ناول درندہ
قسط نمبر 24
باب سوّم: شبکہ
مصنف: زیاد اصغر زارون
°°°°°°°°°°
زافیر اس وقت اپنے ذبح خانے میں کھڑا تھا اور بازار سے لایا ہوا سامان ترتیب سے رکھ رہا تھا۔ ٹھنڈی دیواریں اور خون کی ہلکی سی مہک پورے ماحول کو مزید بھیانک بنا رہی تھیں۔ قریب ہی ندیم خاموش اور گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ دھاتی برتنوں کی ہلکی کھنک اور چھریوں کی جھنکار اس خوفناک خاموشی کو اور بھاری بنا رہی تھی۔
،زافیر نے سامان پر نگاہ ڈالی اور اچانک ندیم کو مخاطب کیا
“میرے واپس آنے تک قیدیوں کے کھانے کی ذمہ داری تم پر ہے۔ سب کو گوشت دینا… مگر ضمیر کو ہرگز نہیں۔”
،ندیم نے چونک کر سوال کیا
“ضمیر کو کیوں نہیں؟”
،زافیر کی آنکھوں میں سفاک سنجیدگی تیر گئی۔ اس کے لہجے میں سرد مہری تھی
“میں اپنے شکار کو کبھی بھی انسانی گوشت کھلا کر برباد نہیں کرتا۔ وہ بھوکا رہے گا… تاکہ وقت آنے پر ہمارا کھانا بن سکے۔”
ایک پل کے لیے ندیم کے وجود پر لرزہ سا طاری ہوا لیکن اس نے کچھ کہے بغیر اثبات میں سر ہلا دیا۔
،زافیر نے سامان ترتیب سے لگا دیا تھا، وہ ندیم کے قریب آتے ہوئے دھیمے مگر سخت لہجے میں بولا
“…یہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔ ہتھیاروں والا پورشن بھی میں لاک کر چکا ہوں۔ اس لیے کوئی بیوقوفی مت کرنا… ورنہ”
وہ جملہ ادھورا چھوڑ کر خاموش ہوگیا۔
،ندیم نے جلدی سے کہا
“سمجھ گیا… آپ بے فکر رہیں۔”
،زافیر نے گہری سانس لے کر کہا
“ٹھیک ہے، میں چلتا ہوں۔”
یہ کہہ کر وہ آہستہ آہستہ دروازے کی طرف بڑھا۔ جیسے ہی باہر نکلا، بایومیٹرک لاک نے دروازے کو فولادی گرفت میں بند کر دیا۔
اب کمرے میں محض ندیم رہ گیا تھا۔ وہ ساکت کھڑا سوچوں کے بھنور میں ڈوبا تھا کہ اچانک ذبح گاہ کا فرش آہستگی سے نیچے اترنے لگا۔ زمین دھیرے دھیرے سرکتی گئی یہاں تک کہ پورا فرش تہہ خانے کے برابر جا پہنچا۔ اب باہر جانے والا دروازہ بیس فٹ کی بلندی پر تھا۔ ایسا مقام جس تک پہنچنا تو دور، تصور بھی محال لگ رہا تھا۔
زافیر کا ہر کام اب ندیم کی ذمہ داری تھا۔ مگر کیا وہ واقعی زافیر سے وفاداری نبھائے گا… یا موقع دیکھ کر اس قید سے فرار ہونے کی کوشش کرے گا؟ یہ سوال ابھی تک ندیم کے اپنے دل کے لیے بھی ایک سربستہ راز تھا۔
°°°°°°°°°°
رات کے ٹھیک آٹھ بجے تھے۔ ہیلی پیڈ پر ایک سیاہ پرائیویٹ ہیلی کاپٹر کھڑا اپنی خاموش دھمکی بکھیر رہا تھا۔ اس کے گرد بکھری مدھم روشنی اور ہلکی سی ٹھنڈی ہوا فضا کو مزید سنجیدہ بنا رہی تھی۔ زافیر، کیپٹن محمود بدری اور کمانڈر زید اپنے بیگ کندھوں پر ڈالے آہستہ آہستہ ہیلی کاپٹر کی طرف بڑھے۔ تینوں کے چہروں پر تھکن کے بجائے عزم اور فیصلہ کن خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
جیسے ہی وہ اندر سوار ہوئے، ہیلی کاپٹر کے بلیڈ آہستہ آہستہ گھومنے لگے۔ ہلکی سی سرسراہٹ تیزی میں بدل گئی اور چند لمحوں بعد وہ رات کے سناٹے کو چیرتے ہوئے آسمان کی طرف بلند ہوگیا۔ نیچے ہیلی پیڈ کی روشنیاں مدھم دھبوں میں بدل گئیں اور اندھیرا ان کے اردگرد پھیلتا چلا گیا۔
یہ پرواز صرف ایک سفر نہیں تھی، یہ ایک فیصلہ کن مشن کا آغاز تھا۔ بظاہر وہ تینوں اکٹھے نکلے تھے لیکن آگے جا کر ان کی منزلیں الگ ہونے والی تھیں۔ منصوبہ یہ تھا کہ انہیں اپنے اہداف سے کچھ کلومیٹر دور پہاڑ کے دامن میں اتارا جائے گا۔ وہاں سے اطلاع ملتے ہی ایک گھنٹے میں باقی سپاہی بھی ان کے پاس پہنچ جائیں گے۔ جنگ کا نقشہ کھینچا جا چکا تھا… تین مختلف محاذ، تین بڑے حملے اور ایک ہی مقصد، دشمن کے تینوں مراکز کو ایک ہی وقت میں نیست و نابود کر دینا۔
،کمانڈر زید نے خاموشی توڑی اور بلند آواز میں زافیر کو مخاطب کی
ہم رات دس بجے کے قریب اپنے مقام پر اتریں گے۔ قریب ہی جھاڑیوں میں تین کدالیں ہوں گی۔”
جہاں سفید پتھر نظر آئے، وہاں کھودنا۔ وہاں ہتھیاروں کی پیٹیاں دفن ہوں گی۔
یاد رکھنا…! جلد بازی مت کرنا۔ میرے میسج کا انتظار کرنا اور جیسے ہی پیغام مل جائے، فوراً ایان کے بنگلے کا گھیراؤ کر لینا۔
“پھر میرا آخری اشارہ ملتے ہی حملہ کرنا۔
،یہ کہتے ہی وہ کیپٹن محمود بدری کی طرف متوجہ ہوا
آپ کے لیے بھی یہی حکم ہے۔ محاصرہ مکمل کرنے سے پہلے کوئی قدم نہیں اٹھانا۔”
” جیسے ہی آپ کے سپاہی اپنی پوزیشن سنبھال لیں، مجھے اطلاع دیں۔ اور پھر سے دہرا رہا ہوں، میرا اشارہ آنے سے قبل، حملہ نہیں کرنا۔
یس سر…! آپ کے سبھی احکامات پر عمل کروں گا۔” کیپٹن محمود بدری نے پرجوش لہجے میں کہا۔”
زافیر نے بھی اثبات میں سر ہلا دیا۔
ہیلی کاپٹر رات کے آسمان میں گونجتا ہوا اپنی رفتار پکڑ رہا تھا۔ ہر گزرتا لمحہ انہیں ان کی منزل کے قریب لے جا رہا تھا۔ فضا میں ایک انجانی گھٹن، ایک پراسرار سکوت چھایا ہوا تھا۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس مشن سے زندہ واپس کون لوٹے گا، لیکن ایک بات طے تھی… کمانڈر زید اور کیپٹن بدری کے دلوں میں وطن پر قربان ہونے کا جنون شعلوں کی طرح دہک رہا تھا اور وہ شعلے ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مزید بھڑک رہے تھے۔
°°°°°°°°°°
:کازمار جی سلطنت
زمار واپس آ چکا تھا اور اس وقت رینا کے سامنے سر جھکائے کھڑا تھا۔ رینا کی آنکھوں میں غصے کی آگ دہک رہی تھی، اس کے چہرے پر سختی اور لہجے میں جھرجھری پیدا کرنے والا غضب تھا۔
“تم نے ساری محنت پر پانی پھیر دیا…! تم نے ویسے ڈھونڈا ہی نہیں جیسے ڈھونڈنا چاہیے تھا۔”
رینا کی آواز کمرے کی خاموشی کو چیرتی ہوئی گونجی۔
زمار نے جھٹکے سے سر اٹھایا، اس کی آنکھوں میں بھی غصے کی چنگاریاں بھڑک اٹھی تھیں۔
“!…تاج وہاں تھا ہی نہیں، تو میں کہاں سے لے آتا؟ میں کوئی بچہ نہیں ہوں، عقل شعور رکھتا ہوں۔ کئی معاملات تو میں تم سے بہتر سمجھتا ہوں”
کمرے کی فضا لمحہ بھر کو تنی ہوئی تلوار کی مانند ہوگئی۔ رینا کب سے لفظوں کے زہریلے نشتر برسا رہی تھی مگر اب زمار کے لہجے کی سختی نے اس کے تیور بدل دیے۔ وہ گہری سانس لے کر اپنے غصے کو ضبط کرنے لگی۔
، پھر اپنی آواز کو نرم کرتے ہوئے بولی
زمار…! تم میرے بھائی ہو۔ جان سے بھی بڑھ کر عزیز۔ مجھے لگا کہ تم تاج لے آؤ گے، اسی امید پر میں نے جنگ کی پہلی چنگاری بھڑکا دی۔”
” اگر مجھے اندازہ ہوتا کہ تاج نہیں ملے گا تو میں اتنی جلد بازی کبھی نہ کرتی۔
رینا کے لہجے کی نرمی نے زمار کو بھی تھام لیا۔ اس نے غصے پر قابو پاتے ہوئے قدم آگے بڑھائے اور رینا کے عجیب و غریب، کثیر رنگوں والے بیڈ پر بیٹھ گیا۔
،اس کے لہجے میں اب سوچ بچار کی سنجیدگی تھی
“رینا، تم سمجھدار ہو۔ تمہیں خود سوچنا چاہیے کہ شنداق اور آبیاروس اتنے احمق نہیں کہ تاج یوں ہی کازمار کے حوالے کر دیتے۔”
ایک ایسے بادشاہ کو… جو پہلے ہی بد امنی پھیلا چکا ہے۔ جس کا غصہ اور جذباتی پن کسی حد کو نہیں مانتا۔
“مجھے یقین ہے تاج شنداق نے کہیں چھپا رکھا ہے… اور کازمار نے اپنے تحفظات کے پیشِ نظر، چابی اپنے پاس رکھ لی ہوگی۔
زمار کے گہرے اور پُرمعنی جملوں نے رینا کو لمحہ بھر کے لیے خاموش کر دیا۔
،وہ چند پل نظریں جھکائے سوچتی رہی پھر آہستہ اور تحمل سے بولی
“اب تاج پھر سے… ایک پہیلی بن گیا ہے۔”
یہ کہتے ہی وہ زمار کے پہلو میں بیٹھ گئی۔ اس کی نظریں خالی خلا کو تک رہی تھیں جیسے دماغ کے گھوڑے ہر سمت دوڑ رہے ہوں۔
،زمار نے یکدم بات چھیڑی، اس کی آواز میں بےچینی تھی
“کیا ایسا ممکن نہیں کہ تاج… آبیاروس کے تخت کے نیچے چھپا ہو؟”
،رینا نے فوراً نفی میں سر ہلا دیا، اس کے لہجے میں یقین جھلک رہا تھ
نہیں… شنداق ایسی حماقت کبھی نہیں کرے گا۔ وہ جانتا ہے کہ کازمار خطرناک ہے۔”
“اگر اسے ذرا بھی شبہ ہوا تو وہ تاج کے لیے آبیاروس کی سلطنت پر چڑھ دوڑے گا۔”
،زمار کے چہرے پر فکر کی لکیریں ابھر آئیں۔ وہ پھر سوچ میں ڈوب گیا اور آہستہ سے بولا
“اگر… تاج واقعی شنداق کے پاس ہوا تو پھر؟”
،رینا نے چند لمحے توقف کیا، آنکھوں میں غور و فکر کی پرچھائیاں ابھرتی گئیں، اس نے پھر سے نفی میں سر ہلایا
شنداق امن کا داعی ہے۔ وہ شاہِ سُموم کا تاج اپنے دربار میں کبھی نہیں رکھے گا۔”
“یقیناً تاج اس کی نگرانی میں ہے… مگر اس کے دربار میں ہونے کے امکان نہ ہونے کے برابر ہیں۔
وہ کچھ لمحے خاموش رہی، پھر گہری سانس لے کر زمار کی طرف رخ کیا۔
،اس کی آنکھوں میں تشویش اور ہلکی سی لرزش جھلک رہی تھی
اگر… اگر تاج واقعی اس کے دربار میں ہوا… تو سمجھ لو ہم جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ہار جائیں گے۔”
“ہماری ساری منصوبہ بندی ریت کے کچے مکان کی طرح لمحوں میں بکھر جائے گی۔
زمار دونوں ہاتھوں سے ماتھا دبائے مسلسل سوچوں میں الجھا ہوا تھا لیکن کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پا رہا تھا۔
،اچانک ایک خیال اس کے ذہن میں کوندا، وہ فوراً سیدھا ہو کر تیزی سے بولا
شاید… شاید تاج کسی چوتھے فریق کے پاس ہو۔ کسی ایسے کے پاس جو اس کا اصل محافظ ہو۔”
“یہ بھی ممکن ہے کہ تاج… ملکہ دارونتھا کی نگرانی میں اندھیر نگری کے اندر رکھا گیا ہو تاکہ تینوں بادشاہ اس تک پہنچنے سے ہمیشہ محروم رہیں۔
،رینا نے فوراً قہقہہ مار کر اس کا مذاق اڑایا، اس کی آنکھوں میں طنز کی چمک تھی
کتنے احمق ہو تم زمار۔ ملکہ دارونتھا کے پاس پہلے ہی تین بادشاہوں کی طاقت ہے، اوپر سے اندھیر نگری کی حکمرانی بھی۔”
“کیا تم سمجھتے ہو کہ شنداق اتنا پاگل ہے جو تاج اسے دے کر اپنی ہی تباہی کو دعوت دے گا؟
زمار کے چہرے پر ایک لمحے کو جھجک ابھری، جیسے اس کی بات دل کو لگی ہو۔ وہ مسلسل سوچ رہا تھا مگر ہر زاویے سے یہ معاملہ مزید الجھتا جا رہا تھا۔
وہ آہستہ سے اٹھا اور رینا کے بیڈ کے پہلو میں رکھے میز کی طرف بڑھا۔ وہاں ایک گہرے سرخ رنگ کا جگ رکھا تھا جس میں خون ہلکی سی روشنی کے ساتھ ابلتا سا محسوس ہو رہا تھا، جیسے اس میں چھپے شعلے دھیرے دھیرے لپک رہے ہوں۔ زمار نے گلاس میں آدھا خون انڈیلا اور ایک گھونٹ بھرا۔ اچانک اس کا چہرہ بگڑ گیا۔
“بہت ہی کڑوا ہے یہ خون… منہ کا ذائقہ ہی خراب ہو گیا۔”
پھر بھی وہ رکا نہیں، ایک اور گھونٹ بھرا اور گلاس واپس میز پر رکھ دیا۔ پلٹتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر ایک تلخ سی مسکراہٹ تھی۔
اپنے سفر کے دوران میں نے کئی انسانوں کا شکار کیا… ان کے خون کی لذت ہی کچھ اور ہوتی ہے۔”
” یہ کازمار کے سپاہیوں کا خون تو بس زہر لگتا ہے۔
رینا کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے چمک ابھری، جیسے اس کے ہونٹوں پر خون کا ذائقہ محسوس ہو رہا ہو۔
،لیکن اگلے ہی پل وہ سنجیدہ ہوگئی۔ اچانک فرطِ جذبات سے کھڑی ہوگئی اور تقریباً چیختی ہوئی بولی
“!…زمار…! میں جانتی ہوں… میں جانتی ہوں تاج کہاں ہے”
زمار نے چونک کر اس کی طرف دیکھا، آنکھوں میں حیرت اور بےچینی جھلک رہی تھی۔
کہاں…؟” اس نے بےتابی سے پوچھا۔”
،رینا نے سانس سنبھالتے ہوئے پرجوش لہجے میں کہا
“!…تاج تو ہمیشہ سے ہی ہمارے پیروں تلے تھا”
زمار کی آنکھیں پھیل گئیں، جیسے وہ اس بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔
کیا…؟ کیا اس کمرے میں؟” اس نے بےیقینی سے کہا۔”
،رینا ہنس پڑی اور طنزیہ لہجے میں بولی
“!…نہیں بُدھو… ہمارے اپنے بنگلے میں”
زمار نے کن اکھیوں سے اسے گھورا، چہرے پر شک اور تجسس دونوں چھلک رہے تھے۔
“اور تمہیں اتنا یقین کیوں ہے؟”
،رینا کی آنکھوں میں ایک چمک تھی جیسے برسوں کی الجھن اچانک حل ہو گئی ہو۔ وہ جوش بھرے لہجے میں بولی
پکا نہیں پتا… لیکن پورا یقین ہے۔ دادی نے مجھے بتایا تھا کہ جب وہ پہلی بار اس دنیا میں آئی تھیں تو ان کا شنداق سے ایک معاہدہ ہوا تھا۔”
اسی معاہدے کے بدلے نہ صرف انہیں اس کی سلطنت میں جگہ ملی بلکہ وہ بنگلہ بھی دیا گیا جہاں ہم آج رہتے ہیں۔
“معاہدہ کس نوعیت کا تھا، یہ تو نہیں پتا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ دادی اور شنداق کے درمیان ایک سمجھوتہ ضرور ہوا تھا۔
،وہ رکی، پھر مزید دلائل دیتے ہوئے بولی
شنداق نے خود بھی کہا تھا کہ ہماری دادی اس کی اچھی دوست تھیں۔”
سوچو زمار…! کیا مٹی کا ناقابلِ شکست بادشاہ… کسی عام سے انسان کے ساتھ بلاوجہ دوستی کرے گا؟
“کبھی نہیں۔ یہ تعلق صرف کسی بڑے مفاد پر ہی قائم ہو سکتا تھا۔
رینا کے الفاظ نے زمار کو گہری سوچ میں ڈال دیا۔ وہ اب قائل ہو چکا تھا۔
تو پھر… آگے کیا کرنے کا ارادہ ہے؟” اس نے نیم سنجیدہ لہجے میں پوچھا۔”
رینا واپس بیڈ پر بیٹھ گئی، اس کی نظریں کسی دور خیال میں گم تھیں۔
،تمہیں بنگلے میں واپس جانا ہوگا۔” اس نے آہستگی سے کہا، پھر اعتماد بھرے لہجے میں آگے بولی”
“تہہ خانے کے اندر… یقیناً تاج وہیں ہوگا۔ عین ممکن ہے فرش کے کئی فٹ نیچے دفن ہو۔ ضرورت پڑے تو پورا فرش اکھاڑ دینا۔”
،زمار نے خاموشی سے اثبات میں سر ہلایا۔ رینا نے ہدایت بھرے لہجے میں مزید کہا
چابی دیکھ کر لگتا ہے کہ تاج کسی صندوق میں ہے۔ اگر صندوق ملے تو اسے کھول کر تسلی ضرور کر لینا، لیکن یاد رکھنا… تاج کو چھونا مت۔”
بس وہ صندوق اٹھا کر لے آنا اور کازمار کی ریاست میں، دربار سے کچھ فاصلے پر چھپا دینا۔
پھر مجھے خبر دینا۔ میں یہاں جنگ کی آگ بھڑکا کر آبیاروس کو الجھاؤں گی اور پھر تمہارے پاس آجاؤں گی۔
اس کے بعد ہمیں بس انتظار کرنا ہوگا… کسی ایک فوج کے مِٹنے کا۔
“پھر مناسب وقت پر اندھیر نگری کے خفیہ عقبی راستوں سے شاہِ سُموم کی وادی میں داخل ہوں گے۔
زمار نے گہری سانس بھری، آنکھوں میں ایک لمحے کو شکست کی جھلک تھی۔
“کاش… تاج واقعی وہیں ہو۔ ورنہ ہماری ساری محنت ریت کے گھروندے کی طرح بکھر جائے گی۔”
رینا نے اس کی طرف دیکھا، نظریں گہری اور دل گرفتہ۔ وہ اچانک اٹھ کر اس کے قریب آئی اور دونوں ہاتھوں سے اس کے کندھے تھام لیے۔
،اس کا لہجہ پہلی بار نرم پڑ گیا
“اس بار اپنی بہن کو مایوس مت کرنا۔ اگر تم خالی ہاتھ لوٹے… تو میں اپنے ہاتھوں سے خود کو آگ لگا دوں گی۔”
یہ سن کر زمار کا دل لرز گیا۔ اس کے بدن میں جھرجھری دوڑ گئی۔ اس نے فوراً رینا کو سینے سے لگا کر بھینچ لیا۔
نہیں رینا… میں تمہیں کبھی مایوس نہیں کروں گا۔ اس بار خالی ہاتھ نہیں لوٹوں گا۔ “
“میں ابھی… اسی وقت جا رہا ہوں اور جلد ہی تاج لے کر تمہارے پاس واپس آؤں گا۔
اس نے یہ کہہ کر رینا کی پیشانی پر نرمی سے بوسہ دیا اور ایک پختہ ارادے کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گیا۔
،رینا وہیں کھڑی رہ گئی، آنکھوں میں ایک ہی خوف چمکتا رہا
“اگر تاج وہاں نہ ہوا… تو پھر ہمارا کیا بنے گا؟”
°°°°°°°°°°
رات کا اندھیرا ہر سمت اپنے پر پھیلا چکا تھا۔ پہاڑ کے دامن میں تیس فٹ کی بلندی پر ایک ہیلی کاپٹر اپنے طاقتور بلیڈز کی گڑگڑاہٹ کے ساتھ ہوا میں معلق تھا۔ یہی وہ مقام تھا جہاں کیپٹن محمود بدری کو اترنا تھا۔
اس نے فولادی عزم کے ساتھ رسی تھامی اور آخری بار کمانڈر زید کی طرف دیکھا۔
،فضا کے شور میں اس کی آواز بلند اور صاف سنائی دی
“سر…! اگر میں شہید ہو گیا تو میرے بابا سے کہنا… بدری نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔”
یہ کہہ کر وہ رسی کے سہارے نیچے سرکنے لگا۔ دس فٹ کی بلندی پر آتے ہی اس نے چھلانگ لگائی، زمین پر مہارت سے قلابازی کھائی اور گھٹنے ٹیکتے ہی سیدھا کھڑا ہوگیا۔ اوپر نگاہ دوڑائی تو ہیلی کاپٹر پہلے ہی اندھیرے میں بلندی پکڑتے ہوئے آگے نکل گیا تھا۔
اب وہ اکیلا تھا۔ محمود بدری نے دھیمے مگر پراعتماد قدم بڑھائے اور اردگرد کی جھاڑیوں میں محتاط نگاہ ڈالنے لگا۔ تھوڑی دور ہی ایک گھنی جھاڑی کے پیچھے اسے تین کدالیں نظر آئیں… وہ انہیں وہیں چھوڑ کر آگے بڑھا۔
چند میٹر کے فاصلے پر ایک پتھریلے حصے میں، سیاہ اور بھورے پتھروں کے بیچ ایک سفید پتھر جگمگاتا سا دکھائی دیا۔ یہی وہ نشان تھا جس کی اسے تلاش تھی۔ محمود بدری نے ایک لمحہ رک کر گہری سانس لی پھر قریب کی جھاڑیوں میں دبک کر بیٹھ گیا۔
اب سب کچھ مقدر پر چھوڑ دینا تھا۔ اس کا کام مکمل ہو چکا تھا۔ باقی ساتھی کب آتے ہیں… یہ انتظار ہی اگلا امتحان تھا۔
°°°°°°°°°°
زافیر کو پہاڑ کے دامن میں اتار کر ہیلی کاپٹر تیزی سے پلٹا اور اندھیرے میں ایک نئی سمت کو بڑھ گیا۔ ساتھیوں کے پہنچنے میں ابھی خاصا وقت باقی تھا۔ زافیر نے ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا اور علاقے کا جائزہ لینے کے لیے پہاڑ کے اوپر چڑھنے لگا۔ اس کے قدم عام انسانوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز تھے، سانس بلکل نارمل، گویا چڑھائی اس کے لیے کوئی مشقت ہی نہ ہو۔ چند ہی منٹوں میں وہ چوٹی پر پہنچ چکا تھا۔
اوپر کھڑے ہوکر اس نے گرد و پیش پر نگاہ ڈالی۔ تینوں پہاڑوں کے درمیان ایک بنجر ویران میدان پھیلا ہوا تھا۔ لیکن تقریباً تین کلومیٹر دور، اگلے پہاڑی سلسلے کے بیچ کہیں سے روشنی کی باریک کرنیں آسمان کو چھوتی محسوس ہورہی تھیں۔ زافیر کے ذہن میں ایک جھماکا سا ہوا… یہ روشنی ایان کے بنگلے ہی سے اٹھ رہی تھی۔ اس نے جیب سے موبائل نکالا، لوکیشن چیک کی اور نقشے پر وہی سمت جگمگا اٹھی۔
وہ مطمئن سا مسکرایا اور موبائل واپس جیب میں رکھ کر اطمینان سے نیچے اترنے لگا۔ پہاڑ کے دامن تک پہنچتے ہی اس نے جھاڑیوں کے قریب رکھی کدالیں اٹھائیں اور سفید پتھر تک پہنچ کر کھدائی شروع کر دی۔ زافیر کو دوسروں کا انتظار کرنا وقت کا ضیاع محسوس ہوتا تھا۔ وہ اپنی عادت کے مطابق سب کچھ اپنے ہاتھوں سے کرنے کا عادی تھا۔
تھوڑی دیر پتھریلی مٹی کھودنے کے بعد دھم سے بھاری آواز ابھری… کدال نیچے کسی دھات سے ٹکرائی تھی۔ زافیر جھک گیا اور ہاتھوں سے مٹی ہٹانے لگا۔ تھوڑی ہی دیر میں اسے اندازہ ہوگیا کہ نیچے ایک نہیں بلکہ تین پیٹیاں دفن تھیں۔ اس نے تیزی پکڑ لی اور کدال زمین میں اور زور سے اتارنے لگا۔
اسی دوران اس کے کانوں نے ایک اجنبی آواز سنی… انجن کی مدھم گڑگڑاہٹ۔ وہ فوراً چوکس ہوگیا۔ آواز ابھی بہت دور تھی لیکن عام انسان کی سماعت کے برعکس زافیر کی تیز حِس نے فوراً پہچان لیا کہ یہ جیپ ہے اور سیدھی اسی سمت آ رہی ہے۔ اس کی چھٹی حِس نے صاف اشارہ دیا… خطرہ قریب ہے۔
ایک پل ضائع کیے بغیر اس نے کدال نکالی، گڑھے میں موجود پیٹیوں پر ہلکی سی مٹی ڈال دی تاکہ وہ نمایاں نہ ہوں۔ وقت کم تھا، سارا گڑھا بھرنا ممکن نہیں تھا۔ اس نے کدالیں اٹھا کر جھاڑی میں پھینک دیں اور خود بھی ایک گھنی جھاڑی کے پیچھے دبک گیا۔
اندھیرے میں ماحول سنسنی خیز خاموشی سے بوجھل ہوگیا تھا۔ مگر چند لمحوں بعد جیپ کے انجن کی گڑگڑاہٹ قریب آتی سنائی دینے لگی۔ پھر ہیڈ لائٹس کی تیز روشنی نے رات کے پردے کو چیر ڈالا… سفر کرنے والی گاڑی اب بس چند قدم کی دوری پر تھی۔
°°°°°°°°°°
کمانڈر زید کو بی ایل ایف کے موجودہ ٹھکانے سے تقریباً پانچ کلو میٹر دور ایک ویران برساتی نالے کے قریب اتارا گیا تھا۔ ہیلی کاپٹر کی گڑگڑاہٹ اندھیرے میں گم ہوئی تو وہ خاموشی سے نالے کے کنارے پر اترا، زمین کا معائنہ کیا اور پھر دبے قدموں سے اپنے سفر کا آغاز کر دیا۔ چند لمحوں بعد اس نے جیب سے موبائل نکالا، مخصوص نمبر پر ایک مختصر میسج بھیجا اور فون واپس جیب میں ڈال دیا۔ اسے پتہ تھا کہ کہاں جانا ہے، اس لیے اس کے قدم تیز اور یقینی تھے۔
ایک پہاڑی چڑھ کر وہ دوسری جانب اُترا تو کھائی نما دامن سامنے پھیلا ہوا تھا۔ زید نے وہیں رکنے کا فیصلہ کیا کیونکہ یہیں رک کر، اپنے باقی ساتھیوں کا انتظار کرنا تھا۔ ٹھنڈی رات کی خاموشی میں، ہوا کی ہلکی سرسراہٹ اور پہاڑوں کی خاموشی، ماحول کو مزید سنسنی خیز بنا رہی تھی۔
بی ایل ایف کا اصل ٹھکانہ زیادہ دور نہیں تھا۔ انہوں نے گیری چیر مسجد کے قریب ایک اجڑے ہوئے گاؤں کو اپنی آڑ بنایا ہوا تھا۔ گاؤں ویرانی اور خوف کی تصویر پیش کر رہا تھا۔ بیشتر گھروں کی چھتیں زمین بوس ہو چکی تھیں، دیواریں ٹوٹی پھوٹی کھنڈرات کی مانند کھڑی تھیں۔ صرف چند مکان ہی سلامت بچے تھے، جنہیں باغیوں نے اپنے مقاصد کے لیے، قبضے میں لے رکھا تھا۔ ایک مکان میں گاؤں کی عورتوں اور بچوں کو قید کر رکھا تھا، دوسرے میں سبھی مردوں کو بند کیا گیا تھا۔ گاؤں کا سکول کشف الرحمٰن بلوچ کا مسکن بنا دیا گیا تھا جبکہ نچلے درجے کے کمانڈر مسجد میں پناہ گزین تھے۔
کچھ جنگجو گاؤں کے کمروں میں سو رہے تھے، جبکہ باقی چھتوں پر پہرہ دے رہے تھے۔ پہاڑوں کا گھیراؤ اور رات کا اندھیرا، دونوں مل کر اس ٹھکانے کو قدرتی ڈھال فراہم کر رہے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ یہاں فوجی کارروائی کا خطرہ بہت کم محسوس ہوتا تھا۔ کشف الرحمٰن نے علاقے کا انتخاب بڑی منصوبہ بندی اور سوچ بچار کے بعد کیا تھا۔
وہ خود سکول کے ایک کمرے میں چارپائی پر گہری نیند سو رہا تھا۔ سکول کے باہر آٹھ جنگجو پہرے پر تھے اور مزید تین مسلح ساتھی چھت پر بیٹھے چاروں اطراف، گہری نگاہ رکھے ہوئے تھے۔ فضا پر سکوت چھایا ہوا تھا، اندھیرا دشمن اور دوست کا فرق مٹا کر سب کے لیے پردہ بن گیا تھا۔ اسی پردے کے حصار میں کشف الرحمٰن سکون کی نیند سو رہا تھا، بے خبر اس حقیقت سے کہ قریب ہی کمانڈر زید اپنی ٹیم کے ساتھ اس کے تعاقب میں بڑھ رہا ہے۔
°°°°°°°°°°
زافیر جھاڑی کی اوٹ میں ساکت بیٹھا ہوا تھا۔ اس کی نظریں اندھیرے کو چیرتی ہوئی جیپ پر جمی تھیں جو ہلکی سی گڑگڑاہٹ کے ساتھ قریب سے گزرتی جارہی تھی۔ لمحہ بھر کے لیے اسے اطمینان ہوا کہ شاید یہ لوگ دوسری سمت نکل جائیں گے مگر اچانک جیپ رک گئی۔ زافیر کے دل کی دھڑکن لمحہ بھر کو تھم سی گئی۔ ایسا لگا جیسے ڈرائیور کی نظریں سیدھی اسی مٹی کے ڈھیر پر جا ٹکی ہوں جو ابھی کچھ دیر پہلے اس نے عجلت میں برابر کیا تھا۔
جیپ نے آہستگی سے رخ بدلا اور ہلکا سا پیچھے ہو کر سیدھی مٹی کے ڈھیر کی طرف بڑھنے لگی۔ انجن کی آواز دھیرے دھیرے قریب آتی محسوس ہورہی تھی۔ چند ہی لمحوں بعد گاڑی بالکل سامنے رک گئی۔
دروازے کھلے اور تین بلوچ جنگجو باہر اترے۔ وہ اپنے روایتی لباس میں تھے، لیکن ان کی آنکھوں کی سختی اور حرکات میں چھپے خطرے نے ماحول کو مزید بوجھل کر دیا تھا۔ ہر ایک کے ہاتھ میں کلاشنکوف تھی اور سینے پر بندھی جیکٹ میں اضافی میگزین اور چمکتے دھات کے گرینیڈ جھول رہے تھے۔ چاندنی کی ہلکی روشنی ان گرینیڈز پر پڑ کر خوف کو کئی گنا بڑھا رہی تھی۔
وہ محتاط قدموں سے مٹی کے ڈھیر کی سمت بڑھنے لگے۔ ان کے چہروں پر شک اور آنکھوں میں چمک صاف دکھائی دے رہی تھی۔ وقفے وقفے سے وہ گرد و پیش پر نظریں دوڑاتے، جھاڑیوں میں گھور کر دیکھتے، جیسے انہیں یقین ہو کہ یہ سب ایک جال بھی ہوسکتا ہے۔
زافیر اپنے دل کی دھڑکن تک دبائے بیٹھا تھا۔ اس کی نظریں ایک پل کے لیے بھی ان سے ہٹ نہیں سکیں۔ اگر لڑائی ناگزیر ہوئی تو اس کے پاس زیادہ سے زیادہ دس سیکنڈ ہوں گے کہ تینوں کو خاموش کر دے۔ کلاشنکوف کی گولیاں اس کے لیے مسئلہ نہیں تھیں کیونکہ اُکا دُکا گولی کو اس علاقے میں نظر انداز کر دیا جاتا تھا۔ مگر ان کی جیکٹ پر بندھے گرینیڈ اصل خطرہ تھے۔ ایک غلط لمحہ، ایک بے قابو ہاتھ اگر پِن کھینچ دیتا… چاہے دشمن نے اسے دور ہی کیوں نہ پھینکا ہو… تو دھماکے کی آواز، ایان کے بنگلے تک پہنچنے کے امکان موجود تھے۔
اندھیری رات میں یہ کشمکش اور بڑھ گئی تھی۔ زافیر کے لیے لمحہ لمحہ قیمتی تھا، فیصلہ کن تھا۔
اب تینوں بلوچ مٹی کے گڑھے کے گرد کھڑے اطراف کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے تھے۔ زافیر ابھی تک جھاڑی کے اندر اپنی سانسوں کو قابو میں رکھے، دبکا ہوا تھا۔
کچھ لمحے کی خاموشی کے بعد ایک بلوچ نے بندوق کا اگلا سرا ہلکا سا جنبش دیتے ہوئے اشارہ کیا۔ دوسرے نے کندھے سے کلاشنکوف اتاری اور مٹی کے ڈھیر پر رکھ کر گڑھے میں اتر گیا۔ وہ جھک کر ہاتھ پھیلاتے ہوئے مٹی کی سختی کو پرکھنے لگا۔
خشک اور پتھریلی زمین کی وجہ سے یہ اندازہ لگانا آسان نہیں تھا کہ یہ گڑھا کب کھودا گیا تھا۔ لیکن جیسے ہی اس نے مٹی اپنی انگلیوں میں رگڑی، اس کے چہرے پر شک کی ہلکی جھلک ابھری۔
اوئے! ای مٹی نرم اے… تازہ تازہ ڈالیا لگے…” وہ پنجگوری لہجے میں بولا۔”
!…اب وہ جنگجو، جھک کر ہاتھوں سے مٹی ہٹانے لگا تھا۔ “واہہ… یہ کام ایں بندے کا ہوسے… کوئی چیز دفن کردی اے”
،تیسرا جو اوپر کھڑا تھا، اس نے گرد و نواح میں نظریں دوڑائیں اور دھیمی آواز میں بولا
“…چُپ ہلو… آواز باہر نِکلے نہ… ہوسے کوئی ہم پر نظر رکھے بیٹھے”
اب گڑھے کے اندر موجود بلوچ دونوں ہاتھوں سے مٹی ہٹا رہا تھا۔ مٹی کی پرتیں ایک کے بعد ایک ہٹتی جا رہی تھیں۔
زافیر کے لیے یہ لمحے بھاری ہوتے جا رہے تھے۔ وہ گہری نظروں سے ان کی حرکات دیکھ رہا تھا۔ اسے اچھی طرح احساس تھا کہ اگر ذرا بھی تاخیر ہوئی تو نتیجہ مہلک ہوسکتا ہے۔
…زافیر کے ذہن میں لمحہ بہ لمحہ حکمتِ عملی بدل رہی تھی۔ اب اسے فیصلہ کرنا تھا
کب اور کس ترتیب سے حملہ کیا جائے کہ نہ گولی چلے اور نہ گرینیڈ پھینکے جا سکیں۔
اندھیری رات اور دبے قدموں کی خاموشی میں، صرف ایک فیصلہ اس کے اور خطرے کے درمیان حائل تھا۔
زافیر جھاڑی سے بلی کی مانند سست اور محتاط انداز میں نکلا۔ اندھیرے کا سایہ اس کے لیے ڈھال بن چکا تھا۔ وہ دبے قدموں سے رینگتا ہوا ایک بلوچ کے اتنا قریب پہنچ گیا کہ اس کی سانس تک محسوس کر سکتا تھا۔
اس نے سکون کے ساتھ بیلٹ سے نیام کھولا اور دو دھاری خنجر نکالا۔ اگلے ہی پل اس کا بازو بجلی کی طرح حرکت میں آیا، ہوا میں خنجر برق رفتاری سے پھینکا۔ خنجر تھوڑی دوری والے ہدف کے کان کو چیرتا ہوا سیدھا دماغ میں پیوست ہوگیا۔ پہلا دشمن وہیں گرا، ہلنے کی بھی مہلت نہیں ملی۔
دوسرا دشمن ابھی چونکنے ہی والا تھا کہ زافیر نے لمحہ ضائع کیے بغیر، پیچھے سے اس کی گردن جکڑ کر ایک جھٹکا دیا۔ ہڈیوں کے ٹوٹنے کی مدھم مگر خالی جنگل میں واضح آواز گونجی۔ دوسرا بھی بے آواز ڈھیر ہوگیا۔
اب گڑھے کے اندر صرف اکیلا بلوچ دشمن ہی باقی بچا تھا، جو ابھی تک مٹی ہٹانے میں ہی مست تھا۔ زافیر آندھی کی طرح جھپٹا اور ایک ہی چھلانگ میں گڑھے میں اتر آیا۔ دشمن کے ردِعمل سے پہلے ہی زافیر نے اس کے دونوں بازو جکڑ لیے اور زبردستی اسے مٹی کے ڈھیر کے ساتھ پٹخ دیا۔
وہ گھبرا کر کچھ کہنے ہی والا تھا مگر زافیر کے ہونٹ خونخوار مسکراہٹ کے ساتھ کھل گئے۔ اگلے ہی لمحے اس کے دانت گردن میں پیوست تھے۔ ایک جھٹکے سے گوشت کا بڑا ٹکڑا نوچ کر تھوک دیا۔ خون کا فوارہ پھوٹا اور دشمن تڑپنے لگا لیکن زافیر نے لب دوبارہ اس کے گلے پر جما دیے۔ ہر قطرہ اس کے جسم میں داخل ہو رہا تھا اور اس کے ساتھ ہی اس کی قوت اور حواس تیز تر ہوتے جا رہے تھے۔
کچھ ہی دیر میں وہ بے جان ہوگیا۔ زافیر نے لاش کو ایک طرف پھینکا، چہرہ سرخ تھا مگر آنکھیں اور زیادہ شعلہ بار۔ وہ جھاڑیوں کی طرف بڑھا، کدالیں اٹھائیں اور ایک بار پھر زمین کھودنے میں مصروف ہوگیا۔ لمحوں میں تینوں پیٹیاں صاف ہو چکی تھیں۔ اب وہاں کا ماحول ایسا تھا، جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔
°°°°°°°°°°
کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ زافیر کو ایک بار پھر قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ اس نے فوراً جھاڑی کے پیچھے پناہ لی۔ دل ہی دل میں سوچا، اگر یہ ایان کی گشت کرنے والی ٹیم نکلی تو آج کی ساری محنت برباد ہو جائے گی۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ہار طے تھی۔
وہ بے صبری سے سانس روکے انتظار کرتا رہا۔ آہٹ قریب آتی گئی۔ پہلے چار ہیولے نظر آئے، پھر دو، پھر ایک اور پھر اچانک کئی قدموں کی ہلکی آوازیں مل کر گونجنے لگیں۔ زافیر کی آنکھوں میں ایک چمک لہرائی… یہ اس کی اپنی ٹیم تھی۔
سپاہیوں نے جیپ کھڑی دیکھی تو یہی سمجھے کہ شاید زافیر بذاتِ خود اسے یہاں لایا ہے، لیکن جب وہ اس کے پاس پہنچے اور تین بلوچوں کی لاشیں دیکھیں تو حقیقت واضح ہوگئی۔ لمحے بھر کے لیے سب کی نظریں خون آلود زمین اور زافیر کے چہرے پر جمی رہیں۔ کسی کو وضاحت کی ضرورت نہیں تھی۔ سب سمجھ گئے کہ یہاں رکے رہنا خطرناک ہے۔ اگر یہ تین سپاہی آئے تھے تو جلد ہی کوئی اور ٹیم بھی پہنچ سکتی ہے۔
زافیر نے ایک مختصر اشارہ کیا۔ دو جوان فوراً آگے بڑھے اور پیٹیوں کے تالے توڑ کر ڈھکن اٹھا دیے۔ اندر سے ہتھیاروں کی جھلک روشنی کی مانند پھوٹی۔ چھ عدد راکٹ لانچر، بے شمار بندوقیں، بلٹ پروف جیکٹیں، اضافی میگزین والے بیلٹ اور گرینیڈوں سے بھرے، پٹے موجود تھے۔
فوراً سب نے سامان سنبھالنا شروع کر دیا۔ ایک نے جیکٹ پہنی، دوسرے نے اپنی پسند کی بندوق اٹھائی۔ کسی نے کمر پر میگزین کا بیلٹ باندھا تو کسی نے گرینیڈوں کا پٹا گردن کے گرد ڈال کر کندھے سے لٹکا لیا۔ چھ مضبوط جوانوں نے راکٹ لانچر اٹھا لیے۔ ان میں سے ہر ایک میں ایک راکٹ تھا اور ہر راکٹ کا مقصد ایان کے بنگلے کی چار دیواری کو توڑ کر راستہ ہموار کرنا تھا۔
،سب تیار ہو چکے تھے۔ زافیر نے جیب سے موبائل نکالا اور کمانڈر زید کو ایک مختصر میسج بھیج دیا
“روانگی… منزل:ایان کا بنگلہ۔”
دو سپاہیوں کو پیچھے چھوڑ دیا گیا تاکہ اگر ایان کی کوئی ٹیم یہاں پہنچے تو ان کا فوری صفایا کر سکیں۔ باقی سب، ہتھیاروں کے بوجھ اور دلوں میں بڑھتے جوش کے ساتھ، خاموشی سے ایان کے بنگلے کی طرف روانہ ہو گئے۔
ہر قدم پر زمین کی خشک رگڑ سنائی دے رہی تھی لیکن بڑھتے قدموں کے ساتھ، دلوں کی دھڑکنیں ان آوازوں سے بھی تیز ہوتی جارہی تھیں۔
…اندھیرا ان کا ساتھی تھا اور ہتھیار ان کی زبان
…فتح یا شکست
…زندگی یا موت
…اب فیصلہ قریب تھا
°°°°°°°°°°
…جاری ہے
