ناول درندہ
قسط نمبر 30
باب سوّم: شبکہ
مصنف: زیاد اصغر زارون
°°°°°°°°°°
:ایک گھنٹہ قبل
آبرو اپنے کمرے کی مدھم روشنی میں خاموشی سے چھت کو گھورے جا رہی تھی۔ اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں انجانی سنجیدگی تیر رہی تھی۔ محض آٹھ برس کی عمر میں یہ کیفیت اس پر بھلی بھی لگ رہی تھی اور عجیب بھی… جیسے وہ اپنے ننھے دل میں کوئی بھاری سوچ چھپا بیٹھی ہو۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ کسی کا بے صبری سے انتظار کر رہی ہے۔
اچانک کمرے کے باہر سے ہلکی سی چرچراہٹ سنائی دی۔ آبرو جھٹکے سے اٹھی اور تیز قدموں سے دروازے کی طرف بڑھی۔ جیسے ہی ہال کا دروازہ بند ہونے کی آواز آئی، وہ بھی دبے قدموں کمرے سے نکل آئی۔
اب وہ اندھیرے میں ڈوبے ہال میں کھڑی تھی۔ شیشوں کے پار صحن واضح نظر آ رہا تھا۔ وہاں اس نے اپنے بابا کو دیکھا جو الگ تھلگ چاردیواری کی سمت بڑھ رہا تھا۔ وہ چھوٹے دروازے سے اندر داخل ہوا تو آبرو نے بھی ہال سے نکل کر خاموشی سے اس کا پیچھا شروع کر دیا۔
اس کے ننھے قدم حد درجہ محتاط تھے۔ آج وہ پہلی بار اپنے بابا کے پیچھے نہیں آئی تھی۔ یہ معمول اس دن سے تھا جب ضمیر کو بنگلے میں لایا گیا تھا۔
جب بھی زافیر ذبح خانے کی طرف جاتا، آبرو بھی دبے قدموں اس راستے پر نکل پڑتی۔ وہاں پہنچ کر وہ ہمیشہ دروازے سے کان لگا دیتی مگر ذبح خانے کی دیواریں آواز نگل لیتیں۔ ساؤنڈ پروف ہونے کی وجہ سے اسے کبھی کچھ سنائی نہیں دیتا تھا اور آخرکار اسے نامراد واپس لوٹنا پڑتا تھا۔
آج بھی وہ اسی امید کے سہارے آئی تھی۔ جیسے ہی زافیر ذبح خانے کا دروازہ پار کر کے اندر گیا۔ آبرو بھی اندھیری حویلی میں داخل ہوئی اور دروازے کے باہر رک کر کان لگا دیے۔ وہ دیر تک ساکت کھڑی سننے کی کوشش کرتی رہی مگر ہر بار کی طرح اس بار بھی خاموشی کے سوا کچھ سنائی نہیں دیا۔
اچانک دروازے سے کھٹکے کی آواز ابھری۔ آبرو چونک اٹھی۔ زافیر باہر نکلنے والا تھا۔ وہ گھبرا کر تیزی سے اندھیری دیوار کے ساتھ چمٹ گئی اور سانس روک لی۔
چند لمحوں بعد زافیر موبائل کان سے لگائے دروازے سے باہر آیا۔ ایک پل کے لیے اس کی سانس رکی، جیسے ہوا میں کوئی مانوس خوشبو گھل گئی ہو۔ اسے اپنی بیٹی آبرو کی موجودگی کا وہم سا ہوا لیکن چونکہ وہ اکثر اپنی بیٹی کے بارے میں ہی سوچتا رہتا تھا، اس لیے یہ احساس بھی اس نے وہم سمجھ کر جھٹک دیا۔ سر ہلایا اور بات کرتے کرتے لان کی طرف بڑھ گیا۔ دروازہ اس کے پیچھے آہستگی سے نیم وا رہ گیا اور وہ لاک کرنا بھول گیا تھا۔
یہی لمحہ آبرو کے لیے سنہری موقع تھا۔ وہ جھکتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھی اور دبے قدموں ذبح خانے میں داخل ہوگئی۔
اندر کا منظر اس کے ننھے دل پر بجلی بن کر گرا۔ اس کی آنکھیں میز پر بندھے ایک قیدی پر جا ٹھہریں۔ خوف اور تجسس کے ملے جلے احساس نے اسے مزید جھک کر چلنے پر مجبور کر دیا۔ وہ گھبرا کر ادھر ادھر نظریں دوڑانے لگی کہ کہیں چھپنے کی محفوظ جگہ مل جائے۔
کچھ ہی فاصلے پر اسے ایک بھاری بھرکم واشنگ مشین دکھائی دی۔ وہ جگہ اتنی کشادہ تھی کہ وہاں چھپ کر سب کچھ باآسانی دیکھا جا سکتا تھا اور کسی کی بھی اس پر نظر پڑنا تقریباً ناممکن تھا۔ آبرو نے ایک پل ضائع کیے بغیر جھک کر رینگتے ہوئے اس کے پیچھے پناہ لے لی۔ دل تیزی سے دھڑک رہا تھا، سانسیں دبی ہوئی تھیں لیکن آنکھیں پوری طرح چوکس تھیں۔
°°°°°°°°°°°°°
تھوڑی ہی دیر بعد ذبح خانے کا دروازہ کھلا۔ زافیر اندر آیا اور دروازہ لاک کر دیا۔ ایک لمحے کو پھر اسے ہوا میں آبرو کی مانوس خوشبو محسوس ہوئی لیکن ہمیشہ کی طرح اس خیال کو سر جھٹک کر نظر انداز کر دیا۔ وہ سیدھا ضمیر کی طرف بڑھ گیا۔
آبرو واشنگ مشین کے پیچھے خاموش بیٹھی سب کچھ دیکھ رہی تھی۔ اس کے ننھے وجود پر لرزہ طاری تھا۔
“تو… ہم کہاں تھے؟”
زافیر نے میز پر رکھی ہتھوڑی اٹھائی، لیکن اچانک کچھ سوچ کر اسے واپس رکھ دیا۔ پھر وہ آہستہ قدموں سے کیچن ایریا کی طرف بڑھا، وہاں سے ایک خالی گلاس اٹھایا اور پلٹ آیا۔
اب کی بار اس نے ٹرے سے ایک نوکدار چھری اٹھائی اور ضمیر کی کلائی کو سختی سے دبوچ لیا۔ اگلے لمحے چھری کی دھار چمکی اور ایک رگ کٹ گئی۔ خون کی تیز دھار سیدھا گلاس میں گرنے لگی۔
آبرو کے جسم میں خوف کی ایک ٹھنڈی لہر دوڑ گئی۔
وہ کانپ اٹھی اور فوراً دونوں ہاتھ اپنے منہ پر کس لیے تاکہ اس کی چیخ یا سسکی باہر نہ نکل پائے۔ آنکھیں پھیل گئی تھیں، دل دھڑکنے کی بجائے گویا پھٹنے کو تھا۔
