ناول درندہ

قسط نمبر 27

باب سوّم: شبکہ

مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°


:کشف الرحمٰن کا اعلان
زمین پر بارود کی جلن ابھی تک پھیلی ہوئی تھی۔ دھواں اور گرد کی تہیں ہوا میں ایسے معلق تھیں جیسے پہاڑوں کے بیچ کوئی اندھیری آندھی اتر آئی ہو۔ ہر طرف لاشوں کا بوجھ، ٹوٹے ہتھیار اور خون کی لکیریں موت کی کہانیاں لکھ رہی تھیں۔ زید کے بیشتر سپاہی دو طرفہ حملے کی نذر ہو کر جان کی بازی ہار چکے تھے۔ جو چند بچے تھے، وہ بھی اب جنگ کے خوف سے ٹوٹ چکے تھے۔ وہ پتھروں اور جھاڑیوں کے پیچھے دبکے بیٹھے تھے۔ بندوقیں ان کے ہاتھوں میں تھیں مگر انگلیاں ٹریگر سے ہٹ چکی تھیں۔ نہ گولیوں کا حوصلہ بچا تھا، نہ دل میں کوئی امید۔

زید خود خون میں لت پت، بے ہوشی کی گہری وادی میں کہیں کھویا ہوا پڑا تھا۔ اس کے قریب اس کے ساتھیوں کے جسم جمے ہوئے خون سے سخت ہو گئے تھے۔ آسمان کی طرف اڑتا ہوا دھواں، پہاڑوں سے گونجتی گولیوں کی بازگشت اور زخمیوں کی ہلکی ہلکی سسکیاں منظر کو مزید خوفناک بنا رہی تھیں۔

اسی لمحے بی ایل ایف کے جنگجوؤں کی جانب سے فائرنگ بند ہو گئی۔ وادی میں اچانک ایک سناٹا چھا گیا۔ ایسا سناٹا جس میں موت کے قدموں کی چاپ سنی جا سکتی تھی۔ پھر ایک بھاری آواز لاؤڈ اسپیکر سے ابھری، جس کی گونج پہاڑوں سے ٹکرا کر چاروں سمت پھیل گئی۔

،کشف الرحمٰن بلوچ کی آواز تھی
“تم ہار چکے ہو… اپنے ہتھیار پھینکو اور اپنے آپ کو گرفتاری کے لیے پیش کر دو۔ وعدہ کرتا ہوں کہ کسی کو بھی جانی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔”

یہ الفاظ اس نے تین چار بار دہرائے۔ ہر بار آواز اور بھی بلند ہوتی جیسے وہ وادی میں چھپے ہر سپاہی کے دل تک پہنچ رہی ہو۔ زید کے بچے کھچے سپاہی، جو چالیس کے قریب رہ گئے تھے، ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہے۔

ان کے چہروں پر شکست کی مہر ثبت ہو چکی تھی۔ بالآخر انہوں نے اپنی بندوقیں زمین پر پھینک دیں۔ ہاتھ اٹھائے وہ آہستہ آہستہ جھاڑیوں کے پیچھے سے نکل آئے۔

بی ایل ایف کے جنگجو، اب پہاڑوں اور وادی کی تلاشی لینے لگے۔ لاشوں کو الٹا پلٹا کر دیکھا گیا، زخمیوں کو نیچے گھسیٹا گیا۔ انہی زخمیوں میں زید بھی موجود تھا۔ اس کا چہرہ خون سے تر تھا اور پیشانی کا ماس پھٹا ہوا تھا۔ وہ بے سدھ پڑا تھا لیکن اس کی سانسیں ابھی زندہ تھیں۔

کشف الرحمٰن اپنے سپاہیوں کے درمیان آ کر کھڑا ہوا۔ قیدیوں کی ایک قطار تھی، جنہیں مٹی پر زانو کے بل بٹھا دیا گیا تھا۔ زخمی ان کے قریب ہی زمین پر لٹائے گئے تھے۔ کشف الرحمٰن نے اپنے ہاتھ کمر پر باندھے اور ٹہلتے ہوئے قیدیوں کو گھورا۔ اس کی نظریں ایک ایک چہرے پر رک رہی تھیں، جیسے وہ ان کی روحوں کو پرکھ رہا ہو۔

،وہ رُکا اور سخت لہجے میں بولا
“تمہارا لیڈر کون ہے؟”

قیدی خاموش رہے۔ ان کے چہروں پر پریشانی اور بے بسی کے سائے تھے، مگر کسی کی زبان نہیں کھلی۔

،کشف الرحمٰن نے دوبارہ کہا، اس بار آواز میں دھمکی کی گونج تھی
اگر تم بتا دو تو شاید وہ زندہ بچ جائے۔ میں اس کی جان کے بدلے اپنے کچھ ساتھی رہا کروانے کی کوشش کروں گا۔”

” میرے پوچھنے کی صرف یہی وجہ ہے۔

خاموشی برقرار رہی۔ مگر اسی لمحے ایک جنگجو نے اس کے قریب آ کر سرگوشی کی اور ایک موبائل فون اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔

کشف نے موبائل الٹا پلٹا کر دیکھتے ہوئے، اپنے ساتھی سے پوچھا،
“یہ موبائل کس کے پاس تھا؟”

جنگجو نے بے ہوش پڑے زید کی طرف اشارہ کر دیا۔ کشف الرحمٰن کے لبوں پر ایک سخت مسکراہٹ ابھری۔
“سبھی قیدیوں کی تلاشی لو۔”

سپاہیوں نے ایک ایک کی جیبیں ٹٹولیں، ان کے لباس کھنگالے مگر مزید کسی کے پاس کوئی سامان نہیں نکلا۔ بس یہی ایک موبائل تھا جو زید کو باقی سب سے الگ کرتا تھا۔ یہ نشانی اس بات کے لیے کافی تھی کہ لیڈر وہی ہے۔

،کشف الرحمٰن نے اپنی نظریں قیدیوں پر دوڑائیں، پھر بے حسی سے زید کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
“اس کے علاوہ سب کو مار دو۔”

یہ جملہ گویا موت کا فرمان تھا۔ زید کے سپاہیوں کے چہروں کا رنگ اُڑ گیا۔ ان کی آنکھوں میں خوف کی لکیریں کھنچ آئیں۔ کشف الرحمٰن کا یہ حکم جنگی اصولوں کے خلاف تھا۔ یہ الفاظ ادا ہونے کے بعد انہیں احتجاج کرنے یا مزاحمت کرنے کی مہلت ہی نہیں ملی۔ اگلے ہی لمحے بی ایل ایف کے سپاہیوں نے ان پر گولیوں کی بارش کر دی۔ زمین لرز اٹھی، خون کی ندیاں بہنے لگیں اور قیدی ایک ایک کر کے مٹی پر گرنے لگے۔ ان کی چیخیں پہاڑوں سے ٹکرائیں مگر پھر وہ بھی خاموشی میں ڈوب گئیں۔

زخمی بھی وہیں ختم کر دیے گئے۔ اب میدانِ جنگ مکمل طور پر بی ایل ایف کے قبضے میں تھا۔ لاشوں کا ڈھیر اور بارود کی سڑاند اس منظر کو مزید بھیانک بنا رہی تھی۔

اب صرف ایک ہی شخص زندہ بچا تھا… زید۔
دو جنگجو اسے گھسیٹتے ہوئے ایک کیمپ کی طرف لے جا رہے تھے۔ اس کے بازو لاش کی طرح لٹک رہے تھے مگر سانسیں اب بھی جاری تھیں۔ وہ بے ہوشی اور زندگی کے درمیان جھول رہا تھا۔

°°°°°°°°°°

زافیر کی ٹیم اب بنگلے کے اندر داخل ہو چکی تھی۔ ہر کمرہ، ہر راہداری، ہر کونہ ان کی گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے لرز رہا تھا۔ سامنے آنے والے ہر شخص کو بلا تامل گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔

کوئی چیخ موت کو روک نہ سکی، کوئی مزاحمت کارگر نہ ہو سکی۔ لمحہ لمحہ موت کا سایہ بھاری ہوتا گیا اور بالآخر یہ بنگلہ… جو کبھی ایان کے غرور کا قلعہ تھا… اب زافیر کی گرفت میں آ چکا تھا۔

زافیر کے قدم احتیاط کے ساتھ بڑھتے جا رہے تھے۔ تین سپاہی ہمراہ تھے۔ وہ ایک ایک کمرے کی تلاشی لے رہے تھے۔ ٹوٹے شیشے فرش پر بکھرے تھے، گولیوں کے خول قالینوں پر یوں پھیلے تھے جیسے کسی نے تیز بارش کے بعد زمین پر کنکر بچھا دیے ہوں۔ دیواروں پر بارود کے دھبے اور گولیوں کے سوراخ ایک تازہ جنگ کی گواہی دے رہے تھے۔
بنگلے میں لاشوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ اب ان کا رخ چھت کی طرف تھا۔ وہ محتاط قدموں سے آگے بڑھ رہے تھے۔ انہیں چھت کی طرف بڑھتے دیکھ کر ایان نے گولیاں برسائیں، وہ فوراً دیوار کی اوٹ میں ہوگئے۔
زافیر نے اپنے ایک ساتھی کو اشارہ کیا، جس کا مطلب تھا کہ ایان پر گولی چلا کر اسے بھی فائرنگ پر مجبور کرو۔ اس نے دیوار کی اوٹ سے ہی چھت کی طرف فائرنگ کی، بدلے میں ایان نے بھی ایک بریسٹ مارا۔ وقفے وقفے سے دونوں طرف سے فائرنگ ہورہی تھی۔ ایک سپاہی کی گولیاں ختم ہوئیں تو دوسرے نے فائرنگ شروع کر دی۔
ایان کی ایم16 پہلے ہی خالی ہوچکی تھی اور اب ایم4 نے بھی کھٹ کی آواز کے ساتھ خاموشی اختیار کر لی۔

،لمحہ بھر کو اس نے خالی میگزین پر نگاہ ڈالی، پھر غصے سے بندوق ایک طرف پھینک کر زافیر کو للکارا، اس کی آواز فضا کو چیرتے ہوئے پھیلی
“کیا بزدلوں کی طرح گولیاں ہی برساؤ گے… یا مردوں کی طرح آمنے سامنے آ کر لڑنے کی ہمت بھی ہے؟”

اس للکار نے ماحول میں ارتعاش پیدا کیا۔ زافیر چند لمحے خاموش رہا لیکن پھر اس کی نگاہوں میں چمک ابھر آئی۔ وہ جان گیا تھا کہ ایان کے پاس گولیاں ختم ہو چکی ہیں۔ اس نے اپنی بندوق اپنے ایک ساتھی کو تھمائی، پھر اشارے سے سب کو نیچے جانے کا حکم دیا۔ سپاہی واپس پلٹ کر بنگلے کی طرف چلے گئے اور اب چھت پر صرف دو آدمی رہ گئے تھے… ایان اور زافیر۔

ایان نے لڑائی کا انداز اپناتے ہوئے اپنے پیر مضبوطی سے جما لیے۔ زافیر آہستہ آہستہ قدم بڑھاتا ہوا قریب آیا۔

،اس کے چہرے پر غصے اور ضبط کی ملی جلی کیفیت تھی۔ اس نے سرد لہجے میں کہا
“تم نے میری دولت چرائی، میں صبر کر گیا لیکن آزلان… آزلان کو تم نے مار ڈالا۔ تمہیں یہ غلطی نہیں کرنی چاہیے تھی۔”

،ایان نے طنزیہ ہنسی کے ساتھ سر جھٹکا
“چلو پھر… دیر کس بات کی ہے… آؤ تمہیں بھی اُس کے پاس پہنچا دوں۔”

یہ جملہ سنتے ہی زافیر کی آنکھوں میں اس کے لیے حقارت ابھری۔ اس نے پہلا وار طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کیا۔ اپنی کہنی گھما کر ایان کے سینے کی طرف جھپٹا مگر ایان نے پھرتی سے ہاتھ بڑھا کر اس وار کو جھٹک دیا اور جواباً زافیر کی پسلیوں پر ایک بھاری گھونسہ رسید کیا۔ زافیر لمحہ بھر کو جھکا مگر فوراً سنبھلا اور دوسرے ہاتھ سے ایک زوردار مکا ایان کے گال پر مارا۔ ایان کا چہرہ ضرب سے سرخ ہوگیا مگر اس کی آنکھوں میں اب بھی ہٹ دھرمی کی آگ جل رہی تھی۔

چند لمحے کے اندر ہی دونوں ایک دوسرے پر وار پر وار کر رہے تھے۔ مکوں، کہنیوں پیروں اور لاتوں سے حملہ کر رہے تھے۔ ایان نے ایک موقع دیکھتے ہی جھکتے ہوئے اپنی ٹانگ کے ساتھ بندھا خنجر کھینچ لیا اور تیزی سے زافیر کی کمر میں گھسا کر باہر کھینچ لیا۔ زافیر کا بدن جھٹکے سے پیچھے ہٹا، اس کے ہونٹوں سے بےاختیار کراہ نکلی۔ لیکن ایان نے مہلت نہیں دی، وہ آگے بڑھا اور اسی خنجر کو زافیر کے کندھے میں گھونپ دیا۔

