتے مگر الفاظ گلے میں ہی دم توڑ دیتے۔ بار بار کوشش کرتا مگر خوف اس کی زبان کو باندھ چکا تھا۔
زافیر اس پر دباؤ ڈالنا نہیں چاہتا تھا۔ اسے اندازہ تھا کہ اس لمحے اس شخص کے اندر خوف اور گھبراہٹ نے ڈیرے جما رکھے ہیں، اسے وقت چاہیے تھا۔
کمرے میں خاموشی کی چادر تنی ہوئی تھی، صرف لیڈر کی سسکیوں کی صدا گونج رہی تھی۔
،آخرکار اس نے گہری سانس لی اور آہستہ آہستہ گویا ہوا
“مجھے… مجھے صحیح سے نہیں پتا کہ ہمارا اصل باس کون ہے۔ ہم… ہم دس مہینے سے اس کے لیے کام کر رہے ہیں۔”
اس کی آواز لرز رہی تھی۔
“وہ ہمیں جدید اسلحہ دیتا ہے… بھاری رقوم دیتا ہے۔ پنجاب کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں میرے جیسے سینکڑوں لوگ ہیں جو اس کے لیے کام کرتے ہیں۔”
اس کا ایک خاص آدمی ہے جو پنجگور میں اس کے ساتھ رہتا ہے… اصل باس کے بارے میں زیادہ کسی کو پتا نہیں… لیکن جہاں تک میں نے سنا ہے… وہ بہت شاطر، سفاک اور بے رحم ہے۔ “
“کسی زمانے میں وہ ایک سرکاری افسر تھا… پھر اچانک اس کے پاس دولت آ گئی۔
یہ سنتے ہی زافیر کا ماتھا ٹھنکا۔ اسے سمجھنے میں ایک پل بھی نہیں لگا کہ پردے کے پیچھے کون چھپا ہے۔
لیڈر کی آواز ابھی بھی مدھم تھی جیسے ہر لفظ اس کے جسم سے خون کی ایک ایک بوند کے ساتھ نکل رہا ہو۔
“…عام طور پر ہم اس کے لیے دوسرے غیر قانونی کام سر انجام دیتے تھے۔ قتل، ڈکیتی، اغواء اور سرکاری ملازمین کو ڈرا دھمکا کر دستاویزات تیار کروانا… لیکن کل رات”
وہ اچانک رک گیا۔
،زافیر نے نرم لہجے میں پوچھا
“کل رات کیا ہوا؟”
،لیڈر نے سر اٹھا کر بےبسی سے دیکھا
“…کل رات تمہاری موت کا حکم جاری ہوا… ہم دو گروپ میں بٹے تھے۔ ایک گروپ تمہارے ساتھی کے گھر گیا مگر وہاں کچھ نہیں ملا، وہ بچ گئے۔ ہم یہاں پھنس گئے”
،زافیر نے پلکیں جھپکائیں پھر آہستگی سے بولا
“تمہارے باس کے پاس جو دولت آئی… وہ میرے ساتھ دھوکہ کر کے کمائی گئی تھی۔ لیکن اتنی بھی نہیں کہ وہ اتنا وسیع نیٹ ورک بنا لیتا۔”
،لیڈر نے سر ہلایا، جیسے اس سچائی سے وہ بھی واقف ہو
“اب اس کے پیچھے بڑی دہشت گرد تنظیمیں ہیں… اور پنجاب میں اس کا نیٹ ورک اتنا پھیل چکا ہے کہ اسے بھارت سے بھی امداد ملنے لگی ہے۔”
زافیر نے ایک نیا سوال کیا
“کیا تمہیں اس کی اصل لوکیشن کا علم ہے؟”
“نہیں پتا… پتا چل بھی جائے، تب بھی اس تک پہنچنا ناممکن ہے۔”
،زافیر اس کی آنکھوں میں جھانکتا رہا، پھر گہری آواز میں بولا
“یہ تو وقت ہی بتائے گا… کہ کیا ممکن ہے اور کیا نہیں۔”
،قیدی لیڈر کے آنسو دوبارہ بہنے لگے۔ اس کی آواز میں اب خوف نہیں، التجا تھی
“…مجھے اپنی موت کا خوف نہیں… بس ایک التجا ہے”
بولو۔” زافیر نے مختصر اور سرد لہجے میں کہا۔ “
“ہماری اس تاریک دنیا میں غدار کو بیوی بچوں سمیت ختم کر دیا جاتا ہے۔ بس… بس یہ مت بتائیے گا کہ میں نے آپ کو کچھ بتایا تھا۔ ورنہ وہ میرے بیوی بچوں کو مار ڈالیں گے۔”
زافیر نے کچھ نہیں کہا۔ بس اسے خاموشی سے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں سرد مہری تھی… لیکن اچانک ایک چہرہ ابھرا… آبرو کا چہرہ… اور اس لمحے وہ جنون، وہ نفرت، ایک لمحے کو تھم گئی۔
“میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گا۔”
زافیر نے پختہ لہجے میں کہا۔
پھر وہ میز کی طرف مڑا اور وہاں سے ایک چمکتا ہوا دو دھاری خنجر اٹھایا۔ جیسے ہی وہ قیدیوں کے قریب آیا، سب کے چہروں پر موت کا سایہ چھا گیا۔ ان کی نظریں خنجر پر جمی تھیں اور خوف ان کی سانسیں چُرا رہا تھا۔
ان کے اضطراب کو دیکھ کر زافیر نے کہا،
“میں اپنے وعدے پر قائم ہوں… تمہیں آسان موت دوں گا۔”
پھر وہ ایک قیدی کے قریب آیا، خنجر اس کے سینے پر رکھا اور آہستگی سے دھکیل دیا۔ خنجر چھاتی چیرتا ہوا دل کے پار ہو گیا۔ ایک سسکی، ایک آخری سانس اور پھر گہرا سکوت۔
…پھر دوسرا، تیسرا، چوتھا
یہاں تک کہ سبھی خاموش ہو گئے۔ کمرے میں صرف زافیر کی سانسوں کی آواز باقی رہ گئی تھی۔
:اب صرف دو کام باقی تھے
لاشوں کو جلانا… اور کمرے کی صفائی۔
اس نے خون آلود خنجر میز پر رکھا، دستانے پہنے اور بغیر ایک لمحہ ضائع کیے اپنے کام میں لگ گیا۔
°°°°°°°°°°
نئی صبح زیادہ تر عام سی ہوتی ہے لیکن بعض اوقات خوشخبری لاتی ہے یا کسی برے واقعے کی خبر۔ آج کی صبح بےخبری کا پیغام لے کر آئی تھی۔
ایان لان میں بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا۔ ہلکی سی ہوا چل رہی تھی اور دھوپ دھیرے دھیرے سبزے پر پھیل رہی تھی۔ وہ نرمی سے پراٹھے کا نوالہ توڑ ہی رہا تھا کہ حویلی کے دروازے پر گاڑی رکی۔ گزشتہ رات کے دونوں جوان اندر داخل ہوئے اور سیدھے اس کی طرف بڑھے۔ وہ خاموشی سے اس کے قریب پڑی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔
،ایان نے ان کی طرف دیکھے بغیر ایک نوالہ منہ میں رکھتے ہوئے کہا
“صبح صبح کوئی اچھی خبر ہی دینا؟”
،دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ کچھ کہنے سے پہلے لمحے بھر کی خاموشی چھا گئی، پھر ان میں سے ایک دھیمے لہجے میں بولا
“آزلان کے گھر پر کوئی موجود نہیں تھا۔ وہ ٹیم رات کو ہی واپس آ گئی تھی… لیکن زافیر کے بنگلے پر حملہ کرنے والی دوسری ٹیم لاپتہ ہے۔”
،ایان کا ہاتھ چائے کی کپ کی طرف بڑھا ہی تھا کہ رک گیا۔ وہ چند لمحے ساکت بیٹھا رہا جیسے بات کو پوری طرح سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ پھر اس نے چونک کر پوچھا
“لاپتہ؟ کیا مطلب لاپتہ؟”
،آدمی نے آہستہ آواز میں جواب دیا
“ان کے باقی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ آخری رابطہ تب ہوا تھا جب وہ زافیر کے گھر میں داخل ہونے والے تھے۔ اس کے بعد کوئی آواز، کوئی گولی، کوئی سگنل… کچھ بھی نہیں۔ مکمل خاموشی۔”
ایان کی آنکھوں میں اب الجھن واضح تھی۔
“قریبی تھانے میں کوئی ایف آئی آر؟ کوئی اطلاع؟”
“نہیں سر، کچھ بھی نہیں۔ بیس مسلح افراد، جدید اسلحہ، تربیت یافتہ ٹیم… اور اس طرح غائب ہو جانا جیسے زمین نگل گئی ہو۔”
،ایان نے الجھتے ہوئے کہا
“شاید وہ زافیر کے گھر تک پہنچے ہی نہ ہوں۔ انہیں تلاش کرو، ہو سکتا ہے کہیں رکے ہوں۔”
،جواب میں وہ آدمی قدرے خوفزدہ انداز میں بولا
“ان بیس میں سے صرف ٹیم لیڈر کے پاس موبائل تھا، اور سر… وہ موبائل اب بھی آن ہے اور ٹریکر اس کی لوکیشن زافیر کے گھر کے اندر دکھا رہا ہے۔”
،ایان نے بےیقینی سے آنکھیں سکیڑیں۔ پھر سرد لہجے میں بولا
“تم کہنا چاہتے ہو کہ دو آدمیوں نے، بغیر کوئی گولی چلائے، ہماری پوری ٹیم کو قابو کر لیا؟ کیا تمہیں یہ کوئی فلم لگتی ہے؟”
،آدمی نے ہچکچاتے ہوئے کہا
“…ہمیں خود سمجھ نہیں آ رہی سر”
،ایان کا لہجہ اب تلخ ہو چکا تھا
“!…مجھے سب سمجھ آ رہی ہے۔ تمہاری ادھوری معلومات نے میرے بیس آدمیوں کی جان لی ہے”
“…”نہیں سر، ہماری معلومات درست تھیں “
،اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ایان نے غصے سے ٹوکتے ہوئے کہا
“چپ کرو…! بکواس بند کرو۔ میں نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ زافیر کا بنگلہ کوئی عام بنگلہ نہیں۔ اس نے مجھے خود بتایا تھا کہ وہ ایک قلعے جیسا مضبوط بنگلہ بنانا چاہتا ہے۔”
“جیسی اس کی سوچ تھی، اگر ویسا ہی بنگلہ اس نے بنا لیا ہے تو ہمارا ڈیرہ، جہاں سیکڑوں محافظ ہوتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ محفوظ ہے وہ جگہ۔
،دونوں آدمیوں نے شرمندگی سے نظریں جھکا لیں۔ ایان نے نفرت سے ان کی طرف دیکھا
“یہی آتا ہے تم لوگوں کو۔ جب کام پورا نہ کر پاؤ تو بے شرموں کی طرح سر جھکا لو۔”
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد ایک نے دبی آواز میں پوچھا،
“اب کیا حکم ہے، سر؟”
،ایان نے کرسی پر پیچھے ہوتے ہوئے گہری سانس لی
اب کچھ نہیں۔ زافیر محتاط ہو چکا ہوگا۔ اس کے بنگلے پر دوبارہ حملے کی غلطی مت کرنا۔ اب صرف ایک ہی راستہ ہے، گھیرا تنگ کرو۔”
“جب بھی وہ گھر سے نکلے… گولی مار دو۔ کسی بھی ہتھیار، کسی بھی طریقے سے۔ اسے زندہ مت چھوڑنا۔
“یس باس، اب غلطی نہیں ہوگی۔”
،ایان کی آنکھیں تن گئی تھیں
“غلطی کی کوئی گنجائش ہے بھی نہیں۔ تین دن میں مجھے اس کی موت کی خبر چاہیے ورنہ تم دونوں کی موت میرے ہاتھوں ہوگی۔”
دونوں آدمی ایک ساتھ کھڑے ہو گئے۔
“یس باس…!” کہہ کر وہ تیزی سے باہر نکل گئے۔
ایان نے پراٹھے کی طرف دیکھا مگر اب بھوک مر چکی تھی۔ وہ کچھ دیر سوچتا رہا پھر جیب سے موبائل نکالا اور ایک نمبر ملایا۔ لہجہ نرم ہو چکا تھا
“میرے بیوی بچوں کے لیے آسٹریا کی فوری ٹکٹ کرو۔ آج شام سے پہلے انہیں ملک سے باہر جانا ہے۔”
،دوسری طرف سے کچھ پوچھا گیا۔ ایان نے سر جھٹک کر کہا
“نہیں، کسی کو خبر نہ ہو۔ ان کی وہاں رہائش بھی بدلو۔ میرے اور تمہارے سوا کسی کو بھی علم نہ ہو کہ وہ کہاں جا رہے ہیں… بلکہ تم خود بھی ان کے ساتھ چلے جاؤ۔”
،کچھ لمحے وہ خاموش رہا، پھر ہلکی جھنجھلاہٹ سے بولا
“نہیں، کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ مجھے لگتا ہے… جنگ چھڑنے والی ہے۔ بہت بڑی جنگ۔ جو سب کچھ جلا کر راکھ کر دے گی۔”
اس نے کال کاٹ دی، موبائل میز پر رکھ دیا۔ لمحہ بھر کو آنکھیں بند کیں اور گہری سانس لی۔
پہلی بار اسے زافیر سے خوف محسوس ہوا تھا۔ وہ جانتا تھا، ابھی زافیر کمزور ہے… لیکن اگر زندہ رہا تو وہ سب کچھ بدل سکتا ہے۔
اب زافیر کو روکنا اس کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد بن چکا تھا۔
°°°°°°°°°°
دوپہر کے دو بج چکے تھے، سورج کی تپش کھڑکی کے پردوں کو چیرتی ہوئی کمرے کے اندر اتر رہی تھی، لیکن زافیر ابھی تک گہری نیند میں تھا۔ کمرے میں نیم تاریکی تھی، پنکھے کی ہلکی سی گڑگڑاہٹ اور باہر سے آتی چڑیوں کی چہچہاہٹ ایک سست، مگر پراسرار خاموشی میں گھلی ہوئی تھی۔
دروازے پر آہستہ سی دستک ہوئی۔
آ جاؤ…” زافیر نے آنکھیں بند رکھے ہوئے، غنودگی میں ہی جواب دیا۔”
دروازہ کھلا۔ آزلان اندر داخل ہوا اور خاموشی سے بیڈ کے قریب، الماری کے ساتھ رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔ چند لمحے وہ یوں ہی زافیر کے پرسکون چہرے کو دیکھتا رہا۔ اس کی نگاہوں میں نرمی تھی۔ جانتے ہوئے بھی کہ زافیر ایک آدم خور ہے، آزلان کو اس سے محبت تھی۔ اس کے دل میں اس کے لیے بڑے بھائی جیسا مقام تھا۔ یہی وہ وجہ تھی کہ زافیر کا ہر اچھا بُرا عمل، ہر فیصلہ، آزلان کے لیے بغیر سوال کے قابل قبول تھا۔ اچانک اس کی نظر زافیر کے ہاتھ پر پڑی، جہاں سفید پٹیاں بندھی تھیں۔
“باس…! باس…!” آزلان نے نرمی سے پکارا۔
زافیر نے ہلکی سی کروٹ لی اور نیم وا آنکھوں سے پوچھا
“ہاں؟ کیا ہے؟”
“دن کے دو بج چکے ہیں… اٹھ جائیں۔”
زافیر نے بمشکل آنکھیں کھولیں، ایک لمحے کو آزلان کو دیکھا پھر فوراً آنکھیں موند لیں۔ لیکن اگلے ہی لمحے وہ چونک کر اٹھ بیٹھا اور بےچین لہجے میں پوچھا،
“آبرو… آبرو کہاں ہے؟”
“وہ امی کے پاس ہے۔ پڑھ رہی ہے۔ آج اسے اسکول نہیں بھیجا۔”
یہ سن کر زافیر کے چہرے پر سکون کی ایک ہلکی سی لہر دوڑ گئی۔ اس نے لمبی سانس لی اور دوبارہ بیڈ پر گر گیا۔ کچھ دیر چھت کو تکتا رہا، جیسے کچھ سوچ رہا ہو۔
،آزلان نے اس کے ہاتھ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
“کیا آپ کو چوٹ لگی ہے؟”
،زافیر نے اپنا ہاتھ اٹھا کر ایک نظر دیکھا اور پھر سینے پر رکھتے ہوئے جواب دیا
“…نہیں… بس رات کو ہلکا سا جل گیا تھا۔ خیر”
،اچانک لہجہ بدلتے ہوئے وہ بیٹھ گیا، آلتی پالتی مار کر اور آہستہ سے بولا
“…انسپکٹر ایان”
“یہ سب کچھ اسی کا کیا دھرا ہے۔ نہ صرف میرے بنگلے پر حملہ… بلکہ تمہارے گھر پر بھی۔”
آزلان نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
“میرے گھر؟ وہ پہلے وہاں بھی گئے تھے؟”
“نہیں… وہ ان کا دوسرا گروپ تھا۔”
زافیر نے یہ کہتے ہوئے سائیڈ ٹیبل سے پانی اٹھایا اور گلاس میں انڈیل کر پینے لگا۔
“!…ہمیں ان کے خلاف کچھ کرنا ہوگا، باس”
آزلان کی آواز میں بےچینی تھی۔
“ضرور کریں گے… لیکن فی الحال گھر کے اندر رہ کر۔”
زافیر نے اطمینان سے پانی کا گلاس لبوں سے لگا لیا۔
“…نہیں باس، اگر کچھ کرنا ہے”
…آزلان اپنی بات مکمل کرنے ہی والا تھا کہ اس کے موبائل پر کال آنے لگی۔ اس نے موبائل نکالا اور سکرین دیکھی
اللہ رکھا
نام چمک رہا تھا۔ وہی گینگسٹر، جس کے آدمی کل ان کے ساتھ متوازی دنیا میں گئے تھے۔
،آزلان نے کال اٹھا کر فون اسپیکر پر کر دیا
“جی رکھا صاحب؟”
دوسری طرف سے بھاری لیکن بےچین آواز آئی،
“مجھے آپ سے فوراً ملنا ہے۔”
،آزلان نے حیرت سے پوچھا
“خیریت تو ہے؟”
“یہ باتیں کال پر نہیں ہو سکتیں۔ آ کر بتاتا ہوں۔”
آواز میں بےچینی صاف جھلک رہی تھی۔ آزلان نے زافیر کی طرف دیکھا۔ زافیر نے خاموشی سے اشارہ کیا، بلا لو۔
“جی، جب چاہیں تشریف لائیں رکھا صاحب۔ ہم ہمیشہ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔”
آزلان نے رسمی خوش اخلاقی سے کہا۔
“…میں ابھی نکل رہا ہوں، آدھے گھنٹے میں پہنچوں گا۔ اور ہاں”
رکھا کی آواز میں اچانک سختی آ گئی،
“گھر سے باہر مت نکلنا۔”
اتنا کہہ کر اس نے فوراً کال کاٹ دی۔
آزلان، حیرت اور بےچینی کے ملے جلے تاثرات لیے زافیر کو دیکھنے لگا۔ کچھ لمحے پہلے زافیر نے بھی یہی کہا تھا، گھر سے نہیں نکلنا۔
،زافیر نے گہری نظروں سے آزلان کو دیکھا اور آہستہ سے بولا
“لگتا ہے… حالات میری سوچ سے بھی زیادہ خراب ہونے والے ہیں۔”
،آزلان نے اثبات میں گردن ہلائی اور کھوئے سے انداز میں بولا
“آپ نہا لیں، فریش ہو جائیں۔ میں تب تک آپ کے لیے چائے بنواتا ہوں۔”
یہ کہتے ہی وہ اٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا، قدم خود بخود کچن کی طرف بڑھنے لگے… لیکن دل میں انجانا سا اضطراب بھی ساتھ تھا۔
°°°°°°°°°°
ابھی وہ کچن تک پہنچا بھی نہیں تھا کہ جیب میں رکھا موبائل بج اٹھا۔ موبائل نکالتے ہوئے وہ کچن کے دروازے پر پہنچا جہاں عمر رسیدہ ملازمہ دوپہر کے کھانے کی تیاری میں مصروف تھی۔
“ماسی… صاحب جاگ گئے ہیں۔ ان کے لیے چائے بنا دو۔”
،ماسی نے جھنجھلا کر برتن کٹورا ایک طرف رکھا، آنکھوں میں خفگی لیے بڑبڑائی
“!..پتا نہیں کیا چیز ہے یہ بندہ… وقت بے وقت بس چائے ہی مانگتا ہے۔ حیرت ہے، زندہ بھی کیسے ہے”
آزلان کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری، وہ کچھ کہے بغیر واپس پلٹ گیا۔
موبائل اب بھی بج رہا تھا۔ اسکرین پر اجنبی نمبر جگمگا رہا تھا۔
“ہیلو؟ کون؟”
اس نے کال ریسیو کرتے ہی فون کان سے لگا لیا۔ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ الجھن سے بولا،
“حبیب کون؟”
جواب سن کر اس کے چہرے پر ہلکی سی نرمی آ گئی۔
“!…ایک منٹ، رکو”
اتنا کہہ کر وہ زافیر کے کمرے کی طرف بڑھا۔ زافیر ابھی بستر سے اٹھنے ہی والا تھا جب آزلان اندر داخل ہوا۔ اس نے کال کو اسپیکر پر ڈالا اور کہا
“کل جو بندہ ہمارے ساتھ تھا، وہی کال پر ہے۔ کہہ رہا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے۔”
،زافیر نے تھوڑا سوچا اور پھر نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولا
“نہیں، وہ کسی کام کا نہیں لگتا۔ منع کر دو اسے۔”
،فون اسپیکر پر حبیب کی آواز فوراً ابھری
“میں بہت کام آ سکتا ہوں… اور اپنی وفاداری کے ثبوت کے طور پر ایک بڑی خبر دینے جا رہا ہوں۔”
کیسی خبر؟” آزلان نے فوراً پوچھا۔”
“کیا راجہ رکھا تمہارے پاس آ رہا ہے؟”
“ہاں… آ رہا ہے، لیکن تم کیوں پوچھ رہے ہو؟”
“محتاط رہیے گا، پنجگور سے آپ دونوں کی سپاری آئی ہے۔ پنجاب بھر کے گینگز کو آفر دی گئی ہے۔ راجہ رکھا کو بھی۔”
یہ سنتے ہی آزلان نے چونک کر زافیر کی طرف دیکھا۔ زافیر کی آنکھوں میں یکدم سنجیدگی اتر آئی۔
،اب زافیر خود گویا ہوا
“تمہیں کیا لگتا ہے کہ تم ہمارے کس کام آ سکتے ہو؟”
“میں کمانڈر عطا خان کا قریبی آدمی رہا ہوں، مجید بریگیڈ کے اندر۔ بلکہ آج بھی ان سے رابطے میں ہوں۔”
،زافیر نے ناسمجھی سے آزلان کی طرف دیکھا۔ آزلان نے موبائل میوٹ پر کرتے ہوئے وضاحت دی
“یہ ایک علیحدگی پسند تنظیم ہے۔ اگر یہ عطا خان، ایان کے ساتھ نہیں تو ہم اسے استعمال کر سکتے ہیں۔ اور اگر ہے بھی، تب بھی ہم حبیب کے ذریعے ان لوگوں پر نظر رکھ سکتے ہیں۔”
،پھر اس نے دوبارہ کال کو آن کیا اور حبیب سے پوچھا
“تمہاری بول چال تو پنجابی لگتی ہے۔ بلوچ تنظیم تک کیسے جا پہنچے؟”
“مجھے اسی صاف اردو اور پنجابی لہجے کی وجہ سے پنجاب میں کام پر بھیجا گیا تھا۔ لیکن میرا آبائی علاقہ پنجگور ہی ہے۔”
“پھر ان سے غداری کی وجہ؟”
“یہ غداری نہیں ہے… میں تھک گیا ہوں۔ اور سچ کہوں تو ڈر بھی گیا ہوں۔ ہم اپنی جانیں تنظیم کے نام پر قربان کرتے ہیں، لیکن ہمارے مرنے کے بعد کوئی ہمارے بچوں کا حال بھی نہیں پوچھتا۔ جیسے ہم کبھی تھے ہی نہیں۔”
،آزلان نے نرمی سے پوچھا
“تو بدلے میں تم ہم سے کیا چاہتے ہو؟”
“کچھ نہیں… دولت کی کوئی لالچ نہیں۔ بس اتنا چاہتا ہوں کہ اگر میں کبھی مارا گیا تو میرے بیوی بچوں کا خیال آپ رکھ لیں۔ ان کی حفاظت اور کفالت آپ کی ذمہ داری ہو۔”
،زافیر نے قدم آگے بڑھا کر ٹھوس لہجے میں کہا
“تمہارا خاندان ہماری ذمہ داری ہوگا۔ ہم جلد تم سے رابطہ کریں گے۔”
،پھر وہ زافیر کی طرف متوجہ ہوا اور کہا
“اس کا نمبر میرے موبائل میں سیو کر دو۔”
یہ کہہ کر وہ واش روم کی طرف بڑھ گیا۔ آزلان نے ایک لمحہ حبیب کی آواز کو سنا پھر کال منقطع کر دی۔
°°°°°°°°°°
ذبح خانے کی طرف الگ چاردیواری میں، گیٹ پر کھڑے آزلان اور زافیر نے راجہ اللہ رکھا کا استقبال کیا۔ دونوں کے ہاتھوں میں جدید خودکار رائفلیں تھیں جو ان کی تیاری اور سنجیدگی کو ظاہر کر رہی تھیں۔
،راجہ رکھا، ویگو ڈالے سے اترتے ہوئے مسکرا دیا۔ اپنے ساتھیوں کی طرف مڑ کر بولا
“سب لوگ اپنا اسلحہ گاڑی میں ہی چھوڑ دو۔”
،پھر خود بھی اپنی کمر سے پسٹل نکال کر ویگو کی سیٹ پر رکھ دیا۔ آزلان کے قریب پہنچا تو نرمی سے بولا
“بہتر ہوگا کہ تم ہماری تلاشی لے لو۔”
،آزلان نے بندوق نیچے کرتے ہوئے اعتماد سے کہا
“نہیں… اس کی ضرورت نہیں، آئیے میرے ساتھ۔”
،پھر سب ایک طرف لان کی جانب بڑھ گئے، جہاں پہلے ہی کرسیاں لگی ہوئی تھیں۔ سب اپنے اپنے مقام پر بیٹھ گئے۔ راجہ رکھا نے کرسی پر جھکتے ہوئے انگلیوں کا شکنجہ بنایا اور زافیر کی طرف دیکھ کر بولا
“آپ ہی زافیر ہیں، صحیح…؟”
زافیر خاموش رہا۔ چہرہ سپاٹ، آنکھوں میں چمک جیسے ہر بات کا جواب اُس کی خاموشی میں چھپا ہو۔
،راجہ رکھا نے قدرے جھک کر دھیرے سے کہا
“آپ کے سر پر دس کروڑ کا انعام رکھا گیا ہے۔”
آزلان نے ہنستے ہوئے فقرہ کسا، “لگتا ہے ہمارے باس کی مارکیٹ میں قیمت بڑھ گئی ہے۔”
راجہ رکھا نے سنجیدگی سے آزلان کی طرف دیکھا اور کہا، “اور تمہارے سر پر پچاس کروڑ کا انعام ہے۔”
آزلان کی ہنسی یک دم غائب ہوگئی۔ اس نے چونک کر زافیر کو دیکھا، جس کے ہونٹوں پر اب ایک ہلکی سی مسکراہٹ ابھری تھی۔
اللہ رکھا نے سرد لہجے میں بات جاری رکھی، “پنجگور سے سپاری آئی ہے کہ تمہیں پہلے مارا جائے، تاکہ زافیر بے بس ہو جائے۔”
،زافیر نے فوراً بات کا رُخ موڑنے کی کوشش کی اور سوال کیا
“ٹھیک ہے لیکن آپ کے آنے کی اصل وجہ کیا ہے؟”
مجھے دولت سے خریدا نہیں جا سکتا۔ میں ایک بار جس کے ساتھ کھڑا ہو جاؤں، پھر جان چلی جائے لیکن وفاداری نہیں بدلتی۔” راجہ رکھا نے مضبوط لہجے میں کہا “
پھر چند پل کی خاموشی کے بعد آہستگی سے پوچھا،
“مجھے خبر ملی ہے کہ آج رات آپ کے گھر پر حملہ ہوا تھا۔”
،آزلان چونک گیا۔ یہ سن کر آزلان کو فوراً شک ہوا کہ راجہ رکھا کی نیت صاف نہیں۔ پہلے زافیر کو دیکھا، پھر محتاط لہجے میں پوچھا
“رات کو؟ نہیں… ہمیں تو کچھ خبر نہیں۔ آپ کو کس نے بتایا؟”
،راجہ رکھا نے فخریہ لہجے کے ساتھ کہا
“ہمیں خبریں رکھنا آتا ہے۔ اطلاع ملی کہ حملہ آور آئے، لیکن پھر جیسے غائب ہو گئے۔ بنگلہ دیکھ کر لگتا ہے واقعی کچھ نہیں ہوا، سب کچھ ویسا ہی ہے۔”
،آزلان نے مضبوط لہجے میں کہا
“آپ کو شاید غلط خبر ملی۔ ہمیں تو کوئی آہٹ تک سنائی نہیں دی۔”
،راجہ رکھا کچھ لمحے خاموش رہا پھر بولا
“…لیکن آپ کا یوں مستعد ہونا، جیسے کہ”
زافیر نے بات کاٹتے ہوئے کہا: “اگر آپ کے ذرائع پنجگور تک پہنچتے ہیں، تو انسپکٹر ایان تک میرا پیغام پہنچا دیجیے گا۔”
زافیر کے الفاظ میں ایسی شدت تھی کہ راجہ رکھا کا رنگ فق ہو گیا۔ اُس نے کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن زافیر کی نظریں جیسے سینہ چیر رہی ہوں۔
“میں خود پنجگور آؤں گا… اور ایان کی کھال اتار کر اپنا کمبل بناؤں گا… اور میں یہ مذاق نہیں کر رہا۔”
،راجہ رکھا کے قدم لڑکھڑا گئے۔ وہ کرسی سے اٹھتے ہوئے بولا
“مجھے نہیں معلوم ایان کون ہے لیکن جس نے انعام رکھا ہے، اس تک آپ کا پیغام ضرور پہنچا دوں گا۔ بس… احتیاط کیجیے گا۔”
،زافیر نے ٹھنڈے مگر فولادی لہجے میں کہا
“ہم جانتے ہیں کہ اپنی حفاظت کیسے کرنی ہے۔”
راجہ رکھا جو کئی گینگسٹرز کا سامنا کر چکا تھا، زافیر کی آنکھوں میں جو آگ دیکھی، وہ اس کے لیے نئی تھی۔ اس نے جلدی سے مصافحہ کیا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ ویگو میں بیٹھ کر باہر نکل گیا۔ گیٹ خود بخود بند ہوگیا۔
“پریشان مت ہوں باس…” آزلان نے ہنستے ہوئے کہا۔
زافیر نے گھور کر دیکھا، “کس بات کی پریشانی؟”
“یہی کہ آپ پر دس کروڑ اور مجھ پر پچاس کروڑ کا انعام ہے۔”
زافیر کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری۔ اُس نے نظریں تیکھی کرتے ہوئے جواب دیا،
“دعا کرو کہ انہیں میری اصلیت کا علم نہ ہو جائے… ورنہ وہ اپنی ساری جمع پونجی مجھ پر انعام کے طور پر لگا دیں گے۔”
،آزلان ہنسا اور فوراً موضوع بدلا
“تو پھر اب کیا کرنا ہے؟”
،زافیر نے آسمان کی طرف ایک نظر ڈالی، جیسے آنے والے دنوں کو پڑھنے کی کوشش کر رہا ہو پھر دھیمے مگر مضبوط لہجے میں بولا
“ہم ہمیشہ یہاں قید نہیں رہ سکتے۔ ہمیں طاقت چاہیے اور جتنا جلد ممکن ہو، ایان کو ختم کرنا ہوگا۔”
“سمجھ گیا باس… آج سے ہی کام شروع کرتا ہوں۔”
آزلان نے کہا اور موبائل نکال لیا۔
°°°°°°°°°°
آبرو کا اسکول جانا مکمل طور پر بند ہوچکا تھا۔ اسکول انتظامیہ کو غیرمعمولی طور پر بھاری رقم کی پیشکش کی گئی، جس کے بعد طے پایا کہ اساتذہ اب اسے گھر پر ہی تعلیم دیں گے۔ آزلان اور اس کی والدہ نے بھی حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے زافیر کے بنگلے کو عارضی طور پر مستقل مسکن بنا لیا تھا۔ کم از کم یہ سلسلہ تب تک چلنے والا تھا، جب تک سب کچھ معمول پر نہ آ جاتا۔
ملازمہ کو بھی، احتیاطی تدبیر کے طور پر، کچھ عرصے کے لیے رخصت پر بھیج دیا گیا تھا۔ ان اچانک اور غیر متوقع تبدیلیوں نے مومنہ بیگم کو بے حد تشویش میں مبتلا کر دیا۔ وہ بارہا آزلان سے سوال کرتیں کہ آخر یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے؟ لیکن ہر بار آزلان بڑے اطمینان اور تسلی سے کوئی من گھڑت کہانی گھڑ لیتا، جس پر مومنہ بیگم بظاہر تو مطمئن ہو جاتیں مگر ان کی آنکھوں میں تشویش کی پرچھائیاں باقی رہتیں۔
…یوں خاموشی اور گھٹن میں لپٹے تین دن گزر گئے
…زافیر کے ذبح خانے میں انسانی گوشت کا ذخیرہ اب بھی موجود تھا، مگر اس کی نظر میں وہ گوشت اپنی تاثیر اور تازگی کھو چکا تھا۔ وہ بدذائقہ ہو چکا تھا اور ناقابلِ برداشت
…اب وقت آ چکا تھا نئے شکار کا
حالات ناموافق تھے، خطرات ہر قدم پر منہ کھولے کھڑے تھے لیکن زافیر کے پاس کوئی اور راستہ نہیں بچا تھا۔ اور اس بار، وہ صرف خوراک کے لیے شکار پر نہیں نکل رہا تھا بلکہ اپنی طاقت، مہارت اور جنون کی آخری حد آزمانے جا رہا تھا۔
یہ قدم… یا تو کئی انسانوں کی موت کا سبب بننے والا تھا یا پھر خود زافیر کی بربادی کا آغاز ہونے والا تھا۔ اور یہ سب آج کی رات ہی ہونے والا تھا۔
°°°°°°°°°°
…جاری ہے
