ناول درندہ

قسط نمبر 33

باب چہارم: بدلاؤ

مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°

وقت بھی کئی بار کیسے عجیب کھیل کھیلتا ہے۔ کون جانتا ہے کل کس کا مقدر کہاں لکھا ہوگا؟
کون، کب، کہاں ہوگا۔
آج ندیم اسی کرسی پر بیٹھا تھا جہاں کبھی زافیر بیٹھا کرتا تھا اور اس کے سامنے دھاتی میز پر ڈھابے والا لڑکا بے بسی سے جکڑا ہوا تھا۔ وہی میز جس پر ایک دن ندیم خود ذلت اور خوف کے ساتھ بندھا ہوا تھا۔ فرق بس اتنا تھا کہ ندیم نے نہ آنسو بہائے تھے، نہ گڑگڑایا تھا۔ مگر یہ لڑکا ہچکیاں لے لے کر رو رہا تھا، ہاتھ جوڑ کر زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا۔

ایک اور فرق بھی تھا۔ زافیر کے لیے شکار بھوک اور انتقام کی تسکین کا ذریعہ تھا لیکن ندیم نے اپنی درندگی کو بھوک اور انصاف کا نام دے دیا تھا۔ وہ خود کو خدا کا منتخب کردہ ایک منصف سمجھنے لگا تھا، جو گناہگاروں کو ان کے انجام تک پہنچانے آیا ہے۔ لڑکے کی رونے اور التجا کی آوازیں مسلسل گونج رہی تھیں اور ندیم کا دل لمحہ بھر کے لیے پگھلنے کو تھا مگر اندر سے ایک سرد اور ظالم آواز اسے یقین دلا رہی تھی،
“یہی صحیح ہے… یہ لڑکا عادی مجرم ہے، وقت کے ساتھ معاشرے کا ناسور بن جائے گا۔ اسے ابھی ختم کرنا ہی دور اندیشی ہے۔”

ندیم نے دیر تک لڑکے کو خالی نظروں سے دیکھا۔ پھر آہستگی سے بولا،
“میں نے اپنی آنکھوں سے تمہیں چوری کرتے دیکھا ہے۔ تم ایک عادی مجرم ہو۔ اور میرے قانون کے مطابق… مجرم کو انتہا تک پہنچنے سے پہلے ہی موت کی نیند سلا دینا ضروری ہے۔”

،یہ سنتے ہی لڑکے کی ہچکیاں اور تیز ہوگئیں۔ وہ دھاڑیں مار کر بولا
“!میں نے کوئی چوری نہیں کی! اللہ کی قسم… میں نے کچھ نہیں کیا۔ پلیز مجھے چھوڑ دو”

،ندیم نے سر نفی میں ہلایا۔ اس کے لہجے میں یقین اور سفاکی تھی
نہیں… تم جھوٹ بول رہے ہو۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے تمہیں ڈھابے کے غلے سے پیسے نکالتے دیکھا۔”

“اگر سچ بتاؤ گے… تو شاید نجات مل جائے۔”

،لڑکے کے چہرے پر گھبراہٹ چھا گئی۔ اس کے آنسو لمحہ بھر کو تھم گئے۔ وہ کپکپاتی آواز میں بولا
“…وہ… وہ میری دیہاڑی پوری نہیں دیتا تھا… اسی لیے”
،پھر اچانک وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا اور ہاتھ جوڑ کر التجائیہ لہجے میں بولا
“!بس مجھے معاف کر دو… آئندہ ایسا کبھی نہیں ہوگا… خدا کے لیے چھوڑ دو”

“صرف ایک سوال کا جواب دے دو… پھر تمہیں نجات مل جائے گی۔”
ندیم آہستہ سے بولا اور کرسی سے اٹھ کر میز کے قریب آ کھڑا ہوا۔ اس نے لڑکے کی آنکھوں میں گہری نظر ڈالی۔ اس کی نگاہوں میں ایک خوفناک سنجیدگی اور لہجے میں پرکھنے والی سختی تھی۔

“تم اب تک کتنی بار چوری کر چکے ہو؟”

،لڑکے نے کپکپاتی آواز میں کہا،
“جب وہ مجھے پوری دیہاڑی نہیں دیتا تھا… تو میں غلے سے نکال لیتا تھا۔ پلیز… اب جانے دو۔”

،ندیم کا چہرہ سخت ہوا، اس نے ایک قدم قریب بڑھاتے ہوئے دوبارہ سوال کیا
“مجھے بتاؤ، کتنی بار؟ کتنی بار چوری کی ہے؟”
اس بار اس کے لہجے میں تیزی اور آنکھوں میں درندگی جھلکنے لگی۔

نوجوان بری طرح لرز گیا۔ ہچکیاں لیتے ہوئے بولا،
“پتا نہیں… کئی بار… پلیز چھوڑ دو مجھے! میرے امی ابو بھی نہیں ہیں، دو چھوٹی بہنیں اور بوڑھی دادی ہے… وہ سب میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔ خدا کے لیے مجھے جانے دو!”
اس کی آواز بے بسی اور فریاد سے ٹوٹ رہی تھی۔ وہ اپنی یتیمی کا حوالہ دے کر امید لگائے بیٹھا تھا کہ شاید یہ سُن کر ندیم کے دل میں رحم جاگ جائے۔

ندیم لمحہ بھر خاموش رہا، پھر سرد لہجے میں بولا،
سچ کہوں لڑکے… تو مجھے تم پر بہت ترس آرہا ہے۔ لیکن… تم ایک عادی مجرم ہو، جو کل کو اس معاشرے کے لیے ناسور بن سکتا ہے۔”

“میں ایسے ناسور کو پھیلنے نہیں دے سکتا۔

یہ کہہ کر اس نے آہستہ آہستہ پیچھے مڑ کر دیکھا۔ دیوار کے ساتھ ترتیب سے لگے ہوئے اوزار اُس کی نظریں اپنی طرف کھینچ رہے تھے۔ وہ خراماں قدموں سے وہاں تک گیا اور لمحہ بھر سوچنے کے بعد ایک وزنی ٹوکہ ہاتھ میں اٹھا لیا۔

لڑکے…!” ندیم نے بھاری آواز میں کہا، “سچ یہ ہے کہ میں فطرتاً ایک شریف انسان ہوں۔”

کچھ دن پہلے میرے ساتھ ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے میری پوری زندگی بدل کر رکھ دی۔ پہلے پہل میں نے اسے لعنت سمجھا، یوں لگا جیسے میں پلید ہوگیا ہوں۔

“مگر پھر احساس ہوا کہ نہیں… یہ تو خدا کا انعام ہے مجھ پر۔ اس نے مجھے چنا ہے… تاکہ میں اس معاشرے کے اُبھرتے مجرموں کو فنا کر سکوں۔
،وہ ایک قدم آگے بڑھا اور لڑکے کے قریب آتے ہوئے سرد لہجے میں بولا
“ایک ایسا شخص، جو مستقبل میں دوسروں کے لیے خطرہ بننے والا ہے… بہتر یہی ہے کہ اس کی نحوست پھیلنے سے پہلے ہی اسے ختم کر دیا جائے۔”

اس نے اچانک لڑکے کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔
لڑکا دہشت اور وحشت سے میز پر جھٹپٹانے لگا، وہ ہتھکڑیوں اور بیلٹ سے خود کو آزاد کروانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا تھا۔

،آنکھوں سے آنسو بہتے جا رہے تھے اور کپکپاتی آواز گونجی
“!…لیکن تم نے کہا تھا… اگر میں سچ بولوں گا تو… تم مجھے جانے دو گے”

،ندیم کے لبوں پر ایک سرد مسکراہٹ ابھری۔ اس نے نفی میں سر ہلایا اور نرمی سے مگر ظالمانہ انداز میں بولا
“نہیں… بالکل نہیں۔ میں نے یہ نہیں کہا تھا۔ میں نے کہا تھا کہ تمہیں نجات ملے گی۔ اور نجات کا مطلب… اس گناہ اور جرم سے بھری زندگی سے نجات۔”

یہ کہتے ہوئے ندیم نے اس کا ہاتھ اور زیادہ سختی سے جکڑ لیا۔ دوسرے ہاتھ میں ٹوکہ ہوا میں بلند ہوا۔ اس کی آنکھوں میں درندوں جیسی چمک تھی۔

،وہ خود ساختہ منصف کی طرح فیصلہ سنانے لگا
“…میں ندیم… جسے چنا گیا ہے انصاف کے لیے
میں نے تمہیں مجرم پایا ہے۔
…اور شریعت کا تقاضہ ہے کہ
!…جب چور چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹ دو”

الفاظ ابھی فضا میں گونج ہی رہے تھے کہ ٹوکہ پوری قوت سے نیچے آیا۔
بھاری دھات کی آواز کمرے میں گونجی۔ ٹوکہ لڑکے کا ہاتھ کاٹتے ہوئے میز سے ٹکرایا۔
اگلے ہی لمحے ایک فلک شگاف چیخ نے تہہ خانے کی خاموشی کو چیر ڈالا۔
کٹا ہوا ہاتھ فرش پر جا گرا تھا اور بازو سے خون دھار کی طرح بہہ رہا تھا۔

جیل کی کوٹھڑیوں میں قید سب لوگ پہلے ہی جاگ چکے تھے۔ رونے اور سسکنے کی آوازوں کے بعد جب اچانک وہ فلک شگاف چیخ گونجی تو ساری کوٹھڑیاں خوف سے کانپ اٹھیں۔ ہر قیدی کے چہرے پر دہشت جم گئی، گویا موت کی آہٹ ان کے اپنے قریب سنائی دے رہی ہو۔

،ادھر ندیم کا جنون بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ ایک ہاتھ کاٹنے کے بعد اس نے لڑکے کے دوسرے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑا اور سرد لہجے میں بولا
“جب چور بار بار چوریاں کرے… تو اس کا دوسرا ہاتھ بھی کاٹ دو۔”

ٹوکہ دوبارہ بلند ہوا اور ایک ہی جھٹکے میں نیچے آیا۔ چیختا ہوا جسم لرز اٹھا۔ لڑکے کا دوسرا ہاتھ بھی کٹ کر بس ایک ریشے سے لٹک رہا تھا۔ خون کے چھینٹے دیوار تک جا پہنچے۔ اس کی چیخیں اتنی دل دہلا دینے والی تھیں کہ لگا جیسے پورے تہہ خانے میں قیامت ٹوٹ پڑی ہو۔

،ندیم نے اس کی اذیت کو دیکھتے ہوئے ٹھندی سانس لی اور بولا
“عادی مجرم… ہاتھ کٹنے کے بعد بھی باز نہیں آتے۔”
پھر وہ آہستہ آہستہ اس کے سر کے قریب آیا۔ اس کی آنکھوں میں فیصلہ سنانے والی سختی اور لبوں پر بےرحم سکون تھا۔

،ٹوکہ ایک بار پھر اوپر اٹھا اور ندیم کی آواز گونجی
“!لہٰذا… ان کی گردن اڑا دو”

اگلے ہی لمحے دھات کی گونجتی ہوئی آواز اور گوشت چیرنے کی لرزہ خیز کڑک کے ساتھ ٹوکہ اس کی گردن پر آ گرا۔ ایک ہی وار میں سر الگ ہو گیا۔ خون فوارے کی طرح پھوٹا اور جہاں گِرا، فرش کو لال کر گیا۔ لڑکے کا دھڑ آخری بار جھٹکے کھاتے ہوئے تڑپا اور پھر ساکت ہو گیا۔

ندیم کے ہاتھ لرز رہے تھے۔ ٹوکہ اب بھی خون سے تر بتر تھا۔ میز اور فرش پر بہتا ہوا خون اس منظر کو مزید خوفناک بنا رہا تھا۔ وہ پلٹا اور بھاری قدموں سے کرسی پر آ بیٹھا۔ گویا کوئی جج سزا سنانے کے بعد خود بھی فیصلے کے بوجھ تلے تھک گیا ہو۔ اس کے چہرے پر تھکن اور افسردگی کے سائے چھا گئے تھے، جیسے دل کے کسی کونے میں ابھی بھی انسانیت کی آخری رمق زندہ ہو۔

یہ تو بس ندیم کی درندگی کی شروعات تھی۔
ہر انسان کی طرح وہ بھی اپنے آپ کو نیک اور صالح سمجھتا تھا۔ آئینے میں اسے ایک ہیرو دکھائی دیتا تھا، ایک ایسا شخص جو دنیا کو گناہوں اور جرائم سے پاک کرنے کے لیے خدا کے چنے ہوئے بندوں میں شامل ہے۔

جب وہ پہلی بار آدم خور بنا تو چند لمحوں کے لیے اس پر لرزہ طاری ہوا۔ اسے لگا جیسے پلیدی اس کے گلے پڑ گئی ہو، جیسے وہ دنیا کا سب سے مکروہ انسان بن گیا ہو۔ مگر پھر اسی ذہن نے اپنے اندر ایک حیلہ تراشا۔ اس نے اپنی درندگی کو مذہب کی چادر میں لپیٹ دیا اور خود کو ایک منصف کے روپ میں دیکھنے لگا… ایک ایسا منصف جو جرم کے پھیلنے سے بھی پہلے فیصلہ سناتا ہے۔

ندیم تو درندہ تھا… لیکن درندگی صرف اسی تک محدود نہیں تھی۔
درحقیقت یہ زہر اکثر عام انسانوں کی رگوں میں بھی بہتا ہے۔ فرق صرف انداز کا ہے، سوچ وہی ندیم والی ہے۔

،ایک چور جب کسی کا مال چرا لیتا ہے تو خود کو تسلی دیتا ہے
“میں مجبور ہوں، یہ میرا حق ہے جو دنیا نے چھین لیا تھا۔ میں گناہ نہیں کر رہا۔”

،ایک رشوت خور پولیس والا جب ہاتھ پھیلائے نوٹ سمیٹتا ہے تو اپنے ضمیر کو بہلاتا ہے
“یہ رشوت نہیں، یہ تو میری محنت کا معاوضہ ہے۔ اصل تنخواہ تو حکومت ادا ہی نہیں کرتی، یہ بس میرا حق ہے۔”
کبھی وہ اسے انعام کہتا ہے، کبھی تحفہ۔ یوں وہ مطمئن ہو جاتا ہے کہ یہ پیسہ اس پر حلال ہے۔

ایک عالم جب خود ساختہ دلائل دے کر کسی طلاق یافتہ عورت کو اس کے سابقہ شوہر سے دوبارہ جوڑ دیتا ہے

،اور بدلے میں بھاری رقم وصول کرتا ہے تو دل کو بہلا لیتا ہے
“یہ میرا علم ہے، خدا نے اس علم کے بدلے مجھے انعام دیا ہے۔”

ایک مدرسے میں جب کسی یتیم بچے کے لیے زکوٰۃ اور صدقہ بھیجا جاتا ہے تو انتظامیہ پہلے ہی وہ مال ہڑپ کرنے کو تیار بیٹھی ہوتی ہے۔ اس بچے کو کہا جاتا ہے کہ یہ سب مدرسے کے مالک کو تحفے میں دے دو… تاکہ ناجائز کو جائز بنایا جا سکے… اور جب بچہ انکار کرے تو دھمکی دی جاتی ہے کہ انکار کی صورت میں سزا مکے گی یا پھر مدرسے سے نکال دیا جائے گا۔ یوں وہ لوگ دوسروں کے مال پر حیلہ تراش لیتے ہیں، ضمیر کو بہلاتے ہیں اور یہ مان بیٹھتے ہیں کہ اب یہ زکوٰۃ یا صدقہ نہیں رہا بلکہ ایک تحفہ ہے… حالانکہ ان کا ضمیر جانتا ہے کہ وہ صرف لوٹ مار اور دھوکا دہی کے مرتکب ہیں۔

،ایک کرپٹ آفیسر جب کسی ناجائز فائل پر دستخط کرتا ہے اور اس کے بدلے مال بٹورتا ہے تو اپنے ضمیر کو بہلا لیتا ہے
“میں تو بس لوگوں کے کام آسان کر رہا ہوں۔ یہ انعام میرا حق ہے۔”

،ایک لڑکا اور لڑکی جب شریعت کے تقاضے پامال کرتے ہوئے حرام کے رشتے میں بندھ جاتے ہیں تو اپنے دل کو مطمئن کرتے ہیں
“پیار کوئی جرم نہیں، یہ تو عبادت ہے۔”
پھر وہ اسی رشتے میں اسلامی حدود روند ڈالتے ہیں۔

،کبھی موبائل پر سرگوشیاں، کبھی تنہائی میں ملاقاتیں اور کبھی زنا جیسے گناہِ کبیرہ کا ارتکاب۔ پھر بھی وہ دل کو یہ کہہ کر بہلاتے ہیں
“یہ تو محبت کی آزمائش ہے۔ ہم نے کوئی حد نہیں توڑی، بس خدا کے امتحان سے گزر رہے ہیں۔ ایک دن اسی محبت کا ہمیں عظیم اجر ملے گا۔”

کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو والدین کی عزت پیروں تلے روند کر گھر سے بھاگ جاتے ہیں۔ اپنی گھٹیا حرکت کو مظلومیت اور مجبوری کا نام دیتے ہیں،
“خدا نے ہمیں نکاح کا حق دیا تھا، مگر معاشرے نے ہمیں دھتکارا۔ اس لیے ہم نے بغاوت کی اور اپنا حق لے لیا۔”

اور پھر وہ والدین اور قریبی عزیز بھی… جو اپنے ہی بچوں کی جائز خواہش کو گناہ قرار دے دیتے ہیں۔
جب کوئی لڑکا یا لڑکی، خدا کے خوف سے ناجائز تعلق سے بچتے ہوئے والدین کے سامنے یہ کہے کہ

،میری دل میں فلاں سے نکاح کی خواہش ہے۔” تو یہی والدین اسے سختی سے رد کر دیتے ہیں۔ ان کے دل میں تہیہ ہوتا ہے”
“اس سے نکاح کبھی نہیں ہونے دیں گے۔”
یوں وہ شریعت کے دائرے میں ظاہر کی گئی خواہش کو پیروں تلے روند کر اپنے بچوں کی زندگی کو دوسروں کے ساتھ باندھ دیتے ہیں اور پھر خوش ہوتے ہیں کہ انہوں نے رب کی رضا حاصل کر لی۔

ندیم بھی یہی کر رہا تھا… وہ اپنے ظلم اور بربریت کو مذہبی رنگ دے کر خود کو نیک، برگزیدہ اور چنا ہوا مومن سمجھ رہا تھا۔
لیکن اس کے وجود میں اس کا ضمیر چیخ رہا تھا،
“تم غلط راہ پر ہو۔ یہ راستہ کسی بھی مذہب کا نہیں، صرف درندگی کا ہے۔ یہ وہ آگ ہے جو روح کو ناپاک اور وجود کو کھوکھلا کر دے گی۔”
مگر اس کے نفس نے اس پر غلبہ پا رکھا تھا، اس کو مسلسل یقین دلا رہا تھا کہ یہی وہ راستہ ہے جو اسے جنت کے باغیچوں تک پہنچائے گا۔ ندیم اسی خود ساختہ تسلی کے سہارے ہر حد پار کرنے کو تیار تھا۔

°°°°°°°°°°

زافیر کی حالت کافی زیادہ بگڑ چکی تھی۔ اسے وینٹی لیٹر پر لٹایا گیا تھا۔ آکسیجن کی نالی اس کے دونوں نتھنوں سے گزر کر سیدھی پھیپھڑوں تک پہنچائی گئی تھی۔ بازوؤں پر ڈرِپ کی سوئیاں لگی ہوئی تھیں اور شفاف قطرے وقفے وقفے سے اس کے کمزور جسم میں اتر رہے تھے۔ دل کی دھڑکن ماپنے والی تاریں سینے پر جمی تھیں جبکہ نبض کی رفتار ایک مشین پر لمحہ بہ لمحہ جھلک رہی تھی۔ ایک ڈرپ ختم ہوتی تو فوراً دوسری لگا دی جاتی کیونکہ اس کا جسم کسی طرح کی خوراک برداشت کرنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ اندرونی اعضاء بری طرح ناکام ہو رہے تھے۔

وہ زیادہ وقت بے ہوشی میں ہی ڈوبا رہتا لیکن جب کبھی آنکھ کھلتی تو پورا جسم شدید جھٹکوں سے لرز اٹھتا۔ ایسا لگتا جیسے اندر کی ٹوٹی ہوئی مشینری اب آخری سانسوں پر چل رہی ہو۔

رات کا عالم عجیب تھا۔ وقت جیسے تھم گیا ہو۔ گھڑی کی سوئیاں رینگ رہی تھیں لیکن گزرنے کا احساس نہیں تھا۔ ایمرجنسی وارڈ کی مدھم روشنی میں صرف مشینوں کی بیپ اور ڈرِپ کے قطرے گرنے کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔

ڈاکٹر نے آبرو کی بار بار منت سماجت پر بالآخر ماں بیٹی کو وارڈ میں رکنے کی اجازت دے دی تھی۔ مگر شرط یہ رکھی گئی کہ وہ زافیر کے قریب نہیں جائیں گی۔ صرف فاصلے سے دیکھ سکیں گی اور اگر مریض کو جھٹکے لگیں یا حالت مزید بگڑ جائے تو فوراً اطلاع دیں۔

ماں اور بیٹی ایک کونے میں بے بس بیٹھی تھیں۔ ان کے چہروں پر دعا اور آنکھوں میں بے بسی کے آنسو لرز رہے تھے۔ ہر بیپ کی آواز ان کے دل کو ہلا دیتی، جیسے موت کا سناٹا قریب آ رہا ہو۔

زافیر کی بگڑتی ہوئی حالت نے جہاں حورا اور مومنہ خاتون کو شدید پریشانی میں ڈال دیا تھا۔ وہیں آبرو کی آنکھوں کی چمک جیسے بجھ سی گئی تھی۔ اس کے دل پر ایسا بوجھ تھا کہ وہ خود کو بے بس اور اجنبی سا محسوس کر رہی تھی۔ اسے سب معلوم تھا… بابا کی بیماری کی حقیقت بھی اور اس کا علاج بھی… مگر وہ علاج اس کے لیے ناقابلِ قبول تھا۔ یہی سوچ اسے اندر ہی اندر توڑ رہی تھی۔

وہ ہسپتال کے بینچ پر گم سم بیٹھی تھی۔ نظریں خلا میں گڑی ہوئی تھیں۔ اسی لمحے حورا آہستگی سے اس کے پاس آئی۔ اس کے کندھوں کو نرمی سے تھاما اور بازوؤں میں بھر کر سینے سے لگا لیا۔ ماں کی آغوش کا لمس ملتے ہی آبرو کی آنکھیں بھیگنے لگیں۔

،حورا کی آواز میں سکون اور تسلی گھل گئی تھی
“حوصلہ کرو میری بچی… بابا ٹھیک ہو جائیں گے۔”

آبرو کچھ نہیں بولی۔ ماں کے سینے سے لگی رہی مگر اس کا سکوت گہری بے بسی کی کہانی سنا رہا تھا۔ اس کی خاموشی چیخوں سے زیادہ کربناک تھی۔

،کچھ لمحوں بعد حورا نے شفقت بھرے لہجے میں کہا
“رات بہت ہو گئی ہے، چلو اب سو جاؤ۔”
یہ کہتے ہوئے اس نے بیٹی کو سینے سے الگ کیا اور پیار سے اس کا سر اپنی گود میں رکھ لیا۔

،آبرو نے دھیرے سے نظریں اٹھا کر پوچھا، آواز میں ٹوٹا ہوا سا یقین تھا
“آپ بابا کا خیال رکھیں گی نا…؟”

،حورا نے اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرا اور دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
“ہاں بیٹا… میں تمہارے بابا کے پاس ہی ہوں۔ جاگتی رہوں گی۔”
،یہ کہتے ہی اس نے جھک کر آبرو کے گال پر بوسہ دیا

،آبرو نے پھر آہستگی سے کہا
“اگر ان کی طبیعت خراب ہو تو مجھے فوراً اٹھا لیجیے گا۔”

یہ کہہ کر اس نے آنکھیں موند لیں۔ مسلسل رونے اور فکر نے اسے ہلکان کر دیا تھا۔ ماں کی گود کا سکون اور تھکن کا بوجھ مل کر اس پر غالب آ گئے۔ چند ہی لمحوں میں نیند نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا اور وہ خوابوں کی دنیا میں کھو گئی۔

°°°°°°°°°°

ندیم، ڈھابے والے لڑکے سے نمٹنے کے بعد آہستہ قدموں سے جیل کی کوٹھڑیوں کے سامنے آ کر رُک گیا۔ تنگ و تاریک راہداری میں قیدیوں کے چہروں پر خوف کی پرچھائیاں لہرا رہی تھیں۔ سبھی اسے ایسی دہشت بھری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے گویا وہ انسان نہیں، کوئی عفریت ہو۔

کچھ لمحے وہ خاموش کھڑا انہیں دیکھتا رہا پھر یکدم اس کے چہرے پر ایک جوشیلہ تاثر ابھرا۔

،اس کی آنکھیں چمکنے لگیں اور وہ بلند لہجے میں بولنے لگا

تم سب… ہاں تم سب وہ لوگ ہو جنہیں زمانے نے دھتکار دیا۔”
زمانے کی بربریت اور ناانصافی نے تمہیں مجرم بننے پر مجبور کر دیا۔
…جب تم معصوم بچے تھے
نا جانے کتنے سہانے خواب دلوں میں لیے جوان ہو رہے تھے۔
…لیکن تمہارے خواب کبھی پورے نہ ہو سکے
…تمہاری خواہشیں، تمہاری امنگیں سب کچل دی گئیں
“اور یوں تم مجبور ہو کر اس راہ پر چل نکلے جسے دنیا جرم کہتی ہے۔

،اس نے ایک لمحے کو رُک کر گہری سانس لی، پھر اور بلند آواز میں بولا
لیکن سچ یہ ہے کہ تمہیں خدا نے کبھی نہیں چھوڑا۔”
…بلکہ خدا نے تمہیں ایک مقصد کے لیے چُنا ہے
“وہی مقصد جس کے لیے مجھے منتخب کیا گیا۔

ندیم کی آنکھوں میں ایک وحشی چمک ابھری۔

،اس نے دیواروں کی نمی اور کوٹھڑی کی سلاخوں سے جھانکتے ڈرے سہمے چہروں پر نگاہ دوڑائی اور مزید کہا
…جب ہمیں زافیر صاحب نے قید کیا تھا تو ہمیں لگا یہ سب ظلم ہے”
لیکن حقیقت کچھ اور تھی۔
…زافیر صاحب دراصل ہمارے محسن تھے
…ہمارے خالقِ نو
“!…جنہوں نے ہمیں ایک نیا روپ دیا، ہمیں اس دنیا کے لیے ایک مقصد بخشا

یہ کہہ کر وہ چند لمحے کے لیے خاموش ہو گیا۔ تہہ خانے کے ماحول میں اس کی گونجدار آواز ابھی تک بازگشت کر رہی تھی۔ ندیم کے ہونٹ ساکت تھے لیکن اس کی نظریں قیدیوں کے چہروں کو پڑھ رہی تھیں جیسے وہ ان کی خوفزدہ روحوں کو اپنی درندگی سے مسحور کرنا چاہتا ہو۔

ہلکی سی خاموشی کے بعد ندیم نے قیدیوں کے بیچ سوال اچھال دیا،
“ذرا سوچو… زافیر صاحب نے سینکڑوں انسانوں کو مار ڈالا لیکن مجھے یا تمہیں کیوں نہیں مارا؟”

اس کے سوال پر کوٹھڑی میں ایک کھلبلی سی مچ گئی۔ سب ایک دوسرے کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے، جیسے وہ جواب ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہوں مگر ہر چہرہ خالی تھا، کسی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

،ندیم نے لمحہ بھر توقف کیا، پھر خود ہی اپنی آواز بلند کی
کیونکہ آج تک زافیر صاحب نے کبھی کسی بے گناہ کو نہیں مارا۔”
…تم سب مجرم نہیں تھے… بس بھٹکے ہوئے انسان تھے
“جنہیں روشنی کی ضرورت تھی۔

،وہ آہستہ آہستہ قدم بڑھاتا ہوا قیدیوں کے قریب آیا، اس کی آنکھوں میں ایک پراسرار چمک تھی
انہوں نے ہمیں پناہ دی… کھانا دیا… تحفظ دیا… تاکہ ہم اپنی زندگی کا اصل مقصد پہچان سکیں۔”
تاکہ ہم اپنے اندر چھپی روشنی کو محسوس کر سکیں۔
“اور اس کے لیے ضروری تھا کہ ہمیں عام انسانوں کی گنتی سے نکال دیا جائے… تاکہ ہم ان سے الگ ہو جائیں۔

یہ کہہ کر وہ چند لمحے رُکا، جیسے الفاظ کو نرمی اور اثر کے ساتھ منتخب کر رہا ہو۔

،پھر اس کے لبوں پر ایک عجیب مسکراہٹ ابھری اور وہ دوبارہ بولا
وہ ایسے انسان ہیں جو گناہ گاروں کو سزا دیتے ہیں۔ وہ ناپاک وجود کو مٹی پر بوجھ بننے نہیں دیتے… بلکہ خود اپنی ذات میں جذب کر لیتے ہیں۔”

!…ہاں… وہ انہیں کھا جاتے ہیں”

یہ سن کر قیدیوں پر ایک دم لرزہ طاری ہو گیا۔ ان کے جسم کانپنے لگے، چہروں پر دہشت کی لکیریں گہری ہو گئیں۔

،لیکن ندیم ان کی کیفیت سے بے پرواہ اپنی وحشت بھری تقریر جاری رکھے ہوئے تھا
تاکہ ان کے شیطانی وجود کو اپنے باطن کی روشنی سے پاک کر سکیں۔”

“پھر انہوں نے ہمیں بھی ان مجرموں کا گوشت کھلایا… وہی گوشت جو ہم یہاں کھاتے آرہے ہیں۔

یہ سنتے ہی خوف قیدیوں کی رگوں میں زہر کی طرح دوڑ گیا۔ ایک لمحے کو سب پر سکتہ طاری ہوگیا، پھر اچانک چند قیدیوں کو شدید ابکائی آئی۔ وہ وہیں جھک کر الٹیاں کرنے لگے۔ قید خانے میں پہلے ہی پسینے، گندگی اور گھٹن کی بدبو بھری تھی، لیکن اب الٹیوں کے تعفن نے ماحول کو ناقابلِ برداشت بنا دیا۔

مگر ندیم… وہ خاموشی سے کھڑا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک فاتحانہ جنون جھلک رہا تھا، جیسے اسے اپنی ہی باتوں سے نئی طاقت مل گئی ہو۔

:وہ ایک عجیب سی نرمی اور تسلی آمیز لہجے میں بولا
جب مجھے یہ سب پتا چلا تھا… تو میری حالت تم لوگوں سے بھی کہیں زیادہ بری تھی۔ دل دہل کر رہ گیا تھا۔”

لیکن جلد ہی احساس ہوا کہ نہیں… یہ تو دراصل خدا کا انعام ہے ہم پر۔

” ہمیں ایک مقصد دیا گیا ہے… کہ ہم گناہگاروں کو ان کے جرائم کی سزا دے سکیں۔

،اس نے لمحہ بھر کے توقف کے بعد، پرجوش انداز میں قیدیوں کو دیکھتے ہوئے کہا
“میں نے جلد ہی اپنی پہچان کر لی… اور جانتے ہو پھر کیا ہوا؟”

یہ کہتے ہی اس کے چہرے پر خوشی کی لہر سی دوڑ گئی۔ آنکھوں میں ایک چمک، ہونٹوں پر فاتحانہ مسکراہٹ۔ سبھی قیدی تجسس بھری نظریں اس پر گاڑھے ہوئے تھے۔

،ندیم کی آواز مزید بلند اور جوش سے بھر گئی
“!…مجھے… ہاں، میرے جیسے ایک ادنیٰ انسان کو… زافیر صاحب نے اپنا خونی بھائی بنا لیا”

یہ کہتے ہوئے اس کا چہرہ دمک اٹھا۔ آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔

،آنسو پلکوں سے چھلکنے لگے مگر اس نے ہاتھ کے پچھلے حصے سے انہیں صاف کیا اور لرزتی آواز میں پھر بولا
جب انہوں نے مجھے اس عظیم سعادت سے نوازا تو ایک نصیحت بھی کی۔”
“…انہوں نے مجھ سے کہا

،یہ کہہ کر وہ چند لمحے رُکا۔ اس کا سراپا جیسے زافیر کے احسان تلے دب گیا ہو۔ پھر آہستہ مگر پُراثر لہجے میں زافیر کی آواز دہرانے لگا
“ندیم…! اب تم میرے بھائی ہو۔ اور ہم دونوں مل کر دنیا سے ظلم کو مٹا ڈالیں گے۔
لیکن یاد رکھنا… کبھی بھی کسی معصوم انسان کو نقصان نہ پہنچانا۔”

،ندیم نے ایک نظر سب قیدیوں پر دوڑائی اور پھر نرم مگر گہری آواز میں بولا
“…اب تم ہی سوچو… جسے معصوم لوگوں کی فکر ہو
کیا وہ انسان برا ہوسکتا ہے؟”

سبھی قیدی گہری سوچ میں ڈوب گئے۔ پھر جیسے یکایک ان کے دل نرم ہونے لگے اور ایک ایک کرکے بول اٹھے،

“…نہیں”
“…کبھی نہیں”
“…زافیر صاحب تو ولی ہیں”
“…وہ تو واقعی خدا کے نیک بندے ہیں”
“…ہم ان کے ساتھ ہیں”
“…انہوں نے کبھی کسی معصوم کو نقصان نہیں پہنچایا”

آوازیں کوٹھڑی میں گونجتی رہیں۔ ہر قیدی اپنے یقین کو الفاظ دے رہا تھا۔

،انہی میں سے ایک نے دھیمی مگر بھرپور آواز میں کہا
میں مجرم نہیں تھا… میں تو بس اپنا حق پانے کے لیے بھٹک گیا تھا۔”

” مگر میرے دل میں ایک روشنی تھی… جسے میں خود پہچان نہ سکا، لیکن زافیر صاحب نے پہچان لیا۔

یہ سن کر باقی قیدی بھی اپنے اپنے انداز میں سر ہلانے لگے، جیسے کسی ولی کی محفل میں بیٹھے ہوں۔ ان کے لبوں پر زافیر کی تعریفوں کے چرچے تھے۔ دھیرے دھیرے سبھی است ایک نیک بزرگ، ایک خدا کے ولی کی صورت دیکھنے لگے۔

مگر… چند چہروں پر اب بھی سکوت طاری تھا۔ ان کی آنکھوں میں ہچکچاہٹ اور دل میں بے یقینی تھی۔ وہ نہ ہاں کر رہے تھے نہ انکار۔ ندیم نے ان کی خاموشی فوراً بھانپ لی، لیکن اس کے چہرے پر اعتماد کی ایک لہر ابھری۔ وہ جانتا تھا کہ وقت کے ساتھ وہ بھی قائل ہو جائیں گے۔

،اچانک ندیم نے دونوں ہاتھ بلند کیے اور فلک شگاف آواز میں بولا
“!…خاموش… اب میری بات سنو”

،ایک دم سناٹا چھا گیا۔ سبھی نگاہیں اس پر مرکوز ہوگئیں۔ ندیم نے تحمل اور رعب سے کہا
جب تمہیں تمہاری ہی گندگی میں چھوڑا گیا تو تمہیں لگا ہوگا کہ یہ سزا ہے۔ مگر نہیں… یہ تو ایک امتحان تھا۔”

زافیر صاحب چاہتے تھے کہ باہر کی غلاظت تمہارے اندر کی آلودگی کو دھو ڈالے۔

“یہ گھٹن زدہ ماحول تمہارے باطن کو کھرچ کر تمہارے اندر کے نور کو جگائے۔

،وہ لمحہ بھر کے لیے رکا۔ اس کی آواز گونجی
“اور دیکھو…! اب وہ نور تمہاری آنکھوں سے چھلک رہا ہے۔”

یہ سنتے ہی سبھی قیدی ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکنے لگے۔ ہر کوئی تلاش کرنے لگا کہ آیا وہ نور حقیقت میں جھلک رہا ہے یا نہیں۔

،مگر کسی کو کچھ دکھائی نہیں دیا۔ پھر بھی، ہر ایک نے اپنے دل کو تسلی دی
“میری آنکھوں میں تو واقعی نور اتر آیا ہے… باقی بھی جلد ہی پاک ہو جائیں گے۔”

،اب کی بار ندیم کی آواز میں نرمی اور خوشی گھل گئی تھی۔ وہ مسکراتے ہوئے بولا

“…میں صبح بازار جاؤں گا”
تم سب کے لیے نئے کپڑے لاؤں گا۔
خوشبو اور اچھے جوتے بھی خریدوں گا۔
…پھر تمہیں نہلا کر پاک کروں گا
اور ہم اس کوٹھڑی کی گندگی بھی صاف کریں گے… تاکہ یہ بھی پاک ہو جائے۔
…دراصل، پہلے تم بھٹکے ہوئے تھے
…لیکن اب تم پاک ہو چکے ہو
‘اور ایک پاک انسان کو گندگی میں رکھنا… گناہ ہے۔

یہ سنتے ہی قیدیوں کے چہروں پر رونق دوڑ گئی۔

ان کی آنکھیں چمک اٹھیں، جیسے واقعی کسی نئی صبح کی کرن نے کوٹھڑی کے اندھیرے کو چھو لیا ہو۔

… اب وہ ایک دوسرے کی آنکھوں میں نور دیکھنے لگے تھے
حالانکہ حقیقت میں وہ درندگی کی ایسی تاریکی کو نور سمجھ بیٹھے تھے جس نے ان کے وجود کو جکڑ رکھا تھا۔

یہ قیدی بھلے ہی جرائم پیشہ تھے۔ مگر دل کے کسی کونے میں اپنے گناہوں سے نفرت بھی کرتے تھے۔ کبھی کبھی پچھتاوے کی ہلکی سی چبھن بھی محسوس کرتے تھے۔ مگر اب ندیم ان کے لیے جو راہ بنا رہا تھا، وہاں ظلم اور قتل ایک عبادت بننے والا تھا، سفاکیت ایک نیک مقصد کی تکمیل لگنے والی تھی۔

وہ خود کو نیک لوگوں کی صف میں دیکھنے لگے تھے…
ایسے منتخب بندے، جو دنیا سے ظلم مٹانے اور معصوموں کی حفاظت کے لیے چنے گئے ہوں۔

انہیں خبر نہیں تھی کہ وہ ایک ایسی تاریک دلدل میں قدم رکھ رہے تھے جہاں روشنی کا کوئی سراغ نہیں تھا۔ ایک ایسی دلدل، جہاں پچھتاوے اور افسوس کی گنجائش ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاتی ہے… اور ہر جرم ایک مقدس فریضہ بن کر ان کے ضمیر کو مزید بہلانے لگتا ہے۔

°°°°°°°°°°

آبرو نیند کی گہرائیوں میں ڈوبی ہوئی تھی مگر اس کے اندر اضطراب ابھی بھی زندہ تھا۔ نیند نے اس کے بدن کو آرام ضرور دیا مگر روح کو نہیں۔ اور پھر اسی بے سکونی میں ایک خواب نے جنم لیا۔

،اس نے دیکھا
وہ کمرے میں اکیلی ہے۔ اچانک دروازہ کھلتا ہے اور ڈاکٹر اندر آتا ہے۔ وہ ایک سفید چادر اٹھاتا ہے اور آہستہ آہستہ زافیر کے چہرے پر ڈال دیتا ہے۔ آبرو کے قدم جیسے زمین نے جکڑ لیے۔ اس کے بدن سے جان نکل گئی۔
،ڈاکٹر نے سرد نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا اور طنزیہ لہجے میں کہا
“کیا اب خوش ہو؟ آخر تم نے اپنے بابا کو مار ہی دیا۔”

آبرو کی روح کانپ اٹھی۔ وہ اٹھنا چاہتی تھی، بابا کو چھونا چاہتی تھی مگر اس کا جسم جیسے پتھر بن گیا ہو۔ وہ بولنا چاہتی تھی لیکن لب جامد تھے۔ آنکھوں سے آنسو گرنے کو بے تاب تھے مگر جیسے کسی نے آنکھوں کو بھی قفل لگا دیا ہو۔ دل کی دھڑکن رُک گئی تھی… دنیا کی ہر آواز جیسے خاموش ہو گئی تھی۔

پھر اچانک سامنے حورا نمودار ہوئی۔ اس کے چہرے پر شدید غصہ اور نفرت کی آگ دہک رہی تھی۔

،وہ آبرو کی آنکھوں میں گھورتی ہوئی بولی
تم لاوارث تھی… لیکن زافیر نے تمہیں بیٹی بنایا۔ تم مرنے والی تھی… اس نے تمہیں بچایا۔ اس نے تمہارے لیے اپنا پورا خاندان قربان کر دیا۔”

“اور تم نے کیا کیا؟

آبرو نے کپکپاتی ہوئی نظریں اٹھائیں تو حورا کی آنکھوں میں ایسی نفرت تھی جس نے اس کے وجود کو ہلا دیا۔
،پھر حورا کی چیخ کمرے کی فضا چیر گئی
“!…تم نے اپنے ہی بابا کو مار ڈالا”

وہ قریب آئی اور آبرو کے کندھوں کو زور سے جھنجھوڑنے لگی۔ آبرو کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔

،اس نے سسکتے ہوئے کہا
“نہیں… نہیں… میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔”

،مگر حورا کی آواز کڑک دار بجلی کی طرح گونجی
“!ہاں! تم نے ہی اپنے بابا کو مارا ہے”

اسی لمحے دھند سے ایک اور سراپا ابھرا… مومنہ خاتون۔ ان کا چہرہ عام دنوں کی طرح پُرسکون نہیں تھا بلکہ سخت اور بے رحم لگ رہا تھا۔

،وہ آبرو کے قریب آئیں اور بھاری لہجے میں کہا
“ہاں… تم قاتل ہو۔ اپنے ہی بابا کی قاتل ہو۔”

،اب آبرو ٹوٹ گئی۔ وہ چیخنے لگی، روتی جاتی اور انکار کرتی جاتی
“!…نہیں… نہیں… میں نے نہیں مارا…! میں بابا کو کیسے مار سکتی ہوں؟ میں نے کچھ نہیں کیا”

کمرہ چیخوں اور سسکیوں سے بھر گیا۔ خواب کی فضا اور گہری ہوتی گئی۔ اندھیرا مزید دبیز ہوا اور نفرت کے سائے اس پر جھپٹنے لگے۔

پھر اچانک اندھیرے کے بیچ ایک آواز ابھری… نرم لیکن واضح، جیسے کسی نے دور سے پکارا ہو،
“…آبرو… آبرو… آبرو”

یہ حورا کی آواز تھی۔ ہاں، یہ ماں کی آواز تھی۔ اور پھر ایک جھٹکے کے ساتھ جیسے کسی نے اس کے کندھے کو زور سے ہلایا ہو، خواب ٹوٹنے لگا۔

سب کچھ دھند کی طرح بکھر گیا، اندھیرا چھٹ گیا اور آبرو کی آنکھیں کھل گئیں۔ وہ ہانپ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر آنسو بہہ رہے تھے، گال نم تھے اور ہونٹ کپکپا رہے تھے۔ وہ اب بھی روئے جا رہی تھی جیسے خواب حقیقت بن کر اس کے دل پر نقوش چھوڑ گیا ہو۔

،حورا نے آہستگی سے آبرو کا سر اپنی گود سے اٹھایا، اس کے گال دونوں ہاتھوں میں تھام کر پریشانی سے پوچھا
“کیا ہوا، آبرو؟ تم رو کیوں رہی تھی؟ اور یہ کیا بڑبڑا رہی تھی؟”

آبرو نے گھبراہٹ میں فوراً اپنے بابا کی طرف نظر ڈالی۔ وہ وہیں تھے… سانس لے رہے تھے… زندہ تھے۔ اس لمحے اس کا دل زور سے دھڑکا، آنکھیں چھلک پڑیں۔ اس نے دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کیا کہ یہ سب صرف ایک خواب تھا۔ مگر خواب کی دہشت نے اس کی ہمت توڑ دی۔ وہ اچانک پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور لرزتے قدموں سے بیڈ کی طرف بھاگی۔

وہ زافیر کے قریب پہنچتے ہی اس کے چہرے کو بار بار چومنے لگی، ہچکیوں میں ڈوبے لہجے میں بلک کر بولی،
“!بابا… اٹھ جائیں نا بابا… آپ یوں کیوں لیٹے ہیں؟ میں برداشت نہیں کر پا رہی… اٹھیں نا بابا، پلیز اٹھیں”

وہ زاروقطار روتی جا رہی تھی، اس کے آنسو زافیر کے چہرے پر ٹپک رہے تھے۔ اس کا وجود لرز رہا تھا۔ حورا بھی تیزی سے اس کے پیچھے آئی اور اسے نرمی سے الگ کرنے کی کوشش کی مگر آبرو کسی صورت ہٹنے کو تیار نہیں تھی۔ وہ اپنے بابا کے چہرے سے لپٹی تھی جیسے ان سے جدا ہونے کا تصور بھی ناقابلِ برداشت ہو۔

آخرکار حورا کا ضبط بھی ٹوٹ گیا۔ اس کی آنکھیں بھر آئیں اور وہ خود بھی رونے لگی۔ بڑی مشکل سے اس نے آبرو کو کھینچ کر الگ کیا اور اپنے سینے سے لگا لیا۔

لیکن آبرو کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ اس کے دل پر خواب کا خوف اور حقیقت کا دکھ دونوں بوجھ بن کر اتر آئے تھے۔ وہ جانتی تھی کہ کوئی ڈاکٹر اس کے بابا کو اب زندگی کی طرف نہیں لوٹا سکے گا۔ وہ یہ بھی سمجھ چکی تھی کہ اگر وہ ضد نہ کرتی، اگر وہ قسم واپس لے لیتی تو شاید حالات کچھ اور ہوتے۔

اب سب کچھ اس کے ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ زافیر زندگی اور موت کی آخری کشمکش میں تھا اور وہ… بے بس تھی۔ اپنی کمزوری اور اپنی ضد کے باعث اسے خود پر ہی غصہ آرہا تھا۔ دل چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا،
“میں ہی بابا کی قاتل ہوں… ہاں، میں ہی قاتل ہوں۔”

وہ ٹوٹ چکی تھی۔ آنسوؤں کے ساتھ ساتھ اندر ہی اندر گُھلتی جا رہی تھی۔ اس کی سسکیوں میں خود سے نفرت جھلک رہی تھی، ایک ایسا درد جو الفاظ سے بیان نہیں کیا جا سکتا تھا۔

°°°°°°°°°°

…جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *