جو تم دیکھ رہے ہو، وہ سچ نہیں ہے


زیاد اصغر زارون کے قلم سے

(جو تم دیکھ رہے ہو، وہ سچ نہیں ہے)
کیونکہ
یہ دنیا ویسی نہیں جیسی تم سمجھتے ہو
تمہاری آنکھیں جو دیکھتی ہیں وہی سچ نہیں ہے۔
تمہارے کان جو سنتے ہیں وہی حقیقت نہیں ہے۔
تمہارا دماغ جو سمجھتا ہے وہ بس ایک دھوکہ ہے۔
ایک کہانی جو تمہیں سنائی گئی ہے تاکہ تم سچ کا مذاق اڑاؤ۔
سوال نہ کرو اور نہ ہی حقیقت کی تلاش میں نکلو۔
لیکن اگر تم جاننا چاہتے ہو، اگر تم واقعی جاننا چاہتے ہو۔
تو یاد رکھو جو آنکھ دیکھ لے وہ نکال دی جاتی ہے۔
اور جو کان سن لے اس کی سانس ہی بند کر دی جاتی ہے۔

تمہیں کبھی ایسا محسوس ہوا کہ دنیا میں کچھ تو غلط ہے؟
جیسے سب کچھ بس ایک ترتیب میں چل رہا ہو۔
،مگر کہیں نہ کہیں کوئی ہے جو سوال اٹھنے سے پہلے ہی
سوالی کو ختم کر دیتا ہے۔
کیا تم نے کبھی سوچا کہ کچھ سوالوں کے جواب کیوں نہیں دیے جاتے؟
کیوں کچھ موضوعات پر بات کرنے سے لوگ گھبرا جاتے ہیں؟
کیوں کچھ سچائیاں کبھی سامنے نہیں آتیں؟

یہ سب یونہی نہیں ہے۔ تم سے چھپایا جاتا ہے۔
،تمہیں ایک پنجرے میں رکھا گیا ہے
،جس پر ایک پردہ ڈالا گیا ہے تاکہ تم دیکھ نہ سکو
،جہاں ہر حقیقت کو گھما پھرا کر جھوٹ بنا دیا گیا ہے
ہر جھوٹ کو اتنی بار دہرایا گیا ہے کہ وہ تمہیں سچ لگنے لگے۔
،جب تمہیں لگتا ہے کہ یہ سب میں پہلے بھی کر چکا ہوں
تو ایک غلط تھیوری کا حوالہ دے کر خاموش کروا دیا جاتا ہے۔

کبھی تم نے غور کیا کہ کچھ راز ہمیشہ راز کیوں رہتے ہیں؟
،وہ ایجادات جو صدیوں پہلے ممکن ہو سکتی تھیں
انہیں آج بھی “مستقبل کی ٹیکنالوجی” کیوں کہا جاتا ہے؟
کچھ حادثات کے گواہان ہمیشہ کیوں غائب ہو جاتے ہیں؟
،جو لوگ حقیقت کے قریب پہنچتے ہیں
وہ ہمیشہ کیوں خاموش ہو جاتے ہیں؟

،کیا تم نے کبھی محسوس کیا کہ تمہارے اردگرد کچھ ہے
جو تمہیں خود ساختہ دائرے سے نکلنے نہیں دے رہا۔
جو تمہاری ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے؟
تمہیں کبھی لگا کہ تم اکیلے ہو کر بھی اکیلے نہیں ہو؟

،تمہیں وہ لمحہ یاد ہے جب تم نے کسی سرگوشی کو سنا
،کسی سایے کو حرکت کرتے دیکھا
پھر خود کو سمجھایا کہ یہ بس تمہارا وہم تھا؟
کیا یہ واقعی وہم تھا…؟
یا تم نے کچھ ایسا دیکھ لیا تھا جسے دیکھنے کی تمہیں اجازت نہیں تھی؟
اور وہ تمہارے دماغ سے یوں مٹایا گیا کہ تمہیں بس وہم محسوس ہونے لگا۔
،کبھی کوئی خیال آیا ہو، کبھی کوئی بڑی سوچ دماغ میں ابھری ہو
،تم چاہ کر بھی وہ نہیں کر پائے
،لیکن کچھ عرصہ گزرا اور تمہیں وہی آئیڈیا
،کسی دوسرے کی شخصیت سے جڑا دکھائی دیا
وہ سوچ تو تمہاری تھی لیکن ہوبہو کسی دوسرے نے کیسے اپنایا اسے؟

،تمہیں لگتا ہے کہ تم آزاد ہو
مگر تمہیں کبھی وہ علم دیا ہی نہیں گیا جو تمہیں آزاد کر سکے۔
،تم سے چھپایا جاتا ہے اور جو جان لے
وہ ہمیشہ کے لیے گم ہو جاتا ہے۔

کیا تم واقعی سمجھتے ہو کہ تمہاری دنیا وہی ہے جو تمہیں دکھائی گئی ہے؟
کیا تم واقعی یقین رکھتے ہو کہ جو کچھ تمہیں پڑھایا گیا
جو کچھ تمہیں سمجھایا گیا وہی سچ ہے؟
اگر ایسا ہے تو پھر سوچو
،وہ چیزیں جو تمہیں کہانیوں میں سنائی جاتی ہیں
وہ حقیقت کیوں نہیں ہو سکتیں؟
،اگر کچھ بھی ممکن نہیں تو پھر کچھ لوگ اتنے خوفزدہ کیوں ہیں
کہ وہ تمہیں ان چیزوں کے بارے میں سوچنے تک نہیں دینا چاہتے؟

“تم بس یہ مت پوچھو کہ “یہ سب کیا ہے؟
“یہ پوچھو کہ “یہ سب تم سے کیوں چھپایا جا رہا ہے؟

اور آخر میں
،یہ سوال خود سے ضرور پوچھو

کیا ساری دنیا کی حکومتیں واقعی آزاد ہیں؟
…یا وہ سب کٹھ پتلیاں ہیں
جن کی ڈوریں چند طاقتور ہاتھوں میں ہیں؟

کیا وہ چند لوگ
ہر ملک، ہر نظام، ہر جنگ کو کنٹرول نہیں کرتے؟

اور کیا ان سب کے اوپر
ایک اور طاقت
خاموشی سے تیار نہیں بیٹھی؟

،اور جب کوئی ملک
،کوئی قوم
…اس کھیل کے خلاف بغاوت کرتی ہے
تو کیا اس کی اینٹ سے اینٹ نہیں بجا دی جاتی؟

…یاد رکھو
…ہم صرف وہی دیکھ رہے ہیں
…جو اغیار دکھانا چاہتے ہیں
حقیقت کہیں پردے کے پیچھے چھپی ہے۔
…یہ حقیقت تب عیاں ہوگی
جب عیسیٰ اور مہدی کا نزول ہوگا۔
اور یقیناً وہ وقت بہت قریب آچکا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *