ناول درندہ

قسط نمبر 21

باب سوّم: شبکہ

مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°

…سات مہینے
بیت چکے تھے مگر پنجاب کی فضا میں اب بھی بارود کی بُو اور بندوقوں کی گونج باقی تھی۔ ایان کے پنجاب بھر میں پھیلے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے کمانڈر زید اور زافیر کا آپریشن دن رات جاری تھا۔ زافیر اس مشن کو انجام تک پہنچانے کے لیے، پیسہ پانی کی طرح بہا رہا تھا۔

بظاہر زید اور زافیر ایک دوسرے کے وفادار ساتھی نظر آتے تھے لیکن زافیر بخوبی جانتا تھا کہ کمانڈر زید اس کی دولت اور اثر و رسوخ کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
زید کا اصل ہدف واضح تھا، مجید بریگیڈ اور بی ایل ایف کے لے پالک… ایان کی پنجاب میں جمی ہوئی جڑوں کا خاتمہ۔ اسی مقصد کے تحت وہ زافیر کو ابھی تک براہِ راست ایان پر حملے سے روکے ہوئے تھا۔

یہ نہیں تھا کہ وہ ایان کو گرفتار یا ہلاک نہیں کرنا چاہتا تھا۔ بس وہ صحیح وقت کا انتظار کر رہا تھا۔ اگر ایان کو قبل از وقت مار دیا جاتا تو زافیر کی دلچسپی ختم ہو جاتی اور اس کے بغیر پنجاب بھر میں پھیلے باقی نیٹ ورک کو صاف کرنا نہایت دشوار ہو جاتا۔ اس کے پیچھے ہٹنے سے، ایجنسی کے لوگوں کو براہِ راست میدان میں آنا پڑتا، جس کا مطلب تھا کہ ریاستی اداروں کی ساکھ کو خطرہ لاحق ہوتا اور عوام کے ذہنوں میں زہر بھرنے والے اپنے پروپیگنڈے کو مزید تیز کر دیتے۔ ہائی کمانڈ اس خطرے کو مول لینے کے لیے تیار نہیں تھی۔

ان سات مہینوں میں زافیر اور زید نے مختلف شہروں اور قصبوں میں ایان کے سینکڑوں کارندوں کا صفایا کر دیا تھا۔ چھوٹے بڑے گینگ ایک ایک کر کے مٹتے جا رہے تھے۔ میڈیا نے اس خونریز سلسلے کو “شبکہ گینگ وار” کا نام دے دیا۔ پولیس نے کئی بار زافیر کو گرفتار کرنے کی کوشش کی، مگر ہر بار ثبوت نہ ملنے پر ناکام واپس لوٹ آئی۔ پولیس کے افسرانِ بالا نے اس خونریزی کو روکنے کے لیے کئی بار انٹیلیجنس ایجنسیوں سے مدد مانگی لیکن انہیں ہمیشہ ایک ہی جواب ملا
“یہ ریاست کے اندرونی معاملات ہیں… ہم مداخلت نہیں کر سکتے۔ اپنے مسائل خود حل کرو۔”
یوں پنجاب کے اندھیروں میں ایک خفیہ جنگ جاری تھی۔ جس کا اصل چہرہ عوام کی نظروں سے اوجھل تھا مگر اس کے اثرات ہر دل میں خوف کی لہر بن کر محسوس ہو رہے تھے۔

دوسری جانب، ایان اندر ہی اندر تلملا رہا تھا۔ پنجاب میں اس کا مضبوط سمجھے جانے والا نیٹ ورک تیزی سے زمین بوس ہو رہا تھا۔ اس کے بے شمار اڈے اجڑے کھنڈرات میں بدل چکے تھے اور اس کے سینکڑوں کارندے ایک ایک کر کے مارے جا چکے تھے۔ یہ سب کچھ ایان کے لیے ایک کاری ضرب ثابت ہوا۔ ایسا دھچکا جس نے اس کے غرور اور اعتماد کو چیر کر رکھ دیا۔
اس نے زافیر کو راستے سے ہٹانے کے لیے کئی بار حملے کروائے، مختلف سازشیں بُنیں لیکن ہر وار خالی گیا۔ ہر منصوبہ، ہر حربہ منہ کے بل زمین پر گرا۔ آزلان کی موت کے بعد، زافیر نے ہر قدم احتیاط سے آگے بڑھایا تھا۔ وہ ہر چال کو پہلے ہی بھانپ لیتا اور اسے ناکام بنا دیتا تھا۔

بی ایل ایف اور مجید بریگیڈ اس سچائی سے مکمل طور پر بے خبر تھے کہ پنجاب میں ایان کا نیٹ ورک بکھر رہا ہے۔ ایان نے بڑی مہارت سے یہ خبر ان سے چھپا رکھی تھی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر انہیں اصل صورتحال کا علم ہو گیا تو ان کا رویہ فوراً بدل جائے گا… اور شاید وہ اس کی مالی اور عسکری امداد ہمیشہ کے لیے بند کر دیں۔ اسی خوف سے وہ انہیں مبالغہ آمیز کامیابیوں کی کہانیاں اور من گھڑت اطلاعات سنا کر اپنی اہلیت کا تاثر قائم رکھے ہوئے تھا۔ لیکن یہ کھیل زیادہ دیر نہیں چل سکتا تھا۔ حقیقت کا بوجھ اس کے گرد گھیرا تنگ کرتا جا رہا تھا اور وہ ایک ایسے جال میں پھنس چکا تھا جہاں ہر راستہ بند محسوس ہو رہا تھا۔

اب سیاسی و عسکری فضا بھی تیزی سے بدل رہی تھی۔ حالات اب بہت تیزی سے بدلنے والے تھے… ایسے بدلاؤ جو نہ صرف ایان کے لیے نئی مشکلات لے کر آنے والے تھے بلکہ مجید بریگیڈ اور بی ایل ایف کے لیے بھی ہر رات کو مزید خوفناک بنانے والے تھے۔ آنے والا وقت سب کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہو سکتا تھا۔

جنرل راجہ اکرام بھٹی کو اگلے آرمی چیف کے عہدے پر فائز کر دیا گیا تھا۔ اس کا آبائی گاؤں لالہ موسیٰ کے قریب واقع لادیاں تھا… ایک ایسا گاؤں جو پاکستان کی عسکری تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جا چکا تھا۔ اس خاندان سے پہلے بھی کئی نامور فوجی افسر گزرے تھے، جن میں کچھ آرمی چیف کے عہدے تک پہنچے اور کچھ اپنی جانیں قربان کر کے تاریخ میں امر ہو گئے۔

اس کے ایک بھائی نے 1965ء کی جنگ میں شہادت کا مرتبہ پایا تھا۔ ایک اور نے دہشتگردی کے خلاف لڑتے ہوئے بہادری کی ایسی داستان رقم کی کہ اسے نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔ کئی خون کے جڑے رشتے سے تعلق رکھنے والوں نے آپریشن ضربِ عضب اور راہِ راست میں ناقابلِ فراموش جرأت کا مظاہرہ کیا تھا۔ یہ خاندان دراصل اس مٹی کے سپاہیوں کا قافلہ تھا جنہوں نے نسل در نسل اپنے خون سے وطن کی جڑیں سینچیں تھیں۔

جنرل اکرام اسی عظیم نسل کا سپوت تھا۔ اس کی سابقہ خدمات اور ریکارڈ اتنے شاندار تھے کہ بڑے بڑے فوجی جرنیل اور نامور سیاستدان بھی اس کے نام سے کھنک محسوس کرتے تھے۔ اب، جب کہ اسے مکمل اختیارات مل چکے تھے۔ وہ اپنے ان سب خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے پر تُل چکا تھا جو برسوں سے اس کے دل میں سلگ رہے تھے۔

علیحدگی پسند تنظیموں اور بھارت کی خفیہ ایجنسی “را” کے لیے وہ اب محض ایک آرمی چیف نہیں بلکہ ڈراؤنا خواب بن چکا تھا۔ اس کے عہدہ سنبھالتے ہی فضاؤں میں بارود کی بو محسوس ہونے لگی تھی۔ ایک ایسی خونخوار جنگ کا پیش خیمہ تیار ہو رہا تھا جو دھرتی کو خاک اور خون سے نہلا دینے والی تھی۔

°°°°°°°°°°

جنرل اکرام بھٹی کی تقرری کے فوراً بعد جی ایچ کیو، ایک کانفرنس روم میں اہم اجلاس شروع ہوا۔ کمرے کی فضا میں سنجیدگی اور تناؤ کی ملی جلی کیفیت تھی۔ لمبی میز کے گرد بیٹھے چند منتخب فوجی اور انٹیلیجنس افسران کے سامنے نقشے بچھے تھے، فائلیں کھلی تھیں اور دیوار پر بڑی اسکرین پر حساس مقامات کی تصاویر جھلک رہی تھیں۔
آرمی چیف کے پہلو میں انٹیلیجنس کا ڈائریکٹر، جنرل اکرم درانی بیٹھا تھا۔

،خاموشی کو توڑتے ہوئے جنرل اکرام بھٹی نے گہری نگاہ اس پر ڈالی اور دھیمے مگر پُراثر لہجے میں پوچھا
“آپ کا خفیہ آپریشن کہاں تک پہنچا؟”

،جنرل درانی سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ اس نے فائل میں سے دو صفحات نکالے اور آرمی چیف کی طرف بڑھاتے ہوئے رپورٹ پیش کی
ایان کا نیٹ ورک کافی حد تک کمزور ہو چکا ہے سر۔ اس فہرست میں اس کے تمام کارندوں کے نام درج ہیں۔ “

“جو نام ہائی لائٹ کیے گئے ہیں، وہ سب مارے جا چکے ہیں۔ باقیوں کے گرد بھی ہمارا گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے۔

،جنرل اکرام نے صفحات پر تیزی سے نظر دوڑائی، پھر بھنویں اچکاتے ہوئے پوچھا
“اور… اس مشن میں ہمارا اب تک کتنا نقصان ہوا ہے؟”

سر، سولہ ریٹائرڈ ایجنٹس اور کمانڈوز شہید ہو چکے ہیں۔”

چونکہ یہ ایک خفیہ مشن ہے، اس لیے حاضر سروس کوئی سپاہی اس میں شامل نہیں۔” جنرل درانی کا لہجہ بھاری تھا۔

“!…وہ… کیا نام تھا اس کا”
،آرمی چیف نے دماغ پر زور دیتے ہوئے کہا، جیسے کوئی نام یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہو پھر اچانک بولا
“ہاں… زافیر…! اس کے پیسے کے علاوہ بھی کوئی فائدہ ہو رہا ہے یا وہ صرف سرمایہ ہی لگا رہا ہے؟”

،جنرل درانی نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا
“نہیں سر، وہ بہت قابل آدمی ہے۔ لوگوں کا منہ کھلوانے کا ماہر ہے۔ اگر کوئی شخص اس کے قبضے میں آ جائے تو وہ معلومات نچوڑ کر رکھ دیتا ہے۔”

آرمی چیف نے اطمینان سے سر ہلایا اور فیصلہ کن لہجے میں کہا،
“بہت اچھے… اب پنجاب میں ایان کے نیٹ ورک سے نظریں ہٹا دو اور براہِ راست اس کا خاتمہ کرو۔”

لیکن سر…!” جنرل درانی چونک اٹھا۔ یہ حکم غیر متوقع تھا۔”

،آرمی چیف نے اس کی بات کاٹ دی
نیٹ ورک ایک ایسی شے ہے کہ اگر ایک شاخ کاٹو تو کئی اور پھوٹ آتی ہیں۔ زافیر کو بھی اپنا انتقام چاہیے۔ “

“اگر تم اسے یہیں الجھائے رکھو گے تو ایک دن وہ تنگ آ جائے گا۔ براہِ راست وار کرو۔

،جنرل درانی نے سنجیدگی سے کہا
“جی بہتر… مگر اس کے بعد زافیر شاید اپنی دولت اس نیٹ ورک کے خاتمے پر خرچ نہ کرے۔”

،آرمی چیف کے ہونٹوں پر ایک معنی خیز مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر بولا
وہ مجھ پر چھوڑ دو۔ میں اسے صرف ایک مددگار نہیں، ایک پرائیویٹ ایجنٹ بنا دوں گا۔”

” میں اسے زندگی کا ایک ایسا مقصد دوں گا کہ وہ مستقبل میں اپنے انتقام کے لیے نہیں بلکہ ریاست کی فلاح کے لیے لڑے گا۔

جنرل درانی نے خاموشی سے اثبات میں سر ہلا دیا۔

،آرمی چیف نے کمرے میں موجود دوسرے افسر کی طرف نظریں جما دیں
“جی، شاہ میر صاحب…! اب آپ اپنے مشن کی رپورٹ سنائیں۔”

یہ جنرل اکرام بھٹی کی آرمی چیف بننے کے بعد کی پہلی خفیہ میٹنگ تھی اور لگ رہا تھا کہ یہ رات طویل ہونے والی ہے۔

°°°°°°°°°°

زمار کے قدم پہاڑی کی ڈھلوان پر اس قدر تیز تھے کہ وہ چاہ کر بھی اپنی رفتار کم نہیں کر پا رہا تھا۔ ڈھلوان کا دباؤ اور تیز چلتی ہوا اسے آگے کی طرف دھکیل رہی تھی۔ کچھ دیر نیچے اترنے کے بعد وہ اس مقام پر پہنچا، جو نقشے پر واضح نشان کے ساتھ درج تھا… ایک دیو قامت برگد کا درخت، جس کی موٹی موٹی شاخیں زمین کو چھو رہی تھیں اور جڑیں چاروں طرف پھیل کر مٹی کو مضبوطی سے تھامے کھڑی تھیں۔

اس کے پاس زمین کھودنے کے لیے کوئی بھاری اوزار نہیں تھا۔ بیگ سے ایک کانٹے نما آلہ نکال کر وہ مٹی میں گڑھے بنانے لگا۔ وہ جگہ جگہ کھودتا، مٹی کے ڈھیلے بکھرتے، مگر ہر بار اس کے ہاتھ مایوسی لگتی۔ کافی دیر کی کوشش کے بعد اس نے اوزار ایک طرف پھینکا اور تھک کر درخت کے سائے میں بیٹھ گیا۔ ماتھے پر پسینے کی بوندیں اور چہرے پر الجھن کے آثار نمایاں تھے۔

اس نے دوبارہ نقشہ نکالا۔ نشان وہیں تھا جہاں وہ بیٹھا تھا مگر تاج کہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ ایک لمحے کو رکا، پھر نقشہ پلٹ دیا، یہ سوچ کر کہ شاید اس کی دوسری جانب کوئی اشارہ ہو۔

،نقشے کی پشت پر کازمار کی شاہی زبان میں چند پراسرار علامتیں بنی تھیں، جن کا مطلب تھا
“دونوں کے بیچ اک دراڑ ہے… برگد ہی اصلی راز ہے۔”

وہ فوراً اٹھ کھڑا ہوا اور درخت کے تنے کو ٹٹولنے لگا۔ صدیوں پرانا یہ برگد اپنی موٹی چھال اور بوسیدہ کھال سے وقت کا قصہ سنا رہا تھا۔ اگر کازمار نے واقعی یہاں تاج چھپایا تھا تو اب وہ تنے کے اندر گم ہو چکا ہوگا۔ اس دیوہیکل تنے کو کاٹنا تو ممکن ہی نہیں تھا۔

،وہ دوبارہ بیٹھ گیا اور پہیلی کے الفاظ کو بار بار دہرانے لگا
“…دونوں کے بیچ… دراڑ… برگد… اصلی راز… دراڑ… اصلی راز”

…لمحہ لمحہ گزرتا گیا اور دماغ جیسے بھاری دھند میں لپٹا رہا۔ پھر اچانک
،اس کے ذہن میں ایک جھماکے کی طرح خیال آیا
“نقشہ… ہاں، راز تو خود نقشے میں ہے۔”

اس نے احتیاط سے نقشے کے کناروں کو ٹٹولنا شروع کیا۔

جلد ہی اسے احساس ہوا کہ یہ محض ایک کاغذ نہیں بلکہ دو کاغذوں کو چپکا کر بنایا گیا نقشہ ہے۔

…دونوں کے بیچ…” پہیلی کے الفاظ ذہن میں گونج اٹھے”
یعنی راز انہی دو پرتوں کے درمیان چھپا ہے۔

اس نے ناخن سے ایک کونے کو ہلکا سا کھولا اور پھر دونوں ہاتھوں سے دھیرے دھیرے چپکی تہہ کو الگ کر دیا۔ اندر ایک نیا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے تھا۔
برگد کے درخت کی ایک ڈرائنگ، مگر اس میں تنے کا پھیلاؤ حقیقت کے مقابلے میں کہیں کم دکھایا گیا تھا۔ ڈرائنگ کے ایک جانب ایک الگ ٹہنی کی تصویر بنی تھی، جس پر چھوٹے چھوٹے دائرے بنے ہوئے تھے اور آخری سرے پر ایک خاص علامت درج تھی۔

،زمار زیرِ لب بڑبڑایا
“…بھلا ایک باریک سی ٹہنی پر تاج کیسے رکھا جا سکتا ہے؟ یہ معاملہ شاید کچھ اور ہی ہے”

اس نے نقشہ وہیں زمین پر رکھا، بیلٹ سے خنجر نکالا اور برگد کے درخت پر چڑھنے لگا۔ نقوش میں دکھائی گئی ٹہنی زیادہ دور نہیں تھی مگر وقت نے اسے بدل کر ایک بھاری، پھیلی ہوئی شاخ نما تنا بنا دیا تھا۔ اس کی چھال پر بنے دائروں سے زمار نے فوراً پہچان لیا کہ یہی وہ جگہ ہے۔

وہ آہستہ آہستہ شاخ کو ٹٹولتا آگے بڑھتا گیا۔ یہاں تک کہ اس کی انگلیاں ایک ہلکے ابھار سے ٹکرائیں۔ وہیں رک کر اس نے خنجر کی نوک سے چھال کھرچنی شروع کی۔ کچھ ہی لمحوں میں چھال کے نیچے ایک سنہری دھات کا باریک کنارہ چمکا۔ زمار کی سانسیں تیز ہو گئیں، اس نے ہاتھوں کی رفتار بڑھا دی۔ دھیرے دھیرے دھات واضح ہوتی گئی اور آخرکار وہ جان گیا کہ یہ تاج نہیں بلکہ ایک نفیس سنہری چابی ہے… یقیناً کسی ایسے راز کی جو اصل تاج تک پہنچاتی ہو۔

اس نے چابی کو زور سے کھینچ کر نکال لیا۔ روشنی میں اس کا سنہرا رنگ چمک رہا تھا۔ زمار کے ہونٹوں پر گہری سنجیدگی تھی۔

… وہ اس چابی کی وجہ سے پریشان تھا۔ شاید یہ تاج تک پہنچنے کی چابی تھی یا پھر شاید کوئی فریب
تاج اب بھی ایک پہیلی تھا مگر شاید پہلا پڑاؤ وہ عبور کر چکا تھا۔

°°°°°°°°°°

شام کے دھندلکے آہستہ آہستہ زمین پر اتر رہے تھے۔ پارکنگ ایریا میں آبرو بچوں والی چھوٹی الیکٹرک جیپ پر بیٹھی، ڈرائیونگ کا مزہ لے رہی تھی۔ کبھی وہ جیپ کو آگے دوڑاتی، کبھی ریورس کر کے دائرے بناتی اور خود ہی ہنس دیتی۔

دوسری طرف زافیر اپنے لان کی ہری بھری گھاس پر آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا۔ اس کے قریب حورا خاموش، اداس سی بیٹھی تھی۔ پانچ دن پہلے اس کی والدہ کا انتقال ہوا تھا اور وہ اب تک اس صدمے سے نکل نہیں پائی تھی۔ وہ اپنے والدین کی یادوں میں کھوئی ہوئی آہستہ آہستہ بات کر رہی تھی… کیسے انہوں نے غربت میں بھی عزت اور حوصلے کے ساتھ زندگی گزاری اور کس طرح اپنی بیٹی کو اعلیٰ تعلیم دلوائی۔

زافیر یہ کہانیاں، اس کی زبانی، پہلے بھی کئی بار سن چکا تھا۔ آج بھی وہ چپ چاپ، پوری توجہ سے سن رہا تھا۔ پھر ایک لمبی خاموشی چھا گئی۔

،حورا کی نظریں گھاس پر جمی رہیں اور زافیر نے چند لمحے انتظار کرنے کے بعد کہا
“تم نے بیٹی ہونے کا حق ادا کیا ہے… بلکہ ایک بیٹے کی طرح اپنے والدین کا سہارا بنی ہو۔ وہ واقعی خوش قسمت ہیں کہ انہیں تم جیسی بیٹی ملی۔”

،حورا نے کوئی جواب نہیں دیا۔ زافیر نے دوبارہ بات چھیڑی
“میں صبح تمہارا سامان منگوا لوں گا۔ اب سے تم یہیں رہو گی، واپس وہاں جانے کی ضرورت نہیں۔”

حورا نے آہستہ سے سر اٹھایا، اس کے چہرے پر اداس سی مسکراہٹ ابھری۔
“کس حیثیت سے؟”

،زافیر نے ہلکے سے کندھے اُچکائے
“حیثیت کی کیا بات ہے؟ آنٹی مومنہ بھی تو یہیں ہیں۔ تمہارے مستقل یہاں رہنے سے گھر کی رونق اور بڑھ جائے گی۔”

،حورا کی مسکراہٹ مدھم پڑ گئی۔ وہ دھیمے لہجے میں بولی
میں جوان ہوں، زافیر صاحب۔ میرے رشتے دار بھی ہیں۔”

” جب انہیں پتا چلا کہ میں اب اس بنگلے میں رہتی ہوں، تو وہ میرے کردار پر انگلیاں اٹھائیں گے… اور یہ میں کسی صورت قبول نہیں کر سکتی۔

تو پھر کیا کرو گی؟ کیا اس ویران گھر میں اکیلی رہو گی؟” زافیر نے ہمدردی بھرے لہجے میں پوچھا۔”

اس کے دل کو یہ خیال ہی بے چین کر رہا تھا کہ حورا اس ویران، سنسان مکان میں تنہا رہے۔

حورا نے آہستہ سے چہرہ آسمان کی طرف اٹھایا۔ شام کی مدھم روشنی میں اس کی آنکھوں میں نمی جھلملانے لگی۔
“…نہیں”

،پھر زافیر کی آنکھوں میں سیدھی نظریں گاڑتے ہوئے دھیرے سے بولی
“کل میری پھوپھو آئی تھیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ میں ان کے بیٹے سے شادی کر لوں۔ میں نے سوچ لیا ہے… صبح انہیں ہاں کر دوں گی۔”

یہ سن کر جیسے زافیر کے اندر کچھ ٹوٹ سا گیا۔ اکثر شام کے وقت اس کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنا اس کی عادت بن چکی تھی۔ اب یہ سوچ کر، کہ وہ شادی کے بعد اس بنگلے سے چلی جائے گی اور شاید کبھی واپس نہ آئے… اس کے دل پر ایک بھاری اداسی اتر آئی۔

وہ کیا کرتا ہے؟” زافیر نے سنجیدگی سے پوچھا۔”

ایک ورک شاپ پر کام کرتا ہے۔” حورا نے بجھے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔”

زافیر کے چہرے پر لمحہ بھر کو سختی آئی مگر آواز نرم رکھی۔
“تم نے پوری زندگی غربت میں گزاری… اور اب شادی کے بعد بھی اسی دلدل میں قدم رکھنے کا سوچ رہی ہو؟”

حورا کے لبوں پر پھیکی سی مسکراہٹ ابھری۔
“زافیر صاحب… اس دلدل سے نکلنا آسان نہیں ہوتا۔ ہماری دنیا میں بھوکے لوگوں کے گھر رشتے بھی بھوکے لوگوں کے ہی آتے ہیں۔”

،نہیں… بالکل نہیں۔” زافیر نے نفی میں سر ہلایا، اور ہچکچاہٹ کے بغیر کہا”
“میں بھی تو ہوں… تم میرے ساتھ شادی کر سکتی ہو۔”

ایک لمحے کو حورا کا دل حلق تک آ گیا۔ دھڑکنیں تیز ہو گئیں جیسے کسی نے سینے کے اندر گھنٹی بجا دی ہو۔ مگر اگلے ہی پل اپنی حیثیت اور سادہ سی صورت کا خیال آتے ہی اس کے چہرے پر اداسی چھا گئی۔
شاید آپ اس وقت جذبات میں بہہ کر… یا ہمدردی کے ناطے ایسا کہہ رہے ہوں گے۔ بعد میں آپ کو پچھتاوا ہوگا۔”

” میں عام سی شکل کی لڑکی ہوں اور آپ کے لیے تو ہزاروں خوبصورت لڑکیاں موجود ہیں۔

،زافیر نے اس کی آنکھوں میں گہری نظریں ڈالتے ہوئے دھیمے مگر بھرپور لہجے میں کہا
“اگر میں کہوں کہ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں… تو کیا تم میرا بھرم رکھو گی؟”

اس کے چہرے اور آواز میں ایسا انتظار تھا، جیسے وہ فوراً جواب چاہتا ہو… اور جواب بھی صرف “ہاں” میں۔

حورا نے چند لمحات کے لیے اس کی آنکھوں میں جھانکا، جیسے کچھ پڑھنے کی کوشش کر رہی ہو مگر اس بار اس کی نظروں کی شدت سہہ نہیں سکی۔ فوراً نظریں جھکا لیں۔
“کیا آپ… واقعی سنجیدہ ہیں؟”

،ہاں…” زافیر نے پُرعزم لہجے میں کہا”

“میں نہیں چاہتا کہ تم یہاں سے جاؤ۔ مجھے بھی تمہاری ضرورت ہے… اور آبرو کو بھی۔”

کیا صرف ضرورت…؟” حورا کی آواز بجھی ہوئی سی تھی، جیسے ضرورت والا لفظ اسے اندر سے کاٹ گیا ہو۔”

،زافیر نے گہری سانس بھری اور بولا
حورا… مجھے پیار محبت کے لفظوں کی عادت نہیں اور نہ ہی ان کے نازک انداز سمجھ آتے ہیں۔”

مگر یہ سچ ہے کہ تم مجھے اچھی لگتی ہو… آج سے نہیں، پہلی ملاقات سے ہی۔

“اگر تم میں کشش محسوس نہ ہوتی تو اس رات، جان بوجھ کر تمہارے ہاتھوں کیوں لُٹتا…؟ اور لُٹنے کے باوجود میں واپس کیوں آتا؟

یہ سن کر حورا کے لبوں پر ہلکی مگر دل کو چھو لینے والی مسکراہٹ آ گئی۔ زافیر کی یہ دلیل سادہ مگر گہری تھی۔

اگر آبرو نے اعتراض کیا تو؟” اچانک ذہن میں بچی کا خیال آتے ہی اس نے سوال کیا۔”

“وہ تو آٹھ سال کی بچی ہے۔ ان معاملات کی اسے سمجھ ہی نہیں۔ میں اسے بتاؤں گا کہ تم مستقل یہاں آ رہی ہو تو وہ خوش ہو جائے گی۔”

حورا نے آہستہ سے نفی میں سر ہلایا، جیسے کسی گہری حقیقت سے واقف ہو۔
نہیں… وہ صرف آٹھ سالہ بچی نہیں ہے، زافیر صاحب۔ وہ عام بچوں سے زیادہ تیز اور گہری سوچ رکھتی ہے۔”

“آپ اس کے ساتھ اتنا وقت نہیں گزارتے، مگر میں اسے اچھی طرح جانتی ہوں۔ کئی بار یوں باتیں کرتی ہے جیسے کوئی بڑی عمر کی عورت ہو۔

یہ سن کر زافیر کے چہرے پر خوشی کی ایک چمک سی دوڑ گئی، آنکھوں میں نرمی اتر آئی۔
“کیا واقعی… میری بچی اتنی سمجھدار ہو گئی ہے؟”

“جی ہاں… اسی لیے آپ مجھے بھی سوچنے کا وقت دیں اور آبرو سے بھی ایک بار بات کر لیں۔”

یہ کہہ کر حورا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ زافیر بھی خاموشی سے کھڑا ہو گیا اور اس کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے بائیک کی طرف بڑھ گیا۔

°°°°°°°°°°

رات کے کھانے کے بعد ڈائننگ ہال میں نیم مدھم روشنی تھی۔ زافیر صوفے پر نیم لیٹے، سر بازو پر ٹکائے بیٹھا تھا اور آبرو اپنی چھوٹی ٹانگیں صوفے پر سمیٹے، اس کے کندھے پر سر رکھے سکون سے بیٹھی تھی۔ قریب ہی دوسرے صوفے پر مومنہ خاتون آرام دہ انداز میں بیٹھی تھیں۔ ایل ای ڈی کی بڑی اسکرین پر آبرو کا پسندیدہ پروگرام چل رہا تھا اور تینوں ہی خاموشی سے اسے دیکھ رہے تھے۔

کچھ دیر بعد مومنہ خاتون آہستہ سے اٹھیں۔
میں تو سونے جا رہی ہوں… تم باپ بیٹی بھی جلدی سو جانا۔” انہوں نے نرمی سے کہا۔”

آبرو نے شرارت سے زبان نکال کر انہیں چڑانے کا اشارہ کیا پھر خود ہی کھلکھلا کر ہنس دی۔ زافیر بھی اس حرکت پر مسکرا دیا۔
مومنہ خاتون نے بھی مسکراتے ہوئے سر ہلایا۔
“یہ نہیں سدھرے گی۔”
وہ یونہی مسکراتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔

آبرو، اپنے بابا، زافیر کے بازو کو اپنے بازوؤں کے حصار میں لیتے ہوئے مزید قریب ہو کر بیٹھ گئی۔ پروگرام کچھ دیر اور چلتا رہا پھر اچانک وہ اٹھی، ریموٹ اٹھا کر آواز بند کی، ریموٹ واپس میز پر رکھا اور صوفے پر آلتی پالتی مار کر، تھوڑا سا فاصلہ بنا کر بیٹھ گئی۔ اس کی نظریں اب پوری طرح زافیر کے چہرے پر جمی تھیں۔

،زافیر نے اس کی یہ سنجیدگی محسوس کی، بھنویں اٹھائیں اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا
“کیا بات ہے؟ یوں گھور کر کیوں دیکھ رہی ہو؟”

،چند لمحے خاموش رہنے کے بعد آبرو بولی
“!…بابا”
،وہ رکی، جیسے لفظ چن رہی ہو پھر سنجید لہجے میں پوچھا
“کیا آپ… حورا سے شادی کرنے والے ہیں؟”

زافیر کے لبوں کی مسکراہٹ یکدم ماند پڑ گئی۔ چہرے پر وہی گھبراہٹ ابھری جو کسی چور کی چوری پکڑے جانے پر ابھرتی ہے۔
نن… نہیں، نہیں تو…!” اس کی آواز میں ہلکی کپکپاہٹ تھی۔”

،آبرو نے آنکھیں سکیڑتے ہوئے کہا
“میں نے خود سنا تھا… آپ نے ان سے شادی کا کہا تھا۔”
اس کے لہجے میں بچوں والی معصومیت کم اور ایک سنجیدہ جج جیسا ٹھہراؤ زیادہ تھا۔

زافیر کو پہلی بار احساس ہوا کہ حورا درست کہہ رہی تھی… آبرو عام بچوں جیسی نہیں بلکہ غیر معمولی طور پر تیز اور فہم رکھنے والی بچی تھی۔

نہیں… وہ اپنی شادی کی بات کر رہی تھی، شاید کسی کزن کے ساتھ۔ ہم تو بس…” زافیر نے خود کو سنبھالتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔”

،نہیں بابا…” آبرو نے بات کاٹی”
میں نے خود سنا… جب انہوں نے اپنے کزن کا کہا تھا، اس کے بعد ہی آپ نے کہا تھا کہ مجھ سے شادی کر لو۔”

“اور… اور آپ نے کہا تھا کہ آبرو تو بچی ہے۔
اس کے چہرے پر گہری سنجیدگی چھائی ہوئی تھی جیسے وہ اپنے سوال کا جواب صرف سچائی میں چاہتی ہو۔

زافیر کا دل جیسے ایک لمحے کو دھڑکنا بھول گیا۔ اس نے الجھے ہوئے لہجے میں پوچھا،
“تم تو بہت دور تھی… تم نے کیسے سن لیا؟ تمہیں یہ سب کیسے پتا؟”

آبرو کی نظریں اس پر جمی رہیں، اس کا چہرہ سنجیدگی کی گہری لکیروں سے بھرا ہوا تھا۔
“آپ بتائیں نا… کیا آپ ان سے شادی کرنے والے ہیں؟”
اس کی سنجیدگی نے زافیر کے اندر ایک عجیب گھبراہٹ پیدا کر دی۔

،زافیر نے چند لمحے سوچ کر آہستہ سے سر نفی میں ہلایا
“نہیں… اب نہیں… میں حورا سے شادی نہیں کروں گا۔”

کیوں نہیں کریں گے؟” آبرو کی آواز نرم مگر اٹل تھی۔”
زافیر نے حیرت سے اسے دیکھا، یہ سوال اور اس کا انداز، دونوں اس کے لیے غیر متوقع تھے۔

،چند پل کی خاموشی کے بعد آبرو بولی
“میں چاہتی ہوں کہ آپ ان سے شادی کر لیں۔”

زافیر نے اس کی طرف دیکھا، آنکھوں میں حیرت اور بے یقینی کی جھلک تھی۔ مگر اس نے پھر سر نفی میں ہلا دیا۔
“…نہیں… تم ہی میری کل کائنات ہو۔ میں صبح ہی حورا کو کہہ دوں گا کہ وہ اپنے کزن سے”

نہیں نا بابا…!” آبرو نے اچانک تیز لہجے میں بات کاٹ دی۔”
“آپ پہلے ہی میرے لیے بہت کچھ کر چکے ہیں۔”
،اس کی آواز میں کپکپاہٹ تھی، جیسے کوئی پرانا زخم تازہ ہو گیا ہو۔ اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔ وہ آہستہ سے بولی
مجھے یاد ہے، بابا… میں کٹی پھٹی لاشوں کے پاس، درخت کے پیچھے چھپی بیٹھی تھی۔ ڈری ہوئی… سہمی ہوئی۔’

” آپ نے مجھے گود میں اٹھایا، اور… اور صرف میری حفاظت کے لیے اپنے خاندان کو مار دیا۔
،اس کی آواز رُک گئی، پھر بھرا ہوا گلا صاف کر کے مزید کہا
“…مجھے وہ لمحہ یاد ہے جب آپ کی دادی نے ٹوکہ اٹھا کر… میری گردن کاٹنا چاہی”

“!…ایک منٹ… ایک منٹ… رکو… رکو”
،زافیر کا دل جیسے سینے سے اچھل کر باہر آنے کو تھا۔ وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا، آنکھوں میں حیرت اور خوف کے ملے جلے رنگ لی
“تمہیں یہ سب کیسے پتا؟ تم تو اس وقت صرف تین سال کی بچی تھی۔”

،اب آبرو کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، گالوں پر پگھلتی بوندوں کی طرح۔ وہ روہانسے لہجے میں بولی
“دھندلے دھندلے منظر آج بھی میرے ذہن میں ہیں۔ مجھے یاد ہے، آپ نے اپنے خاندان کے سامنے میری جان کی بھیک مانگی تھی۔”
یہ کہہ کر وہ بے اختیار رو پڑی۔

زافیر نے فوراً اسے اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا۔ اس کا ذہن بھٹک رہا تھا… یہ سب کیسے ممکن تھا؟ ایک ننھی بچی… تین سال کی عمر والے مناظر اپنی یاد میں کیسے محفوظ رکھ سکتی تھی؟ کیا یہ یادیں صدمے کی گہری چھاپ تھیں یا پھر متوازی دنیا کے اثرات تھے۔ وہ فیصلہ نہیں کر پارہا تھا۔

،آبرو کی سسکیاں مدھم ہوتے ہوئے پھر سنائی دیں
“آپ کو اکیلا دیکھتی ہوں تو تکلیف ہوتی ہے، بابا… پلیز، آپ شادی کر لیں۔”

:زافیر نے اس کے بال سہلاتے ہوئے کہا
“اچھا… اچھا… کر لوں گا۔ اب رونا بند کرو۔”
آواز نرم تھی، مگر دماغ کہیں اور بھٹک رہا تھا۔ اس کے سامنے تین سالہ آبرو کا وہ چہرہ تیر رہا تھا، جب اسے پہلی بار درخت کے پیچھے دیکھا تھا اور ساتھ ہی لامحدود سوالوں کا نہ ختم ہونے والا طوفان، جن کے جواب وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔

°°°°°°°°°°

زافیر اپنے بستر پر اوندھے منہ گہری نیند سو رہا تھا۔ کمرے کی ہلکی سی نیم تاریکی میں باہر کی فضا کا سکون ٹوٹ رہا تھا۔ کھڑکی کے اس پار فجر کی اذان کی مدھم مگر پُرسکون آواز گونج رہی تھی جیسے دور دور سے کئی مساجد کی اذانیں ایک دوسرے میں گھل کر فضا کو مہکا رہی ہوں۔

اچانک، اس سکون کو موبائل کی تیز رِنگ ٹون نے کاٹ ڈالا۔ اسکرین روشنی بکھیر رہی تھی مگر زافیر بے خبر نیند میں ڈوبا رہا۔ کال ختم ہوئی تو پھر چند لمحوں بعد دوبارہ وہی رِنگ ٹون گونج اٹھی۔ اس بار نیند کے پردے میں ہلچل ہوئی، وہ آہستہ آہستہ آنکھیں کھولنے لگا۔

زافیر نے سستی سے ہاتھ بڑھایا، موبائل اٹھایا اور کمرے کی روشنی جلا دی۔ آنکھیں نیم وا تھیں، لہجہ غنودگی سے بھرا ہوا تھا،
“کیا بات ہے، زید صاحب؟”

،موبائل سے زید کی مدھم مگر تیز آواز سنائی دی
“ہم آپ کے گھر کے باہر ہیں، گیٹ کھولیں؟”

،زافیر نے حیرت سے موبائل کو ذرا دور کر کے وقت دیکھا، پھر دوبارہ کان سے لگا لیا
“اتنی صبح… خیریت تو ہے نا؟”

موبائل کے اسپیکر سے ہلکی آواز ابھری،
“آپ بس گیٹ کھولیں… آپ کے لیے ایک تحفہ لایا ہوں۔”

زافیر کے ماتھے پر ہلکی سی تجسس بھری لکیریں اُبھر آئیں۔
“اچھا… میں آیا۔”
یہ کہہ کر اس نے جلدی سے چپل پہنی، کمبل ایک طرف پھینکا اور کمرے کا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔ باہر اب صبح کی ہلکی سی ٹھنڈک اور فجر کے بعد کی خاموش فضا اس کا استقبال کرنے کو تیار تھی۔

°°°°°°°°°°

زافیر صحن میں، پارکنگ ایریا کے قریب کھڑا تھا۔ فضا میں فجر کی ٹھنڈک اور خاموشی تھی۔ اس خاموشی کو دو ویگو ڈالوں کے دھیمے مگر بھاری گڑگڑاتے انجنوں کے شور نے توڑ ڈالا۔ گاڑیاں آہستہ سے آ کر رکیں، بریکوں کی ہلکی چرچراہٹ سنائی دی۔

پہلے فرنٹ سیٹ سے زید اترا۔ اس کے لبوں پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔
کوئی جاگ تو نہیں رہا؟” اس نے نظریں زافیر پر مرکوز رکھتے ہوئے دھیرے سے پوچھا۔”

نہیں… سب سو رہے ہیں۔” زافیر نے مختصر جواب دیا مگر دل میں ایک عجیب سا تجسس سر اٹھا رہا تھا۔”

زید نے ہلکا سا اشارہ کیا۔ دوسرے ویگو سے ایک گارڈ باہر نکلا، زید کی گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا اور اندر ہاتھ ڈال کر کسی کو کھینچ لیا۔ سفید شرٹ اور نیلی پینٹ میں ملبوس ایک شخص لڑکھڑاتا ہوا باہر آیا۔ اس کے چہرے پر کالا کپڑا چڑھا ہوا تھا، ہاتھ پیچھے کی طرف مضبوطی سے بندھے ہوئے۔
دوسری طرف سے ایک اور گارڈ نکلا، قیدی کے دوسرے بازو کو تھام کر اسے قابو میں کر لیا۔ وہ دونوں اسے دھکیلتے ہوئے زافیر کے سامنے لائے۔

چند قدم کے فاصلے پر گارڈز نے اسے روک دیا۔ زید نے تیزی سے اس کے سر سے کالا کپڑا نوچ ڈالا۔
وہ ضمیر تھا۔
وہی ضمیر… جس نے زافیر کی گاڑیوں پر حملہ کیا تھا… وہی ضمیر… جس نے آزلان کے ماتھے پر گولی ماری تھی۔

اس کے ہونٹوں پر ٹیپ چپکی ہوئی تھی، تاکہ کوئی آواز باہر نہ نکل سکے۔ جیسے ہی اس کی نظریں زافیر سے ملیں، اس کی آنکھوں میں گھبراہٹ کی تیز لہر دوڑ گئی۔ وہ مچلنے لگا، ہاتھ جھٹکنے کی کوشش کی لیکن گارڈز کی گرفت لوہے کی طرح مضبوط تھی۔

زافیر کے چہرے پر غصے کی گہری لکیریں ابھر آئیں۔ آزلان کی موت اور مسجد کے خون آلود مناظر ایک بار پھر آنکھوں میں تازہ ہوگئے۔

،وہ چند لمحے اسے خاموشی سے گھورتا رہا پھر اپنے تاثرات بدل کر ہلکا سا مسکرایا اور زید کی طرف دیکھ کر خوشگوار لہجے میں بولا
“آپ کا تحفہ مجھے بہت پسند آیا۔ دل خوش کر دیا آپ نے۔”

،زید کی مسکان اور گہری ہوگئی۔ وہ مسکراتے ہوئے بولا
“یہ اب آپ کا ہے… تحفہ قبول کریں۔”

اس نے گارڈز کی طرف نظر کی۔ انہوں نے ضمیر کو دھکا دیا، جو لڑکھڑاتا ہوا زافیر کی طرف بڑھا۔

،زافیر نے فوراً اس کا بازو مضبوطی سے پکڑ لیا، پھر نظر واپس زید کی طرف موڑتے ہوئے کہا
“کیا آپ بیٹھیں گے؟”

،زید نے الٹے قدموں پیچھے ہٹتے ہوئے کہا
“نہیں، ہم نے واپس جہلم جانا ہے۔ پھر کبھی آؤں گا۔”

چند لمحوں بعد دونوں ویگو ڈالے بنگلے کی حدود سے باہر جا چکے تھے۔ گیٹ آہستہ آہستہ خودکار انداز میں بند ہونے لگا۔

،زافیر کے ہاتھ میں اب بھی ضمیر تڑپ رہا تھا لیکن اس کی گرفت فولاد کی طرح سخت تھی۔ وہ دھیرے سے بولا
“اس پل کا بڑی شدت سے انتظار تھا۔”

وہ اسے بازو سے کھینچتے ہوئے ذبح گاہ کی طرف بڑھنے لگا۔
فجر کا وقت تھا اور زافیر کے خیال میں گھر کے سب لوگ سو رہے تھے۔ مگر وہ غلط تھا۔

…گھر کے اندر
…اندھیرے ہال میں
…شیشے کے پار

ایک وجود کافی دیر سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔
اب وہ وجود… دیکھ رہا تھا کہ زافیر کسی اجنبی کو لیے الگ چھوٹی حویلی کی طرف جا رہا ہے۔

…یہ مومنہ خاتون نہیں تھیں جو نماز کے لیے اٹھی ہوں
…یہ آبرو تھی
…آٹھ سالہ ننھی آبرو

اس کے چہرے پر گہری سنجیدگی تھی۔
…ایک بے تاثر سا چہرہ
…نہ غصہ
…نہ غم
…کچھ بھی نہیں
…بس ایک بے رنگ
…خاموش
…مگر گہری نگاہ

°°°°°°°°°°

…جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *