ناول درندہ

قسط نمبر 32

باب چہارم: بدلاؤ

مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°

دن کے چار بج رہے تھے اور زافیر اب تک چادر اوڑھے بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔ وہ انسانی گوشت مکمل طور پر ترک کر چکا تھا اور پچھلے دو دنوں سے اس نے کچھ بھی نہیں کھایا تھا۔ جسم پر کمزوری اس قدر غالب آچکی تھی کہ اٹھنے کی سکت بھی نہیں رہی تھی۔

گھر کا ہر فرد جانتا تھا کہ زافیر کبھی گھر کا کھانا نہیں کھاتا۔ کسی نے آج تک اسے دسترخوان پر کھاتے نہیں دیکھا تھا۔ سب یہی سمجھتے تھے کہ وہ باہر سے کھا کر آتا ہے۔ کبھی کبھار تو وہ اہلِ خانہ کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے کھانا منگوا کر ذبح خانے کی طرف نکل جاتا تھا۔

مگر اب حال یہ تھا کہ وہ دو دنوں سے کمرے میں قید ہو کر رہ گیا تھا۔ چہرے سمیت پورے وجود پر چادر ڈالے لیٹا رہتا۔ اس نے صاف الفاظ میں حورا کو کہہ دیا تھا کہ وہ چند دن اس کے کمرے میں نہ آئے بلکہ دوسرے کمرے میں رہے۔ حورا الجھن میں تھی، اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اچانک ایسا کیوں کر رہا ہے۔ سچ تو یہ تھا کہ اس کی اصل حالت صرف آبرو ہی سمجھ سکتی تھی۔

جب بھی حورا کھانے کا پوچھنے آتی تو زافیر خراب صحت کا بہانہ کر کے بات ٹال دیتا۔ مگر اب تیسرے دن کا سورج بھی ڈھلنے کو تھا۔ اس بار وہ خاموش نہیں رہی۔

،اس نے ایک ٹرے پر کھانا رکھا اور زافیر کے کمرے میں داخل ہوگئی۔ سائیڈ ٹیبل پر کھانا رکھا اور بیڈ کے قریب آکر اسے کندھے سے ہلایا

“زافیر…! اٹھیں، میں کھانا لائی ہوں۔”

،زافیر کی آواز ٹوٹی اور مدھم نکلی
“مجھے… مجھے نہیں کھانا… واپس لے جاؤ۔”

الفاظ کمزور تھے مگر لہجہ ایسا جیسے دل اور وجود اذیت سے چور ہو کر فریاد کر رہا ہو۔

حورا کا دل ڈوب گیا۔ اسے فوراً محسوس ہوا کہ کچھ تو ہے جو زافیر چھپا رہا ہے۔ اس نے ایک جھٹکے میں چادر کا کونا تھاما اور پوری قوت سے کھینچ لیا۔ چادر اس کے ہاتھ میں آ گئی مگر زافیر دوسری طرف کروٹ لیے خاموشی سے لیٹا رہا۔

حورا کی بےچینی بڑھ گئی۔ اس نے چادر وہیں پھینکی اور جلدی سے اس کا کندھے تھام کر، پوری طاقت سے اسے سیدھا کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ اس کے چہرے کو دیکھ سکے… وہ چہرہ جو تیسرے دن سے پردے میں تھا۔

جیسے ہی حورا کی نگاہ اس کے چہرے پر پڑی، وہ یکدم گھبرا گئی۔ زافیر کی آنکھوں کے گرد گہرے سیاہ حلقے پڑ چکے تھے۔ ہونٹ خشک ہو کر سفیدی مائل ہو گئے تھے۔ جیسے ہی اس کی پلکیں بھاری بوجھ کے ساتھ اٹھیں اور آنکھیں کھلیں تو حورا یکدم خوف زدہ ہوگئی۔ ان آنکھوں میں خون جیسی سرخی اتر آئی تھی۔ گال سوجن سے پھولے ہوئے تھے اور آنکھوں کی سفیدی پر باریک باریک سرخ رگیں جمی ہوئی تھیں۔ یوں لگ رہا تھا جیسے کسی بھی لمحے وہ آنکھیں پھٹ کر باہر نکل آئیں گی۔

“ہائے اللہ… یہ آپ کو کیا ہوگیا ہے؟”
وہ گھبراہٹ میں بولی اور کپکپاتے ہاتھ سے اس کی پیشانی چھوئی۔ چھوتے ہی ٹھٹھک گئی… زافیر کا جسم آگ کی طرح تپ رہا تھا۔

“آپ کو اتنا شدید بخار ہے… آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟” حورا کی آواز لرز گئی، آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔

وہ جلدی سے بیڈ سے اٹھنے لگی لیکن زافیر نے جھٹ سے اس کی کلائی پکڑ لی۔

نہیں… میں ٹھیک ہوں…” اس کی آواز کمزور مگر ضد سے بھری تھی۔”

“!آپ ٹھیک نہیں ہیں، زافیر… ایک بار اپنی حالت تو دیکھیں”
“وہ تیزی سے بولی اور کلائی چھڑانے کی کوشش کرنے لگی۔ “میں ابھی ڈاکٹر کو کال کرتی ہوں۔
لیکن زافیر کی گرفت مضبوط تھی۔ وہ جانے ہی نہیں دے رہا تھا۔

“پلیز زافیر… چھوڑیں، مجھے جانے دیں۔ دیکھیں تو… آپ کیسے لگ رہے ہیں۔”

زافیر کی آنکھوں میں عجیب سی سختی ابھر آئی۔
میں ٹھیک ہوں… بس تم کچھ مت کرو۔” اس نے ٹھوس لہجے میں کہا۔”

یہ سن کر حورا کے ضبط کا بندھن ٹوٹنے لگا۔ آنکھوں میں چھپی نمی شفاف آنسوؤں میں ڈھلنے کو بےتاب ہوگئی۔

،وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی
“کیسے کچھ نہ کروں؟ آپ پچھلے دو دن سے تکلیف میں ہیں اور مجھے خبر بھی نہیں ہونے دی۔

!…میں آپ کی بیوی ہوں، زافیر… فکر ہے مجھے آپ کی”

“…میں دیکھتی ہوں انہیں”
دروازہ آہستہ سے کھلا اور آبرو سنجیدہ چہرے کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئی۔ اسے دیکھتے ہی زافیر نے فوراً حورا کی کلائی چھوڑ دی۔

،آبرو نے قدم آگے بڑھاتے ہوئے کہا
“آپ ڈاکٹر کو کال کر کے بلا لیں۔”

،حورا نے موبائل اٹھایا ہی تھا کہ آبرو نے اس کی آنکھوں میں سیدھی نظریں ڈالیں اور نرم لیکن پختہ لہجے میں بولی
“آپ باہر جاکر کال کریں… اور جب تک ڈاکٹر نہ آئے، آپ بھی باہر ہی رہیے گا۔ مجھے بابا سے بات کرنی ہے۔”

حورا کی آنکھوں میں ایک لمحے کو غصے اور جلن کی تیز لہر ابھری، وہ خاموشی سے پلٹی اور کمرے سے نکل گئی۔ زافیر اور آبرو دونوں نے اس کی جلن محسوس کر لی مگر وقتی نظر انداز کرنا ہی بہتر تھا۔

آبرو نے کھانے کی ٹرے بیڈ پر رکھی اور پاس بیٹھ کر بولی،
“…اٹھ جائیں بابا”

،زافیر نے کمزور آواز میں کہا
“جانتی ہو نا… میں یہ کھا نہیں سکوں گا۔”

،آبرو کا لہجہ غیر معمولی طور پر سنجیدہ تھا، جیسے ایک بچی نہیں بلکہ کوئی بڑی عمر کی ہستی بات کر رہی ہو
“بابا… کھانا تو پڑے گا۔ ایسے تو نہیں نا چل سکتا۔”

زافیر نے اس کی ضد پر مسکرا کر آہستگی سے اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کی۔ پلیٹ میں دنبے کی سلیمانی کڑاہی اور ساتھ دو روٹیاں رکھی تھیں۔

،یہ دیکھ کر پہلے لبوں پر مسکان ابھری پھر ہنس کر پوچھا
“کیا بنانے کو بس یہی ملا تھا؟”

“آبرو بھی مسکرا دی، “مجھے کیا پتا… ماما نے ہی بنائی ہے۔
بابا کی مسکراہٹ دیکھ کر اس کے چہرے پر بھی خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ زافیر کو ہنسی کس بات پر آئی تھی۔

پھر اس نے اپنے ننھے ہاتھوں سے روٹی کا نوالہ توڑا، سالن میں ڈبویا اور ساتھ آدھی بوٹی لگا کر زافیر کے ہونٹوں کے قریب لے آئی۔ یہ وہ لمحہ تھا جو زافیر کے دل میں نقش ہوگیا۔ پہلی بار وہ اپنی بیٹی کے ہاتھوں سے کھانا کھانے والا تھا… اور یہ تجربہ اس کے لیے الفاظ سے ماورا تھا۔

زافیر نے نرمی سے اپنی بیٹی کا ننھا سا ہاتھ تھاما اور نوالے کو زبان پر رکھتے ہوئے آہستہ آہستہ چبانے لگا۔ اس کی نظریں مسلسل آبرو کے معصوم چہرے پر جمی رہیں، جیسے اس لمحے دنیا کی ہر شے غیر اہم ہو۔

“آبرو…!” اس نے محبت اور شفقت کی انتہا سے بھری آواز میں پکارا۔

جی بابا…!” آبرو نے مزید ایک نوالہ توڑتے ہوئے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔”

،زافیر کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری
“اگر تم یونہی… ہمیشہ اپنے ہاتھ سے کھانا کھلایا کرو، تو میں پتھر بھی ہضم کر جاؤں گا۔”

،آبرو نے شوخی سے آنکھیں پھیلا کر کہا
“مسکا نہ لگائیں بابا… یہ صرف میرا حق ہے۔”

زافیر کی مسکراہٹ گہری ہوگئی۔ آبرو بڑے سکون اور محبت سے ایک ایک نوالہ توڑ کر اسے کھلا رہی تھی اور وہ بس کھاتا جا رہا تھا۔ یہ عام انسانوں جیسی زندگی کی طرف اس کا پہلا قدم تھا اور اسے یقین تھا کہ اپنی بیٹی کے لیے وہ ہر مشکل سے لڑ سکتا ہے، ہر زہر پی سکتا ہے اور ہر پتھر کو ہضم کر سکتا ہے۔

°°°°°°°°°°

ندیم نے پچھلی تین راتوں میں اپنے شکار نہایت آسانی اور کامیابی سے حاصل کر لیے تھے۔ ہر بار جب وہ اندھیرے میں نکلا تو اس کے قدموں میں ایک عجیب سا اعتماد تھا۔ زافیر کی نصیحت اسے مسلسل یاد رہتی کہ کسی معصوم کو چوٹ نہیں پہنچانی۔ یہی بات اس کے ذہن میں گونجتی رہی اور اس کے ضمیر کو ایک حد کے اندر باندھے رکھا۔

وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ مجرموں کو ڈھونڈنا مشکل نہیں۔ ان سنسان اور ویران سڑکوں پر ہمیشہ ایسے لوگ مل جاتے تھے جو خود اپنے انجام کو دعوت دے رہے ہوتے… ڈاکو، نشئی، جیب کتروں کے گروہ اور وہ بھٹکے ہوئے درندے جو رات کے اندھیرے میں دوسروں پر ٹوٹ پڑتے تھے۔ ندیم کے لیے یہ سب لوگ شکار سے زیادہ سزا وار مجرم تھے۔

اندھیری رات کے سناٹے میں، ندیم اپنے وجود کے ساتھ ایک سایے کی طرح پھسلتا ہوا آگے بڑھتا۔ ان سنسان راستوں پر ہر موڑ، ہر جھاڑی اور ہر بجھتی بتی کے پیچھے کوئی نہ کوئی خطرہ چھپا محسوس ہوتا مگر ندیم کے دل میں اب خوف کے بجائے ایک عجیب سا جوش تھا… وہ جوش جو اسے شکار کے قریب پہنچتے ہی اپنی رگوں میں دوڑتا محسوس ہوتا۔

وہ جب اپنے شکار کو زمین پر گرتے دیکھتا، اس کی سانسیں بھاری اور آنکھوں میں چمک نمایاں ہوجاتی۔ لیکن خود کو یہی تسلی دیتا کہ وہ یہ سب کسی معصوم پر نہیں، بلکہ ان پر کر رہا ہے جو دوسروں کا خون بہانے کے عادی ہیں۔ اس کے دل میں ایک عجیب سا سکون اتر آتا… جیسے وہ اندھیرے میں رہ کر بھی کسی نادیدہ انصاف کو پورا کر رہا ہو۔

پہلی رات اندھیری سڑک پر اس کی نظر دو ڈاکوؤں پر پڑی جو ایک بے بس بائیک سوار کو دبوچے کھڑے تھے۔ بائیک والا کپکپاتی آواز میں زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا اور ان کے خنجر کی دھات پیلی بتیوں کے نیچے خوفناک چمک رہی تھی۔ ندیم کے قدم رکے نہیں، وہ کسی بھٹکتے بھیڑیے کی طرح آگے بڑھا۔ اگلے ہی لمحے وہ اچانک ان پر ٹوٹ پڑا۔

ڈاکو چیخ بھی نہیں پائے تھے کہ زمین پر دھڑام سے گرے۔ ندیم کی آنکھوں میں وحشت کی سرخی ناچ رہی تھی اور ہاتھ کا مکا بنا کر وہ کسی حیوان کی طرح پے در پے ڈاکوؤں کو مار رہا تھا۔ وہ اس وقت کوئی عام انسان نہیں بلکہ ایک وحشی لگ رہا تھا۔

،بائیک والے کی آنکھوں میں لرزتی وحشت جم گئی تھی۔ ندیم نے سرد لہجے میں جھوٹ بولا
“میں پولیس والا ہوں… انہیں تھانے لے جا رہا ہوں، تم چلے جاؤ۔”
بائیک سوار دم بخود سر ہلا کر فوراً اپنی بائیک پر سوار ہوا اور اندھیرے میں غائب ہوگیا۔

اب وہاں صرف ندیم اور اس کے دو شکار بچے تھے۔ دونوں ڈاکو ادھ مرے ہو چکے تھے۔ ان کی سانسیں پھٹی پھٹی، سینے اوپر نیچے ہو رہے تھے اور جسم مٹی میں گھسٹتے جا رہے تھے۔ ندیم نے ان کی ایک ایک ٹانگ مضبوطی سے پکڑی اور انہیں گھسیٹتے ہوئے جنگل کی طرف لے جانے لگا۔ کچے راستے پر پتھروں اور جھاڑیوں سے ٹکراتے ان کے جسموں سے کراہوں اور ٹوٹتی ہڈیوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔

یہ اس کا پہلا شکار تھا… اور ہر چیخ، ہر تڑپ، ہر بکھرا ہوا خون کا قطرہ اسے عجیب سا سرور دے رہا تھا۔ ایک وحشی، بھیانک لذت جس کا نشہ اس کی رگوں میں سرایت کرتا جا رہا تھا۔

دوسری رات ندیم ایک مضبوط رسی ساتھ لے کر نکلا تھا۔ اندھیری سڑک پر چلتے ہوئے یکدم اس کے کانوں سے چیختی، روتی ایک عورت کی دل دہلا دینے والی آوازیں ٹکرائیں۔ وہ آوازیں کسی زخمی جانور کی فریاد کی طرح تھیں۔ ندیم کے قدم خود بخود دوڑنے لگے۔ سانس پھولی ہوئی، قدموں کے نیچے کالی سڑک بج رہی تھی۔

سامنے منظر کھلا تو فضا میں ایک سناٹا ٹوٹ گیا۔ تین وحشی جوان ایک لڑکی کو دبوچ کر گاڑی میں زبردستی بٹھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ لڑکی کے کپڑے پھٹے ہوئے، بال بکھرے اور حلق سے نکلتی دلدوز چیخیں اندھیرے کو چیر رہی تھیں۔

ندیم کے اندر کا درندہ انگاروں کی طرح دہک اٹھا۔ وہ جھپٹ کر ان پر ٹوٹ پڑا۔ مکے اور لاتوں کی گونج اور چیخوں کی کڑواہٹ رات کی ویرانی میں وحشت ناک شور پیدا کر رہے تھے۔ تینوں جوانوں کے چہرے لہو لہان ہو گئے، ان کے دانت ٹوٹ کر زمین پر بکھر گئے۔ وہ تڑپ رہے تھے، بلک رہے تھے لیکن ندیم کے ہاتھ رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ اس کے وجود سے ایک وحشی لذت پھوٹ رہی تھی۔

جب تینوں نیم مردہ ہو کر سڑک پر ڈھیر ہو گئے، ندیم نے ان کے بکھرے جسموں کو گھسیٹ کر گاڑی کی پچھلی طرف پھینک دیا۔ وہ لڑکی کے قریب آیا۔ کپکپاتی سانسوں اور لرزتے بدن کے ساتھ لڑکی نے اسے دیکھا تو ندیم نے نرم لہجے میں کہا،
“ڈرو مت… بہن ہو تم میری۔”

یہ جملہ لڑکی کے لئے زندگی کی ڈوری بن گیا۔ اس نے آنسو صاف کیے اور تھرتھراتی ہوئی اس کی بات مان لی۔ ندیم نے خود ڈاکوؤں کی گاڑی چلائی اور اسے اس کے گھر کے قریب اتار دیا۔ گاڑی کا دھواں اندھیرے میں تحلیل ہوا اور وہ لڑکی پیچھے رہ گئی، شاید یہ سوچتی ہوئی کہ وہ خواب دیکھ رہی تھی یا حقیقت۔

ندیم لوٹ آیا اور اب اس کے ساتھ تین نیم مردہ اجسام اور ان کی گاڑی بھی تھی۔ وہ گاڑی کو سنسان راستے سے ہٹا کر جنگل کی تاریکی میں لے گیا۔

اس نے گاڑی کو جنگل میں چھوڑا اور تینوں کے پیروں میں رسی باندھی۔ پھر وہ انہیں ایک ایک کر کے زمین پر گھسیٹنے لگا۔ خشک پتوں کی چرچراہٹ، پتھروں سے ٹکراتی ہڈیوں کی آوازیں اور زخمیوں کی دبی دبی کراہیں رات کے اندھیرے کو اور بوجھل کر رہی تھیں۔ یوں لگ رہا تھا جیسے جنگل خود بھی یہ منظر دیکھ کر سہم گیا ہو۔

گھسٹتے ہوئے اجسام کی خون آلود لکیر زمین پر چھپتی چلی گئی اور ندیم انہیں وحشی مسکراہٹ کے ساتھ اپنے تہہ خانے میں اتار لایا۔ وہاں اندھیرا اور سڑاند پہلے ہی اس کے انتظار میں تھی۔

تیسری رات ندیم محض ایک رسی نہیں، بلکہ دو خنجر بھی اپنے ساتھ لے کر نکلا تھا۔ پچھلی رات تین آدمیوں کو خالی ہاتھ قابو کرنے کی مشقت نے اسے یہ احساس دلا دیا تھا کہ ہتھیار کے بغیر وہ کمزور پڑ سکتا ہے۔ اس بار وہ پوری تیاری کے ساتھ تھا مگر دل میں ایک عجیب سی بےچینی رینگ رہی تھی۔

رات کی سیاہی ہر سو پھیلی ہوئی تھی۔ کبھی وہ کسی سنسان گلی میں دبے پاؤں چلتا، کبھی ویران چوراہے پر سائے ڈھونڈتا۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس کے اندر کا درندہ بھوکا اور بےچین ہوتا جا رہا تھا۔ خنجر کی ٹھنڈی دھار بار بار اس کی انگلیوں میں سلگتی اور اسے احساس دلاتی کہ وہ خون کے لیے نکلا ہے مگر اندھیرا اس پر قہقہے لگا رہا تھا۔

وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ بھٹکتا رہا۔ ہر بار آنکھیں کسی پرچھائی کو شکار سمجھ کر لپکتیں لیکن جب قریب جاتا تو محض ہوا، دیوار یا سایہ نکلتا۔ اس کی سانسیں تیز ہو جاتیں، دل کی دھڑکن کانوں میں گونجتی لیکن برائی جیسے پورے جہاں سے مٹ گئی ہو اور اس کے شکار ہی باقی نہ رہے ہوں۔

یوں پوری رات اس کی آنکھوں میں کٹ گئی۔ ایک ایک لمحہ اذیت اور بھوک کے بوجھ سے بھاری ہوتا چلا گیا۔ جب فجر کی اذان کی آواز خاموش فضا میں پھیلنے لگی تو ندیم کا دل غصے اور بےبسی سے دہک اٹھا۔ وہ جان گیا کہ آج اس کے ہاتھ خالی رہ گئے ہیں۔

وہ نامراد واپس لوٹا… مگر اس کی آنکھوں میں بھوکے درندے کی آگ پہلے سے بھی زیادہ دہک رہی تھی۔

آج ندیم معمول سے ہٹ کر دوپہر کو ہی تہہ خانے سے نکل آیا تھا۔ سورج کی تپش تیز تھی مگر اس کے اندر کی بھوک کی آگ کہیں زیادہ دہکی ہوئی تھی۔ وہ قریبی شہر میں آوارہ گردی کرتا رہا، گلیوں میں جھانکتا، بازاروں کے ہجوم میں گھلتا مگر اسے ابھی تک کوئی ایسا انسان نہیں ملا تھا جسے وہ مار کر اپنے لیے یا اپنے قیدیوں کے لیے کھینچ لے جاتا۔

اس کی بھوک زافیر کی بھوک جتنی وحشی نہیں ہوئی تھی۔ ابھی تک اس کے پاس ذخیرہ موجود تھا۔ تین بڑے فریزر خون اور ماس سے بھرے پڑے تھے، مگر اس کے باوجود اس کی روح بار بار تازہ شکار کی طلب کرتی۔ وہ جانتا تھا کہ صرف گوشت کی دستیابی کافی نہیں، تازہ ماس کی خوشبو اور شکار کا گرم ماس ہی اصل تسکین ہے۔ آج وہ تہیہ کر چکا تھا کہ خالی ہاتھ واپس نہیں جائے گا۔ چاہے رات گزر جائے یا پورا شہر خون مانگے۔

کچھ وقت بعد وہ ایک بوسیدہ چائے کے ڈھابے پر جا بیٹھا۔ دھوئیں سے بھرا ماحول، پرانی لکڑی کی بوسیدہ میزیں اور گرد آلود پنکھے کی چرچراہٹ۔ وہ خاموش بیٹھا اپنے گرد لوگوں کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہا تھا، ان کے مکالمے سنتا اور ان کی روحوں میں چھپی تاریکی کو بھانپنے کی کوشش کر رہا تھا۔

یونہی سب کو پرکھتی ہوئی ندیم کی نگاہ اچانک ڈھابے کے ایک کم عمر ملازم پر جا ٹھہری۔ وہ انیس سالہ لڑکا دراز کے قریب کھڑا تھا اور نہایت گھبراہٹ کے ساتھ دو سرخ نوٹ نکال کر جیب میں رکھ رہا تھا۔ اس کے کانپتے ہوئے ہاتھ، تیز سانسیں، ادھر اُدھر بھاگتی نظریں اور چہرے پر چھایا خوف صاف ظاہر کر رہا تھا کہ وہ چوری کر رہا ہے۔

،ندیم نے یہ منظر دیکھا تو اس کے دل میں ایک خیال کوند گیا
“!یہ بھی تو چور ہے”

خیال آتے ہی اس کے دماغ میں ایک ہنگامہ برپا ہوگیا۔ جیسے اندر دو آوازیں آپس میں ٹکرا رہی ہوں۔

،ایک آواز ضمیر کی تھی، جو نرمی سے کہہ رہی تھی
“یہ محض نادان ہے… بھوک اور مجبوری نے اس سے یہ خطا کروا دی ہے۔”

،اور دوسری آواز نفس کی تھی جو سفاکی سے پھسلا رہی تھی
“نہیں! یہ تو عادی مجرم ہے۔ یہ چھوٹا سا نہیں، بڑا چور ہے۔ اگر اسے آج نہ روکا گیا تو کل اور بھی بڑی چوری کرے گا۔”

ندیم کے اندر یہ کشمکش یوں بھڑک رہی تھی جیسے کوئی خنجر دل کے دونوں حصے کاٹتا جا رہا ہو۔ ہر لمحہ یہ اندرونی جنگ اسے بے سکون کر رہی تھی اور وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ دماغ کے اندر ان ابھرتی آوازوں میں سے کس کو فوقیت دے۔

،طویل دماغی جنگ کے بعد نفس بازی لے گیا اور اس نے خود کو سمجھانا شروع کیا
گناہ چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا۔ جرم کی کوئی پیمائش نہیں۔ روٹی چرانے والا بھی چور ہے اور بینک لوٹنے والا بھی۔ چائے والے کے کاؤنٹر سے دو سو روپے چرانے والا لڑکا بھی مجرم ہے اور اربوں ہڑپ کر جانے والا سیاستدان بھی۔ جھوٹے بہانوں سے دوسروں کا پیسہ ہڑپنے والا تاجر بھی اتنا ہی گناہگار ہے جتنا لٹیروں کا ایک جتھہ۔ قریب بیٹھا وہ شخص جو لمبی چوڑی ہانک رہا تھا، مبالغہ بھرے جھوٹ گھڑ رہا تھا… وہ بھی بدکردار تھا۔ اور اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لیے جھوٹ اور افواہ پھیلانے والا صحافی بھی۔

ندیم کا ذہن ہولناک منطق بُن رہا تھا۔ وہ دل ہی دل میں قائل ہوتا جا رہا تھا کہ دنیا کا آدھے سے زیادہ حصہ گناہوں سے داغ دار ہے۔ اس کا مطلب تھا کہ شکار کی کوئی کمی نہیں… شکار تو ہر طرف بکھرے ہوئے ہیں۔ بس فیصلہ کرنا باقی تھا کہ پہلا خنجر کس کے سینے میں اترے گا۔

جب کوئی انسان گناہ، جرم یا درندگی کی راہ پر قدم رکھتا ہے تو سب سے پہلی جنگ اس کے ضمیر اور نفس کے درمیان شروع ہوتی ہے۔ نفس ہمیشہ اپنی حمایت میں دلائل دیتا ہے جبکہ ضمیر صدائے احتجاج بلند کرتا ہے۔ مگر انسان خود کو بہلانے کے لیے اپنے ضمیر کو جھوٹے دلائل کے ساتھ چپ کرانے لگتا ہے۔ وہ اپنے باطن سے کہتا ہے، یہ سب مجبوری ہے… یہ سب ضروری ہے… میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں۔

یوں وہ بار بار اپنی برائی کو اچھائی کا لبادہ اوڑھانے لگتا ہے۔ کبھی ظلم کو ضرورت کا نام دیتا ہے، کبھی گناہ کو مجبوری کہہ کر جواز ڈھونڈ لیتا ہے اور کبھی سفاکی کو مصلحت کا رنگ دے دیتا ہے۔ رفتہ رفتہ ضمیر پر اتنی چوٹیں پڑتی ہیں کہ وہ پہلے خاموش ہو جاتا ہے اور پھر ایک دن بالکل مر جاتا ہے۔

اور جب ضمیر مر جائے تو انسان کے اندر سے وہ اصل درندہ جاگتا ہے جو کسی قانون، کسی رشتے اور کسی اخلاقیات کا پابند نہیں رہتا۔ پھر اس وحشی پن کو روکنے والی ایک ہی لگام باقی رہ جاتی ہے… موت کی لگام۔ اس کے سوا کوئی انسانی حکمت اسے نہیں روک سکتی۔

°°°°°°°°°°

زافیر نقاہت کے عالم میں بیڈ پر نیم دراز تھا۔ چہرے پر اذیت کے سائے گہرے ہوتے جا رہے تھے۔ ماتھے پر پسینے کے قطرے چمک رہے تھے اور سانسیں بوجھل ہوچکی تھیں۔ وہ بڑی مشکل سے اپنے آپ کو سنبھالے ہوئے تھا۔
حورا اس کے سرہانے بیٹھی تھی، لرزتے ہاتھوں سے بار بار ٹھنڈی پٹیاں اس کے سر پر رکھ رہی تھی۔ آبرو قدموں کی طرف دبکی بیٹھی، اپنے ننھے ہاتھوں سے اس کے پیر دبا رہی تھی۔ مومنہ خاتون بےچینی سے کمرے میں ادھر سے اُدھر ٹہل رہی تھیں، جیسے ان کے قدم بھی پریشانی کی شدت کو سنبھال نہ پا رہے ہوں۔

ڈاکٹر خاموشی اور گہری سنجیدگی کے ساتھ بیڈ کے قریب کرسی پر بیٹھا تھا۔ اس نے تھرمامیٹر زافیر کی بغل سے نکالا اور جیسے ہی درجہ حرارت دیکھا، اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ اگلے ہی لمحے اس نے اسٹیتھوسکوپ کانوں سے لگایا اور زافیر کا بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن چیک کرنے لگا۔

بلڈ پریشر خطرناک حد تک گر چکا تھا، دل کی دھڑکن بے قابو اور تیز ہوچکی تھی۔ ڈاکٹر کے ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہوگئے۔

“!فوراً برف لے آئیں… اسے باریک کیجیے”
اس نے ہڑبڑا کر مومنہ خاتون کو کہا۔ وہ کچھ سمجھے بغیر فوراً کمرے سے باہر دوڑ گئیں۔

ڈاکٹر نے عجلت میں موبائل نکالا، کال ملائی اور لاؤڈ اسپیکر پر ڈال کر سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔

،ساتھ ہی اپنے بیگ سے انجیکشن اور سرنج نکالنے لگا۔ کال ریسیو ہوتے ہی اس کی آواز میں ایمرجنسی کی جھلک نمایاں تھی
“!…یہاں ایک مریض کی حالت نازک ہے، فوراً ایمبولینس بھیجیں۔ نارمل سالین اور ضروری سامان ساتھ لے کر آئیں… جلدی”

جی سر، ایڈریس؟” دوسری طرف سے جواب آیا۔”
ڈاکٹر نے تیزی سے بنگلے کا مکمل پتہ بتایا اور فوراً زافیر کے بازو پر پٹی کسنے لگا تاکہ رگیں مزید ابھر سکیں۔

یہ سب دیکھ کر حورا کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں، اس کی آواز کانپ گئی،
“ڈاکٹر صاحب… یہ کیا ہو رہا ہے؟ کیا ان کی حالت زیادہ خراب ہے؟”

،ڈاکٹر کا ضبط جواب دے گیا۔ وہ جھنجھلا کر پھٹ پڑا
آپ لوگوں کو اب فکر ہو رہی ہے؟ میں تو حیران ہوں یہ ابھی تک زندہ کیسے ہے۔”

بخار ایک سو سات فارن ہائیٹ تک جا چکا ہے، بلڈ پریشر زمین بوس ہے، دل کی دھڑکن معمول سے کئی گنا تیز ہے۔

“!ایسی حالت میں ایمبولینس کب کی بلوا لینی چاہیے تھی۔ یہ سب آپ کی سنگین لاپرواہی ہے

یہ کہہ کر اس نے جلدی سے کنولا لگایا، ڈرپ نکالی اور اردگرد تولیہ اسٹینڈ تلاش کرنے لگا۔
وہ! وہاں سے اٹھا کر لاؤ!” اس نے آبرو کو اشارہ کیا۔ وہ ہڑبڑا کر تیزی سے بھاگی اور اسٹینڈ کھینچ کر لے آئی۔”

ابھی ڈاکٹر ڈرپ لٹکانے ہی والا تھا کہ اچانک زافیر کے چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا۔ اس کے ہونٹ لرزنے لگے اور اگلے ہی لمحے وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔ ایک شدید ابکائی کے ساتھ وہ واش روم کی طرف لڑکھڑاتا ہوا بھاگا۔ کمرے میں سب کے دل دھک سے رک گئے۔ چند ہی لمحوں میں اندر سے الٹیوں کی آوازیں آنے لگیں۔

کمرے میں گھبراہٹ اور وحشت کی فضا چھا گئی تھی۔

کمرے میں خوف اور گھبراہٹ کی فضا گہری ہوچکی تھی۔ ڈاکٹر نے حورا کو ہاتھ کے اشارے سے زافیر کے پیچھے جانے کو کہا اور خود ڈرِپ لٹکانے میں جُٹ گیا۔

،وہ ابھی آئی وی لائن لگا ہی رہا تھا کہ اچانک حورا کی چیخ نے کمرہ ہلا دیا
“!ڈاکٹر صاحب…! ان کے منہ سے خون آرہا ہے، پلیز جلدی آئیں”

ڈاکٹر اور آبرو دونوں گھبرا کر بھاگے لیکن تب تک زافیر ایک جھٹکے سے لڑھک گیا اور بے ہوشی کی تاریکی میں ڈوب گیا۔ کمرے میں موجود کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ اس کی حالت اچانک یوں کیوں بگڑ گئی ہے… سوائے آبرو کے۔ باقی سب پریشانی میں گم تھے لیکن آبرو زور زور سے روتی جا رہی تھی۔

مومنہ خاتون جو کچن میں برف باریک کر رہی تھیں، آبرو کی سسکیوں نے ان کے دل کو چیر دیا۔ ہاتھ کانپے، برف کی ٹرے کو جھپٹ کر اُٹھایا اور گھبراہٹ میں دوڑتی ہوئی کمرے کی طرف لپک آئیں۔

ادھر زافیر فرش پر بے ہوش پڑا تھا۔ ڈاکٹر اور حورا اسے سہارا دے کر کھینچتے ہوئے باہر لا رہے تھے۔ مومنہ خاتون نے بھی دوڑ کر ہاتھ بڑھایا اور تینوں نے مل کر بڑی مشکل سے اسے دوبارہ بیڈ پر لٹا دیا۔ لیکن منظر اور زیادہ ہولناک ہوگیا… اب زافیر کی آنکھوں سے بھی سرخ لہو بہنے لگا تھا۔ حورا سسک رہی تھی، آنسو اس کے گال بھگو رہے تھے اور کمرے کی ہوا میں گھٹن اور خوف بڑھتا جا رہا تھا۔

،ڈاکٹر نے کپکپاتے ہاتھوں سے آئی وی لائن کنولا میں جوڑی اور حکم دیا
“!ان کی ہتھیلیاں مسلسل مَسلو… ماتھے اور سینے پر برف کی پٹیاں رکھو”

مومنہ خاتون نے کانپتے ہاتھوں سے برف کی پٹیاں بنانا شروع کیں، جیسے ان کے وجود کی ساری طاقت سلب ہوچکی ہو۔ ڈاکٹر نے تیزی سے بیگ سے ڈوپامین نکالی، سرنج میں بھری اور براہِ راست کنولا میں اتار دی۔ پھر پیراسیٹامول انجکشن تیار کرکے ڈرِپ میں شامل کیا۔ وہ ایک ایک لمحہ لڑ رہا تھا، جتنا ممکن تھا کر رہا تھا… لیکن یہ سب کچھ ہونے کے باوجود بھی کافی نہیں تھا۔ زافیر کی سانس اور دھڑکن لمحہ بہ لمحہ بوجھل ہو رہی تھی، جیسے زندگی آہستہ آہستہ ہاتھوں سے پھسل رہی ہو۔

،آبرو کا مسلسل رونا ڈاکٹر کے اعصاب پر ہتھوڑے برسا رہا تھا۔ وہ تیزی سے مڑا اور کہا
“بیٹا… پلیز، آپ تھوڑی دیر کے لیے باہر چلی جائیں۔”

،آبرو کی سسکیاں اور بلند ہوگئیں۔ وہ بھاری قدموں سے کمرے سے نکل گئی مگر دل میں ایک ہی خیال چیخ رہا تھا
“یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے۔ بابا کی اذیت، ان کی تکلیف… سب کی ذمہ دار میں ہوں۔”

وہ خود کو الزام دیتے دیتے اندر ہی اندر ٹوٹ رہی تھی، جیسے اس کے وجود کی اینٹ سے اینٹ بج رہی ہو۔

°°°°°°°°°°

رات کے ٹھیک دس بجے ڈھابے پر کام کرنے والا جوان لڑکا سامان سمیٹ کر دکان بند کرنے لگا۔ لکڑی کے تختے بجتے اور برتنوں کی آواز دھیرے دھیرے خاموشی میں ڈوب گئی۔ وہ تالہ لگا کر باہر نکلا تو گلی میں ایک بھاری سا سکوت چھا چکا تھا۔

ندیم کچھ دیر پہلے ہی ڈھابے سے اٹھ چکا تھا۔ اب وہ ڈھابے سے دور، ایک درخت کے سائے میں کھڑا اپنے شکار کا انتظار کر رہا تھا۔ جیسے ہی لڑکا دکان بند کر کے پیدل ایک طرف بڑھا، ندیم بھی ہلکے قدموں سے اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ اندھیرا گہرا تھا اور وہی گلی سامنے تھی جہاں ندیم نے گاڑی چھپا رکھی تھی۔

لڑکا جیسے ہی اس سنسان گلی کے قریب پہنچا، ندیم نے اچانک اپنی رفتار بڑھا دی۔ لمحوں میں وہ اس کے عین قریب جا پہنچا۔ بجلی کی تیزی سے ہاتھ اس کے منہ پر جما دیا اور دوسرے ہاتھ سے اسے دبوچ لیا۔ لڑکے نے جھٹپٹاتے ہوئے پوری طاقت لگا دی، اس کے بازو پھڑپھڑائے، ٹانگیں زمین پر رگڑ کھانے لگیں مگر ندیم کی گرفت آہنی تھی۔ اچانک ندیم کی کہنی اس کے سر پر لگی اور وہ دھڑام سے ڈھلک گیا… بے سدھ، بے جان۔

ندیم نے ایک سرد سکون کی سانس بھری، پھر فوراً گاڑی کا دروازہ کھولا۔ لڑکے کو گود میں اٹھا کر پچھلی سیٹ پر ڈال دیا۔ سیٹ کے نیچے سے رسی نکالی اور اس کے ہاتھ پاؤں مضبوطی سے باندھ دیے۔ ہر گرہ کے ساتھ وہ اپنی فتح کو اور مضبوط کر رہا تھا۔ آخرکار دروازہ زور سے بند کیا، خود فرنٹ سیٹ پر آ بیٹھا اور گاڑی اسٹارٹ کر دی۔

انجن کی گھڑگھڑاہٹ نے گلی کی خاموشی کو چیر دیا۔ اگلے ہی لمحے گاڑی اندھیرے میں غائب ہوگئی… تہہ خانے کی سمت۔

°°°°°°°°°°

رات کے بارہ بج رہے تھے۔ ہسپتال کی طویل و سنسان راہداری میں ایک کمرے کے باہر دو مسلح گارڈ پوری مستعدی کے ساتھ کھڑے تھے۔ ہوا میں ادویات کی تیز بو اور خاموشی کا ایک بوجھل سا سایہ پھیلا ہوا تھا۔ اسی کمرے سے ڈاکٹر، ایک فائل ہاتھ میں لیے باہر نکلا، اس کے ساتھ مومنہ خاتون بھی تھیں۔

،کچھ فاصلے پر رُک کر ڈاکٹر نے عینک سیدھی کی اور فائل کھولتے ہوئے رُکے رُکے لہجے میں کہا
“آپ مجھے پڑھی لکھی محسوس ہوئیں، اس لیے سوچا کہ آپ سے بات چھپانے کے بجائے صاف صاف کہہ دوں۔”

مومنہ خاتون کا دل بے قابو سی دھڑکنوں میں گھِر گیا۔ وہ ڈاکٹر کے چہرے پر نظریں گاڑے کھڑی تھیں۔ اس کے الفاظ کی منتظر، لیکن اندر ہی اندر ڈری سہمی۔

،ڈاکٹر نے ایک سرسری سی نگاہ ان کے افسردہ چہرے پر ڈالی اور پھر فائل پر نظریں جھکا لیں
ہم نے مریض کے خون کے کئی ٹیسٹ کیے ہیں۔”

ہیموگلوبن غیر معمولی حد تک کم ہے لیکن اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس کے سفید خلیے عجیب انداز میں بڑھتے اور گرتے رہتے ہیں۔

” یہ پیٹرن عام مریضوں میں نہیں ملتا۔ اس کے الیکٹرولائٹس بار بار بگڑ جاتے ہیں، اسی وجہ سے بلڈ پریشر مسلسل گر رہا ہے۔

،وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر دوسری رپورٹ کی طرف متوجہ ہوا
سی ٹی اسکین بتا رہا ہے کہ بخار نے دماغ پر اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ ابھی سوجن معمولی سی ہے لیکن اگلے اڑتالیس گھنٹے نہایت نازک ہیں۔”

“ہم نے بے ہوشی کے دوران دل اور پھیپھڑوں کے فنکشن ٹیسٹ بھی لیے… وہاں بھی ایک غیر متوازن ردعمل دکھائی دے رہا ہے۔

،ڈاکٹر کی آواز مدھم پڑ گئی۔ اس نے فائل بند کی، جیسے الفاظ چننے میں مشکل ہو۔ پھر نرم لہجے میں بولا

فی الحال میری ابتدائی تشخیص یہی ہے کہ اس کے جسم میں کوئی ایسا میٹابولک ڈس آرڈر ہے جو عام خوراک یا ادویات کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔”

” یہ صورتحال بہت غیر معمولی اور خطرناک ہے ایسے کیسز بہت ہی کم سامنے آتے ہیں۔

ڈاکٹر کے چہرے پر الجھن اور بے بسی دونوں واضح تھیں۔ مومنہ خاتون خاموش کھڑی رہیں۔ ان کی آنکھوں میں اضطراب کی نمی جھلکنے لگی مگر ہونٹوں پر ایک حرف بھی نہیں آیا۔ وہ صرف مزید سننے کی منتظر تھیں۔
،ڈاکٹر نے دوبارہ لب کھولے
شاید جسم کو وہ توانائی نہیں مل پا رہی جس کی اسے ضرورت ہے۔ ابھی ہم حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔ “

“مکمل تفصیلات صبح تک سامنے آئیں گی۔ ہمارے اسپیشلسٹ رپورٹس کا مزید تجزیہ کریں گے، تبھی مرض کی اصل سنگینی سمجھ پائیں گے۔

یہ کہتے ہوئے اسے خود احساس ہوا کہ اس کے الفاظ غیر ضروری طور پر سخت ہیں۔ وہ جانتا تھا کہ سامنے چاہے ایک پڑھی لکھی عورت کھڑی ہے لیکن آخرکار وہ ایک ماں بھی ہے۔ ایسی ماں جو اپنے بیٹے کی زندگی کے لیے دھڑکتے دل کے ساتھ کھڑی ہو۔

،اس نے لہجہ بدلا اور آواز میں نرمی و تسلی گھول دی
آپ ہمت رکھیں۔ ہم نے آپ کے بیٹے کی مانیٹرنگ مزید سخت کر دی ہے۔ اینٹی پائیریٹکس اور فلوئڈز باقاعدگی سے لگ رہے ہیں۔”

اگلے دو تین دن اس کے لیے کٹھن ہیں، لیکن… دعا کا سہارا سب سے بڑا سہارا ہے۔ خاص طور پر آپ کی دعائیں۔

” ہم اپنی طرف سے کوئی کمی نہیں چھوڑیں گے، بس آپ خدا کے حضور بہتری کی دعا کرتی رہیں۔

مومنہ خاتون کے دل میں ایک کسک سی جاگی۔ وہ زافیر کو بھی ایسے ہی چاہتی تھی جیسے اس کا اپنا بیٹا آزلان تھا اور ماں کا دل ڈاکٹر کی تسلی سے زیادہ اس کے الفاظ کے اشارے پڑھ لیتا ہے۔

وہ جان گئی تھیں کہ زافیر کی حالت واقعی نازک ہے۔

اور جب ڈاکٹر خود دعا کی تلقین کرے تو یہ اشارہ اکثر زندگی اور موت کی سرحدوں پر کھڑے مریض کا ہوتا ہے۔

،ان کے لب کپکپائے اور وہ افسردہ آواز میں بولیں
“کیا یہ کوئی خطرناک بیماری ہے؟”

،ڈاکٹر نے فائل بند کی، چشمہ اتار کر تھوڑی دیر کے لیے سوچا اور پھر دھیمے لہجے میں کہا
ابھی می کچھ نہیں کہہ سکتا۔ لیکن اتنی پریشانی ضرور ہے کہ مریض کا جسم عام انسانی ڈائیٹ اور عام دواؤں کے ساتھ مطابقت نہیں رکھ رہا۔”

دواؤں کا اثر کم ہوتا جا رہا ہے۔ یہ کسی نایاب اور انوکھے مرض کی علامت بھی ہوسکتا ہے۔

“بہرحال آپ حوصلہ رکھیں، ہم ہر پہلو پر تحقیق کر رہے ہیں اور امید ہے کہ کوئی نہ کوئی حل ضرور نکل آئے گا۔

یہ کہہ کر ڈاکٹر نے فائل ان کے حوالے کی، ایک ہمدردانہ نگاہ ان پر ڈالی، جیسے وہ ماں کے دل کا بوجھ سمجھ رہا ہو۔ پھر آہستہ قدموں کے ساتھ راہداری میں آگے بڑھ گیا اور اپنے آفس کی طرف چلا گیا۔

مومنہ خاتون کچھ دیر وہیں کھڑی رہیں۔ ان کی نظریں خلا میں جمی تھیں اور دل کی دھڑکنیں عجیب سا بوجھ بن چکی تھیں۔ پھر آہستہ قدموں، بھاری دل کے ساتھ خاموشی سے پلٹیں اور کمرے کی طرف واپس لوٹ گئیں۔

°°°°°°°°°°

ندیم کندھے پر بے ہوش لڑکے کو لادے تہہ خانے میں اترا۔ اندھیری نمی اور بوسیدہ فرش سے اٹھتی سڑاند نے فضا کو بوجھل بنا رکھا تھا۔ تمام قیدی اس وقت گہری نیند سو رہے تھے مگر ان کے بیچ ایک ایسا بھی تھا جو بظاہر لیٹا ہوا تھا مگر آنکھیں پوری طرح کھلی تھیں۔ وہ پہلے بھی دیکھ چکا تھا کہ ندیم رات گئے نئے لوگوں کو یہاں لاتا ہے اور پھر وہ پراسرار طور پر غائب ہو جاتے ہیں۔

ذبح گاہ کا فرش اب مستقل طور پر تہہ خانے سے جڑ گیا تھا، یوں لگتا تھا جیسے دونوں ایک ہی بدن کے دو حصے ہوں۔ قیدیوں کے لیے اب وہاں ہونے والی سرگرمیاں چھپانا ممکن نہیں رہا تھا۔ ندیم نے پردہ ڈالنے کی غرض سے بھاری چادریں رسی سے لٹکا رکھی تھیں، مگر وہ آوازوں کو نہیں روک سکتی تھیں۔ پچھلی دو راتوں میں قیدی نے گوشت کاٹنے کی وہ خراش دار آوازیں سنی تھیں، بالکل ویسی، جیسی ایک ماہر قصائی ٹوکہ چلاتے وقت پیدا کرتا ہے۔ دل میں اٹھنے والے واہمے آہستہ آہستہ یقین میں بدل گئے تھے۔

،آج ندیم کے واپس آتے ہی وہ قیدی یکدم اٹھ بیٹھا۔ سلاخوں تک پہنچ کر اس نے لرزتی مگر سخت آواز میں کہا
“!میں جانتا ہوں… ہمیں کیا کھلایا جا رہا ہے”

ندیم رکا، آنکھوں میں سفاک چمک اُبھری۔ اس نے ایک انگلی ہونٹوں پر رکھ کر دھیرے سے “ششششش” کی آواز نکالی۔

،پھر انگلی ہٹا کر سرد لہجے میں بولا
“خاموش رہو… کل سب کچھ تمہیں بتا دوں گا۔ اگر زبان کھولی تو اس لڑکے کے بعد تمہارا نمبر ہوگا۔”

قیدی کے چہرے پر مزید غصہ ابھرا، مگر وہ خاموش رہا۔ وہ جان چکا تھا کہ ان سب کو انسانی گوشت کھلایا جا رہا ہے۔ یہ سوچ ہی اس کے معدے میں ایک گھِن بھر دیتی، جیسے اندر کی ہر چیز باہر آنے کو بے تاب ہو۔ وہ جرائم پیشہ ضرور رہا تھا لیکن یہ ظلم… یہ درندگی… اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی۔ کوئی انسان اتنا سفاک کیسے ہوسکتا ہے؟

ندیم کے قدم اب ذبح گاہ کی طرف بڑھ رہے تھے۔ اس کے تیور تیزی سے بدلتے جا رہے تھے۔ آج کا شکار ایک کمسن اور نادان لڑکا تھا۔ جسے اس نے چند سکے غلے سے چرانے کے جرم میں، اپنی نظر میں مجرم ٹھہرا دیا تھا۔ یہ درندگی کا ایک نیا اور خوفناک روپ تھا۔ لمحہ بہ لمحہ یہ بات بھی واضح ہو رہی تھی کہ ندیم وہ شخص بالکل نہیں رہا تھا جیسا زافیر اسے سمجھتا رہا تھا۔ وہ بظاہر بے شک ماضی میں شرافت کی زندگی گزارتا رہا لیکن تخیلاتی طور پر ایک متشدد انسان تھا اور اب آہستہ آہستہ اس کے اندر کی تشدد پسند شخصیت ابھرنے لگی تھی۔

البتہ… کیا وہ ابھی بھی زافیر کا مطیع و تابع تھا یا اس کے دل کی کیفیت بدل چکی تھی؟ یہ سوال ابھی دھند میں لِپٹا ہوا تھا۔ اس کا جواب آنے والے دن ہی دے سکتے تھے۔

°°°°°°°°°°

…جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *