ناول: وارث کون
باب سوم: کٹی پتنگ
قسط نمبر 12
مصنف: زیاد اصغر زارون
°°°°°°°°°°
نقیب کو سلطان میرج ہال پر کام کرتے ہوئے چار ماہ بیت چکے تھے۔ ان چار مہینوں میں وہ عامر کے سائے کی طرح اس کے ساتھ جڑ گیا تھا۔ فارغ لمحات ہوں یا کام کی بھاگ دوڑ، نقیب عامر کے گرد ایک ایسے طواف میں رہتا جیسے کوئی پیاسا کنویں کے گرد چکر کاٹ رہا ہو۔
اس نے عامر کے سامنے اپنے دل کے سارے ہی داغ دھو ڈالے تھے۔ عائشہ کے ساتھ وہ پہلی ملاقات، وہ رات کی تاریکی میں گھر سے فرار، وہ سونے کے زیورات کی فروخت اور پھر غربت کی چکی میں پستی زندگی۔ نقیب نے سب کچھ ہی عامر کو بتا دیا تھا۔ مگر ایک سیاہ سچ اس نے اب بھی چھپا کر رکھا تھا۔ عائشہ کے جسم پر لگے وہ نیلے نشان اور اس کی ہڈیوں تک اتری ہوئی درندگی۔ وہ جانتا تھا کہ عامر بہن بیٹیوں کے معاملے میں سخت ہے، اس لیے اس نے اپنے اس حیوانی روپ پر مصلحت کی چادر ڈال رکھی تھی۔
عامر کوئی عام نشئی نہیں تھا، وہ ایک ایسی پہیلی تھا جسے سمجھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔ وہ آٹھ سال قبل اپنے بااثر خاندان سے عاق کیا جا چکا تھا، مگر اس کی رگوں میں دوڑتا ہوا خون آج بھی اسے عام ویٹروں سے ممتاز کرتا تھا۔
وہ چرس پینے میں اس قدر نڈر تھا کہ فنکشن کے دوران جب معزز مہمان کھانا کھا رہے ہوتے، عامر وہیں کھڑے کھڑے کش لگا رہا ہوتا۔
،اگر کوئی اعتراض کرتا تو اس کا جواب ایک کٹیلی گالی ہوتی
“تیرے باپ کے پیسوں کی نہیں پی رہا، اپنا کام کر۔”
میرج ہال کے مالکان اپنی بدتمیزی کی وجہ سے بدنام تھے، کوئی ملازم وہاں ٹکتا نہیں تھا۔ عامر ان کے پانچ سالہ رازوں کا امین تھا، اس لیے وہ اس کے ہر ناجائز کام کی پشت پناہی کرتے تھے۔ تحصیل پھالیہ میں ان کا اثر و رسوخ عامر کی ڈھال بن چکا تھا۔
وہ عورتوں کے معاملے میں حد درجہ پاکیزہ تھا۔ ہزاروں شادیاں دیکھیں، سینکڑوں خوبصورت چہرے دیکھے، مگر اس کی نظر کبھی کسی کی پاکیزگی کی طرف نہیں اٹھی۔
عامر کی تمام خوبیوں پر ایک ہی خامی بھاری تھی۔ ہاتھ کی صفائی۔ اس کی نظر جس چیز پر پڑ جاتی، وہ بغیر سوچے سمجھے اس کی جیب کا حصہ بن جاتی۔ اسے اس سے غرض نہیں تھی کہ وہ چیز اس کے کام کی ہے یا نہیں۔ وہ اپنے بھائی، باپ یا دوست میں تمیز نہیں کرتا تھا۔ اس کے نزدیک جو چیز اس کی نظر میں آگئی، اس پر اس کا حقِ ملکیت قائم ہو گیا۔
نقیب اب عامر کا صرف شاگرد نہیں رہا تھا، بلکہ وہ اس کا دستِ راست بن چکا تھا۔ وہ عامر کی خدمت گزاری اس طرح کرتا جیسے کوئی عقیدت مند اپنے پیر و مرشد کے سامنے بچھا جاتا ہے۔ اسے عامر میں ایک ایسی پناہ گاہ نظر آتی تھی جہاں اسے نشے کی کمی محسوس نہیں ہوتی تھی۔
نقیب کو لگتا تھا کہ عامر وہ ہستی ہے جو اسے دنیا کے ہر طوفان سے بچا سکتی ہے۔ اسے اس بات کی فکر نہیں تھی کہ وہ کیا چوری کر رہا ہے یا کس حد تک جا رہا ہے، اسے بس اس بات کا اطمینان تھا کہ عامر کا سایہ اس کے سر پر ہے۔
°°°°°°°°°°
سلطان میرج ہال کے وسیع و عریض ہال میں آج غیر معمولی گہما گہمی تھی۔ بڑی بارات، دیر سے آمد اور پھر مہمانوں کا لامتناہی ہجوم۔ اس سب نے عملے کے اعصاب چٹخا دیے تھے۔ نقیب کا کام ختم ہونے تک رات کے دس بج چکے تھے۔
برتنوں سے فارغ ہو کر جب وہ عامر کے پاس پہنچا، تو اس کا جی چاہ رہا تھا کہ وہیں کسی کونے میں ڈھیر ہو جائے، مگر اس کے سینے میں ایک انجانا خوف سر اٹھا رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ گھر میں تالے کے پیچھے قید عائشہ بھوک اور اندھیرے کے رحم و کرم پر ہوگی، مگر اسے اپنی تھکن زیادہ عزیز تھی۔
استاد! آج بہت دیر ہو گئی ہے۔ میرا برا حال ہے، جی چاہتا ہے یہیں کہیں سر چھپا لوں۔ صبح ہوتے ہی نکل جاؤں گا،” نقیب نے عامر کے قریب ہوتے ہوئے لجاجت سے کہا۔”
،عامر، جس کی آنکھوں میں چرس کی لالی اور چہرے پر وہی اژدھے جیسی پھنکار تھی، نے ایک تیکھی نظر نقیب پر ڈالی۔ اس نے دانت پیستے ہوئے ہکلا کر کہا
“ن۔۔۔ نہیں! ت۔۔۔ تیری بیوی گھر اکیلی ہے۔ تُو گھر جا۔ مرد کا اپنی عورت کو تنہا چھوڑنا اچھا نہیں۔”
“…نقیب نے ہچکچاتے ہوئے عذر تراشا، “وہ تو ٹھیک ہے استاد، مگر باہر موسم بھی خراب ہو رہا ہے اور اس وقت اکیلے جانا
“عامر نے کوئی بحث نہ کی، سیدھا اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور بائیک کی چابی نکال کر نقیب کی طرف اچھالی۔ “میری بائیک لے جا، مگر کل شام تک واپس لے آنا۔
،نقیب کی جان تو اسی بات میں اٹکی تھی کہ وہ کل سرگودھا جا رہا تھا۔ اس نے جب چھٹی کا بتایا، تو عامر کا مخلص مگر ضدی لہجہ ایک نئے فیصلے کے ساتھ ابھرا
“یہ تو واقعی مسئلہ ہے، لیکن چل کوئی نا۔۔۔ م۔۔۔ میں خود تجھے چھوڑ آتا ہوں۔”
نقیب کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اسے لگا جیسے کسی نے اسے برہنہ کر دیا ہو۔ عامر کی ضد کے سامنے وہ ہمیشہ بے بس ہو جاتا تھا، مگر آج یہ مخلصی اس کے لیے ایک پھانسی کے پھندے جیسی تھی۔ اس کے ذہن میں بار بار وہ تالا گھوم رہا تھا جو وہ روز عائشہ کو قید کرنے کے لیے دروازے پر لگاتا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اگر عامر نے وہ تالا دیکھ لیا، تو اس اصول پسند ہیڈ ویٹر کا کیا ردِعمل ہوگا؟ کیا وہ اسے اس مریدی سے عاق کر دے گا؟
عامر نے خاموشی سے کھانے کے دو بھاری شاپر اٹھائے۔ وہی گوشت اور نان جو اس نے نقیب کے لیے بچا کر رکھے تھے۔
یاروں کے لیے اتنا تو کرنا ہی پڑتا ہے، چل میں چھوڑ آتا ہوں تجھے،” عامر نے شفقت سے کہا اور ویٹر کو آواز لگا کر دروازے بند کرنے کی تاکید کی۔”
باہر کا موسم واقعی ہولناک ہو رہا تھا۔ آسمان پر سیاہ بادل کسی غضبناک دیو کی طرح منڈلا رہے تھے اور گرد آلود ہوا کے جھونکے درختوں کو بے رحمی سے جھنجھوڑ رہے تھے۔ نقیب بوجھل دل کے ساتھ بائیک پر پیچھے بیٹھا۔
جیسے ہی عامر نے کِک ماری اور بائیک غراتی ہوئی سڑک پر نکلی، نقیب کے اندر وسوسوں کا ایک طوفان برپا ہو گیا۔
“اگر عامر نے عائشہ کو کمرے میں بند کرنے کی وجہ پوچھی تو میں کیا کہوں گا؟”
“اگر عائشہ کے وجود پر لگے تشدد کے نشان عامر کی نظروں میں آ گئے؟”
بائیک اندھیرے کو چیرتی ہوئی بمبلی گاؤں کی طرف بڑھ رہی تھی۔ سڑک کے دونوں طرف کھڑے سفیدی کے درخت کسی تماشائی کی طرح خاموش کھڑے تھے، مگر نقیب کی دھڑکنیں انجن کے شور سے بھی تیز تھیں۔ وہ اس استاد کے پیچھے بیٹھا تھا جو ہزار خامیوں کے باوجود عورت کی عزت کا محافظ بھی تھا۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ آج وہ اپنی ہی بنائی ہوئی کسی دلدل میں دھنسنے والا ہے۔
°°°°°°°°°°
باہر کائنات جیسے غیظ و غضب میں تھی۔ آندھی کے بگولے دھول مٹی کا ایسا غبار اڑا رہے تھے کہ بصارت جواب دے چکی تھی۔ عامر، جو خود کسی زخمی اژدھے کی طرح پھنکارتے ہوئے بائیک سنبھال رہا تھا، اس شدید طوفان میں ہمت ہارنے والا نہیں تھا۔ ابھی وہ بمبلی گاؤں کی حدود کے قریب ہی پہنچے تھے کہ آسمان کا سینہ چاک ہوا اور موسلا دھار بارش نے ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ بارش کی بوندیں نہیں تھیں، بلکہ آسمان سے گرتے ہوئے برفیلی سختی والے کنکر تھے جو چہروں پر پڑتے تو کھال ادھیڑ دینے کا گمان ہوتا۔
جب وہ بھیگتے ہوئے نقیب کے کچے صحن میں پہنچے، تو نقیب کے اندر کا مکار انسان بیدار ہو گیا۔ اسے ڈر تھا کہ عامر دروازے پر تالا دیکھ کر کسی شک میں نہ پڑ جائے، اس لیے بائیک سے اترتے ہی اس نے دفاعی مکر کا سہارا لیا۔
“استاد! تجھے ایک ضروری بات بتانی ہے۔”
نقیب نے تیز بارش میں بھیگتے ہوئے لجاجت سے کہا۔ عامر، جس کا وجود ٹھنڈ سے کانپ رہا تھا، اس کا جی چاہا کہ نقیب کو وہیں دھکا دے دے، مگر وہ ضبط کر گیا۔
تجھے تو پتا ہے نا استاد کہ میں اسے بھگا کر لایا تھا۔ بس وہی پرانی عادت اب بھی اس کے خون میں ہے۔”
“کئی بار بھاگنے کی کوشش کر چکی ہے، اس لیے مجبوراً اسے کمرے میں بند کر کے تالا لگانا پڑتا ہے۔
نقیب نے یہ جھوٹ اتنی صفائی سے بولا جیسے وہ اپنی غیرت کا دفاع کر رہا ہو۔ عامر کے اندر اک آگ سی لگی۔ اسے اس عورت پر ترس بھی آیا اور نقیب کی اس حفاظت پر گھن بھی، مگر وہ پرایا گھر تھا اور عامر ایک مہمان۔
“اس نے صرف اتنا کہا، “یار! جو بھی ہے، تو بہتر جانتا ہوگا۔ اب اندر چل، میں جم رہا ہوں۔
نقیب نے تالا کھولا تو بجلی کے ایک کڑاکے نے پورے کمرے کو روشن کر دیا۔ عامر کی نظریں جیسے ہی اندر پڑیں، اس کا دل پسیج گیا۔ سامنے بیڈ پر عائشہ سِمٹی ہوئی بیٹھی تھی، چہرے پر خوف کی وہ گہری پرچھائیاں تھیں جو صرف برسوں کے تشدد سے جنم لیتی ہیں۔
نقیب نے نظروں سے ہی عائشہ کو گھورا اور اشارتاً حکم دیا کہ وہ خود کو نارمل رکھے۔ عائشہ نے اپنے سوجھے ہوئے گال اور لرزتے ہونٹوں پر ایک زبردستی کی مسکراہٹ سجائی۔ یہ مسکراہٹ کسی ہنسی کا نشان نہیں بلکہ کسی شکستہ روح کا نوحہ تھی۔
آگئے آپ؟” اس نے نحیف آواز میں کہا اور کھڑے ہونے کی کوشش کی۔”
عامر خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ عائشہ کے گال کی سوجھن، آنکھوں کے گرد وہ سیاہ حلقے جو فاقوں اور بے خوابی کی گواہی دے رہے تھے، اور وہ بوسیدہ لباس، سب چیخ چیخ کر بتا رہے تھے کہ یہاں کوئی محبت نہیں بلکہ صرف درندگی بستی ہے۔
“،ہمارے لیے چائے بناؤ، بہت سردی ہے”
نقیب نے بناوٹی پیار سے کہا۔ عائشہ نے اثبات میں سر ہلایا، مگر جیسے ہی وہ مڑی، اس کا ہاتھ خود بخود پیٹ کے نچلے بائیں حصے کی طرف گیا، جہاں نقیب کی ٹھوکروں کا تازہ درد اب بھی ٹیسیں مار رہا تھا۔ وہ کسی طرح اپنے لنگڑاتے قدموں کو چھپاتی ہوئی کچن کی طرف نکل گئی۔
“اس کے جاتے ہی عامر نے تیکھی نظروں سے نقیب کو دیکھا اور پوچھا: “کیا تم اسے مارتے ہو؟
،نقیب کے ماتھے پر پسینہ آ گیا، اس نے اونچی آواز میں صفائی دی
ن۔۔۔ نہیں تو استاد! بس یہ بیمار رہتی ہے اور آج صبح صحن میں گِر گئی تھی۔” یہ جملہ اس نے اتنا بلند پکارا کہ عائشہ تک بھی پہنچ جائے اور وہ گواہی میں کچھ اور نہ بول دے۔”
،عامر کے مزید کچھ بولنے سے پہلے ہی نقیب تیزی سے الماری کی طرف بڑھا اور اپنے دو پرانے کپڑوں کے سوٹ نکال لیے اور ایک عامر کی طرف بڑھا دیا
“یہ پہن لو استاد۔”
،عامر نے خاموشی سے نقیب کے دیے ہوئے کپڑے پکڑ لیے۔ اس کے ذہن میں ایک ہی سوال ہتھوڑے برسا رہا تھا
“یہ عورت یہاں کیوں ہے؟ یہ چھوڑ کر چلی کیوں نہیں جاتی؟”
وہ نادان تھا، وہ نہیں جانتا تھا کہ جب ایک لڑکی گھر کی دہلیز پامال کر کے نکلتی ہے، تو واپسی کے تمام پل خاکستر ہو جاتے ہیں۔ اس کے پیچھے نہ باپ کا سایہ بچتا ہے، نہ بھائیوں کا کندھا۔ عائشہ اب اس قید کی اسیر تھی جہاں تالا صرف دروازے پر نہیں، بلکہ اس کی تقدیر پر بھی لگا ہوا تھا۔ اسے ہر روز اس درندے کی ٹھوکریں سہنی تھیں اور یہیں دم توڑنا تھا، کیونکہ گھر اب اس کے لیے صرف ایک لفظ رہ گیا تھا، ایک ایسی یاد جو اب خوابوں میں بھی اسے ڈرانے لگی تھی۔
°°°°°°°°°°
نقیب نے بڑی ڈھٹائی سے ماچس کی ڈبیہ سے چرس نکالی، جیسے اسے نہ تو اس پاکیزہ رشتے کا پاس تھا اور نہ ہی اپنے مہمان کی مروت کا۔ جب عامر نے اسے ٹوکا، تو نقیب کے لبوں پر ایک مکروہ ہنسی ابھری، جس میں مکر اور جھوٹ کی بو صاف محسوس کی جا سکتی تھی۔
،نقیب حیا کر۔ گھر میں تو مت پی۔” عامر نے اسے ڈانٹنا چاہا مگر اموہ بتیسی نکال کر ہنس دیا”
کچھ نہیں ہوتا استاد! اسے سب پتا ہے، کبھی کبھار تو وہ خود بھی میرے ساتھ کش لگا لیتی ہے۔” نقیب نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔”
یہ جملہ عامر کے کانوں میں کسی غلیظ گالی کی طرح پڑا۔ عامر، جو بظاہر ایک سخت گیر نشئی تھا، اس لمحے اندر سے لرز اٹھا۔ وہ بھلے ہی چرس پیتا تھا، مگر اس کے سینے میں عورت کے تقدس کا ایک گوشہ اب بھی باقی تھا۔ نقیب کی اس جھوٹی بات نے عامر کے دل میں اس کے لیے شدید گھن اور نفرت پیدا کر دی تھی۔ اسے احساس ہو چکا تھا کہ جس شخص کو وہ اپنا شاگرد سمجھ رہا تھا، وہ دراصل ایک ایسا جھوٹا مکار ہے جس کے لفظوں میں سچ کا شائبہ تک نہیں۔
اسی اثنا میں عائشہ، بارش کے ٹھنڈے پانی میں بھیگی ہوئی، کپکپاتے ہاتھوں سے ٹرے سنبھالے کمرے میں داخل ہوئی۔
عائشہ کے چہرے کی زردی اور آنکھوں کی وحشت بتا رہی تھی کہ اسے اس چرس کی بو سے کتنی تکلیف ہو رہی ہے۔ اس نے لرزتے ہوئے پہلے چائے کا کپ عامر کو پیش کیا۔ عامر نے، جس کا ضمیر اب اسے ملامت کر رہا تھا، نظریں چراتے ہوئے خاموشی سے کپ اٹھا لیا۔ عائشہ نے دوسرا کپ نقیب کے قریب رکھا اور بغیر کچھ کہے مڑ گئی۔
عامر کی گہری نظروں نے محسوس کیا کہ واپس جاتے ہوئے بھی عائشہ کا ایک ہاتھ اپنے پیٹ کے اسی نچلے حصے پر تھا، جیسے وہ کسی چھپے ہوئے زخم کو سہارا دے رہی ہو۔
نقیب! مجھے لگتا ہے تیری بیوی کو گردے کا شدید درد ہے،” عامر نے فکر مندی سے کہا۔”
،نقیب لاپرواہی سے بولا
“کچھ نہیں ہے استاد! بس معمولی سا بخار ہے۔ یہ عورتیں ایویں ڈرامے کرتی رہتی ہیں تاکہ کام سے جی چرا سکیں۔”
یہ کہہ کر اس نے بڑی مہارت سے چرس سگریٹ میں بھرنا شروع کر دی۔ نقیب کی یہ بے حسی عامر کے لیے ناقابلِ فہم تھی۔
نقیب نے جیسے ہی چائے کا پہلا گھونٹ بھرا، اس کے چہرے کے تاثرات اچانک بگڑ گئے۔ غصے کی ایک لہر اس کے ماتھے پر ابھری اور آنکھیں وحشت سے لال ہونے لگیں۔
“اس خبیث نے آج پھر چینی زیادہ ڈال دی!” وہ غرایا۔
،عامر نے اسے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی
“چل کوئی نی نقیب۔۔۔ خیر اے، پی لے اب۔”
مگر نقیب کی عقل پر غصے اور نشے کی طلب نے پردہ ڈال رکھا تھا۔ اسے تو بس ایک بہانا چاہیے تھا تاکہ وہ اس کمزور شکار پر اپنی مردانگی ثابت کر سکے۔
“اس کا روز یہی ڈرامہ ہے، اسے تو میں ابھی دیکھتا ہوں۔”
نقیب نے سگریٹ بیڈ پر پٹخا اور تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔ عامر کا خیال تھا کہ شاید وہ صرف ڈانٹ ڈپٹ کرے گا، مگر اگلے ہی لمحے دوسرے کمرے سے اٹھنے والی آوازوں نے ماحول کو مقتل بنا دیا۔
بارش کے شور میں عائشہ کی دلدوز چیخیں اور نقیب کی غلیظ گالیاں گڈ مڈ ہو رہی تھیں۔ نقیب کے ہاتھوں کی آواز عامر کے کانوں تک صاف پہنچ رہی تھی۔ وہ عائشہ کو بے دردی سے مار رہا تھا، اور عائشہ کے زور زور سے رونے اور فریاد کرنے کی آوازیں کسی بھی صاحبِ دل انسان کا کلیجہ چاک کرنے کے لیے کافی تھیں۔
عامر کے اعصاب اب جواب دے گئے۔ اسے احساس ہوا کہ یہ محض ایک گھریلو جھگڑا نہیں، بلکہ ایک معصوم روح کا بے رحمانہ قتلِ عام ہے۔ اس نے چائے کا کپ وہیں چھوڑا اور ایک جست میں دوسرے کمرے کی طرف دوڑا۔ اس کے ذہن میں صرف ایک ہی بات تھی۔ نقیب ایک درندہ ہے اور عائشہ ایک ایسی قیدی جسے بچانے والا اس دنیا میں اب شاید صرف وہی ایک اجنبی رہ گیا ہے۔
کمرے کی دہلیز پار کرتے ہی عامر کے سامنے جو منظر تھا، اس نے اس کے شعور پر ہتھوڑے برسا دیے۔ باہر قدرت کا طوفان تھا، مگر اس بوسیدہ کمرے کے اندر انسانیت کا جنازہ نکل رہا تھا۔ نقیب، جسے عامر اپنا شاگردِ خاص سمجھ رہا تھا، اس وقت ایک خونخوار درندے کا روپ دھار چکا تھا۔ اس نے عائشہ کو گردن سے دبوچ کر فرش پر پٹخ رکھا تھا۔ ایک ہاتھ کی گرفت عائشہ کی گردن پر تھی اور دوسرے ہاتھ سے وہ اس کے سوجھے ہوئے گالوں پر پے در پے تھپڑ مار رہا تھا۔
عامر کا خون کھول اٹھا۔ اس کے نزدیک عورت پر ہاتھ اٹھانا بزدلی کی آخری حد تھی اور یہاں تو مظلوم وہ لڑکی تھی جس کے پاس پناہ کا کوئی دوسرا ٹھکانہ ہی نہیں تھا۔ عامر نے ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر نقیب کے کالر پر اپنی آہنی گرفت مضبوط کی اور اسے ایک جھٹکے سے پیچھے کی طرف اچھال دیا۔ نقیب، جو نشے اور غصے کے خمار میں تھا، سنبھل نہیں پایا اور دور جا گرا۔
جب نقیب نے دوبارہ اٹھ کر حملہ آور ہونے کی کوشش کی، تو عامر کی گرجدار آواز نے اسے وہیں منجمد کر دیا،
“!انسان بن نقیبیا! باہر نکل یہاں سے، اس سے پہلے کہ میں اپنی اوقات پر آ جاؤں”
عامر کی آنکھوں میں وہ جلال تھا کہ نقیب کی تمام تر مردانگی ہوا ہو گئی۔ وہ عامر سے ڈرتا تھا، اس لیے غصے سے پیر پٹختا اور بڑبڑاتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔
کمرے میں اب صرف بارش کی آواز اور عائشہ کی سسکیاں باقی تھیں۔ وہ فرش پر پڑی، اپنے پیٹ کے اسی حصے کو سہلاتی ہوئی اٹھنے کی کوشش کر رہی تھی جہاں نقیب کی ٹھوکروں کے پرانے نشانات اب بھی تازہ درد دے رہے تھے۔ عامر، جو خود کو ایک سخت جان اور بے باک انسان سمجھتا تھا، عائشہ کی یہ حالت دیکھ کر اندر سے ٹوٹ گیا۔ اس کا کلیجہ منہ کو آ رہا تھا۔
،عامر نے بوجھل لہجے میں معذرت چاہی
“مجھے معاف کر دیجیے گا… شاید میری وجہ سے آپ کو اذیت پہنچی۔”
عامر کو اب بھی یہی لگ رہا تھا کہ یہ سب چائے کی چینی کی وجہ سے ہوا ہے۔
عائشہ نے اپنی سوجھی ہوئی آنکھوں سے عامر کی طرف دیکھا۔
،ان نظروں میں کوئی شکایت نہیں تھی، بس ایک گہری لامتناہی خاموشی تھی۔ اس نے ہچکیوں کے درمیان وہ جملہ کہا جس نے عامر کی روح کو زخمی کر دیا
“ن۔۔۔ نہیں سر! آپ کا کوئی قصور نہیں۔ میں اب اس سب کی عادی ہو چکی ہوں۔۔۔ یہ تو روز کا قصہ ہے۔”
عامر نے اپنے لب بھینچ لیے۔ اس کے پاس اب کوئی الفاظ نہیں تھے۔ وہ ایک پرایا مرد، ایک مہمان، ایک ایسا شخص تھا جس کا دخل اندازی کرنا شاید معاملے کو مزید بگاڑ سکتا تھا۔ اس نے ایک آخری بار عائشہ کے شکستہ وجود کو دیکھا، جس کا چہرہ زرد اور لباس تار تار تھا اور پھر دل پر پتھر رکھ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔
°°°°°°°°°°
باہر قدرت کا قہر تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا، بادلوں کی گرج اور بارش کا شور کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر اندر کی بوجھل خاموشی کو مزید ہولناک بنا رہا تھا۔ عامر کافی دیر سے نقیب کو ملامت کر رہا تھا، اس کے لہجے میں غصہ بھی تھا اور ایک ہمدرد کا دکھ بھی۔ وہ ہر لفظ کو نقیب کے ضمیر پر دستک دینے کے لیے استعمال کر رہا تھا، مگر نقیب… وہ تو مکر کا ایسا لبادہ اوڑھ چکا تھا جسے چیرنا اب ناممکن تھا۔ وہ ایک تابعدار شاگرد کی طرح سر جھکائے عامر کی ہر ڈانٹ سن رہا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں ندامت کی ایک رمق تک نہیں تھی۔ وہ صرف یہ چاہ رہا تھا کہ یہ وقت کسی طرح گزر جائے، اس کی گردن جھکی ہوئی تھی مگر ذہن میں وہی پرانی کجی برقرار تھی۔ ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دینے والی ڈھٹائی۔
جب عامر کو لگا کہ وہ اپنی نصیحت کا حق ادا کر چکا ہے، تو اس نے بوجھل دل کے ساتھ اٹھنے کا ارادہ کیا۔
“اچھا نقیب! اب میں چلتا ہوں، رات کافی بیت گئی ہے۔”
عامر نے اپنی چادر سنبھالتے ہوئے کہا۔
نقیب فوراً بیڈ سے اترا اور عامر کے سامنے کھڑا ہو گیا۔
استاد! خدا کا خوف کریں، باہر دیکھو تو سہی کیسی قیامت کی بارش ہے۔ اس طوفان میں اکیلے جانا ٹھیک نہیں۔”
“میں دوسرے کمرے میں بستر لگا دیتا ہوں، صبح ہوتے ہی چلے جائیے گا۔
عامر نے کھڑکی سے باہر دیکھا جہاں بجلی کی کڑک آسمان کا سینہ چاک کر رہی تھی۔
“اس نے انکار کرنا چاہا، “نہیں یار! اس زحمت کی ضرورت نہیں، میں بھیگتے ہوئے بھی چلا جاؤں گا۔ بس میرے گیلے کپڑے کل لیتے آنا۔
مگر نقیب تو جیسے قسم کھا چکا تھا کہ آج وہ اپنی خدمت گزاری سے عامر کا دل جیت کر ہی دم لے گا۔
“کوئی زحمت نہیں استاد! آپ تو میرے بڑے بھائیوں کی طرح ہیں۔ آپ رکیں، میں ابھی آپ کا بستر تیار کرتا ہوں۔”
نقیب تیزی سے الماری کی طرف بڑھا، دو پرانی مگر صاف چادریں نکالیں اور بارش کی بوندوں سے بچتا ہوا دوڑ کر دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ وہ کمرہ جہاں عائشہ اندھیرے میں چھپی بیٹھی تھی، وہاں کیچن کے معمولی اور میلے برتنوں کے علاوہ ایک خستہ حال چارپائی پڑی تھی، جس کی بنوائی جگہ جگہ سے ادھڑ چکی تھی۔
نقیب نے عائشہ کی موجودگی کو مکمل نظر انداز کیا، جیسے وہ کوئی انسان نہیں بلکہ کمرے کا کوئی فالتو فرنیچر ہو۔ اس نے چارپائی پر چادر بچھائی اور ایک عارضی بستر تیار کر دیا تاکہ عامر وہاں رات گزار سکے۔
ادھر مین کمرے میں عامر دوبارہ صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔ اس کے کانوں میں اب بھی عائشہ کی وہ سسکیاں گونج رہی تھیں جو اس نے تھوڑی دیر پہلے سنی تھیں۔ وہ سوچ رہا تھا کہ انسانی فطرت کتنی عجیب ہے۔ ایک طرف نقیب اس کی یوں خدمت کر رہا تھا جیسے کوئی مرید اپنے پیر کی کرتا ہے اور دوسری طرف اسی نقیب نے اپنی اس معصوم بیوی کا جینا محال کر رکھا تھا۔
عامر کی نظریں کمرے کی خالی دیواروں پر جمی تھیں، مگر اس کے ذہن کے پردے پر عائشہ کا وہ مسکین چہرہ اور وہ خوفزدہ آنکھیں رقص کر رہی تھیں۔ اسے پہلی بار اپنی یاری پر گھن آنے لگی۔ وہ ایک ایسے مقام پر تھا جہاں وہ حق اور دوستی کے درمیان بٹا ہوا تھا۔
°°°°°°°°°°
رات کا پچھلا پہر تھا اور سناٹا اس قدر گہرا کہ بارش کی ہلکی بونداباندی کی آواز بھی اعصاب پر ہتھوڑوں کی طرح لگ رہی تھی۔ عامر، جو کچن کے نام پر بنے اس خستہ حال کمرے میں ایک بوسیدہ چارپائی پر لیٹا تھا، ٹھنڈک کو اپنی ہڈیوں میں اترتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔ یہ سردی صرف باہر کے موسم کی نہیں تھی، بلکہ وہ ذہنی الجھن بھی تھی جو عائشہ کی حالت دیکھ کر اس کے وجود میں سرایت کر چکی تھی اور اسے سونے نہیں دے رہی تھی۔
عامر نے کئی بار کروٹ بدلی، مگر وہ شکستہ چارپائی ہر بار ایک نئی چرچراہٹ کے ساتھ اس کی بے چینی کا اعلان کر دیتی۔ اس نے اندھیرے میں ٹٹول کر ایک سادہ سگریٹ سلگایا۔ تمباکو کا دھواں اس کے پھیپھڑوں میں تھوڑی دیر کے لیے حرارت تو لاتا، مگر وہ ذہنی سکون جس کی اسے تلاش تھی، کہیں دور بھاگ چکا تھا۔ اس کے سامنے بار بار عائشہ کا وہ آنسوؤں سے تر چہرہ اور نقیب کی وہ درندگی آ رہی تھی۔
جب سردی کی لہروں نے اسے بری طرح کپکپانے پر مجبور کر دیا اور چادر کی پتلی تہہ ناکافی ثابت ہوئی، تو وہ ہمت کر کے اٹھ بیٹھا اور دبے قدموں صحن کی گیلی مٹی پر چلتا ہوا نقیب کے کمرے کے دروازے تک پہنچا۔ اس نے دروازے پر پہلی دستک دی، مگر اندر سے صرف خاموشی ملی۔ دوسری بار جب اس نے ذرا زور سے ہاتھ مارا، تو اسے اندر سے ایک نحیف اور دبی دبی آواز سنائی دی۔ وہ عائشہ تھی، جو شاید خود بھی جاگ رہی تھی اور نقیب کو جگانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔
،نقیب نشے کی گہری نیند میں تھا یا پھر جان بوجھ کر نظر انداز کر رہا تھا، نہیں اٹھا۔ تھوڑی دیر بعد دروازے کے بالکل پیچھے سے عائشہ کی لرزتی ہوئی آواز ابھری
“کون ہے؟”
اس آواز میں ڈر، نقاہت اور لاچاری تھی جو عامر کے دل کو چیر گئی۔
“میں عامر ہوں۔۔۔ سردی بہت زیادہ ہے، کیا کمبل مل سکتا ہے؟”
عامر نے اپنی آواز کو جتنا ممکن ہو سکے دھیما رکھتے ہوئے کہا۔
دوسری طرف چند لمحوں کے لیے ایک گہری خاموشی چھا گئی۔ شاید عائشہ اپنے بکھرے ہوئے وجود کو سمیٹ رہی تھی یا نقیب کے ردِعمل کا جائزہ لے رہی تھی۔
،پھر اس کی آواز دوبارہ سنائی دی، اس بار اس میں تھوڑی ہمت تھی
“آپ واپس اپنے کمرے میں جائیں، میں ابھی آپ کو کمبل دیتی ہوں۔”
عامر نے مزید کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھا اور واپس پلٹ آیا۔
کچھ دیر بعد عائشہ ایک سادہ سا، پرانا سنگل کمبل اٹھائے اس اجاڑ کمرے میں داخل ہوئی۔ اس کے ہر قدم میں ایک لغزش تھی اور ہر سانس میں ایک خوف۔ اس نے خاموشی سے وہ کمبل چارپائی پر رکھا اور کسی سائے کی طرح دبے قدموں واپس پلٹنے لگی، جیسے اسے ڈر ہو کہ اس کی موجودگی فضا میں موجود خاموشی کو زخمی کر دے گی۔
،مگر ابھی وہ دہلیز تک پہنچی ہی تھی کہ عامر کی ٹھہری ہوئی آواز نے اسے منجمد کر دیا
“اگر آپ کو برا نہ لگے تو ایک بات پوچھوں؟”
عائشہ ہلکی سی پلٹی، مگر اس کی ہمت اتنی نہیں تھی کہ عامر کی آنکھوں میں جھانک سکے۔ اس نے نظریں جھکا لیں اور اپنے ناخنوں کو آپس میں کھرچنے لگی۔
،عامر نے اس کی بے بسی کو محسوس کرتے ہوئے نہایت نرمی سے پوچھا
“اگر یہ آپ پر اتنا ظلم کرتا ہے، تو آپ واپس کیوں نہیں چلی جاتیں؟”
عائشہ کو لگا جیسے کسی نے اس کے رستے ہوئے زخموں پر نمک چھڑک دیا ہو۔ اس کے حلق میں آنسوؤں کا ایک گولا سا پھنس گیا۔
“کک۔۔۔ کہاں جاؤں؟ کس کے پاس؟”
اس کی آواز میں وہ تھکن تھی جو صرف وہی لوگ محسوس کر سکتے ہیں جن کے واپسی کے تمام راستے مسدود ہو چکے ہوں۔
اپنے والدین کے پاس اور کس کے پاس؟” عامر نے سادہ لوحی سے حل پیش کیا۔”
عائشہ کی آنکھوں سے ایک تپتا ہوا آنسو نکل کر اس کے زرد گال پر پھسل گیا۔
میرا اب کوئی نہیں ہے۔ نقیب ہی میرا سب کچھ ہے۔ وہ جیسے بھی رکھے، جتنا بھی مارے۔۔۔ میں خوش ہوں۔”
“شاید میں اسی ذلت کے قابل تھی کہ اپنے بھرے پرے گھر کو چھوڑ کر یہاں آن پہنچی۔
عامر نے ایک گہری آہ بھری اور بے بسی سے نظریں جھکا لیں۔ اسے لگا جیسے وہ کسی ڈوبتے ہوئے انسان کو دیکھ رہا ہو اور اس کا ہاتھ اس تک نہ پہنچ پا رہا ہو۔
“عائشہ نے اپنی آنکھیں پونچھیں اور بھرائی ہوئی آواز میں پوچھا، “کوئی اور بات کرنی ہے یا میں جاؤں؟
،عامر نے ہمت جمع کی اور کچھ ایسا بولا جو اس کی مخلصی کا ثبوت تھا
میرا اصل گھر سرائے عالمگیر میں ہے اور میرا گاؤں منڈی جٹاں ہے۔ اگر کبھی زندگی آپ پر اتنی تنگ ہو جائے کہ یہاں رہنا مشکل لھے، تو وہاں آ جائیے گا۔”
“میرے گھر کے دروازے آپ کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں۔
عامر نے فوراً اپنی نظریں جھکا لیں تاکہ اس کی مخلصی پر کسی قسم کا شک نہ ہو۔
“میرے ارادے غلط نہیں ہیں۔ بس میں چاہتا ہوں کہ آپ خود کو اس دنیا میں اکیلا مت سمجھیں۔”
عائشہ کے دل میں ایک لمحے کو ایک موہوم سی امید نے سر اٹھایا، مگر اگلے ہی پل اسے نقیب کی وہ پرانی، میٹھی باتیں یاد آ گئیں جو وہ شادی سے پہلے کرتا تھا۔ اس نے سوچا کہ جب نکاح جیسا مقدس رشتہ اسے تحفظ نہ دے سکا، تو ایک اجنبی کی ہمدردی پر وہ کیسے بھروسہ کر لے؟ اس کے لیے یہاں سے نکلنے کا مطلب تھا کہ وہ کٹی پتنگ بن کر دیارِ غیر میں بھٹکتی پھرے، جہاں ہر ہاتھ اسے نوچنے کے لیے تیار ہوگا۔
“نہیں۔۔۔ آپ کی بڑی مہربانی، میں یہیں خوش ہوں۔”
عائشہ نے تیزی سے کہا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔
عامر وہیں چارپائی پر بیٹھ گیا۔ اسے اپنی ہڈیوں تک ایک ایسی سردی اور بے بسی سرایت کرتی محسوس ہو رہی تھی جو باہر کی بارش سے کہیں زیادہ شدید تھی۔ وہ جان چکا تھا کہ عائشہ صرف ایک کمرے میں قید نہیں ہے، بلکہ وہ اپنی تقدیر اور سماجی خوف کی ایسی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے جنہیں توڑنا عامر کے بس میں نہیں تھا۔
°°°°°°°°°°
…جاری ہے
