ناول: وارث کون

باب سوم: کٹی پتنگ

قسط نمبر 11

مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°

نقیب کے ہاتھ عائشہ کی گردن پر کسی آہنی شکنجے کی طرح کسے ہوئے تھے اور اس کی آنکھوں میں چھپی درندگی اب مکمل طور پر وحشت میں بدل چکی تھی۔ نشے کی طلب جب رگوں میں زہر بن کر دوڑتی ہے تو وہ ہر رشتے کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ نقیب کے منتشر ذہن میں عائشہ اب وہ لڑکی نہیں تھی جس کے لیے وہ کبھی قسمیں کھاتا تھا، بلکہ وہ ایک معاشی بوجھ اور خسارہ تھی جس نے اس کے نشے اور سکون کے درمیان دیوار کھڑی کر دی تھی۔ اسے لگ رہا تھا کہ عائشہ کے حصے کا نوالہ دراصل اس کے نشے کی وہ پڑیا ہے جو اس کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔

​عائشہ کی آنکھیں حلقوں سے باہر ابلنے کو تھیں، چہرہ نیلا پڑ چکا تھا اور زندگی کی آخری ڈور کسی بھی لمحے ٹوٹنے والی تھی۔ اسی عالمِ نزاع میں، جب بصارت دھندلا رہی تھی، اس کے ہاتھ فرش پر تڑپتے ہوئے بیڈ کے نیچے پڑے اس بھاری شیشے کے گلاس سے جا ٹکرائے۔ وہ بقا کی آخری تڑپ تھی۔ اس نے اپنی پوری بکھری ہوئی قوت جمع کی اور وہ گلاس نقیب کے سر پر دے مارا۔ شیشے کے ٹوٹنے کی کرچیوں جیسی آواز کے ساتھ ہی نقیب کا شکنجہ لمحاتی طور پر ڈھیلا پڑا اور وہ کراہتا ہوا پیچھے ہٹا۔

​عائشہ نے فرش پر گرتے ہی لمبا سانس کھینچا۔ اس کا گلا بری طرح چھل چکا تھا اور پھیپھڑے آکسیجن کے لیے تڑپ رہے تھے۔ وہ دوہری ہو کر کھانس رہی تھی، مگر اس کی یہ مہلت مختصر ترین ثابت ہوئی۔
​نقیب نے جب اپنا ہاتھ سر سے ہٹا کر سامنے کیا تو اس کی ہتھیلی اپنے ہی گرم لہو سے تر تھی۔ خون کی اس سرخی نے اس کے غصے کو ایک ایسی آگ میں بدل دیا جس کے سامنے ہر رحم اور ہر پچھتاوا راکھ ہو گیا۔ اس نے دہاڑتے ہوئے قریب پڑا ایک میلا کچیلا کپڑا اٹھایا اور وحشیانہ طاقت کے ساتھ عائشہ کے منہ میں ٹھونس دیا، تاکہ اس کی چیخیں ان دیواروں سے باہر نہ جا سکیں۔

​نقیب اب انسان نہیں رہا تھا، وہ ایک درندہ تھا جو اپنے شکار کو ریزہ ریزہ دیکھنا چاہتا تھا۔ اس نے عائشہ کے نرم پیٹ پر ٹھوکروں کی برسات کر دی۔ ہر ٹھوکر عائشہ کے اندرونی وجود کو پامال کر رہی تھی۔ وہ فرش پر مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی، اس کا جسم جھٹکے کھا رہا تھا، مگر وہ چیخ نہیں سکتی تھی۔ جب بھی وہ اپنا ہاتھ اپنے منہ کی طرح لے جانے کی کوشش کرتی تاکہ وہ کپڑا نکال سکے، نقیب کا وزنی پیر اس کے ہاتھ یا کلائی کو کسی خشک لکڑی کی طرح کچل دیتا۔

​”!تو نے مجھے مارا؟” نقیب کی آواز میں شیطان کی سی گونج تھی۔ “جو اپنے ماں باپ کی نہیں ہوئی، وہ میری سگی کیسے ہو گی؟ تو ہے ہی غلیظ اور بدکردار عورت”

​یہ الفاظ کسی زہریلے خنجر کی طرح عائشہ کے دل کے پار ہو گئے۔ جسم کا درد تو شاید وقت کے ساتھ بھر جاتا، مگر بدکردار کا وہ طعنہ، جو اس شخص نے دیا تھا جس کی خاطر اس نے اپنے گھر اور خاندان کی عزت داؤ پر لگائی تھی، اس کی روح کے پرخچے اڑا گیا۔

​کمرے میں اب صرف نقیب کے ہانپنے اور عائشہ کے جسم پر پڑنے والی ضربوں کی آواز باقی تھی۔ عائشہ کی ناک سے خون کا فوارہ چھوٹا اور منہ میں ٹھونسا ہوا کپڑا اب مکمل طور پر سرخ ہو چکا تھا۔ اس کے اندرونی اعضاء شاید جواب دے چکے تھے۔ اس کے وجود میں وہ توڑ پھوڑ ہو چکی تھی جس کا کوئی ظاہری مرہم نہیں تھا۔

°°°°°°°°°°

شام کی سرخی افق پر کسی تازہ زخم کی طرح پھیل رہی تھی اور سورج غروب ہونے کو تھا۔ فضا میں ایک عجیب سی گھٹن اور بوجھل پن تھا۔ نقیب نے اپنے سر کے زخم کو چھپانے کے لیے ایک میلا سا کپڑا کسی پگڑی کی طرح لپیٹ رکھا تھا۔ وہ اپنی شکستہ بائیک گھسیٹتا ہوا شہر کے ایک کباڑ خانے کے سامنے جا رکا۔

کباڑ خانہ زنگ آلود لوہے، ٹوٹے ہوئے ٹائروں اور پرانے انجنوں کے ڈھیر سے بھرا ہوا تھا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں قیمتی چیزیں کوڑیوں کے بھاؤ بکنے آتی تھیں۔ کباڑیا، جس کی آنکھیں لومڑی کی طرح عیار تھیں، اپنے میلے ہاتھوں سے بائیک کے زنگ آلود پرزوں کو یوں ٹٹول رہا تھا جیسے کسی مردار کا معائنہ کر رہا ہو۔
“اس کی تو نمبر پلیٹ بھی نہیں ہے… اور نہ ہی کوئی کاغذات ہیں۔”

کباڑیے نے اپنی آواز میں مصنوعی تشویش بھرتے ہوئے کہا۔ وہ گھاٹ گھاٹ کا پانی پی چکا تھا اور نقیب کے چہرے کی وحشت، لرزتے ہاتھ اور سر پر بندھی پٹی دیکھ کر اسے ایک لمحے میں اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ کوئی عام سودا نہیں بلکہ ایک نشئی کی تڑپ کا انجام ہے۔

“اگر کاغذات ہوتے تو کیا میں تیرے اس کباڑ خانے میں اپنی شکل دکھاتا؟”

نقیب نے تڑخ کر جواب دیا۔ اس کے لہجے میں اب بھی وہ جھوٹی انا باقی تھی جو اسے کھوکھلا کر رہی تھی۔

“وہ بات تو ٹھیک ہے، لیکن ایسا مال گلے کا ہار بن جاتا ہے۔ پولیس کا رسک الگ، اوپر سے یہ کباڑ کوئی لینے کو تیار نہیں ہوتا۔”

کباڑیے نے نفسیاتی وار جاری رکھا تاکہ نقیب کو مزید گرایا جا سکے۔

“لینا ہے تو لو، ورنہ میں کہیں اور جا رہا ہوں۔”

نقیب نے بائیک کی طرف قدم بڑھائے، مگر اس کے قدموں میں وہ دم نہیں تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس وقت کوئی بھی اسے منہ نہیں لگائے گا۔

،کباڑیا، جو اس سنہری موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتا تھا، فوراً بولا
“اچھا ٹھہر! اتنا تپتا کیوں ہے؟ ٹھیک ہے، میں اس کے صرف تین ہزار دوں گا۔ اس سے ایک روپیہ اوپر نہیں ملے گا۔”

نقیب کی آنکھیں غصے سے پھیل گئیں۔

“تین ہزار؟ تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے؟ اس کے صرف لوہے کی قیمت لگاؤں تو یہ دس ہزار کی ہے، اور تم اسے کوڑیوں کے مول مانگ رہے ہو؟”

دیکھو میاں! یہ بائیک تمہارے لیے سواری ہوگی، میرے لیے یہ صرف ایک مصیبت ہے۔ شکر کرو میں تین ہزار دے رہا ہوں۔”

“اگر یہاں سے خالی ہاتھ پلٹے، تو یاد رکھنا، جب دوبارہ آؤ گے تو میں تین سو بھی نہیں دوں گا۔

،یہ دھمکی نقیب کے سینے میں کسی تیر کی طرح لگی۔ اس نے ایک لمبی آہ بھری
اچھا لاؤ پیسے!” اس نے ہار مانتے ہوئے ہاتھ پھیلا دیا۔”

کباڑیے کے لبوں پر ایک فاتحانہ اور مکروہ مسکراہٹ بکھر گئی۔ اس نے جلدی سے میلے نوٹ نکالے اور نقیب کی ہتھیلی پر رکھ دیے۔ نقیب نے وہ پیسے یوں جیب میں ٹھونسے جیسے کوئی خزانہ مل گیا ہو۔ بائیک، جو اس کا واحد سہارا تھی، اب کباڑیے کے قبضے میں تھی۔

نقیب وہاں سے پیدل ہی چل پڑا۔ شام کا اندھیرا گہرا ہو رہا تھا اور وہ سائے کی طرح گلیوں میں گم ہو رہا تھا۔ اسے نہ تو گھر میں پڑی اس ادھ موئی لڑکی کی فکر تھی اور نہ ہی اپنی اس ذلت کی، جس نے اسے سڑک پر لا کھڑا کیا تھا۔ اس کے ذہن میں صرف ایک ہی منزل تھی، وہ چرس کا ڈیلر، جس کے پاس اس کے سکون کی وہ مصنوعی پڑیا تھی جو اسے چند گھنٹوں کے لیے اس جہنم سے نکال سکتی تھی جس کا معمار وہ خود تھا۔

°°°°°°°°°°

بمبلی گاؤں کی ان کچی اور پلستر زدہ دیواروں کے درمیان اب ایک ایسا ہولناک ناٹک روزانہ کا معمول بن چکا تھا جس کا عنوان اذیت تھا۔ نقیب کا رویہ اب کسی مشینی درندگی میں ڈھل گیا تھا۔ وہ اکثر عائشہ پر وحشیانہ تشدد کرتا، اپنا غصہ اور نشے کی تڑپ اس کے نحیف جسم پر نکالتا اور پھر جب ہوش آتا یا ضرورت پڑتی تو مکر و فریب کی چادر اوڑھ کر معافی مانگ لیتا۔

عائشہ، جو کبھی اپنے گھر کی شہزادی تھی، اب اس مقتل میں ایک ایسی اسیر بن چکی تھی جس کی زنجیریں لوہے کی نہیں بلکہ اس کے اپنے غلط فیصلوں کی بنی ہوئی تھیں۔ وہ جانتی تھی کہ اس نے اپنے ہاتھوں سے واپسی کے تمام پل جلا دیے ہیں۔ اس کے لیے گھر اب ایک ایسا لفظ تھا جس کا تصور بھی اسے لہولہان کر دیتا تھا۔ وہ مار کھاتی، سسکتی اور پھر اسی خاک پر ٹھہر جاتی، کیونکہ اس ویرانے کے باہر اس کے لیے صرف گہری تاریکی تھی۔

نقیب کو اپنی بائیک بیچے ہوئے تین دن ہو چکے تھے اور ان تین دنوں میں گھر کے اندر فاقوں نے ڈیرے ڈال لیے تھے۔ نقیب اپنی نشے کی طلب مٹانے کے لیے باہر بھٹکتا رہا، جبکہ عائشہ بھوک اور کمزوری سے نڈھال دیواروں سے باتیں کرتی رہی۔ رات کے پچھلے پہر جب نقیب گھر لوٹا، تو عائشہ کی حالت دیکھ کر پتھر کا دل بھی پسیج جاتا۔ اس کا چہرہ سوجا ہوا تھا، آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اس کی بے خوابی اور رونے کی گواہی دے رہے تھے، اور اس کا وجود اتنا نحیف ہو چکا تھا جیسے کوئی سوکھا ہوا پتہ ہو۔
،نقیب کے قدموں کی چاپ سنتے ہی وہ ہمت جمع کر کے اس کے سامنے آئی۔ اس کی آواز میں اتنی نقاہت تھی کہ گویا لفظ حلق میں ہی دم توڑ رہے ہوں
“نقیب!۔۔۔ کچھ کھانے کے لیے لائے ہو؟”

نقیب نے اسے دیکھا بھی نہیں، وہ ایک بے حس بت کی طرح بیڈ پر جا بیٹھا۔
“نقیب! میں نے کل سے کچھ نہیں کھایا۔ میرا سر چکرا رہا ہے، بلڈ پریشر لو ہو رہا ہے۔ خدا کے لیے میرے حال پر رحم کرو، کچھ لا دو ورنہ میں مر جاؤں گی۔”

عائشہ اس کے پیروں میں ڈھیر ہو گئی۔

نقیب نے نہایت سرد مہری سے جواب دیا:

“تو مر جاؤ نا، میں کیا کروں؟ میرے پاس کون سا پیسوں کا درخت لگا ہے۔”

عائشہ کی سسکیاں ہچکیوں میں بدل گئیں۔

“نقیب، پلیز ایسا مت کہو۔ میری ہمت جواب دے رہی ہے۔”

“تو پھر اپنے اس امیر باپ کو فون کرو! اسے کہو کہ اپنی بیٹی کی عیاشیوں کے لیے پیسے بھیجے، میں نے تمہارا ٹھیکہ نہیں لے رکھا۔”

نقیب غصے سے دہاڑا۔

یہ جملہ عائشہ کے لیے کسی زہریلے خنجر سے کم نہیں تھا۔ “ابو کو؟” اس نے حیرت اور کرب سے پوچھا۔

“کس منہ سے کال کروں نقیب؟ کیا میں نے اپنے لیے کوئی راستہ چھوڑا ہے؟ کیا میں اس قابل ہوں کہ ان کی آواز بھی سن سکوں؟ میں تو ان کے لیے مر چکی ہوں۔”

“تو پھر یہاں میرے سامنے ڈرامے مت کرو۔ یہاں کوئی فیکٹری نہیں چل رہی۔ چپ چاپ سو جاؤ، ورنہ میرے ہاتھ سے مرو گی۔”

نقیب نے اسے دھمکایا۔

عائشہ نے پھر کچھ کہنا چاہا، مگر نقیب کے اندر کا درندہ بیدار ہو چکا تھا۔ اس نے ایک زوردار لات عائشہ کے پیٹ میں ماری، جس سے وہ دور جا گری۔

“پیچھے ہٹ! میرا دماغ مت خراب کر۔”

عائشہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی، مگر جب نقیب نے دوبارہ اٹھ کر اسے خاموش رہنے کی دھمکی دی، تو اس نے سہم کر اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لیا۔ اسے معلوم تھا کہ اس کی ایک آہ بھی نقیب کو تشدد کا نیا بہانہ فراہم کر دے گی۔
عائشہ اس وقت ایک عجیب نفسیاتی کیفیت میں تھی۔ وہ نقیب سے نفرت کرتی تھی، اس کے وجود سے اسے گھن آتی تھی، مگر وہی نقیب اس کی چھت کا ضامن بھی تھا۔ اسے اس بات کا خوف تھا کہ اگر یہ چھت بھی چھین لی گئی، تو اس بھری دنیا میں اس کا جسم نوچنے والے ہزاروں گدھ بیٹھے ہوں گے۔ وہ ظلم سہہ رہی تھی، بھوک برداشت کر رہی تھی، مگر اس کا مذہبی ذہن اسے خودکشی سے روکتا تھا۔

اسے معلوم تھا کہ اس نے اپنے ماں باپ کی عزت روندی ہے، اور اب یہ دکھ اس کا مقدر ہیں۔
وہ اپنی عاقبت خراب نہیں کرنا چاہتی تھی، اس لیے تمام تر اذیت کے باوجود جینے پر مجبور تھی۔ زبان پر اب نہ کوئی بددعا تھی اور نہ کوئی شکایت، بس ایک خاموش امید تھی کہ شاید کبھی سکون بھری موت اس کا مقدر بن جائے۔
عائشہ اب مظلومیت کے اس مقام پر تھی جہاں اس کی خاموشی بھی عرش کو ہلا دینے والی تھی۔ وہ ایک زندہ لاش بن چکی تھی، جس کا واحد گناہ غلط انتخاب تھا، اور جس کی سزا وہ ہر سانس کے ساتھ بھگت رہی تھی۔

°°°°°°°°°°

وقت گزر رہا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے مزید پندرہ دن گزر گئے۔ نقیب کی درندگی اب کسی لگی لپٹی کے بغیر، اپنے پورے وحشیانہ روپ میں سامنے آ چکی تھی۔ شروعات میں اسے ایک دھڑکا سا رہتا تھا کہ کہیں عائشہ اس کے مظالم سے تنگ آکر بھاگ نہ جائے، مگر اب اس کے دل سے یہ ڈر مٹ چکا تھا۔ اسے یقین ہو گیا تھا کہ عائشہ اب کہیں نہیں جائے گی، وہ واپسی کے سبھی دروازے بند کر چکی ہے اور یہ بے فکری اسے مزید دلیر بنا رہی تھی۔

نقیب کی سوچ اب اس نہج پر پہنچ چکی تھی جہاں اسے عائشہ ایک جیتی جاگتی عورت کے بجائے اپنی ملکیت محسوس ہوتی تھی۔ ایک ایسی شے جسے وہ جب چاہے روند سکتا تھا۔ یہی حوصلہ اسے درندگی کی اس بلند سطح تک لے جا چکا تھا جہاں رحم کا نام و نشان تک نہیں تھا۔
وہ جب بھی گھر سے نکلتا، کمرے کے بھاری لوہے کے کواڑ پر تالا ڈالنا نہ بھولتا۔ یہ تالا اس لیے نہیں تھا کہ اسے عائشہ کے بھاگنے کا ڈر تھا، بلکہ اس کے سیاہ بخت ذہن میں یہ خوف سمایا ہوا تھا کہ عائشہ کسی راہ گیر یا پڑوسی کو اپنی بپتا سنا کر اسے رسوا نہ کر دے۔ جاتے وقت اس کی زبان سے نکلنے والی دھمکیاں کسی زہریلے ناگ کے پھنکار کی طرح ہوتیں، جو عائشہ کے کانوں میں سیسے کی طرح اترتیں۔

عائشہ اب وہ نہیں رہی تھی جو کبھی زندگی سے بھرپور اور خوابوں کی رسیا تھی۔ وہ اب خوف کے ایک ایسے سائے تلے دب چکی تھی جہاں سانس لینا بھی اسے جرم محسوس ہوتا تھا۔ اس کی حالت کسی سہمی ہوئی ہرنی جیسی ہو گئی تھی جو ذرا سی آہٹ پر بھی اپنے حواس کھو بیٹھتی ہے۔

گھر کے باہر کسی پرندے کا پر پھڑپھڑانا ہو یا ہوا کا جھونکا، عائشہ ایک دم سہم کر اپنے وجود کو سمیٹ لیتی، گویا اسے ڈر ہو کہ نقیب ابھی نمودار ہوگا اور اس پر تشدد شروع کر دے گا۔
تنہائی کے ان طویل گھنٹوں میں وہ اب خود سے باتیں کرنے لگی تھی۔ کبھی وہ اپنے بھائیوں کو پکارتی، کبھی اپنے باپ سے معافی مانگتی اور کبھی خود کو دنیا کی بدترین عورت قرار دے کر کوستی۔ یہ خود کلامی اس کے نفسیاتی مریض بننے کی پہلی ٹھوس علامت تھی۔
وہ روتی تھی، مگر اس کا رونا بھی اب ایک فن بن چکا تھا۔ جیسے ہی اس کے حلق سے کوئی سسکی ابھرتی، وہ فوراً اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا منہ ڈھانپ لیتی۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں دیواروں کے بھی کان نہ ہوں اور نقیب تک اس کی آواز پہنچ جائے، جو اسے ڈرامہ قرار دے کر دوبارہ اس کا جسم نیلا کر دے۔

عائشہ اس وقت مظلومیت کی وہ تصویر بن چکی تھی جسے اگر اس کے والدین دیکھ لیتے تو شاید ان کے کلیجے پھٹ جاتے۔ وہ شہزادی جو مخمل کے بچھونوں پر پلتی تھی، آج ایک ایسے کچے کمرے میں خاک چاٹ رہی تھی جہاں اسے اپنی بقا کی بھیک بھی نصیب نہیں تھی۔
یہ عائشہ کی تقدیر کا وہ موڑ تھا جہاں پچھتاوا بھی ایک بوجھ بن چکا تھا۔ وہ اپنے کیے کی سزا پا رہی تھی، مگر یہ سزا اس کے جرم سے کہیں زیادہ سنگین اور طویل ہوتی جا رہی تھی۔

ابار بار اس کے ذہن میں خودکشی کے خیالات آتے، مگر اس کا مذہبی پس منظر اور خدا کا خوف اسے روک لیتا۔ وہ سوچتی کہ اس نے دنیا میں تو خود کو پامال کر ہی لیا ہے، کم از کم آخرت میں تو رسوا نہ ہو۔

وہ اب ایک ایسی لاوارث لڑکی تھی جس کی آہ عرش کو ہلا دینے کی قوت رکھتی تھی، مگر زمین پر اسے سننے والا کوئی نہیں تھا۔ وہ اپنی نادانیوں کا کفارہ اپنی ہر سانس، ہر آنسو اور ہر زخم کے ساتھ ادا کر رہی تھی، اور نقیب اس کی اس خاموشی کو اپنی جیت سمجھ کر مزید وحشی ہوتا جا رہا تھا۔

°°°°°°°°°°

نقیب جب میرج ہال میں داخل ہوا تو اس کے اعصاب نشے کی طلب سے کھنچے ہوئے تھے اور ذہن میں ایک ہی دھن سوار تھی… پیسہ۔
وہ کسی بھی قیمت پر آج اپنی رگوں کی آگ بجھانا چاہتا تھا۔ اس کی نظریں سیدھی مینیجر کے آفس کے اس بند دروازے پر تھیں جہاں اسے ایک بار پھر چند نوٹوں کی امید نظر آ رہی تھی۔

مینیجر اپنے آفس کی ٹھنڈک میں بیٹھا موبائل پر کسی سے محوِ گفتگو تھا کہ نقیب بن پوچھے اندر داخل ہو گیا۔

،مینیجر نے ناگواری سے اسے دیکھا، بات مختصر کی اور فون میز پر پٹختے ہوئے کسی بپھرے ہوئے لہجے میں پوچھا
“ہاں بھئی! اب کیا کام ہے؟”

مجھے پیسے چاہیے،” نقیب نے کسی تمہید کے بغیر، اپنی خستہ حالی اور ڈھٹائی کو زبان دی۔”

“مینیجر کے لبوں پر ایک طنزیہ مسکراہٹ ابھری۔ “تجھے پیسوں کے سوا بھی دنیا میں کچھ یاد رہتا ہے؟ میرے پاس کوئی فالتو رقم نہیں ہے، جا کر اپنا کام کر۔

“،میں یہاں جی جان سے کام کرتا ہوں، میرے حالات ٹھیک نہیں ہیں”

“نقیب نے اپنی آواز میں مصنوعی لجاجت اور چھپی ہوئی دھمکی سمونے کی کوشش کی۔ “مہربانی کریں اور مجھے پیسے دیں۔

“اوئے! میں نے تیرے نشے کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا،” مینیجر غصے سے گرج اٹھا۔ “دفع ہو جا یہاں سے، اس سے پہلے کہ میرا پارہ چڑھ جائے۔”

“…نقیب کی آنکھوں میں غصے کی سرخی لہرائی۔ وہ پیچھے مڑا اور دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے نہایت حقارت سے بڑبڑایا، “حرام خور کہیں کا

نقیب کا خیال تھا کہ اس کی آواز مینیجر کے کانوں تک نہیں پہنچے گی، مگر گالی کی گونج دیواروں سے ٹکرا کر مینیجر کے اعصاب پر لگی۔

“کیا بکواس کی تُو نے؟ گالی دی مجھے؟”
مینیجر کے غصے کی انتہا نہ رہی۔ نقیب ابھی دروازے سے باہر قدم رکھ ہی رہا تھا کہ مینیجر نے اسے ایک زوردار دھکا دیا اور وہ کسی کٹے ہوئے درخت کی طرح لابی کے ماربل پر جا گرا۔
“اس سے پہلے کہ وہ سنبھل پاتا، مینیجر نے اس کے پیٹ میں ایک وحشیانہ لات رسید کی۔ “بے غیرت انسان! ایک تو تجھے کام دیا، اوپر سے بدتمیزی کرتا ہے؟

نقیب درد سے دہرا ہو گیا، مگر اس کے اندر کے جنون نے اسے خاموش نہیں رہنے دیا۔ وہ ایک زخمی درندے کی طرح اٹھا اور مینیجر کی طرف لپکا۔ مگر اس سے پہلے کہ وہ کوئی وار کر پاتا، ایک ویٹر بیچ میں آ گیا اور اسے جھٹکے سے پیچھے دھکیل دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پورا سٹاف تماشائی بننے کے بجائے شکاری بن گیا۔

“دیکھ کیا رہے ہو؟ مارو اس حرام خور کو! اس کی ہمت کیسے ہوئی بدتمیزی کرنے کی؟”
اگلے ہی پل، ویٹرز کا ایک ہجوم نقیب پر ٹوٹ پڑا۔ لاتوں، گھونسوں اور گالیوں کی بوچھاڑ میں نقیب کی چیخیں اور فریادیں دب کر رہ گئیں۔ وہ رو رہا تھا، وہ تڑپ رہا تھا، مگر ان ویٹرز کو بھی آج اپنا غصہ نکالنے کے لیے ایک کمزور شکار مل گیا تھا۔ جب مینیجر کا غصہ کچھ ٹھنڈا ہوا، تو اس نے اشارے سے سب کو پیچھے ہٹایا۔

مینیجر نے نقیب کو کالر سے پکڑا اور کسی کچرے کے ڈھیر کی طرح گھسیٹتے ہوئے بیرونی گیٹ کی طرف لے گیا۔ نقیب، جو اب خون اور آنسوؤں میں لت پت تھا، خاموشی سے ذلت کا یہ گھونٹ بھر رہا تھا۔

،مینیجر نے اسے پارکنگ ایریا کی گرد آلود زمین پر پٹخ دیا
“نکل یہاں سے! اور دوبارہ اپنی منحوس شکل یہاں مت دکھانا۔”

،نقیب کپڑے جھاڑتا ہوا اٹھا، اس کی آستینیں آنسوؤں اور ناک سے بہتی رطوبت سے میلی ہو رہی تھیں۔ اس نے روتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا اور لرزتی آواز میں کہا
“اللہ تم لوگوں کو پوچھے گا۔ میں درویش آدمی ہوں، اللہ ہی میرا بدلہ لے گا۔”

جا جا! بڑا آیا تُو درویش،” مینیجر نے حقارت سے تھوکا اور واپس پلٹ گیا۔”

نقیب ہال سے باہر نکلا تو اس کا وجود درد سے ٹوٹ رہا تھا، مگر اس کے اندر ایک کالا ناگ انگڑائی لے رہا تھا۔ وہ رو رہا تھا، مگر یہ رونا ندامت کا نہیں، بلکہ ناکام انتقام کا تھا۔ طاقتور سے مار کھا کر جب انسان اپنی اوقات بھول جائے، تو وہ اپنا غصہ اس پر نکالتا ہے جو اس سے بھی زیادہ کمزور ہو۔

“یہ سب تیری وجہ سے ہو رہا ہے عائشہ! تجھے نہیں چھوڑوں گا میں۔”
نقیب کے یہ الفاظ اس کی پست فطرت کی عکاسی کر رہے تھے۔ اسے وہ ظلم یاد نہیں تھا جو وہ روزانہ عائشہ پر کرتا تھا، مگر اسے میرج ہال میں ہونے والی زیادتی کا بدلہ اپنی اس بیوی سے لینا تھا جو پہلے ہی اس کے تشدد سے ادھ موئی ہو چکی تھی۔

زمانے کا یہی دستور ہے، جب انسان خود کو مظلوم سمجھ کر کسی ظالم کو بددعا دیتا ہے، تو وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس کے اپنے دامن پر کتنے معصوموں کا خون اور آنسو ہیں۔ عرش والا سب دیکھ رہا ہے، اور جب ظلم کی لکیر حد سے تجاوز کرتی ہے، تو بڑے بڑے فرعون مٹی میں ملا دیے جاتے ہیں۔

°°°°°°°°°°

نقیب جب میرج ہال سے ملی ذلت، مار اور تذلیل کی آگ میں جلتا ہوا گھر پہنچا، تو اس کے وجود سے نفرت کی لپٹیں اٹھ رہی تھیں۔ اس کے ذہن میں مینیجر کی ٹھوکریں نہیں، بلکہ عائشہ کا وہ وجود کھٹک رہا تھا جسے وہ اپنی ہر ناکامی کا ذمہ دار سمجھ چکا تھا۔ اس نے ٹھوکر مار کر کمرے کا دروازہ کھولا، تو سامنے کا منظر دیکھ کر اس کے غصے کے الاؤ میں مزید تیزی آ گئی۔
عائشہ، جس کا دنیا میں اب اپنے رب کے سوا کوئی نہیں تھا، ایک کونے میں مصلہ بچھائے سر بسجود تھی۔ وہ دنیا کے دکھوں سے پناہ مانگ کر اپنے خالق کی بارگاہ میں جھکی ہوئی تھی۔ سجدے کے بعد وہ ابھی تشہد کی حالت میں بیٹھی اپنی لرزتی ہوئی پکار اللہ کے حضور پیش ہی کر رہی تھی کہ نقیب کسی بھوکے بھیڑیے کی طرح اس پر جھپٹا۔

نقیب کے اندھے جنون نے نہ تو نماز کی حرمت کا پاس کیا اور نہ ہی جبار و قہار خدا کا خوف اسے لرزا سکا۔ اس نے نہایت بے رحمی سے عائشہ کے بالوں کو اپنی آہنی گرفت میں دبوچا اور ایک ہی جھٹکے سے اسے مصلے سے گھسیٹتا ہوا پیچھے لے گیا۔ عائشہ کے حلق سے درد کی ایک لرزہ خیز چیخ ابھری، مگر اس سے پہلے کہ وہ فریاد کر پاتی، نقیب کا بھاری مکا اس کے نازک چہرے پر آ لگا۔

ظلم کی انتہا یہ تھی کہ اس نے عائشہ کے سر سے وہی سفید دوپٹہ نوچا جو تھوڑی دیر پہلے بندگی کا نشان بنا ہوا تھا، اور اسے وحشیانہ طریقے سے اس کے منہ میں ٹھونس دیا۔ وہ چاہتا تھا کہ عائشہ کی سسکیاں بھی اس کے اپنے ہی وجود میں دم توڑ دیں اور کوئی اس کی آہ سننے والا نہ رہے۔

بڑی پارسا بنی پھرتی ہے!” نقیب غصے سے پھنکارا۔”
“!میری زندگی کو جہنم بنا کر اب مصلے پر بیٹھ کر رب سے میری شکایتیں لگا رہی ہے؟ تیری تو میں روح نکال دوں گا”
وہ اس ادھ موئی لڑکی پر وحشیانہ لاتیں اور مکے برسانے لگا۔ نقیب کے لیے یہ تشدد اب محض غصہ نہیں، بلکہ ایک ایسا محبوب مشغلہ بن چکا تھا جس سے اسے اپنی مردانگی کا جھوٹا احساس ملتا تھا۔ یہ انسانیت کا وہ مقامِ عبرت تھا جہاں ایک انسان درندگی کے تمام لبادے اوڑھ لیتا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ جب معاشرے میں یا کسی رشتے کے حصار میں ظالم کا ہاتھ روکنے والا کوئی دوسرا ہاتھ موجود نہ ہو، تو وہ انسان سے حیوان بننے میں دیر نہیں لگاتا۔ وہ اخلاقیات کی ہر حد، ہر دیوار اور ہر تقدس کو اپنے پیروں تلے روند ڈالتا ہے۔ نقیب اب اسی تاریک کھائی کے آخری سرے پر کھڑا تھا، جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا۔

°°°°°°°°°°

نقیب کی زندگی اب ایک ایسے اندھے کنویں میں گر چکی تھی جہاں سے واپسی کا ہر راستہ بند ہو چکا تھا۔ میرج ہال کی ملازمت کا ختم ہونا محض ایک کام کا چھوٹنا نہیں تھا، بلکہ یہ اس کے ضمیر کی آخری ہچکی تھی جو نشے کے زہر تلے دب کر دم توڑ گئی۔ بے روزگاری کے اژدھے نے جب اسے اپنی لپیٹ میں لیا، تو نشے کی تڑپ نے اسے ایک ایسے درندے میں بدل دیا جس کی فطرت میں اب صرف چڑچڑاپن، غصہ اور انتہا درجے کی سفاکی باقی رہ گئی تھی۔

نشے کی طلب جب رگوں میں زہر بن کر ناچتی، تو نقیب کو اپنی اوقات اور اپنی ذلت یاد آنے لگتی۔ اس آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اسے کسی شکار کی ضرورت ہوتی، اور عائشہ اس کے لیے ایک ایسا کھلونا بن چکی تھی جسے وہ جب چاہتا، جیسے چاہتا، توڑ مروڑ دیتا۔ اب اسے مارنے کے لیے کسی بڑی وجہ یا جھگڑے کی ضرورت نہیں تھی، عائشہ کا سانس لینا، اس کا سامنے آنا، یا محض اس کا موجود ہونا ہی نقیب کے اشتعال کے لیے کافی تھا۔

وہ ظلم کی اس حد پر تھا جہاں اسے عائشہ کی سسکیاں موسیقی اور اس کے آنسو اپنی فتح محسوس ہوتے۔ وہ انسانیت کی تمام حدیں پار کر کے اس نہج پر پہنچ چکا تھا جہاں ایک کمزور عورت پر ہاتھ اٹھانا اس کی روزمرہ کی عادت بن چکا تھا۔

دوسری طرف، عائشہ کی زندگی اب ایک سسکتے ہوئے چراغ کی مانند تھی جس کا تیل ختم ہو چکا ہو۔ مسلسل فاقوں اور نقیب کے بے پناہ تشدد نے اسے ایک جیتی جاگتی عورت سے ہڈیوں کا ایک ایسا ڈھانچہ بنا دیا تھا جس پر اب صرف زرد چمڑی منڈھی ہوئی تھی۔
اس کی آنکھوں کی چمک کہیں گم ہو چکی تھی۔ رنگ ہلدی کی طرح زرد پڑ چکا تھا اور پاؤں بوجھ اٹھانے سے قاصر تھے۔
نقیب کی ہر آہٹ پر اس کا پورا وجود لرز اٹھتا۔ وہ نفسیاتی طور پر اس حد تک ٹوٹ چکی تھی کہ اسے اب اپنے سائے سے بھی ڈر لگنے لگا تھا۔

اس کی بدقسمتی کی انتہا یہ تھی کہ اسے اپنی بیماری میں تڑپنے کے لیے بھی نقیب سے اجازت لینی پڑتی تھی، اور بدلے میں اسے ہمدردی کے دو بول نہیں بلکہ تضحیک اور ٹھوکریں ملتی تھیں۔

°°°°°°°°°°

نقیب کی ہمت اب دم توڑ رہی تھی۔ چار دن کی مسلسل آوارہ گردی، تپتی سڑکیں اور نشے کی تڑپ نے اسے ایک متحرک لاش بنا دیا تھا۔ وہ سلطان میرج ہال کے شیشے کے وزنی دروازے دھکیل کر اندر داخل ہوا تو ہال کی ٹھنڈک اسے اپنی ذلت کا احساس دلانے لگی۔ سامنے ہی آفس کے باہر ایک شخص کرسی جمائے بیٹھا تھا، جس کے سانولے رنگ اور بتیس سالہ وجود میں ایک ایسی ہیبت تھی جو عام ملازموں میں نہیں ہوتی۔

نقیب کو دیکھتے ہی وہ شخص اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کی عقابی نظروں نے نقیب کو سر سے پاؤں تک یوں اسکین کیا جیسے کوئی جوہری کھوٹے سکے کو پرکھتا ہے۔ وہ نقیب کی زرد رنگت اور لرزتے ہاتھوں کو دیکھ کر فوراً بھانپ گیا کہ یہ شخص بھوک کا نہیں، طلب کا مارا ہوا ہے۔

ہاں بھئی! کیا کام ہے؟” اس نے تحمل سے پوچھا، مگر اس کی آواز میں ایک عجیب سا کھردرا پن تھا۔”

وہ۔۔۔ مینیجر صاحب سے ملنا تھا۔” نقیب نے کسی طرح الفاظ مجتمع کیے۔”

“،ی۔۔۔ ی۔۔۔ یہاں کوئی مینیجر نہیں، جو۔۔۔ جو بات کرنی ہے مجھ سے کرو”

اس شخص نے تیکھی نظروں سے اسے گھورتے ہوئے جواب دیا۔ اس کے لہجے میں پیدائشی ہکلاہٹ تھی، مگر اس کے سانس کا اخراج کسی زخمی اژدھے کی پھنکار جیسا تھا، جو سننے والے کے اعصاب پر ہتھوڑے برساتا تھا۔

آپ کون ہیں؟” نقیب نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔”

م۔۔۔ میرا نام عامر ہے، اور میں ی۔۔۔ یہاں کا ہیڈ ویٹر ہوں۔ اب جلدی بتا، کیا کام ہے؟” اس کی آنکھوں کا جلال نقیب کے رہے سہے حوصلے بھی چھین رہا تھا۔”

،نقیب نے خشک لبوں پر زبان پھیری اور گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا

“وہ۔۔۔ مجھے کوئی نوکری چاہیے۔”

،عامر کے لبوں پر ایک طنزیہ اور گہری مسکراہٹ بکھر گئی۔ اس نے ایک بار پھر نقیب کا جائزہ لیا اور ہنس کر بولا

“مجھے تو لگتا ہے کہ تو نے تین دن سے چرس کا ایک کش بھی نہیں لیا۔ حالات اتنے خراب کیسے کر لیے؟”

نقیب ششدر رہ گیا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ ایک اجنبی، جو بظاہر نشئی بھی نہیں لگتا، اس کی اندرونی کیفیت کو کتاب کی طرح پڑھ چکا ہے۔
بس حالات کچھ برے چل رہے ہیں، نوکری ہے نہ پیسے۔” نقیب نے اپنی مظلومیت کا لبادہ اوڑھنے کی کوشش کی۔”

چل کوئی نا۔۔۔ میں ہوں نا! چل ت۔۔۔ ت۔۔۔ تجھے سگریٹ پلاتا ہوں، پھر نوکری کا بھی کچھ سوچتے ہیں۔” عامر نے اطمینان سے کہا اور ہال کے عالی شان اسٹیج کی طرف بڑھ گیا۔”

اسٹیج کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے نقیب کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب عامر نے اپنی جیب سے ماچس کی ڈبیہ نکالی اور اس میں سے چرس کی ایک کالی گولی برآمد کی۔

“کیا تم بھی نشہ کرتے ہو؟ شکل سے تو نہیں لگتا۔” نقیب کے منہ سے بے اختیار نکلا۔

“عامر نے پلٹ کر ایک معنی خیز نظر اس پر ڈالی اور مسکرا کر بولا، “یہی تو میرا فن ہے۔ پیتا ہوں مگر ہوش گم نہیں ہونے دیتا۔

“کب سے پی رہے ہو؟”

بائیس سال سے۔۔۔ جب دس سال کا تھا، تب سے،” عامر کا ٹھوس لہجہ نقیب کو سن کر رہا تھا۔”

بائیس سال سے مسلسل چرس کا عادی ہونے کے باوجود اس کا خود پر اتنا کنٹرول ہونا نقیب کے لیے کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔
عامر نے بڑی مہارت سے دو سگریٹ خالی کیے، ہتھیلی پر تمباکو بچھایا اور پھر ماچس کی تیلی پر لگی چرس کو جلا کر، تمباکو میں جذب کر دی۔ جب وہ سگریٹ بھر کر نقیب کی طرف بڑھایا گیا، تو نقیب کو یوں لگا جیسے کسی نے اسے جہنم کے دہکتے انگاروں سے نکال کر ٹھنڈے چشمے پر بٹھا دیا ہو۔

دونوں ہال کے مرکزی اسٹیج پر سرِعام بیٹھے چرس کے مرغولے اڑا رہے تھے۔ عامر کی بے باکی نے نقیب کو یہ یقین دلا دیا کہ اس میرج ہال کے سیاہ و سفید کا مالک یہی ہکلاتا ہوا شخص ہے۔

اس کے ذہن میں ایک مفاد پرست سوچ نے انگڑائی لی۔ اسے زندگی میں پہلی بار ایک ایسا انسان ملا تھا جس سے وہ مخلصی کا ناٹک کر سکتا تھا۔ اسے اب عائشہ کی بھوک یاد تھی نہ اپنے گھر کی ویرانی، اسے بس یہ نظر آ رہا تھا کہ اگر عامر سے یاری ہو گئی، تو اس کی رگوں کو کبھی نشے کی قلت نہیں ہوگی۔

وہ سگریٹ کے گہرے کش لیتے ہوئے عامر کے سحر میں جکڑا جا رہا تھا۔ عامر کی آنکھوں کا وہ اژدھے جیسا جلال اور اس کا ٹھہراؤ نقیب کے لیے اب ایک نئی پناہ گاہ بن چکا تھا۔

°°°°°°°°°°

…جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *