ناول درندہ

قسط نمبر 25

باب سوّم: شبکہ

مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°


:ایان کے بنگلے کا محاصرہ
رات کی تاریکی کا غلبہ کمزور پڑ رہا تھا اور افق پر تاریکی کی سیاہی ہلکی سی سرمئی روشنی میں ڈھلنے لگی تھی۔ ہوا بوجھل اور خاموش تھی جیسے پہاڑ بھی آنے والی ہولناکی کو محسوس کر رہے ہوں۔ زمین پر شبنم کی نمی جم چکی تھی، ہر جھاڑی اور گھاس کی نوک پر قطرے لٹک رہے تھے۔ یہ لمحے گہرے سکوت کے تھے لیکن اس خاموشی میں ایک بھی حرکت پوری جنگ کو بھڑکا سکتی تھی۔

زافیر کی ٹیم کل پچاس سپاہیوں پر مشتمل تھی۔ دو سپاہیوں کو دشمن جیپ کے پاس پہرے پر چھوڑ دیا گیا تھا، جبکہ چار ماہر سنائپرز کو بنگلے کے سامنے والے پہاڑ پر ایمرجنسی سپورٹ کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔ باقی چوالیس جوان خاموشی کے ساتھ ہدف کی طرف رینگ رہے تھے۔

زافیر خود اپنے آٹھ سپاہیوں کے ساتھ بنگلے کی فرنٹ دیوار کے عین سامنے، پچاس فٹ کے فاصلے پر دبکا بیٹھا تھا۔ گھاس اور پتھروں کی اوٹ نے ان کے وجود کو یوں چھپا رکھا تھا کہ وہ اندھیروں میں سایوں کی مانند لگ رہے تھے۔ بس ان کی بھاری سانسوں کی آواز اور بندوقوں کی دھات سے نکلتی مدھم سی روشنی ان کی موجودگی کا پتا دیتی تھی۔

بنگلے کے باقی تین اطراف میں بارہ، بارہ سپاہی گھات لگائے بیٹھے تھے۔ آنکھیں ساکت، انگلیاں ٹریگر پر جمائے، آخری اشارے کے منتظر تھے۔ فضا میں ایک عجیب سا جمود طاری تھا۔ صرف ہوا کے جھونکے کبھی کبھار پتوں کو ہلاتے تو ایسا لگتا جیسے اندھیروں میں کوئی چلتا پھرتا سایہ ان کے قریب سے گزر گیا ہو۔

بنگلے کے اندر موت کی خاموشی چھائی ہوئی تھی… اور باہر زافیر کے سپاہی، اپنے ہتھیاروں سمیت کسی طوفان کی طرح پھٹ پڑنے کو تیار بیٹھے تھے۔

منصوبہ طے تھا۔ زافیر کی ٹیم کے تین راکٹ لانچر، سب سے پہلے گرجنے والے تھے اور دیوار کو توڑنے والے تھے۔ جیسے ہی سامنے والی دیوار ٹوٹے گی، بنگلے میں بھگدڑ مچ جائے گی۔ اسی شور کے ساتھ باقی تین اطراف سے بھی راکٹ دیواروں کو نشانہ بنائیں گے۔ ہدف ایک ہی تھا، وہاں وار کرنا جہاں پہرے داروں کی چوکی موجود ہو۔ ہر ضرب کا مطلب تھا، دیوار میں ایک دراڑ… اور ہر دراڑ کا مطلب تھا، بنگلے میں داخلے کی راہ کھلنا۔

ہوا میں ایک تناؤ پھیلا ہوا تھا۔ زمین پر بیٹھے سبھی سپاہیوں کے ہاتھ مضبوطی کے ساتھ، اپنی بندوقوں پر جمے ہوئے تھے۔ کچھ اپنے لبوں کو بار بار زبان سے تر کر رہے تھے۔ کچھ بے اختیار مٹی کو مٹھی میں دبا رہے تھے۔ کسی کے دل کی دھڑکن اتنی تیز تھی کہ یوں لگ رہا تھا جیسے خاموش میدان میں بھی ان کی آواز گونجے گی۔

زافیر کی نظریں مسلسل موبائل پر جمی تھیں۔ کمانڈر زید کا میسج کسی بھی لمحے آ سکتا تھا۔ زافیر نے آسمان کی طرف نظر دوڑائی۔ افق پر ہلکی سی سفید لکیر کھنچنے لگی تھی… یہ وہ لمحہ تھا جہاں رات اور دن کے بیچ جنگ کا پردہ اٹھنے والا تھا۔
اب صرف ایک پیغام اور پھر موت کا رقص شروع ہونے کو تھا۔

°°°°°°°°°°

:مجید بریگیڈ کا محاصرہ
دوسری سمت، کیپٹن محمود بدری اپنی آہنی سنجیدگی کے ساتھ گھات لگائے بیٹھا تھا۔ ہوا ساکن تھی مگر اس خاموشی میں بھی آنے والی ہلاکتوں کی بو پھیلی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ تین پہاڑوں کے دامن میں ٹوٹے پھوٹے کھنڈر نما مکان بکھرے تھے، جن کے درمیان عارضی کیمپ دھندلی روشنی میں دھڑکتی سانسوں کی مانند دکھائی دے رہے تھے۔ یہ وہ مقام تھا جہاں زندگی اور موت کا فیصلہ ہونا تھا۔

محمود کے سپاہی پہاڑوں کی ڈھلوانوں پر بکھرے بیٹھے تھے۔ کسی نے پتھر کی اوٹ پکڑی تھی، کوئی خشک جھاڑی کے پیچھے دبکا تھا۔ ہر ایک کا چہرہ تناؤ سے بھرا ہوا تھا لیکن آنکھوں میں فولادی عزم جھلک رہا تھا۔ بس اک اشارے کے منتظر اور دشمن پر حملہ کرنے کو تیار… یہ خاموش جنگجو اپنی سانسیں تک قابو میں رکھے بیٹھے تھے تاکہ ان کا وجود دشمن کو محسوس نہ ہو۔

ہر پہاڑ کی چوٹی پر پانچ پانچ ماہر نشانہ باز تعینات تھے۔ ان کے پاس صرف ہتھیار نہیں بلکہ پورے منظر کا کنٹرول تھا۔ ان کی بندوقوں کی نالیں اندھیرے میں چمک رہی تھیں اور آنکھوں میں لطف کی لہر تھی۔ ایسی لہر جو صرف اس شخص کی آنکھوں میں ابھرتی ہے جو فاصلے پر بیٹھے دشمن کی سانس روکنے کا ہنر جانتا ہو۔ انہیں واضح ہدایت تھی کہ وہ صرف آخری اشارے پر حرکت میں آئیں گے۔ وہ جنگ کے اس میدان میں آخری اور فیصلہ کن لکیریں کھینچنے والے ہاتھ تھے۔

میدانِ جنگ اپنی ترتیب پا چکا تھا۔ تینوں ٹیمیں پینتالیس پینتالیس سپاہیوں پر مشتمل تھیں اور ہر سپاہی اپنی بندوق کے ساتھ موت کی مانند خاموش تھا۔ کیپٹن محمود جانتا تھا کہ اگر خدانخواستہ مجید بریگیڈ کے جنگجو اپنی وحشت کے ساتھ غالب آ گئے تو یہ پہاڑوں پر بیٹھے سنائپرز ہی وہ آخری پردہ ہٹائیں گے جو شکست اور فتح کے بیچ کھڑا ہے۔

اب سب کچھ تھم سا گیا تھا۔ زمین کی نمی، ہوا کی ٹھنڈک، اندھیرے کا بوجھ اور ہر دل کی تیز دھڑکن… سب ایک ہی چیز کا انتظار کر رہے تھے… وہ آخری اشارہ جو صبح کی پرسکون خاموشی کو دردناک چیخوں میں بدل دے گا۔

°°°°°°°°°°


:بی ایل ایف مرکزی کیمپ
یہ کیمپ باقی دونوں اہداف کی نسبت زیادہ مضبوط اور گھمبیر تھا۔ چاروں اطراف سے حملہ یہاں ممکن ہی نہیں تھا۔ اسی لیے کمانڈر زید نے فیصلہ کیا تھا کہ یہ سب سے خطرناک ذمہ داری وہ خود اٹھائے گا۔ اس نے اپنی فورس کو دو گروپوں میں بانٹا، ہر گروپ ایک سو تیس سپاہیوں پر مشتمل تھا اور دونوں پہاڑوں کے عقب سے خاموشی کے ساتھ چڑھائی شروع کی۔

ہر قدم نہایت احتیاط سے رکھا جا رہا تھا۔ ہوا بظاہر ساکن تھی مگر اس ساکت فضا میں نمی اور بارود کی پرچھائیاں گھلتی محسوس ہو رہی تھیں۔ جب وہ پہاڑی کی چوٹی پر پہنچے تو ان کی آنکھوں کے سامنے پرانے مورچے ابھر آئے۔ یہ مورچے، جن پر کبھی زندگی اور پہرہ ہوا کرتا تھا، اب ٹوٹے پھوٹے پتھروں اور اجڑے کھنڈروں کے سوا کچھ نہیں تھے۔

کمانڈر زید نے ہاتھ کے اشارے سے اپنے سپاہیوں کو روک کر سرگوشی نما لہجے میں حکم دیا کہ ہر مورچے کی تسلی سے تلاشی لو۔ خود بھی اس نے تجربہ کار نگاہوں سے انہیں جانچنا شروع کر دیا۔ دوسری پہاڑی پر بھی یہی عمل دہرا گیا۔ وہاں بھی پرانے مورچے سنّاٹے کے بوجھ تلے دبے پڑے تھے۔

جب ہر طرف کی تلاشی مکمل ہوگئی اور کچھ نہ ملا، تو بیس بیس نشانہ باز دونوں چوٹیوں پر تعینات کر دیے گئے۔ باقی سپاہی آہستگی اور ہوشیاری کے ساتھ نیچے اترنے لگے۔ ان کے دل مطمئن تھے کہ بلندی اب محفوظ ہے۔ لیکن پہاڑوں اور جنگلوں کی تاریک راتیں اکثر انسان کی تسلی کو دھوکہ دیتی ہیں۔

°°°°°°°°°°


سبھی سنائپرز پہاڑی کی چوٹی پر اپنی اپنی پوزیشن سنبھال چکے تھے۔ وہ الٹے لیٹے ہوئے تھے، جسم زمین کے ساتھ چپکا ہوا، سانسیں دبکی ہوئی اور ایک آنکھ ×5 اسکوپ پر جمی ہوئی۔ ان کی انگلیاں ٹریگر پر تھیں اور نگاہیں باریک بینی سے بی ایل ایف کے ٹھکانے کا جائزہ لے رہی تھیں۔

وہ حیران تھے، ایسی بڑی اور منظم تنظیم کے کیمپ میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ کوئی پہرہ دار، کوئی نگرانی کرنے والا سپاہی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ مکانوں کی ٹوٹی پھوٹی چھتیں، شکستہ دیواریں اور سنسان میدان جیسے برسوں سے اجڑا ہوا ہو۔ اس کے باوجود سنائپرز کی نظریں مسلسل ان دیواروں اور دراڑوں پر جمی رہیں۔ ہر سایہ، ہر ہلکی جنبش انہیں مشتبہ لگ رہی تھی۔

مورچوں کی تلاشی کے دوران بھی کوئی ایسی چیز ہاتھ نہیں لگی جس سے وہاں دشمن کی موجودگی کا احساس ہو پاتا۔ زمین پر نہ ہی قدموں کے نشان تھے، نہ ہی آگ کے بجھنے کے کوئی تازہ آثار۔ سب کچھ اس قدر صاف تھا کہ جیسے وہاں برسوں سے کوئی نہیں آیا۔

حقیقت یہ تھی کہ یہ خاموشی محض ایک چال تھی۔ جب زید اور اس کی ٹیم پہاڑ کی چوٹی کی طرف بڑھ رہے تھے، تب ہی بی ایل ایف کے پہرے دار جنگجو ان پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ وہ سایوں کی طرح جھاڑیوں میں گھلے ملے تھے۔ ان کے لباس جھاڑیوں اور پتھروں کی شباہت پر اس طرح ڈھلے تھے کہ گویا وہ زمین کا ہی حصہ ہوں۔ معمولی جنبش بھی انہیں ظاہر کر سکتی تھی لیکن وہ سانس روک کر شکار کی تاک میں بیٹھے تھے۔

خطرہ محسوس ہوتے ہی ان جنگجوؤں نے نیچے کیمپ کو اطلاع دے دی تھی۔ لمحوں میں کشف الرحمٰن بلوچ تک خبر پہنچ گئی۔ اس نے فوراً اپنے ساتھیوں کو محتاط کر دیا اور کیمپ کی تمام تیاری بدل ڈالی۔ اب جو منظر سنائپرز اپنی دوربینوں میں دیکھ رہے تھے، وہ محض ایک سراب تھا۔ ایک دھوکہ… آنکھوں کا دھوکہ، جس کے پیچھے ایک ایسا جال بچھایا جا چکا تھا جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔

ایک جھاڑی میں ہلکی سی جنبش ہوئی۔ جیسے زمین کی ساکت خاموشی اچانک ٹوٹ گئی ہو۔ گھاس کی اوٹ سے ایک جنگجو سرک کر باہر نکلا، اس کے ہاتھ میں چمکتا ہوا خنجر تھا۔ وہ بلی کی طرح دبے قدموں آگے بڑھا، اس کے قدم اتنے ہلکے تھے کہ خشک پتوں نے بھی آہ نہیں بھری۔

پھر ایک کے بعد ایک جھاڑیاں ہلنے لگیں۔ سایوں کی مانند کئی جنگجو زمین سے ابھرنے لگے۔ ان کے قدموں میں ایسی مہارت اور ہم آہنگی تھی کہ گویا سب ایک ہی جسم کے ٹکڑے ہوں۔ وہ دھیرے دھیرے سنائپرز کی طرف بڑھ رہے تھے، جیسے موت کی آہٹ دبے قدموں رینگ رہی ہو۔

سنائپرز اپنی دوربینوں میں کیمپ پر نظر جمائے ہوئے تھے۔ انہیں صرف باریک ہوا کی لہر اور پتیوں کی سرسراہٹ سنائی دے رہی تھی مگر وہ اس سرگوشی میں چھپی بھیانک سچائی کو نہیں سمجھ پائے۔ ان کی نگاہیں آگے جمی تھیں جبکہ موت پیچھے سے قریب آرہی تھی۔

جب حملہ آور صرف چند قدم کے فاصلے پر رہ گئے تو اچانک ایک سپاہی کو وہم ہوا… جیسے کسی نے گردن پر سانس لیا ہو۔ وہ تیزی سے پلٹا مگر دیر ہو چکی تھی۔ ایک خنجر اس کی گردن کو چیر گیا۔ خون کا فوارہ اندھیرے میں ابل پڑا۔ باقی سنائپرز بھی چونک کر سنبھلنے کی کوشش کرنے لگے لیکن موت کا وار ان سے کہیں تیز تھا۔

ایک کے پیٹ میں خنجر پیوست ہوگیا، دوسرا چیخنے سے پہلے ہی گلا کٹنے سے خاموش ہوگیا۔ کسی کی آنکھ میں چھرا گھونپ دیا گیا، تو کسی کی ریڑھ کی ہڈی پر وار کیا گیا۔ چیخنے، تڑپنے یا مزاحمت کرنے کا موقع کسی کو نہیں ملا۔

یہ حملہ اس قدر تیز، خاموش اور منظم تھا کہ دونوں پہاڑوں پر موجود سبھی سنائپرز چند ہی لمحوں میں زمین پر ڈھیر ہوگئے۔ اندھیری رات کی خاموشی دوبارہ لوٹ آئی، مگر اب اس خاموشی میں خون کی باس اور موت کی لرزہ خیز موجودگی شامل ہو چکی تھی۔

کمانڈر زید کے کان میں ایئر پیس اٹکا ہوا تھا جو پہاڑ کی چوٹی پر تعینات سبھی سنائپرز سے جڑا ہوا تھا۔ ساتھ ہی دوسرے پہاڑ پر موجود ٹیم لیڈر کے ساتھ بھی اس کا رابطہ قائم تھا۔ یہ ربط ان کے لیے آنکھوں اور کانوں کی طرح تھا، لیکن اندھیری رات کے بوجھ تلے یہ ربط اب ایک خوفناک راز کو اپنے اندر سمیٹے بیٹھا تھا۔

زید کی قیادت میں سبھی سپاہی محتاط انداز میں ڈھلوان اتر رہے تھے۔ وہ ابھی پہاڑی کے درمیانی حصے تک ہی پہنچے تھے کہ اچانک ایئر پیس پر ایک مدھم شور ابھرا۔ پہلے خفیف سا، پھر گھٹی گھٹی سی چیخوں میں بدل گیا۔ کسی سپاہی کی لرزتی، کانپتی اور دم توڑتی آواز سنائی دی،
“ح… ح… حم… حملہ… چ… چا… چال…”

آواز کٹی، کانپتی ہوئی ٹوٹتی گئی… اور پھر یکدم خاموشی چھا گئی۔ صرف چند پل بعد، اوپر پہاڑ سے بھاری قدموں کی دوڑنے کی آوازیں گونجنے لگیں۔ وہ آوازیں ایسی تھیں جیسے زمین خود لرز رہی ہو۔

زید کو گڑبڑ کا احساس ہوچکا تھا۔ لمحے بھر میں اس نے سچائی کو پا لیا… وہ سب ایک گہری چال میں پھنس چکے تھے۔ جو ویران مورچے انہوں نے دیکھے تھے، وہ محض ایک جال تھے۔

،وہ غصے اور گھبراہٹ کے ملے جلے انداز میں چیخ اٹھا
“!جھاڑیوں میں چھپ جاؤ! پتھروں کے پیچھے ہو جاؤ… اوپر سے حملہ ہونے والا ہے”

اس کی آواز گونجی تو سبھی سپاہیوں پر جیسے بجلی گری۔ بوکھلاہٹ کے عالم میں وہ تیزی سے جھاڑیوں اور پتھروں کی اوٹ میں لپکنے لگے۔ ہر ایک کے قدموں میں جلدی تھی۔

یکدم اندھیرا چیخ اٹھا۔ لمحہ بھر پہلے کا سکوت، پلک جھپکتے ہی موت کی بارش میں بدل گیا۔ چوٹی سے گولیوں کی ایسی بوچھاڑ ہوئی جیسے آسمان پھٹ گیا ہو۔ پہاڑوں نے دہاڑ کر گولیوں کی آواز کو کئی گنا بڑھا دیا۔ دھماکوں کی گونج نے اردگرد کی فضا کو لرزا ڈالا۔ سپاہیوں کے پناہ لینے سے پہلے ہی گولیاں کی بوچھاڑ نے خاموش فضا کو چیر دیا تھا۔ بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے انہیں وقت مل رہا تھا لیکن سر پر لگنے والی گولیاں، اکثر سپاہیوں کو موت کے گھاٹ اتار گئیں۔ کئی سپاہیوں کو بازوؤں اور ٹانگوں میں گولیاں لگیں اور وہ شدید زخمی ہوگئے۔

فائرنگ کی تیز چمک نے اندھیرے کو چاک کر دیا تھا۔ سپاہی زمین سے لپٹ گئے، کوئی پتھروں کے پیچھے دبکا، کوئی جھاڑیوں میں گھس گیا۔ گولیاں سر کے اوپر سے موت کے گیت گاتے ہوئے گزر رہی تھیں۔

،کمانڈر زید نے فوری طور پر موبائل نکالا۔ ہاتھوں کی لرزش اور گولیوں کی کڑکڑاہٹ کے بیچ اس نے پیغام ٹائپ کیا
“Attack Immediately”
اور لمحہ ضائع کیے بغیر وہ میسج بھیج دیا۔

اب صورتحال بدل چکی تھی۔ بہترین منصوبہ بندی کے باوجود، جنگی میدان میں ہلکی سی تبدیلی نے جنگ کا مکمل رخ بدل کر رکھ دیا تھا۔ پہاڑوں کی چوٹیوں سے موت برس رہی تھی اور نیچے بی ایل ایف کا ٹھکانہ بھی متحرک ہو گیا تھا۔ وہاں سے بھی ہر سمت سے مسلح جنگجو نکل آئے تھے۔ جو منصوبہ چند لمحے پہلے ایک منظم حملہ لگ رہا تھا، اب ایک ایسے طوفان میں بدل گیا تھا جہاں ہر لمحہ قاتل تھا۔ ہر سانس زندگی اور موت کے بیچ معلق۔
یہ حملہ زید کی توقع سے کہیں زیادہ ہولناک ثابت ہو رہا تھا۔ پہاڑ، جھاڑیاں، پتھر، سب میدانِ جنگ کے گواہ بن گئے تھے۔

°°°°°°°°°°

:آخری پیغام اور ایان کا بنگلہ
ایان کے بنگلے اور بی ایل ایف کے ٹھکانے کے درمیان لگ بھگ ساڑھے پانچ کلو میٹر کا فاصلہ تھا۔
ابھی رات کا اندھیرا قائم تھا مگر فضا میں ایک ہلکی نمی اور خاموش تناؤ پھیلا ہوا تھا۔ جیسے ہوا بھی سانس روک کر کسی طوفان کی منتظر ہو۔

اچانک فائرنگ کی لرزہ خیز آواز فضا میں گونجی۔ یہ آواز سیدھی پہاڑوں سے ٹکرا کر میدان میں پھیل گئی۔ زافیر کے کانوں تک بھی پہنچی اور بنگلے کے پہرے دار بھی چونک اٹھے۔ آواز ایسی تھی جیسے سینے کے اندر دھماکہ ہو گیا ہو۔

زافیر کا دل بے قابو دھڑکنے لگا۔ یہ منصوبے کا حصہ نہیں تھا۔ ماتھے پر پسینہ چمکنے لگا۔ اس نے ایک لمحے کے لیے اندھیرے میں اپنی ٹیم کے چہروں کو دیکھا، سب کے تاثرات میں بے صبری اور خوف کے بجائے ایک سُلگتی چنگاری تھی۔ ایسی چنگاری جو سب کچھ جلا دینے کی خواہشمند تھی۔

،بمشکل دس سیکنڈ گزرے ہوں گے کہ زید کا پیغام موبائل پر نمودار ہوا
“Attack Immediately”

یہ الفاظ جیسے بجلی بن کر زافیر کے اعصاب میں دوڑ گئے۔ اس نے وقت ضائع کیے بغیر ہاتھ کا اشارہ دیا۔ راکٹ لانچر اٹھائے، چھ جوان فوراً آگے بڑھے۔ ان کے قدموں کی چاپ نرم زمین پر دب گئی، مگر جوش اور جنون کی شدت ان کی سانسوں میں سنائی دے رہی تھی۔

ایان اپنے بنگلے کے اندر پرسکون نیند کے مزے لے رہا تھا۔ کمرے میں نیم تاریکی اور خاموشی چھائی ہوئی تھی، صرف گھڑی کی ٹک ٹک وقت کی بے رحمی کا احساس دلا رہی تھی۔ باہر پہرے دار اپنی چوکیوں پر پہرہ دے رہے تھے۔

دور پہاڑوں کی سمت سے فائرنگ کی کڑک دار آواز ہوا کو چیرتی ہوئی ان کے کانوں تک پہنچی تھی۔ وہ چونک کر سیدھے کھڑے ہو گئے، وہ پہاڑوں میں گونجتی گولیوں کی آواز کی صحیح سمت کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔

پہرے داروں نے اپنی بندوقوں کی پٹیاں کس لیں، انگلیاں ٹریگر کے قریب لا کر چوکس ہو گئے۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ وہ اب بھی صورتحال کی اصل شدت کو نہیں سمجھ پائے تھے۔ ان کے دلوں میں ہلکی سی بے چینی ضرور جاگ اٹھی تھی مگر ابھی تک یہ خبر ایان کے کمرے تک نہیں پہنچی تھی۔ وہ اب بھی اپنی نرم خواب گاہ میں سکون کی نیند سو رہا تھا جیسے طوفان کی آہٹ سے بے خبر کوئی مسافر کھائی کے کنارے خواب دیکھ رہا ہو۔

زافیر کے قریبی سپاہی، سامنے کی تینوں چوکیوں کی طرف رخ کرتے ہوئے، گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے۔ لمحہ بھر کو فضا بالکل ساکت ہوگئی۔ پھر اگلے ہی پل، آگ اور دھماکوں کا جہنم برپا ہو گیا۔

پہلا راکٹ تاریکی کو چیرتا ہوا چیخ مار کر آگے بڑھا اور چوکی سے ٹکرایا۔ دھماکے کی گونج اتنی شدید تھی کہ زمین ہل گئی۔ لمحے بھر بعد دوسرا اور تیسرا راکٹ بھی فضا کو چیرتے ہوئے اپنے ہدف پر جا لگا۔

چوکیوں کی دیواریں شعلوں اور ملبے کے بادل میں غائب ہو گئیں۔ پتھروں اور اینٹوں کے ٹکڑے بارش کی طرح زمین پر برسنے لگے۔ پہرے دار چیخوں کے ساتھ ادھر ادھر بھاگے مگر دھوئیں اور آگ نے سب کچھ اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

زافیر نے ایک گہری سانس لی۔ جنگ کا خونی کھیل اب شروع ہو چکا تھا۔

ایان کے بنگلے کے باہر بارود کے یکے بعد دیگرے دھماکوں نے رات کی خاموشی کو اس طرح چیر ڈالا جیسے آسمان زمین پر گر پڑا ہو۔ بنگلے کی کھڑکیاں زور سے لرزیں، چھت کے پنکھے کانپنے لگے اور گرد و غبار کمرے میں اتر آیا۔ ایان ہڑبڑا کر بستر سے اٹھ بیٹھا تھا۔ اس کی سانسیں بے ربط اور تیز تھیں۔ فوراً ہی گھبراہٹ اور خوف سے چہرے پر پسینے کی ہلکی سی نمی ابھر آئی تھی۔

ایک لمحے کے لیے اس نے کان کھڑے کیے۔ چیخیں، دوڑتے قدموں کی آوازیں، فائرنگ اور ٹوٹتے پتھروں کی گونج… سب کچھ ایک ساتھ سنائی دے رہا تھا۔ اس کے دل کی دھڑکنیں کانوں میں بج رہی تھیں۔

ایان نے گھبراہٹ میں تیزی سے میز کی طرف ہاتھ بڑھایا اور لرزتے ہاتھوں سے موبائل اٹھا لیا۔ اس کی آنکھوں میں وہ خوف جھلک رہا تھا جو ایک باغی چور کو اس وقت آ گھیرتا ہے جب اسے یقین ہو جائے کہ اس کی موت دروازے پر ہے۔ وہ موت جو بے رحمی سے ہر چیز کو فنا کر دیتی ہے۔


ایان کے بنگلے کی چاردیواری پر، تین راکٹ پھٹنے سے لمحے بھر میں سامنے کی دیوار لرز چکی تھی اور چوکیوں کی اینٹیں ایسے ہوا میں بکھر گئیں تھیں جیسے کسی آندھی نے انہیں جڑ سے اکھاڑ دیا ہو۔ فضا بارود کی مہک اور اڑتی ہوئی دھول سے بھر چکی تھی۔ چوکیوں پر موجود پہرے داروں کو چیخنے کا بھی موقع نہیں ملا تھا۔ ان کے جسم دھماکے کے زور سے پھٹ کر چاروں طرف بکھر گئے تھے۔

ابھی بارود کی گونج تھمی بھی نہیں تھی کہ یکے بعد دیگرے باقی تینوں اطراف سے بھی آگ کے دہکتے گولے نکلے۔
تین راکٹ، تینوں اطراف، دیوار کے مختلف حصوں پر اس زور سے لگے تھے کہ پوری چاردیواری سمیت بنگلہ بھی ایک بار بنیادوں سے ہِل گیا۔ چاردیواری اور تباہ شدہ چوکیاں… شعلوں، اینٹوں اور خون آلود ٹکڑوں کی بارش میں بدل گئیں۔ ہر طرف اڑتی دھول نے باقی پہرہ داروں کے جیسے حواس ہی چھین لیے تھے۔ وہ اب اندھا دھند گولیاں برسا رہے تھے۔ نہ سمت کا تعین کر پارہے تھے اور نہ ہی دشمن کی صحیح جگہ کا اندازہ لگا پا رہے تھے۔ صرف برستی گولیوں کی تڑتڑاہٹ، خالی خول گرنے کی کھنک اور زخمیوں کی دبتی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔

بنگلے کے پہرے دار جو ابھی لمحہ بھر پہلے لاپرواہی سے کھڑے تھے۔ اب چیختے، بھاگتے اور سنبھلنے کی کوشش کرتے نظر آ رہے تھے۔ یہ حملہ کسی طوفان کی طرح اچانک اور کاری تھا۔ جس نے نہ صرف ایان کے مضبوط سمجھے جانے والے قلعے کو چند لمحوں میں کمزور بنا دیا تھا بلکہ ایان کے غرور کو بھی خاک میں ملا دیا تھا۔ وہ کمرے میں بیٹھا، بوکھلاہٹ اور گھبراہٹ میں، مدد کے لیے، کبھی عطا خان یار کو کال ملا رہا تھا اور کبھی کشف الرحمٰن سے رابطے کی کوشش کر رہا تھا۔ کال جارہی تھی، بیپ بج رہی تھی لیکن کوئی بھی اس کی کال نہیں اٹھا رہا تھا۔

°°°°°°°°°°


:مجید بریگیڈ پر حملہ
کیپٹن محمود بدری نے ایک راکٹ لانچر خود سنبھال رکھا تھا۔ جیسے ہی زید کا پیغام اس تک پہنچا تو اس نے ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر، ایک گھٹنا زمین پر ٹِکایا، راکٹ لانچر مضبوطی سے تھاما، رخ اپنے ہدف کی طرف کیا اور مجید بریگیڈ کے مرکزی کیمپ پر پہلا راکٹ داغ دیا، دھماکے کی لرزتی ہوئی گونج پہاڑوں سے ٹکرا کر واپس آئی تو فضا لرز اٹھی۔

ابھی دھماکے کی آگ کی لپک بجھی بھی نہیں تھی کہ اسی لمحے… دوسرا، پھر تیسرا اور یکے بعد دیگرے پانچ مزید راکٹ فضا کو چیرتے ہوئے گئے اور اپنے ٹھیک ہدف کو نشانہ بنا کر پھٹ گئے، ہر دھماکے کے ساتھ زمین ہلتی، پتھروں کے ٹکڑے ہوا میں اچھلتے اور انسانی چیخیں اندھیرے کو چیر کر نکلتی ہوئی سنائی دیتیں۔

مرکزی کیمپ کے خیمے آگ کی لپیٹ میں آکر تڑاخ کی آواز کے ساتھ زمین بوس ہوئے، لاشیں بکھر گئیں اور بارود کی تیز بدبو نے پورے علاقے کو گھیر لیا۔ وہ کیمپ جو ابھی لمحہ بھر پہلے پرسکون دکھائی دے رہا تھا، اب آگ اور خون کے دہکتے ہوئے جہنم میں بدل چکا تھا۔

محمود بدری کے سپاہی جھاڑیوں اور پتھروں کی اوٹ سے نکل کر فائرنگ کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ ان کی بندوقوں کی تیز اور دہکتی گولیاں، ہوا میں سرسراتے ہوئے، دشمن کے جسموں کو چیرتی جا رہی تھیں۔ ہر بار انسانی چیخوں کے ساتھ، کوئی جسم زمین پر گِرتا اور فضا میں موت کی لہر مزید گہری ہو جاتی۔

مجید بریگیڈ پر ایسی آفت نازل ہوئی تھی جس کا وہ گمان بھی نہیں کر پائے تھے۔
چند لمحات قبل، پہرے داروں کے علاوہ… کچھ فجر کی نماز ادا کر رہے تھے، چند ایک ناشتہ بنا رہے تھے اور بیشتر پرسکون نیند سو رہے تھے۔ لیکن اب اچانک ہی ان کے اوپر غیر متوقع، آگ کے گولے برسنے لگے تھے۔
کمانڈر عطا خان یار… جو ان کا لیڈر اور حوصلہ تھا، پہلے ہی حملے میں راکٹ کی ضرب سے اس کا وجود ٹکڑوں میں بٹ چکا تھا۔ اس کی ہلاکت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح لمحوں میں کیمپ کے اندر پھیل گئی اور باقی جنگجوؤں پر سکتہ طاری ہوگیا۔

کچھ ہتھیار سنبھال رہے تھے، کچھ جان بچانے کے لیے دیوانہ وار محفوظ ٹھکانوں کی طرف دوڑ رہے تھے، کچھ چیختے چلاتے اپنے ساتھیوں کو پکار رہے تھے لیکن بوکھلاہٹ میں کسی کو بھی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس غیر متوقع دشمن سے کیسے نمٹا جائے۔

دھماکوں کے بعد پھیلنے والی آگ نے اندھیرے کو روشنی میں بدل دیا تھا مگر یہ روشنی امید کی نہیں بلکہ تباہی کی تھی۔ خیموں کے کپڑے جل کر زمین پر گرتے تو نیچے زخمی تڑپتے انسانوں پر لپٹ کر انہیں مزید بھسم کر دیتے۔ گولیاں دونوں طرف سے چل رہی تھیں لیکن پہل کرنے کا جو نفسیاتی دباؤ محمود کی ٹیم نے پیدا کر دیا تھا، اس نے مجید بریگیڈ کے سپاہیوں کو سنبھلنے ہی نہیں دیا۔

پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھے سنائپر بردار ایک ایک کر کے نشانہ لیتے اور ہر نشانہ کسی نہ کسی کے سینے کو چیر دیتا۔ مجید بریگیڈ کے جنگجو بار بار اوپر دیکھتے مگر انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ موت کہاں سے برس رہی ہے۔

بس اتنا جانتے تھے کہ کسی نامعلوم جگہ سے آنے والی گولیاں ان کی قطاروں میں خلل ڈال رہی ہیں اور خوف کو بڑھا رہی ہیں۔ بھگدڑ ایسی مچی کہ کوئی کسی کا حکم ماننے کو تیار نہیں تھا، کچھ اپنی جان بچانے کے لیے پہاڑوں کی طرف بھاگنے لگے تھے۔ کچھ زخمی ساتھیوں کو گھسیٹ کر خیموں کے جلے ہوئے ڈھانچوں سے دور، دیواروں کی اوٹ میں لے جانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن ہر قدم پر سنسناتی گولیاں ان کا تعاقب کرتے ہوئے ان کا راستہ روک لیتی تھیں۔

محمود کے سپاہی منظم اور بہادری سے آگے بڑھتے جا رہے تھے۔ کبھی گھٹنوں کے بل ہو کر فائر کرتے، کبھی جھاڑیوں کی اوٹ سے نکلتے اور دشمن کے ٹھکانے پر اندھا دھند گولیاں برسانا شروع کر دیتے۔

ان کے چہروں پر پسینہ، مٹی اور بارود کا میل چمک رہا تھا لیکن آنکھوں میں ایسی وحشت اور عزم تھا جو دشمن کو لرزا دینے کے لیے کافی تھا۔ مجید بریگیڈ کے جنگجوؤں کا یہ عالم تھا کہ ان کے اپنے ساتھیوں کی لاشیں اور چیخیں ان کے حوصلوں کو مزید توڑ رہی تھیں۔

کوئی اپنے کانوں پر ہاتھ رکھے آگ کی لپٹوں کے بیچ دوڑ رہا تھا، کوئی اپنے چہرے پر خون کے دھبے صاف کرتا اندھا دھند فائر کر رہا تھا اور کوئی راکٹ کے دھماکے سے بہرے ہوئے کانوں کے ساتھ بس کھڑا ہانپ رہا تھا۔

،صبح کی ابھرتی ہلکی روشنی میں، دھول اور دھوئیں کے بادل پورے کیمپ پر چھا چکے تھے اور اس افراتفری میں محمود بدری کی آواز بلند ہوئی
“آگے بڑھو… کسی کو زندہ مت چھوڑنا۔”

وو اپنے سپاہیوں کو مزید آگے بڑھنے کا اشارہ دے رہا تھا۔ اب پورا جنگی میدان ایک ایسے جہنم کا منظر پیش کر رہا تھا جہاں زمین لرز رہی تھی، آسمان چیخ رہا تھا اور ہر سمت انسانوں کے کٹے پھٹے اعضا، خون کی بوندیں اور آگ کی لپٹیں موت کا رقص کر رہی تھیں۔

°°°°°°°°°


:ایان کی چال
ایان نے مجید بریگیڈ اور بی ایل ایف کے کیمپ میں رابطے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن اسے جواب موصول نہیں ہورہا تھا۔ اس نے غصے سے موبائل بیڈ پر پھینکا اور بیڈ کے نیچے سے ایک کالا صندوق کھینچ لیا۔
جس کے کھلتے ہی سامنے لوڈڈ ایم16 اور ایم4 دکھائی دیں۔ اس نے دونوں کھینچ کر نکال لیں اور تیز قدموں کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گیا۔ تیزی سے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس نے چھت کا دروازہ کھولا۔ سامنے ہی اس کے نو محافظوں کی لاشیں مردہ حالت میں پڑی تھیں۔ انہیں پہاڑ پر بیٹھے سنائپرز نے مار گرایا تھا۔
،نکالی Barret M82A1 یہ سب دیکھتے ہی وہ تیزی سے پلٹا اور واپس کمرے میں پہنچ گیا۔ الماری سے

واش روم کی روشنی بند کی اور فرش پر کرسی رکھ کر روشندان تک پہنچتے ہوئے سنائپر کے ×8 اسکوپ پر نظریں ٹکا لیں۔ جلد ہی اسے پہاڑ کی بلندی پر ایک سنائپر بردار نظر آگیا۔ اس نے ٹریگر دبایا اور گولی اس کے سر سے گزار دی۔ ایک کو مارنے کے بعد وہ اب دوسرے کی طرف متوجہ ہوا۔ یوں اپنی تیز نظروں اور ہوشیار دماغ سے کچھ ہی منٹوں میں چاروں سنائپر مار گِرائے۔ تسلی کے بعد سنائپر گن وہیں واش روم میں پھینکی۔ دوبارہ ایم16 اور ایم4 اٹھا کر چھت کی طرف بھاگ کھڑا ہوا۔

:ایان کی بارودی سرنگ
صبح کی پھوٹتی ہلکی روشنی میں گولیوں کی چمک ایسے لپک رہی تھی جیسے آگ کی بارش برسنے لگی ہو۔

سپاہی جھک کر، لڑھکتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے اور ہر قدم کے ساتھ گولیوں کی برسات چوکیوں پر موجود پہرے داروں پر برس رہی تھی۔ فضا میں بارود کی تیز بُو پھیل گئی تھی اور چاروں طرف گولیوں کے چلنے سے ایسی گونج پیدا ہورہی تھی کہ جیسے پہاڑ بھی خوف سے لرزنے لگے تھے۔

پہرے دار بھی اپنی پوزیشن پر ڈٹے ہوئے، بھرپور جوابی فائرنگ کر رہے تھے۔ اندھیرے میں ان کی بندوقوں کی لپک قہر کی مانند دکھائی دیتی اور گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے پیروں تلے زمین کانپ رہی تھی۔

زافیر کے ساتھ اس کے سپاہی ابھی چند قدم ہی آگے بڑھے تھے کہ اچانک زمین دہل اٹھی… ایک زوردار دھماکے نے فضا کو چیر ڈالا۔ زافیر سے چند قدم دور ایک ساتھی بارودی مائن پر چڑھ گیا۔ لمحہ بھر میں اس کا جسم بکھر گیا، خون اور گوشت کے لوتھڑے دھوئیں کے ساتھ ہوا میں اچھل گئے۔

اس سے پہلے کہ سپاہی سنبھل پاتے، باقی دو اطراف میں بھی ایسے ہی دھماکے پھٹ پڑے۔ فضا چیخوں، بارود اور دھماکوں سے بھر گئی۔ ایک ہی لمحے میں چار پانچ جوان زمین پر بکھر چکے تھے۔

آنکھوں کے سامنے، اپنے سپاہیوں کو خاک و خون میں تڑپتے دیکھ کر زافیر کے جذبات کی شدت نے شدید غصے کا روپ دھار لیا تھا۔
زمین میں بارودی سرنگیں چھپی ہوئی تھیں… ایان کے بنگلے کے گرد گویا موت کا جال بچھا ہوا تھا۔ ایسا جال جو بنگلے کی سب سے بڑی ڈھال تھا۔

یہ وہ راز تھا جس سے نہ ہی حبیب واقف تھا اور نہ ہی وہ زافیر کو آگاہ کر پایا تھا۔ لاعلمی اب قہر بن کر ان پر نازل ہورہی تھی اور اب ہر قدم گویا ایک نیا خطرہ تھا۔
وہ پہلے ہی یکے بعد دیگرے پانچ سپاہی کھو چکا تھا۔ اب میدانِ جنگ میں ایک لمحے کی غفلت بھی انہیں بھاری نقصان پہنچا سکتی تھی۔

°°°°°°°°°°

…جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *