ناول درندہ

قسط نمبر 29

باب سوّم: شبکہ

مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°

آگ کا فرمانروا کازمار اپنے آتشیں تخت پر براجمان تھا۔ اس کے وجود سے جلال ٹپک رہا تھا اور چہرے پر ایسا غیض و غضب تھا جیسے شعلے کسی بھی لمحے اس کی آنکھوں سے نکل کر سب کچھ جلا دیں گے۔ اس کی نگاہوں کی تپش کا مرکز رینا تھی جو اس کے سامنے گھٹنوں کے بل لرزتی ہوئی بیٹھی تھی۔

،رینا نے کپکپاتے لہجے میں عرض کیا
“معاف کر دیں میرے آقا…! میں نے صرف احتیاط کے طور پر ایلچی بھیجا تھا تاکہ آبیاروس اپنے ناپاک عزائم سے باز آجائے۔”

،کازمار کا چہرہ اور سرخ ہوگیا، وہ دھاڑتے ہوئے بولا
“تمہاری جرات کیسے ہوئی…؟ میری اجازت کے بغیر سلطنت کے خارجی معاملات میں مداخلت کرنے کی؟”

،رینا کانپتی ہوئی آواز میں بولی، اس کے لفظوں میں بناوٹی مگر مؤثر کمزوری تھی
میں سزا کی مستحق ہوں میرے آقا۔ مگر مجھے اندیشہ تھا کہ آپ اجازت نہیں دیں گے، اسی لیے یہ قدم اٹھانا پڑا۔”

” اور… میرا خوف درست نکلا۔ آبیاروس واقعی ایک عظیم جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔

یہ سنتے ہی کازمار کے تیور بدل گئے۔ اس کے غصے کی شدت کچھ کم ہوئی اور چہرے پر حیرت و فکر کے آثار نمودار ہونے لگے۔

، اسے محسوس ہوا کہ رینا ایسی کوئی حقیقت جانتی ہے جس سے وہ خود بے خبر ہے۔ اس کی آواز میں پہلی بار نرمی در آئی
“تمہیں اس قدر یقین کیسے ہے؟ کیا تمہارے ایلچی کو آبیاروس نے جنگ کی براہِ راست دھمکی دی؟”

اس کی آنکھیں، جو لمحہ بھر پہلے دہکتے انگاروں کی طرح تھیں، اب سوالیہ شعلوں کی مانند رینا پر جمی تھیں۔

،رینا جھٹ سے بولی
“میں چاہتی ہوں کہ آپ سب کچھ ایلچی کی زبانی سنیں۔ وہ آپ سے ملنے کا منتظر ہے… دروازے پر ہی کھڑا ہے۔”

کازمار چند لمحے سنجیدگی سے سوچتا رہا، پھر ہاتھ اٹھا کر گیٹ پر کھڑے پہرے داروں کو اشارہ دیا۔ دربانوں نے آہستگی سے دونوں دروازے دھکیلے۔ بھاری لکڑی اور لوہے کی پلیٹوں کے رگڑنے سے دروازوں میں ایک خوفناک چرچراہٹ گونجی۔ دربار کی گھمبیر فضا میں یہ آواز کسی شگاف کی مانند محسوس ہوئی۔

اندر قدم رکھتے ہی ایک سپاہی کازمار کی نگاہوں کا مرکز بن گیا۔ اس کے ہاتھ میں اپنے ساتھی کی کوئلے کی طرح سیاہ جلی ہوئی کھوپڑی اور ایک بازو تھا۔ اس منظر کو دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ موت کا سبب پانی تھا جس نے آگ کے سپاہی کو بجھا کر سیاہ کوئلے میں بدل دیا۔

،کازمار کی آنکھیں دہکتے انگاروں کی مانند لال ہو گئیں۔ وہ گرجا
“کس نے یہ جسارت کی… میرے سپاہی کو مارنے کی؟”

،سپاہی نے اپنے ساتھی کی باقیات فرش پر رکھ دیں اور گھٹنوں کے بل جھک کر سر خم کیے عرض کیا
میرے آقا… میرا ساتھی نہایت شرافت اور تہذیب سے آپ کا پیغام پہنچا رہا تھا۔ “

مگر آبیاروس نے تکبر کے نشے میں اِسے بے رحمی سے ہلاک کر دیا۔

“!…ہم نے وہاں ظّلاب کی فوج بھی دیکھی… لاکھوں کی تعداد میں

یہ سنتے ہی کازمار کے وجود سے لپٹنے والی آگ بھڑک اٹھی۔ تخت کے شعلے پھیل کر چھت تک لپکنے لگے۔

:اس کی دہاڑ دربار کی دیواروں کو ہلا گئی
“آبیاروس کی یہ جرات…! وہ میرا سپاہی مارے اور پھر جنگ کی دھمکی بھی دے؟”

کازمار تڑپ کر اپنے تخت سے اٹھ کھڑا ہوا۔ تخت کی آگ شعلوں کی صورت میں اس کی کمر سے نکل کر پروں کی طرح پھیل گئی۔ اب تخت صرف سرخ دہکتے پتھروں کا ڈھانچا رہ گیا تھا۔ دربار کے سپاہی یہ منظر دیکھ کر کانپ اٹھے۔

رینا کے چہرے پر دبی سی مسرت تھی جسے وہ مشکل سے چھپا رہی تھی۔ اس کے دل میں شیطانی خوشی سرسرانے لگی… وہ جانتی تھی کہ اس کا منصوبہ کامیاب ہو گیا ہے، وہ جنگ کی آگ بھڑکانے میں کامیاب ہو چکی ہے۔

کازمار نے تخت سے نیچے قدم رکھا تو زمین کی مٹی پگھل کر لاوے میں بدلنے لگی۔ دربانوں نے گھبرا کر دروازے مکمل کھول دیے۔

،کازمار کی آواز دہکتے لاوے کی طرح گونجی
“!…جنگ کی تیاری کرو… ہم آبیاروس کی آبی سلطنت کو بھاپ میں اڑا دیں گے”

یہ کہہ کر وہ شعلوں کے حصار میں لپٹا دربار سے نکل گیا۔ رینا سر جھکائے کھڑی رہی مگر اس کے لبوں پر اب ایک شیطانی مسکراہٹ کھل گئی تھی۔ انتقام کے سفر میں وہ دوسرا زینہ عبور کر چکی تھی۔

°°°°°°°°°°


:متوازی دنیا
انسانی ذہن صدیوں سے کائنات کے اسرار پر غور کرتا آیا ہے۔ وقت، مکان اور مادے کی حقیقت کے بارے میں جتنے سوالات ہیں اتنے ہی نظریات بھی موجود ہیں۔ ایک غیر مصدقہ نظریہ یہ ہے کہ ہماری زمین پر بیک وقت دو دنیائیں چل رہی ہیں۔

ایک وہ حقیقی دنیا جسے ہم آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور یہی ہمارا گھر ہے۔
دوسری وہ متوازی دنیا جو ہماری نظروں سے اوجھل ہے لیکن اس کے اثرات ہمارے آس پاس موجود ہیں۔
یہ دونوں دنیائیں سکے کے دو پہلوؤں کی طرح ہیں، پردے کی دو اطراف یا آئینے کی مانند…
لیکن ان میں وقت اور فضا کے اصول مختلف ہیں۔ متوازی دنیا میں اندھیرا محض روشنی کی غیر موجودگی نہیں بلکہ ایک الگ جاگتا وجود ہے۔ اسی طرح روشنی، پانی، مٹی، ہوا اور آگ بھی خود مختار اور بیدار عناصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

متوازی دنیا کی فضا عام انسانوں کے لیے اجنبی اور تباہ کن ہے کیونکہ وہ دنیا انسانی جسم و روح کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔

ماہرین بھی اس سلسلے میں حیران کن ملتے جلتے الگ نظریات پیش کر چکے ہیں۔
Space Time Continuumاور Theory of Relativityآئن سٹائن کے

کے تصورات نے یہ خیال جنم دیا کہ کائنات میں وقت اور جگہ کے متوازی دھارے موجود ہو سکتے ہیں۔

کوانٹم مکینکس میں
Many Worlds Interpretation
یہ کہتی ہے کہ ہر فیصلہ ایک نئی دنیا کو جنم دیتا ہے یعنی ہر ممکن نتیجہ کسی نہ کسی متوازی جہان میں حقیقت اختیار کرتا ہے۔ اسی طرح کئی دیگر سائنسدانوں نے اس امکان کو سائنسی بنیادوں پر پیش کیا کہ ہمارے ارد گرد لاتعداد دنیائیں چل رہی ہیں جن تک عام حالات میں ہماری رسائی ممکن نہیں۔

کچھ ایسے واقعات بھی ہیں جو انسان کے دل میں شک ابھارتے ہیں کہ واقعی کوئی متوازی دنیا موجود ہے۔

کہا جاتا ہے۔Time Slipsمثال کے طور پر دنیا بھر میں ایسے کئی کیسز ملے ہیں جنہیں


جہاں لوگ اچانک کسی اور زمانے یا جگہ میں پہنچ گئے اور چند لمحوں بعد واپس اپنی دنیا میں لوٹ آئے۔
مشہور مینڈیلا ایفیکٹ بھی ایک دلچسپ مثال ہے جس میں کروڑوں لوگ ایک ہی واقعے یا حقیقت کو الگ انداز میں یاد کرتے ہیں۔
جیسے کہ انہوں نے کسی دوسری حقیقت کو جیا ہو۔ اسی طرح قدیم تہذیبوں کی کتابوں میں خفیہ پردے اور دوسری دنیاؤں کے دروازوں کا ذکر ملتا ہے جو ہمیں ایک دنیا سے دوسری دنیا میں لے جا سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ کچھ ایسے شواہد جن کے مطابق کوئی انسان کسی غار، جنگل یا گھر سے اچانک غائب ہوگیا۔ کئی بار ایسے واقعات ہوئے جن میں لوگ اپنے گھروں کے بند دروازوں سے غائب ہوگئے۔ وہ دروازے جو اندر سے بند تھے اور بدستور بند رہے لیکن وہاں کے مکین کہاں گئے یہ ایک معمہ بن گیا جو کبھی حل نہ ہوسکا۔

یہ تمام دلائل، سائنسی نظریات اور حیران کن واقعات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ شاید ہماری دنیا کے ساتھ ساتھ ایک اور دنیا بھی رواں دواں ہو۔
وہ دنیا ہماری آنکھوں سے اوجھل ہے مگر اس کی موجودگی کئی بار ہمارے احساسات، خوابوں اور بعض ناقابلِ فہم تجربات میں بھی جھلکتی رہتی ہے۔
شاید کبھی آنے والے وقت میں سائنس وہ دروازہ کھول دے جس کے پیچھے یہ متوازی دنیا ہماری منتظر ہے۔
یا پھر شاید کئی لوگ ان دروازوں سے گزر چکے ہوں؟
یہ بھی ممکن ہے کہ آنے والے وقت میں متوازی دنیا کی مخلوقات ہی دروازہ پار کرتے ہوئے ہماری دنیا میں پہنچ آئیں؟
سائنس اور انسانی عقل کا تقاضہ ہے کہ اس کائنات میں سب کچھ ممکن ہے۔
کیا ہم متوازی دنیا کے خطرات اور وہاں کی مخلوقات کا سامنا کرنے کو تیار ہیں؟
کیا انسان ایسے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟
مجھے لگتا ہے کہ اس کا صرف ایک ہی جواب ہے کہ ہم تیار نہیں ہیں۔ جس خطرے سے ہم واقف نہیں، اس سے بچاؤ کے لیے تدبیر بھی مشکل ہے۔

°°°°°°°°°°

زافیر اور زید پنجگور کے مشن میں کامیاب تو ہوگئے تھے مگر اس کامیابی کی قیمت ناقابلِ برداشت تھی۔ سینکڑوں سپاہی خاک و خون میں لوٹ گئے۔ معصوم بچوں کی چیخیں اور بے گناہ عورتوں کی آہیں اب بھی زید کے کانوں میں گونج رہی تھیں۔ یہ سب کچھ زید کے اعصاب پر بجلی بن کر گرا۔ وہ اس کرب سے نکلنے کی کوشش کرتا مگر یہ اذیت اس کی روح سے چمٹ گئی تھی۔ اسی لیے اس نے زافیر کے سبھی معاملات محمود بدری کے حوالے کر دیے اور خود گوشہ نشینی اختیار کر لی۔ شاید یہ اس کا زافیر کے ساتھ آخری مشن تھا۔ زافیر نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ زید کو سکونِ قلب کی ضرورت ہے اور یہ سکون وقت کے مرہم سے ہی ممکن ہے۔ لیکن کتنا وقت لگے گا… اس سوال کا جواب نہ ہی زافیر جانتا تھا اور نہ ہی زید کے پاس اس کا جواب تھا۔

شام کا اندھیرا چھا چکا تھا۔ ایک فارچونر اور چار ویگو آہستگی سے زافیر کے بنگلے کے آہنی گیٹ کے اندر داخل ہوئے۔ زافیر اپنے خطرناک مشن سے واپس لوٹ آیا تھا۔ محافظ اپنی اپنی جگہوں پر تعینات ہوگئے جبکہ وہ خاموش قدموں سے مرکزی ہال میں داخل ہوا۔

ہال کی نیم تاریک فضا میں ایل ای ڈی اسکرین کی روشنی جھلک رہی تھی۔ صوفے پر آبرو لیٹی ہوئی تھی، اپنا نازک سا سر حورا کی گود میں رکھے۔ حورا کی انگلیاں بیٹی کے بالوں میں بے خودی سے الجھی ہوئی تھیں اور دونوں کوئی پروگرام دیکھنے میں محو تھیں۔

زافیر جیسے ہی ہال میں داخل ہوا، حورا نے ایک سرد سی نظر اس پر ڈالی، پھر بے پرواہی سے نظریں پھیر لیں۔

،اس کے لہجے میں ہلکی سی سختی اُتری جب اس نے کہا
“آبرو… تمہارے بابا آگئے ہیں۔”

،آبرو نے پہلو بدلا اور پرسکون مگر کاٹ دار لہجے میں فوراً جواب دیا
“تو میں کیا کروں؟”

یہ جملہ زافیر پر کسی خنجر کی طرح لگا۔ وہ لمحہ بھر کے لیے رُک گیا۔ اس نے آہستگی سے اپنا کوٹ اتارا اور قریب کے صوفے پر ڈال دیا۔

،جیب سے چاکلیٹ نکالی اور لبوں پر ایک مسکراہٹ اوڑھتے ہوئے نرم لہجے میں آبرو کو مخاطب کیا
“دیکھو آبرو… تمہارے لیے چاکلیٹ لایا ہوں۔”

آبرو فوراً سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ آنکھوں میں چھپی چمک لمحہ بھر کو جھلکی مگر چہرہ سختی سے بگڑا رہا۔

،اس نے زافیر کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا، بلکہ حورا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
“ماما… میں سونے جا رہی ہوں۔ بابا سے کہہ دیں، مجھے چاکلیٹ نہیں چاہیے۔”

یہ کہہ کر وہ غصے اور ضد کے ملے جلے انداز میں منہ پھلائے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ قدموں کی چاپ اس کی ناراضگی کی گواہ تھی۔

حورا نے خاموشی سے اپنی نظریں پھر اسکرین پر جما دیں۔ زافیر چند لمحے وہیں کھڑا رہ گیا، بے بسی سے بیٹی کو جاتا دیکھتا رہا۔ اس کے ہاتھ میں چاکلیٹ تھی لیکن دل میں ایک خلا سا اتر آیا۔

زافیر کے دل میں وہ لمحہ کسی زخم کی طرح بیٹھ گیا۔ اس نے سوچا تھا کہ آبرو کے لبوں پر مسکراہٹ دیکھ کر دو دن کی تھکن مٹ جائے گی مگر وہ تو بات کرنے کو ہی تیار نہیں تھی۔

کیا مکمل ہوگیا… آپ کا بزنس ٹرپ؟” حورا نے ترش لہجے میں پوچھا، اس کے انداز میں واضح طنز چھپا تھا۔”

زافیر نے حورا اور آبرو کے بگڑے تیور دیکھے تو دل ہی دل میں گھبرا گیا۔ یہ پہلی بار تھا کہ اسے اس قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ اس کے ذہن میں خیال آیا… کیا واقعی شادی شدہ ہونا اتنا آسان ہے جتنا لوگ کہتے ہیں؟

کیا بات ہے؟ تم دونوں کے منہ کیوں لٹکے ہوئے ہیں؟” اس نے حیرت سے پوچھا مگر حورا نے خاموشی اوڑھ لی۔”
،وہ آہستگی سے چلتا ہوا اس کے قریب بیٹھ گیا۔ کچھ پل خاموشی کے بعد پھر گویا ہوا
“حورا، میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں۔”
اس بار لہجے میں ہلکی سی سختی تھی۔

،حورا نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا اور بھڑکیلی آواز میں بولی
“یہ کوئی طریقہ ہے؟ پورے تیس گھنٹوں میں ایک بار بھی فون نہیں کیا۔ پتا بھی ہے ہمیں کتنی فکر ہو رہی تھی؟”

زافیر کے چہرے کا رنگ پھیکا پڑ گیا۔ چند لمحے وہ بس اسے دیکھتا رہا، پھر اس کے لہجے میں چھپی فکر کو محسوس کیا۔

،دھیرے سے بولا
“بتا کر گیا تھا نا کہ واپسی میں وقت لگے گا۔”

،تو کیا اتنا کافی ہوتا ہے؟” حورا تَن گئی۔ اس کی آواز میں مزید غصہ بھر گیا”
“بندہ پہنچتے ہی کال کر دیتا ہے، حال احوال بتا دیتا ہے۔ وقفے وقفے سے رابطہ رکھتا ہے تاکہ گھر والے مطمئن رہیں۔ لیکن آپ کو… آپ کو تو فرصت ہی نہیں ملی…! میں نے جانے کتنی کالیں کیں لیکن جناب کو فکر کہاں… ہم ٹینشن میں گھلتے رہے، ناجانے کیسے کیسے وہم آتے رہے دل میں…!”

زافیر نے ہاتھوں کو مضبوطی سے جوڑا، تھوڑا سا آگے جھکا اور لمبی سانس چھوڑتے ہوئے سنجیدہ لہجے میں بولا،
“اچھا ٹھیک ہے… مجھ سے غلطی ہوئی۔ معاف کر دو۔”

،حورا نے تیوری چڑھاتے ہوئے پہلو بدلا اور تلخی کے ساتھ کہا
“واہ… کیا معافی مانگی؟ یوں جیسے بس فیصلہ سنایا جا رہا ہو۔ یہ کوئی طریقہ ہے منانے کا؟”

،زافیر کے لہجے میں جھنجلاہٹ در آئی
“!…تو پھر کیا کروں؟ کیسے مناؤں؟ تم ہی بتا دو”

یہ سن کر حورا کی آنکھوں میں شرارت جھلک اٹھی۔ اس کے لبوں پر ناراضگی کے پیچھے چھپی ہلکی مسکراہٹ ابھر آئی۔

،وہ شرارتی انداز میں بولی
“محبت سے منائیں… لاڈ کریں… کان پکڑیں… کچھ تو ایسا کریں کہ میرا دل موم ہو جائے۔ پھر میں سوچوں گی کہ آپ کو معاف کروں یا نہیں۔”

زافیر نے اسے گہری نظروں سے دیکھا۔ وہ لمحہ بھر کے لیے ساکت رہ گیا… اب اسے سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ بیوی کی اس نٹ کھٹ شرط کا جواب سنجیدگی سے دے یا ہنسی میں اُڑا دے۔

“مجھے نہیں پتا یہ سب کیسے کرتے ہیں۔ کبھی فرصت ملی تو تم سے ہی سیکھ لوں گا۔”

،زافیر نے بے بسی سے کہا اور الجھے ہوئے لہجے میں آگے بولا
“ابھی یہ بتاؤ، آبرو کا کیا کروں؟ اس نے بھی تو منہ بنا رکھا ہے۔”

وہ خود حیران تھا۔ پہلے بھی وہ کئی بار مشن پر کئی دنوں تک غائب رہتا تھا مگر آبرو نے کبھی اس طرح منہ نہیں بنایا۔ اب لگتا تھا جیسے حورا نے آبرو کو بھی ناراض ہونا سکھا دیا ہے۔ جیسے دونوں ماں بیٹی نے مل کر اس کا جینا دوبھر کرنے کی ضد پکڑ لی ہو۔

،حورا نے ناک چڑھا کر جواب دیا
“مجھے کیا پتا؟ آپ اس کے بابا ہیں، آپ کو خود پتا ہونا چاہیے۔”

،زافیر نے خاموشی اختیار کی اور اٹھتے ہوئے کہا
“اچھا ٹھیک ہے… میں ہی بات کر لیتا ہوں۔”

،اچھا سنیں…!” حورا بھی تیزی سے اٹھ کھڑی ہوئی اور شوخ لہجے میں بولی”
…آبرو سے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں… بس لاڈ کریں، شرارت کریں، کوئی تحفہ دیں یا گھمانے پھرانے کا لالچ دیں “

“بچی ہے، خود ہی مان جائے گی۔

،زافیر کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے بیوی کی بات سمجھتے ہوئے کہا
“صحیح کہہ رہی ہو… اصل میں مشکل تو بیوی کو منانا ہے جس کے نخرے ختم نہیں ہوتے۔ ورنہ بیٹی کی تو جان بستی ہے اپنے بابا میں۔

!…اسے منانا تو بالکل مشکل نہیں۔ بس… ابھی آیا”
یہ کہتے ہوئے وہ مسکراتا ہوا آبرو کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

،پیچھے سے حورا نے ہنکار بھرتے ہوئے آواز لگائی
“!…ابھی آپ نے نخرے دیکھے ہی کہاں ہیں؟ آئے وڈے دانشور”
زافیر نے سنی ان سنی کر دی اور لبوں پر ہلکی مسکان سجائے آگے بڑھتا گیا۔ اس کے دل میں ایک ہی خیال تھا کہ اپنی جان سے بھی بڑھ کر عزیز بیٹی کو منانے کی کوشش کرے گا تاکہ اس کی معصوم شرارتوں اور میٹھی باتوں سے سکون کے چند قیمتی لمحے پھر اس کے حصے میں آسکیں۔

°°°°°°°°°°

کمرے کی مدھم روشنی میں آبرو اپنے بستر پر کمبل اوڑھے لیٹی تھی۔ زافیر آہستگی سے دروازہ کھول کر اندر آیا۔ اس نے آبرو کو دیکھا جو چپ چاپ کمبل میں منہ چھپائے ہوئے تھی۔ جیسے وہ اعلان کر رہی ہو کہ ابھی بھی بابا سے ناراض ہے۔

،زافیر خاموشی سے اس کے پاس بیٹھ گیا اور نرمی سے بولا
“آبرو… میں یہ بتانے آیا تھا کہ مجھے شہر سے باہر جانا ہے۔ شاید ایک ہفتے بعد واپس آؤں۔”

یہ سنتے ہی آبرو کے اندر کی ساری ضد اور ناراضگی ٹوٹ گئی۔ وہ جھٹ سے کمبل سے باہر نکلی، اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے اور روہانسے انداز میں فوراً اپنے بابا کے گلے سے لپٹ گئی۔
نہ… میں نہیں جانے دوں گی آپ کو…!” وہ ہچکیاں بھرتے ہوئے بولی۔”

زافیر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ جانتا تھا کہ بیٹی کی ناراضگی بس اوپر اوپر کی تھی۔

،اصل میں وہ تو اس کے بغیر رہنے کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔ اس نے شرارت کرتے ہوئے کہا
“نہیں، مجھے تو جانا ہے۔ میں تو بس یہی بتانے آیا تھا۔”

“نہ… نہ… نہیں جانا…!” آبرو نے زور سے کہا اور مزید لپٹ گئی۔

،زافیر نے ہنستے ہوئے اس کے بال سہلائے اور بولا
“چلو ٹھیک ہے، اب جب میرے بچے نے کہہ دیا ہے تو نہیں جاؤں گا۔”

یہ سن کر آبرو کے آنسو رک گئے، وہ چند لمحے باپ کے سینے سے لگی رہی پھر اچانک معصومیت سے الگ ہوئی اور آنکھیں پونچھتے ہوئے بولی،
“میری چاکلیٹ…؟”

زافیر نے جیب سے چاکلیٹ نکالی۔ آبرو کے چہرے پر خوشی کی چمک پھیل گئی۔ وہ فوراً لپک کر چاکلیٹ کھولنے لگی، جیسے ناراضگی کبھی تھی ہی نہیں۔

،زافیر اٹھنے لگا تو اس نے ہاتھ پکڑ کر روک لیا
“!…کہانی سنائیں پہلے”

،زافیر نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا
“اب تو میری گڑیا بڑی ہوگئی ہے۔ اب بھی کہانیاں سنتی ہو؟”

،آبرو نے فوراً منہ پھلای،
“مجھے بڑا نہیں ہونا…! بس آپ کہانی سنائیں۔”
زافیر کے دل میں ایک پیار بھری لہر سی اٹھی۔ اس نے جوتے اتارے اور آلتی پالتی مار کر اس کے سامنے بیٹھ گیا۔
“چلو… آج تمہیں ایک ایسی لڑکی کی کہانی سناتا ہوں جس نے پوری دنیا بدل دی۔”

آبرو کی آنکھیں چمکنے لگیں۔ وہ کہانی سنتے ہوئے بار بار سوال کرتی، ہنستی اور کبھی حیران ہو جاتی۔ زافیر اپنی بیٹی کو یوں محو دیکھ کر دل ہی دل میں کِھلا جارہا تھا۔

کچھ دیر بعد آبرو خاموشی سے لیٹ گئی۔ باپ کی آواز اب اسے لوری جیسی لگ رہی تھی۔ پلکیں بوجھل ہوئیں اور وہ نیند کی وادی میں کھو گئی۔
زافیر نے اسے پیار سے کمبل اوڑھایا، ماتھے پر بوسہ دیا اور دل ہی دل میں کہا،
“میری جان… تم ہی میری اصل دنیا ہو۔ میرے جینے کی واحد وجہ ہو۔”

°°°°°°°°°°

رات کا پچھلا پہر تھا۔ حورا گہری نیند میں تھی اور کمرے میں ہلکی سی سانسوں کی سرگوشیاں گونج رہی تھیں۔ زافیر آہستگی سے اٹھا، دبے قدموں چلتا ہوا بیڈ روم سے باہر نکلا اور تاریک راہداری سے گزرتا ہوا دوسری چاردیواری کی طرف بڑھا۔

ذبح خانے کے دروازے کے قریب پہنچ کر وہ ذرا رکا، موبائل نکالا اور کچھ لمحے اس پر مصروف رہا پھر فنگر پرنٹ سکینر پر ہاتھ رکھا۔ ہلکی سی بیپ کے ساتھ دروازہ کھل گیا اور ایک سرد سی لہر اندر سے باہر کو دوڑ گئی۔

اندر داخل ہوا تو سامنے ہی ندیم کرسی پر بیٹھا نظر آیا۔ وہ پہلے سے اس کا منتظر تھا۔ زافیر کو دیکھتے ہی اٹھ کھڑا ہوا اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔
،زافیر نے خوشدلی سے اس کا ہاتھ تھاما اور نرم لہجے میں بولا
“کوئی پریشانی تو نہیں ہوئی؟”

:ندیم نے نفی میں سر ہلایا
“نہیں… سب اچھا رہا۔ کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔”

زافیر نے اثبات میں سر ہلایا اور آہستگی سے چلتے ہوئے فریزر کی طرف بڑھا۔ ایک ایک کر کے سب کھولنے لگا۔ برف کی تہوں میں دبے انسانی اعضاء خاموشی سے اپنی دہشت سمیٹے پڑے تھے۔ ہر فریزر لبا لب بھرا ہوا تھا۔ زافیر کے چہرے پر ایک عجیب سا تاثر ابھرا۔ وہ مڑ کر ندیم کو دیکھنے لگا اور سرد لہجے میں پوچھا،
“کیا تم نے قیدیوں کو کھانا نہیں کھلایا؟”

ندیم کی آنکھوں میں ایک سایہ سا ابھرا، آواز مدھم پڑ گئی،
“کل میں نے سبزی ہی پکا کر سب کو کھلائی… خود بھی وہی کھائی۔ لیکن آپ ٹھیک کہتے تھے۔”
وہ لمحہ بھر رکا، پھر شکستہ لہجے میں بولا،
“آپ نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ اب انسانی گوشت کے سوا کوئی راستہ نہیں رہا۔”

،زافیر نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا، جیسے کسی تجربے کے کامیاب ہونے پر خوشی چھپا رہا ہو
“اچھا ہے… کم از کم تم نے آزما تو لیا۔”

ندیم نے گہری سانس لی، چہرے پر نقاہت تھی،
“سبھی بیمار پڑنے لگے تھے… میں بھی کمزور ہوگیا۔ پھر مجبوراً انسانی گوشت ہی پکایا۔ سب نے کھایا، میں نے بھی۔”

،زافیر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی
“بہت خوب…” وہ پلٹا، پھر رک کر بولا،
“کل سے تمہارے بھائی کی سزا شروع ہوگی۔ کیا تم دیکھنا چاہو گے؟”

،ندیم نے نظریں چرا لیں، آواز بھاری ہوگئی
“نہیں… میں نہیں چاہتا کہ دل میں اس کے لیے ہمدردی پیدا ہو۔ آپ خود ہی کر لیجیے گا۔”

،زافیر نے اثبات میں سر ہلایا۔ اس کے قدم ہلکے مگر پُراثر انداز میں باہر کی طرف بڑھنے لگے۔ دروازے تک پہنچ کر بغیر پیچھے دیکھے کہا
“میں بس تمہاری خیریت دریافت کرنے آیا تھا۔ اب کل رات کو ہی آؤں گا۔”

اس نے دروازہ کھولا۔ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اندر آیا اور لمحے بھر کو کمرے کی فضا مزید سنسان اور خوفناک ہوگئی۔ اگلے ہی پل وہ باہر نکل گیا اور دروازہ ہلکی آواز کے ساتھ بند ہوگیا۔

°°°°°°°°°°

زمار اپنے بنگلے میں لوٹ آیا تھا مگر بنگلے کی حالت دیکھ کر، اس کے اوسان خطا ہوگئے۔ کبھی شاندار محل نما عمارت اب کھنڈر کا منظر پیش کر رہی تھی۔ ہر دیوار سیاہی میں لپٹی ہوئی تھی، چھتوں سے جلی ہوئی لکڑی لٹک رہی تھی اور ہر طرف جلے ہوئے پتھروں اور لکڑیوں کی باس پھیلی ہوئی تھی۔ کمرے کے فرش پر اس کے اپنے خاندان کے صرف جلے ہوئے سیاہ ڈھانچے بکھرے تھے۔

زمار کی آنکھوں میں دکھ کی جھلک ابھری، مگر اگلے ہی پل وہ ضبط کر گیا۔ ایک گہری سانس لیتے ہوئے وہ سٹور کی طرف بڑھا اور وہاں سے اوزار اٹھا کر سیدھا تہہ خانے میں اترا۔ مگر وہاں پہنچتے ہی اس کی نظریں حیرت میں ڈوب گئیں۔ ان کے وراثتی خزانے سب غائب تھے۔

زمار کی مٹھی بھنچ گئی۔ دل میں کوئی شک باقی نہیں رہا… یہ کام زافیر کا ہی ہوسکتا تھا۔

اس نے پورے تہہ خانے کا جائزہ لیا، پھر ایک بڑا ہتھوڑا اٹھایا اور پوری قوت کے ساتھ فرش پر برسانا شروع کردیا۔ گھن گرج کے ساتھ پتھروں کے ٹکڑے بکھرتے گئے۔ کچھ ہی دیر میں فرش ٹوٹ کر ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ زمار نے کدال اٹھائی اور ایک ایک کر کے پتھر ہٹانے لگا، یہاں تک کہ نیچے سے کچی مٹی ابھر آئی۔

وہ دوبارہ کدال گھماتا رہا۔ وقت کا احساس مٹ چکا تھا، پسینہ اس کے کپڑوں کو بھگو چکا تھا، مگر وہ مسلسل مٹی کھودتا رہا۔ رفتہ رفتہ گڑھا بڑا ہوتا گیا اور آخرکار اس کی کدال کسی سخت دھات سے ٹکرائی۔ ایک کھنکھناہٹ فضا میں گونجی اور زمار کے چہرے پر ایک شیطانی چمک ابھری۔

اب وہ دیوانگی کے عالم میں تیزی سے ہاتھوں سے ہی صندوق کے اطراف سے مٹی ہٹانے لگا۔ کچھ ہی لمحوں میں ایک سیاہ صندوق ابھر آیا جس پر سنہری نقش و نگاری کی گئی تھی۔ اس کی موجودگی ہی پراسرار لگ رہی تھی جیسے صدیوں کی نحوست اس میں قید ہو۔

زمار جانتا تھا کہ اگر اس صندوق میں واقعی وہ تاج ہے، تو یہ انتہائی وزنی ہوگا۔ اس نے پیر جما کر پوری طاقت مجتمع کی اور صندوق کو کھینچا۔ مگر اگلے ہی لمحے وہ صندوق سمیت پیچھے لڑھک گیا۔

صندوق غیر معمولی طور پر ہلکا تھا… کسی کاغذ کی مانند… زمار نے خود پر قابو پایا، کپڑے جھاڑے اور دوبارہ صندوق کو اٹھا کر گڑھے سے باہر لے آیا۔

وہ صندوق اٹھائے سیڑھیاں چڑھا اور اسے اوپر فرش پر رکھ دیا۔ اس کی آنکھوں میں ایک پراسرار چمک تھی۔ جیب سے چابی نکالی، کانپتے ہاتھوں سے تالا کھولا اور جیسے ہی چابی گھمائی… صندوق کے اندر سے ایک زوردار آندھی اُمڈی۔ کمرے کی ہر شے لرزنے لگی، دھول اور ٹوٹی لکڑیاں فضاء میں اڑنے لگیں۔

صندوق کے اندر ایک سیاہ تاج رکھا تھا، جس کے گرد کالا دھواں کسی دائرے کی مانند گردش کر رہا تھا۔ اس منظر میں خوف بھی تھا اور جادوئی کشش بھی۔ زمار کی آنکھیں اس پر جم گئیں اور ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی۔

تسلی کے بعد اس نے صندوق دوبارہ بند کیا، تالا لگایا اور اٹھا کر اپنے بازوؤں میں مضبوطی سے تھام لیا۔

،اس کی مسکراہٹ اب شیطانی قہقہے میں بدلتی محسوس ہورہی تھی۔ وہ زیرِ لب بڑبڑایا
“…ہم آرہے ہیں، زافیر… تمہیں مٹانے اور تمہاری بیٹی کو ناشتہ بنانے کے لیے”

یہ کہہ کر وہ اطمینان سے مڑا اور جلتے بنگلے کے کھنڈر سے باہر نکل گیا۔ اب اس کا رخ اسی مقام کی طرف تھا جہاں رینا نے اسے پہنچنے کو کہا تھا۔

°°°°°°°°°°

آج زافیر کی گھر میں دوسری رات اور ضمیر کے برے دنوں کی ابتدا تھی۔ ذبح خانے کا فرش آہستہ آہستہ لِفٹ کی طرح اوپر اٹھ رہا تھا۔ میز پر ضمیر کو بے بس لٹایا گیا تھا۔ اس کے ہاتھ اور پاؤں بھاری ہتھکڑیوں میں جکڑے ہوئے تھے۔

قریب ہی زافیر ایک اسٹیل کی میز کے سامنے کھڑا تھا۔ وہ انتہائی سکون اور ترتیب کے ساتھ مختلف اوزار اٹھا کر ایک ٹرے میں رکھ رہا تھا۔ پلاس، تیز دھار خنجر، باریک چھری، قینچی، نوکیلی سوئیاں، چھوٹی ہتھوڑی… ہر ایک اوزار اپنی شکل میں اذیت اور درد کا وعدہ کر رہا تھا۔ ٹرے بھرتے ہی وہ اسے ضمیر کے قریب لے آیا۔

،اس کی نظریں ضمیر کے چہرے پر جمی تھیں، پھر وہ سفاک لہجے میں بولا
“سوچا تھا ایان ہاتھ لگ جائے تو تمہیں مار دوں گا… لیکن وہ خوش نصیب نکلا، آسان موت لے گیا۔”

ضمیر کی سانسیں اٹکنے لگیں۔ اس کے لب کپکپا رہے تھے، دل کی دھڑکن قابو سے باہر جا چکی تھی اور آنکھوں میں خوف سمندر کی طرح چھلک رہا تھا۔

،زافیر نے ٹھنڈے لہجے میں بات آگے بڑھائی
“لیکن خیر… کوئی بات نہیں۔ تم نے بھی تو مجھ پر بہت احسان کیے ہیں۔ ان کا بدلہ بھی تو لوٹانا ہے۔”

یہ کہہ کر اس نے ضمیر کے ایک ہاتھ کی ہتھکڑی ڈھیلی کی اور اسے الٹا کر میز پر پھیلا دیا۔ پھر چھوٹی ہتھوڑی اٹھائی۔ اس کی آنکھوں میں وہ بے رحمی جھلک رہی تھی جو صرف درد دینے والوں کی آنکھوں میں ہوتی ہے۔ وہ ہتھوڑی بلند کر کے پوری طاقت سے اس کے ہاتھ کی ہڈی چکناچور کرنا چاہتا تھا۔

فضا میں ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی۔ ضمیر کی آنکھیں بند ہوگئیں جیسے وہ کسی قیامت کا انتظار کر رہا ہو۔ زافیر کا بازو پوری قوت کے ساتھ ہوا میں بلند تھا،
کہ اچانک موبائل کی تیز گھنٹی نے ذبح خانے کی خاموشی چیر دی۔

زافیر کا ہاتھ وہیں رک گیا۔ ہتھوڑی چند انچ فضا میں رکی لرز رہی تھی۔ اس نے ایک نظر ضمیر کی طرف ڈالی… وہ خوف سے کانپ رہا تھا، پیشانی سے پسینہ اور آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ زافیر کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ ابھری۔

،اس نے پرسکون انداز میں ہتھوڑی دوبارہ ٹرے میں رکھ دی اور نرم لہجے میں بولا
“میں ذرا کال سن لوں… تب تک تم سوچتے رہو کہ یہ درد کیسا ہوگا۔”

اس نے جیب سے موبائل نکالا۔ اسکرین پر محمود بدری کا نام جگمگا رہا تھا۔ زافیر نے موبائل کو غور سے دیکھا، پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ فنگر پرنٹ سے دروازہ کھولا، کال ریسیو کی اور دھیمے قدموں سے باہر لان کی طرف نکل گیا۔

“…ہیلو”
زافیر نے موبائل کان سے لگاتے ہی سرد لہجے میں کہا۔

،چند لمحے خاموشی رہی۔ وہ آہستہ آہستہ ذبح خانے کی چاردیواری میں ٹہلنے لگا پھر دھیمے لہجے میں بولا
“ان سب کی لسٹ تیار کرو… کل سے کام شروع کرتے ہیں۔”

محمود بدری کی آواز وہ غور سے سنتا رہا۔ کبھی بھنویں سکیڑتا، کبھی لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ لاتا۔ پھر رُکا اور بولا،
“ہاں، ٹھیک ہے۔ کل ملاقات ہوگی، تفصیل سے بات کریں گے۔”

،چند پل کے لیے پھر سکوت طاری ہوا، صرف زافیر کے قدموں کی چاپ سنائی دیتی رہی۔ آخر وہ بولا
“ہاں… صبح ملتے ہیں۔”

اس نے کال منقطع کی، موبائل جیب میں رکھا اور پرسکون قدموں سے دوبارہ ذبح خانے کی طرف بڑھا۔ اندر آتے ہی دروازہ لاک کیا اور ضمیر کے قریب جا کھڑا ہوا۔

“تو… ہم کہاں تھے؟”
اس نے ہتھوڑی اٹھاتے ہوئے کہا لیکن اچانک کوئی خیال ذہن میں لپکا۔ ہتھوڑی واپس رکھ دی اور کیچن ایریا کی طرف بڑھ گیا۔ وہاں سے ایک خالی گلاس اٹھایا اور واپس آ گیا۔

اس بار اس نے ٹرے سے نوکدار چھری اٹھائی اور ضمیر کے بازو کو جکڑ لیا۔ دھات کی ٹھنڈک جیسے ہی ضمیر کی جلد سے ٹکرائی، اس کے رونگھٹے کھڑے ہوگئے۔ زافیر نے تیز کٹ لگایا… ایک رگ کٹی اور خون بہنے لگا۔ سرخ دھار سیدھی گلاس میں گرنے لگی۔ گلاس آدھا بھر گیا تو اس نے اسے ٹرے میں رکھ دیا۔

،پھر صندوق سے ایک پٹی نکالی اور بڑے سکون سے ضمیر کے زخم پر باندھتے ہوئے بولا
… میں نے اب تک کئی لوگوں کو مارا، ان کا گوشت کھایا… لیکن جو لذت تمہارے گوشت میں ہوگی”

“اس کا تصور ہی میرے بدن میں ایک سرور بھر دیتا ہے۔

وہ پٹی لپیٹ رہا تھا، مگر آنکھوں میں وحشت کی چمک اور لبوں پر سفاک مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔
“یقین کرو، میں ہر روز تمہارے وجود کا ایک حصہ کاٹوں گا… اور تمہارے سامنے ہی کھاؤں گا۔ یہ اذیت تمہیں پاگل کر دے گی۔”

،وہ لمحہ بھر کو رُکا، جیسے کسی خوشبو کو یاد کر رہا ہو۔ پھر دھیرے سے ہنسا اور کہا،
“…وہ اللہ رکھا؟ میں نے اس کا بازو ابالا تھا… کاٹا نہیں، بس سیدھا ابلتے پانی میں ڈال کر کھایا۔ آہ… وہ ذائقہ، وہ سرور”
زافیر کی آنکھیں چندھیا گئیں، جیسے وہ کسی لذیذ یاد کو دوبارہ جی رہا ہو۔ اس کے چہرے پر وہی بے رحم مسکراہٹ تھی جس سے ضمیر کی روح تک کانپ اٹھی۔

پٹی باندھنے کے بعد زافیر دو قدم پیچھے ہٹا، گلاس اٹھایا اور ایک ہی سانس میں خون پی گیا۔ گلاس رکھتے ہی اس نے دوبارہ ہتھوڑی اٹھا لی۔ ضمیر کا ہاتھ میز پر الٹا رکھا ہوا تھا۔ زافیر نے پوری طاقت مجتمع کی اور ہتھوڑی اس کے ہاتھ کی پشت پر دے ماری۔

ضمیر کے حلق سے فلک شگاف چیخ نکلی جو ذبح خانے کی دیواروں سے ٹکرا کر خوفناک گونج میں بدل گئی۔ خون چھلک کر میز کے کناروں سے بہنے لگا۔ زافیر نے ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر دوسرا وار کیا۔ اس بار چیخ اور بھی بلند تھی، اتنی کہ لگ رہا تھا جیسے چھت تک لرز گئی ہو۔ ضمیر دھاڑیں مار کر رونے لگا، اذیت سے اس کا وجود کپکپا رہا تھا۔

،زافیر نے دانت بھینچ کر، آنکھوں میں وحشت بھرتے ہوئے کہا
“ابھی تو شروعات ہے میری جان… ابھی بہت سا حساب باقی ہے۔”

یہ کہتے ہی اس نے تیسری ضرب لگائی۔ چیخوں کا شور چھت پھاڑ دینے پر تلا ہوا تھا مگر زافیر کے چہرے پر ہلکی سی لرزش تک نہیں آئی۔ اس کی آنکھوں میں اب بھی کوئی رحم، کوئی نرمی نہیں تھی۔

اچانک… زافیر ٹھٹھک گیا۔ ایک لمحے کے لیے اس کا دل زور سے دھڑکا، سانس جیسے گلے میں اٹک گئی۔ ضمیر کی چیخوں کے بیچ ایک اور آواز شامل ہوگئی تھی… وہ آواز کسی چھوٹی بچی کے رونے کی تھی۔

زافیر کے قدم ڈگمگا گئے۔ وہ تیزی سے اس سمت بڑھا جدھر سے آواز آرہی تھی۔ بڑی واشنگ مشین کے پیچھے جا کر جھانکا تو وہاں اندھیرے کے کونے میں آبرو سمٹی ہوئی بیٹھی تھی۔ آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور وہ زاروقطار رو رہی تھی۔

آبرو کو دیکھتے ہی زافیر پر بجلی سی گری۔ ایک لمحے کو لگا جیسے پیروں تلے زمین ہی کھوکھلی ہو گئی ہو۔ دل میں یوں چبھن اٹھی جیسے کسی نے نیزہ مار کر روح کو چیر ڈالا ہو۔ وہ خوف اور گھبراہٹ سے دو قدم پیچھے ہٹ گیا۔

یہ وہی خوف تھا جو زافیر ساری زندگی اپنے دل میں چھپائے بیٹھا رہا کہ کہیں آبرو اس کی اصل وحشت نہ دیکھ لے… کہیں وہ اپنی آبرو کی آنکھوں میں، اپنے تئیں نفرت نہ دیکھ لے۔ مگر آج وہی ڈر حقیقت بن کر سامنے کھڑا تھا۔

آبرو کے چہرے پر معصومیت کے ساتھ خوف، دہشت اور باپ کے لیے نفرت کی جھلک واضح تھی۔ وہ نگاہیں جو کل تک زافیر کے لیے محبت اور اعتبار سے بھری رہتی تھیں آج صرف اجنبیت اور کراہت سمیٹے ہوئے تھیں۔

°°°°°°°°°°

…جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *