مردوں کی سوچ
اگر عورتوں کو ایک دن کے لیے مردوں کی سوچ پڑھنے کی صلاحیت مل جائے تو وہ تمام غیر محرم مردوں سے دور ہو جائیں گی، جذباتی ضرور ہے مگر مکمل طور پر بے بنیاد بھی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مرد کی سوچ، خاص طور پر نامحرم کے حوالے سے، اکثر ویسی نہیں ہوتی جیسی وہ ظاہر کرتا ہے۔ معاشرے میں ایک بڑا طبقہ ایسا ہے جو بظاہر شرافت، دین داری، علم یا مقام کا لبادہ اوڑھے رکھتا ہے مگر اس کے اندر چلنے والی سوچ اس کے چہرے سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ اگر یہ پردہ ہٹ جائے تو بہت سی عورتوں کے لیے یہ ایک چونکا دینے والا تجربہ ہوگا، کیونکہ وہ جن لوگوں کو قابلِ اعتماد سمجھتی ہیں، ان کے بارے میں رائے یکسر بدل سکتی ہے۔
یہ ماننا سادہ لوحی ہے کہ صرف چند بگڑے ہوئے مرد ہی مسئلہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ زیادہ گہرا اور پھیلا ہوا ہے۔ ایک عام آدمی، چاہے وہ استاد ہو، پروفیسر ہو، مذہبی شخصیت ہو یا خاندان کا قریبی فرد، وہ بھی اپنی نظر اور خیال میں ایسی چیزیں رکھ سکتا ہے جو ظاہر نہیں کرتا۔ معاشرے میں مرد کو جو آزادی اور برتری دی گئی ہے، اس نے اس کے اندر ایک ایسی سوچ کو پروان چڑھایا ہے جہاں وہ خود کو کنٹرول کرنے کے بجائے چھپانے میں ماہر ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مرد اعتماد کے لائق نظر آتے ہیں، مگر حقیقت میں ان پر آنکھ بند کر کے بھروسہ کرنا عقل مندی نہیں۔
یہ کہنا کہ ہر مرد برا ہے شاید ایک سخت جملہ ہو، مگر یہ کہنا کہ ہر مرد قابلِ اعتماد ہے اس سے بھی بڑی بے وقوفی ہے۔ عورت کے لیے سب سے بڑی غلطی یہی ہے کہ وہ کسی کے عہدے، عمر، یا ظاہری دین داری کو دیکھ کر اسے محفوظ سمجھ لے۔ حقیقت میں انسان کی اصل پہچان اس کے خیالات اور نیت سے ہوتی ہے، اور یہی وہ چیز ہے جو سب سے زیادہ چھپی ہوتی ہے۔ اگر عورتیں واقعی مردوں کی سوچ پڑھ سکیں تو وہ یہ سمجھ جائیں گی کہ احتیاط کیوں ضروری ہے اور کیوں ہر مسکراہٹ، ہر نرمی اور ہر اچھے رویے کے پیچھے سچائی نہیں ہوتی۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ مردوں میں برائی موجود ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس برائی کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا ہے یا چھپایا جاتا ہے۔ مرد خود بھی اپنی اس کمزوری کو سنجیدگی سے نہیں لیتے، بلکہ اسے معمول کا حصہ سمجھ کر جیتے ہیں۔ یہی رویہ انہیں ناقابلِ اعتبار بناتا ہے۔ جب ایک شخص اپنی نظر اور سوچ پر قابو نہیں رکھ سکتا تو اس پر کسی بھی سطح کا اعتماد رکھنا خطرناک ہو جاتا ہے۔
اس لیے حقیقت پسندانہ رویہ یہی ہے کہ عورت اندھا اعتماد چھوڑ دے۔ ہر مرد کو پرکھا جائے، اس کے عمل کو دیکھا جائے، اور صرف الفاظ یا ظاہری شخصیت پر فیصلہ نہ کیا جائے۔ دنیا میں مکمل محفوظ کوئی نہیں، اور نہ ہی ہر شخص خطرہ ہے، مگر جب بات حفاظت کی ہو تو خوش فہمی سب سے بڑا نقصان کرتی ہے۔ عورت کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ خود کو ذہنی طور پر مضبوط بنائے، حدود کو سمجھے اور ہر تعلق میں ایک حد تک فاصلہ اور احتیاط رکھے، کیونکہ اندھا یقین اکثر سب سے بڑی غلطی ثابت ہوتا ہے۔
