ناول درندہ
قسط نمبر 2
باب اؤل: متوازی دنیا
مصنف: زیاد اصغر زارون
°°°°°°°°°°
زافیر، اس کی بہن رینا اور بھائی زمار، تقریباً پچاس منٹ کا طویل اور خاموش سفر طے کر کے بس والے مقام پر پہنچے۔ جیسے ہی ان کی گاڑی نے بس کی حدود میں قدم رکھا، فرنٹ شیشے پر جمے ہوئے سیاہی مائل خون کے داغ دور سے ہی صاف دکھائی دینے لگے۔ یہ منظر یہاں درندوں کے حملے کی نشانی تھا۔
رینا کی سانس دھیمی ہو گئی، زمار کی آنکھوں میں وہی پرانا اندیشہ پھر سے جاگا اور زافیر نے جیسے ہی وہ خون کے دھبے دیکھے، ڈیش بورڈ پر زور سے ہاتھ مار کر اپنا غصہ ظاہر کیا۔
“!…ان کمینے درندوں کو میں چھوڑوں گا نہیں”
زمار نے لب سمیٹے، آنکھوں کو خاموشی سے بس پر مرکوز رکھا اور گاڑی کو آہستہ سے بس کے نزدیک لا کر روکا۔ تینوں بیک وقت نیچے اترے اور جیسے ہی وہ بس کے قریب پہنچے، فضا میں ایک عجیب سی بو محسوس ہونے لگی۔ جلی ہوئی چمڑی، خون اور موت کی بو۔
بس کے دروازے کو دھکیلتے ہوئے جب وہ اندر داخل ہوئے تو آنکھوں کے سامنے جو منظر ابھرا، وہ ان کے غصے کو بھڑکانے کے لیے کافی تھا۔ بس کا فرش گویا قربان گاہ بن چکا تھا۔ ہر سیٹ کے نیچے، راستے میں، کھڑکیوں کے قریب، لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔ کوئی آدھی کھائی جا چکی تھی، کسی کی گردن ٹیڑھی ہو کر لٹک رہی تھی اور کچھ لاشیں ایسی تھیں جن کی آنکھیں نوچ کر نکال دی گئی تھیں۔ خون کی ندیاں بس کے فرش پر جمنے لگی تھیں، جن پر چلتے ہوئے جوتے بھی پھسلنے لگے۔
،رینا نے دانت بھینچتے ہوئے کہا
“لگتا ہے… ہمیں انسانوں کا شکار کرنے سے پہلے، ان درندوں کا شکار کرنا ہوگا۔”
،زمار فوراً پلٹا اور اس کی نگاہ غصے سے دہکنے لگی
“فضول بکواس مت کرو…! وہ کبھی ہمارا ہی حصہ تھے… ہماری فیملی تھے۔ یہ مت بھولو۔”
،زافیر نے رینا کے الفاظ کی تائید کرتے ہوئے آہستگی سے کہا
“لیکن وہ اب ہمارے کچھ نہیں۔ وہ درندے بن چکے ہیں اور درندوں کے ساتھ خاندان جیسا سلوک نہیں کیا جا سکتا۔”
،زمار نے تلخی سے ان دونوں کو گھورتے ہوئے کہا
“دادی کبھی انہیں مارنے کی اجازت نہیں دے گی۔ وہ انہیں صرف قید کرنا چاہتی ہیں۔”
اس لمحے تینوں پر ایک گہری خاموشی چھا گئی۔ بس میں کچھ دیر اور رہنے کے بعد وہ باہر نکلے اور سڑک کے دونوں طرف نظریں دوڑانے لگے، پھر زمین پر قدموں کے نشان ان کے مشاہدے میں آئے۔ کچھ چھوٹے، کچھ گہرے، کچھ الجھے ہوئے، جیسے بھاگتے قدموں نے ریت کو زخمی کر دیا ہو۔
،زافیر زمین پر جھکا، اپنی انگلی قدموں کے نشان پر رکھی اور جنگل کی سمت نگاہ دوڑاتے ہوئے کہا
“یہ نشان دو عورتوں اور تین بچوں کے ہیں۔ وہ اس طرف گئے ہیں… شاید زندہ بچ نکلے ہوں۔”
،زمار نے دوسری سمت جھکتے ہوئے نشاندہی کی
“یہ نشان کسی مرد کے ہیں… اور وہ گھنے جنگل کی طرف گئے ہیں۔ ان قدموں میں بھاگنے کی جلدی واضح ہے۔”
اس کے قریب ہی ایک اور قدموں کی قطار بھی دکھائی دی مگر وہ ایک مقام پر جا کر سمت بدل چکی تھی۔
،تینوں ایک جگہ اکٹھے ہوئے۔ لمحہ بھر کے لیے صرف سانسوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ زمار نے فیصلہ کن انداز میں زافیر کی طرف دیکھا
“زافیر! تم عورتوں اور بچوں کے پیچھے جاؤ… جو زندہ بچ گئے انہیں قابو کرو۔”
،پھر وہ رینا کی طرف مڑا
“تم اس شخص کے قدموں کا پیچھا کرو جس کے نشان جنگل کی طرف گئے ہیں۔”
“دوسرے نشان کا تعاقب میں خود کروں گا۔ ہمیں ایک ایک کو تلاش کرنا ہوگا… زندہ یا مردہ۔”
ایک بار پھر خاموشی غالب آگئی اور وہ تینوں قدموں کے نشان دیکھتے ہوئے مختلف اطراف نکل گئے
°°°°°°°°°°
زافیر خاموشی سے زمین پر ثبت قدموں کے نشانات کا پیچھا کر رہا تھا۔ وہ ہر قدم پھونک پھونک کر رکھ رہا تھا۔ اردگرد ہوا ساکت تھی، پرندے خاموش اور درخت یوں کھڑے تھے جیسے کسی خفیہ سانحے کے گواہ ہوں۔
چند قدم آگے بڑھتے ہی اچانک زافیر کی نگاہ ایک بھیانک منظر پر جا ٹھہری۔ سامنے ایک عورت کی لاش بکھری پڑی تھی۔ نصف دھڑ الگ پڑا تھا، باقی جسم خون سے تر اور انتڑیاں زمین پر لال سانپوں کی طرح پھیلی ہوئی تھیں۔ اس کی آنکھوں کی جگہ دو خالی سیاہ گڑھے تھے۔ درندوں نے اسے نوچ کھایا تھا۔ ایک اذیت ناک خاموشی اس لاش پر چھائی تھی جو کسی قیامت کا پتہ دیتی تھی۔
لاش کے قریب ہی ایک ننھے سے بچے کا مردہ جسم پڑا تھا۔ اس کا چہرہ فرشتوں جیسا معصوم مگر نیلا پڑ چکا تھا جیسے موت سے پہلے وہ ماں کو پکارتا رہا ہو۔ زافیر ایک لمحے کو وہیں کھڑا رہا اور مردہ اجسام کی جانچ کرنے لگا۔
اس سے آگے کوئی قدموں کے نشان نہیں تھے۔ جیسے زندگی وہیں تھم گئی ہو۔ زافیر نے مایوسی سے پلٹنے کا ارادہ کیا لیکن اسی لمحے ایک ہلکی سی آہٹ ہوئی۔ مدھم مگر غیر معمولی آہٹ اس کی سماعت سے ٹکرائی۔ درخت کے پیچھے جیسے کوئی سایہ لرز رہا ہو۔ وہ فوراً چوکنا ہو گیا اور آہستہ قدموں سے اس آہٹ کی سمت بڑھا۔
درخت کے پیچھے ایک تین سال کی ننھی بچی زمین پر بیٹھی تھی۔ بچی نے ننھے بازوؤں میں اپنے وجود کو جکڑ رکھا تھا اور چہرہ گھٹنوں میں چھپا رکھا تھا۔ جیسے وہ دنیا سے اپنا وجود چھپانا چاہتی ہو۔ اس کے نازک کندھے تھر تھر کانپ رہے تھے۔
زافیر کی آنکھوں میں حیرت کا رنگ گہرا ہوتا گیا۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اتنے درندوں کے حملے کے بعد کوئی زندہ بچ سکتا ہے اور وہ بھی اتنی چھوٹی سی بچی۔ وہ دھیرے سے اس کے قریب گیا اور نرمی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے ہلکا سا جھنجھوڑا۔
،بچی یکدم چونک گئی۔ اس کے حلق سے ایک سسکی ابھری مگر اس نے سر نہیں اٹھایا۔ وہ اب بھی اپنے آپ میں سمٹی ہوئی تھی۔ زافیر نے نرمی سے کہا
“فکر مت کرو… تم محفوظ ہو۔”
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد بچی نے آہستہ سے سر اٹھایا۔ اس کی سنہری آنکھیں لرزتی ہوئی زافیر کو تکنے لگیں اور وہ خود بےبس ہو کر اسے تکنے لگا۔ معصوم، بے داغ، آسمانی نقوش… جیسے جنت کا کوئی ٹکڑا خون آلود زمین پر اتر آیا ہو۔
بچی نے چاروں طرف خوف سے نظریں دوڑائیں اور پھر ایک لمحے میں زافیر سے لپٹ گئی۔ وہ خاموش تھی، اس کی آنکھیں بھیگ چکی تھیں مگر اس کی زبان پر کوئی لفظ نہیں تھا۔ زافیر نے اس ننھے وجود کو آہستگی سے بانہوں میں سمیٹا اور سینے سے لگا لیا۔
بچی کے بولے بنا ہی اسے اندازہ ہوچکا تھا… وہ عورت جو اب ایک لاش میں بدل چکی تھی، اس بچی کی ماں تھی۔ اور اب یہ ننھی جان دنیا میں تنہا تھی۔ کوئی اسے پکارنے والا نہیں تھا اور نہ ہی کوئی رونے والا۔
زافیر نے خاموشی سے قدم موڑے، بچی کو اپنے سینے سے لگائے وہ اس ویران جنگل میں گاڑی کی سمت چل پڑا۔
°°°°°°°°°°
جیپ سنسان سڑک پر واپسی کے سفر پر گامزن تھی۔ فضا میں عجیب سی خاموشی اور گھٹن تھی جیسے درخت بھی سانس روک کر اس شیطانی سفر کا مشاہدہ کر رہے ہوں۔ جیپ کے اندر تین درندہ صفت انسانوں کا وجود تھا لیکن ان میں سے ایک کا دل آج پہلی بار عجیب کشمکش کی لپیٹ میں تھا۔
زافیر اپنی بہن رینا اور بھائی زمار کے ساتھ بنگلے کی جانب لوٹ رہا تھا۔ جیپ کے پچھلے سیٹ پر ننھی سی تین سالہ بچی زافیر کی گود میں سہمی بیٹھی تھی۔ اس کے گول مٹول چہرے پر خاموشی چھائی تھی مگر آنکھیں ہر حرکت کا باریک بینی سے مشاہدہ کر رہی تھیں۔
،رینا کی نظریں بچی کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔ اُس نے جھک کر بچی کے سرخ و سپید گال پر انگلی پھیری، جیسے کوئی قیمتی گوشت چیک کر رہا ہو پھر اس کی سنہری آنکھوں میں جھانک کر ایک سرسراتی آواز میں بولی
“…اس بچی کی آنکھیں میں کھاؤں گی”
،اس جملے میں درندگی اور جنون کا ایسا امتزاج تھا کہ فضا اور بھی بوجھل ہو گئی۔ زمار کے لبوں پر ایک مکروہ سی مسکراہٹ رینگ گئی، جیسے اندر کا درندہ بیدار ہو رہا ہو۔ اُس نے بچی کو ایک بھیڑیے کی طرح تاڑتے ہوئے کہا
“کبھی کسی بچے کا گوشت نہیں کھایا… پتا نہیں کیسا ہوگا… نرم یا مکھن جیسا؟”
زافیر خاموش تھا لیکن اندر ہی اندر اُس کے وجود میں کچھ کھول رہا تھا۔ وہ بھی آدم خور تھا، اس کے ہاتھ بھی انسانی خون سے رنگے تھے مگر آج… آج کچھ بدل گیا تھا۔ وہ ننھی بچی، معصوم نگاہوں سے ان تینوں کے چہروں کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے کسی اور زبان کی باتیں سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو۔ اس کی خاموشی چیخ بن کر زافیر کے دل میں گونج رہی تھی۔
،زمار کی نظریں ابھی بھی خون آلود خیالات سے لبریز تھیں۔ اس نے مزید آگ بھڑکاتے ہوئے کہا
“…میرا خیال ہے دو چار سال اس بچی کو پالتے ہیں… جب گوشت بھر جائے گا، تب”
،لیکن وہ اپنا جملہ مکمل نہ کر سکا۔ زافیر کا غصہ زنجیروں سے آزاد ہو چکا تھا۔ وہ گرجا
“!…بکواس بند کرو… اس بچی کا فیصلہ صرف دادی کریں گی۔ اگر دوبارہ ایسی واہیات بات کی تو زبان کھینچ لوں گا تمہاری”
،زافیر کے بگڑے ہوئے لہجے اور جلال بھری آنکھوں نے جیپ کا ماحول ایک لمحے میں بدل کر رکھ دیا۔ زمار کی پیشانی پر بل پڑ گئے، غرور اور حقارت نے اسے جلایا۔ اُس نے زافیر کی طرف نگاہیں موڑتے ہوئے زہر اگلا
“کیوں؟ تجھے ہمدردی ہوگئی اس سے؟ رکھیل بنانے کا ارادہ ہے یا بیٹی بنانا چاہتا ہے؟”
،یہ جملہ زافیر کے صبر کی آخری حد کو بھی پھلانگ گیا۔ وہ جھپٹ کر سامنے آیا اور غضبناک لہجے میں دھاڑا
“!…بند کر اپنی بکواس…! ورنہ چیر کے رکھ دوں گا تجھے”
اس کے الفاظ میں وہ آگ تھی جو ہر شے کو جلا سکتی تھی۔ آنکھوں میں چنگاریاں، لہجے میں بجلی اور وجود میں بے قابو طوفان۔ رینا نے فوراً زمار کے بازو پر ہاتھ رکھ کر اُسے خاموش رہنے کا اشارہ دیا۔ زمار نے دانت بھینچتے ہوئے منہ بند تو کر لیا… لیکن اس کی آنکھوں میں اب ایک ہی فیصلہ لکھا تھا۔
زافیر نے زمار کی انا کو ٹھیس پہنچائی تھی اور یہ بات اسے اندر سے کاٹ رہی تھی۔ اب اُس کے اندر ایک شیطانی خواہش جاگ چکی تھی۔ بنگلے پہنچتے ہی وہ اس معصوم بچی کو ذبح کرے گا، اپنے ہاتھوں سے اس کے ٹکڑے کرے گا اور ہر ضرب سے زافیر کے دل کو تار تار کر دے گا۔
جیپ اب بھی چل رہی تھی لیکن اس کے اندر انسان نہیں، درندے بیٹھے تھے اور ان درندوں میں صرف ایک ہی ایسا تھا، جس کے دل میں آج پہلی بار انسانیت نے جنم لیا تھا۔
°°°°°°°°°°
بنگلے کا دروازہ دھیرے سے چرچراتا ہوا کھلا تو ایک پراسرار سی ٹھنڈک فضا میں در آئی۔ زافیر اندر داخل ہوا تو اس کی انگلی میں ایک ننھا سا ہاتھ لپٹا ہوا تھا۔ بچی کے چہرے پر معصومیت تھی لیکن اجنبی ماحول سے وہ سہمی ہوئی تھی۔ اُس کی بڑی بڑی سنہری آنکھیں دائیں بائیں حیرت اور خوف سے دیکھ رہی تھیں جبکہ دوسرا ہاتھ اس نے زافیر کے بازو پر اس مضبوطی سے جما رکھا تھا گویا وہی اس دنیا میں اس کی آخری پناہ، آخری محافظ ہو۔
پیچھے رینا اور زمار خاموشی سے مگر شیطانی چمک کے ساتھ بنگلے میں داخل ہوئے۔ ان کے قدموں کی چاپ ہال کے فرش پر گونجتی رہی جیسے کسی صدیوں پرانی قتل گاہ میں قاتل لوٹ کر آ رہے ہوں۔
ہال میں پہنچ کر زافیر کی نگاہ فوراً سامنے والی کرسی پر گئی۔ وہی مخصوص، جاندار کھدی ہوئی کرسی، جس پر ہمیشہ کی طرح دادی بیٹھی تھی۔ چمڑے کی بنی پرانی کرسی جس پر وقت جیسے ٹھہر گیا تھا اور جس پر بیٹھی بوڑھی عورت کی آنکھوں میں وقت سے پرے کی سفاکی تھی۔
زافیر نے بچی کو آہستگی سے دادی کے سامنے پیش کیا۔
“ہمیں یہ لڑکی جنگل میں ملی۔”
اس کے لہجے میں ادب بھی تھا اور اندیشہ بھی۔
دادی نے بچی کو غور سے دیکھا۔ اُس کی نگاہ پہلے بچی کی آنکھوں میں اتری، جہاں معصومیت ایک بے زبان فریاد بن کر ٹھہری ہوئی تھی پھر اس نے گالوں کو پرکھا اور آخر میں گویا آنکھوں کے ذریعے اس کا سارا جسم تولنا شروع کر دیا۔ جیسے کوئی قصائی گوشت کی تازگی جانچ رہا ہو۔
،پھر بوڑھی کے ہونٹ ہلے اور الفاظ زہر آلود تیر بن کر نکلے
“بہت پیاری بچی ہے… اسے کیچن میں اپنے چچا کے حوالے کرو۔ یہ ناشتے میں چل جائے گی۔”
یہ جملہ بجلی کی کڑک جیسا تھا۔
رینا اور زمار کی آنکھوں میں چمک نمودار ہوئی بھوکے درندوں کی سی۔ وہ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے دادی کے پیچھے ہوگئے۔ جیسے کسی شاطرانہ ڈرامے کے کردار، جو سٹیج پر اپنے مکروہ منظر کا آغاز کرنے والے ہوں۔ ان کی خاموشی، ان کی نظریں اور ان کا سکون محض زافیر کی بےبسی سے لطف اٹھانے کا ذریعہ تھا۔
زافیر کی نظر ایک لمحے کے لیے بچی کی طرف گئی۔ وہ اب بھی اس کے بازو سے چمٹی ہوئی تھی۔ جیسے جانتی ہو کہ ایک لمحہ کی جدائی موت کا پروانہ بن سکتی ہے۔ اس کے معصوم چہرے پر بھروسے کی ایک لکیر تھی اور اسی لکیر نے زافیر کی روح کو جھنجھوڑ ڈالا۔
،اس نے آہستہ سے کہا
“کیا ایسا ممکن نہیں کہ ہم اسے اپنا فیملی ممبر بنا لیں؟”
دادی نے اس کی طرف دیکھا، ایک سرد اور خونخوار نگاہ سے۔ جیسے کسی نے اس کے اقتدار کو چیلنج کیا ہو۔ لمحہ بھر کے لیے خاموشی چھا گئی پھر وہ آہستگی سے بولی مگر لہجہ فولادی تھا،
“یہ بچی ایک وقت کا کھانا ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔”
،اس سے پہلے کہ زافیر کچھ کہتا، زمار نے غصے اور تمسخر آمیز لہجے میں تڑخ کر کہا
“دادی…! زافیر اس بچی کی وکالت میں کھڑا ہے۔ اس نے میرے ساتھ بھی بدتمیزی کی… جیسے یہ اس کی اپنی بیٹی ہو۔”
اور ہال… جسے قہقہوں، کھانے کی خوشبوؤں اور خاندانی سازشوں کا مرکز ہونا چاہیے تھا، اب وہاں صرف ایک ننھی سی بچی کا لرزتا ہوا وجود تھا۔ دوسری جانب زافیر، جس کے دل میں آج پہلی بار وحشت کے خلاف رحم کی شمع جل چکی تھی۔
،دادی کی نگاہ ایک پل کو زمار پر ٹکی، پھر دھیرے سے زافیر کی طرف مڑی۔ اس کی آنکھوں میں یکا یک اک عجیب سی تبدیلی آئی۔ جیسے وہ زافیر کے دل کی بےقراری کو پڑھ رہی ہو۔ لمحے بھر کے لیے خاموشی طاری رہی اور پھر وہ نرمی سے بولی
“میں نے اپنا ارادہ بدل دیا۔”
زافیر کے چہرے پر خوشی کی ایک ہلکی سی لہر دوڑ گئی۔ آنکھوں میں زندگی سی جاگنے لگی جیسے روشنی کی ایک کرن اندھیرے میں چمکی ہو مگر یہ سکون محض ایک پل کا مہمان تھا۔
،اگلے ہی لمحے دادی کے ہونٹوں سے سرد اور بے رحم الفاظ ٹپکے
“ناشتہ تو کل ہوگا… ہم اسے ابھی فوراً مار کر پکائیں گے اور دوپہر کے کھانے میں ہی کھائیں گے۔”
،زافیر کا دل دھک سے رہ گیا۔ وہ ساکت کھڑا رہ گیا جیسے کسی نے اس کا سینہ چیر دیا ہو۔ آواز بھرا گئی مگر اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے دھیرے سے کہا
“…لیکن دادی”
،دادی نے اس کی بات کاٹ دی اور ایک آمر کی طرح گرجی
“!…یہ میرا گھر ہے اور یہاں سب فیصلے میں ہی کرتی ہوں”
،اس کی انگلی زمار کی طرف اٹھی
“!…لے جاؤ اسے ذبح خانے میں”
زمار نے گردن کو جنبش دی اور زافیر کی طرف بڑھا۔ وہ بچی کو کھینچنے لگا لیکن ننھی جان زافیر کو چھوڑنے پر تیار نہیں تھی۔ وہ بلک رہی تھی، چیخ رہی تھی، کپکپا رہی تھی۔ اس کا ننھا جسم لرز رہا تھا اور آنکھیں خوف سے پتھرا گئی تھیں۔
زافیر کو یوں محسوس ہوا جیسے زمار بچی کو نہیں بلکہ خود اس کے دل، اس کی روح کو گھسیٹ کر لے جا رہا ہو۔ وہ اندر ہی اندر ٹوٹ رہا تھا۔ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا، کچھ کرنا چاہتا تھا مگر دادی کی حکمران آنکھیں اور برسوں سے دل پر طاری خوف، اس کے قدموں میں بیڑیاں بن گیا تھا۔
،زمار بچی کو کھینچتا ہوا ذبح خانے کی طرف بڑھ گیا۔ ننھی بچی ہر قدم پر پیچھے پلٹ کر زافیر کی طرف ہاتھ بڑھاتی، جیسے خاموش فریاد کر رہی ہو
“مجھے بچا لو… تم تو میرے اپنے ہو۔”
زافیر کا دل لہو سے بھر گیا۔ اس کی آنکھوں میں نمی جم اتر آئی تھی۔ وہ پتھر کی طرح کھڑا بس تکتا رہا۔ بچی کے چیخنے، بلکنے اور درد سے سسکنے کی آوازیں ابھی تک ہال میں گونج رہی تھیں۔ وہ آوازیں اس کے کانوں میں نہیں، دل کے اندر خنجر کی طرح چبھ رہی تھیں۔
، آخر دل کے طوفان نے زبان کو ہلا ہی دیا
“نہیں… یہ غلط ہے دادی… وہ بس چھوٹی سی بچی ہے۔”
،زافیر کی آواز میں درد تھا، بغاوت کا پہلا اشارہ تھا۔ دادی بھڑک اٹھی، اس کے لہجے میں گویا بجلی کڑکی
“!…اپنی حد میں رہو! دوبارہ میرے حکم کے خلاف بولنے کی کوشش کی تو چیر ڈالوں گی تمہیں”
،زافیر کی آنکھوں سے آنسو اس کے گالوں پر بہنے لگے مگر اب آنسو کمزوری نہیں رہے تھے۔ وہ بغاوت کی چنگاری بن چکے تھے۔ وہ گرجا
“!…میں آپ کو اس ظلم کی اجازت نہیں دوں گا”
اور پھر وہ بجلی کی رفتار سے پلٹا اور ذبح خانے کی طرف دوڑ پڑا۔ بچی کے چیخنے کی صدائیں ابھی تک گونج رہی تھیں اور اب زافیر کے قدم بھی اس سناٹے کو چیرتے ہوئے اس کی طرف بڑھ رہے تھے۔
ہال میں صرف دو چہرے رہ گئے تھے، رینا اور دادی۔
رینا نے دادی کو دیکھا، پھر دروازے کی سمت نظریں دوڑائیں جہاں زافیر جا چکا تھا۔ اس کے چہرے پر خوف تھا، افسوس تھا اور ایک بےآواز سوال۔ کیا زافیر نے دادی سے جنگ مول لے لی؟
دادی کی آنکھوں میں غضب کی آگ بھڑک رہی تھی۔ اس کے ہونٹ سختی سے بھینچے ہوئے تھے اور چہرے پر غصے کی بڑھتی شدت تھی۔
یہ وہ لمحہ تھا جہاں ایک گھر کا سکوت ٹوٹا، ایک نسل کی بغاوت نے جنم لیا اور ایک معصوم بچی کے خون کے بدلے، شاید اب خود دادی کی سلطنت لرزنے والی تھی۔
°°°°°°°°°°
ذبح خانے کا دروازہ زور سے کھلا۔ زافیر آندھی کی طرح اندر داخل ہوا۔ ہوا کی ایک سرد لہر کے ساتھ اس کے قدموں کی گونج نے، فضا میں چھپی موت کی خاموش سرگوشیوں کو چیر دیا۔ کمرے میں ہر چیز بےرحم اور بےجان دکھائی دے رہی تھی۔
… دھندلی روشنی، خون آلود تختہ، دیوار پر ٹنگی چھریاں اور فرش پر گرا ہوا… جما ہوا خون
بچی تختے پر بے بس لیٹی تھی۔ اس کی آنکھوں میں کرب تھا، گال آنسوؤں سے تر تھے اور جسم خوف سے کپکپا رہا تھا۔ زمار نے اس کے بازو اور ٹانگیں جکڑ رکھی تھیں۔ ان کا چچا خاموشی سے چاقو تیز کر رہا تھا، جیسے ہر چیز ایک معمول کے حصے کی طرح وقوع پذیر ہو رہی ہو۔
لیکن اگلے ہی پل فضا چیخ اٹھی۔
“!…رک جاؤ…! چھوڑو بچی کو”
،زافیر کی گرجدار آواز نے ماحول کو لرزا دیا
وہ بجلی کی طرح آگے بڑھا، چچا کو دونوں ہاتھوں سے دھکا دیا۔ وہ حیرت سے لڑکھڑایا، پیچھے کو لڑھکا اور زمار سے ٹکرا کر دونوں دھڑام سے فرش پر جا گرے۔ دھاتی چاقو فرش پر لڑھکتا ہوا ایک طرف جا گِرا، اس کی آواز میں للکار اور گرج تھی۔
زافیر نے جھک کر تیزی سے بچی کو اُٹھایا، اسے تختے سے الگ کیا اور اپنے سینے سے لگا لیا۔ بچی اب بھی لرز رہی تھی، آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔
اس نے بچی کے نم گالوں کو اپنی ہتھیلی سے صاف کیا، جیسے وہ اسے یقین دلا رہا ہو کہ دنیا میں ابھی ایک ایسا شخص موجود ہے جو اس کے لیے سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہے۔
“ڈرو مت… تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔”
زافیر کی آواز میں وہ تھرتھراہٹ تھی جو کسی ٹوٹے ہوئے دل سے نکلتی ہے۔ اس کا ایک ہاتھ بچی کے گال پر تھا۔ جیسے وہ ننھی جان اس کی اپنی بیٹی ہو… اس کا اپنا خون ہو… وجود کا آخری حصہ ہو… جسے بچانے کے لیے وہ قیامت سے بھی ٹکرانے کو تیار بیٹھا ہو۔
اس لمحے میں زافیر صرف ایک آدم خور نہیں رہا تھا۔ وہ ایک انسان بن چکا تھا۔ ایک باپ اور ایک محافظ۔
،کمرے میں ابھی بھی سناٹا تھا۔ زمار اور چچا فرش سے اٹھنے کی کوشش کر رہے تھے مگر زافیر اب ایک چٹان کی مانند اپنے فیصلے پر قائم تھا۔ اس کے وجود سے جیسے کوئی نئی روشنی پھوٹ رہی تھی۔ جو اس خونی روایت کو چیلنج کر رہی تھی… وہ روشنی جو کہہ رہی تھی
“بس… بہت ہوگیا… اب یہ ظلم نہیں چلے گا۔”
°°°°°°°°°°
…جاری ہے