کچھ ہی لمحوں میں گلاس آدھا بھر گیا۔ زافیر نے اسے ٹرے پر رکھ دیا اور صندوق کی طرف بڑھا۔
،وہاں سے ایک پٹی نکالی اور خون رستی کلائی پر لپیٹتے ہوئے سرد لہجے میں بولا
میں نے اب تک بے شمار لوگوں کو مارا ہے… ان کا گوشت کھایا ہے۔ “
“لیکن جو لذت تمہارے گوشت میں ہوگی… اس کا تصور ہی میرے بدن میں ایک سرور بھر دیتا ہے۔
یہ الفاظ آبرو کے دل پر یوں اترے جیسے کسی نے ننگی تلوار اس کے نازک وجود پر رکھ دی ہو۔ آنکھوں میں خوف کے ساتھ نمی بھی بھر آئی۔
پھر اس نے اپنے بابا کی آواز دوبارہ سنی اور یہ آواز اس کے لیے اب اجنبی اور خوفناک ہوچکی تھی۔
“یقین کرو… میں ہر روز تمہارے وجود کا ایک حصہ کاٹوں گا۔ اور تمہارے سامنے ہی کھاؤں گا۔ یہ اذیت… تمہیں پاگل کر دے گی۔”
آبرو کا دل دہل گیا۔ اس کا دماغ چیخ رہا تھا کہ یہ سب خواب ہے، دھوکا ہے۔ مگر سامنے کا منظر حقیقت سے زیادہ ہولناک تھا۔ یہ سب کرنے اور بولنے والا کوئی اجنبی درندہ نہیں، بلکہ وہ شخص تھا جسے وہ بابا کہہ کر پکارتی تھی۔
،زافیر کے لبوں پر ایک سرد مسکراہٹ ابھری
“…وہ اللہ رکھا؟ میں نے اس کا بازو ابالا تھا… کاٹا نہیں تھا، سیدھا ابلتے پانی میں ڈال کر کھا لیا۔ آہ… وہ ذائقہ، وہ سرور”
آبرو کی آنکھیں پھیل گئیں۔ اسے اپنے بابا میں انسانیت کا شائبہ تک دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ یہ آنکھیں، جو کبھی محبت سے بھری تھیں۔ اب وحشت اور درندگی سے لبریز تھیں۔ یہ الفاظ، جو کبھی لوریاں دیتے تھے، اب خونی کہانیاں سنا رہے تھے۔ جسے وہ اپنی دنیا کا سب سے اچھا انسان، اپنا ہیرو اور اپنی کل کائنات سمجھتی تھی، آج اسی کے منہ سے یہ وحشیانہ جملے سن کر اس کے وجود میں لرزہ طاری ہوگیا۔
پھر منظر اور بھیانک ہوگیا۔ جب زافیر نے ضمیر کی کلائی پر پٹی باندھنے کے بعد خون سے بھرا گلاس اٹھایا اور ایک ہی سانس میں پی گیا تو آبرو کے بدن سے جیسے جان نکل گئی۔ اس کے ننھے دل پر بجلی سی گری۔ وہ کانپ گئی، آنکھوں کی نمی اب بوجھل آنسو بن کر بہنے کو بے تاب تھی۔ اس نے منہ پر رکھے ہاتھ اور بھی مضبوطی سے کس لیے تاکہ کوئی سسکی باہر نہ نکل سکے۔
اب زافیر کے ہاتھ میں ہتھوڑی تھی۔ وہ لمحہ آبرو کے لیے صدیوں پر بھاری تھا۔ ہتھوڑی بلند ہوئی… اور پوری شدت سے قیدی کے ہاتھ کی پشت پر آگری۔
ایک فلک شگاف چیخ نے ذبح خانے کی خاموش دیواریں لرزا دیں۔ آبرو کا دل دہل گیا۔ اس کے آنسو گالوں پر بہہ نکلے۔ اس کا ننھا وجود خوف کی لپیٹ میں تھا۔ دل کی دھڑکنیں دہشت سے بے قابو ہوگئیں۔
زافیر کا ہاتھ دوبارہ بلند ہوا اور دوسری ضرب قیدی کے ہاتھ پر جا گری۔ اب کی بار قیدی کی چیخ کے ساتھ رونے اور کراہنے کی آوازیں بھی شامل تھیں۔
آبرو کی آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔ دبائے ہوئے منہ سے ایک ہلکی سی سسکی نکل ہی گئی۔ گھبراہٹ میں اس نے فوراً اپنے منہ پر ہاتھ مزید زور سے جما دیے۔ اب وہ اپنے ہی بابا سے خوفزدہ تھی۔ ایسا خوف، جس نے اس کے معصوم ذہن کو قائل کر دیا تھا کہ اگر بابا نے اسے دیکھ لیا تو اسے بھی یونہی باندھ کر مار ڈالیں گے۔
اس کے لیے یہ سب مزید برداشت کرنا مشکل ہوگیا۔ خوف کے بوجھ تلے دبی اس نے اپنی آنکھیں زور سے بند کر لیں۔ جیسے اندھیرا ہی اسے اس ہولناک حقیقت سے بچا سکتا ہے۔
،آبرو کے کانوں میں پھر بابا کی خوفناک آواز گونجی
“ابھی تو شروعات ہے، میری جان… ابھی تو بہت سا حساب باقی ہے۔”
پھر اچانک ایک اور ٹھک کی گونج ابھری۔ قیدی کے ہاتھ پر ہتھوڑی کی تیسری ضرب لگی تھی۔ ضمیر کی چیخیں اب اس شدت سے بلند تھیں کہ جیسے چھت کو پھاڑ کر آسمان تک پہنچ جائیں۔
اس بار آبرو کے ننھے ہاتھ منہ سے ڈھیلے پڑ گئے۔ ضبط کی دیوار ٹوٹ گئی۔ دکھ، خوف اور دہشت کے بوجھ تلے وہ زاروقطار رونے لگی۔
زافیر ایک لمحے کو چونکا۔ اس نے پہلے پہل سوچا شاید وہم ہے لیکن فوراً ہی ٹھٹھک کر رہ گیا۔ دل زور سے دھڑکا، سانس جیسے گلے میں ہی اٹک گئی۔ ضمیر کی چیخوں کے شور میں ایک اور آواز شامل تھی… وہ ننھی آبرو کے رونے کی تھی۔ یہ وہم نہیں، حقیقت تھی۔ یہ آواز واشنگ مشین کے پیچھے سے صاف سنائی دے رہی تھی۔
زافیر کی ٹانگوں سے جیسے جان نکل گئی۔ لمحے بھر میں اس کی قوت چھن گئی، قدم ڈگمگا گئے۔ ذرا سی غفلت نے سب کچھ برباد کر دیا تھا۔
وہ گھبراہٹ میں واشنگ مشین کے پیچھے گیا اور جھانکا تو اندھیرے کونے میں اپنی ہی بیٹی کو سمٹے، لرزتے اور آنسو بہاتے پایا۔ آبرو اپنی ننھی باہوں سے خود کو لپیٹے زاروقطار رو رہی تھی۔
یہ منظر دیکھتے ہی زافیر پر بجلی سی گری۔ دل میں ایسی چبھن اٹھی جیسے کسی نیزے نے اس کی روح کو چیر کر رکھ دیا ہو۔ لمحے بھر کو اسے لگا جیسے زمین ہی پیروں تلے سے کھسک گئی ہو۔
وہ خوف اور ندامت کے ملے جلے احساس میں دو قدم پیچھے ہٹا۔ دماغ سن ہوگیا تھا۔ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ غیر متوقع لمحہ کیسے سنبھالے۔
ایک گہری، بے قابو سانس بھر کر وہ آہستہ آہستہ آبرو کے قریب بیٹھ گیا۔ لرزتے ہاتھوں سے اسے چھونے کی کوشش کی لیکن آبرو کے ننھے وجود نے اور بھی زور سے جھٹکا کھایا۔ وہ پیچھے کو سرک گئی، روتے ہوئے سسکیاں اور بلند ہوگئیں۔
“!…آبرو…! میرے بچے”
،زافیر نے لرزتی آواز میں کہا اور ایک بار پھر اپنی بیٹی کو چھونے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ مگر آبرو چیخ اٹھی
“!نہ… ہاتھ مت لگائیں! پیچھے ہٹ جائیں”
وہ ننھی بچی، جس کی آنکھوں میں ایک آنسو بھی زافیر کے لیے ناقابلِ برداشت ہوا کرتا تھا۔ آج دہاڑیں مار مار کر رو رہی تھی۔ اس کی چیخیں، اس کی سسکیاں زافیر کے دل کو ایسے کاٹ رہی تھیں جیسے تیز دھار خنجر گوشت کو چیرتا ہے۔
زافیر کی آنکھوں میں دکھ اور کرب سے نمی بھر آئی۔
“…میری بات تو سنو بیٹا”
،اس نے پھر ہاتھ بڑھایا مگر آبرو مزید پیچھے سمٹ گئی، خوف اور نفرت کے ساتھ ہچکیوں میں روتے ہوئے بولی
“!آپ… آپ انسانوں کو کھاتے ہیں… لوگوں کو مارتے ہیں… آپ مجھے بھی مار دیں گے”
یہ الفاظ سن کر زافیر کا وجود اندر سے ٹوٹ گیا۔ ایک پل کو آنکھوں میں نمی اٹھی، دوسرے ہی لمحے وہ آنسوؤں میں ڈھل گئی اور پھر وہ کھل کر رونے لگا۔
اس نے ہچکچاتے ہوئے آبرو کو زبردستی کھینچ کر اپنی گرفت میں لے لیا۔ آبرو بے بسی سے تڑپ رہی تھی، چھڑانے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی تھی۔ وہ جھٹپٹا رہی تھی، پھڑپھڑا رہی تھی، چیخ رہی تھی
مگر زافیر نے اسے چھوڑنے سے انکار کر دیا۔
وہ جانتا تھا کہ اگر آج ہار مان لی تو بیٹی کے دل سے اس کے لیے محبت اور بھروسہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ اس نے اسے اور قریب کھینچا تو آبرو بے اختیار اس کے منہ پر دونوں ہاتھوں سے تھپڑ مارنے لگی۔
“!چھوڑو مجھے… چھوڑو… چھوڑو مجھے”
وہ بار بار چلاتی، اس کے گالوں پر تھپڑ مارتی مگر زافیر نے ایک لمحے کو بھی اس کی مزاحمت کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ چاہتا تھا کہ آبرو اپنا سارا خوف، سارا دکھ اس پر انڈیل دے۔
آج پہلی بار زافیر کو اپنے وجود سے گھن محسوس ہوئی۔ آج اسے اپنی ہی ذات سے نفرت محسوس ہونے لگی تھی۔ اپنی ہی بیٹی کی آنکھوں میں اپنے لیے خوف اور نفرت دیکھ کر اس کا کلیجہ اندر ہی اندر کٹتا جا رہا تھا۔
ذرا فاصلے پر ضمیر اب بھی درد سے تڑپ رہا تھا، رو رہا تھا، لیکن زافیر کو اس کی خبر تک نہیں تھی۔ اس کی نظر اور توجہ صرف آبرو پر تھی۔
اس نے اپنی بیٹی کو اور قریب کھینچا، زبردستی اس کا سر اپنے سینے سے لگا لیا۔
…آبرو اب بھی چیخ رہی تھی، رو رہی تھی، اس کے سینے پر چھوٹے چھوٹے مکے برسا رہی تھی۔ مگر زافیر
وہ اسے کسی قیمت پر اپنے سے جدا کرنے کو تیار نہیں تھا۔
،وہ ایک بار پھر سسکیاں بھرتے ہوئے چیخی
“!آپ درندے ہیں… آپ انسانوں کو کھاتے ہیں… آئی ہیٹ یو”
،زافیر کے کلیجے پر جیسے کسی نے چاقو چلا دیا۔ آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کے ساتھ وہ زاروقطار بولا
“…ایسا نہیں ہے بیٹا… بابا ایسے نہیں ہیں… مجھے معاف کر دو… پلیز بیٹا، بابا کو معاف کر دو”
“!نہیں… آپ بابا نہیں ہیں! نہیں ہیں بابا… آپ درندے ہیں”
آبرو کی چیخ میں وہ سارا زہر اور ٹوٹا ہوا بھروسہ شامل تھا۔ وہ مسلسل مکے اور تھپڑ برساتے برساتے اب تھک چکی تھی۔
…اس کے ہاتھ ڈھیلے پڑ گئے، ننھا سا وجود نڈھال سا لگنے لگا۔ آنکھوں سے خوف جیسے بہہ گیا تھا مگر غم
وہ گہرا اور کچل دینے والا غم… اب بھی ویسے ہی موجود تھا۔
زافیر کی گرفت بھی ڈھیلی پڑنے لگی۔ اس نے لرزتے ہاتھ سے آبرو کی ٹھوڑی کو سہارا دے کر اس کا چہرہ اپنی طرف اٹھانے کی کوشش کی، مگر آبرو نے روتے ہوئے جھٹکے سے ہاتھ ہٹا دیا۔
،زافیر روتے ہوئے بولا
“…بابا کو معاف کر دو… بس ایک بار میری طرف دیکھ لو نا… بیٹا، ایک بار بابا کو معاف کر دو”
،آبرو مچلنے لگی، اس کی چیخیں اور تڑپ مزید بڑھ گئی
“!چھوڑیں مجھے… مجھے باہر جانا ہے… مجھے جانے دیں”
،زافیر کے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ وہ دھڑکتے دل کے ساتھ بار بار التجا کر رہا تھا،
“!معاف کر دو نا… پلیز، بس ایک بار معاف کر دو”
“!میں نے کہا… چھوڑیں مجھے! پلیز بابا… مجھے جانے دیں”
وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی اور پوری طاقت سے خود کو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی۔
آخرکار زافیر نے شکست کھا کر اپنے بازو ہٹا لیے۔ آبرو ایک جھٹکے سے اس کی گرفت سے نکلی اور تیزی سے دروازے کی طرف دوڑ گئی۔ وہاں پہنچ کر کانپتے ہاتھوں سے دروازہ کھولنے کی کوشش کرنے لگی مگر دروازہ بند تھا۔ وہ مزید زور زور سے رونے لگی، ہچکیوں میں سانس اٹکنے لگی۔
زافیر بوجھل قدموں سے اٹھا۔ آنکھوں سے آنسو پونچھے اور دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ اس نے کپکپاتے ہاتھ سے فنگر پرنٹ دیا۔ ہلکی سی بیپ کے ساتھ دروازہ کھل گیا۔
آبرو نے جھٹکے سے دروازہ کھینچا اور روتے ہوئے باہر بھاگ نکلی۔ لمحوں میں وہ ذبح خانے کی چاردیواری عبور کر گئی تھی… اور زافیر وہاں پتھر کی مورت بن کر کھڑا رہ گیا۔
چند لمحے وہ وہیں ساکت کھڑا رہا… دکھ اور پچھتاوے کے بوجھ تلے دبا ہوا۔ پھر اچانک اسے ضمیر کی دبی دبی کراہیں سنائی دیں۔
اس کی کراہیں سنتے ہی زافیر کے سارے جذبات یکدم دہکتے لاوے میں بدل گئے۔ اس کی آنکھوں میں غصے کی سرخی لہرا گئی۔
،اس نے تیزی سے دروازہ بند کیا اور طوفانی قدموں سے پلٹا۔ ضمیر کے قریب پہنچتے ہی وہ گرجا
“!یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے… تم ہی اس سب کے ذمہ دار ہو”
کہتے ہی زافیر نے ضمیر کی گردن جکڑ لی۔ اس کی انگلیاں فولاد کی طرح سخت تھیں۔ ضمیر ہاتھ پاؤں مارنے لگا، وہ بے آب مچھلی کی طرح تڑپ رہا تھا، پھڑپھڑا رہا تھا لیکن زافیر کی گرفت میں ذرا سی بھی ڈھیل نہیں تھی۔
،اس کی گرج دوبارہ ابھری، اس بار غصے کے ساتھ غم کی ٹوٹتی ہوئی لہر بھی شامل تھی
“!تم نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا…! پہلے آزلان چھین لیا… اور اب… میری بیٹی بھی مجھ سے چھین لی”
ضمیر کی آنکھیں پھیلتی چلی گئیں، چہرے کی سرخی نیلاہٹ میں بدلنے لگی۔ چند لمحوں کی جدوجہد کے بعد اس کا وجود ڈھیلا پڑ گیا۔ سانس کی ڈور ٹوٹ گئی اور دل کی دھڑکن ہمیشہ کے لیے تھم گئی۔
لیکن زافیر کی انگلیاں پھر بھی اس کی گردن پر جمی رہیں۔ وہ کئی منٹ تک اسے یونہی دبوچتا رہا… جیسے ضمیر کے مر جانے کے باوجود بھی اس کے اندر کے غصے اور شکست کی آگ بجھ نہیں رہی تھی۔
آخرکار جب کچھ ہوش آیا تو اس نے ہاتھ ڈھیلے چھوڑ دیے اور قریب ہی پڑی کرسی پر ڈھے گیا، آنکھیں موند لیں اور کافی دیر وہیں ٹوٹا ہوا پڑا رہا۔
اب وہ نہ آبرو کے پیچھے بھاگا، نہ ہی یہ سوچا کہ وہ سب کچھ حورا اور مومنہ خاتون کو بتا دے گی۔ نہ ہی اسے اس بات کا خوف رہا کہ اگر اس کی حقیقت کھل گئی تو حورا اسے چھوڑ دے گی۔
اس کی زندگی میں سب سے بڑی حقیقت آبرو تھی… اور آبرو کی آنکھوں میں اب صرف نفرت رہ گئی تھی۔ یہ نفرت زافیر کے لیے اس دنیا کی سب سے بڑی سزا تھی۔ باقی جہان کی اسے کوئی پرواہ نہیں رہی۔
کچھ دیر بعد وہ بوجھل قدموں سے اٹھا۔ ضمیر کی لاش کو قید سے آزاد کیا، ہتھکڑیاں کھولیں اور اسے بازو سے گھسیٹ کر نیچے گرایا۔ پھر بےجان جسم کو کھینچتے ہوئے بھٹی کی طرف لے گیا۔
زافیر کو یوں لگ رہا تھا جیسے وہ اپنے شکار کو نہیں… اپنی ہی لاش کو گھسیٹ رہا ہو۔
بھٹی کا دروازہ کھول کر اس نے لاش اندر ڈالی، دروازہ بند کیا اور آگ بھڑکا دی۔ اس نے وقت تیس منٹ پر سیٹ کیا تاکہ مقررہ وقت پر شعلے خود بجھ جائیں۔
پھر ایک ٹوٹے ہوئے انسان کی طرح واپس پلٹا اور ذبح خانے سے باہر نکل گیا۔
…آج وہ درندہ نہیں تھا
…آج وہ انسان بھی نہیں تھا
…نہ ہی زافیر تھا
…وہ صرف ایک دکھی باپ تھا
…جس کی بیٹی
اس سے نفرت کرنے لگی تھی۔
°°°°°°°°°°
زمار اپنے مخصوص مقام پر پہنچ چکا تھا۔ یہ ایک ویران اور ڈراؤنا سا میدان تھا جو دلدل سے بھرا ہوا تھا اور دور تک پھیلتا چلا گیا تھا۔ ہوا میں نمی اور سڑاند بھری ہوئی تھی جیسے یہ خطہ صدیوں سے مردہ پڑا ہو۔
یہ زمین نہ تو کازمار کے علاقے میں شمار ہوتی تھی اور نہ ہی آبیاروس کی سلطنت کا حصہ تھی۔ صدیوں پہلے یہ شاہِ سموم کی ریاست کی آخری سرحد تھی۔ مگر جب شاہ سموم اندھیر نگری کے پیچھے قید ہوا تو اس کی ریاست ٹوٹ گئی اور یہ خطہ اجاڑ، بھولے بسرے ماضی کا حصہ بن گیا۔
یہی مقام رینا اور زمار کے نئے سفر کا پہلا پڑاؤ تھا۔
زمار تاج لے کر کافی وقت پہلے ہی پہنچ چکا تھا لیکن رینا ابھی تک نہیں پہنچی تھی۔ انتظار کی گھڑیاں لمبی ہوتی جارہی تھیں کہ اسی دوران دور سے ایک سایہ سا ابھرا۔ کچھ ہی دیر میں واضح ہوا کہ وہ کازمار کا ایک سپاہی ہے۔
زمار کی آنکھوں میں تجسس چمکا۔ یہ وہی سپاہی تھا جو رینا کا وفادار مانا جاتا تھا، وہی جو آبیاروس کی سلطنت میں ایلچی بن کر گیا تھا اور جنگ بھڑکانے میں رینا کا ہمراز تھا۔
زمار کے دل میں خیال آیا کہ شاید وہ رینا کی طرف سے کوئی پیغام لے کر آیا ہے۔ اسی لیے وہ اٹھ کھڑا ہوا اور صبر سے اس کے قریب آنے کا انتظار کرنے لگا۔
،جب سپاہی اس کے سامنے پہنچا تو زمار نے سوال کیا
“کیا تمہیں رینا نے بھیجا ہے؟”
،سپاہی احترام سے رکا، سر جھکا کر نرمی سے بولا
“جی ہاں… میں انہی کے کہنے پر آیا ہوں۔ وہ کسی امانت کی بات کر رہی تھیں۔”
“امانت…” زمار نے ہونٹوں پر حیرت سے یہ لفظ دہرایا۔ لمحہ بھر کے لیے اس کے ذہن میں الجھن چھا گئی۔”
مگر اگلے ہی پل اسے سمجھ آگئی کہ سپاہی کا اشارہ تاج کی طرف ہے۔
یہ بات اسے مزید پریشان کر گئی۔ بھلا رینا اتنے قیمتی تاج کے لیے محض ایک سپاہی کو کیوں بھیجے گی؟ یہ تو ان کے طے شدہ منصوبے میں شامل ہی نہیں تھا۔
وہ سوچ میں ڈوب گیا۔ شاید اس کے پیچھے بھی رینا کا کوئی نیا منصوبہ چھپا ہوا ہے۔
،زمار آہستگی سے پلٹا اور صندوق کے قریب پہنچا۔ اس کی آنکھوں میں تجسس جھلکنے لگا۔ اس نے پلٹ کر سپاہی پر نظریں جما کر پوچھا
“کیا رینا نے… اس کے علاوہ کچھ نہیں کہا؟”
“میں نے ان کی دی ہوئی ذمہ داری پوری کر دی۔ وہ کہہ رہی تھیں کہ آپ کو بتا دوں، میں نے اپنا فرض ادا کر دیا۔”
سپاہی کے منہ سے یہ الفاظ نکلے ہی تھے کہ زمار کا صندوق کی طرف بڑھتا ہوا ہاتھ رک گیا۔ اس کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ ابھری، جیسے اچانک سب راز کھل گئے ہوں۔ وہ اب رینا کا اشارہ اور اسے یہاں بھیجنے کا اصل مقصد سمجھ چکا تھا۔
اس نے آہستگی سے بیگ میں دونوں ہاتھ ڈالے۔ لمحہ بھر بعد جب ہاتھ باہر نکلے تو ان میں دو چمکتے ہوئے، دو دھاری خنجر تھے۔ وہ خنجر گھماتے ہوئے مسکرایا اور طنزیہ لہجے میں بولا،
“واقعی… تم نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔ آؤ، اب میں تمہیں زندگی کے فرض سے آزاد کر دیتا ہوں۔”
،سپاہی کے چہرے پر ایک پل کو گھبراہٹ لہرائی، مگر اگلے ہی لمحے وہ زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ بولا
“کیا تم آتشیں سپاہی کو مارنے کی بات کر رہے ہو؟ ایک معمولی انسان… جو ہلکی سی جلن سے ہی تڑپ اٹھتا ہے؟”
،زمار کی آنکھوں میں چمک ابھری اور طنزیہ لہجے میں بولا
“!کیوں نہیں… ضرور ماروں گا تمہیں”
یہ کہتے ہی وہ لپکا۔ سپاہی نے فوراً ہاتھ آگے بڑھایا۔ اس کی ہتھیلی سے آگ کی ایک تیز لپک نکلی جو دہاڑتی ہوئی زمار کی طرف بڑھی۔ مگر زمار کی پھرتی بجلی سے کم نہیں تھی۔ اس نے ایک جھٹکے سے پاؤں موڑے، وجود کو پیچھے جھکا کر لیٹنے کے انداز میں زمین پر پھسل گیا۔ شعلہ اس کے سر کے اوپر سے لپکتا ہوا نکل گیا۔
سپاہی کے قریب پہنچتے ہی زمار نے ایک خنجر اس کی ٹانگ میں پیوست کر دیا۔ دھاڑتے ہوئے اس نے خنجر کو نکالا اور الٹی قلابازی لگاتے ہوئے سپاہی کے پیچھے جا رکا۔
زخم سے خون پھوٹ کر بہہ نکلا… لیکن یہ عام خون نہیں تھا۔ یہ لاوے کی طرح گاڑھا اور کھولتا ہوا سرخ خون تھا جو زمین پر ٹپکتے ہی دھواں چھوڑنے لگا۔
سپاہی غصے میں دہاڑتے ہوئے پلٹا۔ اس کی آنکھیں انگاروں کی مانند دہک رہی تھیں۔ مگر پیچھے کھڑا زمار خنجر گھماتے ہوئے پُرسکون اور فاتحانہ انداز میں مسکرا رہا تھا۔
،وہ بولا
“…تم ابھی انسانوں کے بارے میں جانتے ہی کیا ہو”
یہ کہہ کر وہ گھومتے ہوئے آگے بڑھا۔ سپاہی نے دونوں ہاتھ آگے کیے اور ہتھیلیوں سے باریک مگر تیز شعلے نکلے جو سانپ کی طرح لہراتے ہوئے زمار کی سمت لپکے۔ مگر زمار کی پھرتی پھر غالب آئی۔ اس نے اپنے جسم کو گھما کر ایک اور قلابازی کھائی۔ وہ لٹو کی طرح تیزی سے گھوما اور اگلے ہی لمحے پچھلی جانب سے، دونوں خنجر سپاہی کے کندھوں میں پیوست کر دیے۔
خنجر گوشت چیرتے ہوئے نیچے کمر تک اتر آئے۔ خون کا لاوا پھوٹ نکلا، ساتھ ہی سپاہی کی ہولناک چیخ گونجی۔ وہ لڑکھڑا کر گھٹنوں کے بل زمین پر گر گیا۔
زمار پیچھے کھڑا خنجر گھما رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں فاتحانہ روشنی اور لبوں پر پرسکون مسکراہٹ تھی۔
،وہ بولا
“جانتے ہو… ہم انسان تم جیسوں سے بہتر کیوں ہیں؟”
زمار ایک لمحے کو خاموش ہوا۔ سپاہی نیم مردہ سا، بمشکل اپنا وجود گھسیٹتے ہوئے اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
،زمار کی آواز پھر فضا میں گونجی
تم طاقت کے گھمنڈ میں جیتے ہو… اور اسی پر انحصار کرتے ہو۔”
” لیکن ہم… ہم اپنے ہنر کو تراشتے ہیں، استعمال کرتے ہیں اور پھر اسی کو اپنا اصل ہتھیار بناتے ہیں۔
یہ کہتے ہی وہ قلابازی لگا کر ہوا میں بلند ہوا۔ دوسری، پھر تیسری قلابازی میں اس کا وجود سپاہی سے کئی فٹ اوپر جا پہنچا۔
سپاہی نے گمان کیا کہ اس بار بھی وہ پیچھے سے وار کرے گا۔ اس نے تیزی سے اپنا رخ بدلا… لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔
زمار کے پاؤں سپاہی کے دونوں کندھوں پر آ پڑے۔ لمحہ بھر کے لیے وقت جیسے رک سا گیا۔ پھر زمار نے دونوں خنجر گھمائے اور پوری قوت سے انہیں سپاہی کے سر میں پیوست کر دیا۔
ایک دھماکے جیسی چیخ فضا میں ابھری۔ خون کے فوارے پھوٹے اور سپاہی کا وجود جھٹکے سے لرز گیا۔ اگلے ہی لمحے زمار نے خنجر کھینچے اور الٹی چھلانگ لگا کر ہوا میں پلٹا اور پشت کے بل زمین پر اترا۔ قدم جماتے ہی وہ فاتح کی طرح کھڑا تھا۔
جب اس نے پلٹ کر دیکھا تو سپاہی گھٹنوں کے بل ڈھے چکا تھا۔ اس کے سر سے دو سرخ دھاریں نکل کر چہرے کو تر کرتی، زمین پر بہہ رہی تھیں۔ پھر وہ آگے کو جھکا اور ہمیشہ کے لیے بجھ گیا۔
اس کے وجود سے اٹھتے شعلے مدھم پڑے اور پھر مکمل طور پر ماند ہو گئے۔ اب وہ بس ایک بے جان جسم تھا… ماس کے سوا کچھ نہیں۔
،زمار نے آگے بڑھ کر اس پر آخری نگاہ ڈالی۔ اس کے لبوں پر ایک شیطانی مسکراہٹ پھیلی اور وہ آہستگی سے بولا
“…یہی ہے… تمہارے فرض ادا کرنے کا اصل انعام”
،پھر ایک لمحے کے وقفے کے بعد زیرِلب اضافہ کیا
“…شکریہ کے ساتھ… قیمتی انعام”
°°°°°°°°°°
زافیر کی پوری رات آنکھوں میں کٹ گئی تھی۔ پلکیں بار بار بوجھل ہوئیں مگر نیند پھر بھی نہیں آئی۔ آبرو ذبح خانے سے لوٹتے ہی، خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔
اب صبح کی روشنی پھیل چکی تھی۔ زافیر آنکھیں موندے بیڈ پر لیٹا تھا جب حورا کمرے میں داخل ہوئی۔ اس نے آتے ہی زافیر کا بازو ہلایا،
“…زافیر…! زافیر اٹھیں”
زافیر یوں ہی ساکت رہا۔ جیسے سنا ہی نہ ہو۔
،حورا کی آواز میں گھبراہٹ اتر آئی
“پلیز زافیر اٹھ جائیں، آبرو دروازہ نہیں کھول رہی۔”
یہ سن کر زافیر کی آنکھیں آہستگی سے کھل گئیں۔ کچھ لمحے وہ یونہی چھت تکتا رہا پھر بمشکل ہمت جمع کرتے ہوئے اٹھ بیٹھا۔ وہ جانتا تھا کہ آبرو نے رات کو جو دیکھا، اسی کا اثر تھا۔ اس کے چہرے پر خوف یا پریشانی کا کوئی تاثر نہیں تھا… مگر اداسی تھی، اتنی گہری کہ حورا نے فوراً محسوس کر لی۔ اسے لگا جیسے کوئی راز ہے… کوئی بات جو وہ نہیں جانتی۔
،وہ ہچکچاتے ہوئے بولی
“کیا آبرو… ابھی تک ناراض ہے؟”
،زافیر نے نظریں جھکائیں مگر کوئی جواب نہیں دیا۔ خاموشی سے چپل پہنی اور بیڈ سے اترتے ہوئے بمشکل بولا
“…میں بات کرتا ہوں”
اس کی آواز بھاری تھی، کرب سے بھری ہوئی۔
،حورا نے اس کے لہجے کی اذیت کو شدت سے محسوس کیا۔ وہ اور زیادہ بے چین ہوگئی اور پوچھنے لگی
“زافیر… کیا بات ہے؟ تمہاری آبرو سے رات کو کیا بات ہوئی؟”
،زافیر ایک لمحے کو رکا، پھر تلخ لہجے میں بولا
“!کہا نا… میں بات کرتا ہوں آبرو سے”
یہ کہہ کر وہ قدم اٹھاتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔ حورا چند لمحے وہیں کھڑی رہ گئی… ہکا بکا اور حیران۔ زافیر کے لہجے کی سختی اور آنکھوں کی اداسی نے اس کی الجھن کو اور بڑھا دیا تھا۔
وہ سوچ بھی نہیں نہیں پا رہی تھی کہ آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ رات کی ناراضگی اتنی بڑی بات تو نہیں تھی کہ آبرو اب تک دروازہ نہ کھولے۔
مگر کچھ نہ سمجھ کر وہ بھی خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔
°°°°°°°°°°
مومنہ خاتون دروازے کے باہر کھڑی بار بار دستک دے رہی تھیں۔ ان کی آواز میں التجا بھی تھی اور گھبراہٹ بھی۔
“آبرو… بیٹا، ایسا مت کرو… پلیز دروازہ کھولو۔”
،اندر سے آبرو کی تیز، چیختی ہوئی آواز ابھری
“!آپ جا کیوں نہیں رہیں؟ میں نہیں آنا باہر! آپ جائیں یہاں سے”
مومنہ خاتون نے ٹوٹتی سانسوں کے ساتھ پھر کہا،
“بیٹا، ضد نہیں کرتے… پلیز دروازہ کھولو۔”
لیکن اس بار اندر سے کوئی جواب نہیں آیا۔ لمحوں کی خاموشی اور بوجھل ماحول میں بس ایک خاموش دیوار تھی جو ماں اور بیٹی کے بیچ کھڑی تھی۔ اسی اثنا میں مومنہ خاتون نے زافیر کے قدموں کی آہٹ سنی۔ وہ جلدی سے دروازے سے ہٹیں اور اور کی طرف بڑھ گئیں۔
“پتا نہیں کیا بات ہے بیٹا… دروازہ کھول ہی نہیں رہی۔”
،زافیر نے نرمی مگر تھکے سے لہجے میں کہا
“آپ جائیں… میں بات کرتا ہوں۔”
مومنہ خاتون نے اثبات میں سر ہلایا اور آہستگی سے وہاں سے چلی گئیں۔ لیکن ابھی زافیر نے دروازے کی طرف رخ ہی کیا تھا کہ حورا بھی وہاں آ پہنچی۔
،زافیر نے ایک نظر اسے دیکھا، آنکھوں میں غصہ نہیں تھا لیکن لہجہ خشک اور بے رنگ تھا
“تم بھی جاؤ… مجھے آبرو سے اکیلے میں بات کرنی ہے۔”
حورا نے کوئی سوال نہیں کیا، بس خاموشی سے پلٹ گئی۔ اب راہداری میں صرف زافیر اور بند دروازہ رہ گئے تھے۔
،زافیر چند لمحے یونہی دروازے کو گھورتا رہا پھر آہستگی سے دروازے کے ساتھ ٹک کر کھڑا ہوا اور دبی ہوئی آواز میں بولا
“آبرو… بیٹا… کیا ہم ایک بار بات کر سکتے ہیں؟”
،وہ خاموشی کے جواب کا انتظار کرتا رہا۔ کوئی آواز نہیں آئی۔ اس نے گہرا سانس لیا اور کرب میں ڈوبے لہجے سے پھر کہا
“کیا بابا کو اتنا بھی حق نہیں… کہ تم سے بات کر سکیں؟”
مگر دروازے کے پار صرف سناٹا تھا۔ زافیر کی التجا بھی اس کے دل کی دیوار کو نہیں ہلا سکی۔
بابا…” یہ لفظ لبوں پر آتے ہی زافیر کا گلہ رندھ گیا۔ آواز بھرا گئی، جیسے ہر حرف دل کی جڑوں سے نکل رہا ہو۔”
“بابا… بہت پیار کرتے ہیں اپنی آبرو سے۔ اگر بات نہیں کرو گی…” اس کے الفاظ یک دم ٹوٹ گئے۔”
،گہری خاموشی چھا گئی، پھر بمشکل اس کے ہونٹوں سے لرزتی ہوئی سرگوشی نکلی
“تو بابا مر جائیں گے، بیٹا۔”
اس کی آواز میں ایسی ٹوٹ پھوٹ تھی کہ در و دیوار بھی لرز اٹھے مگر دروازے کے پار اب بھی سناٹا چھایا رہا۔ آبرو جیسے پتھر کی مورت بن گئی تھی۔
،زافیر نے تھکا ہوا سا سانس بھرا، پھر لرزتی آواز میں کہا
“…اگر تم نے دروازہ نہیں کھولا… تو میں چلا جاؤں گا۔ اور”
یہ کہتے ہی اس کی آواز گلے میں اٹک گئی۔ آنکھوں میں نمی تیر آئی۔
،اس نے کانپتے ہاتھ سے آنسو پونچھنے کی کوشش کی اور بڑی مشکل سے الفاظ ادا کیے
“اور کبھی… واپس نہیں آؤں گا۔”
وہ اگلے کئی لمحے دروازے کے ساتھ کھڑا رہا، دل ہر دھڑکن کے ساتھ دروازے کے کھلنے کی دعا کرتا رہا۔ مگر اندر سے کوئی جنبش نہیں ہوئی، نہ کوئی آواز، نہ کوئی قدم۔
بالآخر زافیر ہار گیا۔ وہ شکستہ قدموں سے پیچھے ہٹا، آنکھیں بجھی بجھی سی اور سر جھکا ہوا۔ اس کے قدموں میں بوجھ تھا، جیسے ہر قدم کے ساتھ روح بھی زمین میں دھنس رہی ہو۔ وہ آہستگی سے ہال کی طرف بڑھ گیا۔
ہال میں مومنہ خاتون اور حورا پریشانی کے عالم میں کھڑی تھیں۔ جیسے ہی ان کی نگاہ زافیر پر پڑی، اس کے چہرے پر لکھے غم نے ان کا دل مزید غمزدہ کر دیا۔ وہ سمجھ رہی تھیں کہ باپ بیٹی میں کوئی ناراضی ضرور ہے، مگر ایک ننھی سی بچی کی یہ شدت، یہ ضد… ان کی عقل سے بالاتر تھی۔
کچھ لمحے وہ یونہی ایک دوسرے کی طرف دیکھتی رہیں۔ پھر مومنہ خاتون نے حورا کو آنکھوں ہی آنکھوں میں بیڈ روم میں جانے کا اشارہ کیا۔ حورا نے اثبات میں گردن ہلائی اور دھیرے دھیرے قدم بڑھا دیے۔
°°°°°°°°°°
بیڈ پر ایک بڑا سا بیگ کھلا رکھا تھا اور زافیر الماری سے کپڑے نکال نکال کر اس میں بھر رہا تھا۔ کمرے کی فضا بھاری اور خاموش تھی۔
،جیسے ہی حورا اندر داخل ہوئی، یہ منظر دیکھتے ہی اس کے دل میں ہلچل مچ گئی۔ پریشانی کی شدت چہرے پر عیاں تھی۔ وہ تیزی سے بولی
“زافیر… یہ سب کیا ہے؟ کہاں جا رہے ہیں آپ؟”
،زافیر نے بنا رکے دو جوڑے تہہ کیے اور بیگ میں رکھتے ہوئے خشک لہجے میں کہا
“ایک ضروری کام سے جا رہا ہوں… جلد ہی لوٹ آؤں گا۔”
لیکن اس کے الفاظ اور چہرے کے تاثرات میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ صرف ایک جھوٹ ہے، کھوکھلے الفاظ… حقیقت یہ تھی کہ وہ ہمیشہ کے لیے اپنی آبرو سے دور جانے کا فیصلہ کر چکا تھا۔
حورا نے بےتابی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور اس کا رخ اپنی طرف موڑ دیا۔
،دونوں ہاتھوں سے اس کے گال تھام کر بھرائی ہوئی آواز میں بولی
“پلیز… بتائیں نا، یہ سب کیا چل رہا ہے؟”
زافیر نے چند لمحے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ پھر آہستگی سے اس کی کلائیاں تھام کر اپنے چہرے سے ہٹائیں اور دوبارہ بیگ میں کپڑے رکھنے لگا۔
کچھ نہیں ہوا…” وہ مدھم لہجے میں بولا، لیکن اگلے ہی لمحے اس کی آنکھوں میں نمی تیر آئی۔ دل جیسے بوجھ تلے دب گیا ہو۔”
،وہ رکا، پھر حورا کی طرف نم دیدہ آنکھوں سے دیکھ کر بھرائی آواز میں بولا
“میری آبرو کا خیال رکھنا… میری بچی کو میری کمی محسوس مت ہونے دینا۔”
یہ جملے گویا قیامت ڈھا گئے۔ حورا کا دل ایک دم جیسے بیٹھ سا گیا۔ وہ بیڈ پر ڈھے گئی، آنکھوں میں آنسو تیر آئے اور لرزتی آواز میں بولی،
“!زافیر… آخر ہوا کیا ہے؟ کچھ تو بتائیں، میں پاگل ہو جاؤں گی”
زافیر خاموش رہا۔ اس کی خاموشی تلوار کی طرح حورا کے دل کو کاٹ رہی تھی۔ وہ بیٹھے ہی بیٹھے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ زافیر نے اسے دیکھا، پھر الجھے اور بےبس لہجے میں پوچھا،
“اب تم کیوں رو رہی ہو؟”
،حورا نے بھرائی ہوئی آواز میں جواب دیا
تو کیا کروں؟ آبرو کمرے سے نکلنے کو تیار نہیں… اور آپ کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے صدیوں کا تھکا ہوا انسان ہو۔”
” نہ آپ کچھ بتا رہے ہیں، نہ مجھے کچھ سمجھ آ رہا ہے۔
،وہ مزید تیزی سے رونے لگی اور سسکیاں لیتے ہوئے بولی
“اب آپ ہی بتائیں… میں کیا کروں؟ اگر نہ روؤں… تو کیا کروں؟”
سامان مکمل کرتے ہی زافیر نے بیگ بند کیا اور پھر اچانک حورا کے سامنے گھٹنوں کے بل فرش پر بیٹھ گیا۔ اس کے گھٹنوں پر دونوں ہاتھ رکھ کر ٹوٹے ہوئے لہجے میں بولا،
“!…حورا”
،یوں لگا جیسے صدیوں کے دبے غم اچانک زبان پر آگئے ہوں۔ وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر خود کو سنبھالتے ہوئے دوبارہ بولا
“میں سب کچھ سہہ سکتا ہوں… ہر زخم، ہر تکلیف… لیکن اپنی آبرو کی آنکھوں میں نفرت نہیں۔ وہ… وہ مجھ سے نفرت کرنے لگی ہے۔”
یہ کہتے ہی زافیر کا سر جھک گیا، جیسے حوصلہ ہی ٹوٹ گیا ہو۔
،حورا کے آنسو تیزی سے بہنے لگے۔ وہ بھرائی ہوئی آواز میں روہانسے لہجے کے ساتھ بولی
“پلیز بتائیں تو… آخر ہوا کیا ہے؟ ایسی کیا قیامت ٹوٹ پڑی کہ باپ بیٹی کے رشتے میں دراڑ آگئی؟”
،زافیر نے گہرا سانس لیا۔ ہونٹ کانپے، آواز بوجھل تھی
“…رات کو”
وہ رکا، جیسے فیصلہ کرنے میں مشکل ہو کہ سچ کہے یا چھپائے۔
،حورا نے نم آنکھیں پونچھیں، دل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی۔ وہ تیز لہجے میں بولی
“!…کیا ہوا رات کو؟ صاف صاف بتائیے”
،زافیر کی آواز شکستہ تھی
“مجھے آزلان کا قاتل مل گیا… اور رات کو میں نے اسے مار دیا۔”
یہ سنتے ہی حورا ایک پل کو پتھر کی مورت بن گئی۔ آنکھوں میں حیرت، چہرے پر سناٹا چھا گیا۔ لیکن اگلے لمحے اس کے اندر کی بیوی جاگ اٹھی۔
،وہ بیویاں جو شوہر کے جرم پر بھی پردہ ڈال دیتی ہیں۔ وہ جلدی سے لرزتی آواز میں بولی
“تو…؟ تو کیا ہوگیا؟ وہ اسی قابل تھا…! آپ نے بالکل ٹھیک کیا۔”
زافیر نے دکھ بھری نگاہوں سے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ اس نگاہ میں شکریہ نہیں تھا… صرف کرب تھا۔ اگلے ہی پل وہ نظریں جھکا گیا۔
اب حورا کا دل بھی ڈوب گیا۔ اس نے تیزی سے پورا منظر دل میں جوڑ لیا۔ ایک ہی لمحے میں پوری کہانی اس کے سامنے کھل گئی۔
،اس کے ہونٹ کپکپا گئے اور وہ دھیمی لیکن ٹوٹتی آواز میں بولی
“کیا… آبرو نے آپ کو ایسا کرتے… دیکھ لیا؟”
زافیر نے ایک طویل، بوجھل سانس کھینچی اور آہستگی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
،اس نے بیڈ سے بیگ اٹھایا اور دھیمی لیکن فیصلہ کن آواز میں بولا
“جب تک آبرو سنبھل نہیں جاتی… میں اس کے سامنے نہیں آؤں گا۔”
یہ کہہ کر اس نے دروازے کی طرف قدم بڑھائے۔ حورا کے دل پر جیسے بجلی گری ہو، وہ تیزی سے آگے بڑھی اور اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ آنکھوں میں آنسو، لہجے میں کپکپاہٹ اور عجلت بھرا غصہ تھا۔
“آپ غلطی کر رہے ہیں، زافیر…! وہ آپ کی بیٹی ہے۔ اگر آپ خود اسے سمجھائیں گے… تو وہ سمجھ جائے گی۔”
زافیر دروازے کے قریب رُک گیا۔ اس کی نظریں لکڑی کے دروازے پر جمی رہیں۔ وہ جانتا تھا حقیقت حورا کی سوچ سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔
،اب کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہا تھا۔ تھکے ہوئے لہجے میں، بغیر اس کی طرف دیکھے بولا
“آبرو اب تمہاری ذمہ داری ہے… میں اپنی کُل کائنات… اپنی آبرو… تمہیں سونپ کر جا رہا ہوں۔”
یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اس نے آہستگی سے حورا کے بازو پر ہاتھ رکھا اور اسے ایک طرف ہٹا دیا۔ پھر دروازہ کھولا، بیگ اٹھایا اور باہر نکل گیا۔
حورا کے قدم لڑکھڑائے، دل بار بار اس کے پیچھے جانے کو کہہ رہا تھا لیکن وہ جانتی تھی یہ لاحاصل ہوگا۔ زافیر اب نہیں رکے گا۔ اس کا سفر طے ہوچکا تھا۔ اب صرف ایک ہی انسان تھا جو اسے روک سکتا تھا… آبرو۔ مگر شاید اسے بھی بابا کے نہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا تھا۔
زافیر گھر چھوڑ کر جا رہا تھا۔ قدم بوجھل تھے مگر دل جیسے خالی ہو چکا تھا۔
وہ نہیں جانتا تھا اب کہاں جانا ہے، نہ یہ کہ آگے کون سا راستہ ہے۔ اسے اب کسی بات سے فرق نہیں پڑتا تھا۔
…اس کے ذہن میں صرف دو ہی راستے ابھر رہے تھے
یا تو وہ اپنی درندگی بھری سچائی سے آبرو کو ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھنے کے لیے… خود کو ختم کر لے۔
یا پھر ہمیشہ کے لیے اس متوازی دنیا میں لوٹ جائے، جہاں سے نکلنے کے بعد، آج سب کچھ بکھر گیا تھا۔
°°°°°°°°°°
…جاری ہے
