ناول درند
قسط نمبر 17
باب دوّم: انتقام
مصنف: زیاد اصغر زارون
°°°°°°°°°°
زافیر کی گاڑی کا شیشہ کاٹ کر توڑا جا چکا تھا اور مسلح افراد نے دونوں کو زبردستی باہر گھسیٹ لیا۔ ہائی وے پر تیز رفتاری سے گاڑیاں گزر رہی تھیں، مگر اسلحہ تھامے غنڈوں کو دیکھ کر کسی میں رکنے کی جرات نہیں تھی۔
سڑک کے کنارے زافیر نیم بے ہوش پڑا تھا جبکہ اس کے پاس ہی آزلان زخمی حالت میں بیٹھا تھا۔ ان کے لیڈر نے قریب آ کر زافیر کی نبض چیک کی، دھیمی، بمشکل محسوس ہونے والی۔ اس نے فوراً موبائل نکالا، دونوں کی ویڈیو بنائی اور کسی کو واٹس ایپ پر بھیج دی۔ آزلان یہ سب دیکھ رہا تھا مگر بے بسی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا خاموش بیٹھا رہا۔
چند لمحوں بعد زافیر نے ایک گہری، اٹکی ہوئی سانس لی، جیسے بے ہوشی کی دھند کو چیر کر واپس حقیقت میں لوٹ آیا ہو۔
“لو بھئی… یہ صاحب بھی ہوش میں آگئے۔” لیڈر کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ آئی۔
زافیر کی ٹوٹی پسلی پھیپھڑوں پر دباؤ ڈال رہی تھی، جس سے اس کی سانس بے ربط اور بھاری ہو گئی تھی۔ اس کے باوجود اس کی نظریں ایک پل کو بھی حملہ آوروں کے چہروں سے نہ ہٹیں۔
،اسی دوران لیڈر کے موبائل پر ایک ویڈیو کال آ گئی۔ اس نے فوراً اٹھائی اور کیمرہ دونوں پر کرتے ہوئے بولا
آزلان پر ایک سو بیس کروڑ کا انعام ہے اور زافیر پر تیس کروڑ کا۔ “
“ہم ایک سو بیس کروڑ والے کو یہیں ختم کر رہے ہیں اور دوسرے کو ساتھ لے جا رہے ہیں۔ جیسے ہی پوری رقم مل گئی، اسے بھی مار دیں گے۔
یہ کہہ کر اس نے اپنے قریب کھڑے ساتھی سے ہاتھ بڑھا کر پستول لیا۔
،آزلان نے نم آنکھوں سے زافیر کو دیکھا اور دھیمی آواز میں کہا
“…معاف کیجیے گا باس… شاید میرا ساتھ”
اس کے الفاظ ابھی ادھورے ہی تھے کہ ایک گولی کی کرخت آواز گونجی۔ آزلان کا سر جھٹکے سے پیچھے کو گرا، گولی لگنے سے ماتھے میں سوراخ بن گیا اور اگلے لمحے اس کی آنکھوں کی روشنی بجھ گئی۔ اسے آخری ہچکی بھی نصیب نہیں ہوئی… روح خاموشی سے پرواز کر چکی تھی۔
زافیر نے یہ سب اپنی خشک مگر دہکتی ہوئی آنکھوں سے دیکھا۔ اس کا وجود غصے اور دکھ کے بھاری طوفان میں لرز رہا تھا۔ آنکھوں کی پتلیوں کے گرد سرخی پھیل گئی تھی، چہرے پر جلال کا سایہ اور ہاتھوں کی مٹھیاں فولاد کی طرح بھنچی ہوئی تھیں۔ وہ نہ چیخ سکا، نہ رو سکا مگر اس کی خاموشی اپنے اندر طوفان سمیٹے ہوئے تھی۔ ٹوٹی ٹانگیں اور پسلی اسے حرکت سے محروم کیے ہوئے تھیں مگر نگاہیں قاتل کے وجود کو چیرتی جا رہی تھیں۔
،اچانک لیڈر کے موبائل سے ایک سخت آواز گونجی
“اسے بھی مار ڈالو… پوری انعامی رقم تمہاری ہوگی۔”
،لیڈر نے کال کا جواب دینے کے بجائے اپنے ساتھیوں کو جھڑک دیا
“اپنے باپ کا منہ کیا دیکھ رہے ہو؟ گاڑی میں ڈالو اسے۔”
،پھر کیمرے کی طرف متوجہ ہو کر طنزیہ انداز میں بولا
کیا مجھے پاگل سمجھ رکھاہے؟”
“جب تک انعام کا سارا پیسہ نہیں مل جاتا، اسے نہیں ماریں گے۔
کال کاٹ کر اس نے موبائل جیب میں ڈالا اور گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔ اس کے ساتھیوں نے زافیر کو بے دردی سے اٹھا کر گاڑی میں پھینکا اور دو تین منٹ میں وہ ہائی وے پر دھول اڑاتے ہوئے دور نکل چکے تھے۔
°°°°°°°°°°
پولیس جب موقعِ واردات پر پہنچی تو حملہ آور بہت پہلے جا چکے تھے۔ سڑک کے کنارے لوگوں کا جمِ غفیر امڈ آیا تھا، مگر سب کی نظریں ایک ہی منظر پر جمی تھیں۔ آزلان کی لاش، جو گرد آلود زمین پر ایسے پڑی تھی جیسے کوئی لاوارث میت ہو، جس پر اب کسی کا سایہ تک نہ رہا ہو۔
پولیس گاڑیوں کے سائرن تھمے تو مجمع آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنے لگا۔ وردی پوش اہلکار رسمی تفتیش میں لگ گئے۔ نشانات دیکھنا، لوگوں سے سوال کرنا اور اپنے نوٹ پیڈ بھرنا۔ فضا میں ایک عجیب سی خاموشی اور تجسس کا امتزاج تھا۔
اسی لمحے، سڑک کے کنارے تین سیاہ ویگو ڈالے آ کر ایک دم رکے۔ ان کے دروازے کھلے اور کالے پینٹ کوٹ میں ملبوس نو آدمی سنجیدہ چہروں کے ساتھ باہر نکلے۔ ان کی حرکات میں ایک مہذب سختی اور عسکری ڈسپلن جھلک رہا تھا۔
ان میں سے ایک شخص آہستگی سے انسپکٹر کے قریب آیا۔ بنا آواز اونچی کیے، اسے ہلکے اشارے سے ایک طرف لے گیا۔ چند لمحے سرگوشیوں میں بات کی پھر خاموشی سے اپنا موبائل نکال کر اس کا لاک کھولا اور انسپکٹر کے ہاتھ میں تھما دیا۔
انسپکٹر ایک لمحے کے لیے رکا پھر بوجھل قدموں سے ہر لاش کے پاس گیا۔ باری باری تصاویر لیں، خاص زاویوں سے، جیسے ہر تصویر کسی مخصوص مقصد کے لیے لی جا رہی ہو۔ کام مکمل ہونے پر اس نے موبائل واپس کیا۔
وہ شخص پرسکون چہرے کے ساتھ انسپکٹر کو ایک وزٹنگ کارڈ تھما گیا۔ پھر وہ اور اس کے ساتھی بغیر کوئی لفظ کہے واپس اپنی گاڑیوں میں بیٹھے اور اسی خاموشی سے وہاں سے روانہ ہو گئے۔
°°°°°°°°°°
آج حورا کا زافیر کے بنگلے میں پہلا دن تھا۔ چند ہی گھنٹوں میں اس نے آبرو کے ساتھ گھل مل کر ایک دوستانہ ماحول پیدا کر لیا تھا۔ وہ اسے ڈرائنگ کے بنیادی طریقے سکھا رہی تھی اور بیچ بیچ میں چٹکلے سنا کر ہنسا رہی تھی۔
دوپہر کے کھانے کا وقت قریب آتے ہی، آزلان کی والدہ ہاتھ میں ایک بڑی ٹرے سنبھالے کمرے میں داخل ہوئیں۔ ٹرے میں خوشبودار بریانی، ٹھنڈا رائتہ اور تازہ سلاد سجا ہوا تھا۔ یہ حورا کے لیے ان کی طرف سے خاص اہتمام تھا۔
،حورا نے انہیں دیکھتے ہی مسکرا کر فوراً اٹھ کر آگے بڑھتے ہوئے ٹرے پکڑ لی اور ہلکی سی شرمندگی کے ساتھ بولی
“آپ نے بتایا کیوں نہیں؟ میں خود لے آتی۔”
،مومنہ خاتون نے محبت سے اس کے گال پر ہاتھ رکھا اور نرمی سے کہا
“یہ ٹیبل پر رکھو، میں پانی لے آتی ہوں۔”
،حورا نے ٹرے میز پر رکھتے ہوئے آبرو کی طرف مڑ کر شوخی سے پوچھا
“کیا تمہیں یہ پسند ہے؟”
آبرو اب بھی اپنی ڈائری پر جھک کر ڈرائنگ بنانے کی کوشش کر رہی تھی، مگر حورا کی بات پر مسکرا کر اثبات میں سر ہلا دیا۔
تو پھر آ جاؤ۔” حورا نے چہکتے ہوئے کہا۔ آبرو نے فوراً پنسل ایک طرف پھینکی اور دوڑ کر کرسی پر بیٹھ گئی۔”
،ٹرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی
“میں بوٹی نہیں کھاؤں گی، مجھے وہ آلو چاہیے۔”
ٹیبل پہلے سے برتنوں سے سجا ہوا تھا۔ حورا نے کرسیوں کے سامنے تین پلیٹیں رکھیں اور ہر پلیٹ میں چمچ رکھ دیے۔ تب تک مومنہ خاتون بھی جگ میں ٹھنڈا پانی لیے واپس آ گئیں۔ جگ میز پر رکھتے ہوئے انہوں نے حورا کو اشارہ کیا اور حورا احتیاط سے تینوں پلیٹوں میں بریانی ڈالنے لگی۔
وہ ابھی اپنی کرسی پر بیٹھی بھی نہیں تھی کہ گھر کے فون کی گھنٹی بج اٹھی۔
“ایک تو یہ لوگ بھی نا… جیسے ہی کھانے کے لیے بیٹھو، کال کر دیتے ہیں۔” مومنہ خاتون نے ہلکی سی خفگی سے کہا اور فون کی طرف بڑھ گئیں۔
“السلام علیکم…!” مومنہ خاتون نے کال اٹھائی۔
چند لمحے خاموشی رہی، پھر وہ نرمی سے بولیں،
“جی، یہ زافیر کا ہی گھر ہے، لیکن آپ کون…؟”
دوسری طرف سے کچھ سن کر ان کی پیشانی پر شکنیں گہری ہو گئیں۔
“میں… آزلان کی ماں ہوں۔ آپ سوال کیے جا رہے ہیں لیکن اپنا تعارف نہیں دے رہے۔”
یہ کہتے ہوئے ان کی آواز میں بےچینی گھلنے لگی۔ اچانک وہ چونکیں، آنکھیں پھیل گئیں اور لب کانپنے لگے۔
“کیا…؟ کب؟” ان کی آواز ٹوٹ گئی۔
“میرے بچے کیسے ہیں؟ میرا آزلان… کیسا ہے؟”
ان کا وجود لرزنے لگا۔ ہاتھ سے فون پھسلنے کو تھا۔ حورا نے یہ سب دیکھا تو گھبرا کر ان کے پاس آئی،
“آنٹی… کیا ہوا؟”
مومنہ خاتون نے کوئی جواب نہیں دیا۔ آنکھوں میں نمی بھر کر چھلک گئی اور اگلے لمحے وہ دھاڑیں مار کر رونے لگیں۔ ان کا جسم کانپ رہا تھا، وہ جیسے اپنی سانسوں پر قابو نہیں پا سکیں۔ ہاتھ اب بھی فون کو پکڑے ہوئے تھے، مگر آواز بے قابو ہو چکی تھی،
“…اوہ میرا بچہ… اوہ میرا پتر”
آبرو بھی سہم کر کھڑی رہ گئی، آنکھوں میں خوف اور پریشانی۔
،حورا نے جھنجھوڑ کر کہا
“آنٹی… خدا کے لیے بتائیے کیا ہوا؟”
لیکن جواب صرف سسکیوں اور بین میں تھا۔ حورا نے فوراً فون ان کے ہاتھ سے کھینچا۔ دوسری طرف ابھی بھی کال جاری تھی۔
ہیلو؟” حورا کی آواز کانپ رہی تھی۔”
،اسپیکر سے ایک بھاری لہجہ گونجا
“میم… آپ کو علامہ اقبال میموریل ہسپتال سیالکوٹ آنا پڑے گا۔”
“!ہوا کیا ہے؟ آنٹی کچھ نہیں بتا رہیں، پلیز بتائیں”
،مومنہ خاتون نے اپنے آنسوؤں کے بیچ چیختے ہوئے کہا
“!اوہ ظالموں نے… میرے بچے کو مار دیا”
،حورا کی آنکھیں حیرت اور صدمے سے پھیل گئیں۔ اسپیکر سے وہی آواز گونجی
“آزلان اور زافیر کی گاڑی پر حملہ ہوا ہے۔ آزلان موقع پر ہی چل بسا اور زافیر کو اغواء کر لیا گیا ہے۔”
،یہ سنتے ہی حورا کی ٹانگوں سے جیسے جان نکل گئی۔ وہ نیچے بیٹھ کر مومنہ خاتون کو گلے لگا کر رونے لگی
“آنٹی… حوصلہ رکھیں… ہمیں فوراً سیالکوٹ جانا ہوگا۔”
اسی لمحے فون دوبارہ بجا۔ حورا نے آنسو پونچھتے ہوئے کال اٹھائی۔
“ہیلو…”
“میں زافیر کی سیکیورٹی ٹیم کا ہیڈ، زید بات کر رہا ہوں۔ یقیناً آپ کو حملے کی خبر مل چکی ہوگی۔ ہماری ٹیم آپ کی طرف آ رہی ہے۔ آپ ان کے ساتھ سیالکوٹ جائیں گی۔ جب تک وہ نہ پہنچیں، گھر سے مت نکلیں۔ خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔”
یہ کہہ کر لائن کاٹ دی گئی۔ حورا نے آبرو کی طرف دیکھا جو ابھی تک ہکا بکا کھڑی تھی، جیسے یہ سب الفاظ اس کی سمجھ سے باہر ہوں۔
،حورا نے تیزی سے اپنا بیگ اٹھایا، موبائل نکالا اور ایک نمبر ملایا
“علینہ! پلیز، کیا تم آج رات امی کے پاس ہسپتال میں رک سکتی ہو؟”
،کچھ سن کر وہ جلدی سے بولی
“میں نے بتایا تھا نا، نئی نوکری کے بارے میں… باس کے ساتھ حادثہ ہو گیا ہے۔ مجھے ان کی فیملی کے ساتھ باہر جانا ہے۔ پلیز امی کا خیال رکھنا۔”
کال منقطع ہوئی اور وہ دوبارہ مومنہ خاتون کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔ وہ اب بھی روئے جا رہی تھیں، آنکھوں سے بہتے آنسو ان کے دوپٹے کو بھگو چکے تھے۔ ان کے بین سن کر لگ رہا تھا جیسے کسی نے سینہ چیر کر وہاں آگ لگا دی ہو۔
حورا کبھی ان کا ہاتھ تھام کر تسلی دیتی، کبھی بے چینی سے کمرے میں ٹہلنے لگتی۔ وقت جیسے ایک پتھر کی طرح ساکت ہو گیا تھا۔
°°°°°°°°°°
زمار اپنی بہن رینا کے حکم پر تاج کی تلاش میں نکلا تھا۔ کندھے پر ایک بھاری بیگ لٹک رہا تھا، جس میں پستول، رسی، چاقو اور شکار کے لیے درکار دوسری مہلک اشیاء بھری تھیں۔ جنگل کی گھنی تاریکی میں اس کے قدم خاموشی سے مگر نہایت احتیاط سے آگے بڑھ رہے تھے۔ نقشے پر نگاہ ڈال کر ہی اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ سفر آسان نہیں ہوگا۔ سنگلاخ پہاڑ، گہری کھائیاں اور ایسے مقام جہاں زمین کے نیچے زلزلے کی کیفیت محسوس ہوتی تھی۔
یہ سفر کسی بھی عام سفر سے مختلف تھا۔ اس راستے پر کئی مقام ایسے تھے جہاں حقیقی اور متوازی دنیا کے درمیان پوشیدہ دروازے تھے اور زمار جانتا تھا کہ جہاں دروازے ہوں وہاں بے خبر مسافر بھی ہوتے ہیں… اور مسافر مطلب گوشت۔
وہ گھنٹوں پیدل چلنے کے بعد تھکن سے چور ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا۔ بیگ سے نقشہ نکالا اور مختصر راستہ ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر سامنے صرف خطرناک چٹانیں اور جان لیوا کھائیاں تھیں۔ بیزاری سے نقشہ واپس بیگ میں ڈالا اور زمین پر لیٹ کر آنکھیں موند لیں۔
اچانک… خشک پتوں پر کسی کے قدموں کی ہلکی سی آہٹ گونجی۔ زمار کی آنکھیں فوراً کھل گئیں، جیسے کسی شکاری کے کان میں شکار کی سانس کی آواز پڑ گئی ہو۔ درختوں کے درمیان سے ایک نوجوان نمودار ہوا… خوبصورت، مضبوط جسم والا، جیسے کسی ماہر مجسمہ ساز نے پتھر سے تراشا ہو۔ اس کے نقوش میں معصومیت تھی مگر زمار کی آنکھوں میں اب صرف بھوک کی چمک تھی۔
اچھا شکار ہے… دو تین دن آرام سے نکل جائیں گے…” وہ زیرِ لب بڑبڑایا، اس کے ہونٹوں پر ایک شیطانی مسکراہٹ رینگ گئی۔”
نوجوان قریب آیا اور کسی اجنبی زبان میں کچھ کہا۔ زمار کو اس کی بات سمجھنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس کے لیے یہ چہرہ، یہ آواز، یہ لفظ سب بے معنی تھے۔ اس کے ذہن میں بس ایک ہی تصور گردش کر رہا تھا… کچا، لذیذ، تازہ گوشت۔
وہ آہستگی سے اٹھا، قدم بہ قدم قریب گیا اور نوجوان کے بازو کو ٹٹولا جیسے گوشت کی نرمی اور طاقت کا اندازہ لگا رہا ہو۔ نوجوان نے تیزی سے اپنا بازو جھٹکا اور زمار کو زور سے دھکا دیا۔ زمار دو قدم پیچھے ہٹا، لیکن اس کی مسکراہٹ مزید خطرناک ہو گئی۔ نوجوان کو اس کی نیت میں کھوٹ محسوس ہورہا تھا لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ ایک آدم خور سے الجھ بیٹھا ہے۔
وہ بیگ کی طرف پلٹا، آہستہ آہستہ رسی اور خنجر نکالا۔ روشنی کی ایک ٹوٹی کرن خنجر کی دھار پر چمکی اور روشنی اس کی آنکھوں میں خون کی پیاس کو مزید بھڑکا گئی۔ نوجوان کے چہرے پر خوف کے سائے گہرے ہو گئے۔ اس نے اچانک مڑ کر بھاگنے کی کوشش کی۔
…زمار کے لبوں پر ہلکی سی سرگوشی ابھری، “دوڑو… دوڑو جتنا دوڑ سکتے ہو”
اس کے قدم نوجوان کے پیچھے تیزی سے بڑھنے لگے۔ پتے کچلے جا رہے تھے، ہوا میں پسینے اور خوف کی بو گھل رہی تھی اور جنگل کے سناٹے میں صرف شکار کی وحشت کا احساس گونج رہا تھا۔
یہ وہ لمحہ تھا جب شکاری کا مزہ بڑھ جاتا ہے، زمار کو اصل لذت شکار کو دبوچنے میں نہیں، بلکہ اسے بھگانے میں محسوس ہوتی تھی۔
°°°°°°°°°°
نہ پہاڑ بہت اونچے تھے اور نہ ہی سخت پتھریلے، بلکہ ہر سمت نرم ڈھلوانیں اور سبزہ بکھرا ہوا تھا۔ ان ڈھلوانوں کے بیچ جھاڑیوں سے لدی، کھاری مٹی کی چھوٹی پہاڑیاں ایک دائرے کی صورت کھڑی تھیں اور ان کے درمیان تنہا ایک چھوٹی سی مسجد بنی تھی۔ یہ مسجد تمام آبادیوں سے ہٹ کر، گھنے جنگل کے عین وسط میں واقع تھی۔ جنگل کے کناروں پر پٹی راجگان، منڈی بھلوال، موہڑہ کس، چہلہ اور منڈی جٹاں جیسے چھوٹے دیہات بکھرے ہوئے تھے اور ان سبھی دیہاتوں کے چرواہے اپنی گائے، بھینسیں اور بکریاں روز یہاں چرانے لایا کرتے تھے۔
یہ مسجد چرواہوں کی سہولت کے لیے خاص طور پر تعمیر کی گئی تھی تاکہ وہ نماز ادا کر سکیں اور قریب لگے نلکے سے اپنے جانوروں کو پانی پلا سکیں۔ دن میں یہاں زندگی کی ہلکی پھلکی رونق رہتی تھی مگر سورج ڈھلتے ہی جنگل کے ساتھ یہ مسجد بھی مکمل تاریکی میں ڈوب جاتی۔
آج کی رات بھی ایسا ہی تھا۔ گھپ اندھیرے میں، تھوڑے فاصلے پر کچی سڑک پر چار گاڑیاں آ کر رکی ہوئی تھیں۔ ان کی ہیڈلائٹس کی سفیدی تاریکی کو چیر رہی تھی اور انجن کی دھیمی گڑگڑاہٹ جنگل کے سنسان سکوت میں ایک خوفناک گونج پیدا کر رہی تھی۔
گاڑیوں کے دروازے کھلے اور سبھی نوجوان تیزی سے باہر نکل آئے۔ یہ وہی چہرے تھے جنہوں نے زافیر پر حملہ کیا اور آزلان کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔ اب وہ زافیر کو جنگل کے اس ویران کونے میں لے آئے تھے۔ اس کے بازو دو آدمیوں کے کندھوں پر ٹکے تھے، جو اسے گھسیٹتے ہوئے مسجد کی طرف بڑھ رہے تھے۔ زافیر جانتا تھا کہ مزاحمت بے فائدہ ہے، اس لیے اس کے قدم خاموشی سے ان کے قدموں کے ساتھ جا رہے تھے۔
پیچھے آنے والے سبھی لوگ مسلح تھے، ان کی نظریں مسلسل اردگرد کی پہاڑیوں اور درختوں پر گشت کر رہی تھیں۔ یہ علاقہ فطری طور پر ایک قلعہ تھا۔ پہاڑیوں کی بلندی سے دور تک نگرانی ممکن تھی اور خطرہ محسوس ہوتے ہی بھاگ نکلنا بھی آسان تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس خونی کھیل کے لیے یہ جگہ چنی گئی تھی۔
مسجد کے اندر داخل ہو کر انہوں نے زافیر کو محراب کے قریب فرش پر لٹا دیا۔ اس کی ٹانگوں پر سختی سے پٹیاں بندھی تھیں اور سینے پر بھی، زخموں سے خون رس کر کپڑے کی پٹیاں آلودہ کر چکا تھا۔
نیم مردہ سانسوں کی آواز مسجد کی خاموش فضا میں ہلکی ہلکی گونج رہی تھی اور اندھیرے میں جلتی ہیڈ لائٹس کی روشنی محراب کی دیوار پر لرزتے سائے بنا رہی تھی جیسے خود دیواریں بھی آنے والے انجام سے خوفزدہ ہوں۔
،زافیر نے نیم مردہ سی حالت میں دونوں پہرہ داروں کو پلٹتے دیکھا اور دھیمی مگر ٹھہری ہوئی آواز میں کہا
“مجھے تمہارے باس سے بات کرنی ہے۔”
،دونوں نے قدم روکے، ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر ایک جوان طنزیہ انداز میں پلٹ کر بولا
“اور باس تم سے کیوں ملنا چاہیں گے؟”
“میں اس کے ساتھ سودا کرنا چاہتا ہوں۔” زافیر نے سنجیدگی سے کہا، “اگر وہ مجھے جانے دے تو میں اسے انعام سے دگنی رقم دینے کو تیار ہوں۔”
وہ جانتا تھا کہ یہ لوگ پیسے کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ اسے یقین تھا کہ لالچ کی ایک چنگاری ان کے اندر بے قراری بھڑکا دے گی۔
دونوں نے خاموش نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھا اور بغیر کوئی جواب دیے باہر نکل گئے۔
باہر ان کا باس تین فٹ اونچی دیوار پر بیٹھا اپنے ساتھیوں کو پہرے کی ہدایات دے رہا تھا۔
دو دو کی جوڑیوں میں پہاڑیوں پر چڑھ جاؤ۔ رات کو ہتھیاروں کے ساتھ پہرہ دینا، دن میں ہتھیار چھپا کر صرف نگرانی کرنا۔”
” اگر پولیس یا کوئی مشکوک آدمی نظر آئے تو فوراً وائرلیس پر اطلاع دینا۔
ہدایات مکمل کرنے کے بعد اس نے سب کو جانے کا اشارہ دیا۔
اب یہاں صرف پانچ لوگ باقی رہ گئے، جن میں وہ دونوں بھی شامل تھے جو ابھی مسجد سے واپس آئے تھے۔
،انہوں نے قریب آ کر باس سے کہا
“وہ بندہ جو اندر پڑا ہے، آپ کو بلا رہا ہے۔”
،باس نے تیکھی نظروں سے دیکھا، آواز میں غصہ بھر گیا
“کیا تکلیف ہے اسے؟”
،ایک نے جھجکتے ہوئے جواب دیا
“وہ آپ سے ڈیل کرنا چاہتا ہے۔ میرا خیال ہے، ایک بار سن لینی چاہیے۔”
باس نے کچھ لمحے انہیں گھورا، پھر دیوار سے اتر کر مسجد کے اندر چلا گیا۔
زافیر محراب کے قریب بیٹھا تھا، کہنی پر ٹیک لگائے، سانس پھولی ہوئی تھی۔ باس اس کے سامنے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا،
،ہونٹوں پر ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ بولا
“جی محترم، فرمائیے، کیا کہنا چاہتے ہیں آپ؟”
،زافیر نے سنجیدگی سے کہا
“اگر تم مجھے جانے دو تو میں تمہیں انعام سے دگنی رقم دینے کو تیار ہوں۔”
،باس نے ہنستے ہوئے سر نفی میں ہلایا
“پیشکش اچھی ہے، لیکن مجھے منظور نہیں۔”
“زافیر نے دوبارہ کہا، “تین گنا دے دوں گا۔
،یہ سن کر باس لمحہ بھر کو سوچ میں پڑ گیا۔ پھر زافیر کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے دھیمے لہجے میں بولا،
زافیر صاحب… آپ پر بہت بڑا انعام ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ آپ شریف آدمی تو ہیں نہیں۔ “
“اور یوں پیسے کے لالچ میں آکر آپ کو چھوڑنا… اپنی موت کو دعوت دینے کے برابر ہے… اس لیے مجھے یہ آفر قبول نہیں۔
چند لمحے توقف کے بعد وہ اٹھ کھڑا ہوا اور دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔
،زافیر نے پکارا
“پھر تم مجھے مار کیوں نہیں دیتے؟”
،باس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔ وہ پلٹ کر بولا
“فکر نہ کریں، زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ بس کوشش کر رہا ہوں کہ آپ کے سر پر رکھا انعام اور بڑھ جائے۔”
،زافیر نے کمزور سی آواز میں کہا
“مجھے نہیں لگتا کہ تمہاری کوشش کامیاب ہوگی۔ میری حالت دیکھو… کیا لگتا ہے کہ میں آج کی رات زندہ رہ پاؤں گا؟”
،باس کے چہرے پر سوچ کا سایہ آیا۔ زافیر نے موقع دیکھ کر پھر کہا
“اگر تم واقعی انعام بڑھانا چاہتے ہو تو مجھے کم از کم اس قابل بنانا پڑے گا کہ میں ایک ہفتے تک زندہ رہ سکوں۔”
باس نے کوئی جواب نہیں دیا مگر اس کی آنکھوں سے پریشانی جھلکنے لگی تھی۔
،مسجد سے باہر نکلتے ہی اس نے اپنے ایک آدمی کو قریب بلا کر کہا
“ڈرائیور کے ساتھ جاؤ اور شہر سے کوئی ماہر سرجن اٹھا لاؤ۔ یہ بندہ مر گیا تو ہمارا کروڑوں کا نقصان ہوگا۔”
،وہ شخص چونکا
“اور اگر ڈاکٹر نہ آیا تو…؟”
،باس بھڑک اٹھا
“وہ تمہارا باپ نہیں کہ خود چل کر آ جائے گا۔ گھر سے اٹھاؤ یا ہسپتال سے، لیکن اسے لے کر آؤ۔”
اوکے باس۔” وہ گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔ باس دوبارہ دیوار پر جا بیٹھا مگر اب اس کے چہرے پر الجھن اور حساب کتاب کی پرچھائیاں رقص کر رہی تھیں۔
°°°°°°°°°°
مومنہ خاتون ہسپتال کے ایک کونے میں ڈیسک پر بیٹھی تھیں۔ چہرے پر تھکن اور آنکھوں میں خالی پن، جیسے صدیوں کا غم ان کے اندر اُتر آیا ہو۔ وہ اتنا رو چکی تھیں کہ آنسو کب کے خشک ہو گئے تھے۔ اب وہ بس ٹکٹکی باندھے سامنے کی دیوار کو دیکھ رہی تھیں۔
ان سے ذرا ہٹ کر آبرو خاموش اور سہمی سی بیٹھی تھی۔ شاید وہ ابھی تک اس سب کو سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ وہ کبھی نظریں مومنہ خاتون پر ڈالتی اور پھر ہال میں بے چینی سے ٹہلتی ہوئی حورا کی طرف دیکھنے لگتی۔
اسی دوران، کمانڈر زید اپنے جلال اور رعب دار شخصیت کے ساتھ ہسپتال کے ہال میں داخل ہوا۔ اس کی آمد نے فضا میں ایک سنجیدہ سکوت پیدا کر دیا۔ وہ سیدھا کاؤنٹر پر گیا، مختصر سی بات کی اور جب کاؤنٹر والی خاتون نے اشارہ کیا تو زید حورا کی طرف بڑھا۔
آپ زافیر کی کیا لگتی ہیں؟” زید نے قریب پہنچ کر براہِ راست سوال کیا۔”
حورا نے سنبھل کر جواب دیا، “میں ان کی بیٹی کی گورنس ہوں… اور سامنے آزلان کی والدہ ہیں۔” اس نے ہلکے سے مومنہ خاتون کی طرف دیکھا۔
“زید نے نرم لہجے میں کہا، “تقریباً ایک گھنٹے میں آزلان کا پوسٹ مارٹم مکمل ہو جائے گا۔ اس کے بعد باڈی آپ کے حوالے کر دی جائے گی۔
“حورا نے جھجکتے ہوئے پوچھا، “کیا آپ زافیر کے دوست ہیں؟
،زید نے سنجیدگی سے جواب دیا
“دوست نہیں… لیکن آپ یہی سمجھ لیں۔”
،پھر اس نے گردن موڑ کر اردگرد نظر ڈالی کہ کوئی سن نہ رہا ہو اور آہستگی سے بولا
اگر پولیس آپ سے یا آپ کی آنٹی سے کچھ پوچھے تو جواب مت دیجیے گا۔”
“ہو سکتا ہے وہ زافیر کے بارے میں بھی سوال کریں مگر آپ نے ایک لفظ نہیں کہنا۔
یہ سن کر حورا کی آنکھوں میں حیرت اتر آئی۔ “کیا آپ کو پتا ہے کہ زافیر کہاں ہے اور کس حال میں ہے؟” اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔
زید نے نفی میں سر ہلایا۔
نہیں… آخری بار سرائے عالمگیر تک اغوا کاروں کو دیکھا گیا تھا۔ اس کے بعد وہ غائب ہو گئے۔”
” ہم تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں اور امید ہے کہ اسے زندہ بازیاب کرا لیں گے۔
حورا کے لب کپکپا گئے۔
“میرا آج ان کے گھر پہلا دن تھا… نوکری شروع کی اور یہ سب ہو گیا۔ پلیز، آپ زافیر کو جلد ڈھونڈیں، اس کی چھوٹی سی بچی ہے۔”
اس نے ایک نظر دور بیٹھی آبرو پر ڈالی، جیسے اس کے دل کا بوجھ اور بڑھ گیا ہو۔
،زید نے پُراعتماد انداز میں کہا
“آپ فکر نہ کریں، بس یاد رکھیے… پولیس کے سامنے کوئی بات نہیں کرنی۔”
یہ کہہ کر اس نے جیب سے ایک کارڈ نکالا اور حورا کی طرف بڑھا دیا۔
“یہ میرا کارڈ ہے۔ کوئی بھی مسئلہ ہو تو فوراً کال کیجیے گا۔”
کارڈ تھما کر وہ بغیر مزید کچھ کہے مڑ گیا اور ہال سے باہر نکل گیا۔ حورا وہیں سوچوں کے بھنور میں گم کھڑی رہ گئی۔
°°°°°°°°°°
زمار نے رسی گردن سے گزار کر کندھے پر ڈال رکھی تھی اور ایک تیز دھار خنجر ہاتھ میں تھامے دوڑ رہا تھا۔ خوف زدہ نوجوان اپنی جان بچانے کے لیے پوری طاقت سے جنگل میں بھاگ رہا تھا۔ وہ بدقسمت ناجانے کیسے بھٹک کر متوازی دنیا میں آ نکلا تھا اور اب زمار جیسے خونخوار آدم خور کے نرغے میں پھنس گیا تھا۔
وہ چاہے جتنا بھی پھرتیلا ہوتا، زمار کے سامنے اس کی رفتار کچھ بھی نہیں تھی۔ چند ہی لمحوں میں زمار نے اس کا فاصلہ سمیٹ لیا اور لمبا بازو بڑھا کر بالوں سے جکڑ لیا۔ ایک جھٹکے سے نوجوان کمر کے بل زمین پر آ گرا۔ اس نے ہڑبڑا کر کہنیوں کے بل پیچھے سرکنے کی کوشش کی لیکن زمار کی خوفناک موجودگی اسے مفلوج کر رہی تھی۔
تمہارے جیسا تازہ گوشت بھلا کیسے جانے دوں؟” زمار نے بھاری پاؤں اس کے سینے پر رکھ کر لطف سے کہا۔”
دباؤ اتنا شدید تھا کہ نوجوان کو لگا جیسے پسلیاں چٹخ جائیں گی۔
وہ ہانپتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر اپنی زبان میں رحم کی بھیک مانگ رہا تھا مگر زمار کی آنکھوں میں کوئی نرمی نہیں تھی۔ اس نے ایک موٹی رسی کا پھندا بنا کر نوجوان کے دونوں پیر باندھ دیے۔ وہ اسے زمین پر گھسیٹتے ہوئے مطلوبہ مقام تک لے جارہا تھا۔ جب بھی وہ اٹھنے کی کوشش کرتا، زمار رسی کو ایک جھٹکا دیتا اور وہ کمر کے بل زمین سے جا ٹکراتا۔
زمار نے اسے گھسیٹتے ہوئے ایک موٹے درخت کے تنے کے ساتھ کھڑا کیا اور مضبوطی سے باندھ دیا۔ نوجوان کا ایک بازو رسی میں قید تھا مگر دوسرا بازو آزاد چھوڑ دیا گیا۔ اس کی آنکھوں میں خوف اور الجھن دونوں تھے، وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ بازو کی آزادی اصل میں اس کی بربادی کی شروعات تھی۔
زمار نے بیگ سے ایک باریک ڈوری نما رسی نکالی اور آزاد بازو کو کندھے کے قریب کس کر باندھ دیا تاکہ خون کا بہاؤ رک جائے۔ پھر اس نے آہستہ سے بیگ میں ہاتھ ڈالا اور ایک چمکدار خنجر نکال لیا۔
نوجوان کا دل سینے میں دھڑکنے کی بجائے جیسے پھڑک رہا تھا۔ اسے لگا جیسے یہ آخری لمحہ ہو۔
زمار نے اس کا بازو مضبوطی سے پکڑا، خنجر کی نوک کہنی کے جوڑ پر رکھی اور ایک گہرا کٹ لگایا۔ تازہ خون کا فوارہ پھوٹا اور خنجر نے جلد کو چیرتے ہوئے گوشت میں سرکنا شروع کر دیا۔ نوجوان کا حلق پھٹتا جا رہا تھا لیکن زمار کا ہاتھ ذرا نہیں لرزا۔
اس نے کٹ کو گولائی میں پھیلا کر گوشت کے کنارے الگ کیے، پھر کہنی کے نیچے ہڈی کو ایک جھٹکے سے موڑا۔ ایک کریہہ سی ‘چٹاخ’ کی آواز آئی اور ہڈی ماس کی پتلی تہہ چیر کر باہر نکل آئی۔ نوجوان کی چیخ ایسی تھی کہ سننے والا بھی لرز اٹھے لیکن جنگل اس کی چیخوں کے لیے بہرا تھا۔
زمار نے خنجر کا آخری وار کیا اور کہنی سے نیچے کا پورا بازو الگ ہو کر زمار کے ہاتھ میں جھول گیا۔ خون مٹی پر سرخ دھار کی صورت گِر رہا تھا اور نوجوان کا جسم بے بسی سے کانپ رہا تھا۔ زمار نے ایک لمحے کے لیے کٹے بازو کو ہاتھ میں تول کر دیکھا پھر اس پر اپنی وحشی مسکراہٹ بکھیر دی۔
°°°°°°°°°°
…جاری ہے
