Darinda Chapter no 3

ناول درندہ
قسط نمبر 3
باب اؤل: متوازی دنیا
مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°


زافیر نے بچی کو اٹھا کر اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔ اس کا ننھا سا جسم لرز رہا تھا، آنکھیں خوف سے پھیلی ہوئی تھیں اور ہونٹوں پر کپکپاتی ہوئی سرگوشی تھی۔ زافیر نے محبت سے اسے تسلی دی، تھپکی دی اور پلٹ کر دروازے کی سمت قدم بڑھانے ہی والا تھا کہ اچانک… وہ لمحہ جیسے وقت کی سانس تھام دینے والا ہو گیا۔
دروازے پر دادی کھڑی تھی، آنکھوں میں غصے کی سرخی لیے۔
نہایت سیدھی، مضبوط، بے تاثر مگر دہشت ناک انداز میں۔ اس کی کمر جھکی ہوئی نہیں تھی، اس کے ہاتھ بھی کانپتے ہوئے نہیں تھے، نہ ہی پاؤں کمزور تھے۔ وہ بالکل ساکت کھڑی تھی جیسے صدیوں پرانے کسی دیو نے یکدم زندگی پا لی ہو۔

زافیر کا دل ایک لمحے کو دھک سے رہ گیا۔ وہ جس دادی کو ہمیشہ چمڑے کی کھردری کرسی پر بیٹھے دیکھا کرتا تھا، وہ آج اپنے قدموں پر کھڑی تھی۔ صرف کھڑی ہی نہیں، دروازے کے دہانے پر ایک ایسی جابر نگاہ کے ساتھ موجود تھیں جیسے ان کے وجود سے خود دیواریں کانپ رہی ہوں۔

“زافیر کی آنکھیں پھیل گئیں۔ وہ خوف کے عالم میں سوچ رہا تھا، “یہ دادی…؟ یہ کس روپ میں آ گئی؟

اس کا گلا خشک ہو گیا۔ بچی کو آہستہ سے تختے پر بٹھایا اور خود بے اختیار ہاتھ جوڑ کر دادی کے آگے گڑگڑانے لگا۔

“دادی… پلیز… میں آپ سے منت کرتا ہوں… اس بچی کو چھوڑ دیں۔ وہ معصوم ہے۔”

بوڑھی دادی خاموش تھی۔ اس کی آنکھوں میں نہ نرمی تھی اور نہ ہی کوئی رحم کی گنجائش، صرف ایک دہکتا ہوا اندھیرا اور غصہ تھا۔
اچانک دادی آگے بڑھی۔ ان کے قدموں میں حیرت انگیز مضبوطی تھی۔ لمحے میں وہ زافیر کے بالکل سامنے آ گئی۔

اور پھر… اس کے جھریوں بھرے ہاتھ نے ایک جھپٹ میں زافیر کی گردن دبوچ لی
زافیر کو ایسا لگا جیسے کسی فولادی شکنجے نے اسے دبوچ لیا ہو۔ یہ کوئی بوڑھی عورت کا ہاتھ نہیں تھا۔ یہ کسی بلا کا پنجہ تھا۔ اس کی سانس رکنے لگی۔ آنکھوں کے آگے دھند چھانے لگی۔ وہ ہاتھوں سے دادی کے ہاتھ کو کھینچنے لگا، اس کی گرفت میں جھٹپٹانے لگا لیکن ہر کوشش بےسود تھی۔
دادی… چھوڑیں… پلیز…” اس کی آواز خراش زدہ ہو گئی تھی۔”
لیکن دادی کے چہرے پر ایک عجیب سی برہمی تھی۔ انہوں نے زافیر کو زور سے دیوار سے دے مارا۔ دیوار پر ایک بھدا سا دھچکہ گونجا اور اگلے ہی لمحے دادی کے دوسرے ہاتھ کا تھپڑ زافیر کے چہرے پر پڑا۔
یہ تھپڑ نہیں جیسے بجلی کی ایک زوردار لہر تھی۔

زافیر کا چہرہ ایک طرف جھٹک گیا، اس کے ہونٹ سے خون بہنے لگا، گال سوج گیا، آنکھوں کے گوشے سرخ ہو گئے۔ اسے یوں لگا جیسے چہرہ کٹ گیا ہو۔ تھوڑی دیر وہ شاک میں کھڑا رہا، پھر جھک کر زمین پر گر گیا۔

دادی… میری جان لے لیں… لیکن بچی کو چھوڑ دیں…” اس نے روتے ہوئے، کراہتے ہوئے کہا۔”

دادی نے تھوڑی سی گردن جھکائی اور ایک سرد، خالی لہجے میں بولی،
“پہلے یہ کم بخت مرے گی… پھر تُو بھی۔”
یہ جملہ جیسے تابوت میں آخری کیل تھا۔

دادی نے زافیر کو چھوڑا اور ٹوکہ اٹھا لیا۔ وہی ٹوکہ جس کی دھار ابھی چند لمحے پہلے تیز کی گئی تھی۔

زمار اور اس کا چچا اب بھی زمین پر پڑے تھے۔ وہ دونوں بھی سہمے ہوئے تھے۔ دادی کا وجود اتنا دہشت ناک تھا کہ کسی میں ہلنے کی بھی ہمت نہیں تھی۔
بوڑھی دادی نے ٹوکہ آہستہ آہستہ ہوا میں بلند کیا اور بچی کی طرف بڑھی۔ اس کی سانسیں گھٹنے لگیں۔ ننھی کلی جیسے موت کے طوفان کے سامنے لرزنے لگی۔ وہ خوف سے چیخنے لگی۔

“نہیں دادی… رک جائیں…!” زافیر نے بمشکل خود کو سنبھالا، ایک گھٹنا زمین پر، دوسرا ہاتھ دیوار پر رکھ کر وہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگا۔ لیکن دادی نے بچی کی گردن کو اپنے پنجے میں لیا۔
بچی کا حلق رندھ گیا، آواز حلق میں دب گئی، وہ گھگھیا کر چیخنے لگی۔ زافیر کا دل تڑپ اٹھا۔ اس کی چیخیں زافیر کے اعصاب پر ہتھوڑے کی طرح برس رہی تھیں۔

دادی کا ہاتھ آہستہ آہستہ اوپر گیا۔ ٹوکہ فضا میں بلند ہوا، لمحے بھر کو روشنی اس کی دھار پر چمکی۔ مقصد واضح تھا۔ ایک ہی وار میں گردن الگ کر دینا۔
لیکن قسمت نے پلٹا کھایا۔
ایک لمحہ… ایک جھٹکا… ایک چیخ…
زافیر نے دیوار پر لگے ہتھیاروں کی قطار سے تلوار نکالی اور پوری طاقت سے دادی کی کمر میں گھونپ دی۔
تلوار پوری شدت سے گئی، یہاں تک کہ اس کا سرا دادی کے سینے سے نکل آیا۔ خون کے چند قطرے چھینٹے کی طرح ہوا میں اچھلے۔
دادی کے چہرے پر پہلی بار حیرت کا تاثّر آیا۔

اس کی آنکھیں پھٹ گئیں، منہ کھلا رہ گیا۔ ہاتھ سے ٹوکہ گر گیا۔ وہ دھیرے دھیرے پیچھے ہٹی۔ بچی اس کے ہاتھ سے نکل کر رینگتی ہوئی ایک طرف ہو گئی۔
زافیر نے تلوار چھوڑ دی۔ اس کے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔ اس نے وہ کر دکھایا تھا جس کا کبھی تصور تک نہیں کیا تھا… اس نے اپنی دادی کو مار دیا۔

دادی کا جسم لرزتا ہوا پیچھے کی طرف گرا اور ایک بھاری آواز کے ساتھ فرش پر گر گیا۔
ایک سرد خاموشی پورے ذبح خانے پر چھا گئی۔

بچی ایک کونے میں سمٹی بیٹھی تھی، زمار اور چچا سکتے میں تھے۔ اور زافیر، وہ بے یقینی سے دادی کے لاش کو دیکھ رہا تھا۔ آنکھوں میں آنسو اور دل میں طوفان تھا۔
زمار نے جیسے ہی دادی کو تلوار کے وار سے زمین پر گرتے دیکھا، اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اس کے چہرے پر غصے، حیرت اور دکھ کی ملی جُلی ایک ایسی کیفیت ابھری جو لمحہ بھر میں دھاڑ میں بدل گئی۔
“!…زافیر… تُو نے… دادی کو مار دیا”
اس کی آواز ایسے نکلی جیسے کسی نے جلتے انگارے پر پانی پھینک دیا ہو۔

وہ پلک جھپکنے سے پہلے ہی زافیر کی طرف جھپٹنے ہی والا تھا کہ پیچھے سے ایک بھاری سا جسم حرکت میں آیا۔ زمار کا چچا، جو اب تک زمین پر بے سدھ پڑا تھا، یکا یک اُٹھا، جیسے کسی نے کرنٹ دے دیا ہو۔
اس نے قریبی فرش پر گرے خنجر کو لپک کر اٹھایا اور پوری قوت کے ساتھ زافیر کی طرف دوڑا۔ اس کے چہرے پر جنون تھا۔
،زافیر نے لمحے بھر میں حالات کو پرکھا۔ اس کی سانسیں تیز ہو چکی تھیں، چہرہ پسینے سے تر اور آنکھوں میں غصے اور دفاع کا امتزاج تھا۔ وہ جان گیا تھا
اب مرنا ہے یا مار دینا ہے۔
اس نے گھومتے ہوئے دیوار پر ٹنگی دوسری تلوار جھٹکے سے کھینچی اور جیسے ہی چچا قریب آیا، پورے بازو کے زور سے اس کی گردن پر وار کر دیا۔

تلوار کی دھار تیز تھی، ارادہ غیر متزلزل اور وار بےرحم تھا۔ ایک لمحے کی خاموشی کے بعد… ایک خوفناک، گیلی سی آواز کے ساتھ گردن جسم سے الگ ہو گئی۔
چچا کا جسم ایک لرزتے درخت کی طرح تھرا کر نیچے گر پڑا، خون کا فوارہ چھت کی طرف اچھلا، اور فضا میں خون کی بو گھل گئی۔
زافیر کے ہاتھ کانپ رہے تھے لیکن اس کی گرفت میں تلوار فولاد کی طرح جمی ہوئی تھی۔ اس نے جھک کر بچی کو بازوؤں میں اٹھایا اور لمبے لمبے قدموں سے باہر کی طرف دوڑ لگا دی۔

،پیچھے سے زمار کی دیوانہ وار چیخ گونجی
“!…پکڑو اسے… اس نے دادی کو مار دیا”
زافیر بھاگتا ہوا ہال میں داخل ہوا، اس کی سانسیں پھولی ہوئی تھیں لیکن نگاہوں میں ایک ہی ارادہ تھا… بچی کو ہر حال میں بچانا ہے۔

لیکن ہال میں رینا اس کی راہ میں پہلے سے موجود تھی۔ اس کا چہرہ غصے اور غضب سے سجا ہوا تھا اور خنجر اس کے ہاتھ میں چمک رہا تھا
رینا بجلی کی تیزی سے اس کی طرف لپکی۔

زافیر نے بلا جھجک تلوار سے وار کیا لیکن رینا اس سے کہیں زیادہ ماہر نکلی۔ اس نے قلابازی کھائی، ہوا میں الٹی گھوم کر زافیر کے پیچھے جا پہنچی اور فوراً ہی ایک زوردار لات اس کی کمر پر رسید کی۔
زافیر کا توازن بگڑ گیا، وہ گھوم کر صوفے سے ٹکرا گیا۔ جھٹکے کی شدت سے بچی اس کی بانہوں سے نکل کر فرش پر لڑھکتی ہوئی کچھ فاصلے پر جا گری۔

درد کی ایک لہر اس کی کمر میں دوڑ گئی لیکن اس نے دانت بھینچ کر خود کو سنبھالا اور دو قدم میں لڑکھڑاتا ہوا بچی کے پاس پہنچا۔
وہ زمین پر گرنے ہی والا تھا لیکن ایک گھٹنا زمین پر رکھتے ہوئے جھک کر تلوار کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔
اب وہ بچی کے قریب تھا۔ اس کے گرد ہلکی ہلکی ہانپتی ہوئی سانسوں کے ساتھ خطرہ منڈلا رہا تھا۔

،اس کی نگاہیں بار بار دروازے، رینا اور زمار کے پیروں کی آہٹ پر تھیں لیکن دونوں ہاتھوں سے اس کی گرفت تلوار پر ایسی مضبوط تھی جیسے وہ اعلان کر رہا ہو
“اب اگر کوئی آیا… تو وہ اپنی موت کا خود ذمہ دار ہوگا۔”

،تبھی سیڑھیوں کے اوپر سے زافیر کا باپ نمودار ہوا۔ اُس نے نیچے موجود تینوں افراد کو ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے لیے تیار پایا تو گرج دار آواز میں پکارا
“یہ کیا ماجرا ہے؟ تم لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے کیوں ہو گئے ہو؟”

،زمار نے تیزی سے پلٹ کر جواب دیا
“!…اس نے… اس نے دادی اور چچا کو قتل کر دیا ہے”
زمار کی آواز ایسی گونجی جیسے کسی نے پوری حویلی میں نقارہ بجا دیا ہو۔ کمروں میں موجود تمام افراد بدحواسی کے عالم میں باہر نکل آئے۔ زافیر اب بھی بچی کے سامنے ایک ڈھال بن کر کھڑا تھا۔

،اچانک زمار کی چھوٹی پھوپھو بھی کمرے سے نکل آئی۔ اس کا چہرہ خوف سے سفید پڑ چکا تھا۔ اُس نے کپکپاتی آواز میں زمار سے پوچھا
“اماں… اماں کہاں ہیں؟”

زمار نے بغیر کوئی لفظ بولے، فقط خاموشی سے ذبح خانے کی سمت اشارہ کیا۔ وہ تڑپتے قدموں سے اس طرف دوڑی۔
زافیر نے اردگرد موجود سب افراد پر ایک ایک کر کے قہر آلود نگاہ ڈالی اور پھر گرج کر کہا،
“میں کسی کا خون نہیں چاہتا۔ مجھے جانے دو… ورنہ یہاں لاشوں کے ڈھیر لگ جائیں گے…!”

اسی لمحے زافیر کی ماں بھی اُس کے باپ کے پہلو میں آ کر کھڑی ہو گئی۔ ماحول میں سانس لینے کی گنجائش بھی کم محسوس ہونے لگی تھی۔

زافیر کے الفاظ ختم ہوتے ہی ذبح خانے سے چھوٹی پھوپھو باہر نکلی۔ اُس کے ہاتھ میں ایک بڑا سا خنجر تھا اور آنکھوں میں درد، انتقام اور ہوش کھوتی ہوئی نفرت کی آگ دہک رہی تھی۔
،وہ چیختے ہوئے زافیر کی جانب بڑھی
“!…اس نے… اس نے ہماری اماں کو مار ڈالا”
وہ روتے ہوئے، لرزتے قدموں کے ساتھ زافیر پر جھپٹی لیکن اس کے حملے سے پہلے ہی زافیر نے تلوار کا ایک زور دار وار کیا جو سیدھا اُس کے پیٹ پر جا لگا۔ ایک ہی ضرب میں اس کا پیٹ چاک ہو گیا اور انتڑیاں فرش پر بکھر گئیں۔ وہ درد سے چیخی مگر زافیر کا دوسرا وار پہلے سے زیادہ ہولناک تھا۔ اس کی گردن کا آدھا حصہ کٹ چکا تھا۔

وہ تڑپتی ہوئی زمین پر گری، خون کے تالاب میں لت پت اور سناٹا چند لمحوں کے لیے گہرا ہو گیا۔
پھر جیسے صدیوں پرانی خاموشی ٹوٹ گئی ہو، گھر کے باقی تمام افراد چیختے ہوئے زافیر پر ٹوٹ پڑے۔ قریب پندرہ کے قریب لوگ، جن میں مرد، عورتیں اور نوجوان شامل تھے۔ سب کی آنکھوں میں نفرت اور ہاتھوں میں ہتھیار تھے۔

رینا اور زمار سب سے پہلے حملہ آور ہوئے اور اُن کے پیچھے پیچھے زافیر کا باپ بھی، جو اب خود بھی بیٹے کے خون کا پیاسا ہو چکا تھا۔

زافیر نے جب تلوار مضبوطی سے ہاتھ میں تھامی تو اس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔ دشمن اب کوئی اور نہیں، اس کا اپنا ہی خاندان تھا لیکن سامنے آنے والا ہر شخص اب صرف ایک ہدف تھا، مارو یا مر جاؤ۔

وہ بجلی کی سی تیزی سے حرکت میں آیا۔ پہلا حملہ کرنے والا قریب آیا تو زافیر نے ایک دائرہ بناتے ہوئے تلوار کا وار کیا۔ تلوار اُس شخص کے پیٹ کے نچلے حصے کو چیرتی ہوئی دوسری جانب نکل گئی۔ انتڑیاں باہر آ گریں اور وہ تڑپتا، بلکتا فرش پر ڈھیر ہو گیا۔

دوسرا شخص چیختا ہوا جھپٹا مگر زافیر کی تلوار نے اس کے بازو کو کہنی سے نیچے کاٹ دیا۔ بازو الگ ہوکر فرش سے جا ٹکرایا اور وہ شخص درد سے کراہتا ہوا زمین پر گِر پڑا۔

اسی لمحے رینا نے پیچھے سے الٹی قلابازی لگا کر زافیر کی گردن کو جکڑ لیا۔ اُس کی گرفت فولادی تھی۔ زمار بھی خنجر لیے دوڑا اور دل کا نشانہ لے کر وار کیا لیکن زافیر نے خود کو زور سے جھٹکا دیا۔ وار چُوک گیا اور خنجر زافیر کے کندھے میں دھنس گیا۔ ایک چیخ اُس کے لبوں سے نکلی لیکن وہ رکا نہیں۔

دانت پیستے ہوئے، زافیر نے اپنے کندھے سے خنجر کھینچا اور گھوم کر رینا کی پسلیوں میں گھونپ دیا۔ خنجر جیسے ہی گوشت میں اترا، ایک کریہہ آواز آئی اور رینا کا چہرہ کرب سے بگڑ گیا۔ اُس کا پھیپھڑا بری طرح زخمی ہو چکا تھا۔ وہ خنجر پر ہاتھ رکھے دوہری ہو گئی، اس کی سانس پھول رہی تھی جیسے آخری سانسیں ہوں۔

اسی اثنا میں ایک اور شخص دوڑتا ہوا بچی کی طرف لپکا۔ زافیر نے لمحے بھر میں پستول نکالا، نشانہ لیا اور فائر کر دیا۔ گولی سیدھی اُس کے ماتھے میں گھسی، دماغ کی چھیٹیں فضا میں بکھر گئیں اور وہ بے جان ہو کر زمین بوس ہو گیا۔

زمار جو اب بھی زندہ تھا، دوبارہ جھپٹا۔ زافیر نے بغیر وقت ضائع کیے دوسری گولی چلا دی۔ گولی اس کے سینے میں گھسی اور پشت کی ہڈی چیرتی ہوئی نکل گئی۔ وہ پیچھے کو لڑکھڑایا، آنکھیں پتھرا گئیں اور وہ بھی گِر گیا۔

زافیر کے والد بھی اس قتلِ عام سے محفوظ نہ رہ سکے۔ اُن کی آنکھوں میں دکھ، غصہ اور بد اعتمادی کا طوفان تھا۔ لیکن زافیر اب رحم سے خالی ہو چکا تھا۔ ایک اور سنسناتی گولی نکلی، سیدھی ان کے سر میں پیوست ہوئی۔ خون کا فوارہ چھوٹا اور وہ فوراً نیچے جا گرے۔ نہ چیخ، نہ آہ… محض خاموشی۔

چند منٹوں میں پورے خاندان کے پندرہ میں سے زیادہ تر افراد یا تو مر چکے تھے یا شدید زخمی تھے۔ زافیر کے اردگرد اب صرف درد سے تڑپتے زخمی… خاندان کی لاشیں… خون آلود فرش اور موت کی خاموشی تھی۔

اچانک ایک زوردار آواز کے ساتھ گولی زافیر کی کمر میں لگی۔ وہ چیخا، پیچھے کو لڑکھڑایا اور زمین پر گِر گیا جیسے کسی نے دہکتا انگارہ اس کے جسم میں اتار دیا ہو۔
اس نے پلٹ کر دیکھا… اوپر ٹیرس پر اُس کی ماں کھڑی تھی۔ اُس کے ہاتھ میں پستول تھا اور نگاہ میں ممتا کے بجائے نفرت، سرد مہری اور سفاکی بھری تھی۔
یہ ایک ایسا خاندان تھا، جہاں بیٹے کے دل میں ماں کی محبت مر چکی تھی… اور ماں کے دل میں ممتا دفن ہو چکی تھی۔
اب اس پستول کا اگلا ہدف بچی تھی۔

زافیر نے کراہتے ہوئے زمین پر گِرتے ہوئے آخری ہمت جمع کی، چھلانگ لگائی، بچی کو بازوؤں میں لپیٹا اور صوفے کے پیچھے جا چھپا۔ گولیاں گونجنے لگیں۔ دیواریں چھلنی ہوئیں، صوفے کے کنارے ٹوٹے اور گولیوں کا شور دل دہلا دینے والا تھا۔

زافیر نے دم روک کر انتظار کیا پھر خاموشی چھا گئی۔
اُس نے اندازہ لگا لیا کہ اُس کی ماں کے پستول کی گولیاں ختم ہو چکی تھیں۔

،وہ بجلی کی سی تیزی سے اٹھا، پستول سیدھا کیا اور ایک گولی چلائی

گولی اُس کی ماں کی گردن میں گھسی اور پچھلی طرف سے نکل گئی۔ خون کا فوارہ پھوٹا۔ وہ چند لمحے چھت کے کنارے پر جھولتی رہی پھر فضا میں لہراتے ہوئے نیچے آ گری۔
فرش پر گرتے ہی وہ مچھلی کی طرح تڑپی، ہاتھ پاؤں مارے اور آخر کار ہمیشہ کے لیے مکمل سکوت میں چلی گئی۔

زافیر خود بھی خون میں لت پت تھا۔ اس کا کندھا بری طرح زخمی، کمر میں گولی اور آنکھوں میں تھکن، درد اور بقا کی آگ باقی تھی۔ وہ لرزتے قدموں سے بچی کے پاس پہنچا، اسے بانہوں میں اٹھایا اور لڑکھڑاتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھا۔

گاڑی میں بیٹھتے ہی اُس نے ایک نظر اس جہنم پر ڈالی جہاں خاندان نہیں، درندے بستے تھے۔ وہ بچی کو اپنی آغوش میں لے کر نئی دنیا کی طرف نکل پڑا۔
ایک ایسی دنیا کی طرف، جہاں انسان بستے تھے… اور انسانیت کی کچھ رمق باقی تھی۔

°°°°°°°°°°

زافیر شدید زخمی اور نڈھال تھا۔ اس کے جسم سے خون بہہ رہا تھا اور سانسیں بے قابو ہو چکی تھیں۔ اس کے باوجود، وہ پوری ہمت مجتمع کیے گاڑی کی اسٹیئرنگ تھامے سڑک پر رواں دواں تھا۔ اُس کی نظریں دھندلا رہی تھیں، ہاتھ کانپ رہے تھے لیکن ذہن ابھی تک بیدار تھا۔ محفوظ مقام تک پہنچنے کی آخری کوشش جاری تھی۔

ایک مخصوص مقام پر پہنچ کر زافیر نے اچانک گاڑی سڑک سے اتار لی۔ سامنے ایک پرانا، گھنا اور چوڑا درخت کھڑا تھا۔ بظاہر یوں محسوس ہورہا تھا کہ گاڑی سیدھی جا کر درخت سے ٹکرا جائے گی مگر جیسے ہی وہ درخت کے قریب پہنچا، ایک عجیب منظر وقوع پذیر ہوا۔ گاڑی درخت سے صرف چند فٹ کے فاصلے پر تھی کہ اچانک ایک شفاف، غیر مرئی پردے کو چیرتے ہوئے اس کے پار نکل گئی۔ لمحے بھر میں گاڑی غائب ہو چکی تھی۔ جیسے وہ خلا میں تحلیل ہو گئی ہو۔

°°°°°°°°°°

اگلے لمحے، زافیر کی گاڑی ایک سنسان، بنجر میدان میں نمودار ہوئی۔ وہاں دھوپ تیز تھی، زمین پیاسی اور فضا بے جان تھی۔ زافیر کے جسم سے مسلسل خون بہہ رہا تھا اور اس کا چہرہ پیلا پڑ چکا تھا۔ اب اس کے لیے سانس لینا بھی مشکل ہو چکا تھا۔

گاڑی کی اگلی سیٹ پر ننھی بچی بیٹھی تھی، جو معصوم آنکھوں سے زافیر کو تکے جا رہی تھی۔ وہ نادان تھی، سمجھدار نہیں تھی لیکن اس کے ننھے دل نے محسوس کر لیا تھا کہ اس کا محافظ شدید اذیت میں مبتلا ہے۔

زافیر نے گاڑی کی رفتار تھوڑی کم کی اور سامنے افق پر ایک چھوٹا سا گاؤں نظر آیا۔ اسے اندازہ ہو گیا کہ اگر وہ گاڑی سڑک پر موڑ کر مکمل چکر لگا کر گاؤں پہنچنے کی کوشش کرے تو نقاہت کے باعث شاید وہ راستے ہی میں بے ہوش ہو جائے۔ لہٰذا، اس نے سڑک چھوڑ کر قریب ہی ہری بھری گندم کے کھیت میں گاڑی گھسا دی، اپنی آخری ہمت جمع کر کے ایکسیلیریٹر پر پاؤں زور سے جما دیا۔

گاڑی ہری گندم میں، نم زمین پر تیزی سے آگے بڑھنے لگی لیکن زافیر کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا چکا تھا۔ خون کی کمی اور جسمانی تھکن نے آخر کار اس کے ہوش چھین لیے۔ وہ بے سدھ ہو کر اسٹیئرنگ پر جھک گیا۔
گاڑی اب بغیر قابو کے آگے بڑھتی رہی، یہاں تک کہ اس کے پہیے کیچڑ میں دھنسنے لگے۔ جلد ہی چاروں پہیے ایک ہی جگہ پھنس کر گھومنے لگے۔ گاڑی کی رفتار تھم گئی، پہیوں کے نیچے کی زمین نرم ہوتی گئی اور چند لمحوں میں چاروں پہیے مکمل طور پر مٹی میں دھنس گئے۔

°°°°°°°°°°

(متوازی دنیا)



زمار، جس کے سینے میں زافیر، اس کے اپنے بھائی نے گولی ماری تھی۔ اس نے آہستگی سے اپنی بوجھل پلکیں اٹھائیں۔ وہ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر تھا۔ آنکھیں کھلتے ہی دھندلے سے منظر میں اسے گاڑی کا اندرونی حصہ دکھائی دیا۔ چھت، سیٹیں اور ڈیش بورڈ… سب کسی دھند میں لپٹے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔ اس نے فوراً اٹھنے کی کوشش کی مگر جیسے ہی اس کے جسم نے حرکت کی، ایک شدید اور بے رحم درد کی لہر اس کے سینے سے اٹھ کر پورے وجود میں پھیل گئی۔ وہ کراہتا ہوا دوبارہ سیٹ پر گر گیا۔

،اسی لمحے ایک نرم مگر تھکی ہوئی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی
“لیٹے رہو… ابھی تم بہت کمزور ہو۔”
یہ اس کی اہنی بہن رینا تھی جو ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی تھی۔

زمار نے بمشکل اپنی گردن موڑ کر رینا کی طرف دیکھا۔ اس کا چہرہ غم، تھکن اور سنجیدگی کا مجموعہ لگ رہا تھا۔ پھر اس نے اپنی نظریں نیچے جھکائیں اور اپنے سینے پر بندھی بے ترتیب اور خون آلود پٹیوں کو دیکھا۔ وہ بری طرح زخمی تھا۔

“زمار نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں پھر دھیرے سے پوچھا، “باقی سب کہاں ہیں؟

رینا نے ایک سرد سانس لی اور پل بھر کو پیچھے مڑ کر زمار کو دیکھا۔ اس کی نظروں میں غم کی نمی تھی لیکن چہرہ پتھر کی طرح سخت تھا۔

“…کوئی نہیں بچا”
اس نے سرد لہجے میں کہا اور نظریں دوبارہ سڑک پر جما دیں۔
“گھر کے کچھ افراد شاید زندہ تھے… مگر میں صرف تمہیں ہی نکالنے میں کامیاب ہو سکی۔”

،زمار نے کرب سے آنکھیں میچ لیں۔ اس کا دل کسی انجانے بوجھ سے ڈوبنے لگا تھا۔ وہ بےقراری سے بولا
“کیا مطلب؟ ایسی کون سی آفت آن پڑی تھی کہ تم نے سب کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا؟”

رینا کی آواز تھوڑی سی کانپ گئی، جیسے وہ خود کو مضبوط رکھنے کی کوشش کر رہی ہو۔
“زافیر کے جانے کے کچھ ہی دیر بعد… بنگلے پر درندوں کا جھنڈ ٹوٹ پڑا۔”
اس کے دماغ میں ابھی تک وہی منظر گھوم رہا تھا۔
“میں تمہیں بمشکل کھینچ کر گاڑی تک لائی۔ اگر ایک پل بھی اور رُکتی تو شاید میں بھی اُن ہی خونخوار جبڑوں کا شکار ہو جاتی۔”

زمار کی آنکھوں میں ایک تیز لہر اٹھی۔ اس کے اندر زہر اُبلا اور وہ غصے سے بھڑک اٹھا۔
“…میں زافیر کو چھوڑوں گا نہیں… اس نے پورے خاندان کو”
لیکن جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی اس کے اندر سے کھانسی کا ایک خونی طوفان اُمڈ پڑا۔

،رینا نے گھبرا کر ایک نظر بیک ویو مرر میں اس پر ڈالی اور تیزی سے بولی
“زیادہ مت بولو… تمہارے پھیپھڑے کٹ چکے ہیں۔”

زمار کا جسم چند لمحوں تک کھانسی کی ہچکیوں میں ہلتا رہا پھر وہ تھک ہار کر خاموش ہو گیا۔ گاڑی سڑک پر سنّاٹے سے گزر رہی تھی، اس کے ٹائروں کی گھڑگھڑاہٹ جیسے ان دونوں کے دل کی دھڑکنوں سے ہم آہنگ ہو چکی تھی۔
کچھ لمحے خاموشی میں گزرے۔ پھر زمار نے دھیرے سے سر گھما کر پوچھا،
“ہم کہاں جا رہے ہیں…؟”

،رینا کی نظریں کچی سڑک پر جمی رہیں۔ اس کا چہرہ اب اور زیادہ سنجیدہ ہو چکا تھا۔ اس نے ایک لمحہ توقف کے بعد آہستگی سے جواب دیا
“…زافیر کی موت خریدنے”
یہ جواب ایک پہیلی کی مانند زمار کے ذہن میں گونجتا رہ گیا۔ وہ کچھ سمجھ نہیں پایا لیکن اتنا ضرور جان گیا کہ اس کی بہن کے دل میں محض انتقام نہیں… بلکہ کوئی بڑا، گہرا اور خطرناک منصوبہ جنم لے چکا ہے۔

°°°°°°°°°°

جاری ہے…