ناول درندہ
قسط نمبر 40
باب چہارم: بدلاؤ
مصنف: زیاد اصغر زارون
°°°°°°°°°°
بنجر وادی میں ویرانی اور خاموشی گہری نیند کی طرح چھائی ہوئی تھی۔ دور دور تک صرف خشک زمین، بوسیدہ پتھروں کے ڈھیر اور ٹوٹی پھوٹی چٹانیں بکھری پڑی تھیں۔ مگر ان سب کے درمیان ایک پہاڑ نما گول چٹان ایسی نمایاں تھی جیسے یہ اس وادی کی حقیقی مالک ہو۔ اس عظیم چٹان کے اندر ایک پراسرار غار کھلتی تھی اور وہ غار کسی عام جگہ کی نہیں بلکہ ایک شاہی دربار کی مانند تھی۔
غار کے گہرے اندھیروں میں شہنشاہ شنداق اپنے پتھریلے تخت پر بےجان بت کی شکل میں براجمان تھا۔ وہ ایک عجیب و غریب مخلوق تھا، اس کا دیوقامت جسم انسانوں جیسا مگر چہرہ بالکل بندر کی مانند، بھاری جبڑا، پھٹی پھٹی آنکھیں اور پتھر جیسی سخت جلد۔ اس کے وجود سے ایک ایسی وحشت ٹپکتی تھی جو خاموشی کے باوجود خوف کی چیخوں میں ڈھلتی محسوس ہو۔
اس کے اردگرد تین سمتوں میں اس کی فوج کھڑی تھی۔ لیکن یہ کوئی زندہ سپاہی نہیں تھے، یہ سب مٹی کی مورتیوں کی شکل میں جمے ہوئے خاموشی کے پہرے دار تھے۔ ان کے وجود جامد تھے، ان کی آنکھیں خالی اور ان کے اندر کسی روح کا نام و نشان تک نہیں تھا۔
اچانک… ایک لرزہ خیز گونج کے ساتھ غار ہلنے لگا۔ زمین تھرتھرانے لگی اور دیواروں سے مٹی اور پتھر جھرنے کی طرح جھڑنے لگے۔ شنداق کے پتھریلے وجود پر باریک باریک دراڑیں ابھر آئیں جیسے کوئی سویا ہوا دیو اندر سے بیداری کی کوشش میں اپنی ہی قید کو توڑ رہا ہو۔ ایک لمحے کے بعد وہ دراڑیں گہری ہوتی گئیں، شگاف بڑھتے گئے اور پھر اس کی فوج پر بھی وہی کیفیت طاری ہوگئی۔
وہ سب مٹی کے بے جان مجسمے لرزنے لگے، ان کے اندر زندگی کی ہلکی سی دھڑکن ابھرنے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان کی مٹی چٹخنے لگی اور گوشت پوست کے بدن، خون اور رگ و پے کے ساتھ ابھر آئے۔ مٹی کے خالی وجود اب سانسیں لے رہے تھے، ان کی آنکھوں میں سرخی جھلملا اٹھی تھی۔
پھر ایک خوفناک دھماکے کے ساتھ شنداق کا پتھریلا خول پھٹ گیا۔ بڑے بڑے مٹی کے ٹکڑے غار کی دیواروں سے ٹکرا کر دور دور تک بکھر گئے۔ اور اس دھماکے کے ساتھ ہی شہنشاہ شنداق اپنی نیند سے جاگ گیا۔
اس کی آنکھوں میں پہلی ہی نظر میں وحشت اور غصے کی آگ دہک رہی تھی۔ وہ جان چکا تھا کہ دور کہیں شاہِ سموم آزاد ہو چکا ہے… اور اس آزادی کی لرزش نے اسے بھی نیند سے جگا دیا تھا۔
ایک پل کے لیے شنداق نے اپنی بندر جیسی خوفناک گردن دائیں بائیں گھما کر اپنے بیدار ہوتے سپاہیوں کو گھور کر دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں لال انگاروں جیسی روشنی لرز رہی تھی۔ پھر وہ اچانک اپنے پتھریلے تخت سے اٹھ کھڑا ہوا۔
اس کے اٹھتے ہی زمین دہل اٹھی۔ پوری چٹان زلزلے کی لپیٹ میں آگئی، جیسے اس کے بوجھ تلے صدیوں سے دبا ہوا غصہ اب باہر نکلنے کو تڑپ رہا ہو۔ لمحوں میں دیوقامت چٹان پر بڑی بڑی دراڑیں اُبھر آئیں۔ پھر ایک قیامت خیز دھماکے کے ساتھ وہ چٹان اندر سے پھٹ گئی۔ بڑے بڑے پتھروں کے تودے آسمان میں اچھل کر دور دور تک جا گرے۔ گرد و غبار نے فضا کو اندھیروں میں لپیٹ دیا اور شور ایسا کہ لگتا تھا آسمان ٹوٹ پڑا ہے۔
جہاں ابھی چند لمحے پہلے ایک پہاڑ نما چٹان کھڑی تھی، وہاں اب صرف شنداق کا کھلے آسمان تلے خوفناک دربار بچا تھا۔ اور یہ منظر وہ نہیں تھا جسے کوئی عام آنکھ سہہ سکتی ہو۔
اچانک آس پاس کی چھوٹی بڑی چٹانیں بھی ایک ایک کر کے دھماکوں سے پھٹنے لگیں۔ ان کے تودے لرزتے دھماکوں کے ساتھ چاروں سمت بکھر گئے۔
اسی ہولناک شور کے درمیان شنداق نے اپنے پہاڑ جیسے قدم آگے بڑھائے۔ اس کا ایک ایک قدم زمین کو ہلا رہا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی فوج بھی حرکت میں آگئی۔ وہ جو لمحہ بھر پہلے صرف ننگے، نہتے وجود تھے، اب ان کے اردگرد زمین کی گہرائیوں سے دھاتی ذرات اُبلنے لگے۔
وہ ذرات گرد کی مانند ان کے جسموں سے لپٹے اور دیکھتے ہی دیکھتے سیاہ، بھاری زرہ بکتر میں ڈھل گئے۔ اسی طرح دھات کے ٹکڑے گھوم کر ان کے ہاتھوں میں جمع ہونے لگے اور لمحہ بھر بعد وہ چمکتی ہوئی خونخوار تلواروں کی شکل اختیار کر گئے۔
فضا میں گونجتا دھماکوں کا شور، سپاہیوں کی آنکھوں میں دہکتی سرخی اور شنداق کے دیو ہیکل وجود کی پیش قدمی… یہ سب منظر کسی قیامت کے پیش خیمے کی مانند تھا۔
چلتے چلتے شنداق کی آواز غار سے باہر، وادی کے کناروں اور آسمان تک گونج اٹھی۔
،وہ آواز ایسی تھی کہ لگتا تھا پہاڑوں کے سینے پھٹ جائیں گے۔ ایک وحشت ناک دھاڑ جس نے زمین کے وجود تک کو ہلا دیا
“!شاہِ سموم آزاد ہو چکا ہے… جنگ دہلیز پر کھڑی ہے۔ اپنے ہتھیار سنبھالو… اور میدان میں آؤ”
اس کی صدا بلند ہوتے ہی زمین کانپ اٹھی۔ مٹی کے ذروں میں لرزہ دوڑ گیا جیسے زمین خود کسی اندوہناک خوف میں مبتلا ہو۔ وہ ذرے جو پہلے محض ارتعاش میں تھے، اچانک حرکت میں آ گئے۔ ایک دوسرے سے جڑنے لگے، جیسے ہوا میں اڑتے ٹکڑے کسی اَن دیکھے حکم کے تابع وجود میں ڈھل رہے ہوں۔
لمحوں میں وہ منتشر ذرات مٹی کے سیاہ وجود بننے لگے۔ ایک نہیں، ہزاروں… لاکھوں۔ ہر سمت سے وجود ابھرنے لگے، خشک خاکی مٹی سے بنے وجود، جن کی آنکھوں میں سرخی سلگ رہی تھی۔ وہ دیکھنے میں بالکل شنداق کے سپاہیوں جیسے تھے لیکن ان کے خاکی وجود سے اٹھتی سفاک وحشت انہیں اور بھی ہولناک بنا رہی تھی۔
پھر ایک بار شنداق کی دہاڑ کڑک کے ساتھ فضا کو چیر گئی۔ اس بار اس کی آواز میں خون ریز وعدہ تھا، ایک ایسا اعلان جس نے آسمان تک کو لرزا دیا،
“!جنگ تو ہو کر رہے گی… مگر میدان… ہم خود چنیں گے”
یہ کہتے ہی فضاؤں میں ایک گھٹن سی بھر گئی۔ زمین کی دھڑکن جیسے رک گئی۔ وہ لمحہ گویا ایک نئی قیامت کی آمد کا اعلان تھا۔
شنداق نے اپنی تیز و گہری نگاہیں جنوب کی طرف دوڑائیں۔ وہاں اندھیر نگری کا آخری کنارہ پھیلا ہوا تھا… وہی اندھیر نگری، جس کے ایک کنارے کے راستے سے رینا شاہِ سموم کی وادی تک جا پہنچی تھی۔ لیکن اب شنداق کی نظریں اس اندھیر نگری کے دوسرے اور آخری کنارے پر جمی ہوئی تھیں۔
اس کے قدم مضبوطی اور وقار سے مسلسل آگے بڑھ رہے تھے اور ہر قدم کے ساتھ اس کی فوج بھی ایک سیلاب کی مانند پیچھے سے امڈتی آ رہی تھی۔ گویا ایک ہی دھڑکن کے ساتھ لاکھوں دل دھڑک رہے ہوں اور ایک ہی ارادے کے ساتھ لاکھوں پاؤں زمین کو روند رہے ہوں۔
شہنشاہ شنداق کا رُخ صاف تھا… وہ اندھیر نگری کی طرف بڑھ رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اندھیر نگری کا پہلو ہی، وہ بہتر مقام ہے جہاں قسمت کی جنگ لڑی جانی ہے۔ شاہِ سموم سے مقابلے کے لیے اسے کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں تھی۔ کیونکہ شنداق بخوبی آگاہ تھا کہ جیسے ہی شاہِ سموم آزاد ہوگا۔ وہ نہ آبیاروس کا رُخ کرے گا اور نہ ہی کازمار کا۔ اس کی پہلی اور طوفانی اڑان براہِ راست شنداق کی سلطنت کی طرف ہوگی۔
°°°°°°°°°°
آبیاروس اپنا تخت چھوڑ کر کھلے آسمان تلے میدان کی سمت بڑھ رہا تھا۔ اسے کازمار کی فوج کی پیش قدمی کی خبر ہو چکی تھی، اسی لیے اس نے بھی اپنی فوج کو حرکت میں آنے کا حکم دے دیا تھا۔
ایک جانب آبیاروس اپنے شاہانہ وقار کے ساتھ آگے قدم بڑھ رہا تھا اور اس کی فوج سیلاب کی طرح پیچھے پیچھے بہتی چلی آ رہی تھی۔ وہ جہاں سے گزرتے، ہر قدم کے پیچھے پانی کے نالے اور ندیاں ابھر آتیں، گویا زمین خود ان کے ساتھ رواں ہو گئی ہو۔
دوسری طرف کازمار اپنی دہکتی ہوئی فوج کے ہمراہ بڑھ رہا تھا۔ اس کے سپاہیوں کے قدم جہاں پڑتے، زمین پگھل کر لاوے کے دہکتے دریاؤں میں بدل جاتی۔ وہ یوں بڑھ رہے تھے جیسے زمین کو آگ کے سمندر میں ڈھال کر دشمن تک پہنچنا چاہتے ہوں۔
ان دونوں کو اب تک خبر نہیں تھی کہ شاہِ سموم آزاد ہو چکا ہے۔ یہی ان کی بے خبری تھی جو انہیں پیچھے ہٹنے نہیں دے رہی تھی۔ کئی میل کی دوری سے ہی کازمار کی تیز اور شعلہ بار نگاہوں نے آبیاروس اور اس کی فوج کو دیکھ لیا اور اسی لمحے آبیاروس کی آنکھیں بھی اپنے قدیم دشمن کو پہچان گئیں۔
پانی اور آگ کے یہ دو ازلی بادشاہ، صدیوں بعد پھر ایک دوسرے سے ٹکرانے کو تیار کھڑے تھے۔ وہ دونوں بخوبی جانتے تھے کہ یہ تصادم ایسی ہولناک تباہی برپا کرے گا جس کا تصور بھی محال ہے۔ مگر اس کے باوجود وہ دونوں اس جنگ سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھے۔
آبیاروس فطرتاً امن پسند تھا لیکن کازمار کے ایک سپاہی کو قتل کرنے پر، اس پر جنگ مسلط کر دی گئی تھی۔ وہ قدم بہ قدم آگے بڑھ رہا تھا اور دل کے کسی کونے میں شدت سے یہ احساس جاگ اٹھا تھا کہ ایک سپاہی کو مارنا محض جذباتی عمل تھا… جس کا خمیازہ اب ایک عظیم اور ہولناک تباہی کی صورت میں پوری دنیا کو بھگتنا پڑے گا۔
دوسری جانب کازمار اپنی فطرت کے عین مطابق جوش و خروش میں تھا۔ وہ تو ہمیشہ سے ہی خون اور آگ کی بو کا شیدائی رہا تھا۔ اب ویسے بھی اسے جنگ کا جواز مل چکا تھا، وہ پچھلی برتری کو یاد کرتے ہوئے اور بھی پرعزم تھا۔ اس کے دل میں صرف ایک ہی خواہش دہک رہی تھی… کہ اس بار آبیاروس کی پوری فوج کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے۔
یہ جنگ جیتے چاہے آبیاروس یا کازمار، ایک بات طے تھی، فتح جس کی بھی ہوئی، تباہی اور بربادی ہر حال میں مقدر تھی۔
°°°°°°°°°°
رینا کے چہرے پر ابھی تک غم اور اداسی کے بوجھل سائے چھائے ہوئے تھے۔ اس کی آنکھوں میں وہ تازہ آنسو جمے ہوئے تھے جن میں ابھی تک اپنے بھائی کی جدائی کی چیخ سنائی دیتی تھی۔ وہ میدان کی بے رونق زمین پر چوکڑی مارے بیٹھی تھی، اس کے دل میں خالی پن کی ایک سرد فضا پھیلتی جارہی تھی۔
اس کے سامنے شاہِ سموم کھڑا تھا… وہ خوبرو مگر ہیبت ناک جوان، جس کے وجود سے ایک غیر مرئی ہوا کی لہر مسلسل نکلتی تھی۔ وہ آہستگی سے رینا کے گرد طواف کی مانند ٹہل رہا تھا۔ رینا اپنے خاندان کی تباہی کی پوری داستان اسے سنا رہی تھی۔
وہ اسے بتا رہی تھی کہ کس طرح اس کے پورے خاندان کو زافیر نے موت کے گھاٹ اتار دیا، کیسے وہ بے بسی کے عالم میں شنداق اور آبیاروس کے درباروں تک گئی لیکن ہر دروازے سے ذلت اور انکار لے کر لوٹی۔
تب اس کی آواز بھرا گئی جب وہ بیان کرنے لگی کہ کیسے انکار اور تنہائی نے اسے کازمار کی پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔ مگر وہ پناہ محض ایک نقاب تھی، دراصل وہ اسی لمحے سے شاہِ سموم کو آزاد کرنے کی چالیں بُن رہی تھی۔
رینا نے سرد لہجے میں بتایا کہ کس طرح اس نے چالاکی سے کازمار اور آبیاروس کو خونی جنگ کی طرف دھکیل دیا تاکہ میدان صاف ہو جائے اور شاہِ سموم اپنے انتقام کا طوفان بیدار کرنے کے قابل ہو سکے۔
شاہِ سموم ایک لفظ بھی نہیں بولا، بس اپنی چمکتی آنکھوں سے رینا کو گھورتا رہا۔ اس کے لبوں پر مسکراہٹ ہر لمحہ گہری ہوتی جارہی تھی… ایسی مسکراہٹ جس میں شکر گزاری بھی تھی اور خون کی پیاس کا وحشی وعدہ بھی۔
جب رینا اپنی ساری داستان سنا چکی تو شاہِ سموم آہستگی سے اس کے گرد ایک آخری چکر مکمل کر کے اس کے عین سامنے آ کھڑا ہوا۔
،اس کے لبوں پر ایک پُراسرار مسکراہٹ ابھری اور وہ دھیمے مگر کاٹ دار لہجے میں بولا
“سب سے مزیدار تو آبیاروس کا وہ جملہ تھا… اگر تم وہاں تک پہنچ بھی گئی تو شاہِ سموم تمہیں مار دے گا۔”
یہ کہہ کر وہ کھلکھلا کر ہنسا۔ اس کی ہنسی میں وحشت کی گونج تھی، جیسے پتھریلی وادی میں کوئی شیطانی صدائیں ٹکرا کر واپس آ رہی ہوں۔
: پھر وہ آہستگی سے رینا کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولا
…اب اٹھو، لڑکی… اور یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا”
رینا نے لمحہ بھر کو جھجکتے ہوئے ہاتھ بلند کیا اور اس کی مضبوط گرفت میں اپنا ہاتھ دے دیا۔ اگلے ہی پل وہ اس کے مدِ مقابل کھڑی تھی، جیسے پہلی بار اپنے فیصلے کی سنگینی کو محسوس کر رہی ہو۔
،شاہِ سموم نے گہری سانس لیتے ہوئے مزید کہا
اگر تم تاج نہ لاتی تو شاید میں تمہاری مدد نہ کر پاتا… لیکن یہ ہرگز سچ نہیں کہ میں تمہیں مار دیتا۔”
” انہوں نے مجھے قید کیا اور پھر دنیا کو یوں باور کرایا جیسے میں ہی سب سے بڑا ظالم ہوں۔ حالانکہ… میں کبھی ایسا تھا اور نہ ہوں۔
رینا نے اس کی سنہری آنکھوں میں جھانکا، گہرائیوں میں کسی صداقت کی جھلک تلاشنے کی کوشش کی۔
مگر وہاں جو چمک تھی، وہ عجیب طور پر بے تاثر تھی… ایسی روشنی جس میں نہ محبت تھی، نہ نفرت… صرف ایک غیر مرئی اسرار جو اس کے دل کو اور زیادہ بے چین کر گیا۔
خیر…”شاہِ سموم نے رینا کا ہاتھ آہستگی سے چھوڑ دیا اور چند قدم پیچھے ہٹ گیا۔”
،پھر رُک کر اس کی طرف پلٹا اور مدھم مگر پُراسرار لہجے میں بولا
“مجھے خوشی ہے کہ تم نے مجھے آزاد کرنے سے پہلے آبیاروس اور کازمار کو آپس میں الجھا دیا، انہیں جنگ کی طرف دھکیل دیا۔”
،اس کے بعد اس نے رینا کی آنکھوں میں گہری نظر ڈالی اور ایک سرد مسکراہٹ کے ساتھ بات مکمل کی
لیکن مجھے خدشہ ہے… کہ میرے نکلتے ہی وہ تینوں دوبارہ اکٹھے نہ ہوجائیں۔ “
“اس لیے مجھے بروقت کوئی ایسی چال چلنی ہوگی کہ وہ ایک میدان میں جمع ہونے کا سوچ بھی نہ سکیں۔
،رینا کی آواز گھبراہٹ سے کانپ اٹھی
“لیکن… میرے بھائی کا کیا؟”
،یہ سنتے ہی شاہِ سموم کے لبوں پر ایک پراسرار مسکان پھیل گئی۔ وہ دھیرے سے گویا ہوا
“وہ بھی ہمارے ساتھ جائے گا… شنداق کا خاتمہ کرنے۔”
اس کے یہ الفاظ ہوا میں لرزتی ہوئی گونج کی مانند پھیل گئے۔ اگلے ہی لمحے اس کا وجود ٹوٹ کر سیاہ دھوئیں میں بدلنے لگا۔ وہ کالا دھواں آہستہ آہستہ بلند ہوا اور سرپٹ دوڑتے بادلوں کی طرح فضا میں اڑتا ہوا چٹان اور اندھیر نگری کے بیچ موجود تنگ پگڈنڈی سے باہر نکل گیا.
اب میدان میں محض رینا باقی تھی… اور شاہِ سموم کے وہ سیاہ سپاہی جن کے خدوخال انسانوں جیسے تھے لیکن وجود محض سائے۔ وہ ہوا میں یوں لرز رہے تھے جیسے اگلے ہی پل ٹوٹ کر فنا ہوجائیں گے اور ان کی آنکھیں صرف ایک وجود پر جمی تھیں… رینا پر، گویا وہی ان کے وجود کا مرکز ہو۔
°°°°°°°°°°
آگ کا فرمانروا کازمار، زمین کو ہر قدم پر لاوے میں ڈھالتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ اس کے پیچھے ہزاروں سپاہیوں کی فوج تھی جو دہکتے قدموں کے ساتھ تیزی سے پیش قدمی کر رہی تھی۔ فضا میں آگ کی لپٹوں کی جھلک اور پگھلتی زمین کی دہاڑ گونج رہی تھی۔
کئی میل کے فاصلے پر پانی کے شور اور بہاؤ کی آوازیں ابھر رہی تھیں اور وہ منظر واضح تھا کہ آبیاروس اور اس کی فوج قریب آ چکے ہیں۔
کازمار جنگ کی حکمتِ عملی پر غور میں تھا، اس کے چہرے پر غضب کی جھلک اور آنکھوں میں جوش کی چمک تھی۔ مگر اچانک… سامنے فضا میں ایک کالا دھواں ابھرا جو چند لمحوں میں انسانی شکل اختیار کر گیا۔
یہ شاہِ سموم تھا۔
اسے دیکھتے ہی کازمار کے چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا۔ اس کی آنکھوں کی وحشی چمک بجھ گئی اور ان میں ایک ایسا خوف تیرنے لگا جو عام نہیں تھا… یہ وہ خوف تھا جو صرف اُس وقت گھیرتا ہے جب موت آنکھوں کے سامنے مجسم کھڑی ہو۔
کازمار کے قدم بے اختیار رک گئے۔ اس کے پیچھے پوری فوج کی رفتار مدھم پڑ گئی اور سبھی ایک ایک کر کے رکنے لگے۔ صفِ اول کے چند سپاہیوں نے ہی شاہِ سموم کو پہچانا، جن کے چہرے ہول سے سفید پڑ گئے۔ مگر بیشتر سپاہی اس شخصیت سے بے خبر تھے، وہ صرف اتنا دیکھ پا رہے تھے کہ آگے کچھ ایسا ہے جس کے باعث ان کا آتشیں کمانڈر یکدم پتھر کا مجسمہ بن گیا ہے۔
صفوں کے پیچھے کھڑے سپاہی الجھن میں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ وہ سمجھ نہیں پارہے تھے کہ آخر فوجی پیش قدمی کو کیوں روک دیا گیا ہے لیکن فضا میں اُترتی ہوئی دہشت ان کے دلوں کو بھی گرفت میں لے رہی تھی۔
،کازمار نے لرزتی آواز میں کہا
“آپ… آپ آزاد ہو گئے۔”
یہ سن کر شاہِ سموم کے لبوں پر ایک پُراسرار مسکراہٹ ابھری۔
،وہ آہستگی سے چلتا ہوا اس کے قریب ہوا اور چہرے پر سنجیدگی طاری کرتے ہوئے نرم مگر کاٹ دار لہجے میں بولا
“تم جانتے ہو کہ میں کبھی تمہارا دشمن نہیں تھا… لیکن پھر بھی تم نے میرے خلاف شنداق کا ساتھ دیا۔”
یہ جملے گویا ایک نئی جنگ کا اعلان تھے۔ ایک طرف آبیاروس کی مہیب موجودگی اور اب اچانک شاہِ سموم کا ظاہر ہونا… کازمار کو اپنے لیے یہ یقینی موت کا پروانہ محسوس ہوا۔
،اس نے ہکلاتے ہوئے کہا
“کیا آپ… آپ مجھ سے انتقام لینے آئے ہیں؟”
شاہِ سموم نے نفی میں آہستگی سے سر ہلایا اور مزید قریب آ گیا۔ اس کے وجود سے اٹھتی ہوئی پراسرار ہوا فضا میں سنسنی پھیلانے لگی۔ پھر اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر کازمار کا ہاتھ تھام لیا۔ وہ ہاتھ جو نیلی آگ کی لپیٹ میں جل رہا تھا۔
مگر جیسے ہی شاہِ سموم کی گرفت مضبوط ہوئی، نیلی آگ دو تین بار لپک کر بے بسی سے پھڑپھڑائی اور پھر یکدم بجھ گئی۔ کازمار کی آنکھوں میں دہشت کی ایک اور تہہ اتر گئی۔ اس کے چہرے پر وہ کیفیت تھی جیسے جان نکل گئی ہو اور بدن پر خون منجمد ہو گیا ہو۔
،اس کی گھبراہٹ اور خوف دیکھ کر شاہِ سموم کے لبوں پر مزید مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ رازدارانہ لہجے میں بولا
ارے نہیں… میں تو دوستی کا ہاتھ بڑھانے آیا ہوں۔”
“میں چاہتا ہوں کہ اس بار جب میں شنداق کو نیست و نابود کرنے نکلوں، تو تم آبیاروس کی سلطنت کو جلا کر راکھ کر دو۔
کازمار نے اس کی آنکھوں میں براہِ راست دیکھا۔ نگاہوں میں ایک لمحے کو تیزی ابھری، مگر اس کے چہرے سے خوف ابھی بھی عیاں تھا۔ اس نے سرد لہجے میں کہا،
“اور آخر میں یہ کیوں کروں؟”
یہ سننا تھا کہ شاہِ سموم کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ نرم مسکراہٹ کی جگہ ایک مہیب جلال نے لے لی۔ اس کی آنکھیں غصے کی شدت سے دہکنے لگیں، جیسے ان میں آگ بھڑک اٹھی ہو۔
اچانک اس کے وجود سے ایک طوفانی جھکڑ پھوٹا۔ ایسی شدید آندھی کہ کازمار سمیت اس کی پوری فوج لپیٹ میں آ گئی۔ لمحہ بھر میں فضا گرد و غبار اور سرسراہٹ کی آوازوں سے بھر گئی۔
کازمار کے سپاہیوں کے جسموں پر لپٹی ہوئی آگ ایک ہی جھٹکے میں پھڑپھڑائی اور پھر بجھ گئی، جیسے کسی نے ان کے وجود سے زندگی ہی کھینچ لی ہو۔ میدان پر ایک بھیانک سناٹا چھا گیا اور کازمار کے دل کی دھڑکن گویا سینے میں قید ہونے لگی۔
،اس کے چہرے پر خوف مزید گہرا ہوگیا، ہونٹ لرزنے لگے اور وہ ٹوٹتی ہوئی آواز میں بولا
“م… میرا مطلب تھا کہ… اس میں میرا فائدہ کیا ہوگا؟”
یہ سننا تھا کہ وہ آندھی، جس نے لمحہ بھر میں کازمار کی فوج کے شعلے بجھا دیے تھے۔ آہستہ آہستہ واپس پلٹنے لگی اور گھومتی ہوئی لہروں کی طرح سمٹ کر شاہِ سموم کے وجود میں جذب ہوگئی۔
،وہ کازمار کی لرزتی حالت سے لطف اندوز ہوتا ہوا مدھم مسکراہٹ کے ساتھ بولا
“الفاظ کا چناؤ سوچ سمجھ کر کیا کرو۔ ایسا نہ ہو کہ اگلی بار میں تمہیں مطلب سمجھانے کی مہلت ہی نہ دوں۔”
یہ کہہ کر شاہِ سموم مڑا اور چند قدم پیچھے ہٹ گیا۔ اس کے پیچھے ہٹتے ہی کازمار کے ہاتھ کی آگ ایک بار پھر سے بھڑک اٹھی تھی۔
شاہِ سموم کی نگاہیں اب میلوں دور آبیاروس کی فوج پر جم گئی تھیں جو ابھی تک دھندلے سائے کی طرح دکھائی دے رہی تھی۔
،وہ بنا کازمار کی طرف دیکھے، دھیرے مگر پُراسرار لہجے میں بولا
میں اب وہ نہیں رہا جو پہلے تھا۔”
اُس وقت تمہیں خوف تھا کہ اگر میں شنداق کو ہلاک کر دوں تو تمہاری سلطنت مٹانے تمہارے دروازے پر آ جاؤں گا۔
“مگر اس بار یہ خدشہ اپنے دل سے نکال دو۔
،یہ کہتے ہوئے وہ آہستگی سے پلٹ کر دوبارہ کازمار کی طرف بڑھا اور مزید بولا
مجھے نہ شنداق سے کوئی غرض ہے، نہ آبیاروس کی سلطنت سے۔ تم جانتے ہو… میرا ہمیشہ سے ایک ہی خواب تھا۔”
“حقیقی دنیا میں قدم رکھنا، جسے میں اپنی مکمل سلطنت بناؤں گا اور یہ… پوری دنیا… تمہاری ہوگی۔
،وہ ایک لمحے کو رکا، پھر نظریں گہری کرتے ہوئے آخری الفاظ ادا کیے
“اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔”
یہ کہتے ہی شاہِ سُموم کا وجود آہستہ آہستہ سیاہ دھوئیں میں تحلیل ہونے لگا۔ اس کی آواز آخری بار فضا میں گونجی۔
،یہ الفاظ کم اور دھمکی زیادہ تھے، جیسے ہوا کی تیز لہر پر سوار ہوکر کازمار کے دل میں اترتے جا رہے ہوں
…بھلے ہی ہمیں ایک دوسرے کو مارنے کی اجازت نہ ہو… مگر یاد رکھنا، اگر تم نے دغا دیا اور میں ہارنے لگا”
“تو باقی دونوں کو چھوڑ کر تمہاری دھجیاں اڑا دوں گا۔
اس جملے کے ساتھ ہی میدان پر ایک لرزہ خیز خاموشی چھا گئی۔ دھواں فضا میں تحلیل ہو کر بکھر گیا اور کازمار اکیلا رہ گیا… مگر اس کے ذہن میں وہ الفاظ ہتھوڑوں کی طرح گونجتے رہے۔
،وہ سوچوں کے طوفان میں ڈوبا کھڑا تھا۔ سامنے آبیاروس کی فوج تھی اور پیچھے ذہن میں شنداق کا سایہ۔ فیصلہ آسان نہیں تھا
آبیاروس سے جنگ کرے… یا ایک بار پھر شنداق کے ساتھ اتحاد؟
اس کے دل میں ایک بادشاہ کی سوچ جاگی۔ وہ جانتا تھا کہ بادشاہت میں صرف وہی جنگ اہم ہے جو فائدہ دے۔ پچھلی بار اپنے وجود کو خطرہ تھا اس لیے وہ شنداق کے ساتھ کھڑا ہوا تھا۔ مگر اب منظر بدل چکا تھا۔ شاہِ سُموم خود اس کے پاس آیا تھا اور اس کے ساتھ اتحاد کہیں زیادہ سود مند تھا۔
کازمار کی آنکھوں میں دھیرے دھیرے عزم اتر آیا۔ وہ چند لمحے خاموش کھڑا رہا پھر آہستہ سے اپنا ہاتھ بلند کیا۔ یہ اشارہ تھا… پیش قدمی کا۔
اگلے ہی پل اس کے قدم آگے بڑھے اور پوری فوج، جیسے ایک ہی سانس میں، اس کے پیچھے میدانِ جنگ کی طرف بڑھنے لگی۔ لاوے کی خوشبو، جلتی زمین کی تپش اور سپاہیوں کی آہٹیں فضا میں گونج اٹھیں۔
°°°°°°°°°°
دوپہر کا وقت تھا مگر آسمان پر پھیلے گہرے بادلوں کی وجہ سے وقت کا اندازہ لگانا مشکل تھا۔ زافیر حورا، آبرو اور مومنہ خاتون کے ہمراہ سوہنی آبشار کے دلکش مناظر دیکھنے نکل آیا تھا۔ یہ جگہ جنت کا ٹکڑا معلوم ہوتی تھی۔ ایک طرف پہاڑوں کی چوٹیوں پر سفید برف موتیوں کی طرح چمک رہی تھی تو دوسری طرف پہاڑوں سے گرتی آبشاریں اپنے بے پناہ شور و خروش کے ساتھ فضا میں ایک الگ ہی دھن بکھیر رہی تھیں۔
آج بھی آسمان پر گھنے سیاہ بادل تیر رہے تھے جیسے کسی وقت بھی برسنے کو تیار ہوں مگر ابھی تک بارش کا ایک قطرہ بھی نہیں گرا تھا۔ ہوا میں نمی اور ٹھنڈک کی ہلکی لہر تھی جو ہر سانس کو تازگی بخش رہی تھی۔
وہ لوگ گاڑی سڑک پر چھوڑ کر کافی دور نکل آئے تھے اور اب ایک ڈھلوانی پہاڑ پر چڑھ رہے تھے۔ راستہ پتھریلا اور مشکل تھا۔ قدم بڑھاتے ہی سانسیں پھول رہی تھیں لیکن بلندی پر پہنچ کر وادی کا حسین منظر دیکھنے کی چاہ انہیں مزید اوپر دھکیل رہی تھی۔
پہاڑ پر کئی منٹ کی مسلسل چڑھائی کے بعد مومنہ خاتون ہانپتے ہوئے ایک بڑے پتھر پر بیٹھ گئیں۔ ان کے چہرے پر تھکن کے آثار نمایاں تھے۔
،وہ ہاتھ میں پکڑی چھوٹی سی پانی کی بوتل بمشکل کھولتے ہوئے دھیمی آواز میں بولیں
“اُف… بس… میں اور اوپر نہیں جا سکتی۔”
یہ دیکھ کر حورا فوراً دو قدم پیچھے لوٹی۔ وہ خود بھی پسینے سے شرابور اور ہانپ رہی تھی۔
،کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے فکرمندی سے کہا
“کیا ہوا آنٹی؟ آپ بہت تھک گئی ہیں کیا؟”
،مومنہ خاتون نے پانی کا ایک چھوٹا سا گھونٹ لیا، گہری سانس بھری اور تھکے ہوئے لہجے میں جواب دیا
“ہاں… بس، تم لوگ آگے جاؤ۔ میں یہیں رکوں گی۔ مزید اوپر جانا میرے بس کا نہیں۔”
یہ کہہ کر وہ دوبارہ جھک گئیں اور ایک بار پھر تیزی سے سانس لینے لگیں جیسے پہاڑ نے ان کی ہمت نچوڑ لی ہو۔
آبرو ہانپتے ہوئے واپس پلٹی اور مومنہ خاتون کے کندھوں پر دونوں ہاتھ رکھ کر ضدی لہجے میں بولی،
“چلیں نا آنٹی… بس تھوڑا سا ہی تو رہ گیا ہے۔”
،مگر مومنہ خاتون نے گہری سانس لیتے ہوئے سختی سے جواب دیا
“نہیں… ضد مت کرو۔ تم لوگ آگے جاؤ۔ مجھ میں مزید ہمت نہیں بچی۔ میں یہیں تمہاری واپسی کا انتظار کروں گی۔”
یہ الفاظ جیسے آخری فیصلہ تھے، ان کے لہجے میں تھکن کے ساتھ ساتھ ایک قطعی ارادہ بھی جھلک رہا تھا۔
زافیر جو اب تک خاموشی سے ان کی گفتگو سن رہا تھا.
،اس نے ایک لمحہ بلندی کی طرف نگاہ دوڑائی، پھر مومنہ خاتون کی طرف متوجہ ہو کر پُرسکون لہجے میں بولا
“اچھا، پھر کہیں جائیے گا مت… ہم زیادہ دیر نہیں لگائیں گے، جلدی واپس آجائیں گے۔”
،مومنہ خاتون نے ہانپتے ہوئے ہی سر ہلایا، انہوں نے تھکے ہاتھوں سے پانی کی بوتل اٹھائی اور ایک مزید گھونٹ بھر کر بمشکل کہا
“اچھا… ٹھیک ہے… میں یہیں ہوں۔”
پہاڑی ہوا کی خنکی ان کے گرد گردش کر رہی تھی اور پس منظر میں پہاڑ کی ایک جانب سے گِرنے والی آبشار کا مسلسل شور اس لمحے کو اور زیادہ حقیقی بنا رہا تھا۔
وہ تینوں چند لمحے مومنہ خاتون کے قریب رکے رہے پھر آخرکار انہیں وہیں چھوڑ کر دوبارہ بلندی کی طرف بڑھنے لگے۔ ہر قدم کے ساتھ چوٹی قریب آتی محسوس ہو رہی تھی۔ سانسیں بے قابو تھیں، دل تیزی سے دھڑک رہا تھا اور جسم کی حرارت پسینے کی بوندوں میں ڈھلتی جا رہی تھی مگر جذبہ ایسا تھا کہ تھکن کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے آگے بڑھتے جا رہے تھے۔
آخرکار وہ چوٹی تک جا پہنچے۔ یہ پہاڑ علاقے کے بلند ترین پہاڑوں میں شمار ہوتا تھا۔ چوٹی پر کھڑے ہو کر چاروں طرف نگاہ دوڑائی تو منظر ایسا تھا جیسے وہ آسمان پر کھڑے ہوں اور نیچے پھیلی زمین ایک جیتی جاگتی جنت کا روپ دھارے ہو۔ نیچے وادیوں میں بہتی ندیوں کی چمک، سبز قالین جیسے کھیت اور چلتے پھرتے انسان جو اوپر سے محض ننھے کیڑوں کی مانند دکھائی دیتے تھے… سب کچھ دل موہ لینے والا تھا۔
،آبرو کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔ اس نے دونوں بازو پھیلا کر گہری سانس لی اور پھر چہکتے ہوئے بولی
“!بابا… دیکھیں نا… یہ کتنی پیاری دنیا ہے۔ متوازی دنیا تو بالکل بورنگ ہے”
حورا نے اس کی بات پر توجہ نہیں دی۔ وہ تو اس دلکش منظر میں کھوئی ہوئی تھی، ہر منظر کو اپنی آنکھوں میں قید کر لینے کی کوشش کر رہی تھی لیکن زافیر یکدم چونک گیا۔
،اس کے چہرے پر سنجیدگی چھا گئی۔ وہ فوراً آبرو کی طرف متوجہ ہوا اور تیزی سے پوچھا
“تمہیں کیسے پتا کہ وہ بورنگ ہے؟”
آبرو لمحہ بھر کو سنجیدہ ہوئی جیسے کچھ سوچ رہی ہو۔ پھر اچانک اس کی پرانی شوخ چہک لفظوں میں ڈھل گئی۔
“!آپ نے نہ جانے کتنی بار وہاں کی کہانیاں سنائیں، مگر کبھی یہ نہیں بتایا کہ وہاں کے نظارے کیسے ہوتے ہیں۔ تو ظاہر ہے، بورنگ جگہ ہی ہوگی”
،یہ کہہ کر اس نے وادی پر ایک تیز نگاہ ڈالی اور اگلے ہی لمحے بچوں جیسی معصوم خوشی کے ساتھ چیخ پڑی
“بابا… وہ دیکھیں…! کتنی ساری بھینسیں ہیں…! ایک ہم بھی لے کر جائیں گے۔”
،زافیر کے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔ اس نے نرمی سے جواب دیا
“اچھا ٹھیک ہے… لے جائیں گے۔”
یہ کہہ کر وہ حورا کی طرف متوجہ ہوا۔ وہ چپ چاپ پہاڑ پر قدم بہ قدم آگے بڑھ رہی تھی۔ زافیر نے تیزی سے چند قدم بڑھائے اور قریب پہنچ کر دھیرے سے پکارا،
“سنو جانم…”
حورا یکدم چونک گئی، پھر مسکراتے ہوئے پیچھے مڑی۔ زافیر اس کے قریب آ پہنچا اور نرمی سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ دونوں قدم بہ قدم پہاڑ پر آگے بڑھنے لگے۔ فضا میں ہلکی سی ہوا چل رہی تھی جو ان کے بالوں سے کھیلتی ہوئی گزر رہی تھی۔
، چند لمحوں کی خاموشی کے بعد حورا ہلکی ہنسی کے ساتھ بولی
“یہ نیا لفظ آپ نے کہاں سے سیکھا؟”
زافیر کے لبوں پر گہری مسکراہٹ پھیل گئی۔
“لفظ تو سارے جانتا ہوں… لیکن اب دل چاہتا ہے کہ زبان پر بھی لاؤں۔ کبھی تمہیں جانم کہوں، کبھی روحی کہوں، کبھی ماہی کہوں، کبھی قلبی کہوں، کبھی…”
حورا شرماتے ہوئے ہنس پڑی اور فوراً بول اٹھی،
“اچھا بس بس… آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔”
زافیر بھی مسکرا دیا۔
،قدموں کی آہٹ کے ساتھ جب خاموشی نے پھر دونوں کو گھیر لیا تو وہ نرمی سے بولا، یوں جیسے کوئی بھید کھول رہا ہو
نا جانے کتنی صدیوں سے میں زندہ ہوں… لیکن ایک پل بھی ایسا نہیں جسے میں زندگی کا حسین لمحہ کہہ سکوں۔”
“مگر تمہارے اور آبرو کے ساتھ گزرے سبھی لمحے… میری پوری حیات کے سب سے خوبصورت لمحات ہیں۔
ایک پل کے لیے حورا کے چہرے پر گہری سنجیدگی چھا گئی۔ مگر اس سنجیدگی کی تہہ میں زافیر کے لیے بے پناہ محبت اور اعتماد چھلک رہا تھا۔
،وہ قدم بہ قدم آگے بڑھتی رہی، ایک پل کو زافیر کی طرف دیکھا پھر اپنی نظریں سامنے کے افق پر جما دیں اور دھیمی آواز میں بولی
جانتے ہو زافیر… تمہارا ماضی بہت ہولناک اور بھیانک تھا۔”
لیکن اس سب تاریکی کے باوجود، تمہارے اندر کہیں انسانیت کی ایک چنگاری زندہ تھی۔ وہی ننھا سا دیا تھا جس نے تمہیں آبرو کی ڈھال بنایا۔
” وہی روشنی تھی جس نے تمہیں اپنے ہی وحشی خاندان کے سامنے کھڑا کر دیا، صرف ایک اجنبی بچی کی حفاظت کے لیے۔
،وہ ذرا رکی پھر نرم مسکراہٹ کے ساتھ آگے بولی
رفتہ رفتہ وہی انسانیت تم پر غالب آتی گئی اور تمہارا وحشی روپ کمزور پڑتا گیا۔”
” اور آج دیکھو… تم ایک ایسے شخص کے روپ میں ہو جو دوسروں کے لیے امید اور پناہ ہے۔ خدا نے تمہیں ہدایت کی راہ دکھا دی ہے۔
زافیر خاموشی سے قدم بڑھاتا ہوا برف پوش پہاڑوں کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں دور کہیں دھندلی روشنی جھلملائی جیسے وہ صدیوں پرانے سوالوں کا جواب ڈھونڈ چکا ہو۔
،پھر وہ دھیمی اور بھرپور نرمی سے بولا
“میں ہمیشہ جانتا تھا کہ کوئی ہے… جس نے کائنات کا یہ پیچیدہ نظام بنایا ہے۔ مگر اب سمجھ آیا ہے کہ وہ خدا ہماری رگوں سے بھی قریب ہے۔”
“وہ چاہتا ہے کہ ہر دل میں نرمی ہو، ہر روح اس کی طرف جھکے۔
،زافیر نے لمحہ بھر کو رُک کر گہری سانس لی، جیسے یادوں کا بوجھ دل سے اتار رہا ہو۔ اس کی آواز مزید مدھم مگر پُراثر ہوگئی
مجھے بھی اسی نے ایک راستہ دیا… آبرو کی صورت میں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ میں تب بھی درندگی چھوڑ نہیں پایا۔”
پھر دیکھو… خدا نے کیسا کرم کیا، مجھے اس تاریکی سے کھینچ کر روشنی میں لے آیا۔
“وہی بچی جس کے لیے میں نے بغاوت کی تھی، آج میرے لیے ہدایت کا وسیلہ بن گئی۔
اس کے ہونٹوں پر ایک مدھم مسکراہٹ ابھری اور آنکھوں میں نمی کی ہلکی سی چمک۔
“یقین کرو… یہ احساس اتنا حسین ہے کہ میری روح کو بھی سکون بخشتا ہے۔”
،حورا مسکرا کر اس کی طرف دیکھنے لگی اور نرمی سے بولی، جیسے وہ بھی کوئی راز افشا کرنے والی ہو
جانتے ہو زافیر… آبرو کی حقیقت مجھے پتا لگنے سے پہلے، کئی بار اس سے جلن محسوس ہوتی تھی۔ “
یوں لگتا تھا کہ آپ کے لیے بس وہی سب کچھ ہے۔ میں کوشش کرتی تھی کہ میں آپ کے لیے اس سے زیادہ اہم بن جاؤں لیکن میں غلط تھی۔
وہ تو بیٹی ہے اور میں بیوی ہوں۔ ہمارے رشتوں کی تو نوعیت ہی الگ ہے۔
” …میرا اس کے ساتھ تو کبھی مقابلہ تھا ہی نہیں۔ اس کی اپنی جگہ ہے اور میری اپنی
ابھی وہ بات ختم ہی کرنے والی تھی کہ اچانک آسمان پر بادل گرجنے لگے۔ ایک ساتھ کئی اطراف سے گرجنے کی آوازیں سنائی دینے لگیں، ہوا میں بجلی کی چمک نے پہاڑوں کی برف پر روشنی کے ناگہانی دھبے ڈال دیے۔
یہ گرج بہت بھیانک تھی۔ حورا سہم گئی، الفاظ زبان سے پھسل گئے اور اس نے زافیر کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔
“ہمیں واپس چلنا چاہیے، موسم خراب ہو رہا ہے۔”
زافیر نے آسمان کی طرف نگاہ ڈالی، اس کے چہرے پر تشویش کے اثرات واضح تھے۔ دونوں خاموشی سے آبرو کی طرف پلٹے۔ وہ باتوں ہی باتوں میں کافی دور نکل آئے تھے۔
جب وہ آبرو کے قریب پہنچے تو وہ گھبرا کر، سہمے لہجے میں جنوب کی سمت دیکھتے ہوئے بولی،
“بابا…! اس طرف آسمان سرخ کیوں ہو رہا ہے؟”
زافیر کی نگاہیں جنوب کی طرف دوڑیں اور وہ بھی گھبرا گیا۔ سیاہ بادلوں میں ایک عجب سرخی پھیل رہی تھی جیسے پورے آسمان میں آگ پھیل گئی ہو۔ یہ بڑے طوفان کی واضح پیش گوئی تھی۔
،زافیر فوراً آبرو کے پاس پہنچا اور اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑتے ہوئے تیزی سے بولا
“چلو… جلدی کرو… ہمیں گھر جانا ہوگا… ہمیں یہاں آنا ہی نہیں چاہیے تھا۔”
،تینوں نے ڈھلوان کی طرف قدم بڑھا دیے۔ حورا یہ سن کر چونک گئی اور متجسس لہجے میں پوچھا
“ہوٹل یا گھر…؟”
زافیر نے گھبرا کر اس کی طرف دیکھا اور آواز میں تیزی کے ساتھ بولا،
“یہ آسمان کی سرخی کسی بڑے طوفان کی نشانی ہے۔ یہاں ہم محفوظ نہیں ہیں۔ ہمیں ابھی گھر کے لیے نکلنا ہوگا۔”
اس کے قدم مزید تیز ہوگئے۔ ہر قدم میں گھبراہٹ جھلک رہی تھی، وہ گھبراہٹ جو موت سے بھاگنے والے کے قدموں میں ہوتی ہے۔ ڈھلوان پر بڑھتے بڑھتے ان کے گرد ہوائیں سرگوشیاں کرنے لگیں، پتھروں پر پانی کے چھوٹے چھوٹے قطرے چھلکنے لگے اور آسمان سے بجلی کی چمک نے زمین پر خوف کے سایے ڈال دیے۔ ہر لمحہ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے قدرت خود انہیں جلدی کرنے کا حکم دے رہی ہو۔
°°°°°°°°°°
…جاری ہے
