ناول درندہ

قسط نمبر 28

باب سوّم: شبکہ

مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°

زید اور زافیر کی آنکھیں جب ٹکرائیں تو لمحہ جیسے ٹھہر گیا۔ زید کے چہرے پر حیرت نے اپنی گرفت مضبوط کر لی۔ اس کے گالوں کا خون کھنچ گیا اور خوف کی دبیز چادر مزید گہری ہو گئی۔ سامنے کھڑا درندہ، جس کے ہاتھوں اور پیروں کے پنجے خنجر نما ہوچکے تھے، جس کے سر اور داڑھی کے بال بے تحاشا بڑھ کر وحشیانہ روپ دھار چکے تھے، وہ کوئی اور نہیں… زافیر تھا۔

زید کے ذہن میں ایک پل میں سات ماہ کی یادیں بھڑک اٹھیں۔ وہ لمحات جب انہوں نے ساتھ جنگیں لڑیں، موت کو قریب سے دیکھا اور ایک دوسرے کی پشت پر کھڑے رہے۔ وہ اسے کیسے نہ پہچان پاتا؟

،مگر اب، سامنے جو کھڑا تھا وہ انسان نہیں تھا… وہ خون کا پیاسا خونخوار درندہ تھا۔ لرزتی آواز میں اس کے ہونٹوں سے بے اختیار نکلا
“زافیر…! کیا یہ تم ہو؟”

زافیر نے ایک لمحہ اس پر نظریں جمائے رکھیں پھر اس کے جبڑوں سے خوفناک غراہٹ نکلی۔ اگلے ہی پل اس نے پنجہ جھٹک کر کیمپ کے ایک ستون پر ایسی دھار ماری کہ لکڑی چیخ اٹھی اور گہری دراڑ ڈالتی ہوئی ٹوٹنے کے قریب جا پہنچی۔ پھر وہ پلٹا اور کیمپ سے باہر نکل گیا۔

زید چند لمحے سکتے میں بیٹھا رہا۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز تھی، سانسیں اکھڑ رہی تھیں۔ زافیر کو اس بھیانک روپ میں دیکھ کر وہ کانپ تو ضرور گیا تھا لیکن اس کے دل کے کسی کونے میں ایک اجنبی سی امید بھی جاگ اٹھی تھی۔ کچھ دیر پہلے وہ موت کو قبول کر چکا تھا، اپنے بچوں کو دل ہی دل میں الوداع کہہ چکا تھا، لیکن اب… اب اسے محسوس ہوا کہ شاید قسمت نے اسے اکیلا نہیں چھوڑا۔

زافیر کا آنا، اس کی موجودگی اور پھر بنا کوئی نقصان پہنچائے واپس لوٹ جانا، زید کے لیے ایک اشارہ تھا… ایک واضح یقین کہ زافیر چاہے درندہ ہی بن گیا ہو لیکن اسے ہرگز نقصان نہیں پہنچائے گا۔ بلکہ اس وحشی روپ میں بھی وہ اس کا محافظ ہے۔ ایک خونی درندہ جو اس وادی کے ہولناک جہنم میں اس کی ڈھال بن کر کھڑا ہے۔

°°°°°°°°°°

گاؤں کے کھنڈرات میں موت کے سوا کچھ نہیں تھا اور درندے کے لیے حملہ کرنے کے مواقع بھی زیادہ تھے۔ اسی لیے کشف الرحمٰن اپنے دس سپاہیوں کے ساتھ کھلے میدان کی طرف بھاگ نکلا۔
خوف نے ان کے وجود کو اندر سے کھوکھلا کر دیا تھا۔ گاؤں کی تنگ گلیاں اور مٹی کے ٹوٹے مکان اب کھلا قبرستان بن چکے تھے۔ ہر دیوار کے پیچھے موت کا راج تھا۔ ہوا میں بارود اور خون کی بو بکھری ہوئی تھی۔
گاؤں کے اس کمرے کے سوا، جہاں مرد قیدیوں کو ٹھونس کر رکھا گیا تھا باقی ہر طرف کٹی پھٹی لاشیں پڑی تھیں۔

زافیر، کشف الرحمٰن اور اس کے ساتھیوں کو کھلے میدان میں مورچہ لگاتے ہوئے، دور سے دیکھ رہا تھا۔ پہلی بار جب وہ درندے کے روپ میں آیا تھا تو عقل و ہوش سے بیگانہ، صرف خون اور شکار کا بھوکا وحشی لگ رہا تھا لیکن اب کچھ بدل چکا تھا۔ اس بار اس کی سانسیں تیز ضرور تھیں، پنجے خون آلود ضرور تھے مگر اس کی نظریں سوچتی ہوئی نظر آرہی تھیں۔ اس کے اندر انسان کا سایہ اب بھی کہیں چھپا ہوا تھا۔

وہ واپس پلٹا اور سیدھا زید کے کیمپ میں جا پہنچا۔ زید، رسیوں میں جکڑا، خوف اور تھکن سے بوجھل سانس لیتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا۔ جب وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھا تو ایک لمحے کو لگا کہ اب اس کا آخری وقت آن پہنچا ہے۔ یہ خونخوار درندہ اس کی جان چوس لے گا۔ لیکن اگلے ہی پل، زافیر نے اپنے تیز دھار پنجوں سے اس کی رسیاں کاٹ کر اسے آزاد کر دیا۔

زافیر نے اسے سر کے ہلکے اشارے سے اپنے پیچھے آنے کو کہا۔ زید لنگڑاتا ہوا اس کے ساتھ چل پڑا۔ وہ دونوں ایک ٹوٹی ہوئی دیوار کی اوٹ میں جا چھپے۔ وہاں ایک بندوق مٹی میں دبی پڑی تھی۔ زافیر نے غراہٹ بھری سانسوں کے ساتھ زید کو اس کی طرف اشارہ کیا۔ زید نے چپ چاپ بندوق اٹھالی اور خود کو دیوار کے پیچھے چھپا لیا۔

اب زافیر نے اپنے پنجے زمین پر گاڑ کر، خون آشام آنکھوں سے کشف الرحمٰن اور اس کے سپاہیوں کی سمت اشارہ کیا۔ زید سب کچھ سمجھ گیا۔ اس نے ایک لمحے کو بھی تاخیر نہیں کی۔ بندوق کی تڑتڑاہٹ فضا میں گونجی اور کشف کے تین سپاہی تڑپتے ہوئے زمین پر جا گرے۔ باقی ساتھی خوفزدہ ہو کر قریبی بڑے پتھروں کے پیچھے دبک گئے۔

زافیر اس دوران ہاتھوں اور پیروں کے بل زمین پر جھپٹا، ایسے جیسے کوئی چیتا شکار پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ اس کی رفتار انسانی آنکھوں کے قابو سے باہر تھی۔ مٹی اور دھول اس کے پنجوں کے نیچے سے چھینٹوں کی طرح اچھل رہی تھی۔ زید سمجھ گیا تھا کہ اس کے حصے کا کام بس اتنا ہے کہ ان سپاہیوں کو مصروف رکھے، انہیں الجھائے رکھے تاکہ زافیر آسانی سے ان تک پہنچ جائے۔ اس نے لگاتار فائرنگ کر کے ان کے ہوش اڑا دیے۔

اور پھر، لمحہ آیا۔ زافیر ان کے قریب پہنچ گیا۔ اس کے پنجے پتھروں کے پیچھے دبکے ہوئے سپاہیوں پر بجلی کی طرح گرے۔ خون کے چھینٹے ہوا میں بکھر گئے، چیخیں فضا کو چیرتی ہوئی نکلیں۔ زید نے اپنی بندوق نیچے رکھ دی۔ اب اس کے کانوں میں صرف ہولناک شور تھا… انسانی چیخیں، ہڈیوں کے ٹوٹنے کی کڑکڑاہٹ اور گوشت پھٹنے کی خون آلود آوازیں۔
زید دیوار کی اوٹ میں تھکا ہارا بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے منظر ایسا تھا جیسے قیامت گاؤں پر اتر آئی ہو۔ وہ چند لمحے یونہی بیٹھا رہا پھر واپس کیمپ کی طرف قدم بڑھا دیئے۔

°°°°°°°°°°


کیمپ کے اندر خاموشی گہری تھی۔ زید کا موبائل کشف الرحمٰن کی میز پر پڑا ہوا تھا۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے موبائل اٹھایا، سوئچ آن کیا اور ایک نمبر ملاتے ہی کان سے لگا لیا۔ اس کی سانسیں بے ربط تھیں اور آواز میں جلدی اور تھکن کی آمیزش تھی۔

کال ملتے ہی دوسری طرف سے محمود بدری کی آواز ابھری۔
،زید نے تیز لہجے میں پوچھا
“کیا بنا تمہارے محاذ کا؟”
اس کے لہجے میں گھبراہٹ اور بے صبری صاف جھلک رہی تھی۔

،اسپیکر سے محمود بدری کی پرجوش مگر تھکی ہوئی آواز ابھری
“الحمدللہ… مجید بریگیڈ کے کیمپ پر ہمارا مکمل قبضہ ہے۔ ایک بھی سپاہی کی جان ضائع نہیں ہوئی۔”
،یہ کہتے ہی وہ رک گیا، اور فوراً متفکر انداز میں پوچھ بیٹھا
“لیکن سر… آپ کا کوئی نقصان تو نہیں ہوا؟”

،یہ سوال سنتے ہی زید کے چہرے پر کرب چھا گیا۔ آنکھوں میں نمی بھر آئی، ہونٹ لرزنے لگے۔ اس نے آہستگی سے جواب دیا
“بی ایل ایف کا کیمپ تو ہم نے تباہ کر دیا… مگر… میری ٹیم… میرے سبھی سپاہی شہید ہو گئے ہیں۔ میں خود بھی شدید زخمی ہوں۔”
یہ الفاظ کہتے ہوئے اس کی آواز بھاری ہوگئی۔ جیسے ہر لفظ کے ساتھ اس کے سینے پر بوجھ بڑھ رہا ہو۔

،دوسری طرف لمحہ بھر خاموشی چھا گئی۔ پھر محمود بدری کی گہری سنجیدگی میں ڈوبی آواز کانوں میں گونجی
“انا للہ وانا الیہ راجعون… اللہ ہمارے شہداء کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ آمین۔ سر… کیا آپ کو فوری مدد کی ضرورت ہے؟”

،زید نے آنکھیں بند کر لیں اور گہری سانس لے کر بولا
نہیں… اب مدد کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہم تو جنگ ہار گئے تھے مگر پھر… عجیب و غریب درندے نمودار ہوئے۔”

انہوں نے دشمن کا پورا کیمپ چیر پھاڑ دیا۔ میں بمشکل جان بچا کر نکل آیا۔

” تم بس ہائی کمانڈ کو اطلاع دے دینا کہ ہمارے شہداء کے جسد خاکی لے جائیں اور انہیں عزت و تکریم سے دفنائیں۔

یہ کہتے ہی اس نے موبائل کال ختم کر دی۔ چند لمحے اسے ہاتھ میں گھماتا رہا پھر اچانک میز پر پڑا پتھر اٹھایا اور پوری قوت سے موبائل پر دے مارا۔ شیشے اور سرکٹ کی ٹکڑیاں بکھر گئیں۔ وہ موبائل اب بے جان وجود کی طرح میز پر پڑا تھا۔ پھر اس نے آہستہ آہستہ قدم باہر کی طرف بڑھا دیئے۔

°°°°°°°°°°

درندہ… زافیر… واپس لوٹ آیا۔ وہ زید کے سامنے آ کھڑا ہوا اور سرخ شعلہ زن آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے خاموشی سے اپنے پنجے سے اشارہ کیا، گویا کہنا چاہتا ہو، میرے ساتھ چلو۔

،زید کا جسم نڈھال تھا۔ ہڈیوں میں سکت باقی نہیں رہی تھی۔ اس نے بوجھل سانس کے ساتھ، لرزتی آواز میں کہا
“نہیں… تم چلے جاؤ… میں بھاگنے کی حالت میں نہیں ہوں… میں اپنا راستہ خود تلاش کر لوں گا۔”
یہ کہہ کر زید نے نظریں جھکا لیں۔ ایک پل کو دونوں کے درمیان خاموشی چھا گئی۔

زافیر نے ساکت کھڑے ہو کر گہری سانس لی جیسے اپنے اندر کے خونخوار درندے اور انسان میں فیصلہ کر رہا ہو۔ پھر اچانک وہ جھکا اور زید کو بازوؤں میں اٹھا لیا۔ اس کے پنجے زید کے جسم کو زخمی کیے بغیر اسے مضبوطی سے تھامے ہوئے تھے۔ زید نے چونک کر اس کی آنکھوں میں دیکھا، وہاں ایک وحشی درندے کی سرخی کے ساتھ ایک دھندلا سا انسانی سایہ بھی جھلملاتا دکھائی دیا۔

چند قدم وہ آہستہ چلا، زمین اس کے بوجھل قدموں سے دھیرے دھیرے لرزتی محسوس ہوئی۔ پھر وہ یکدم جھپٹا… گویا کوئی جنگلی بھیڑیا اندھیروں کو پھاڑ کر دو پیروں پر دوڑ رہا ہو۔ اس کی رفتار لمحہ بہ لمحہ بڑھتی گئی۔ اردگرد کا منظر زید کی آنکھوں کے سامنے دھندلی لکیروں میں بدلنے لگا۔ ٹھنڈی ہوا خنجر کی طرح اس کے چہرے کو کاٹتی جارہی تھی۔ زید نے خوف اور بےیقینی کے ملے جلے احساس میں آنکھیں بند کر لیں۔

وادیوں اور پہاڑوں کے اوپر سے، کافی دیر دوڑنے کے بعد زافیر رک گیا۔ جب زید نے آنکھیں کھولیں تو وہ ایک سنسان جھیل کے کنارے تھے۔ پہاڑی کے دامن سے گرتا ہوا پانی بجلی کی گڑگڑاہٹ جیسی آواز پیدا کر رہا تھا۔

زافیر نے زید کو آہستگی سے ایک صاف جگہ پر بٹھایا۔ اس کی سانسیں دھیمی دھیمی غراہٹ کے ساتھ چل رہی تھیں۔ پھر اچانک وہ سیدھا کھڑا ہوا، لمحہ بھر بعد اس نے زمین پر پنجے گاڑ کر ایک لمبی، غیر انسانی چھلانگ لگائی اور دھڑام سے جھیل کے گہرے پانی میں جا اترا۔ پانی کے چھینٹے ہر طرف پھیل گئے اور لمحہ بھر بعد جھیل دوبارہ خاموش ہوگئی جیسے اس نے زافیر کو نگل لیا ہو۔

°°°°°°°°°°

آبیاروس اپنے تخت نما پتھر پر اپنے شاہی جلال کے ساتھ بیٹھا تھا۔ اس کے پورے وجود سے پانی مسلسل بہہ رہا تھا جو اس کے جسم سے نکل کر چاروں طرف بہتا ہوا چھوٹے چھوٹے ندی نالوں کی صورت اختیار کرتا جا رہا تھا۔ آنکھوں میں وہ رعب اور غرور جھلک رہا تھا جو صرف بادشاہوں کا ہی خاصہ ہوتا ہے۔

اس کے سامنے ہی چالیس ہزار سپاہیوں کی منظم قطاریں ایک وسیع و عریض میدان میں صف بستہ کھڑی تھیں۔ ان کے جسم انسانی ساخت کے تھے لیکن ہاتھوں میں انگلیوں کی جگہ چمکتے ہوئے نوکدار خنجر جُڑے ہوئے تھے جو اُن کے بدن کا فطری حصہ تھے۔ ان کے جسموں کے مساموں سے پسینہ رواں تھا لیکن یہ پسینہ قطروں میں نہیں بلکہ باریک دھاروں کی صورت میں بہہ کر زمین میں جذب ہو رہا تھا۔

دونوں قطاروں کے درمیان، ایک کشادہ راستہ چھوڑا گیا تھا اور اسی راستے پر کازمار کے دو سپاہی قدم بہ قدم آگے بڑھ رہے تھے۔ ان کے قدموں کی چاپ پتھریلے راستے پر گونج رہی تھی۔ ان کے آبیاروس کے ریاست میں ہونے کی وجہ سے، ماحول میں عجب کشیدگی اور تناؤ سا بنا ہوا تھا۔

آبیاروس کے سپاہی انہیں ایسی نفرت آمیز نظروں سے گھور رہے تھے جیسے ابھی اجازت ملے اور وہ دونوں کی آگ لمحے میں بجھا دیں۔ ان کی آنکھوں میں نفرت کی شدت تھی مگر ضبط کی زنجیریں انہیں تھامے کھڑی تھیں۔

،جب وہ تخت کے قریب پہنچے تو آبیاروس کا چہرہ سختی سے تن گیا۔ اس نے اپنی گھمبیر اور گرجدار آواز میں کہا
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی کہ ہماری سرزمین پر قدم رکھا؟”

،کازمار کا ایک سپاہی آگے بڑھا، اس کے چہرے پر حقارت تھی اور لہجے میں زہر بھرا ہوا تھا
“ہم آپ کے لیے شاہی فرمان لائے ہیں… اپنے آگ کے فرمانروا، کازمار کا پیغام لائے ہیں۔”

آبیاروس کے تیور اور سخت ہو گئے جیسے زمین لرزنے لگی ہو۔
دفع ہوجاؤ اور کازمار سے کہو، اگر بات کرنی ہے تو خود یہاں آکر بات کرے۔”

“پردے کے پیچھے بیٹھ کر سپاہی بھیجنا، کسی بادشاہ کا کام نہیں بزدلوں کا کام ہے۔

،سپاہی نے سر کو ذرا سا جھٹکتے ہوئے، غصے اور نفرت بھرے لہجے میں جواب دیا
“آپ اپنی حد پار کر رہے ہیں… اگر آپ نے اس پیغام کو نہ سنا تو اپنی موت کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے۔”

،آبیاروس کی آنکھوں میں غصہ ابھر آیا اور وہ طوفان کی طرح گرجا، اس کی آواز پتھروں سے ٹکرا کر گونجی،
“…تمہاری اتنی جرأت کہ مجھے دھمکاؤ… بادشاہ آبیاروس کو”
،اس کا لہجہ ایسا تھا جیسے اس کے لفظوں میں آسمانی بجلی کوند آئی ہو۔ وہ تنبیہ انداز اپناتے ہوئے مزید بولا
“!…اپنی بکواس یہیں بند کرو اور میری سلطنت سے نکل جاؤ… ورنہ یہیں بجھا دیئے جاؤ گے”
اس کے دہاڑنے پر فضا میں ایک لرزہ سا طاری ہوگیا، سپاہیوں کی انگلیوں میں جڑے خنجر نما ناخن چمک اٹھے اور فضا یکسر دشمنی کی لہروں میں بدل گئی۔

سپاہی پر آبیاروس کی دھمکی کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس کے لہجے میں وہی تلخی اور سختی باقی رہی۔ وہ مزید بولا،
“ہمارے آگ کے فرمانروا، کازمار کا حکم ہے کہ آپ اپنی فوج کو سرحد پر پھیلا دیں۔”

یہ سن کر آبیاروس کا غصہ آسمان کو چھونے لگا۔ وہ اپنے تخت نما پتھر سے یکدم اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کے وجود سے بہتا پانی آبشار کی صورت میں میدان میں پھیلنے لگا، پتھروں سے ٹکرا کر ندی نالوں کی صورت اختیار کر رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں بجلیاں کوندنے لگیں۔

،اس کی بھڑکیلی اور طنزیہ آواز پھر گرجی
“کیا اب کازمار ہمیں حکم دے گا؟”

اس بار اس کا لہجہ اتنا بھاری اور لرزہ خیز تھا کہ زمین کانپنے لگی، بہتی آبشاروں کی روانی مزید تیز ہوگئی۔

سپاہی پھر بھی ڈٹا رہا۔ اس نے اپنی نظریں آبیاروس کی آنکھوں میں ڈال دیں۔ یہ ایک ایسی جسارت تھی جو کم ہی کوئی کر سکتا تھا۔

،اس کی آواز میں اک ضد تھی
“حکم عدولی کی صورت میں…”

یہ سن کر دوسرے سپاہی کے قدم ڈگمگانے لگے۔ وہ خوفزدہ ہوکر پیچھے ہٹنے لگا، لیکن پیغام سنانے والا اپنی جگہ جما رہا۔ اسے یقین تھا کہ آبیاروس، چاہے کچھ بھی ہوجائے… کازمار کے سپاہی کو ہاتھ نہیں لگائے گا۔

،سپاہی نے غرور سے مزید گردن اٹھا لی اور سینے میں اکڑاؤ لاتے ہوئے الفاظ پر زور دیا
“آگ کے فرمانروا کازمار خود آئیں گے۔۔۔ اور آپ کا سر دھڑ سے جدا۔۔۔”

اس کا جملہ ابھی مکمل بھی نہیں ہوا تھا کہ آبیاروس کا صبر ٹوٹ گیا۔ اس نے اپنا ہاتھ بلند کیا۔ اگلے ہی لمحے اس کے ہاتھ سے یوں پانی کی تیز لہر نکلی جیسے کسی ڈیم کا بند ٹوٹ گیا ہو۔ پانی کا سیلاب سپاہی سے جا ٹکرایا۔

دھواں فضا میں پھیل گیا۔ یوں لگا جیسے جلتی ہوئی لکڑی پر یکدم پانی انڈیل دیا گیا ہو۔ سپاہی کا شعلہ لرزا، بجھا اور پھر اس کا وجود سیاہ کوئلے کی مانند فرش پر آ گرا۔ وہ ہمیشہ کے لیے بجھ چکا تھا۔

وسیع میدان میں سناٹا چھا گیا۔ صرف پانی کی موجیں تھیں جو تیزی سے میدان سے نکل کر ندی نالوں میں بہنے کو بے تاب تھیں۔

اب آبیاروس نے ہاتھ نیچے کیا اور اپنی خونخوار آنکھوں سے دوسرے سپاہی کو گھورا۔ آبیاروس کی آنکھوں کی سرخی اور چہرے پر پھیلی سفاکی نے فضا کو یخ بنا دیا۔ وہ سپاہی جو درحقیقت رینا کا وفادار تھا، دہشت سے کانپتے ہوئے یکدم سجدے کی سی حالت میں زمین پر گر گیا۔ اس کے ہاتھ لرزتے ہوئے جُڑ گئے اور وہ ہانپتی آواز میں گڑگڑایا،
“…گستاخی معاف کر دیجیے میرے آقا… یہ نادان خطا کار تھا… میری جان بخش دیجیے”

چند لمحے آبیاروس اسے یونہی گھورتا رہا۔ میدان میں پھیلی خاموشی سپاہی کے دھڑکتے دل کی دھک دھک میں ڈوبی جا رہی تھی۔ پھر آبیاروس نے دھیرے سے سر پلٹایا اور اپنے تخت نما بڑے پتھر پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔

،اب اس کی آواز میں پہلی بار ایک سرد مگر قابو میں لایا ہوا ٹھہراؤ تھا
کازمار سے جا کر کہنا… میں جنگ نہیں چاہتا۔ اپنے اوچھے ہتھکنڈے چھوڑ دے۔”

” اگر اس نے ہم پر جنگ مسلط کی… تو پھر ہم کازمار کو ایسا کاری جواب دیں گے کہ ملکہ دارونتھا بھی اس کے بھیانک انجام سے پناہ مانگے گی۔

،سپاہی نے سر جھکائے سجدے جیسی حالت ہی میں کپکپاتی زبان سے کہا
“جو حکم، میرے آقا… میں پیغام پہنچا دوں گا۔”

،آبیاروس کی آنکھوں میں دوبارہ سختی اتر آئی۔ وہ دھاڑا
“اب اٹھو… اپنے ساتھی کی لاش اٹھاؤ… اور دفع ہو جاؤ یہاں سے۔”

سپاہی لرزتے ہوئے کھڑا ہوا۔ اس نے اپنے ساتھی کی بجھی ہوئی لاش بازو سے پکڑنے کی کوشش کی مگر جیسے ہی کھینچا، سوکھے کوئلے کی طرح بازو ٹوٹ کر اس کے ہاتھ میں آگیا۔ اس کی آنکھوں میں دہشت کی لکیریں مزید گہری ہو گئیں۔ وہ کپکپاتے ہاتھوں سے لاش کے سینے کو کھینچنے لگا مگر وہ بھی ریزہ ریزہ ہو کر بکھر گیا۔

،آبیاروس کی بھاری آواز دھاڑ کی مانند گونجی
“!…میں نے کہا یہ کچرے کا ڈھیر اٹھاؤ… اور دفع ہو جاؤ یہاں سے”

سپاہی کے وجود پر جیسے بجلی سی گری۔ وہ جلدی جلدی لاش کے جلے ہوئے ٹکڑوں کو سمیٹنے لگا… کہیں سے سر، کہیں سے بازو، کہیں سے ٹانگ، جو بھی ہاتھ آیا، لپیٹ کر بازوؤں میں بھر لیا۔ اس کی سانسیں پھٹ رہی تھیں اور آنکھوں میں خوف کے گہرے سائے تھے۔

پھر وہ لڑکھڑاتا ہوا الٹے قدموں پیچھے پلٹا اور دوڑنے لگا۔ اس کے قدموں کی آواز ایسے تھی جیسے موت اس کے پیچھے بھاگ رہی ہو۔ وہ جانتا تھا کہ آبیاروس کے حکم پر ایک پل کی تاخیر بھی اس کے لیے موت ثابت ہو سکتی ہے۔
چند پل قبل، موت اس کی ناک کے قریب سے ہوکر گزری تھی اور وہ یہ حقیقت اپنی ہڈیوں میں اترتے خوف کے ساتھ محسوس کر رہا تھا۔

آبیاروس کچھ دیر تک اسے بھاگتے ہوئے دیکھتا رہا۔ اُس کی آنکھوں میں گہری سنجیدگی اور آنے والے طوفان کا ادراک جھلک رہا تھا۔ پھر وہ آہستگی سے اپنے سپاہیوں کی طرف متوجہ ہوا۔ اس کی آواز میں ٹھہراؤ تھا مگر اس کے لہجے میں چھپی سختی نے ماحول کو بھاری کر دیا۔
“تیار رہو میرے سپاہیو…! دہاڑ لگاؤ… جنگ قریب ہے۔”

سپاہیوں نے یکدم اپنے دائیں پیر اُٹھائے، انہیں بیک وقت زمین پر مارا، دھرتی لرز اُٹھی۔ پہاڑوں کی گونج جیسے آسمان تک جا پہنچی۔ زمین میں لمبی اور گہری دراڑیں اُترنے لگیں جو کئی میٹر تک پھیل گئیں۔ ہر دراڑ سے پانی ابلنے لگا… پہلے چند قطرے، پھر دھاروں کی صورت میں اور پھر وہ دھارے جسمانی ہیولوں میں ڈھلنے لگے۔

پانی کے وجود ہولناک رفتار سے سپاہیوں کے درمیان اُبھرنے لگے۔ لمحوں میں منظر بدل گیا۔ جہاں پہلے چالیس ہزار سپاہی کھڑے تھے، وہاں اب تعداد بڑھتے بڑھتے چالیس لاکھ تک جا پہنچی تھی۔ ہر نیا وجود پانی سے بنا مگر شکل اور انداز انسان جیسا تھا۔ یہ ایک عارضی فوج تھی جو آبیاروس کے ماتحت تھی۔ جسے صرف ضرورت پڑنے پر ہی زندہ کیا جاسکتا تھا اور کام مکمل ہونے کے بعد یہ خود ہی پانی میں مل کر مِٹ جاتے تھے۔ ان کے قدم زمین کو بوجھل کر رہے تھے اور ان کی سانسیں فضا کو دہلا رہی تھیں۔

آبیاروس کے چہرے پر عجیب سا سکوت تھا۔

وہ جانتا تھا کہ یہ مظاہرہ محض طاقت کی جھلک ہے تاکہ کازمار کا سپاہی اسے واپس جاکر بتا سکے کہ اس بار آبیاروس سے جنگ آسان نہیں ہوگی۔

…اب سب کے دلوں میں ایک ہی یقین جاگ چکا تھا
…جنگ دہلیز پر دستک دے رہی ہے

°°°°°°°°°°


وہ لگ بھگ دو گھنٹے بعد جھیل کے ٹھنڈے اور سیاہ پانی سے ابھرا۔ اس کے بھیگے ہوئے بال اور جسم سے پانی کے قطرے زمین پر گر رہے تھے۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا زید کے پاس آیا اور اس کے قریب ہی بیٹھ گیا۔ اردگرد خاموشی ایسی تھی کہ صرف پانی کے ٹپکنے اور دور گرتے آبشار کی گونج سنائی دے رہی تھی۔

کافی دیر دونوں یونہی چپ بیٹھے رہے۔ زید کے دل میں تجسس اور خوف آپس میں گتھم گتھا تھے۔ بالآخر وہ خود کو روک نہ سکا اور دبی ہوئی آواز میں بولا،
“کیا تم ہمیشہ سے ہی… درندے تھے؟”

زافیر نے لمحہ بھر کے توقف کے بعد آہستہ سے سر نفی میں ہلایا۔ اس کی آنکھوں میں ایک گہرائی تھی جسے سمجھنا زید کے بس میں نہیں تھا۔
“نہیں… ہمیشہ سے نہیں۔ یہ دوسری بار تھی۔”

زید کی پیشانی پر شکنیں ابھریں۔ اس کے لہجے میں حیرت اور کھوج تھی،
“پہلی بار کب…؟”

،زافیر کی نگاہیں زمین پر جمی رہیں، وہ تحمل سے بولا
“جب مجھے ضمیر نے اغوا کیا تھا۔ تب پہلی بار یہ روپ آیا۔ لیکن اُس وقت میں کسی جنگلی جانور کی طرح تھا… عقل سے بالکل خالی۔ قابو سے باہر۔”

،یہ سنتے ہی زید کے دل میں ایک اور سوال انگڑائی لینے لگا۔ اس نے ہچکچاہٹ کے ساتھ کہا
“میں نے دیکھا کہ تمہارا چہرہ خون سے لال تھا… جب درندے بن جاتے ہو تو کیا انسانوں کو بھی کھا جاتے ہو؟”
اس کے سوال میں خوف اور شک دونوں جھلک رہے تھے۔

،زافیر کے لبوں پر ایک مدھم سی مسکراہٹ آئی۔ ایک بار اس کے من میں آیا کہ سب بتا دے لیکن پھر اس نے نفی میں سر ہلا دیا
“نہیں زید صاحب… میں بھی آپ کی طرح انسان ہی ہوں۔”

یہ کہہ کر وہ کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اچانک زید کی آنکھوں میں سیدھا دیکھتے ہوئے اپنی آواز میں ایک بوجھل سنجیدگی لے آیا اور فرضی باپ کی فرضی کہانی سنانے لگا،
“آپ جانتے ہیں… میرے بابا اچانک غائب ہوگئے تھے۔ کوئی نشان، کوئی سراغ… کچھ بھی نہیں ملا تھا۔ سب نے سمجھا وہ مر گئے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اُن کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا تھا۔ ایسا حادثہ… جس نے انہیں درندہ بنا دیا۔”

زافیر کا لہجہ مضبوط تھا، الفاظ سے سچ اور جھوٹ کو پرکھنا ممکن نہیں تھا۔ وہ لمحہ بھر کو رکا اور پھر آہستگی سے بولا،
“میں ہمیشہ سوچتا رہا کہ یہ لعنت… یہ روپ… صرف بابا تک ہی محدود رہا۔ لیکن میں غلط تھا۔ یہ ان کی وراثت تھی… اور وہ وراثت اب مجھ تک پہنچ چکی ہے۔ عام حالات میں میرے ساتھ ایسا نہیں ہوتا لیکن جب آپ کی جان پر خطرہ محسوس ہوا تو گھبراہٹ سے درندے کے روپ میں بدل گیا۔”

یہ کہتے ہی اس نے سر جھکا لیا۔ اس کے کندھے ڈھلک گئے۔ وہ یوں ظاہر کر رہا تھا جیسے اندر سے ٹوٹ گیا ہو۔ اس کا انداز ایسا تھا جیسے اپنے ہی وجود پر شرمندہ ہو، جیسے اپنے ہی وجود سے نفرت کرنے لگا ہو۔

زید کے دل پر ایک عجیب سا بوجھ بن گیا۔ وہ یہ فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ سامنے بیٹھا وجود اس کا ساتھی ہے یا ایک بلا۔

زید کچھ دیر زافیر کو دیکھتا رہا۔ اس کی سانسیں بوجھل تھیں اور آنکھوں میں عجیب سا کھچاؤ۔

،پھر وہ آہستگی سے قریب آیا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بوجھل لہجے میں بولا
“تمہارے درندہ بننے کے باوجود، میں نے تمہارے اندر انسانیت دیکھی ہے۔ تم بہتر ہو… سبھی انسانوں سے بہتر ہو۔”

یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں میں نمی بھر آئی۔ قطرے پلکوں سے پھسل کر رخسار پر بہنے لگے۔ زافیر نے پہلی بار زید کی آنکھوں میں یوں آنسو دیکھے تھے۔
،زید کی آواز کانپ رہی تھی
“…مجھ سے تو ہزار گنا بہتر ہو… تم نے دہشت گردوں کو مار دیا لیکن معصوموں کو زندہ چھوڑ دیا۔ اور میں”

،اس کے الفاظ گلے میں اٹک گئے۔ آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہہ نکلا۔ وہ ہچکی دبا کر بولا
میں نے عورتوں اور بچوں کو مار ڈالا… بھلے ہی جان بوجھ کر نہیں، مگر میں ان کا قاتل ہوں۔”

“ان کا خونی ہوں۔ ایک ایسا گناہ… جس کی کوئی معافی نہیں۔

یہ کہتے ہوئے اس نے سر جھکا لیا۔ اس کی شرمندگی اور پچھتاوا اسے اندر سے نوچ رہا تھا۔ زافیر کے پاس کوئی لفظ نہیں تھے… وہ خاموشی سے بس اسے دیکھتا رہا۔

اسی لمحے فضا یکا یک بدل گئی۔ آسمان پر کالے بادل تیزی سے چھا گئے، جیسے کسی نے سورج کو کفن اوڑھا دیا ہو۔ اجالا اچانک بجھ گیا اور ہر سمت گہری سیاہی پھیل گئی۔

کڑاکے دار بجلیوں نے آسمان کو چیر ڈالا، جیسے آسمان بھی اس اعترافِ جرم پر لرز اٹھا ہو۔ گرجدار کڑک سے زمین ہلنے لگی اور ہوا میں ایک دہشت انگیز شور پھیل گیا۔ پھر اچانک موسلا دھار بارش برسنے لگی۔

بارش کے قطرے، مٹی اور پتھروں پر گر کر ٹوٹ رہے تھے۔ بارش کی شدت ایسی تھی کہ ہر طرف دھندلکا چھا گیا۔ بوندوں کی تیز چوٹ گویا زمین پر ہزاروں ڈھول بجا رہی تھی۔

زید کے آنسو بارش میں مل گئے، یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ اس کے رخسار پر بہنے والا پانی آنسو تھا یا بارش کی بے رحم بوندیں۔ اس کے اقرارِ جرم کی صدا، آسمان کی گرج اور بارش کے شور میں گم ہوگئی۔

زافیر بارش سے بھیگتا ہوا چپ چاپ بیٹھا رہا۔ اس کی آنکھوں میں بجلیوں کی چمک جھلک رہی تھی مگر اندر ایک خاموش طوفان پل رہا تھا۔

بارش اب بھی موسلا دھار برس رہی تھی۔ دونوں کچھ دیر تک یونہی بھیگتے رہے۔ قطرے ان کے جسموں سے یوں ٹکرا رہے تھے جیسے آسمان زمین پر اپنی تمام غضب ناکی انڈیل رہا ہو۔ پھر زافیر آہستگی سے اٹھا اور زید کی طرف دیکھتے ہوئے بولا،
“چلیے زید صاحب… ہمیں نکلنا ہوگا۔ یہ ہاتھوں اور پیروں کے ناخن خود بخود ختم نہیں ہوں گے۔ انہیں کاٹنے کے لیے اوزار چاہیے… اور وہ ہمیں کسی بستی میں ہی ملے گا۔”

زید خاموشی سے زمین کو گھورتا رہا، بوجھل دل کے ساتھ سانسیں لیتا رہا پھر جیسے اندر سے شکستہ حوصلہ جوڑتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا اور زافیر کے ساتھ چلنے لگا۔

بارش ان کے قدموں کے نیچے کیچڑ کو پھیلا رہی تھی، آسمان مسلسل گرج رہا تھا۔ مگر زافیر کے چہرے پر پہلی بار ایک سکون چھلک رہا تھا۔ اس کے وجود پر چھائی ہوئی گھٹن کچھ لمحوں کو ہلکی ہوئی تھی۔ وہ مطمئن تھا کہ اس نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا خطرہ ختم کر دیا ہے۔ اب آبرو اور حورا محفوظ ہیں۔ سبھی اندیشے ختم ہو گئے ہیں۔

…لیکن وہ نہیں جانتا تھا
…کہ اب تک جسے وہ خطرہ سمجھتا رہا
…وہ محض ریت کے چند ذرے تھے

اصل طوفان ابھی بیدار ہونا باقی تھا۔
اصل ہولناکی ابھی سامنے آنا باقی تھی۔
وہ اندھی طاقت… جو تیزی سے اس کی طرف بڑھ رہی تھی۔

ایسا خطرہ… جو اس کی سوچ سے کہیں بڑا تھا۔
ایسا عذاب… جو اس کی طاقت، اس کی عقل، حتیٰ کہ پوری انسانیت کو بھی روند ڈالنے والا تھا۔

وہ قیامت جس کے سامنے زافیر محض ایک تنکے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا تھا۔
…رینا اور زمار
…تباہی کا وہ طوفان
جو دونوں دنیاؤں کا خاتمہ کرنے والا تھا۔

°°°°°°°°°°

…جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *