ناول درندہ

قسط نمبر 42

باب پنجم: کاسر العاکم

مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°

زافیر جیسے ہی ہوٹل پہنچا، بغیر وقت ضائع کیے سامان سمیٹا اور اپنی فیملی کے ہمراہ گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ مگر اس کی چھٹی حس مسلسل کسی بڑے خطرے کی گھنٹی بجا رہی تھی۔ اوپر آسمان پر پھیلتی ہوئی سرخی گویا ایک نئی مصیبت کا اعلان تھی۔

وہ قافلہ ہوٹل سے کئی میل دور نکل چکا تھا لیکن بارش کا زور ٹوٹنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ بادلوں کے دہاڑنے اور بارش کے موسلا دھار وار نے فضا کو مزید خوفناک بنا دیا تھا۔ گاڑی کا اسٹیرنگ ڈرائیور کے ہاتھ میں تھا اور طوفانی بارش نے رفتار کو بری طرح جکڑ رکھا تھا۔ دونوں گاڑیاں گھونگھٹ اوڑھے سایوں کی طرح دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہی تھیں۔

زافیر بار بار شیشے کے پار جھانکتا، اس کی نظریں آسمان پر پھیلتی اس سرخی پر جمی ہوئی تھیں جو لمحہ بہ لمحہ شمال کے آخری کنارے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی۔ دل کی بے چینی بڑھتی جارہی تھی، جیسے کسی اندوہناک افتاد کا سایہ قافلے پر منڈلا رہا ہو۔

،آخرکار وہ اپنی گھمبیر آواز میں بے صبری سے بولا
“!گاڑی کو کسی قریبی گاؤں کی طرف موڑ دو… جلدی کرو”
اس کے لہجے میں وہ اضطراب تھا جو صرف آنے والے طوفان کو محسوس کرنے والا ہی جان سکتا تھا۔
،ڈرائیور نے حیرت اور الجھن بھری نظروں سے زافیر کی طرف ایک لمحے کو دیکھا، پھر دوبارہ نظریں سامنے جمانے کے بعد بولا
“لیکن آپ نے تو کہا تھا کہ جتنا جلدی ہوسکے، گھر پہنچنا ہے۔”

،زافیر کے چہرے پر پریشانی کی شکنیں اور گہری ہوگئیں۔ اس نے سخت لہجے میں جواب دیا
“!…نہیں… اب دیر ہوچکی ہے۔ جلدی کرو، کسی گاؤں میں کوئی محفوظ چھت تلاش کرو”

ڈرائیور نے گاڑی کی رفتار ہلکی سی بڑھائی، پھر گاڑی کو ایک کچے موڑ پر چڑھاتے ہوئے قریبی گاؤں کی طرف موڑ دیا۔
جیسے ہی وہ گاؤں کے قریب پہنچے، دھند اور بارش کے پردوں میں سے کچھ بڑی کوٹھیاں ابھرتی دکھائی دیں۔ زافیر کی نظر فوراً ایک تین منزلہ عمارت پر جا ٹھہری۔ اس کی بلند دیواریں بارش کے دھاروں میں بھی کسی محافظ کی طرح مضبوط محسوس ہورہی تھیں۔
،اس نے فوراً اشارہ کرتے ہوئے کہا
“وہاں… اُس کوٹھی کی طرف جاؤ…! شاید ہمیں ان کے پاس پناہ مل جائے۔”

ڈرائیور نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے گاڑی موڑ لی۔ چند ہی لمحوں میں وہ چاردیواری کے سامنے تھے۔ حیرت انگیز طور پر گیٹ پہلے ہی کھلا ہوا تھا، جیسے گھر کے مالکان نے طوفان میں پھنسے مسافروں کے لیے دانستہ طور پر گیٹ کھلا چھوڑ دیا ہو۔
پہلے ان کی گاڑی چاردیواری پار کرتے ہوئے گھر کے سامنے آکر رکی اور چند لمحوں بعد دوسری گاڑی بھی صحن میں داخل ہوگئی۔ وہاں پہلے سے ہی تین گاڑیاں کھڑی تھیں۔ یہ پتا لگانا مشکل تھا کہ وہ کسی اور پناہ لینے والے مسافروں کی تھیں یا اسی حویلی کے مالک کی ذاتی گاڑیاں تھیں۔

برآمدے کے سائے میں ایک بزرگ چارپائی پر بیٹھے حقہ پی رہے تھے۔ دھوئیں کی لکیریں ہوا میں بکھرتی جا رہی تھیں۔ ان کے قریب ہی پانچ نوجوان بیٹھے تھے جو بارش کی شدت کے باوجود ہنس بول کر وقت کاٹ رہے تھے۔ مگر جیسے ہی دو اجنبی گاڑیاں ان کے صحن میں داخل ہوئیں، سب کی آنکھوں میں حیرت کی بجلی کوند گئی۔ بزرگ نے فوراً حقہ کی نلی چھوڑی اور سنبھل کر کھڑے ہوگئے۔ نوجوان بھی چوکنے ہو کر اپنی جگہوں سے اٹھ کھڑے ہوئے۔

گاڑی رکتے ہی زافیر جھٹکے سے باہر نکلا اور لپک کر پچھلے دروازے کی طرف بڑھا۔ دوسری طرف سے ڈرائیور نے بھی دروازہ کھول دیا۔ اگلے ہی لمحے دوسری گاڑی کا دروازہ کھلا اور اسلحہ بردار گارڈ باہر نکلے۔ ان کے ہاتھوں میں چمکتے ہتھیار دیکھ کر نوجوانوں کے چہرے ایک لمحے کے لیے سُن ہوگئے، جیسے جسموں میں خون جم گیا ہو۔

مگر اس گھٹن اور خوف کی فضا اچانک بدل گئی جب پہلی گاڑی سے دو خواتین اور ایک بچی باہر آئی۔ ان کے بھیگے ہوئے چہروں اور سہمی ہوئی آنکھوں نے یہ تاثر دیا کہ یہ کوئی عام قافلہ نہیں بلکہ ایک خاندان ہے جو بارش اور طوفان سے پناہ لینے یہاں آن پہنچا ہے۔

گاڑی کے ایک طرف سے مومنہ خاتون باہر نکلیں اور دوسری طرف سے حورا اور آبرو تیز بارش میں بھیگتے ہوئے باہر آئیں۔ وہ سب تیز قدموں سے برآمدے کی طرف لپکے۔ بارش اتنی شدید تھی کہ چند ہی فٹ کا فاصلہ طے کرنے کے باوجود ان کے کپڑے خاصے بھیگ گئے تھے۔

،بزرگ حقہ ایک طرف کھسکا کر کھڑا ہو چکا تھا۔ زافیر سیدھا اس کے قریب گیا، مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا اور مؤدب لہجے میں بولا
“معاف کیجیے گا، موسم کی شدت نے ہمیں یہاں رکنے پر مجبور کر دیا۔”

،بزرگ نے مصافحہ کیا اور روایتی انداز میں زافیر کو گلے سے لگا کر خوش مزاجی سے کہا
“!اوہ کوئی گل نئیں پُتر… چھت اسے واسطے ہونڑی اے نا”

،یہ کہہ کر بزرگ نے پلٹ کر گھر کے اندر کی طرف نگاہ ڈالی اور بلند آواز میں پکارا
“!…فضیلت… اوہ فضیلت پُتر”

زافیر نے اس کے بعد باقی نوجوانوں کی طرف قدم بڑھائے اور ایک ایک کر کے سب سے مصافحہ کیا۔ گارڈ بھی آگے بڑھے اور مؤدبانہ انداز میں ہاتھ ملاتے گئے۔
آبرو، حورا اور مومنہ خاتون خاموشی سے برآمدے کے ایک کونے میں کھڑی یہ منظر دیکھ رہی تھیں۔

،چند لمحے ہی گزرے تھے کہ گھر کے اندر سے ایک عمر رسیدہ خاتون نمودار ہوئیں۔ ان کی پُر وقار آواز نے فضا کو نرم سا لمس دیا
“جی ابا جی۔”

،بزرگ نے پوٹھوہاری لہجے میں کہا
“پتر، مہمان آئے نیں… انہاں کی اندر لے جا۔”

،خاتون نے تینوں پر نگاہ دوڑائی، چہرے پر خوش دلی کی مسکراہٹ سجی اور ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے بولیں
“آجاؤ… آپنڑاں ای کاڑھ سمجھو۔”

وہ تینوں کو ساتھ لے کر اندر کی طرف بڑھ گئیں اور بزرگ ایک گہری سانس لے کر سکون سے اپنی چارپائی پر واپس بیٹھ گیا۔
زافیر بزرگ کی طرف بڑھ رہا تھا تاکہ ان کے قریب بیٹھ کر شکریہ ادا کر سکے مگر اس سے پہلے ہی پیچھے سے ایک نوجوان کی گھبرائی اور کپکپاتی ہوئی آواز ابھری،
“یا اللہ خیر… یا اللہ خیر…!”

یہ آواز سنتے ہی سب کے قدم تھم گئے۔ زافیر نے چونک کر پیچھے دیکھا تو اس کے بھی اوسان خطا ہوگئے۔ برآمدے میں موجود ہر شخص کی نظریں بے اختیار آسمان کی طرف اٹھ گئیں۔ آنکھوں میں حیرت اور خوف کی ملی جلی جھلک تھی، جیسے سب کو اپنی سانسیں روک لینی پڑی ہوں۔

اب بارش محض پانی کی نہیں تھی۔ آسمان سے اترتی بوندوں کے ساتھ دہکتے شعلے بھی زمین پر گر رہے تھے۔ وہ منظر ایسا لگ رہا تھا جیسے جلتے ہوئے انگارے بارش کی صورت میں برس رہے ہوں۔ بوند اور شعلے جب ایک ساتھ گرتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے پگھلا ہوا چارکول زمین کو داغدار کر رہا ہو۔ ہر گرنے والی بوند ایک نیا خوف جگا رہی تھی اور ہر آنکھ میں سوال ابھر رہا تھا کہ یہ کیسا عذاب ہے؟ یہ کیسی بارش ہے؟

لمحہ بھر کو سناٹا چھا گیا۔ پھر بزرگ کے تین بیٹے، زافیر کا ڈرائیور اور ایک گارڈ اچانک حرکت میں آئے۔ ان کے چہروں پر بھی گھبراہٹ صاف جھلک رہی تھی مگر ذمہ داری کے بوجھ نے ان کے قدم تیز کر دیے۔ ایک گارڈ جلدی سے اپنی بندوق قریبی ساتھی کو تھما کر باقیوں کے ساتھ بھاگتے ہوئے گاڑیوں کی طرف لپکا۔ ان کا مقصد واضح تھا… کسی بھی قیمت پر گاڑیوں کو بچا کر ایک طرف بنے جانوروں والے برآمدے میں کھڑا کرنا۔

آسمان سے پانی کے ساتھ آگ کا برسنا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ شروع میں یہ محض ایک عجیب سا نظارہ تھا… وقفے وقفے سے لپکتی ہوئی آگ کی ننھی چنگاریاں بارش کے قطروں کے ساتھ زمین تک پہنچتیں۔ جہاں گرتیں، وہاں پانی میں لمحہ بھر کو بلبلے اٹھتے اور فوراً بجھ جاتی تھیں، جیسے کسی نے ابلتے پانی میں دہکتے انگارے ڈال دیے ہوں۔

لیکن یہ خوفناک منظر زیادہ دیر تک محدود نہیں رہا۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ، آسمان کی سرخی مزید گہری ہوتی گئی اور اس کی گہرائیوں سے لپکتی آگ زیادہ وحشی ہو گئی۔ اب وہ محض چنگاریاں نہیں تھیں بلکہ دہکتے شعلے تھے جو بجلی کی کڑک کے ساتھ زمین پر برستے۔ ہر شعلہ جب گرتا تو اردگرد کی ہوا تپ کر جلنے لگتی، بارش کی ٹھنڈک ایک دم سے بھاپ میں بدل جاتی اور فضا میں جلتے گوشت کی بو جیسی مہک اٹھتی۔

وہ پانچوں کسی نہ کسی طرح گاڑیوں تک پہنچنے میں کامیاب تو ہوگئے مگر اس دوران کئی دہکتے انگارے گاڑیوں پر آن گرے تھے۔ ان کے لوہے کے ڈھانچے پر سیاہ دھبے اور جلے ہوئے نشانات ابھر آئے، جیسے گاڑیاں کسی بھٹی میں تپائی گئی ہوں۔ وہ جلدی سے انہیں جانوروں والے برآمدے میں لے گئے، مگر وہاں پہنچنے تک آسمان گویا عذاب کا دہانہ بن چکا تھا۔

اب بارش محض پانی کی نہیں رہی تھی۔ ہر قطرے کے ساتھ دہکتے انگارے بھی زمین کو جلا رہے تھے۔ گرتے ہی اردگرد کی مٹی شعلوں میں لپٹ جاتی اور تیز بھاپ کے بادل اٹھ کر آنکھوں کو جلانے لگتے۔ وہ سب گاڑیوں سے باہر نکل کر واپس پلٹنے کا سوچ ہی رہے تھے کہ اچانک آگ کی برسات اس شدت سے شروع ہوئی کہ پورا صحن جلتے شعلوں کا قبرستان بن گیا۔

اب ان کے قدم آگے بڑھنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔ وہ برآمدے کے تنگ حصے میں گھِر گئے، جہاں باہر نکلنے کا ہر راستہ دہکتی ہوئی بارش سے بند ہو چکا تھا۔ فضا میں صرف ایک ہی آواز تھی… بارش کی ٹپ ٹپ اور آگ کے بھڑکنے کی ہولناک سرسراہٹ، جو ہر دل پر موت کی دستک دے رہی تھی۔

لاحول ولاقوۃ…” بزرگ کی گھبرائی ہوئی آواز برآمدے کی خاموش فضا میں بجلی کی کڑک کی طرح گونجی۔”

ان کے کانپتے ہونٹ اور لرزتی آواز نے سب کو اور زیادہ دہشت میں ڈال دیا۔
زافیر کے چہرے پر بھی پریشانی کی گہری لکیریں ابھر آئیں۔ وہ بار بار آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ سرخ پڑتا آسمان پہلے ہی کسی غیر متوقع آفت کی خبر دے رہا تھا مگر یہ کہ بارش کے ساتھ آگ بھی برسے گی، اس کا تصور تک اس کے وہم و گمان میں نہیں تھا۔

،بزرگ نے کپکپاتی آواز میں کہا
“میں آپنڑی زندگی اِچ ایہو جئی آفت اج تک نی تکی۔”

ان کے اردگرد کھڑے نوجوانوں کے چہروں پر بھی دہشت اور بے بسی کی ملی جلی کیفیت صاف جھلک رہی تھی۔ کسی کے لب خاموش دعا کے لیے ہل رہے تھے، کوئی کانپتی آنکھوں سے آسمان کو گھور رہا تھا اور کوئی صحن میں جلتی زمین اور پہاڑوں پر آگ میں لپٹتے درختوں کو ایسے دیکھ رہا تھا جیسے دوزخ کے دروازے کھل گئے ہوں۔

آسمان سے اترنے والی آگ مسلسل پانی کے طوفان میں دب تو جاتی مگر ہر بار جب کوئی دہکتا شعلہ گرتا تو زمین پر ایک کالی سیاہی کی لکیریں چھوڑ جاتا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے پورا صحن اور آس پاس کی زمین پگھلے ہوئے کوئلے کی پرت سے ڈھکتی جارہی ہو۔

زافیر کے دل میں خوف کے ساتھ ساتھ ہزاروں سوال سر اٹھانے لگے۔ یہ کیا ہورہا ہے؟ کیا یہ فطرت کی کوئی نئی انتہا ہے یا قدرت کا قہر؟ یہ محض ایک موسمی تغیر ہے یا انسانیت کے خاتمے کی پہلی ضرب؟
اس کی آنکھوں میں الجھن اور پیشانی پر پسینے کے قطرے صاف دکھا رہے تھے کہ اس کے پاس فی الحال کسی سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔

°°°°°°°°°°

ندیم جو اس وقت ایک بھیانک درندے کے روپ میں تھا۔ ہاتھوں اور پیروں کے بل جنگل کی کیچڑ بھری زمین پر سرپٹ دوڑ رہا تھا۔ اس کے قدموں کی رفتار اتنی تیز تھی کہ جھاڑیاں اور گیلی مٹی اس کے پیچھے اچھل کر بارش میں گھلتی جارہی تھیں۔ موسلا دھار بارش نے اس کے وجود سے خون کا آخری قطرہ بھی دھو ڈالا تھا، لیکن اس کے بالوں اور جسم پر بہتے پانی کے ساتھ ساتھ اب ایک اور عذاب نازل ہورہا تھا۔

اچانک آسمان چمکا اور ایک دہکتا شعلہ بارش کو چیرتا ہوا اس کی کمر پر آ گرا۔ ایک لمحے کو اس کی کھال جلنے کی بدبو جنگل کی ہوا میں پھیل گئی۔ وہ کسمسا اٹھا، بدن تڑپ گیا اور اس کے منہ سے ایک کھردری کراہ پھوٹ نکلی۔ لیکن یہ تکلیف اس کے قدموں کو روکنے کے بجائے اور زیادہ تیز کر گئی۔

اب بارش کے ساتھ آگ بھی ایسے برس رہی تھی جیسے آسمان سے دہکتے ہوئے اولے گر رہے ہوں۔ پہلے یہ چنگاریاں اکا دکا گرتی رہیں لیکن اب ان کا طوفان سا بن گیا تھا۔ بارش کی ہر بوند کے ساتھ کہیں آگ کا انگارہ زمین کو جلا رہا تھا۔ جنگل کے کئی درخت دہکنے لگے تھے، ان کی شاخوں پر آگ بھڑک کر روشنی کی لپٹیں چھوڑ رہی تھی جو سیاہی میں ڈوبے مناظر کو مزید خوفناک بنا رہی تھیں۔

ندیم پر مزید دو تین شعلے آن گرے۔ اس کے بدن سے دھواں اٹھنے لگا اور اس کے گلے سے ایک دل دہلا دینے والی چیخ نکلی جو جنگل کے سناٹے میں گونجتی ہوئی فضا کو لرزا گئی۔ اس چیخ میں درد بھی تھا اور وحشت بھی۔
لیکن وہ رکنے والا نہیں تھا۔ اس کی آنکھوں میں وحشیانہ جنون اور زندہ رہنے کی ہولناک تڑپ جھلک رہی تھی۔ ہر قدم کے ساتھ اس کی رفتار مزید بڑھتی گئی۔ بارش اور آگ کے اس قیامت خیز طوفان کے بیچ، وہ تہہ خانے کی سمت اندھا دھند دوڑ رہا تھا۔ وہ اپنی منزل کے قریب پہنچ چکا تھا اور کسی قیمت پر پیچھے نہیں ہٹنا چاہتا تھا… چاہے آسمان ہی آگ کے سمندر میں کیوں نہ بدل جائے۔

ہر گزرتے لمحے کے ساتھ آسمان سے آگ پہلے چنگاریوں کی صورت میں برس رہی تھی مگر اب وہ روانی سے ایسے برسی جیسے کسی نے دہکتے ہوئے انگاروں کے ڈھیر کو اوپر سے الٹ دیا ہو۔ بارش بجھانے کی پوری کوشش کرتی لیکن ہر لمحہ زمین پر کہیں نہ کہیں آگ بھڑک اٹھتی۔ پورا جنگل جلنے اور بجھنے کے ایک ہولناک کھیل کا منظر بن گیا تھا۔

ندیم کی کمر پر بار بار دہکتے شعلے گرتے رہے۔ اس کی کھال جگہ جگہ سے پھٹ گئی تھی، ماس جل کر سیاہ اور گلنے لگا تھا اور کئی حصوں میں ہڈی تک نمایاں ہو گئی تھی۔ تیز بارش کے باوجود جلن ایسی تھی جیسے ہر قطرہ نمک بن کر زخموں پر برس رہا ہو۔ اس کی سانسیں دھونکنی کی طرح پھٹنے لگیں مگر اس کے قدم پھر بھی رکنے کو تیار نہیں تھے۔ وہ دوڑ رہا تھا… ایسے جیسے رکنے کا مطلب موت سے بھی بدتر اذیت ہو۔

آخرکار وہ ہانپتا، کراہتا ہوا کوٹھڑی کے قریب پہنچ گیا۔ برستی آگ نے اس کی طاقت چوس لی تھی مگر اس کی آنکھوں میں اب بھی ایک وحشی جنون دہک رہا تھا۔ اس نے اپنے خون آلود پنجے سے تالے کو پکڑا اور جھٹکے سے کھینچا۔ ایک زور دار آواز کے ساتھ تالہ ٹوٹ کر زمین پر جا گرا۔

وہ دھڑام سے اندر گرا۔ اس وقت اس کا حال دیکھنے والا کوئی بھی انسان کانپ اٹھتا۔ اس کے سر کے آدھے سے زیادہ بال جل کر جھلس چکے تھے، جمی ہوئی کھال سے دھواں اٹھ رہا تھا اور کمر سے گوشت کے لوتھڑے بارش میں بہہ رہے تھے۔ اس نے ایک لمحے کو تڑپتے ہوئے کراہ نکالی اور پھر کسمساتے ہوئے کوٹھڑی میں موجود پرانے کنوئیں کے دہانے کی طرف لپکا۔

وہ لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ کنوئیں میں کود گیا۔ اس کے نوکیلے ناخن پرانی دیواروں میں پیوست ہوتے گئے اور وہ گرنے کے انداز میں نیچے اترا۔ نیچے پہنچتے ہی اس کی ہمت بالکل جواب دے گئی۔ وہ زمین پر گرا، اس کا جلا ہوا جسم پانی میں نیم ڈوبا اور ایک طویل، خوفناک کراہ کے بعد اس کے ہونٹ بند ہوگئے۔

اس لمحے خاموشی چھا گئی… ایسی خاموشی جس میں صرف جلے گوشت کی بو اور برستی آگ کے دہکتے قطرے فضا کو ایک عذاب ناک قبرستان میں بدل رہے تھے۔

°°°°°°°°°°

آبیاروس کے بھیجے گئے بھنور نے پوری شدت اور وحشت کے ساتھ کازمار کی پہلی صف کو ٹکر ماری تھی۔ نیلی آگ کے شعلے فضا میں لپک رہے تھے مگر بھنور کی ٹکر اس قدر زبردست تھی کہ کازمار کے سپاہیوں کی ابتدائی دو قطاریں لرز گئیں۔ کئی سپاہی بھنور کی بے رحم گرفت میں آکر بلند فضا میں اچھل گئے، ان کے جسم ایسے گھومنے لگے جیسے طوفان کے ہاتھوں معلق پتّے۔ کچھ کے شعلے پانی کی بے پناہ یلغار کے سامنے بجھ گئے اور وہ خود بھی جلتے کوئلوں کی مانند ٹوٹ پھوٹ کر زمین پر بکھر گئے۔

کازمار کے سپاہی، اپنی تمام ہمت مجتمع کیے، مسلسل بھنور پر نیلی آگ کی بارش کر رہے تھے۔ وہ آگ جس کی تپش پتھر کو پگھلا سکتی تھی اور جس کا لمس مٹی کو شیشے میں بدل دینے کی طاقت رکھتا تھا۔ مگر پھر بھی، پانی کا بے مہار طوفان ان پر غالب رہا۔

کازمار خود، آگ کا فرمانروا، اپنے دونوں ہاتھوں کو بھڑکتے ہوئے الاؤ کی طرح پھیلائے بھنور کے بلند، گردش کرتے حصے پر آگ برسا رہا تھا۔ جہاں آگ پانی سے ٹکراتی، وہاں سے ایسی شدید بھاپ اٹھتی جو لمحوں میں فضا کو سفید دھند میں ڈھانپ دیتی۔ بھاپ کی وہ لہر جیسے آسمان اور زمین کے بیچ ایک پردہ کھینچ رہی ہو۔

اب بھنور اپنے ہی گرد جنونی انداز میں گردش کرتا ہوا کازمار کے لاکھوں کے لشکر کے اطراف گھومنے لگا۔ اس کی رفتار لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہی تھی، یہاں تک کہ اس کا شور زمین اور آسمان کو ہلا دینے لگا۔ اچانک وہ ایک سمت جھکا اور پوری قوت سے کازمار کی ایک صف سے ٹکرایا۔ صف پر صف چیرتا، وہ سینکڑوں سپاہیوں کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہوا گزر گیا۔ فضا چیخوں، پانی کی گڑگڑاہٹ اور جلتے جسموں کی مہیب آوازوں سے گونج اٹھی۔

کازمار کے سپاہی فوراً اپنی نگاہیں اور نیلی آگ کے شعلے بھنور کی نئی جگہ کی طرف موڑنے لگے۔ مگر بھنور کا وجود اب بدلا ہوا تھا۔ اس کے اطراف سے ابلتے ہوئے بھاپ کے بادل اٹھ رہے تھے اور اس کا حجم لمحہ بہ لمحہ سکڑتا جارہا تھا۔ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ یہ کمزور پڑ رہا ہے یا اپنے اندر طاقت سمیٹ رہا ہے۔
اچانک وہ دوبارہ واپسی کے راستے پر لپکا۔ اپنے گرد گھومتے ہوئے درجنوں سپاہیوں کو نگل کر، ایک بار پھر لشکر کے کناروں کو چیرتا باہر نکل گیا۔ مگر اس بار اس کی گردش میں ایک نئی چالاکی تھی۔ وہ لشکر کے گرد گول دائرے میں گھومتا ہوا آہستہ آہستہ کازمار کے سامنے آنے لگا۔

پھر ایک دھماکے دار جھٹکے کے ساتھ، وہ فاصلے پر جا رکا اور لمحے بھر کو اپنی سمت بدلی۔ اب وہ سیدھا کازمار کی طرف بڑھ رہا تھا۔
کازمار نے یہ دیکھ کر دونوں ہاتھ جھکا لیے، اس کے ہاتھوں سے نکلنے والے شعلوں کی لہر اچانک تھم گئی۔ وہ اپنی آنکھیں بند کر کے چند لمحے کے لیے آگے کی طرف جھک گیا۔ جیسے اپنی تمام توانائی کسی ایک نقطے پر مرکوز کر رہا ہو۔

بھنور کی رفتار اب خوفناک حد تک بڑھ چکی تھی… ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ سے بھی زائد۔ وہ ایک بے قابو دیو کی مانند ہوا کو چیرتا ہوا لپک رہا تھا اور اگلے ہی لمحے وہ کازمار کے وجود سے ٹکرانے کو تیار تھا۔

یکدم کازمار دہاڑتے ہوئے سیدھا کھڑا ہوگیا، دونوں بازو پوری قوت سے پھیلا دیے۔ اس کے سینے سے آگ کا ایک طوفانی سیلاب اُمڈا اور قریب آتے بھنور سے پوری شدت کے ساتھ ٹکرا گیا۔

ٹکراؤ کی آواز ایسی تھی جیسے آسمان پھٹ گیا ہو… کئی میل دور تک گونجنے والی دھماکے دار گڑگڑاہٹ…! لمحہ بھر میں بھنور کا بیشتر حصہ بھاپ میں تبدیل ہوگیا اور باقی پانی اپنی گرفت کھو کر زمین پر جا بکھرا، جیسے سینکڑوں جھیلیں اچانک پھٹ پڑی ہوں۔

زمین پر گرے ہوئے بھنور کا پانی اب آہستہ آہستہ اکٹھا ہو کر ایک مہیب شکل اختیار کر رہا تھا۔ وہ ایک سیلابی لہر بن رہا تھا، ایسی بلند اور وحشی لہر جیسے سمندر نے خود کو آسمان کی طرف اچھال دیا ہو۔

کازمار کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے بےچینی ابھری۔ وہ جان چکا تھا کہ اس کا موجودہ حربہ پانی کے سیلاب کے سامنے کام نہیں آئے گا اور اب یہ سیلاب اس کے لشکر کو بہا لے جانے کے لیے تیار ہے۔

،وہ غرّا کر بولا
“!…گھیراؤ”
اتنا کہتے ہی وہ تیزی سے الٹے قدموں پیچھے ہٹنے لگا، اس مقام تک پہنچنے کی کوشش میں جہاں پانی کی بلا خیز لہر اس تک نہ پہنچ سکے۔ اس کے سپاہی گھبراہٹ میں اسے راستہ دینے کے لیے ایک طرف ہورہے تھے پھر اس کے سامنے ڈھال بنتے جارہے تھے۔ ان کا دائرہ ٹوٹ کر لمبائی میں پھیلنے لگا لیکن وقت ان کے پاس نہایت کم رہ گیا تھا۔ ہر لمحہ ان پر بھاری پڑ رہا تھا اور پانی کی بلند و بالا دیوار ایک جان لیوا چڑھائی کی طرح ان کی طرف بڑھ رہی تھی۔

بکھرا ہوا پانی جیسے ہی اکٹھا ہوا تو اچانک ایک دیو ہیکل سیلابی لہر کی شکل اختیار کر گیا اور پوری قوت سے کازمار کی فوج پر ٹوٹ پڑا۔ آگ کے سپاہی اپنی پوری طاقت سے شعلے برساتے ہوئے صفیں پھیلا رہے تھے مگر پانی کی بلند و بالا دیوار کسی آسمانی آفت کی طرح آگے بڑھی اور یکایک لشکر کی پہلی صفوں پر جاگری۔

وہ منظر ایسا تھا گویا کسی عظیم ڈیم کا بند یکدم ٹوٹ گیا ہو۔ سیکڑوں آتشیں سپاہی پانی کی زد میں آتے ہی بجھ کر سیاہ کوئلوں میں ڈھل گئے اور پھر بہتے ہوئے ریزہ ریزہ ہو کر بکھر گئے۔ زمین دہاڑتی لہروں سے لرز رہی تھی اور فضا میں جلتے وجودوں کی کڑک اور پانی کی گرج ایک ہولناک سِمفَنی کی طرح گونج رہی تھی۔

پہلے ہی حملے میں پانی نے پورا میدان اپنے قابو میں لے لیا تھا۔ سپاہیوں کے وجود اور ہاتھوں سے اٹھتے شعلے مسلسل پانی کو بھاپ میں بدل رہے تھے، فضا دھوئیں اور بھاپ کے طوفان سے ڈھک گئی تھی مگر اس سب کے باوجود پانی اپنی شکل سمیٹ کر پلٹ رہا تھا۔ یہ کوئی عام پانی نہیں تھا کہ ختم ہوجائے، یہ آبیاروس کا ہتھیار تھا، اس کا سب سے مہلک ہتھیار جسے روکنا تقریباً ناممکن دکھائی دیتا تھا۔ یہ اس کا پہلا وار تھا۔ اگر وہ اس میں فیصلہ کن کامیابی حاصل کر لیتا تو اس کے میدان میں قدم رکھنے سے پہلے ہی جنگ کا پلڑا اس کے حق میں جھک جاتا۔ لیکن اگر یہاں ناکام ہوا تو فتح ایک خواب ہی بن کر رہ جاتی۔

اب تک کازمار کے ہزاروں سپاہی بہہ کر نیست و نابود ہوچکے تھے مگر اس کے پاس اب بھی لاکھوں کی فوج باقی کھڑی تھی۔ دوسری طرف آبیاروس کے اصل چالیس ہزار سپاہی ہنوز محفوظ اور تازہ دم کھڑے تھے اور ان کی آنکھوں میں وہ بےتابی جھلک رہی تھی جو آخری، کاری اور فیصلہ کن ضرب لگانے سے ذرا پہلے فوج میں ابلتی ہے۔

°°°°°°°°°°

زافیر برآمدے میں ہی بزرگ کے ساتھ چارپائی پر بیٹھا تھا۔ بزرگ کے تینوں جوان پوتے قریب ہی دوسری چارپائیوں پر بیٹھے تھے۔ زافیر کے گارڈ بار بار اپنی جگہ بدل رہے تھے… کبھی بےچینی سے برآمدے میں ٹہلنے لگ جاتے اور کبھی گھبراہٹ کے مارے دوبارہ آ کر چارپائی پر بیٹھ جاتے۔ ان کے چہروں پر گھبراہٹ سے پسینے کی باریک بوندیں چمک رہی تھیں، حالانکہ موسم ٹھنڈا تھا۔ یہ پسینہ خوف اور اضطراب کی نشانی تھا۔

موسم کی صورتحال لمحہ بہ لمحہ بھیانک ہوتی جارہی تھی۔ آسمان پر آگ اور پانی کی جنگ جاری تھی۔ کبھی بارش حد سے زیادہ تیز ہو جاتی اور آگ کی چنگاریاں کم پڑ جاتیں اور کبھی بارش بالکل تھم جاتی تو یکدم دہکتے شعلوں جیسے آگ کے گولے آسمان سے برسنے لگتے۔ ان کے زمین پر گرتے ہی پگھلے ہوئے لوہے جیسی جلن دار بو فضا میں پھیل جاتی۔

پکی چھت کی وجہ سے یہ کوٹھی وقتی طور پر محفوظ تھی لیکن ماحول کی غیر متوازن اور غیر فطری کیفیت سب کے دل دہلا رہی تھی۔ ہر شخص کے دل میں یہ وسوسہ تھا کہ یہ چھت کب تک ان کی حفاظت کرے گی؟

گھر کے دوسری سمت کھلنے والے دروازے پر خواتین کھڑی برستی آگ کو دیکھ رہی تھیں۔ ان کے چہروں پر وحشت اور گھبراہٹ واضح تھی۔ وہ کبھی ایک دوسرے کو دیکھتیں، کبھی آسمان کو۔ ہر کسی کی زبان پر استغفار جاری تھا اور عذاب سے نجات کے لیے دعاؤں کے الفاظ کانپتے ہونٹوں سے نکل رہے تھے۔ ان کی لرزتی ہوئی آوازیں بارش اور آگ کے شور میں مل کر ایک اور ہیبت ناک فضا پیدا کر رہی تھیں۔

اچانک آسمان سے دہکتے ہوئے شعلوں کے بڑے بڑے گولے برسنے لگے۔ ان کی سرخی اور دہکاؤ اس قدر ہولناک تھا کہ لگتا تھا جیسے سورج کے ٹکڑے زمین پر برس رہے ہوں۔ ان میں سے ایک گولہ کان پھاڑ دینے والے دھماکے کے ساتھ گھر کے قریب واقع دوسری کوٹھی کی چھت پر آن گرا۔ لمحے بھر میں چھت شعلوں کی لپیٹ میں آ گئی۔ دہکتے انگارے چھت سے ٹوٹ ٹوٹ کر نیچے گرنے لگے اور پورا گھر آگ کے سمندر میں ڈوب گیا۔

چیخوں کا ایک طوفان فضا میں گونج اٹھا۔ عورتوں کی ہچکیاں، بچوں کے رونے کی دل دہلا دینے والی آوازیں اور جلتے گھر کی کڑکڑاہٹ نے ماحول کو جہنم کا نقشہ بنا دیا۔ کئی خواتین دہشت کے مارے زمین پر گر پڑیں، کچھ پاگلوں کی طرح چیختی چلاتی باہر کی طرف بھاگنے لگیں۔ فضیلت لرزتے ہوئے قدموں کے ساتھ ہال سے باہر نکلی۔ اس کے چہرے پر خوف کی سفیدی چھائی ہوئی تھی اور زبان لڑکھڑا رہی تھی۔

زافیر اور گارڈز جو برآمدے میں بیٹھے تھے، دھماکے کی گرج اور عورتوں کی چیخیں سن کر فوراً چونک اٹھے۔ ان کے دلوں میں ایک انجانی وحشت دوڑ گئی۔ وہ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ یہ قیامت کہاں ٹوٹ پڑی ہے۔

،فضیلت ہانپتی کانپتی بزرگ کے قریب پہنچی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور آواز کپکپا رہی تھی
“!وہ… وہ… ابا جی… پھوپھو کے گھر پر… آگ کا گولہ گِرا ہے… سب جل رہا ہے”

یہ الفاظ سنتے ہی بزرگ کے قدم جیسے زمین میں دھنس گئے۔ اس کے لب کانپنے لگے، آنکھیں پتھرا گئیں۔ پھر ایک دم جیسے سارا حوصلہ جواب دے گیا۔ دل دہلا دینے والی گھبراہٹ کے ساتھ وہ لڑکھڑائے اور چارپائی پر ڈھے گئے۔ برآمدے میں موجود سبھی افراد پر سکتہ طاری ہو گیا۔ باہر جلتے گھر سے بلند ہوتے شعلے اور اندر موجود بے بسی نے سب کو ایسے گھیر لیا جیسے قیامت کے دہانے پر کھڑے ہوں۔

،زافیر نے جھٹکے سے بزرگ کو تھام لیا اور تیزی سے سہارا دیتے ہوئے بولا
“!بابا جی… آپ گھبرائیں مت… ہم جا کر دیکھتے ہیں”
:یہ کہتے ہی وہ اچانک فضیلت کی طرف مڑا، آواز میں جلدی اور سختی دونوں شامل تھیں
“!…باجی…! چار پانچ کمبل لے کر آؤ… فوراً”

بزرگ کے ہونٹ کپکپا رہے تھے مگر زبان جیسے بند ہو گئی تھی۔ وہ بس آنکھیں پھیلا کر سب کو دیکھے جا رہے تھے۔ ان کے تینوں جوان بیٹے تیزی سے حرکت میں آ گئے۔ ایک ان کے پہلو میں بیٹھ کر ہلکے ہاتھوں سے بائیں جانب سینہ سہلانے لگا، دوسرا ان کے ہاتھ کی ہتھیلی رگڑنے لگا تاکہ خون کی روانی برقرار رہے۔ تیسرا نوجوان بے بسی اور گھبراہٹ میں بار بار ان کے چہرے کو سہلانے لگا جیسے سانس ٹوٹنے کا اندیشہ ہو۔

چند لمحے ہی گزرے تھے کہ فضیلت ہانپتی ہوئی کچھ کمبل اٹھا لائی۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور سانس اٹکی ہوئی تھی۔ اس نے لرزتے قدموں سے آگے بڑھ کر کمبل زافیر کے سامنے ڈال دیے۔

،زافیر نے گہری سانس لے کر گارڈز کی طرف دیکھا اور حکم دیا
“!…بندوقیں یہیں رکھ دو…! میرے ساتھ چلو”

یہ کہہ کر اس نے ایک کمبل تیزی سے اپنے سر سے گزار کر وجود پر لپیٹا اور دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ اس کی رفتار میں ایسی جلدی تھی جیسے لمحہ بھر کی تاخیر سب کچھ تباہ کر دے گی۔

باہر نکلتے ہی لمحہ بھر کو آگ برسنے کا طوفان کچھ مدھم ہوا تو جانوروں والے برآمدے میں پناہ لیے کھڑے پانچوں افراد بھی موقع دیکھ کر دوڑ پڑے۔ وہ سب خوف اور جلدی کے مارے زمین پر گرتے پڑتے صحن کی طرف بھاگے۔

لیکن مصیبت نے انہیں چھوڑا نہیں۔ ایک شخص کے کندھے پر دہکتے انگارے کے برابر آگ کا گولہ آ گرا۔ وہ وحشت ناک چیخ کے ساتھ کراہتا ہوا بھاگا، گویا کندھے کی ہڈی تک جل گئی ہو۔ اسی دوران زافیر کے ڈرائیور کے سر پر بھی ایک چھوٹا آگ کا گولہ جا پڑا۔ اس نے جلتی ہوئی کھوپڑی کی طرح سر جھٹک کر چیخ ماری اور دونوں ہاتھوں سے اپنے بال جھاڑنے لگا۔ اس کی جلد اور بال جلنے کی بو اس قدر تیز تھی جیسے گوشت آگ میں جلایا جا رہا ہو۔

زافیر تیزی سے کمبل اوڑھے باہر نکل چکا تھا اور اس کے باقی گارڈز بھی اس کے پیچھے پیچھے لپکے۔ سبھی کے قدم لڑکھڑاتے، بھاگنے کے ساتھ پھسلتے جاتے تھے۔ وہ چاردیواری کے پچھلے چھوٹے گیٹ سے نکل کر اندھا دھند دوڑنے لگے۔

گاؤں کے لوگ دروازوں اور کھڑکیوں کے پیچھے کھڑے جلتے مکان کو دیکھ رہے تھے۔ آنکھوں میں دہشت اور دلوں میں خوف ایسا تھا کہ کوئی آگے بڑھنے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا۔ بس چیخوں اور سسکیوں کی آوازیں بارش کی گرج اور آگ کے دھماکوں کے ساتھ مل کر ایک دہلا دینے والا شور پیدا کر رہی تھیں۔

زافیر اور گارڈز کے کمبل بار بار دہکتے گولوں سے پھٹنے لگتے، کچھ جگہوں پر کمبل میں سوراخ بن رہے تھے لیکن پھر تیز بارش فوراً ہی آگ بجھا دیتی۔ یہ عارضی ڈھال انہیں بچا رہی تھی مگر ہر لمحہ ایسا لگ رہا تھا جیسے اگلا شعلہ ان کے وجود کو جلا دے گا۔

جب وہ مکان کے قریب پہنچے تو منظر ناقابلِ بیان تھا۔ دروازہ آگ میں لپٹ کر دہک رہا تھا۔ لکڑی جلنے کی بو اور دھواں حد درجہ شدید تھا۔ اندر سے عورتوں اور بچوں کی چیخیں سنائی دے رہی تھیں جو اس شور کے بیچ کان پھاڑ دینے والی لگ رہی تھیں۔

اوپری منزل پہلے ہی شعلوں میں جل کر ڈھے چکی تھی۔ آگ کا طوفان ایسا بے قابو تھا کہ بارش کا پانی بھی اسے بجھانے میں ناکام نظر آ رہا تھا۔ گھر ایک دہکتے ہوئے جہنم کا منظر پیش کر رہا تھا اور زافیر کے قدم لمحہ بھر کو بوکھلا گئے۔ ایک پل کو سب کے دلوں میں یہ خیال لپکا کہ شاید اب اندر موجود کوئی زندہ نہیں بچا ہوگا… لیکن اندر سے اب بھی چیخیں آرہی تھیں اور یہی چیخیں انہیں آگ کی طرف کھینچ رہی تھیں۔

زافیر جھٹکے سے آگے لپکا اور پوری قوت سے اپنے کندھے کی ٹکر جلتے دروازے پر ماری۔ ایک دھماکے دار آواز کے ساتھ دروازہ اندر کو گرا اور شعلوں کا طوفان باہر کو لپکا۔ اندر کا منظر لرزا دینے والا تھا… صوفے، پردے اور لکڑی کا ہر ٹکڑا دہکتے شعلوں میں لپٹا ہوا تھا۔

زافیر کے پیچھے ہی گارڈز بھی اندر گھس آئے۔ دھوئیں اور آگ کی تیز لَپٹ کے بیچ سب سے پہلے ان کی نظر ایک کونے میں بیٹھے، کانپتے اور روتے ہوئے پانچ سالہ بچے پر پڑی۔ اس کے رونے کی آواز دہکتے جہنم میں سب کچھ چیر کر کانوں سے ٹکرائی۔ زافیر نے فوراً لپک کر بچے کو اٹھایا اور قریب کھڑے گارڈ کی بانہوں میں دے دیا۔ اس نے بچے کو کمبل میں لپیٹا اور بھاگتے ہوئے باہر نکل گیا تاکہ اسے محفوظ جگہ پہنچا سکے۔

ابھی وہ باہر نکلا ہی تھا کہ بزرگ کے چاروں بیٹے بھی کمبل اوڑھے وہاں پہنچ گئے۔ ان کے چہروں پر گھبراہٹ اور آنکھوں میں خوف کی لرزتی جھلک صاف دکھائی دے رہی تھی۔

اوپری منزل شعلوں کے بوجھ تلے مکمل طور پر تباہ ہوچکی تھی۔ لکڑی کی سیڑھیاں دہکتے انگاروں میں بدل چکی تھیں، وہاں کسی کے زندہ بچنے کا امکان ختم ہوچکا تھا۔ اسی لیے زافیر نے دوسرے کمرے کی سمت دوڑ لگائی جہاں سے ایک نوجوان لڑکی کی دل دہلا دینے والی چیخیں آرہی تھیں۔

کمرے کا دروازہ بھی آگ میں لپٹا ہوا تھا۔ زافیر نے بغیر ایک لمحہ ضائع کیے کندھے کی زور دار ٹھوکر ماری۔ دروازہ جھک کر گرا تو منظر دیکھ کر اس کا سانس رک سا گیا۔ اندر وہ لڑکی مکمل طور پر شعلوں میں لپٹی دیواروں سے ٹکرا رہی تھی، جیسے موت کی تڑپ اس کے جسم سے آگ کی لپٹوں کی صورت نکل رہی ہو۔

زافیر نے جھٹکے سے اپنے کندھوں پر پڑا کمبل اتارا اور لپک کر لڑکی کے گرد لپیٹ دیا۔ شعلے دب گئے اور چیخیں مدھم ہوئیں، مگر وہ جھلس چکی تھی… اتنی بری طرح کہ اس کی کھال جگہ جگہ سے جھڑ کر سیاہ ہو گئی تھی۔ اس کی ہچکیاں اور سسکیاں ہر دیکھنے والے کا دل کاٹ ڈالتی تھیں۔

زافیر نے جھلس چکی لڑکی کو کمبل سمیت اپنے دونوں بازوؤں پر اٹھایا اور تیزی سے باہر کی طرف بڑھا۔ وہ لڑکی اب بھی جلن کی اذیت سے بلک رہی تھی، اس کی چیخیں اور سسکیاں دہکتے گھر کے شور میں بھی دل کو چیرتی جا رہی تھیں۔

،بزرگ کے ایک بیٹے کے قریب پہنچ کر زافیر نے پھولے سانس کے ساتھ کہا
“یہ بچی بری طرح جل گئی ہے… فوراً اسے لے جاؤ… ٹھنڈا پانی بہاؤ اور گیلا کپڑا لپیٹو۔”

نوجوان نے لرزتے ہاتھوں سے اپنا کمبل درست کیا، لڑکی کو بانہوں میں سمیٹا اور گھبراہٹ میں باہر کی طرف دوڑ گیا۔
زافیر اور گارڈز مزید کمروں کی طرف لپکے، ہر دروازہ کھولا، ہر کونے میں جھانکا مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔ اوپری منزل شعلوں کے بوجھ تلے پہلے ہی ڈھ کر راکھ ہو چکی تھی۔ دل دہلا دینے والی حقیقت یہ تھی کہ شاید باقی سب افراد وہیں دب کر ختم ہو گئے تھے۔

اب مزید رکنا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ زافیر اور گارڈز باہر کی طرف لپکے لیکن اچانک آسمان سے برستی آگ کا طوفان اور زیادہ شدید ہو گیا۔ دہکتے گولے زمین کو چیرتے ہوئے ہر طرف گرنے لگے۔ پورا صحن، آس پاس کی زمین اور جلتے گھر کی دیواریں پگھلتے جہنم کا منظر پیش کر رہی تھیں۔

سبھی گارڈ بوکھلائے کھڑے تھے، ان کی آنکھوں میں بے بسی اور خوف صاف جھلک رہا تھا۔ وہ بار بار زافیر کی طرف دیکھ رہے تھے جیسے اس سے کسی معجزے کی توقع ہو، کوئی راستہ، کوئی نجات لیکن زافیر خود ساکت کھڑا تھا۔ اس کی نظریں سرخ آسمان اور دہکتے شعلوں میں الجھی ہوئی تھیں۔

آگ کی بارش اتنی تیز ہو چکی تھی کہ واپسی کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ وہ سب دہکتے گھر اور برستی آگ کے بیچ ایسے پھنس گئے تھے جیسے تقدیر نے انہیں موت کے شکنجے میں جکڑ دیا ہو۔

°°°°°°°°°°

…جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *