ناول درندہ
قسط نمبر 19
باب دوّم: انتقام
مصنف: زیاد اصغر زارون
°°°°°°°°°°
رات کا آخری پہر تھا۔ سناٹے میں ڈوبے ڈیرے کے بیڈروم میں اغوا کاروں کا سردار ضمیر، گہری نیند کے سمندر میں ڈوبا ہوا تھا۔ کمرے کی مدھم روشنی میں قریبی ٹیبل پر رکھا موبائل اچانک بجنے لگا۔ خاموشی میں گونجتی رِنگ ٹیون کسی ناپسندیدہ مہمان کی آمد کی مانند چبھ رہی تھی۔ ضمیر نے آنکھیں موندے ہی ہاتھ بڑھایا، موبائل اٹھایا اور ہلکی سی پلکیں نیم وا کر کے اسکرین کی طرف دیکھا۔ ایان کے خاص آدمی کی ویڈیو کال تھی۔
وہ نیم خوابیدہ کیفیت سے جھٹ سیدھا ہوکر بیٹھ گیا اور کال اٹھا لی۔
،جیسے ہی سامنے چہرہ ابھرا، ضمیر کے لبوں پر ایک خود پسند مسکراہٹ رینگ آئی۔ کھسیانی سی ہنسی کے ساتھ وہ آہستہ سے بولا
“آزلان کے سر پر رکھا انعام تو مل گیا ہے… اب سوچ رہا ہوں زافیر کے انعام پر بھی بات ہو جائے۔”
،اسکرین پر موجود نوجوان کا چہرہ پتھر کی طرح سنجیدہ رہا۔ اس نے سرد لہجے میں کہا
“باس تم سے خود بات کرنا چاہتے ہیں۔”
ضمیر نے ایک جھٹکے سے آلتی پالتی مار کر اپنے آپ کو مکمل سیدھا کیا۔
، اگلے ہی لمحے اسکرین پر ایان نمودار ہوا، چہرے پر طوفان سا طاری تھا۔ اس کی آواز غصے کی کاٹ لیے ہوا میں گونجی
“کیا تمہیں مجھ پر اعتبار نہیں؟ تم نے ابھی تک زافیر کو ختم کیوں نہیں کیا؟”
،ضمیر کے چہرے پر پھر وہی کھسیانی، چاپلوس مسکراہٹ آ گئی۔ للچائی ہوئی نظریں اور لالچی لہجے میں وہ بولا
“ہی ہی ہی… ایسا نہیں ہے باس… میں تو بس یہ سوچ رہا تھا کہ اگر زافیر کے سر کا انعام بڑھا دیا جائے تو کمال ہوگا۔”
،ایان کا غصہ اس بار قابو سے باہر تھا۔ اس کی آواز دھاڑ بن کر اسپیکر سے پھٹی
کیا تمہارا دماغ خراب ہو چکا ہے؟ تم نے ایک خطرناک آدمی کو محض اپنی لالچ کے لیے زندہ رکھا ہوا ہے۔”
“تمہیں ذرا بھی اندازہ ہے کہ تم کس آگ سے کھیل رہے ہو؟
،ضمیر نے چاپلوس لہجے میں، جیسے ایک بگڑے ہوئے مالک کو تھپکی دے کر منانے کی کوشش کرتا ہے، کہا
“فکر نہ کریں باس… اس کی دونوں ٹانگیں ٹوٹی ہوئی ہیں، پسلیاں بھی چکناچور ہیں۔ وہ اب ایک زخمی کتے سے زیادہ کچھ نہیں۔”
ایان کی آواز کڑکتی بجلی کی مانند بن چکی تھی، لیکن اس میں زہر کی تلخی پہلے سے زیادہ تھی۔
“اگر تم واقعی یہ سوچتے ہو… تو تم سے بڑا احمق کوئی نہیں۔ ابھی، اسی وقت، اسے ختم کرو… اور اس کی لاش کی ویڈیو میرے پاس ہونی چاہیے۔”
،ضمیر نے کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے پھر اپنی بات گھمائی
“ہی ہی ہی… میں تو کہہ رہا تھا کہ پہلے انعام کی بات کر لیں تو بہتر ہوگا۔”
،ایان اس کی بات کاٹتے ہوئے غرایا
“بتا… کتنا چاہیے؟”
،ضمیر کے ہونٹوں پر لالچ کا سایہ مزید گہرا ہوا
“جتنا آزلان کے سر پر تھا… بس اتنا ہی۔”
،ایان کا لہجہ اس بار تمسخر اور تحقیر سے لبریز تھا
کیا پاگل ہو گئے ہو؟ وہ آزلان کے بغیر ویسے ہی کمزور ہے، اوپر سے لنگڑا بھی ہو چکا ہے۔”
” دل چاہے تو مار دو، ورنہ چھوڑ دو اسے… باقی تمہارا حساب میں بعد میں کر لوں گا۔
،ایان کے آخری جملے میں چھپی دھمکی نے ضمیر کی ریڑھ میں سرد لہر دوڑا دی۔ وہ فوراً منت بھرے لہجے میں بولا
“ایسا نہ کہیں باس… میرے کئی بندے مارے گئے ہیں، ذرا سا انعام بڑھا دیں… ابھی یہ کام کر دیتا ہوں۔”
،ایان چند لمحے خاموش رہا پھر جیسے حساب کتاب کے بعد فیصلہ سنایا
“ٹھیک ہے… پچاس کروڑ۔ لیکن ابھی مارو… اور ویڈیو مجھے بھیجو۔”
،ضمیر نے گردن اکڑاتے ہوئے مگر سنجیدگی سے جواب دیا
“میں نے اسے ایک الگ جگہ رکھا ہے… صبح ہوتے ہی ویڈیو آپ کے پاس ہوگی۔”
اس کے الفاظ ختم ہونے سے پہلے ہی دوسری طرف سے کال کاٹ دی گئی۔
ضمیر کچھ دیر گہری سوچ میں ڈوبا رہا، پھر اپنے ایک قریبی آدمی کو کال ملائی… مگر کال نہیں لگی، ایک ایک کر کے سب کو کال کی لیکن ہر نمبر خاموشی کی قبر میں دفن تھا۔
، وہ جانتا تھا کہ پہاڑیوں کے بیچ سگنل اکثر غائب ہو جاتے ہیں، اس لیے زیادہ نہیں سوچا۔ موبائل سائیڈ پر رکھ کر زیرِ لب بڑبڑایا
“صبح اپنے ہاتھوں سے مار دوں گا اسے۔”
وہ دوبارہ پلنگ پر گر گیا اور آنکھیں موند لیں، یہ جانے بغیر کہ اس کے ساتھی کس قیامت سے گزر چکے تھے اور صبح کا سورج ان کے لیے کبھی طلوع نہیں ہونے والا تھا۔
°°°°°°°°°°
پہاڑیوں کے کناروں پر غنڈوں کی لاشیں بکھری پڑی تھیں۔ سناٹا ایسا جیسے جنگ ابھی ابھی ختم ہوئی ہو اور فضا میں موت کی مہک ابھی باقی ہو۔ ان لاشوں کے بیچ ایک شخص، کانپتے ہوئے، گھنی جھاڑیوں میں کئی گھنٹوں سے چھپا بیٹھا تھا۔ خوف اور گھبراہٹ سے اس کا جسم پسینے میں بھیگا ہوا تھا۔ ہاتھوں اور پیروں پر کانٹوں کی خراشیں اب جلتی ہوئی چنگاریوں جیسی محسوس ہو رہی تھیں مگر وہ سانس دبائے بیٹھا تھا… صرف اس لیے کہ زافیر کی نظروں سے بچ سکے۔
دوسری طرف، زافیر کو ایک عجیب بےچینی محسوس ہو رہی تھی… زندہ انسان کے پسینے کی مہک اس کے نتھنوں میں بس گئی تھی، مگر وہ یہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ یہ بو کہاں سے آ رہی ہے۔ اس نے اپنے شکار کی گنتی ذہن میں بٹھا رکھی تھی اور جانتا تھا کہ ایک ابھی باقی ہے۔ وہ بار بار پہاڑیوں کے گرد چکر کاٹ رہا تھا، ہر کونے میں جھانک رہا تھا مگر اس کا شکار نظر نہیں آ رہا تھا۔
پھر، پہاڑی کے کنارے ایک جگہ گھنی جھاڑیاں اس کی نظر میں آئیں۔ وہاں ہلکی سی لرزش ہوئی، اتنی کہ کسی اور کی نظر سے اوجھل رہتی مگر زافیر کے لیے اتنا ہی کافی تھا۔ اس نے ایک جھٹکے میں زمین سے جست لگائی اور چاروں ہاتھ پاؤں پر جھپٹتے ہوئے جھاڑیوں کی طرف بڑھا۔
جھاڑیوں میں چھپے آدمی کو فوراً احساس ہو گیا کہ اس کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ اس نے گھبراہٹ میں بندوق سیدھی کی اور گولیوں کی بوچھاڑ شروع کر دی۔
زافیر اچانک ایک طرف کو غائب ہو گیا۔ یوں جیسے دھند میں تحلیل ہو گیا ہو۔ آدمی نے موقع غنیمت جانا، جھاڑیوں سے نکل کر اندھا دھند دوڑ لگا دی۔ خوف میں وہ بار بار پتھروں سے ٹھوکر کھا کر گرتا، پھر اٹھتا اور بھاگتا رہا۔ لیکن اچانک پیچھے سے زافیر بجلی کی طرح نمودار ہوا اور اس کی کمر پر اپنے پنجے گاڑ دیے۔ چار خنجر نما ناخن گوشت کو چیرتے ہوئے گہرے زخم چھوڑ گئے۔
درد اور جلن نے اس کی چیخ آسمان تک پہنچا دی۔ وہ منہ کے بل گرا، مگر فوراً پلٹا اور بندوق سےگولی چلانے کی کوشش کی۔ زافیر نے ایک تیز حرکت سے اپنا پیر اس کے بازو پر رکھ دیا، بندوق چھینی اور کئی فٹ دور پھینک دی۔
،پیر ہٹاتے ہی اس شخص نے فوراً دونوں ہاتھ جوڑ لیے، آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ کپکپاتی آواز میں فریاد کی
“خدا کے لیے… مجھے جانے دو… میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔”
زافیر اس وقت مکمل طور پر ایک خالص درندے کے روپ میں تھا۔ نہ وہ بول سکتا تھا، نہ اپنی وحشت پر قابو پا سکتا تھا۔ اس کے اندر نہ آبرو کی فکر باقی تھی، نہ آزلان کی موت کا کوئی دکھ۔ اس کی رگوں میں بس خون کی تڑپ اور شکار کی پیاس بہہ رہی تھی… وحشت اور سفاکی کا ایسا طوفان جو سب کچھ بہا لے جاتا ہے۔
اس نے اپنے شکار کی طرف نگاہ ڈالی اور ایک خوفناک دہاڑ ماری۔ یہ دہاڑ بڑھتی گئی، لمبی ہوتی گئی۔ یہاں تک کہ درختوں پر بیٹھے پرندے گھبرا کر آسمان کی طرف اڑ گئے۔ مسجد میں بیٹھا ڈاکٹر بھی اس گرج سے سہم کر کانپ اٹھا۔
اگلے لمحے زافیر جھپٹا اور شکار کے گال پر دانت گاڑ دیے۔ ایک ہی جھٹکے میں اس کا گال کاٹ کر گوشت دانتوں میں آ گیا۔ زخم کھلتے ہی ہڈی کے اندر چھپے سفید دانت جھلکنے لگے، جن پر بہتا ہوا گرم خون انہیں سرخی میں رنگ رہا تھا۔ زافیر نے گوشت کا ٹکڑا ایک طرف پھینکا اور پنجے کے ایک تیز وار سے اس کی گردن چیر دی۔ خون کا فوارہ پھوٹ نکلا اور اس نے جھک کر اپنے دانت گاڑھ دیئے۔ جوں جوں گرم خون اس کے حلق سے اتر رہا تھا، اس کی وحشت اور بڑھتی جا رہی تھی۔ لمحوں میں اس کے کلین شیو چہرے پر گھنی داڑھی اور مونچھیں ابھرنے لگیں… جیسے اس کا جسم بھی اس درندگی کے ساتھ لمحہ بہ لمحہ بدل رہا ہو۔
خون پینے میں مصروف، زافیر کے ذہن میں اچانک آزلان کا چہرہ ابھرا۔ اس نے جھٹکے سے سر ہلایا اور دوبارہ اپنے شکار پر توجہ جما لی۔ مگر دوسری بار آبرو کا معصوم چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے آیا، وہ بھی لمحہ بھر کو… پھر اس نے آبرو کا چہرہ بھی ذہن سے دھکیل دیا۔
تیسری بار، اس کے دماغ میں وہ لمحہ ابھرا جب آزلان زخمی حالت میں اس کے سامنے بیٹھا تھا۔
،آزلان کے لب کپکپاتے ہوئے بولے تھے
“…معاف کیجیے گا باس… شاید میرا ساتھ”
جملہ ابھی پورا بھی نہیں ہوا تھا کہ ایک گولی کی کرخت آواز گونجی۔ آزلان کا سر جھٹکے سے پیچھے کو ہوا، ماتھے میں گولی کا سوراخ نمودار ہوا اور اگلے ہی پل اس کی آنکھوں کی روشنی بجھ گئی۔
یہ منظر ذہن میں اترتے ہی زافیر نے خون آلود چہرہ اٹھایا، آسمان کی طرف گردن تان کر ایک خوفناک دہاڑ ماری۔
… اس کی گرج اتنی بھیانک تھی کہ لگتا تھا پہاڑ بھی لرز جائیں گے
وہ گرج… وہ دہاڑیں… ہر لمحے بلند سے بلند تر ہو رہی تھیں۔ چند ہی پل میں زافیر کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، گالوں پر بہتے ہوئے اس کے جبڑے بھگو گئے۔
پھر اچانک اس کی گرج ٹوٹ کر دل دہلا دینے والے چیخوں میں بدل گئی۔ وہ پاگلوں کی طرح رونے لگا… ایسا رونا جو اندر کا سارا درد چیر کر باہر پھینک دے۔
آزلان کی موت کا منظر اس کے دل پر ہتھوڑے برسا رہا تھا۔ یادوں کی طوفانی لہریں اسے بہا لے جا رہی تھیں… آزلان کی باتیں، شرارتیں، عادتیں، مذاق کرنے کا انداز… اور پھر وہ لمحہ جب اس کی آنکھوں کی روشنی بجھ گئی تھی۔ ذہن میں ابھرنے والے یہ سب منظر زافیر کے کلیجے کو نوچ رہے تھے۔
وہ دھاڑیں مارتا، سسکتا، زاروقطار رو رہا تھا۔ اچانک اس کے پنجے سامنے پڑی مردہ لاش کے سینے پر برسنے لگے۔ رونے اور گرجنے کی آوازیں اندھیرے میں دور تک پھیل گئیں اور ہر وار کے ساتھ لاش کا سینہ اور پیٹ چیتھڑوں میں بدلتا گیا۔
تم لوگوں نے…” وہ دانت پیس کر چیخا، پنجے مزید وحشت سے چلنے لگے۔”
میرے آزلان کو مار ڈالا…” ہر لفظ کے ساتھ وہ جنون میں ڈوبتا جا رہا تھا، گویا ہر وار سے اپنا دل چیر کر باہر پھینک رہا ہو۔’
وار کرتے کرتے اس کی ہمت جواب دینے لگی، وہ وہیں، خون آلود اور مسلی ہوئی لاش کے پہلو میں ڈھیر ہو گیا۔ اس کا جسم کپکپا رہا تھا، آنکھوں سے آنسو رکے بغیر بہہ رہے تھے۔ وہ بس رو رہا تھا… ہچکیوں اور سسکیوں کے ساتھ، جیسے کسی نے اس کے وجود کی جڑ کاٹ دی ہو۔
اوہ… آزلان…” اس کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔”
“…اوہ میرے بھائی”
“…اوہ میرے بچے”
اس کے دکھ سے لبریز الفاظ رات کی خاموشی کو چیر رہے تھے۔ مسجد میں بیٹھے ڈاکٹر تک یہ دردناک آوازیں صاف پہنچ رہی تھیں۔ خوف پہلے ہی اس کے دل کو جکڑے ہوئے تھا مگر اب اس خوف کے ساتھ زافیر کے دکھ کا بوجھ بھی اس پر سوار ہو گیا۔ اس کی آنکھوں میں بھی نمی اتر آئی۔
وہ جانتا تھا کہ زافیر ایک درندہ ہے… ایک وحشی… ایک آدم خور… لیکن یہ بھی حقیقت تھی کہ اسی درندے نے اس کی جان بچائی تھی۔
دل نے کہا، اگر وہ مجھے مارنا چاہتا تو کب کا مار چکا ہوتا۔ اس نے خود کو تسلی دی، دل پر پتھر رکھا اور مسجد کے ہال سے باہر نکل آیا۔
اندھیرے میں قدم رکھتے ہی وہ آواز کی سمت دوڑ پڑا۔ دو تین بار پتھروں اور جڑوں سے ٹھوکر کھا کر گرا مگر اٹھ کر پھر بھاگا۔ حوصلہ کم نہیں ہوا، قدم آگے بڑھتے رہے۔
جب وہ پہنچا تو زافیر، مسلی ہوئی لاش کے پاس، مٹی پر پڑا تھا۔ نڈھال، ٹوٹا ہوا، آنسو گالوں سے بہتے ہوئے زمین میں جذب ہو رہے تھے۔ اس کے تیز حواس بھی اس وقت غم کی سونامی میں دب چکے تھے۔ اسی لیے اسے احساس تک نہیں ہوا کہ ڈاکٹر اس کے بالکل قریب آن کھڑا ہوا ہے۔
ڈاکٹر نے آہستگی سے زافیر کا بازو تھاما مگر وہ ہر خطرے اور اردگرد کے ماحول سے بے نیاز، اپنے غم کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا۔
،ڈاکٹر نے بے قراری سے اسے جھنجھوڑا
“!…زافیر…! زافیر”
مگر اس کے کانوں تک کوئی صدا نہیں پہنچ رہی تھی۔ ہر گزرتا لمحہ آزلان کی یادوں اور اس کی موت کے زخم کو مزید گہرا کر رہا تھا۔
ڈاکٹر نے نرمی سے اس کی گردن کے پیچھے ہاتھ رکھا اور بڑی مشکل سے اس کے بھاری وجود کو سہارا دے کر بٹھایا۔ جیسے ہی وہ بیٹھا، بے اختیار ڈاکٹر کے گلے لگ گیا۔ اس کے آنسو بارش کی طرح بہہ رہے تھے اور وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔
“…انہوں نے میرے بھائی کو مار دیا… میرے آزلان کو مار دیا… میرے… میرے بچے کو”
ہر لفظ اس کے سینے سے ٹوٹ کر نکل رہا تھا اور ڈاکٹر کی آنکھیں بھی بھر آئیں۔ اس لمحے اسے زافیر میں کوئی درندہ نظر نہیں آ رہا تھا بلکہ ایک ٹوٹا ہوا، زمانے کے زخموں سے چھلنی معصوم دل دکھائی دے رہا تھا جو اپنوں کے بچھڑنے اور بے رحم دنیا کے ستم سہتے سہتے وحشی بن گیا تھا۔
وہ دونوں دیر تک یونہی ایک دوسرے کو تھامے بیٹھے رہے، جب تک زافیر کی ہلچل بھری سانسیں آہستہ نہیں ہو گئیں اور اس کی آنکھوں سے آنسو خشک نہیں ہوگئے۔
،زافیر ذرا سنبھلا تو ڈاکٹر نے اسے سہارا دے کر کہا
“اٹھو… خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے، ہمیں یہاں سے نکلنا ہوگا۔”
وہ آہستہ آہستہ مسجد کی طرف بڑھے۔ زافیر کا بازو ڈاکٹر کے کندھے پر تھا اور وہ نڈھال قدموں سے چل رہا تھا۔
، کچھ دیر بعد وہ مسجد کی حدود میں داخل ہو گئے اور صحن کے ایک کونے میں پہنچ کر ڈاکٹر نے نرمی سے کہا
“تمہارا جسم خون سے تر ہے اور تمہارا دکھ تمہیں مزید کمزور کر رہا ہے۔ ایک بار نہا لو، پھر ہم نکلتے ہیں۔”
ڈاکٹر نے اسے نلکے کے نیچے بٹھا دیا اور خود ہتھی چلا کر پانی بہانے لگا۔ ٹھنڈا پانی زافیر کے بالوں اور چہرے سے بہہ کر پانی کی نالی میں بہتا جا رہا تھا۔ وہ کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا، پھر آہستہ آہستہ اپنے جسم سے خون دھونے لگا۔
، جب اسے یقین ہوا کہ وہ خون سے پاک ہو چکا ہے تو وہ اٹھ کھڑا ہوا، اپنے لمبے ناخن دیکھتے ہوئے ڈاکٹر کی طرف مڑا اور کہا
“مجھے اپنے ناخنوں سے الجھن ہو رہی ہے، کیا آپ انہیں کاٹ سکتے ہیں؟”
“ضرور…” ڈاکٹر مسجد کے اندر گیا، ایک کٹر اور قینچی لے آیا۔
زافیر فرش پر بیٹھ گیا اور ڈاکٹر اس کے سامنے آ بیٹھا۔ قینچی ہر ناخن پر آ کر جیسے رک سی جاتی تھی کیونکہ وہ خنجر کی دھار کی طرح سخت تھے۔ ایک ایک ناخن کاٹنے میں کافی وقت لگ رہا تھا، مگر ڈاکٹر خاموشی سے کام کرتا رہا۔ آخرکار اس کے سب ناخن تراش دیے اور سبھی کاٹے گئے ناخن، احتیاط سے بیگ میں رکھ لیے۔ پھر آہستہ سے کھڑا ہوا اور مشرق کی سمت نظر دوڑائی۔
،افق پر ہلکی سی سنہری روشنی پھوٹ رہی تھی۔ اس نے گہرا سانس لیا اور دھیمی آواز میں کہا
“صبح ہونے والی ہے… ہمیں اب نکلنا چاہیے۔”
،ڈاکٹر کو دیکھ کر وہ گہری سنجیدگی سے بولا
“آپ فکر نہ کریں… میں آپ کے ساتھ ہوں۔”
پھر اس کی نظریں مسجد کے ہال پر ٹھہر گئیں۔
“بس ایک چھوٹا سا کام باقی ہے۔”
،یہ کہہ کر وہ مسجد کے ہال کی طرف بڑھا۔ جاتے جاتے پیچھے مُڑ کر بولا
“بالٹی میں پانی بھریں… ہم اس جگہ کو یوں چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔”
وہ دروازے کے قریب پہنچا اور ایک ایک کر کے لاشیں اُٹھانے لگا۔ پہلی لاش کو اس نے بڑی احتیاط سے مسجد کی چاردیواری سے باہر پھینکا، پھر دوسری، تیسری… یہاں تک کہ پانچوں لاشیں باہر جا چکی تھیں۔ اس کے بعد اس نے خون سے رنگے قالین لپیٹے اور صحن سے باہر رکھ دیے۔
ڈاکٹر نے پانی کی بھری ہوئی بالٹی اس کے حوالے کی۔ زافیر اسے اٹھا کر ہال کے اندر گیا اور فرش پر پانی بہانے لگا۔ اگلے ایک گھنٹے میں اس نے نہ صرف ہال بلکہ صحن کو بھی بار بار پانی سے دھویا۔ خون کی سرخی مکمل تو نہیں مٹ پائی مگر اس کے دل کو تسلی ضرور ہوئی۔ جیسے وہ اس مقدس جگہ سے ظلم کے دھبے دھو کر اسے پاک کر رہا ہو۔
جب وہ فارغ ہوا تو آسمان پر ہلکی روشنی ہر سمت پھیل چکی تھی۔
“چلیے ڈاکٹر صاحب… ہمارا کام مکمل ہو گیا۔”
یہ کہہ کر اس نے قدم مسجد سے باہر رکھ دیے۔ ڈاکٹر خاموشی سے اس کے پیچھے چل پڑا۔ دونوں کو یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ کہاں ہیں مگر اتنا یقین ضرور تھا کہ جلد ہی کسی آبادی والے علاقے تک پہنچ جائیں گے اور وہاں سے اپنی منزل تک پہنچنا مشکل نہیں ہوگا۔
°°°°°°°°°°
صبح کی روشنی ہر سمت پھیل چکی تھی اور مشرق میں سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ مسجد سے کچھ فاصلے پر تین گاڑیاں آ کر رکیں۔ دھول کے ہلکے بادل ابھی فضا میں معلق تھے جب ضمیر اور اس کے مسلح ساتھی گاڑیوں سے اترے اور سنجیدہ قدموں کے ساتھ مسجد کی طرف بڑھنے لگے۔
راستے میں، ایک پتھر پر خون کا نشان ان کی نظروں میں آیا۔ نشان انسانی ہاتھ کا تھا، مگر عجیب بات یہ تھی کہ انگلیوں کے آگے ہلکی سی دوری پر چھوٹے چھوٹے نقطے ثبت تھے، جیسے کسی نوکیلے ناخن نے پتھر پر چھید ڈال دیے ہوں۔
دور سے مسجد کا دروازہ کھلا ہوا لگ رہا تھا اور فضا میں ایک غیر معمولی خاموشی تھی۔ ضمیر نے پہاڑی ڈھلوانوں پر نظریں دوڑائیں مگر نہ کوئی پہرے دار دکھائی دیا، نہ مسجد کے صحن میں ان کا کوئی ساتھی۔
یہاں کچھ تو ہوا ہے…” ضمیر کے لہجے میں بےچینی تھی۔ اس کے قدم تیز ہو گئے۔”
جیسے ہی وہ مسجد کے قریب پہنچے، منظر دیکھ کر ان کے دل دہل گئے۔ صحن سے باہر، چاردیواری کے پاس، ان کے پانچوں ساتھیوں کی لاشیں پڑی تھیں۔ سینے چاک اور چہروں کا گوشت غائب۔ ایک ہولناک وحشت نے سب کو گنگ کر دیا۔
ضمیر نے لرزتی سانس کے ساتھ لاشوں پر نظر ڈالی، پھر دوڑتا ہوا مسجد کے اندر گھسا مگر وہاں زافیر تھا اور نہ ہی ڈاکٹر۔
،وہ واپس باہر نکلا اور اونچی آواز میں حکم دیا
“چاروں طرف پھیل جاؤ…! دیکھو، کوئی زندہ ہے یا سب ختم ہو گئے۔ اگر کوئی لاش یا ثبوت نظر آئے تو اس کی تصویر بنا لینا۔”
ساتھی منتشر ہو گئے۔ ضمیر چند لمحے وہیں کھڑا ہر چیز کا باریک بینی سے جائزہ لینے لگا۔ شروع میں اسے گمان ہوا کہ شاید کسی بھیڑیے نے حملہ کیا ہوگا۔ لیکن جیسے جیسے اس کی نظر مختلف نشانوں تک گئی، اس کا شک کمزور پڑتا گیا۔
مسجد کا گرا ہوا دروازہ، اس پر گولیوں کے چھید، صحن کے باہر لپیٹے گئے قالین، نلکے کے پاس نالی میں خون کی سرخی، ہال اور صحن میں بہائے گئے پانی کے آثار، یہ سب مل کر ایک معمہ بن چکے تھے۔
“یہ… یہ بھیڑیے کا کام نہیں ہو سکتا…” وہ زیرِ لب بڑبڑایا۔
انہی سوچوں میں وہ صحن سے باہر نکلا اور لاشوں کے قریب آ کر بیٹھ گیا۔ ایک ایک لاش کو پیروں سے کھینچ کر ہلکے فاصلے پر سیدھا کیا اور کٹے پھٹے جسموں کا بغور معائنہ کرنے لگا۔ زخموں کے کناروں پر گہرے کٹاؤ اور ریشے ایسے بکھرے تھے، جیسے نوکیلے اور طاقتور پنجے نے گوشت چیر کر رکھ دیا ہو۔ ضمیر کی آنکھوں میں تجسس اور وحشت کا سایہ ایک ساتھ اتر آیا۔ وہ ہر زخم کی لکیر، ہر نشان، ہر کٹ کو ذہن میں جوڑنے کی کوشش کر رہا تھا مگر تصویر مکمل ہونے کے بجائے اور دھندلی ہوتی جا رہی تھی۔
جہاں خوف کا سایہ غالب تھا، وہیں ضمیر کے دل میں غصہ اور زافیر کو زندہ چھوڑ دینے کا پچھتاوا بڑھتا جا رہا تھا۔ اس کا ذہن بار بار اپنی حماقت کو کوس رہا تھا۔ وہ لاشوں کی جانچ میں ہی مصروف تھا جب اس کے ساتھی ایک ایک کر کے واپس آنے لگے۔
،باس…!” ایک نے قریب آتے ہی پکارا”
“ہمیں سمجھ نہیں آرہی یہ کیا بلا تھی، لیکن اس نے قیامت ڈھا دی۔”
،ضمیر نے بے چینی سے پوچھا
“کیا دیکھا تم لوگوں نے؟”
،ایک بولا
لاشیں بری طرح پھٹی ہوئی ہیں لیکن قریب ہی انسانی پیروں اور ہاتھوں کے نشان ہیں۔”
” ایسا لگتا ہے جیسے کوئی ہاتھوں اور پیروں کے بل دوڑتا ہوا حملے کر رہا تھا۔
،پھر دوسری طرف سے آنے والا بولا
ایک لاش کافی دور پڑی تھی۔ اس کی حالت باقی لاشوں سے کہیں زیادہ خراب تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی اس کے پاس دیر تک لیٹا رہا ہو۔”
” پھر کوئی انسان اس کے قریب آیا اور دونوں مسجد کی طرف واپس آئے۔
سبھی ساتھی اپنی اپنی جانچ کے بارے میں بتا رہے تھے اور ضمیر ان سب کو جوڑ کر ایک ہی نتیجے پر پہنچا۔ یہ کسی درندے کا کام نہیں، یہ زافیر تھا۔ اس کی زخمی حالت اور وحشیانہ کاروائی کو سوچ کر ضمیر کا یقین پختہ ہو گیا کہ زافیر کوئی عام انسان نہیں بلکہ کسی جِن، دیو یا بھیانک مخلوق کا روپ ہے۔ اب اسے اپنے انجام کا خوف ستانے لگا۔ دل میں ایک ہی خیال گردش کر رہا تھا… زافیر کو زندہ چھوڑنا میری سب سے بڑی غلطی تھی۔
وہ چپ چاپ اپنے ساتھیوں سے ہٹ کر ایک طرف گیا، کانپتے ہاتھوں سے موبائل نکالا اور ایک نمبر ملایا۔
،جیسے ہی کال ملی، وہ لرزتی آواز میں بولا
“وہ… وہ… ہمارے عمان کے ویزے… فوراً لگواؤ۔”
،دوسری طرف سے کچھ سن کر اس نے جلدی سے کہا
“پورے… پورے خاندان کے ویزے اور شام سے پہلے کی ٹکٹ ہونی چاہیے۔”
کال کاٹ کر وہ تیزی سے واپس اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور حکم دیا،
“سب لاشوں کو دفنا دو۔ جہاں بھی خون کے دھبے ہوں، ان پر مٹی ڈال دو۔ یہاں جو کچھ بھی ہوا، اس کا ایک بھی نشان باقی نہیں رہنا چاہیے۔”
،ایک ساتھی نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا، مگر ضمیر نے ہاتھ اٹھا کر اسے چپ کروا دیا اور سخت لہجے میں بولا
“دو گھنٹوں میں چرواہے یہاں پہنچ جائیں گے۔ اگر یہ سب دیکھ لیا تو بات پولیس تک پہنچے گی اور ہم سب پھنس جائیں گے۔”
،پھر وہ گاڑی کی طرف بڑھا، مگر کچھ یاد آتے ہی واپس پلٹا اور کہا
کام ختم ہونے کے بعد نزدیکی دیہات میں جا کر زافیر اور ڈاکٹر کو تلاش کرو۔”
” اگر زندہ مل جائیں تو فوراً مار دینا اور اگر نہ ملیں تو کم از کم ان کا پتہ ضرور لگانا۔
یہ کہہ کر وہ گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا اور باقی ڈرائیوروں کو ہاتھ کے اشارے سے روانہ ہونے کا حکم دیا۔ گاڑیاں کچے راستے پر دھول اڑاتی ہوئی دور نکل گئیں۔
اب پیچھے صرف ضمیر کے چند ساتھی رہ گئے تھے جو لاشیں دفنانے اور ہر ثبوت مٹانے میں مصروف تھے۔ ان سب کے دل میں ایک ہی خوف دھڑک رہا تھا. زافیر کا پیچھا کرنا گویا موت کو گلے لگانے کے مترادف تھا۔
°°°°°°°°°°
زافیر اور ڈاکٹر ایک تنگ پگڈنڈی پر چل رہے تھے۔ آگے زافیر کا دبلا پتلا مگر مضبوط وجود تھا اور پیچھے ڈاکٹر، جس کے کندھے پر بھاری بیگ لٹک رہا تھا۔ اردگرد کی فضا میں خاموشی اور نمی گھلی ہوئی تھی۔ قدموں تلے کچلے جاتے پتوں کی ہلکی سی آواز اور پرندوں کی چہچہاہٹ ماحول میں ترنم سا بنا رہی تھی۔
،ہلکی سی ڈھلوان اترتے ہوئے ڈاکٹر نے زافیر کو مخاطب کیا
“میں نے آج تک تمہارے جیسا نہ کسی کو دیکھا، نہ ہی سنا۔”
،زافیر نے نظریں سامنے رکھتے ہوئے پرسکون لہجے میں کہا
“کیونکہ ہم تمہاری دنیا صدیوں پہلے چھوڑ چکے ہیں… میں متوازی دنیا کا باسی ہوں۔”
ڈاکٹر کے چہرے پر حیرت کی ایک لہر دوڑ گئی۔ وہ پیرالل اسپیس، جسے وہ ہمیشہ ایک سائنسی مفروضہ سمجھتا رہا تھا، اب ایک زندہ وجود کی زبانی حقیقت کے طور پر سن رہا تھا۔ اگر یہ کوئی اور دن ہوتا تو شاید وہ ہنس کر ٹال دیتا مگر آج رات کے خوفناک مناظر دیکھنے کے بعد… ان الفاظ کو جھٹلانا ممکن نہیں تھا۔
،اس نے گہری سانس لی اور پوچھا
“کیا واقعی متوازی دنیا موجود ہے؟”
،زافیر نے آگے بڑھتے ہوئے جواب دیا
“ہاں… لیکن تمہاری دنیا سے بہت مختلف۔ وہاں میرا خاندان امرتا کی زندگی گزارتا تھا… ہم وہ تھے جنہیں کوئی نہیں مار سکتا تھا۔”
،وہ لمحہ بھر چپ ہوا، پھر سپاٹ لہجے میں بولا
“پھر میں نے خود ہی اپنے خاندان کو ختم کر دیا۔”
ڈاکٹر کی آنکھیں بے یقینی سے پھیل گئیں۔
“کیا… تم بھی امر ہو؟”
پتا نہیں… لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ انسان ہمیں زخمی تو کر سکتے ہیں مگر مار نہیں سکتے۔”
” ہمیں صرف ہمارا اپنا خون… مطلب کہ ہمارے خاندان کے افراد ہی مار سکتے ہیں۔
یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گیا۔ دونوں اب پگڈنڈی سے نکل کر کچی سڑک پر آ چکے تھے۔
کچھ آگے بڑھنے پر، انہیں ایک ہموار پہاڑی کے دامن میں ایک ویران پولٹری فارم نظر آیا ۔ سامنے ایک پرانا کنواں تھا، جس میں زنگ آلود موٹر اور نلکا لگا ہوا تھا۔ پہاڑی کی ڈھلوان پر نظر دوڑائی تو وہاں ایک اور پولٹری فارم دکھائی دیا جو نیچے والے کی طرح سنسان اور اجڑا ہوا تھا۔
،زافیر نے ڈاکٹر کی طرف دیکھا اور دھیمی آواز میں کہا
“یہاں آس پاس ضرور کوئی آبادی ہوگی۔”
،پھر اشارہ کرتے ہوئے بولا
“تم یہیں رکو، میں اوپر سے دیکھ کر آتا ہوں۔”
وہ پہاڑی پر جاتی تنگ پگڈنڈی پر قدم رکھ کر تیزی سے اوپر چڑھنے لگا۔ اوپر پہنچ کر دیکھا تو دوسرا پولٹری فارم بھی نیچے والے جیسا خالی اور اُداس پڑا تھا۔ وہ مزید آگے بڑھا، فارم کے دوسری طرف جاکر پہاڑی کے پار دیکھا، جہاں دو تین کھیتوں کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا گاؤں دکھائی دیا۔
یہ منظر دیکھ کر وہ فوراً واپس مڑا اور پہاڑی سے اتر کر ڈاکٹر کے پاس آیا۔
“چلو، آگے بڑھو… قریب ہی ایک گاؤں ہے۔”
یہ کہہ کر اس نے کچی سڑک پر قدم بڑھا دیے۔ مٹی کے ہلکے ذرات ہوا میں اٹھ رہے تھے اور ڈاکٹر بھی خاموشی سے اس کے پیچھے چل پڑا۔
°°°°°°°°°°
گاؤں کے قریب پہنچتے ہی ایک وسیع سا گھر دکھائی دیا جس کے گرد کوئی چاردیواری نہیں تھی۔ شمال کی سمت دو کمرے قطار میں بنے تھے، جن کے سامنے جنوبی جانب چار اور کمرے کھلتے تھے۔
تھوڑا مغرب کی طرف، ذرا فاصلے پر، دو الگ تھلگ کمرے تھے۔ ان کے قریب ایک گھنا نیم کا درخت اپنی شاخوں کے ساتھ گلی میں سایہ بکھیر رہا تھا۔
اس بڑے گھر سے پہلے والے کھیت میں، ایک ہال نما کمرہ تھا جس کے سامنے چند گائے اور بھینسیں بندھی ہوئی تھیں۔ ایک سانولی رنگت کا، جوان مرد اپنے دھیان میں، جانوروں کے آگے چارہ ڈال رہا تھا۔
،زافیر اور ڈاکٹر چند قدم کے فاصلے پر پہنچے تو ڈاکٹر نے آواز بلند کی
“!…بھائی صاحب”
مرد نے جانوروں سے نظریں ہٹا کر ان کی طرف دیکھا۔ ان کی حالت کافی ابتر ہوئی پڑی تھی۔ ڈاکٹر کے کپڑوں پر مٹی کے داغ جمے ہوئے تھے اور زافیر کا سوٹ پھٹا ہوا تھا، پینٹ گھٹنوں تک کٹی ہوئی اور شرٹ کئی جگہ سے چاک تھی۔
،وہ دھیمے قدموں ان کے پاس آیا، باری باری دونوں سے مصافحہ کیا اور اپنے پوٹھوہاری لہجے میں بولا
“کے گل اے… تساں نی حالت بڑی ماڑی اے۔ خیر تے اے نا؟”
،ڈاکٹر نے ایک ہلکی سی سانس بھر کر جواب دیا
“جی، خیریت ہی ہے… بس تھوڑا مصیبت میں پھنس گئے تھے۔”
،اس نے ایک نگاہ زافیر کے پھٹے کپڑوں پر ڈالی، پھر سامنے کھڑے مرد سے سوال کیا
“یہ کون سا گاؤں ہے؟ اور یہ کس تحصیل یا ضلع میں آتا ہے؟”
جوان مرد نے گہری نظر سے ڈاکٹر کی آنکھوں میں جھانکا۔ وہ کسی عام کسان کی طرح سادہ مزاج نہیں لگ رہا تھا۔ داڑھی شیو کر رکھی تھی اور مونچھیں قدرے بھاری تھیں۔ اس کے کپڑے صاف ستھرے اور نفیس تھے۔ اس کی آنکھوں کی تیزی بتا رہی تھی کہ وہ بات سمجھنے والا آدمی ہے۔ ایک لمحے میں ہی اس نے بھانپ لیا کہ یہ دونوں اپنی مرضی سے یہاں نہیں آئے… بلکہ زبردستی جنگل میں لائے گئے تھے اور اب کسی طرح وہاں سے نکل کر یہاں پہنچے ہیں۔
وہ اب اردو میں بات کر رہا تھا مگر لہجہ واضح طور پر پنجابی رنگ لیے ہوئے تھا۔
“مجھے لگتا ہے، ہمیں یہ بات گھر کے اندر بیٹھ کر کرنی چاہیے۔”
اس نے ایک نگاہ گلی کی طرف ڈالی، جہاں اس وقت سنّاٹا طاری تھا۔
“آپ لوگ مصیبت میں گھِرے ہوئے لگتے ہیں… یہاں کھڑے رہ کر بات کرنا، آپ کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ آئیے، میرے ساتھ چلیں۔”
،وہ دونوں کو اپنے ساتھ لے کر مغربی حصے میں واقع بیٹھک میں داخل ہوا۔ کمرے میں انہیں بٹھاتے ہوئے بولا
“شاید آپ لوگوں نے ابھی تک ناشتہ نہیں کیا… میں ناشتے کا بندوبست کرتا ہوں۔”
کوئی جواب سنے بغیر ہی وہ خاموشی سے باہر نکل گیا۔
زافیر اور ڈاکٹر نے بیٹھک کا بغور جائزہ لینا شروع کیا۔ لکڑی کی مضبوط کرسیاں، تین چارپائیاں جن پر سلیقے سے دھلی ہوئی چادریں بچھی تھیں۔ دیوار کے اندر بنے شیلف جن پر صاف ستھرے برتن ترتیب سے رکھے تھے۔ ایک طرف دیوار پر بارہ بور بندوق لٹک رہی تھی، جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ اس گھر کے مکین شکاری ہیں یا دشمن داری میں الجھے ہوئے۔ زافیر نے دل ہی دل میں سوچا، کتنی عجیب بات ہے کہ لوگ غربت میں بھی اپنے گھر کو اتنے وقار سے سنبھال لیتے ہیں۔
یہی سوچیں اس کے ذہن میں گردش کر رہی تھیں کہ دروازہ کھلا اور وہ مرد واپس آگیا۔ ایک ہاتھ میں ٹھنڈے پانی کا جگ اور دوسرے میں اپنے سفید کپڑوں کا ایک جوڑا تھا۔
،اس نے کپڑے زافیر کی طرف بڑھائے، جگ لکڑی کے ٹیبل پر رکھا، شیلف سے دو گلاس اتار کر ساتھ رکھے اور زافیر سے بولا
“پہلے کپڑے بدل لیں، پھر آرام سے بات ہوگی۔”
،کپڑے تھما کر وہ ان کے سامنے چارپائی پر بیٹھ گیا، کہنی تکیے پر ٹکائے ہوئے اور اطمینان سے بولا
“مجھے اندازہ ہے کہ آپ کسی مصیبت سے بھاگ کر آئے ہیں… لیکن یہاں، میری موجودگی میں، آپ پر کوئی آنچ نہیں آئے گی۔”
،زافیر نے کپڑے بازو پر رکھے اور متجسس لہجے میں پوچھا
“آپ کرتے کیا ہیں؟”
،وہ مسکرا کر بولا
“میں اسکول ٹیچر ہوں، ساتھ مال مویشی بھی پال رکھے ہیں۔ آپ مجھے ماسٹر کہہ سکتے ہیں۔”
زافیر نے اثبات میں سر ہلایا اور واش روم میں کپڑے بدلنے چلا گیا۔ اس کے واپس آنے تک کمرے میں ڈاکٹر اور ماسٹر کے درمیان خاموشی قائم رہی۔
زافیر کپڑے بدل کر واش روم سے نکلا تو سنجیدہ لہجہ لیے پوچھا،
“ماسٹر صاحب…! یہ کون سا گاؤں ہے؟”
،ماسٹر نے چارپائی پر نیم دراز ہوتے ہوئے تکیہ ذرا قریب کیا اور نرمی سے جواب دیا
“اس گاؤں کا نام منڈی جٹاں ہے… ہم ضلع گجرات میں آتے ہیں۔”
اس کے بعد رسمی نوعیت کی بات چیت شروع ہوئی جو تب تک جاری رہی جب تک دروازے پر ایک کم عمر لڑکا نمودار نہیں ہوگیا۔
، لڑکا قریب آکر ہاتھ ،سے اشارہ کرتے ہوئے، پوٹھوہاری لہجے میں بولا
“ابو… روٹی پک گئی اے۔”
ماسٹر اٹھا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ لوٹا تو ہاتھ میں ایک ٹرے تھی، جس پر ساگ والے خوشبودار پراٹھے، دو کپ چائے اور ساتھ ہی ساگ کا سالن رکھا تھا۔
،ڈاکٹر نے نرمی سے پوچھا
“کیا یہ بچہ آپ کا ہے؟”
،ماسٹر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
“جی ہاں، میرا بڑا بیٹا ہے۔”
“ماشاءاللہ… بہت پیارا بچہ ہے۔” ڈاکٹر اتنا کہہ کر ناشتہ کرنے میں مصروف ہوگیا۔ زافیر نے بس چائے کا کپ اٹھایا، ناشتے کا ایک نوالا بھی نہیں لیا۔
،ماسٹر نے محبت بھرے اصرار سے کہا
“کچھ ناشتہ کر لیجیے، بھوکے مت رہیں۔”
لیکن زافیر نے طبیعت خراب ہونے کا بہانہ کیا اور منع کردیا۔
،ناشتہ ختم ہونے پر وہ دونوں اٹھ کھڑے ہوئے۔ زافیر نے ممنون نگاہوں سے ماسٹر کی طرف دیکھا اور کہا
“آپ کا بہت شکریہ ماسٹر صاحب۔ ہم آپ کے لیے بالکل اجنبی تھے، پھر بھی آپ نے بہترین مہمان نوازی کی۔”
،ماسٹر کے ہونٹوں پر ایک نرم سی مسکان ابھری
“کوئی بات نہیں… ہم خود مصیبت زدہ لوگ ہیں۔ آپ جیسے لوگ اکثر ہمارے مہمان بن جاتے ہیں۔ اب ہم اس کے عادی ہوچکے ہیں۔”
،زافیر نے ہلکی مسکان کے ساتھ کہا
“آپ کی چائے بہت مزیدار تھی۔”
،ماسٹر کی مسکراہٹ مزید گہری ہوگئی
“!…ہم زمیندار لوگ چائے پر ہی تو جیتے ہیں… یہ بھی اچھی نہ ملے تو مال مویشی پالنے کا فائدہ ہی کیا”
،زافیر نے ہلکے سے توقف کے بعد کہا
“ویسے تو آپ پہلے ہی ہمارے لیے بہت کچھ کر چکے ہیں… مگر ایک اور احسان چاہیے۔”
،چند لمحے خاموش رہ کر اس نے سنجیدگی سے سوال کیا
“اگر آپ کو پریشانی نہ ہو تو کیا آپ ہمیں قریبی شہر تک پہنچانے کا بندوبست کر سکتے ہیں؟”
،ماسٹر کے لبوں پر فوراً نرمی ابھری
“پریشانی کیسی… میں خود اپنی بائیک پر آپ کو چھوڑ آؤں گا۔”
یہ کہہ کر وہ دروازے کی طرف بڑھنے لگا لیکن ذہن میں کوئی خیال آنے پر رک گیا۔ اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا، ہزار ہزار کے پانچ نوٹ نکالے اور زافیر کی طرف بڑھا دیے،
“یہ رکھ لیجیے… راستے میں ضرورت پڑے گی۔”
زافیر اس شخص کو دیکھ کر حیرت میں پڑ گیا۔
عجیب آدمی تھا، نہ کوئی رشتہ، نہ جان پہچان، نہ لینا دینا پھر بھی اپنی استطاعت سے بڑھ کر مدد کر رہا تھا۔
،اس نے خاموشی سے نوٹ پکڑے اور نرمی سے کہا
“میں واپس پہنچتے ہی ڈاکٹر صاحب کو پیسے دے دوں گا، وہ آپ تک پہنچا دیں گے۔”
،ماسٹر نے چہرے پر سنجیدگی لاتے ہوئے جواب دیا
“کیا آپ چاہتے ہیں کہ میری نیکی ضائع ہو جائے؟ مجھے یہ واپس نہیں چاہییں۔”
،یہ کہہ کر وہ دروازے کی طرف بڑھا اور جاتے جاتے مڑ کر بولا
“آپ نیچے گلی میں چلیں، میں بائیک لے کر آتا ہوں۔”
زافیر اس کے پیچھے نگاہوں سے اسے رخصت کرتا رہا۔ دل ہی دل میں اس نے سوچا کہ اس نیکی کا بدلہ ضرور نیکی سے چکائے گا… مگر ساتھ ہی ایک اداس خیال بھی ابھرا، شاید وہ اس بار بھی کسان کی نیکی کی طرح یہ احسان بھی بھلا بیٹھے۔ کیونکہ زندگی کی الجھنوں نے پہلے ہی سب راستے دھندلا دیے تھے اور اب تو زندگی پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو چکی تھی۔
چند لمحے بعد وہ دونوں گلی میں جا پہنچے۔ ماسٹر بائیک لے کر آیا، انہیں ساتھ بٹھایا اور چڑھائی چڑھتے ہوئے، بائیک کو مسجد والی گلی میں موڑ دیا۔
اِدھر، انہی سنسان راستوں پر جن سے زافیر اور ڈاکٹر گاؤں تک پہنچے تھے۔ ضمیر کے تین غنڈے بھی قدم بہ قدم اسی طرف بڑھ رہے تھے۔ ویران پولٹری فارم کے قریب سے گزرتے ہوئے ان کا ہر قدم گاؤں کو مزید قریب لا رہا تھا۔
°°°°°°°°°°
…جاری ہے
،جس مسجد میں زافیر قید تھا)
،یہ ایک حقیقی مسجد تھی
،دونوں پولٹری فارم
،گھر کا منظر
(یہ سب میرے گاؤں منڈی جٹاں کی 15 سالہ پرانی منظر کشی تھی۔