زافیر نے دو گہرے زخم ہونے کے باوجود خنجر کی اگلی چمک پر ردِعمل دیا۔ ایان نے خنجر دوبارہ کھینچا اور اب سینے پر وار کرنے ہی والا تھا کہ زافیر نے بجلی کی تیزی سے اس کی کلائی پکڑ کر مروڑ دی۔ ایک کڑک دار آواز ابھری، ایان کو لگا جیسے ہڈی تڑخ گئی ہو۔ خنجر اس کے ہاتھ سے نکل کر چھت کے فرش پر گِر گیا۔

زافیر نے کلائی کو تھامے ہوئے اچانک اپنی پوری طاقت سے اس کی ناک پر گھونسہ مارا۔ ناک سے خون کی لکیریں نکل کر ایان کے چہرے پر پھیل گئیں۔ وہ ابھی درد سے ہاتھ ناک تک لے ہی جا رہا تھا کہ زافیر نے دوسرا وار اس کی کلائی پر کیا۔ اس بار اس کا ہاتھ کسی لوہے کی چھڑی کی طرح گرا۔ ایان کی کلائی ٹوٹ گئی۔ ایک فلک شگاف چیخ چھت پر گونجی۔

زافیر نے لمحہ بھر کو اسے چھوڑ دیا، جیسے شکار کو مزید تڑپنے کا وقت دیا ہو۔ پھر اچانک گھومتے ہوئے پوری طاقت سے ایک فلائنگ کک اس کے چہرے پر مار دی۔ ایان کا بدن جھٹکے سے پیچھے گرا، آنکھوں کے سامنے تارے ناچنے لگے۔ ابھی وہ سنبھلا بھی نہیں تھا کہ زافیر نے آگے بڑھ کر اس کی ٹانگ پر بھرپور لات رسید کی۔ ایک ہولناک کڑک ابھری… ہڈی ٹوٹ گئی، ٹانگ دوہری ہو کر لٹک گئی۔

ایان کی چیخیں اب پہاڑوں میں گونج رہی تھیں۔ وہ چھت پر تڑپتا ہوا لیٹ گیا۔ پسینے اور خون سے اس کا بدن تر ہو چکا تھا۔

،زافیر طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اس کے قریب آ بیٹھا۔ اس نے اس کا دوسرا ہاتھ پکڑا اور سرد لہجے میں کہا
“تم سوچ بھی نہیں سکتے کہ تمہارے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔”

پھر وہ اس کی انگلیاں توڑنے لگا۔ ایک ایک کر کے… پہلی انگلی، پھر دوسری، پھر تیسری… ہر انگلی ٹوٹنے پر ایک نئی چیخ بلند ہوتی، چیخ جو فلک کو چیر ڈالنے والی تھی۔ پانچوں انگلیاں ٹوٹنے کے بعد ایان کا ہاتھ بےجان ہو گیا۔ وہ لرزتے ہوئے سانسیں لے رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں خوف اور اذیت تیرنے لگی۔

زافیر اٹھا، اس کے چہرے پر وحشت اور اطمینان کی ملی جلی جھلک تھی۔ اس نے جیب سے موبائل نکالا تاکہ زید اور محمود بدری سے رابطہ کر سکے۔ لیکن جیسے ہی اس کی نظر اسکرین پر پڑی، ایک نوٹیفیکیشن نے اس کا دل دہلا دیا۔ پیغام زید کا تھا، اس کی شکست کا پیغام… زافیر کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور چہرے پر گھبراہٹ پھیل گئی۔

،ایان نے یہ تبدیلی فوراً بھانپ لی۔ اس نے زخموں اور ٹوٹی ہڈیوں کے باوجود ضبط کیا اور طنزیہ ہنسی کے ساتھ بولا
“خوف تو میرے چہرے پر ہونا چاہیے تھا… لیکن ہوائیاں تمہارے چہرے سے اڑ رہی ہیں۔”
اس کی آواز کمزور تھی مگر اس کے الفاظ خنجر سے زیادہ کاری وار کر رہے تھے۔

زافیر نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کے دل میں ایک طوفان برپا تھا مگر اس کے چہرے پر خاموشی کی سختی تھی۔ وہ تیزی سے آگے بڑھا، ایان کی ٹانگ مضبوطی سے ہاتھ میں پکڑی اور گھسیٹتے ہوئے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔ ہر پائیدان پر ایان کی چیخیں بلند ہورہی تھیں۔ وہ اسے گھسیٹتے ہوئے سیڑھیوں سے نیچے بنگلے میں لے گیا۔ پھر یونہی گھسیٹتے ہوئے باہر لے آیا۔ یوں بے دردی سے کھینچنے پر ایان کی ٹوٹی ٹانگ، ٹوٹی کلائی اور ٹوٹی انگلیاں ہر حرکت پر درد کی گہری لہریں چھوڑ رہی تھیں۔ ہر قدم پر اس کی چیخیں بلند ہورہی تھیں۔ راہداری میں گولیوں کی بُو ابھی باقی تھی۔ ٹوٹے دروازوں اور دیواروں کے بیچوں بیچ ایان کو گھسیٹتے ہوئے وہ اپنے کچھ سپاہیوں کے قریب پہنچا۔

،ایک سینیئر سپاہی کے قریب پہنچ کر موبائل نکالا اور اسے تھماتے ہوئے بولا
جو بھی ضروری دستاویزات یا اہم چیز نظر آئے تو اسے اپنی تحویل میں لے لو۔”

محمود بدری سے رابطہ کرو اور پھر پورے بنگلے کو آگ لگا دو۔ اپنے ساتھیوں کی لاشیں اٹھا لو اور انہیں یہاں سے دور لے جاؤ۔

“یہاں کام ختم ہو چکا ہے۔ گھروں کو لوٹ جاؤ۔

سپاہیوں نے اثبات میں سر ہلایا۔ ان کی آنکھوں میں جنگ کی تھکن اور ہارے ہوئے ساتھیوں کا غم جھلک رہا تھا۔ مگر حکم بجا لانا ضروری تھا۔ وہ لاشیں سمیٹنے اور بارود لگانے میں مصروف ہو گئے۔

زافیر ایان کو گھسیٹتے ہوئے بنگلے کے مرکزی دروازے سے باہر نکلا۔ باہر صبح کا اجالا پھیل چکا تھا۔ سورج کی کرنیں دھوئیں اور گرد کے بیچ سے چھن چھن کر آ رہی تھیں۔ میدانِ جنگ اب ماضی کی چیخوں کی بازگشت سے لبریز تھا۔ زمین پر پڑی لاشوں پر مکھیاں بھنبنا رہی تھیں۔ کہیں سے ٹوٹے بازو کے قریب خون کی دھار اب بھی رِس رہی تھی۔ اور زافیر… وہ ایان کو لے کر اس ویرانے سے دور نکل رہا تھا، جہاں ابھی چند لمحے پہلے موت نے اپنا کھیل کھیلا تھا۔

°°°°°°°°°°

زافیر، ایان کو گھسیٹتے ہوئے پہاڑ کی اوٹ میں لے آیا تھا۔
ایان کے چہرے پر ہار اور شکستگی کے آثار نمایاں تھے۔ درد کی شدت اسے پاگل کر رہی تھی اور پتھروں پر گھسیٹے جانے پر وہ ہلکان ہوچکا تھا۔
پہاڑ کی اوٹ میں کوئی نہیں تھا۔ کوئی آنکھ، کوئی سپاہی، کوئی ساتھی نہیں… بس وہ دونوں اور فضا میں پھیلا ہوا موت کا بوجھ۔

،زافیر رُکا۔ اس نے ایان کو زور سے جھٹکا دیا اور غرّاتے ہوئے بولا
“جو درد تم نے سہا وہ بہت کم ہے… لیکن میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔”
اس کے الفاظ میں ایک حیوانی پن چھپا ہوا تھا۔

اچانک زافیر نے ایک ہاتھ سے ایان کے بال پکڑے۔ سر کو ایک طرف جھکایا، لمحے بھر کے توقف کے بعد اس نے دانت گردن پر گاڑ دیے، ماس کا ٹکڑا نوچ کر دور پھینک دیا۔ ایان کی آنکھیں دہشت اور خوف سے پھیل گئیں۔
اس کی رگیں ٹوٹ گئیں اور خون ایک تیز دھار کی طرح بہہ نکلا۔ زافیر نے منہ اس زخم پر جما دیا۔ وہ وحشیانہ انداز میں خون چوس رہا تھا جیسے برسوں سے پیاسا ہو۔ اس کے ہونٹوں پر سرخی، داڑھی پر خون کے چھینٹے اور آنکھوں میں وحشت کی آگ تھی۔
،ایان کے دماغ میں ضمیر کے الفاظ گونج رہے تھے
“میں نے جو کہا، وہ ایک ایک لفظ سچ ہے۔ جب وہ تمہارا کلیجہ نکالے گا تو تم خود جان جاؤ گے۔”

ایان کا جسم تڑپا، کپکپایا مگر آہستہ آہستہ اس کا وجود ٹھنڈا پڑتا گیا۔ زافیر کی گرفت اور مضبوط ہوتی گئی اور خون کا ہر قطرہ جیسے اس کے وجود کو طاقت بخش رہا تھا۔ یہاں تک کہ ایان کی آنکھوں کی روشنی بجھ گئی اور وہ بے جان ہو کر زمین پر ڈھیر ہو گیا۔

لیکن زافیر رکا نہیں۔ اس نے فوراً چاقو نکالا اور ایک ہی وار میں ایان کا پیٹ چاک کر دیا۔ اندر سے گرم بھاپ نکلی۔ خون اور انتڑیوں کی بُو نے فضا کو مزید تعفن زدہ کر دیا۔ زافیر نے اپنا ہاتھ، کٹے پیٹ کے اندر ڈالا اور اس کا دل نوچ کر باہر کھینچ لیا۔

وہ دل، جو اپنی ایک ایک خواہش کے لیے لاشیں بچھانے کو تیار رہتا تھا، اب زافیر کے ہاتھ میں بےجان دبا ہوا تھا۔ وہ اسے اپنے دانتوں میں دبا کر چبانے لگا۔ خون اس کے منہ سے بہتا ہوا ٹھوڑی پر ٹپکنے لگا۔ پھر اس نے کلیجہ، جگر اور دوسرے اعضاء نوچ نوچ کر کچے ہی کھانے شروع کر دیے۔
ہر گزرتے لمحے کے ساتھ، اس کے ناخن لمبے اور خنجر کی مانند نوکیلے ہو رہے تھے۔ اس کی آنکھوں کی سفیدی سرخی میں بدل گئی۔ وہ اب انسان نہیں رہا تھا… ایک وحشی درندہ بن چکا تھا۔

ماس کے آخری ٹکڑے کو بھی چبانے کے بعد زافیر نے ایک بھیانک چیخ ماری، ایسی چیخ کہ پہاڑوں کے پرندے خوف سے اڑ گئے۔

اگلے ہی لمحے اس نے جست لگائی اور ہاتھوں پیروں کے بل دوڑنے لگا۔ اس کی رفتار عام انسان سے کہیں زیادہ تھی۔ اس کا رخ بی ایل ایف کے ٹھکانے کی طرف تھا، وہاں زید قید تھا۔
وہ پہلے ہی آزلان کو گنوا چکا تھا، اب زید کی موت اسے گوارا نہیں تھی۔

زافیر اب محض ایک آدم خور انسان نہیں رہا تھا۔ وہ ایک بار پھر درندہ بن چکا تھا… ایک ایسا درندہ جسے سینکڑوں انسان مل کر بھی قابو نہیں کر سکتے تھے۔

°°°°°°°°°°

مورچے کے اندر کی ہوا بوجھل اور دھوئیں سے بھری ہوئی تھی۔ جلتی لکڑیوں کی کڑکڑاہٹ اور ابلتی کیتلی کی سیٹی اس خاموشی کو ٹکڑوں میں توڑ رہی تھی لیکن اس سب کے باوجود ایک گھٹن سی فضا پر چھائی ہوئی تھی۔ آگ کے دھوئیں میں گزری جنگ کے بارود اور خون کی بو اب تک دبی ہوئی تھی۔

بی ایل ایف کے تین جنگجو چوکڑی مارے بیٹھے تھے۔ بندوقیں ایک طرف ایسے پڑی تھیں جیسے وہ اب ہتھیار نہیں، بس بوجھ ہوں۔ آگ پر رکھی پرانی کیتلی سے ہلکی بھاپ اٹھ رہی تھی اور اس کے ساتھ ہی ایک کپڑے میں لپٹی خمیری روٹیاں نیم گرم سی خوشبو دے رہی تھیں۔ ماحول بظاہر پرسکون تھا لیکن اندر ہی اندر ایک ایسا بوجھ تھا جو سب کے دلوں پر یکساں بھاری تھا۔

،خاموشی کو سب سے پہلے ایک بھاری، تھکے ہوئے لہجے نے توڑا۔ پہلا جنگجو ہچکچاتے ہوئے بولا،
“یار… مجھے تو بچوں اور عورتوں کی موت کا دکھ نہیں جا رہا۔”

،دوسرا جنگجو نظریں زمین میں گاڑھ کر بیٹھا تھا۔ اس نے آہستہ سے سانس بھری اور مدھم آواز میں کہا
“دکھ تو مجھے بھی ہے… لیکن ہم کیا کریں؟ کہتے ہیں نقصان… جنگ کا حصہ ہوتا ہے۔ شاید یہی قیمت ہے جو ہمیں ادا کرنی پڑتی ہے۔”

تیسرا جو اب تک لکڑی کو لوہے کی سلاخ سے کچوکے دے رہا تھا، اچانک بھڑک اٹھا۔ اس کے لہجے میں سختی تھی۔
یہ سب جنگ کا حصہ نہیں تھا۔ سچ پوچھو تو ساری غلطی ہمارے کمانڈر کی ہے۔”

“جب ہم نے اطلاع دے دی کہ حملہ ہونے والا ہے تو اس نے عورتوں اور بچوں کو وہاں سے ہٹایا کیوں نہیں؟
،اس نے غصے سے ہاتھ میں پکڑی لکڑی ایک طرف پھینکی اور مزید بھڑکیلے لہجے میں بولا
“سچ یہ ہے کہ کمانڈر نے انہیں ڈھال کے طور پر رکھا… تاکہ دنیا میں ہم شور مچا سکیں کہ فوج نے ہمارے گھروں پر حملہ کیا۔”

،پہلا جنگجو لرزتی آواز کے ساتھ بولا
“…یار، بات تو ٹھیک ہے لیکن… اگر ہم زبان کھولیں تو”

اس کی بات ادھوری ہی رہ گئی۔ اچانک باہر پہرہ دینے والے کی چیخ نے مورچے کی خاموشی کو چیر ڈالا۔ تینوں کے جسم لمحے بھر کے لیے پتھر کے مجسمے بن گئے۔

ان کی آنکھوں میں دہشت کا عکس جم گیا۔ وہ بندوقوں کی طرف لپکے ہی تھے کہ اچانک مورچے کے دہانے پر سایہ سا لہرا کر اندر آیا۔ اچانک ایک درندے نے ان پر حملہ کیا۔ وہ زافیر تھا… انسانی چہرے میں لپٹا ہوا ایک خونخوار درندہ۔

اس کے جھپٹنے کی رفتار اتنی تیز تھی کہ نگاہیں پیچھے رہ گئیں۔ ایک لمحے میں اس کا پنجہ ایک جوان کے چہرے پر پڑا۔ پنجے کی ضرب نے گوشت کو ہڈیوں سمیت نوچ ڈالا، خون اور ہڈی کے چھوٹے ٹکڑے فضا میں بکھر کر مٹی پر گِر گئے۔

اسی دوران اس کا دوسرا ہاتھ دوسرے جنگجو کی گردن پر آیا۔ گردن ایک بھیانک جھٹکے سے آدھی کٹ گئی اور خون کا فوارہ زور سے بلند ہوا۔ خون کی بوندیں جلتی لکڑیوں پر پڑیں تو بھاپ سی اٹھی اور اس بھاپ میں گوشت جلنے کی بدبو شامل ہوگئی۔

تیسرا جنگجو ابھی بندوق تھامنے ہی والا تھا کہ زافیر نے ایک جھپٹ میں اس کے سینے کو پھاڑ ڈالا۔ اس کے نوکیلے ناخن سینے کی ہڈی کو کاٹتے چلے گئے۔ ایک وحشی جھٹکے سے دل اس کے ہاتھ میں تھا اور وہ دل ابھی زندہ تھا، دھڑک رہا تھا، پھڑک رہا تھا۔ زافیر نے اپنی آنکھوں میں وحشی چمک کے ساتھ دل کو دانتوں میں جکڑا اور زور سے چیر ڈالا۔ گرم خون اس کے منہ کے کناروں سے بہہ کر ٹھوڑی اور گردن پر بہنے لگا۔

پھر وہ جھک کر کٹی گردن والے جوان کے زخم پر لپکا۔ اس نے اس کی شریانوں کو منہ میں دبایا اور خون چوسنا شروع کیا۔
ہر لمحہ، جوں جوں خون اس کے وجود کے اندر جا رہا تھا۔ اس کے جسم پر ایک لرزہ سا طاری ہورہا تھا جیسے اس کی رگوں میں آگ بھر دی گئی ہو۔ اس کے ناخن اور بھی لمبے ہوتے گئے۔ اس کی سانسیں تیز اور بھاری ہو رہی تھیں۔

مورچے کی تنگ دیواروں میں اب انسانیت کی کوئی خوشبو باقی نہیں تھی۔ خون، گوشت اور دھوئیں کی ملی جلی بدبو نے فضا کو اتنا بوجھل کر دیا کہ لگتا تھا دیواریں خود بھی دم گھٹنے سے لرز رہی ہیں۔ اگر کوئی زندہ دیکھ رہا ہوتا تو اس کا جی متلا کر الٹیاں کر دیتا۔ لیکن یہاں کوئی زندہ نہیں رہا سوائے زافیر کے… جو اب فقط وحشی درندہ تھا۔ اس کا جسم ہر لمحے وحشت میں ڈھل رہا تھا۔ چہرے پر بال پھیل گئے تھے، آنکھوں میں آگ بھڑک رہی تھی اور اس کے کانپتے ہاتھوں پر خون جما ہوا تھا۔

°°°°°°°°°°

زید کو کشف الرحمٰن کے نئے کیمپ میں رکھا گیا تھا۔ اسے کرسی سے مضبوط رسیوں میں جکڑا ہوا تھا۔ ہونٹ خشک مگر آنکھوں میں عزم کی کرن موجود تھی۔ اس کے سامنے کشف الرحمٰن بیٹھا تھا۔ کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے، نسوار کی گولی دو انگلیوں کے درمیان گھماتے ہوئے اور چہرے پر ایک عجیب سی فخریہ مسکراہٹ سجائے ہوئے۔

،کشف الرحمٰن نے سکون سے نسوار ہونٹ کے نیچے دباتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا
“تم نے ہماری عورتوں اور بچوں کو بھی نہیں بخشا۔”

،زید کے چہرے پر لمحہ بھر کو ندامت کی پرچھائیاں ابھریں۔ اس نے بھاری سانس لیتے ہوئے دھیرے لہجے میں کہا
“…مجھے ان کی موت کا دکھ ہے… تمہارے بیوی بچوں کا بھی”

،یہ سنتے ہی کشف الرحمٰن کے چہرے پر قہقہہ پھوٹ پڑا۔ اس کی آنکھوں میں سرد شعلے جھلکنے لگے
ہاہاہاہا… کیا تم واقعی اتنے بھولے ہو؟ میرے بیوی بچے تو یورپ میں عیش کر رہے ہیں۔ یہاں جو مرے ہیں، وہ تو محض بھیڑ بکریاں تھیں۔”

” ان کا مرنا ہمارے لیے فائدہ ہے۔ فوج کے خلاف نفرت بڑھے گی، مزید لوگ ہمارے ہاتھوں میں کھیلنے لگیں گے۔

زید کی آنکھوں میں حیرت اور پھر سختی اتر آئی۔ مگر کشف الرحمٰن کا مکروہ چہرہ مزید کھلنے لگا۔

،اس نے آگے جھک کر، جیسے راز دارانہ بات کر رہا ہو، دھیمے مگر زہریلے لہجے میں کہا
ہمیں ایان سے، تم سے یا مرنے والوں سے کوئی غرض نہیں۔”

ہم تو بس چاہتے ہیں کہ لوگ وہی سچ سمجھیں جو ہم ان سے کہیں۔ میں اعلان کروں گا کہ ہمارے معصوم بچوں کو فوج نے جلا کر مار ڈالا۔

پھر دیکھنا… وہی بچے جو ابھی کھیلوں میں مصروف ہیں، کل خودکش جیکٹ باندھ کر نکلیں گے۔ باپ، بھائی، سب انتقام کی آگ میں جھلس کر ہمارے لیے قربان ہو جائیں گے۔

“یہ لاشیں ہمارے لیے سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہیں۔

زید نے غصے اور نفرت سے بھرے لہجے میں اس پر تھوک دیا۔
“لعنت ہے تم پر… اپنی ہی عورتوں اور بچوں کے خون کو سوداگری کا ذریعہ بناتے ہو۔ تمہیں انسان کہنا بھی گناہ ہے۔”

کشف الرحمٰن کی آنکھیں لمحے بھر میں شعلے برسانے لگیں۔

،اس نے چہرے سے تھوک پونچھا اور زہر خند ہنسی کے ساتھ بولا
ہاہاہاہا… تم لوگ سمجھ ہی نہیں سکتے۔ یہ انقلاب تو بس اک کاروبار ہے۔ سارا کھیل بس ڈالر کا ہے۔”

“… جب تک لاشیں گرتی رہیں گی، ہمارے اکاؤنٹس بھرتے رہیں گے۔ اک منافع بخش تجارت… لاشوں کی تجارت

،اس نے کرسی سے اٹھتے ہوئے زید کے کندھے پر زور سے ہاتھ مارا۔ پھر اس کی آنکھوں میں جھانک کر کہا
“اور تم بھی تو میری تجارت کا ہی حصہ ہو… تمہارے بدلے… میں اپنے کئی ساتھی واپس لاؤں گا۔”

زید کی نگاہوں میں شدید نفرت اور حقارت کا زہر بھر گیا تھا۔ اس نے جواب دینے کے بجائے دوبارہ اس کے منہ پر تھوک دیا۔ کشف الرحمٰن غصے سے دہاڑ اٹھا، اس نے پیٹ پر گھونسہ مارا۔ زید کا دم ایک لمحے کو اٹک گیا۔ لیکن وہ کشف الرحمٰن کو طیش دلانے میں کامیاب ہوچکا تھا۔

کشف الرحمٰن نے خنجر اٹھایا، اس کی آنکھوں میں قاتلانہ سرخی اتر چکی تھی۔ لیکن عین اسی لمحے پہاڑوں کی فضا گونج اٹھی۔ گولیاں چلنے کی آواز اور چیخیں کیمپ تک پہنچنے لگیں۔ اس کے چہرے پر سنجیدگی کی لہر دوڑ گئی۔ اس کے ہاتھ رک گئے۔ اس نے پلٹ کر دروازے کی طرف دیکھا اور تیزی سے باہر نکل گیا۔

°°°°°°°°°°


پہلے مورچے کو تباہ کرنے کے بعد زافیر کی آنکھوں میں وحشت کی چمک اور بھی تیز ہوگئی۔ وہ اب ہاتھوں پیروں پر دوڑتے بھاگتے اگلے مورچے کی طرف بڑھ رہا تھا۔

پہاڑ کی ڈھلوانوں پر اس کی رفتار نہایت تیز تھی۔ ہر قدم پر پتھروں سے چنگاریاں نکل رہی تھیں مگر اس کی پھرتی اس قدر ناقابلِ یقین تھی کہ دیکھنے والے کی آنکھیں پیچھے رہ جاتیں۔ پہاڑ پر گولیوں کی کھڑکھڑاہٹ گونجتی رہی، یہ آوازیں دوسرے پہاڑ پر موجود پہرے داروں اور نیچے وادی میں موجود بی ایل ایف کے ٹھکانے تک پہنچ رہی تھیں۔ لیکن یہ گولیاں محض شور تھیں کیونکہ جس وجود پر چلائی جا رہی تھیں وہ ایک چھلاوے کی مانند تھا۔ جو ظاہر ہو کر چند لمحوں میں خون کی بارش کر دیتا اور پھر کمال پھرتی سے اچانک ہی نظروں سے غائب ہوجاتا۔

پہرے داروں کے لیے یہ سب کچھ کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا۔ وہ بندوق تھامتے، انگلیاں کانپتے ہوئے ٹریگر دباتے لیکن اگلے ہی لمحے وہ خود کٹی پھٹی لاشوں کی صورت زمین پر بکھرے ہوتے۔ کوئی سمجھ ہی نہیں پا رہا تھا کہ وہ درندہ کہاں سے آتا ہے اور کہاں غائب ہو جاتا ہے۔ ان کے سامنے صرف ایک جھلک آتی… نوکیلے ناخن، بھڑکتی آنکھیں اور ایک دھاڑ جو پتھروں کو لرزا دیتی۔ اس جھلک کے بعد فقط موت کی چیخیں سنائی دیتی تھیں۔

اب تک ایک بھی گولی اس درندے کو چھو نہیں پائی تھی۔ وہ لمحہ بھر کو دکھائی دیتا اور پھر غائب۔ پھر کسی نہ کسی کے سینے پر پنجے گڑھتے، کسی کی گردن الگ ہو جاتی اور کسی کی پسلیاں کھل کر زمین پر بکھر جاتیں۔ خون پتھروں پر جم رہا تھا اور مٹی سرخ کیچڑ میں بدل رہی تھی۔

پہلے پہاڑ پر موجود آخری شخص، جس نے اپنی پوری ہمت مجتمع کی اور بندوق سنبھالنے کی کوشش کی، زافیر کے سامنے بے بس ہوگیا۔ زافیر نے اس پر جھپٹ کر پنجہ اس کی گردن میں گاڑ دیا۔ ایک ہی جھٹکے میں گوشت پھٹ گیا اور خون ایک تیز دھار کی صورت فوارے کی طرح نکلا۔ وہ قطرہ قطرہ اپنے حلق میں اتارنے لگا۔

زافیر کا بدن خوفناک تبدیلیوں سے گزر رہا تھا۔ اس کی کمر میں خم آچکا تھا، جیسے ایک انسان دھیرے دھیرے جانور میں ڈھل رہا ہو۔ پسلیاں ایک ایک کر کے جلد سے باہر نمایاں ہو رہی تھیں اور ہر سانس کے ساتھ اس کے جسم کا ڈھانچہ وحشت ناک طریقے سے ہلتا۔ اس کا معدہ چند لمحوں میں ہی تازہ خوراک کو توانائی میں بدل دیتا اور پھر فوراً مزید مانگنے لگتا۔ یہ بھوک عام بھوک نہیں تھی، یہ ایک وحشی آگ تھی جو جتنا زیادہ کھاتی، اتنا ہی بھڑکتی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اب تک کئی انسانوں کے اعضا پھاڑ کر کھا چکا تھا، ان کا خون پی چکا تھا لیکن پھر بھی اس کی وحشت کم نہیں ہوئی۔ اس کے چہرے پر خون جما ہوا تھا، ہونٹوں سے بہتی سرخ لکیریں ٹھوڑی اور گردن پر پھیل گئی تھیں اور آنکھوں میں وہ جنون بھری بھوک تھی جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔

°°°°°°°°°°°

وادی کا کیمپ ایک قید خانہ بن چکا تھا۔ قید خانہ جو اپنے ہی خوف کے بوجھ تلے دھنس رہا تھا۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بے چینی کا سایہ گہرا ہوتا جا رہا تھا۔ پہاڑوں سے آنے والی گولیوں کی آوازیں، ساتھیوں کی چیخیں اور اچانک چھا جانے والی خاموشی نے اس جگہ کی فضا کو ایسا کر دیا تھا جیسے ہوا ہی بوجھل ہوگئی ہو۔ ہر سانس گھٹن زدہ، ہر لمحہ بے یقینی کی گرفت میں۔

جنگجو بندوقیں تھامے، پہلو بدل بدل کر ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں شکوک اور خوف کی لکیر واضح تھی۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ شاید فوج نے حملہ کیا ہے مگر یہ فوج کا انداز نہیں تھا۔ یہ حملہ سیدھا نہیں تھا، یہ چیخوں کے شور میں لپٹی وحشت تھی۔ پہاڑ سے اب گولیوں کی گھن گرج تھم چکی تھی۔ چیخیں بھی اچانک خاموش ہوگئی تھیں۔ وادی کے جنگجو اسی کشمکش میں تھے کہ اچانک دوسرے پہاڑ سے فائرنگ اور دل دہلا دینے والی چیخیں بلند ہوئیں۔ گویا موت ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ پر چھلانگ لگا کر شکار کر رہی ہو۔

اس اچانک افتاد نے وادی میں دہشت کی لہر دوڑادی۔ خوف اب صرف آنکھوں میں نہیں، جسم کے رگ و پے میں سرایت کر گیا تھا۔ کچھ جنگجو دیواروں سے لگ گئے، کچھ نے زمین پر دبکنے کی کوشش کی، اور کچھ بار بار آسمان اور پہاڑوں کی جانب دیکھنے لگے جیسے وہاں سے کوئی سایہ جھپٹے گا۔

کشف الرحمٰن دوڑتے ہوئے واپس کیمپ میں پہنچا۔ اس کا سکون کب کا رخصت ہو چکا تھا۔ زید کرسی پر ہی بندھا ہوا تھا۔ رسیوں نے اس کے بازو اور ٹانگوں کو جکڑ رکھا تھا لیکن اس کی آنکھیں کھلی تھیں اور ان آنکھوں میں بھی وہی حیرانی و پریشانی تھا جو باقی سب پر طاری تھی۔

کشف واپس کیمپ میں آچکا تھا اور بار بار وائرلیس پر پہرے داروں کو پکار رہا تھا۔
“ہیلو… جواب دو… وہاں کیا ہو رہا ہے؟”
لیکن ہر بار جواب میں صرف خالی شور ملتا، جیسے ہوا تاروں کو نوچ رہی ہو۔

،اچانک دوسرے وائرلیس پر ایک ٹوٹی ہوئی آواز ابھری۔ کسی پہرے دار کی ہچکیاں اور چیخوں میں لپٹی فریاد
“…یہ درندہ ہے… درندہ ہے یہ… بلا… عفریت… بھاگو”
آواز گلے میں اٹک گئی اور پھر خاموشی چھا گئی۔

اس لمحے کا سناٹا وادی کے جنگجوؤں کے دلوں پر ہتھوڑے کی طرح گرا۔

،کشف نے کانپتے ہاتھوں سے دوسرا وائرلیس اٹھایا، بٹن دبایا، چیخ کر کہا
“ہیلو… وہاں کیا ہوا؟”

بٹن چھوڑا، انتظار کیا۔ کچھ نہیں۔
،اس نے دوبارہ کہا
“جواب دو…! بتاؤ اوپر کیا ہو رہا ہے؟”
مگر اس بار بھی کوئی جواب نہیں آیا۔ صرف مردہ سناٹا، جیسے پہاڑوں نے خود ان آوازوں کو نگل لیا ہو۔

کشف کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ اس نے غصے سے وائرلیس میز پر دے مارا۔ جھٹکے سے میز پر رکھی چیزیں ہل گئیں۔ پھر اس کی نظریں زید پر جم گئیں اور ایک لمحے میں اس کے قدم آگے بڑھے۔ اس نے الٹے ہاتھ سے ایک زور دار تھپڑ زید کے گال پر رسید کیا۔ تھپڑ کی آواز بند کیمپ میں گونج کر اور زیادہ بھیانک ہوگئی۔

یقیناً یہ تمہارا ہی کوئی کھیل ہے…!” کشف دہاڑا۔”

،زید نے سر جھٹک کر سیدھا کیا، آنکھوں میں آگ بھری ہوئی تھی۔ وہ غصے سے دھاڑا
“کیا تم پاگل ہو؟ کیا میں اپنے ڈھائی سو ساتھی مروانے کے بعد کھیل کھیلوں گا؟”

اس کے الفاظ میں ایسی سچائی اور کڑواہٹ تھی کہ لمحے بھر کے لیے کشف الرحمٰن بھی خاموش ہوگیا۔ دل گواہی دے رہا تھا بس وہ ماننا نہیں چاہتا تھا… مگر دل کے کسی کونے میں تسلیم کر رہا تھا کہ یہ افتاد ان کی سوچ سے باہر ہے۔ یہ کوئی چال نہیں، کوئی عام دشمن نہیں۔ یہ کچھ اور ہے… ایسا دشمن جو انسان نہیں۔

کشف نے غصے میں دانت بھینچے، بندوق میز سے اٹھائی اور دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ باہر نکلتے ہوئے اس کے قدم بھاری تھے مگر دل کے اندر خوف پھیلتا جا رہا تھا۔ وادی کی ہوا اور زیادہ گھٹن زدہ ہو چکی تھی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے ہر سائے میں موت چھپی ہے اور بس جھپٹنے کو تیار ہے۔

°°°°°°°°°°

پہلا پہاڑ خاموش ہوا تو سب نے اسے فوجی چال سمجھا، دوسرا پہاڑ بھی خاموش ہوا تو وادی کے اندر بیٹھے سب کو لگا جیسے خود ان کے دل کی دھڑکن تھم گئی ہو۔ فضا میں گھٹن سی سرایت کر گئی تھی۔ سبھی جنگجو بندوقوں اور راکٹ لانچروں کے ساتھ چوکس کھڑے تھے۔ پورے گاؤں کے اطراف میں تیس تیس فٹ کے فاصلے پر مورچے تھے مگر پھر بھی ہر ایک کی آنکھوں میں بوکھلاہٹ اور بے یقینی کی نمی صاف دکھائی دے رہی تھی۔

اگر یہ فوجی ہوتے تو ضرور نظر آتے، کوئی گروہ ہوتا تو چھپ کر آگے بڑھتا یا دھوکہ دینے کے باوجود پہچان لیا جاتا، لیکن یہ کچھ اور تھا۔ ایک اکیلا درندہ… جس کی رفتار انسانی سوچ کی حدود سے بھی آگے تھی۔ اس کے وجود کو سمجھنا، اس کے قدموں کی چاپ کو سننا یا اسے قریب آتے دیکھ پانا ناممکن تھا۔

ایک راکٹ لانچر بردار نے پہلو بدلتے ہوئے بائیں جانب اپنے ساتھی کی طرف دیکھا، پھر دائیں طرف گردن گھمائی… اور وہیں اس کی آنکھیں پتھرا گئیں۔ سامنے اس کا ساتھی اپنی جگہ موجود نہیں تھا۔ زمین پر گردن اور دھڑ الگ الگ پڑے تھے۔ اس کے حلق سے پھٹی ہوئی چیخ نکلی،
“!…وہ… وہ گاؤں میں داخل ہوگیا ہے… وہ یہاں ہے”

یہ جملہ ابھی ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ کھنڈر نما گاؤں کے ایک کونے سے دل دہلا دینے والی چیخ ابھری۔ چند ہی لمحوں بعد دوسری سمت سے ایک اور چیخ گونجی اور پھر یہ سلسلہ بڑھتا گیا… ادھر سے چیخ، ادھر سے فائرنگ، وہاں سے دھماکہ اور ساتھ ہی انسانوں کے تڑپنے اور کٹنے پھٹنے کی لرزہ خیز آوازیں۔

مگر سب سے بھیانک بات یہ تھی کہ کوئی نہیں جانتا تھا حملہ آور کہاں سے وارد ہوا اور کہاں غائب ہوگیا۔ ایک پل دکھائی دیتا تھا اور پھر اچانک نظروں سے اوجھل ہوجاتا۔ جو بھی زافیر کے سامنے آجاتا، وہ زبان کھولنے سے پہلے ہی چیر پھاڑ دیا جاتا۔

گاؤں کے اندر کا منظر جہنم بن چکا تھا۔ کہیں زمین پر انسانی دھڑ دو حصوں میں کٹے پڑے تھے، کہیں کسی کا حلق چاک تھا اور خون کی ندی بہہ رہی تھی۔ کسی کا پیٹ اس طرح پھٹا ہوا تھا کہ آنتیں زمین پر رینگ رہی تھیں۔ کچھ جگہوں پر بندوقیں اور خالی خول بکھرے ہوئے تھے لیکن ان کے مالک اب گوشت کے ڈھیر سے زیادہ کچھ نہیں تھے۔

فضا میں بارود اور خون کی ملی جلی بو تھی لیکن اس سے زیادہ دم گھونٹ دینے والی چیز خوف کی لہر تھی… ایسا خوف جو سانسوں میں گھل رہا تھا، ہڈیوں میں اتر رہا تھا اور ہر دل کو یہ یقین دلا رہا تھا کہ موت اب چند لمحوں سے زیادہ دور نہیں۔

°°°°°°°°°°

کیمپ کے اندر کی فضا پہلے ہی موت کی بو اور باہر سے آتی چیخوں کے شور سے بھری ہوئی تھی۔ زید رسیوں میں جکڑا، بے بسی کے عالم میں بیٹھا تھا۔ اس کے کانوں میں انسانی چیخوں، ہولناک آہ و پکار اور تڑپتی سانسوں کی لرزہ خیز آوازیں گونج رہی تھیں۔

اچانک کیمپ کی ایک طرف کا بھاری کپڑا ایسے چاک ہوا جیسے کسی تیز دھار آلے نے اسے ریزہ ریزہ کر دیا ہو۔ کپڑے کے پھٹنے کی آواز کے ساتھ ہی اندر کا ماحول مزید گھٹن زدہ ہوگیا۔ اور پھر، وہ آیا… درندہ۔

زید کا دل حلق میں اٹک گیا۔ اس کی آنکھیں خوف سے پتھرا گئیں۔ سامنے کھڑا درندہ اپنی سرخ دہکتی آنکھوں سے اسے گھور رہا تھا۔ وہ آنکھیں خون کی پیاسی، وحشت سے بھری ہوئی تھیں اور ان کی سرخی میں ایک ایسی درندگی جھلک رہی تھی کہ نگاہ ملانے والا پل بھر میں اپنا حوصلہ ہار جائے۔

°°°°°°°°°°

…جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *