ناول درندہ

قسط نمبر 22

باب سوّم: شبکہ

مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°

ضمیر کو مخصوص اسٹیل کے بھاری میز پر جکڑ دیا گیا تھا۔ دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں لوہے کی ہتھکڑیوں میں قید تھے۔ ایک موٹی بیلٹ گردن سے گزارتے ہوئے میز کے ساتھ کس دی گئی تھی، جبکہ دوسری بیلٹ گھٹنوں کو جکڑ کر، اس کی ذرا سی بھی مزاحمت ختم کر چکی تھی۔ اس کی آنکھوں میں خوف اور دہشت کی ملی جلی چمک لرز رہی تھی۔

زافیر آہستہ آہستہ اس کے قریب آیا۔ ایک سرد سکوت فضا میں پھیلا ہوا تھا جسے صرف ضمیر کی تیز سانسوں کی آواز توڑ رہی تھی۔ زافیر نے اچانک اس کے منہ سے ٹیپ نوچ ڈالی۔ یہ حرکت اتنی بے دردی سے کی گئی کہ داڑھی اور مونچھ کے کئی بال ٹیپ کے ساتھ اکھڑ گئے۔ ضمیر کے لبوں سے ایک دبی سی کراہ نکلی مگر وہ فوراً ہونٹ بھینچ کر خاموش ہوگیا۔

،ٹیپ کو ڈسٹ بن میں پھینکتے ہوئے زافیر کی گہری، ٹھنڈی آواز گونجی
“کیا بھاگ جانے سے موت پیچھا چھوڑ دیتی ہے؟”

ضمیر خاموش رہا۔
،زافیر نے ایک قدم قریب آتے ہوئے دوبارہ پوچھا، اس بار لہجہ مزید سخت تھا
“کیا تم نے اپنے ساتھیوں کی لاشیں دیکھی تھیں؟ جانتے ہو… تمہارے ساتھیوں کا ماس اور خون کتنا لذیذ تھا؟”

یہ کہتے ہی وہ مڑ کر کمرے کی ایک دیوار کی طرف بڑھا۔ وہاں قطار میں مختلف اوزار سجے ہوئے تھے… چمکتے چاقو، چھریاں، خنجر، ٹوکے، زنگ آلود کلپ، ہتھوڑے اور پلاس۔ اس کے قدموں کی دھیمی چاپ کمرے کے سکوت میں تیز سنائی دے رہی تھی۔

“تو میں صحیح تھا…” ضمیر کی بھاری مگر لرزتی آواز سنائی دی، “تم انسان نہیں… درندے ہو۔”

زافیر نے پلاس اُٹھایا۔ اس کی آنکھوں میں سرد چمک ابھری اور وہ دھیرے دھیرے واپس اس کی طرف بڑھا۔
میں انسانوں کا شکاری تو ہمیشہ سے تھا،” وہ بولا، “لیکن پہلے ان کا گوشت عام گوشت کی طرح ہی کھاتا رہا۔ “

پھر اُس دن… میں نے کچے گوشت کا مزہ چکھ لیا۔

اور اس لمحے، میں ایک خالص درندے میں بدل گیا۔

“تمہارے ساتھیوں کی بھیانک چیخیں آج بھی میرے کانوں میں کسی دلکش گیت کی طرح گونجتی ہیں۔

،ضمیر نے ایک گہری سانس لی اور کہا
“اگر واقعی ایسا ہے… تو دیر کس بات کی؟ خنجر اُٹھاؤ اور میرا دل چیر دو… اپنے انتقام کی آگ بجھا لو۔”

زافیر کے لبوں پر ایک سفاک مسکان اُبھری۔ آنکھوں میں چمک تیز ہو گئی۔
“یہاں موت بھیک کی صورت میں ملتی ہے… اور تمہیں بھیک بھی نہیں ملے گی۔”

یہ کہتے ہی اس نے ضمیر کا ہاتھ پکڑا اور ایک ہی جھٹکے میں پلاس سے اس کا ایک ناخن نوچ ڈالا۔ خون کی باریک دھار نکلی، ضمیر کے منہ سے ایک ہلکی مگر دبی کراہ نکلی مگر وہ ہونٹ بھینچ کر ساری اذیت نگل گیا۔

،زافیر نے اسے داد دیتے ہوئے کہا
“تم بھی اپنے بھائی ندیم کی طرح بہادر ہو۔”

ضمیر کی آنکھیں اچانک پھیل گئیں۔
کیا… ندیم کو بھی مار دیا تم نے؟” اس کی آواز میں دکھ اور بے چینی دونوں تھے۔”

جب ضمیر نے اپنے باپ کو قتل کیا تھا تو اس کا بھائی ندیم اسے چھوڑ گیا تھا اور پھر کبھی واپس نہیں لوٹا، نہ ہی اس نے بھائی کی خبر رکھی تھی۔ آج اچانک زافیر کے منہ سے اس کا ذکر سن کر وہ پریشان ہوگیا تھا۔

نہیں… بالکل نہیں۔” زافیر کے مختصر جواب پر ضمیر کے چہرے پر لمحاتی سکون آیا، مگر اگلے ہی پل زافیر کی مسکراہٹ اور سفاک ہو گئی۔”
“اب… وہ بھی میری طرح انسانوں کا گوشت کھانے کا عادی ہے۔”

ضمیر کے چہرے پر حیرت اور خوف کے گہرے سائے پھیل گئے۔ زافیر نے اس کا ہاتھ دوبارہ مضبوطی سے پکڑا، گویا دوسرے ناخن کو بھی نوچنے والا ہو مگر اچانک جیسے کوئی خیال اس کے دماغ میں کوندا، وہ رکا… اور پلاس کو آہستگی سے واپس ٹرے میں رکھ دیا۔

فی الحال… اتنا درد ہی کافی ہے،” وہ سرد لہجے میں بولا۔ “جب تک میرے پاس کھیلنے کے لیے ایان نہیں آجاتا، تم اسی طرح اذیت سہتے رہو گے۔”

“اور پھر… جب نیا کھلونا مل جائے گا، تمہارے لیے موت ایک آسان سا انعام بن جائے گی۔

یہ کہہ کر وہ دھیمے قدموں فریزر کی طرف بڑھ گیا۔ دھاتی ہینڈل پکڑتے ہی ہلکی سی چرچراہٹ ہوئی اور فریزر کا ڈھکن کھلتے ہی اندر سے ٹھنڈی بھاپ نکلی۔

فریزر مکمل طور پر انسانی اعضا سے بھرا ہوا تھا… سفید اور نیلگوں رنگت والے بازو، ٹانگیں، رانیں، پسلیاں، پھیپھڑے، دل، کلیجے اور جگر کے بے ترتیب ٹکڑے۔ برف کی تہہ کے نیچے گوشت کا رنگ سفید پڑ چکا تھا۔

زافیر کی نظریں ٹھنڈی اور بے تاثر تھیں۔ وہ ایک ایک عضو چن کر نکالنے لگا۔ ہر بار جب وہ کوئی نیا ٹکڑا باہر کھینچتا، فریزر کے اندر برف کی کھڑکھڑاہٹ اور گوشت کے ٹکراؤ کی آواز سنائی دیتی۔

قریب پڑی میز پر بندھے ضمیر کی آنکھوں میں دہشت مزید گہری ہوتی گئی۔ یہ زافیر کا ایک نفسیاتی کھیل تھا، ایک وحشیانہ حربہ جو قیدی کی ہمت توڑنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

کچھ دیر میں زافیر چار ٹانگیں، ایک ران اور چھ بازو نکال چکا تھا۔ اس نے انہیں ٹوکے سے ایک ایک کر کے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرنا شروع کر دیا۔ ہر وار کے ساتھ دھات کے گوشت سے ٹکرانے کی آواز اور کٹی ہوئی ہڈیوں کی کرچیاں میز پر گرنے کی کھنک… کمرے کے سکوت میں اور بھی ہولناک لگ رہی تھی۔

ضمیر کی نظریں خوف سے جمی ہوئی تھیں۔ اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ سب اس کے اپنے اعضاء ہوں… جیسے ہر وار اس کے جسم پر ہی کیا جارہا ہو اور وہ بندھا ہوا بے بسی سے سب کچھ سہنے پر مجبور ہو۔

°°°°°°°°°°

ذبح خانے کی فضا میں گوشت پکنے کی مہک تیر رہی تھی۔ ضمیر اب بھی اسی سرد اسٹیل کی میز پر بندھا ہوا تھا مگر اس کی گردن کی بیلٹ کھول دی گئی تھی تاکہ وہ آسانی سے گردن موڑ کر آس پاس کے مناظر دیکھ سکے۔ شاید زافیر چاہتا تھا کہ وہ ہر پل ان مناظر کو محسوس کرے۔

کمرے کے ایک کونے میں، گیس کے چولہے پر ایک بڑا سا پتیلا تھا۔ کوکنگ آئل میں، بھاپ کے ساتھ گوشت پکنے کی مخصوص مہک فضا میں پھیل رہی تھی، مگر یہ خوشبو عام انسان کے لیے نہیں تھی۔ زافیر ایک لمبے چمچے سے سالن کو بار بار ہلا رہا تھا جیسے کسی شاہکار پکوان کو آخری نکھار دے رہا ہو۔

کافی دیر تک وہ اسی یکسوئی سے کام کرتا رہا پھر ایک بوٹی نکالی، انگلیوں سے تھام کر دانتوں تلے دبا لی اور آہستہ آہستہ چبانے لگا۔ گوشت کی لچک اور ذائقے کو محسوس کرتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے پیچھے مڑ کر ضمیر کی طرف دیکھا اور ہلکی آواز میں بولا،
“اب ٹھیک ہے… تمہارے بھائی کو یہ سلیمانی کڑاہی بہت پسند ہے۔”

ضمیر کے چہرے پر موت جیسی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ نہ کوئی سوال، نہ التجا۔ وہ جانتا تھا کہ یہاں رحم کا کوئی دروازہ نہیں کھلنے والا۔ جو کچھ اس نے کیا تھا، اس کی کوئی معافی نہیں تھی۔ وہ خود کو موت کے لیے تیار کر چکا تھا لیکن موت ابھی اسے سمیٹنے کو تیار نہیں تھی۔

زافیر ہلکے قدموں سے چِلر کے پاس گیا۔ اس نے وہاں سے ایک چھوٹی سی شیشی نکالی، بے ہوشی کی دوا۔ پھر ابتدائی طبی امداد کے ڈبے سے ایک نئی سرنج نکالی اور پوری مہارت سے دوا اس میں بھر لی۔

وہ جب ضمیر کے قریب آیا تو ضمیر نے آنکھیں بند کر لیں۔ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ ایک پل کے لیے اس نے سوچا شاید یہ انجکشن زہر کا ہے اور یہ اس کی آخری سانسیں ہیں۔ مگر وہ غلط تھا۔ اتنی آسان موت اس کے نصیب میں نہیں تھی۔ ابھی بہت سا عذاب باقی تھا، بہت سا درد باقی تھا۔

سوئی کی نوک نے گردن کی نرم جلد کو چھوا، پھر ایک ہلکی سی چبھن… اور بے ہوشی کی دوا اس کے خون میں سرایت کرنے لگی۔ لمحہ بہ لمحہ اس کی پلکیں بوجھل ہو رہی تھیں۔
زافیر نے قریب پڑا کالا کپڑا اٹھایا اور ضمیر کے پورے وجود کو ڈھانپ کر چھپا دیا۔

°°°°°°°°°°

ذبح گاہ کا فرش آہستہ آہستہ ایک لِفٹ کی طرح نیچے اتر رہا تھا۔ جب یہ تہہ خانے کی آخری سطح پر رکا، زافیر نے خاموشی سے گوشت سے بھرا بھاری دیگچہ اٹھایا۔ پھر ایک بڑی بالٹی سنبھالی، جس میں انار کے گہرے سرخ جوس میں انسانی خون کی ملاوٹ کی گئی تھی۔ یہ سب اس نے ایک مضبوط ریڑھی پر ترتیب سے رکھا اور دھیرے دھیرے اسے جیل خانہ نما حصے کی طرف دھکیلنے لگا۔

اس جیل میں تیس سے زائد لوگ قید تھے، جن کے چہروں پر بھوک، خوف اور تھکن کی گہری لکیریں کھدی ہوئی تھیں۔ ان کے کپڑے میلے اور جسم پسینے اور گندگی کی بُو سے اٹے ہوئے تھے۔ جیسے ہی زافیر ان کے سامنے آیا، ان کی آنکھوں میں ایک ہی وقت میں وحشت اور لالچ چمک اٹھی۔ وہ اپنے گندے برتن سنبھال کر سلاخوں کے قریب آگئے اور ایک بے قابو شور سا مچ گیا… گویا مردہ دلوں میں لمحاتی زندگی لوٹ آئی ہو۔

تھوڑا آگے، ایک الگ اور نمایاں کوٹھڑی تھی، جہاں ندیم کو رکھا گیا تھا۔ یہ جگہ باقی قیدیوں کی کوٹھڑیوں سے یکسر مختلف تھی… صاف ستھری، تقریباً آرام دہ۔ ایک کونے میں نفیس سنگل بیڈ تھا، سامنے پلاسٹک کی ایک میز رکھی تھی۔ اس کے قریب ایک کرسی تھی، غالباً زافیر کے لیے۔
دیوار کے ساتھ ایک چھوٹی میز پر کتابوں کا ڈھیر لگا تھا۔ اسے قید کے دوران ہر طرح سے بہتر سہولیات فراہم کی گئی تھیں۔ باقی قیدیوں کے لیے ندیم کی قید، اک سہانا خواب تھی۔ جس تک ان کی دسترس نہیں تھی۔

زافیر نے پہلے باقی قیدیوں کو خوراک تقسیم کی۔ وہ ان کے برتنوں میں گوشت ڈالتا اور گلاسوں میں وہ گہرا سرخ مشروب انڈیلتا گیا۔ ہر ایک کی آنکھوں میں لالچ اور محتاجی کے ملے جلے رنگ تھے۔

جب سب کو نمٹا لیا تو وہ ریڑھی کو دھکیلتا ہوا ندیم کی کوٹھڑی تک پہنچا۔ ریڑھی پر رکھے ایک بڑے باؤل میں باقی بچا سارا گوشت ڈالا، پھر جگ میں مشروب انڈیلا۔ ایک مختصر وقفے کے بعد اس نے بایومیٹرک لاک پر انگلی رکھی… لاک کی ہلکی سی بیپ کے ساتھ دروازہ کھل گیا۔

اس نے کھانا اٹھا کر ندیم کے سامنے میز پر رکھا۔ جگ اور گلاس بھی اس کے سامنے سلیقے سے رکھتے ہوئے خود کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔ ندیم نے پرسکون انداز میں بیڈ کے سرہانے تلے سے کانٹا اور نائف نکالا، جیسے یہ سب معمول کا ایک اور دن ہو، اور آہستہ آہستہ کھانے میں مصروف ہوگیا۔

زافیر، ندیم کے سامنے رکھی کرسی پر آہستہ سے بیٹھ گیا۔

جیب سے سگریٹ کی چمکتی ڈبیا نکالی، ایک سگریٹ ہونٹوں میں دبایا اور لائٹر کی سنہری جھلک کے ساتھ سلگا لیا۔

،دو چار گہرے کش کھینچنے کے بعد، دھواں فضا میں چھوڑتے ہوئے اس نے ندیم کو مخاطب کیا
“میں نے تمہارے بھائی ضمیر کو پکڑ لیا ہے۔”

ندیم کے ہاتھ میں تھامے کانٹے کی حرکت لمحہ بھر کو رک گئی۔ اس نے آنکھ اٹھا کر زافیر کو ایک نظر دیکھا، پھر ایسے جیسے یہ خبر اس کے لیے بے معنی ہو، دوبارہ خاموشی سے کھانے میں مصروف ہوگیا۔

کچھ کہنا نہیں چاہو گے؟” زافیر نے نیم مسکراہٹ اور کن اکھیوں سے اسے پرکھتے ہوئے پوچھا۔”

،ندیم نے نفی میں ہلکا سا سر ہلایا، نظریں کھانے پر جمائے رکھیں۔ چند لمحے بعد، بغیر لہجے میں کوئی خاص تاثر لائے، بولا
“بس اپنا وعدہ یاد رکھیے گا۔”

،زافیر کے ہونٹ تھوڑا بھنچ گئے۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا اور کہا
“اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتا دینا۔”

اس بار بھی ندیم نے صرف گردن نفی میں ہلانے پر اکتفا کیا۔

،پھر گلاس میں سرخ مشروب انڈیلا، آدھا گلاس ایک ہی سانس میں پیا اور میز پر واپس رکھ دیا۔ جیسے ہی گلاس رکھا، اسے کچھ یاد آیا
“سگریٹ ختم ہوگئے ہیں… وہ لے آئیے گا۔”

زافیر نے سگریٹ کی ڈبیا اور لائٹر میز پر رکھ دیے۔ بغیر کچھ کہے وہ اٹھا، دروازہ بند کیا اور ریڑھی کے ہینڈل تھامے ذبح گاہ کی طرف بڑھ گیا۔ وہاں پہنچ کر اس نے ریڑھی ایک طرف کر دی۔
اب فرش دھیرے دھیرے اوپر اٹھنے لگا تھا۔

نیچے اس کے پالتو آدم خور برق رفتاری سے انسانی گوشت کھا رہے تھے۔ یہ سب ایان کے نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے چھوٹے درجے کے غنڈے تھے، جنہیں تفتیش کے لیے زافیر کے حوالے کیا گیا تھا۔ ان کے جرم اتنے سنگین نہیں تھے کہ انہیں اذیت ناک موت دی جاتی، اس لیے زافیر نے ایک بھیانک منصوبہ بنایا۔ انہیں انسانی گوشت کھلا کر آہستہ آہستہ آدم خور فوج میں بدلنے لگا۔

ندیم سمیت کسی کو یہ علم نہیں تھا کہ یہ گوشت انسانوں کا ہے اور انار کے جوس میں خون کی آمیزش کی گئی ہے۔ باقی قیدی تو شک کرنے کا حوصلہ بھی نہیں رکھتے تھے۔ وہ تو بس اپنے محدود حصے کے گوشت کے منتظر رہتے، بھوکے پیاسے اس کی طلب میں تڑپتے۔

مگر ندیم کا ذہن اکثر سوالوں میں الجھا رہتا۔ وہ سوچتا، آخر قیدیوں کو ہمیشہ گوشت ہی کیوں دیا جاتا ہے؟ سات ماہ سے وہ زافیر کی قید میں تھا، اور اس دوران ایک بار بھی اس نے روٹی یا سبزی کا ذائقہ نہیں چکھا۔ ہمیشہ صرف گوشت، ہمیشہ سرخ مشروب۔ یہ سوال اور بھی کئی ان کہے سوالوں کی طرح اس کے دل و دماغ میں سلگتے رہتے تھے۔

°°°°°°°°°°

زافیر اپنے بیڈ کے سرپوش سے ٹیک لگائے نیم دراز تھا۔ کمرے کی سفید روشنی میں اس کا چہرہ سنجیدگی اور سوچ کا ملا جلا عکس لیے ہوئے تھا۔ زید اس کے قریب ایک نرم و گداز کرسی پر بیٹھا، ٹانگ پر ٹانگ رکھے، یکسوئی سے گفتگو میں مصروف تھا۔ دونوں اپنے مشن کی اب تک کی پیش رفت پر غور کر رہے تھے۔

بس… کامیابی بالکل نزدیک ہے۔” زافیر نے پُرجوش لہجے میں کہا، آنکھوں میں چمک اُبھرتی ہوئی۔”

،میں تو کچھ اور ہی سوچ رہا ہوں۔” زید نے اچانک لہجہ بدلا”

زافیر نے چپ چاپ اس کی آنکھوں میں نظریں گاڑ دیں، جیسے اس کے اگلے جملے کو تول رہا ہو۔

،زید نے چند لمحے توقف کیا، پھر گہری سانس لے کر بولا
“مجھے لگتا ہے… اب ہمیں ایان پر براہِ راست حملہ کرنا چاہیے۔”

زافیر کی بھنویں ہلکی سی چڑھ گئیں۔
“لیکن آپ تو کہہ رہے تھے کہ پہلے اس کا نیٹ ورک ختم کرنا ضروری ہے… ابھی یکدم سوچ کیسے بدل گئی؟”

ہاں، مگر اب حالات بدل گئے ہیں۔” زید کے لہجے میں ٹھہراؤ اور وزن تھا۔”
اگر اس کا نیٹ ورک پنجاب سے مکمل طور پر مٹ گیا تو پھر اس پر قابو پانا آسان نہیں رہے گا۔”

“اسے اندازہ ہو جائے گا کہ وہ کمزور پڑ چکا ہے اور شاید بیرونِ ملک بھاگنے میں ہی اپنی عافیت سمجھے گا۔

،زافیر خاموشی سے گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ کمرے میں چند لمحے سکون بھری خاموشی چھا گئی۔ پھر وہ آہستگی سے بولا
“ٹھیک ہے… جیسے آپ کو مناسب لگے۔ لیکن پہلے ایک ضروری کام ہے، وہ نمٹا لوں پھر ہم پنجگور کا رخ کریں گے۔”

زید نے متجسس لہجے میں سر کو ہلکا سا جھکایا۔
“کیسا کام؟ کوئی خطرناک کام تو نہیں؟”

،نہیں… نہیں۔” زافیر نے تیزی سے کہا، پھر ہونٹوں پر ایک نرم مسکراہٹ آ گئی۔ اس نے نگاہیں ذرا نیچی کرتے ہوئے کہا”
“دراصل… میں شادی کرنے والا ہوں۔”

کب…؟” زید نے حیرت اور بے یقینی کے ملے جلے لہجے میں پوچھا۔ اس کے چہرے پر تعجب کے ساتھ ہلکی سی سنسنی دوڑ گئی تھی۔”

“پرسوں نکاح کا پروگرام رکھا ہے۔” زافیر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ابھری۔ “یہ جو آبرو کی گورنس ہے نا… اسی سے شادی کر رہا ہوں۔”

زید کا چہرہ فوراً سنجیدہ ہو گیا۔ اسے حورا کے بارے میں سب کچھ معلوم تھا۔

وہ حیران تھا کہ زافیر جیسا رئیس زادہ ایک غریب اور سادہ نقوش والی لڑکی سے شادی کا فیصلہ کر رہا ہے۔

،اس نے گہری نظر سے زافیر کو دیکھا اور سنجیدگی سے پوچھا
“کہیں آپ یہ شادی محض ہمدردی کے تحت تو نہیں کر رہے؟”

“نہیں،” زافیر نے دھیمے مگر پُرعزم لہجے میں کہا۔ “میں جانتا ہوں کہ آپ کو میرا فیصلہ عجیب لگ رہا ہوگا، لیکن سچ یہ ہے کہ وہ مجھے پسند ہے۔ “

،اور ایک بات آزلان نے کہی تھی…” وہ لمحہ بھر کے لیے خاموش ہو گیا، جیسے اس یاد کو دل میں محسوس کر رہا ہو پھر آہستہ سے بولا
سبھی چہرے ایک جیسے ہوتے ہیں، بس جو دل کو بھا جائے، وہی سب سے حسین لگتا ہے۔”

” اور میرے لیے… وہ سارے جہان سے بڑھ کر خوبصورت ہے۔

زید کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ زافیر کے الفاظ اس کے دل میں خوشی کی گہری چھاپ چھوڑ گئے تھے۔ وہ کرسی سے اٹھا اور بازو پھیلا کر بولا،
“دل خوش کر دیا آپ نے۔”

،زافیر بھی اٹھ کھڑا ہوا اور دونوں گلے ملے۔ زید نے گرم جوشی سے کہا
“بہت بہت مبارک ہو۔ پرسوں میں اپنی فیملی کے ساتھ آؤں گا اور ہم سب آپ کی خوشی میں شریک ہوں گے۔”

،وہ الگ ہوئے تو زافیر اب بھی مسکرا رہا تھا۔ پھر شرارت بھری ہنسی کے ساتھ بولا
اوہ ہاں… یاد آیا۔”

” آبرو نے کہیں پڑھا ہے کہ نونے حلوائی کی برفی اور کاجو کتری بڑی لذیذ ہوتی ہے۔ جب آئیں تو ذرا لالہ موسیٰ سے وہ بھی لیتے آئیے گا۔

،زید نے ہنستے ہوئے جواب دیا
“ضرور۔ اور ساتھ ہی آبرو کے لیے قیمتی تحفے بھی لاؤں گا۔ وہ صرف آپ کی ہی نہیں، میری بھی بیٹی ہے… اسے میں خوش کر دوں گا۔”

زافیر کی مسکراہٹ اور گہری ہو گئی۔
“بہت شکریہ زید صاحب… بس میری آبرو خوش رہے، تو زمین پر ہی میری جنت ہے۔”

،زید نے پرجوش انداز میں کہا
“یہ خوشخبری سننے کے بعد تو میں یہاں رک نہیں سکتا۔ ابھی جا رہا ہوں، بہت ساری تیاریاں کرنی ہیں۔”

دونوں نے مصافحہ کیا۔ الوداعی کلمات کے بعد زید اپنے گارڈز کے ہمراہ بنگلے سے روانہ ہو گیا۔ باہر جاتے ہوئے اس کے ذہن میں ایک خیال گونج رہا تھا کہ آزلان کی موت کے بعد یہ گھر مسلسل سوگ کی لپیٹ میں رہا ہے۔ شاید یہ چھوٹا سا خوشی کا تہوار ان مکینوں کے چہروں پر دوبارہ زندگی کی روشنی لے آئے۔ اسی جذبے کے تحت وہ اپنے خاندان کو بھی یہاں لانے کا فیصلہ کر چکا تھا، تاکہ زافیر کی خوشیوں میں شریک ہو سکے۔

°°°°°°°°°°

ایک دن گزر گیا اور اگلے دن کا سورج بھی ہلکی سی سرخی میں لِپٹ چکا تھا۔ سہ پہر کا وقت ہوچکا تھا۔ زافیر کے بنگلے میں آج غیر معمولی چہل پہل تھی۔ نکاح کی تقریب بنگلے کے اندر ہی منعقد ہونی تھی جبکہ کھانے کے لیے لان میں ایک خوشنما اور نفیس سا سائبان لگایا گیا تھا۔ سائبان کے نیچے لیڈیز اسٹاف اپنے کام میں مصروف تھا… کبھی میزوں پر رنگین دسترخوان بچھا رہے تھے تو کبھی ڈشز کی ترتیب دیکھ رہے تھے۔

حورا کے قریبی رشتہ دار، آزلان کے ننھیال والے اور زید اپنے خاندان سمیت یہاں موجود تھے۔ اگرچہ یہ ایک مختصر سی تقریب تھی، جس میں چالیس سے پچاس مہمان ہی مدعو تھے مگر سیکیورٹی کے انتظامات عام دنوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ سخت تھے۔

مرکزی گیٹ آج کے دن کے لیے کھلا رکھا گیا تھا۔ گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی تین میٹل ڈٹیکشن گیٹ قطار میں نصب تھے، جن کے ارد گرد بیس کے قریب مسلح گارڈز کھڑے تھے۔ ان کے چہروں پر مسکراہٹ تھی اور انداز میں شائستگی دکھائی دے رہی تھی۔

،وہ مہمانوں کو خوش اخلاقی سے حالات کی سنگینی کا احساس دلاتے اور نرمی سے کہتے
“براہِ کرم میٹل ڈٹیکشن گیٹ سے گزرنے سے پہلے… اپنی تمام دھاتی اشیاء… قریبی گارڈ کے حوالے کر دیں۔”

ان کے لہجے میں ایسی ملنساری اور احترام تھا کہ کوئی بھی اس ہدایت پر اعتراض نہیں کر رہا تھا۔ ایک ایک کر کے سب مہمان اندر آتے گئے اور جب آخری مہمان بھی گیٹ پار کر کے حویلی کے اندر داخل ہوا تو مرکزی دروازہ دھیرے سے بند کر دیا گیا۔ اس لمحے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے پورا بنگلہ ایک محفوظ قلعے میں بدل چکا ہے۔ اندر کا ماحول مکمل طور پر خوشیوں، مسکراہٹوں اور محبت کی روشنی سے بھرا ہوا تھا۔

°°°°°°°°°°

بنگلے کے اندر آج ایک خوشگوار ہلچل مچی ہوئی تھی۔ بچوں کی کلکاریاں اور بڑوں کی باتوں کا شور ایک بھلا سا پس منظر بنا رہا تھا۔ عام دنوں میں یہ جگہ زیادہ تر خاموش رہتی تھی۔ بس کبھی کبھار آبرو کی شوخ ہنسی اور شرارتیں اس سنجیدہ فضا میں رنگ بھر دیتی تھیں۔ مگر آج نکاح کی تقریب نے اس خاموش بنگلے کو جیسے زندگی سے بھر دیا تھا۔ کوئی کونے میں بیٹھا گپ شپ میں مصروف تھا، کچھ گروپ بنا کر قہقہے لگا رہے تھے، کوئی نئے آنے والوں کا استقبال کر رہا تھا تو کوئی بنگلے میں ٹہل رہا تھا۔

ہال کے ایک جانب صوفے پر زافیر بیٹھا تھا، اس کے ساتھ ہی دوسرے کونے میں زید ٹیک لگائے موجود تھا۔ زافیر عام طور پر زیادہ میل جول والا انسان نہیں تھا اور آج بھی وہ اپنی اسی سنجیدہ طبیعت کے ساتھ بیٹھا سب کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے برعکس، زید محفل کی جان بنا ہوا تھا۔ مہمانوں سے بے تکلفی سے باتیں کرنا، ہنسانا اور من گھڑت مگر مزاحیہ قصے سنا کر ماحول کو مزید خوشگوار بنانا، یہ اس کا خاص ہنر تھا اور آج وہ پورے جوبن پر تھا۔

ہال کے دوسرے حصے میں مومنہ خاتون اور زید کی بیوی خواتین کے حلقے میں مصروف تھیں۔ وہ ہر عورت کے ساتھ خوش اخلاقی سے بات کر رہی تھیں، جیسے ہر ایک کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہو۔ اس گھر میں نہ زافیر کی ماں تھی اور نہ بہن، کوئی خونی رشتہ موجود نہیں تھا لیکن مومنہ خاتون ایک ماں کا کردار پوری محبت سے نبھا رہی تھیں اور زید کی بیوی بہن کی طرح ہر مہمان کو خوش رکھنے میں لگی ہوئی تھی۔

زید اپنی کہانی کے کسی دلچسپ موڑ پر پہنچا تو ارد گرد کے سب لوگ خاموش ہو گئے، نظریں اس پر جمی تھیں اور پھر جیسے ہی اس نے آخری مزاحیہ فقرہ سنایا، ہال ایک بار پھر قہقہوں سے گونج اٹھا۔

،زید اچانک بات کا رخ بدلتے ہوئے مسکرا کر بولا
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں میرج ہال میں ویٹر تھا۔”

پڑھا لکھا بھی تھا اور ذہین بھی۔ خواتین کو کھانا پیش کیا جا رہا تھا، کھانے کے آخری لمحات تھے اور ہمارا ایک سینیئر ویٹر ایک خاتون کے پاس گلاس لے کر پہنچ گیا۔

غالباً وہ دلہے کی والدہ تھیں۔

وہ ویٹر ان سے ٹپ نکلوانے کے لیے بحث کر رہا تھا مگر آنٹی تو ایک پیسہ بھی دینے کو تیار نہیں تھیں۔
“میں دو تین بار بریانی کے باؤل پکڑے، ان کے قریب سے گزرا، مگر دونوں اپنی ہی جنگ میں مصروف رہے۔ تب مجھے ایک شرارت سوجھی۔

،یہ کہہ کر زید کھلکھلا کر ہنسا، پھر سنجیدگی کا ہلکا سا تاثر بنا کر کہنے لگا
میں اس خاتون کے پاس گیا، چہرے پر مکمل سنجیدگی اور ہمدردی کے آثار سجا کر بولا، آنٹی، آپ مبارک دیں بیچارے کو۔”

چھ ہزار تنخواہ ہے اس کی، آگے پیچھے کوئی نہیں، یتیم بچہ ہے۔

چھ بہنوں کا اکلوتا بھائی ہے، در در کی ٹھوکریں کھا کر بہنوں کی شادی کے لیے پیسے جوڑ رہا ہے۔

“حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ اس ویٹر کا باپ فوج میں تھا اور ماں اسکول کی استانی۔

،زید نے ایک لمحے کو توقف کیا، پھر ہنستے ہوئے بولا
!…اوہ بس… پھر کیا تھا”

اس ویٹر کے تو غصے سے کان ہی لال ہو گئے۔

” خاتون نے فوراً پرس کھولا اور کہا، ہائے پُتر…! تُو پہلاں کیوں نیں دَسیا؟ اے لے، میرا پتر… اللہ تیرے ماں پیو دی بخشش کرے۔

،ہال میں ہلکی ہلکی ہنسی گونجنے لگی۔ زید نے آگے کہا
میں تو اس کے بعد ہال میں ایک پل بھی نہیں رکا۔ وہ ویٹر بھی پیچھے آگیا اور مجھے پکڑنے کے لیے دوڑا۔”

میں آگے بھاگ رہا تھا اور وہ پیچھے، بار بار چلا رہا تھا، اوئے کَنجر! میرے ماں باپ کیوں مار دئیے؟

” اور میں پیچھے مڑ کر ہنستے ہوئے کہہ رہا تھا، بدلے میں پانچ ہزار مل گئے، اور کیا چاہیے؟

زید کی بات ختم ہوتے ہی وہ خود بھی ہنس پڑا۔ اس کی ہنسی اتنی بے ساختہ تھی کہ ہال میں موجود سب مہمان قہقہے لگانے لگے۔

زید کوئی نیا قصہ چھیڑنے ہی والا تھا مگر زافیر کی توجہ کہیں اور بھٹکی ہوئی تھی۔ وہ بے چین سا بیٹھا تھا کہ اچانک ایک مانوس اور چہکتی ہوئی آواز کانوں سے ٹکرائی،
“!…بابا”
اس نے پلٹ کر دیکھا۔ آبرو سفید لہنگا پہنے کھڑی تھی، سر پر سلیقے سے بندھا کالا ربن، سنہری آنکھیں اور دودھیا رنگت میں وہ بالکل کسی ننھی پری کا سا تاثر دے رہی تھی۔ زافیر کا دل جیسے پھول کی نازک کونپل کی طرح کھل اٹھا۔ وہ فوراً مسکراتے ہوئے اٹھا اور اس کے قریب جا پہنچا۔

ہائے… میری بیٹی تو آج سچ میں پری لگ رہی ہے۔” اس نے پیار سے کہا۔”

،آبرو نے اپنی تعریف سن کر شرارت بھری مسکان کے ساتھ سر جھکا لیا مگر اگلے ہی لمحے سنجیدہ ہو کر بولی
“وہ… حورا کو لا رہے ہیں۔”

،زافیر کا دل ایک لمحے کو زور سے دھڑکا، مگر فوراً اپنے جذبات دباتے ہوئے مصنوعی خفگی سے بولا
“حورا کیوں کہہ رہی ہو؟ اب تو وہ تمہاری ماما ہیں نا۔”

،آبرو نے ہلکا سا منہ پھلا کر کہا
“!…نہیں نا… ماما تو نکاح کے بعد بنیں گی نا”
زافیر اس کے معصوم منطق پر مسکرا کر رہ گیا۔

،اچھا… اب مسکرانا بند کریں اور سب کو یہاں سے اٹھائیں۔” آبرو نے آنکھوں سے اشارہ کرتے ہوئے رازدارانہ انداز میں کہا”
“…وہ آ رہی ہیں، بس”

اس کے الفاظ ابھی مکمل ہوئے ہی تھے کہ مومنہ خاتون، آبرو کا بازو تھامے، دھیمے اور وقار بھرے قدموں سے ہال میں داخل ہوئیں۔

زافیر کی نظریں دروازے پر جا ٹھہریں اور ٹھہر ہی گئیں۔

حورا ہلکی مسکراہٹ اور جھکی پلکوں کے ساتھ آگے بڑھ رہی تھی۔ عام طور پر خواتین میک اپ میں اپنی اصل رنگت چھپا کر گورا پن حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں، چاہے وہ سانولی ہوں، گندمی ہوں یا گوری۔ مگر حورا کا میک اپ نہایت سلیقے سے کیا گیا تھا، ایسا کہ اس کی گندمی رنگت جوں کی توں رہے، بس چہرے کے نقوش میں نکھار پیدا ہو جائے۔ بنی سنوری پلکیں، ہونٹوں پر ہلکی سی سرخی اور چہرے پر ایک قدرتی چمک… وہ آج بلا کی خوبصورت لگ رہی تھی۔

زافیر نے پہلی بار محسوس کیا کہ نہ اس کے نقش عام تھے اور نہ ہی صورت معمولی، بس وہ کبھی خود کو سنوارنے پر آمادہ نہیں ہوئی تھی۔ آج اسے دیکھ کر زافیر کے دل کی دھڑکن جیسے رفتار پکڑ گئی۔

وہ سنجیدگی سے خود کو سنبھالتے ہوئے پیچھے صوفوں کی طرف مڑا تاکہ حورا کے لیے جگہ خالی کروا سکے مگر سب صوفے تو پہلے ہی خالی تھے۔ زید نے آنکھوں سے اشارہ کرتے ہوئے اسے واپس بیٹھنے کو کہا۔ زافیر پلٹا اور صوفے کے پاس جا کھڑا ہوا۔

مومنہ خاتون کے چہرے پر گہری، مطمئن مسکان تھی۔ انہوں نے حورا کو آہستگی سے صوفے پر بٹھایا۔ زافیر بھی مسکراتے ہوئے اس کے قریب بیٹھ گیا مگر دل کی دھڑکنیں ابھی تک تیز تھیں۔

تھوڑی ہی دیر میں نکاح کی رسم کا آغاز ہوا۔ جیسے ہی امام صاحب نے دعا پڑھنی شروع کی، زافیر کے چہرے پر یکدم گہری سنجیدگی اتر آئی۔ وہ خاموش اور گم سم بیٹھا تھا۔

،امام صاحب نے پہلے دلہن سے تین بار اقرار لیا، پھر زافیر کی طرف متوجہ ہو کر پرسکون مگر صاف لہجے میں سوال کیا
“کیا آپ کو حورا بنت محمد کریم سے مبلغ ستر ہزار روپے سکہ رائج الوقت حقِ مہر کے عوض نکاح قبول ہے؟”

زافیر کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔ ہلکی کپکپاہٹ کے ساتھ اس نے کہا،
“قبول ہے۔”

،دوسری بار وہی سوال دہرایا گیا۔ اس بار آنکھوں میں آنسو اور گہرے ہوگئے، آواز مدھم مگر صاف تھی
“قبول ہے۔”

تیسری بار امام صاحب نے پھر کہا اور جیسے ہی الفاظ اس کے کانوں میں پڑے، ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔

،آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، گالوں پر پھسلتے ہوئے نیچے گر گئے اور اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا
“قبول ہے۔”

یہ الفاظ ادا کرتے ہی اس کے آنسو رکے نہیں… وہ کھل کر رو پڑا۔ چند لمحے قبل، ماحول جو مسرت سے بھرا تھا، یکدم سنجیدہ اور بوجھل ہوگیا۔

مومنہ خاتون گھبرا کر فوراً اس کے قریب پہنچیں، کندھوں کو تھام کر بولیں،
“زافیر… زافیر، کیا ہوا بچے؟”

لیکن جیسے اسے نکاح کا ہوش ہی نہیں تھا۔ وہ مسلسل روئے جا رہا تھا، جیسے برسوں کا دبا ہوا غم ایک ساتھ باہر نکل آیا ہو۔

“بیٹا، بتاؤ نا… کیا ہوا؟” مومنہ خاتون کی اپنی آواز بھی لرز گئی۔ آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
حورا نے گھونگھٹ میں چہرہ جھکایا ہوا تھا، مگر زافیر کے رونے کی آواز سن کر اس کی آنکھوں میں بھی نمی بھر آئی۔ دوسری طرف آبرو کچھ فاصلے پر کھڑی تھی، اس کا چہرہ سپاٹ اور آنکھیں خشک تھیں مگر وہ لمحہ بھر کو بھی زافیر سے نظر نہیں ہٹا رہی تھی۔

زافیر کا رونا بڑھتا جا رہا تھا۔ زید کی بیوی نے جلدی سے گلاس میں پانی بھرا اور اس کے ہونٹوں کے قریب لے جا کر نرمی سے کہا,
“پلیز بھائی… پانی پی لیں، کیا ہو گیا اچانک؟”

زافیر نے روتے ہوئے مومنہ خاتون کی طرف دیکھا، لب کپکپا رہے تھے۔
“آنٹی…” اس کی آواز ٹوٹ گئی، “آزلان کی بہت یاد آ رہی ہے۔”

یہ کہتے ہی وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ مومنہ خاتون کے آنسو یکدم روانی میں بہہ نکلے، وہ اسے گلے سے لگا کر خود بھی سسکنے لگیں۔
،بہت یاد آ رہی ہے…” زافیر کی آواز بچوں کی طرح بے بس تھی”
“آج آزلان ہوتا… تو کتنا خوش ہوتا… میرا بھائی… میرا آزلان…”

جو لوگ آزلان کو نہیں جانتے تھے، وہ ایک دوسرے سے حیرانی سے اس کا پوچھ رہے تھے۔ مگر زافیر اپنے غم میں ڈوبا سب بھلا بیٹھا تھا۔

زید کی بیوی نے نرمی مگر مضبوطی سے اسے مومنہ خاتون سے الگ کیا اور آنکھوں کے اشارے سے مومنہ خاتون کو منع کیا کہ وہ مزید نہ روئیں، ورنہ زافیر کا دکھ اور بڑھ جائے گا۔ مومنہ خاتون نے کپکپاتے ہاتھوں سے آنسو پونچھ ڈالے۔

زید کی بیوی نے گلاس کے کنارے کو زافیر کے لبوں سے لگایا اور ایک ایک گھونٹ پانی اسے پلانے لگی، جیسے کسی تھکے ہارے بچے کو سنبھال رہی ہو۔

کافی دیر تک فضا سوگوار رہی۔ ہال میں ایک غیر معمولی خاموشی چھا گئی تھی جیسے خوشی کا رنگ کسی نے اچانک مٹا دیا ہو۔ مہمان سرگوشیوں میں بات کر رہے تھے، مگر آوازیں اتنی دھیمی تھیں کہ صرف ہلکی ہلکی سرسراہٹ سنائی دے رہی تھی۔

،زافیر کچھ دیر بعد ذرا سنبھلا تو زید فوراً اس کے قریب آیا۔ نرمی سے اس کا ہاتھ تھام کر بولا
“چلو زافیر… تھوڑی دیر ٹہل کر آتے ہیں۔”
اس نے آہستہ مگر مضبوطی سے زافیر کو اٹھا دیا۔

،امام صاحب بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور زید کو دیکھ کر بولے,
“بیٹا، ابھی تو نکاح کا خطبہ باقی ہے، تھوڑا ٹھہر جاؤ۔”

،زید نے مؤدب لہجے میں جواب دیا
“بس پانچ منٹ دے دیجیے۔”
یہ کہہ کر وہ زافیر کو اپنے ساتھ باہر لے گیا۔

ہال میں لوگوں کے چہروں پر تجسس اور تشویش کا ملا جلا رنگ تھا۔ کہیں ہلکی ہلکی باتیں ہو رہی تھیں، کہیں خاموش نظریں ایک دوسرے سے سوال کر رہی تھیں۔ لمحہ بھر کے لیے یوں لگا جیسے یہ شادی کا نہیں، کسی صدمے کا موقع ہو۔

چند منٹ بعد زید اور زافیر واپس لوٹے۔ دونوں کے چہروں پر مسکراہٹ تھی۔ نجانے زید نے کیا کہا یا کس انداز میں حوصلہ دیا مگر اب زافیر کے چہرے پر غم کی پرچھائیاں نہیں تھیں۔ اس کی آنکھوں میں روشنی لوٹ آئی تھی اور ہونٹوں پر ہلکی سی خوشی کی لہر بھی۔

انہیں مسکراتے دیکھ کر ہال کا ماحول بھی بدلنے لگا۔ وہ صوفے پر آ کر بیٹھے تو امام صاحب نے کھڑے ہو کر نکاح کا خطبہ شروع کر دیا۔ آواز میں ٹھہراؤ تھا، الفاظ خوشی کے رنگ میں لپٹے ہوئے تھے۔

آج شادی کا دن تھا… جیسے کسی بڑے طوفان سے پہلے ٹھنڈی ہوا کا ہلکا سا جھونکا۔
دو دن بعد ہی زافیر اور زید پنجاب سے نکل کر پنجگور جانے کے تمام انتظامات مکمل کر چکے تھے۔ وہ ایک بڑی جنگ کے لیے روانہ ہونے والے تھے… ایسی جنگ جس کے لیے پانچ سو سپاہی تیار کھڑے تھے اور جہاں خون کی ندیاں بہنے کو تھیں۔

…مگر آج
آج کا دن صرف ان کی خوشیوں کا دن تھا۔
زندگی کے حسین لمحوں سے لطف اندوز ہونے کا دن۔

°°°°°°°°°°

…جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *