ناول: وارث کون

باب دوم: شکستہ تقدس

قسط نمبر 6

مصنف: زیاد اصغر زارون

°°°°°°°°°°

رات کا پچھلا پہر تھا، جب دنیا اپنے خوابوں کی بستیوں میں مگن تھی، لاری اڈے کی فضا گندگی، دھوئیں، ڈیزل کی بو اور بے نام خوف سے اٹی ہوئی تھی۔ لاری اڈا، وہ جگہ جہاں مسافر اپنی منزلوں کی تلاش میں آتے ہیں، مگر عائشہ کے لیے یہ جگہ کسی مقتل سے کم نہیں تھی۔ یہاں کی پیلی روشنی عائشہ کے زرد چہرے پر پڑ کر اسے مزید ہولناک بنا رہی تھیں۔

عائشہ لکڑی کے ایک بوسیدہ بینچ پر سمٹی ہوئی بیٹھی تھی۔ اس کے ہاتھوں میں اس کے اپنے خاندان کی خوشیاں، ان کا زیور اور ان کا مان ایک بھاری بیگ کی صورت میں موجود تھا۔ اسے بار بار یوں لگتا جیسے کوئی اسے پہچان لے گا، جیسے ابھی اس کا بھائی فرحان اندھیرے سے نمودار ہوگا اور اس کا گلا گھونٹ دے گا۔ اس کی آنکھیں بار بار ادھر ادھر بھٹک رہی تھیں، ہجوم میں موجود ہر اجنبی چہرہ اسے کسی جلاد کی طرح دکھائی دیتا تھا۔

نقیب، جو تھوڑی دیر پہلے گوجرانوالہ کی بس کے ٹکٹ لینے گیا تھا، اب ہجوم کو چیرتا ہوا واپس آ رہا تھا۔ عائشہ نے اسے دور سے دیکھا۔ وہ شخص، جس کے لیے اس نے اپنی پوری کائنات کو آگ لگا دی تھی، اب اس کی واحد پناہ گاہ تھا۔ نقیب قریب آیا اور بنا کسی جھجھک کے بینچ پر عائشہ کے بالکل قریب جڑ کر بیٹھ گیا۔

اس کے جسم کی حرارت اور مردانہ لمس نے عائشہ کے وجود میں ایک سنسنی دوڑا دی، مگر یہ سنسنی خوشی کی نہیں، بلکہ ایک انجانے خوف اور حیا کی تھی۔ وہ لاشعوری طور پر تھوڑا سا سمٹ گئی اور ان کے درمیان چند انچ کا فاصلہ پیدا کر لیا۔ یہ وہ فاصلہ تھا جو ایک معصوم لڑکی اور ایک اجنبی مرد کے درمیان ہمیشہ رہنا چاہیے تھا، مگر عائشہ اس فاصلے کو پامال کر کے یہاں پہنچی تھی۔

نقیب نے اس کی اس تھڑتھراہٹ اور سمٹنے کو محسوس کر لیا۔ اس کے لبوں پر ایک فاتحانہ، مگر بظاہر ہمدردانہ مسکان رقص کرنے لگی۔ اس نے اپنا لہجہ ریشم کی طرح نرم رکھا۔
کیا… ڈر لگ رہا ہے عائشہ؟” اس نے دھیمی آواز میں پوچھا۔”
عائشہ نے نظریں نہیں اٹھائیں۔ وہ بینچ کے کنارے پر لگے ہوئے لکڑی کے ریشوں کو اپنے ناخنوں سے کھرچنے لگی۔
نن… نہیں تو۔ بس ایسے ہی تھوڑی گھبراہٹ ہو رہی ہے۔” اس کی آواز حلق میں پھنس رہی تھی۔”

،نقیب نے ایک گہرا سانس لیا اور فضا میں پھیلے ہوئے دھوئیں کو اپنی سانسوں میں اتارتے ہوئے بولا،
دیکھو عائشہ! ہم نے جو بھی کیا، وہ حالات کی مجبوری تھی۔ نہ تم یہ چاہتی تھی، نہ میں۔”

“تمہارے گھر والوں نے ہمیں اس مقام پر پہنچایا جہاں ہمارے پاس بھاگنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔ ہم مظلوم ہیں، مجرم نہیں۔
،نقیب نے ایک لمحے کے لیے توقف کیا، پھر ایک نفسیاتی وار کیا
دیکھو، میں تمہیں مجبور نہیں کرنا چاہتا۔ ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا۔ اگر تمہارا دل نہیں مان رہا، تو تم واپس جا سکتی ہو۔ بسیں ابھی بھی چل رہی ہیں۔”

“تمہارے گھر میں سب سو رہے ہوں گے، کسی کو خبر تک نہیں ہوگی کہ تم کہاں گئی تھی۔

یہ نقیب کی وہ چال تھی جس نے عائشہ کے گرد بنے ہوئے جذبات کے حصار کو مزید پختہ کر دیا۔ وہ جانتا تھا کہ عائشہ اب واپس نہیں جا سکتی۔ وہ دہلیز پار نہیں کر کے آئی تھی، بلکہ اس نے کشتیاں جلائی تھیں۔
عائشہ نے سر اٹھایا اور سیاہ آسمان پر ٹمٹماتے ہوئے ان ستاروں کو دیکھا جو اب اس کی بربادی کے گواہ تھے۔ اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔ ایک کرب ناک مسکراہٹ اس کے لبوں پر آئی۔
نقیب! چڑیا کا بچہ جب ایک بار گھونسلے سے گر جائے، تو اس کے نازک پر دوبارہ اسے وہاں تک نہیں لے جا سکتے۔ اگر وہ واپس پہنچ بھی جائے، تو گھونسلے والے اسے اپنا نہیں سمجھتے۔”

“میں بھی اس چڑیا کے بچے جیسی ہوں۔ اب واپسی کا راستہ بند ہو چکا ہے۔

اس کے آنسو اب باقاعدہ اس کے گالوں پر بہنے لگے تھے۔ یہ ندامت کے آنسو تھے یا محبت کے؟ شاید دونوں کا ملغوبہ۔ نقیب نے اسے روتے دیکھا تو ایک سرد آہ بھری۔
تمہارا بھائی فرحان… وہ بہت ضدی ہے۔ وہ میرے گھر کا پتہ جانتا ہے۔ وہ خاموش نہیں بیٹھے گا۔ وہ ہمارے لیے زمین تنگ کر دے گا۔” نقیب نے خدشے کا اظہار کیا۔”
عائشہ نے تڑپ کر نقیب کی آنکھوں میں جھانکا۔
“پھر؟ کیا سوچا ہے؟”

نقیب نے اس کا ہاتھ تھامنے کی کوشش کی، مگر پھر رک گیا۔
میں نے سب انتظامات کر رکھے ہیں۔ پھالیہ پہنچتے ہی میرا ایک واقف وکیل ہمارا انتظار کر رہا ہوگا۔ ہم قانونی نکاح کریں گے تاکہ کوئی ہمیں الگ نہ کر سکے۔”

“اور ہاں… نکاح کے فوراً بعد ہم اپنا ایک ویڈیو پیغام ریکارڈ کروائیں گے۔

ویڈیو پیغام؟” عائشہ کا دل زور سے دھڑکا۔”

ہاں، اس میں ہم بتائیں گے کہ ہم نے یہ سب اپنی مرضی سے کیا ہے اور تمہیں کسی نے مجبور نہیں کیا۔”

“یہ ویڈیو ہم قریبی تھانے میں دیں گے اور تمہارے بھائی فرحان کو بھی بھیج دیں گے۔

“عائشہ کا چہرہ فق ہو گیا۔ “کیا… بھائی کو ویڈیو بھیجنا ضروری ہے؟

نقیب کے لہجے میں اب ایک سختی آئی۔
انہیں پتا ہونا چاہیے عائشہ کہ وہ ہار چکے ہیں۔ انہیں اندازہ ہونا چاہیے کہ محبت کے سامنے ان کی غیرت اور ان کی دیواریں ریت کا ڈھیر ہیں۔”

“جب انہیں پتا چلے گا کہ تم اب قانونی طور پر میری بیوی ہو، تو ان کا غصہ بے بسی میں بدل جائے گا۔

عائشہ خاموش ہو گئی۔ اسے یاد آیا کہ کیسے کامران بھائی اسے ہمیشہ لاڈ سے “گڑیا” کہتے تھے۔ کیا وہ ویڈیو دیکھ کر سنبھل پائیں گے؟ کیا وہ اس گڑیا کو معاف کر پائیں گے جس نے ان کے مان کا گلا گھونٹ دیا؟ وہ بس سر جھکائے اپنے ناخن کھرچتی رہی۔

نقیب نے گفتگو کا رخ بدلا۔ “لیکن احتیاط ضروری ہے۔ کچھ وقت کے لیے ہمیں دنیا کی نظروں سے اوجھل ہونا ہوگا۔ میں نے پھالیہ شہر میں ایک چھوٹے سے فلیٹ کا بندوبست کر لیا ہے۔

“وہاں میرے کسی دوست یا رشتہ دار کا گزر نہیں ہوگا۔ ہم وہاں تب تک روپوش رہیں گے جب تک تمہارے گھر والوں کی آگ ٹھنڈی نہیں ہو جاتی۔

،عائشہ، جو اب تک نقیب کو تم کہہ کر مخاطب کرتی تھی، اب ایک عجیب سے احساسِ کمتری اور سپردگی کا شکار ہو چکی تھی۔ اس نے نہایت دھیمی آواز میں کہا
“جیسے آپ کو بہتر لگے۔”

یہ “آپ” اس بات کا اعلان تھا کہ عائشہ نے اپنی مرضی، اپنی سوچ اور اپنی ہستی نقیب کے قدموں میں ڈھیر کر دی ہے۔ وہ اب ایک آزاد لڑکی نہیں، بلکہ ایک ایسی مفرور تھی جس کی کل کائنات اب صرف یہ شخص تھا۔
“اچھا، اب اٹھو…” نقیب نے بینچ سے اٹھتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔ “بس لگ چکی ہے، پانچ منٹ میں نکلنے والی ہے۔ آؤ، بس میں بیٹھتے ہیں۔”

عائشہ نے اپنا کانپتا ہوا ہاتھ نقیب کے ہاتھ میں دے دیا۔ نقیب نے اس کا وہ بھاری بیگ اٹھایا، جس میں سونا، نقدی، کپڑے اور ایک خاندان کی رسوائی بھری تھی۔ اور اسے سہارا دیتے ہوئے بس کی طرف بڑھنے لگا۔

وہ پرانی بس، جس کا انجن زوردار آواز کے ساتھ اسٹارٹ ہو رہا تھا، عائشہ کے لیے کسی تابوت سے کم نہیں تھی۔ جیسے ہی اس نے بس کے پائیدان پر قدم رکھا، اسے محسوس ہوا کہ اس نے اپنے شہر کی مٹی سے آخری رشتہ بھی توڑ دیا ہے۔
نقیب اسے لے کر آخری سیٹ کی طرف بڑھ گیا، جہاں اندھیرا ذرا زیادہ تھا، بالکل عائشہ کے مستقبل کی طرح۔

°°°°°°°°°°

صبح کے نو بج چکے تھے، لیکن کمال صاحب کے گھر میں موت جیسی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ سورج کی روشن کرنیں کھڑکیوں سے اندر جھانک رہی تھیں، مگر گھر کے تمام مکین گہرے، زہریلے خمار میں ڈوبے، بے سدھ پڑے تھے۔ دوا کا اثر اس قدر گہرا تھا کہ کسی ایک فرد کی پلکوں میں بھی جنبش تک نہیں تھی۔ اس بھاری اور پراسرار سناٹے کو چیرتی ہوئی واحد آواز فرحان کے ننھے بچے کی تھی، جو نجانے کب سے بھوک اور الجھن کے مارے بلک رہا تھا۔ رو رو کر اس معصوم جان کا گلا بیٹھ چکا تھا، سسکیاں ہچکیوں میں بدل چکی تھیں، لیکن اسے سینے سے لگانے والا کوئی نہیں تھا۔

فرحان کی پلکوں پر جیسے منوں وزن دھرا تھا۔ اس نے انتہائی مشکل سے کسمسا کر اپنی بیوی کو پکارا، “رفعت…!” آواز میں نیند اور غنودگی کا گہرا خمار تھا۔ رفعت بھی کسی بے جان لاشے کی طرح بیڈ پر پڑی تھی۔

رفعت، اٹھ جاؤ۔” اس نے بند آنکھوں سے ہی بمشکل الفاظ ادا کیے۔ رفعت ہلکی سی کسمسائی مگر اس کا بوجھل وجود بیڈ سے نہیں اٹھ پایا۔”

فرحان نے زبردستی اپنی خمار آلود آنکھیں کھولیں اور رو رو کر ہلکان ہوتے بچے کی طرف دیکھا۔
رفعت اٹھو، بچہ رو رہا ہے۔” اس نے رفعت کو بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑا۔”

“وہ آنکھیں ملتی ہوئی جاگی، خود کو بمشکل سنبھالا اور بچے کو سیدھا کرتے ہوئے نقاہت سے بولی، “آپ اسے دیکھیں، میں اس کے لیے دودھ بنا کر لاتی ہوں۔

وہ ٹوٹتے وجود کے ساتھ اٹھی اور لڑکھڑاتے قدموں سے دروازہ کھول کر کمرے سے باہر نکل گئی۔
راہداری میں قدم رکھتے ہی گھر میں چھائی قبرستان جیسی خاموشی نے ایک لمحے کے لیے اس کے قدم جکڑ لیے۔ اس کی نگاہ سامنے لگی گھڑی پر گئی اور سوئیاں دیکھ کر اس کے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی۔ نو بج چکے تھے! نو بجے تک پورے گھرانے کا یوں غفلت کی نیند سونا… یہ ناممکن تھا۔ اس گھر کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔

خوف کی ایک سرد لہر اس کی ریڑھ کی ہڈی میں دوڑ گئی۔ وہ بچے کو بھول کر دیوانہ وار اپنی ساس، بلقیس بیگم کے کمرے کی طرف بھاگی۔

!وہاں بلقیس بیگم، کومل اور ایمان سب گہری، بے سدھ نیند میں پڑی تھیں۔ رفعت نے قریب پہنچ کر ساس کو جھنجھوڑا، “امی… امی اٹھیں”

ہاں… اوں…” بلقیس بیگم بس ہلکا سا کسمسائیں، مگر ان کی آنکھیں نہ کھل سکیں۔”

رفعت کا ماتھا ٹھنکا۔ قدموں کی ہلکی سی چاپ سے جاگ جانے والی حساس خاتون آج یوں پڑی تھیں جیسے انہیں بے ہوشی کی دوا پلا دی گئی ہو۔

،اچانک اس کے ذہن میں ایک جھماکہ ہوا

“!عائشہ”

وہ پلٹی اور تیزی سے عائشہ کے کمرے کی طرف بھاگی۔ دروازہ کھولتے ہی جو منظر اس نے دیکھا، اس نے رفعت کی روح تک کو لرزا دیا۔ کمرہ ویران تھا۔ عائشہ کا وہاں نام و نشان تک نہیں تھا۔ الماری اور پیٹی کے منہ کھلے تھے، کپڑوں سمیت سامان یوں فرش پر بکھرا پڑا تھا جیسے وہاں کوئی لوٹ مار ہوئی ہو۔ عائشہ کا سارا ضروری سامان غائب تھا۔ رفعت کو لگا جیسے اس کا سانس سینے میں ہی اٹک گیا ہو، اسے اپنے اردگرد کی چیزیں گھومتی ہوئی محسوس ہوئیں۔

“!وہ پوری قوت سے چیخی، “فرحان… فرحان
اور آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کے ساتھ اپنے بیڈروم کی طرف دوڑ لگا دی۔

کیا ہوا؟ اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہو؟” فرحان نے بچے کو ایک طرف رکھتے ہوئے خوفزدہ لہجے میں پوچھا۔”

عائشہ… عائشہ گھر میں نہیں ہے!” یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے رفعت کی آواز پھٹ رہی تھی۔”

اس انکشاف نے فرحان کو جیسے زندہ درگور کر دیا۔

“!رفعت وہاں رکی نہیں، وہ سیدھی اپنی ساس کے کمرے میں گئی اور انہیں جھنجھوڑ کر جگایا، “امی… امی… اٹھیں
بلقیس بیگم ایک جھٹکے سے بیدار ہوئیں، رفعت کی سوجی ہوئی آنکھیں اور بدحواسی دیکھ کر ان کے حواس گم ہونے لگے۔ کومل اور ایمان بھی شور سن کر گھبرا کر اٹھ گئی تھیں۔

کچھ بولو تو سہی، ہوا کیا ہے؟” بلقیس بیگم کی آواز کانپ رہی تھی۔”

اسی اثنا میں کمال صاحب بھی بمشکل اپنے قدم گھسیٹتے ہوئے وہاں آ پہنچے۔ “کیا ہوا؟ صبح صبح یہ کیا شور مچا رکھا ہے؟” ان کے لہجے میں غصہ اور الجھن تھی۔

“لیکن ان سب کے سنبھلنے سے پہلے ہی رفعت وہ بم پھوڑ چکی تھی، “وہ… عائشہ… عائشہ گھر میں نہیں ہے۔ اس کی پیٹی کھلی پڑی ہے، وہ بھاگ گئی ہے۔

اس ایک جملے نے جیسے بلقیس بیگم کے وجود سے روح کھینچ لی ہو۔ وہ بت بنی، گم صم سی رہ گئیں۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے مگر زبان تالو سے چپک گئی تھی۔
اسی لمحے فرحان وہاں آن پہنچا۔ اس کا چہرہ اور ہاتھ غصے، صدمے اور دکھ سے تھرتھرا رہے تھے۔ آنکھوں میں نیند کے خمار کی جگہ اب وحشت ناک سرخی اتر آئی تھی۔
عائشہ گھر سے بھاگ گئی ہے۔” وہ دانت پیستے ہوئے دھاڑا، جبکہ اس کی سرخ آنکھوں سے بے بسی کے آنسو ٹپک رہے تھے۔”

“نہیں… وہ… میری بچی ایسا نہیں کر سکتی۔ وہ یہیں کہیں ہوگی۔”

،کمال صاحب نے کانپتے ہونٹوں کے ساتھ خود کو ایک جھوٹی تسلی دی اور تصدیق کے لیے پلٹنا چاہا، مگر فرحان کی آواز بجلی بن کر گری
“!وہ سارا زیور اور نقدی ساتھ لے کر گئی ہے ابو! وہ بھاگ گئی ہے ہمیں برباد کر کے”

کمال صاحب نے دکھ، بے بسی اور شدید حیرت سے فرحان کی طرف دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں پھیلی نمی ایک گہری ویرانی میں بدلتی گئی۔ وہ اپنے الجھے ہوئے ذہن سے اس قیامت کو سمجھنے کی کوشش کر ہی رہے تھے کہ صدمے کا وار سیدھا ان کے دل پر ہوا۔ ایک خنجر تھا جو ان کے سینے میں اتر گیا۔ ان کا ہاتھ بے ساختہ اپنے سینے کے بائیں جانب گیا، انہوں نے تکلیف سے پہلو دبایا اور اگلے ہی پل وہ کسی کٹے ہوئے درخت کی طرح دھڑام سے فرش پر گر پڑے۔

عائشہ کے فرار کا دکھ لمحوں میں ایک اور قیامت میں بدل گیا۔ سب دیوانہ وار کمال کی طرف بھاگے۔
ابو… ابو آنکھیں کھولیں!” فرحان تڑپ کر فرش پر بیٹھ گیا اور باپ کا سر اپنی گود میں رکھ لیا۔”
ہائے ہائے میرے سرتاج!” بلقیس بیگم دھاڑیں مارتی ہوئی ان کے پاس گریں اور پاگلوں کی طرح ان کی ٹھنڈی ہوتی ہتھیلیاں رگڑنے لگیں۔”

“!فرحان دھاڑیں مار کر رو رہا تھا، “خود کو سنبھالیں ابو… ہمت کریں

،رفعت نے کانپتے ہاتھوں سے فوراً موبائل اٹھایا اور کامران کو کال ملائی۔ جیسے ہی دوسری طرف سے کال اٹھی، ضبط کے سب بندھن ٹوٹ گئے
بھائی… جلدی ایمبولینس بھیجیں! ابو… ابو کو کچھ ہو گیا ہے بھائی!” اذیت اور صدمے سے اس کی آواز اس قدر رندھ چکی تھی کہ الفاظ سمجھنا مشکل ہو رہا تھا۔”

فرحان نے اچانک اپنے حواس پر قابو پایا، جیسے اندر کی کسی آواز نے اسے جھنجھوڑا ہو کہ رونے کا وقت نہیں۔

اس نے باپ کا سر نرمی سے فرش پر رکھا اور ان کے سینے پر اپنی ہتھیلیوں سے دباؤ ڈالنے لگا۔

“!ساتھ ہی وہ دیوانہ وار چیخ رہا تھا، “کوئی ایمبولینس بلاؤ! خدا کے لیے کوئی ایمبولینس بلاؤ

گھر سے اٹھنے والی اس آہ و بکا اور دل دہلا دینے والی چیخوں نے اڑوس پڑوس کے لوگوں کو بھی گھر کے باہر جمع کر دیا۔ کومل اور ایمان دیوار سے لگی رو رہی تھیں۔ جب گیٹ پر بھاری دستک ہوئی تو کومل اس موہوم سی امید پر گیٹ کی طرف بھاگی کہ شاید کوئی مسیحا آ گیا ہو۔

گھر میں کہرام مچا تھا اور محلے والے اندر جمع ہو چکے تھے۔ ہر طرف چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں۔ کچھ نوجوانوں نے ہمت کی اور کمال صاحب کے بے جان سے وجود کو چارپائی پر ڈال کر تیزی سے باہر کی طرف دوڑے۔ بس ایک ہی امید تھی کہ شاید زندگی کا کوئی ایک قیمتی لمحہ ابھی باقی ہو جو انہیں موت کے منہ سے کھینچ لے۔

دور سے آتی ایمبولینس کے سائرن کی آواز اب قریب ہو رہی تھی۔ شاید یہ سائرن، یہ بھاگ دوڑ، کمال صاحب کی سانسیں لوٹا دے… شاید موت انہیں کچھ مہلت دے دے… لیکن عائشہ نے اپنی بغاوت سے ان کی عزت کا جو جنازہ نکالا تھا، اس کا اب کوئی پلٹ نہیں تھا، اس کا اب اس دنیا میں کوئی مداوا نہیں تھا۔

°°°°°°°°°°

پھالیہ کی کچہری کے ایک بوسیدہ چیمبر میں، جہاں پرانی فائلوں کی بو اور قانون کی بے حسی دیواروں میں رچی بسی تھی، عائشہ کی زندگی کا سب سے بڑا موڑ ایک رسمی مہر کی صورت میں ثبت ہونے والا تھا۔ چیمبر کے اندر پنکھا اپنی پوری طاقت سے شور پیدا کر رہا تھا۔ میز کے گرد چند مخصوص چہرے موجود تھے۔
دو گواہ جن کی آنکھوں میں ہمدردی کے بجائے صرف اپنی دیہاڑی کا اطمینان تھا، ایک نکاح رجسٹرار جو کاغذات کو کسی مشینی آلے کی طرح پُر کر رہا تھا، اور ایک عمر رسیدہ امام صاحب جو اپنے سفید لبادے میں اس پورے عمل کو مقدس رنگ دینے کے لیے مدعو کیے گئے تھے۔

نکاح کی باقاعدہ رسم کا آغاز ہوا۔ پھر قول و اقرار کا مرحلہ آیا تو عائشہ کے لبوں سے نکلا ہوا “قبول ہے” کا لفظ اس کے اپنے کانوں میں کسی گرتی ہوئی چٹان کی طرح گونجا۔ امام صاحب نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے، نقیب نے پوری عقیدت سے آمین کہا، مگر عائشہ کے ہاتھ اس کے اپنے بوجھ سے اٹھ ہی نہیں پا رہے تھے۔

جیسے ہی نکاح نامے پر دستخط ہوئے، چیمبر میں ایک مصنوعی چہل پہل پیدا ہوگئی۔ وہاں موجود مرد حضرات نقیب کو مبارکباد دیتے ہوئے اسے گلے لگانے لگے، جیسے اس نے کوئی بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ وکیل کے میز پر پڑی سستی مٹھائی کے ڈبے کھلے اور سب اس سے لطف اندوز ہونے لگے۔ نقیب کی آنکھوں میں ایک فاتحانہ چمک تھی، مگر عائشہ اپنی کرسی پر کسی پتھر کے بت کی طرح ساکت بیٹھی تھی۔

آج پہلی بار تھا کہ عائشہ کو نقیب کے لمس اور اس کی قربت سے زیادہ اپنے وجود سے گھن آ رہی تھی۔ اسے نقیب کی وہ چاہت، جس کے لیے اس نے آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا، اب ایک بوجھل ندامت کے سامنے ماند پڑتی محسوس ہو رہی تھی۔ اس کے ذہن کے پردوں پر اس کے گھر کا نقشہ لہرا رہا تھا۔ اسے اپنے بابا کی وہ شفیق آنکھیں یاد آ رہی تھیں جن میں اس نے ہمیشہ خود کو ایک شہزادی کی طرح دیکھا تھا۔ اسے اپنی ماں کی وہ دعائیں یاد آ رہی تھیں جو شاید اس وقت بھی اس کی سلامتی کے لیے اٹھ رہی ہوں گی۔

ناجانے ان پر کیا بیت رہی ہوگی؟”

یہ خیال کسی زہریلی ناگن کی طرح اس کے جگر کو ڈس رہا تھا۔ اسے اپنے بھائیوں کے تنے ہوئے چہرے اور چھوٹی بہنوں کی سہم کر روتی ہوئی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔

“اسے احساس ہو رہا تھا کہ اس نے اپنی ایک خطا سے اس گھر کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔

نقیب نے جب دیکھا کہ عائشہ کہیں دور بھٹک رہی ہے، تو اس نے نہایت نرمی سے اس کے کندھے کو تھپکا۔ عائشہ نے ہڑبڑا کر نقیب کی طرف دیکھا، جس کے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکان رقص کر رہی تھی۔
“مبارک ہو عائشہ! آخر کار ہم تمام زنجیریں توڑ کر ایک ہو گئے۔ اب ہمیں کوئی جدا نہیں کر سکتا۔”

نقیب کے لہجے میں جوش تھا، مگر عائشہ کے لیے یہ الفاظ کسی تعزیت نامے سے کم نہیں تھے۔

اچھا…” عائشہ نے نہایت کھوئے ہوئے اور سپاٹ انداز میں جواب دیا، جیسے اس کی روح اس کے جسم کا ساتھ چھوڑ چکی ہو۔”

نقیب اس کی ذہنی کیفیت سے ناواقف نہیں تھا۔ وہ جانتا تھا کہ گھر کی دہلیز پار کرنے والی لڑکی جب پہلی بار قانون اور سماج کے کٹہرے میں کھڑی ہوتی ہے، تو وہ ایک شدید جذباتی صدمے کی زد میں ہوتی ہے۔ اس نے اسے مزید چھیڑنا مناسب نہیں سمجھا اور خاموشی سے وکیل کی طرف متوجہ ہو گیا۔

وکیل کا منشی اپنے موبائل کے کیمرے سے نکاح کے ہر منظر کو محفوظ کر رہا تھا۔ گواہوں، رجسٹرار اور امام صاحب کو ان کا ہدیہ دے کر رخصت کرنے کے بعد وکیل نے اپنی کرسی عائشہ کی طرف گھمائی۔ اس کے چہرے پر وہ پیشہ ورانہ ہمدردی تھی جو صرف بھاری فیس کے عوض خریدی جا سکتی ہے۔

“دیکھیے بی بی! آپ نے جو بھی کیا، وہ صحیح تھا یا غلط، اب اس بحث کا وقت گزر چکا ہے۔ اب آپ شریعت اور قانون کے مطابق نقیب کی بیوی ہیں۔”
وکیل نے خود ساختہ شریعت کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ذہنی طور پر مفلوج کرنے کی کوشش کی۔
“اب آپ کو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا۔ آپ کے سامنے پوری زندگی پڑی ہے، اور اس زندگی کو سکون سے گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم کچھ قانونی حفاظتی اقدامات کر لیں۔”

،عائشہ اور نقیب اب وکیل کے ہر لفظ کو کسی الہامی حکم کی طرح سن رہے تھے۔ وکیل نے ایک گہرا سانس لیا اور اپنی فائل پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا
ہمیں ابھی ایک ویڈیو پیغام جاری کرنا ہوگا، جس میں آپ دونوں یہ اعتراف کریں گے کہ آپ نے یہ نکاح اپنی مکمل مرضی اور خوشی سے کیا ہے۔”

“عائشہ بی بی! یاد رہے کہ صرف الفاظ کافی نہیں ہوں گے، آپ کے چہرے سے بھی خوشی اور اطمینان چھلکنا چاہیے تاکہ کل کو آپ کے گھر والے اغوا کا کیس نہ بنا سکیں۔

وکیل نے منشی کو اشارہ کیا، جس نے فوراً ایک نئی فائل نکالی۔ وکیل اپنی نشست سے اٹھ کر نقیب کے قریب آ بیٹھا تاکہ منظر نامہ مزید خوشگوار لگے۔
“دونوں اپنے چہروں پر تھوڑی رونق لائیں، مسکرائیں! ایسا لگنا چاہیے جیسے آپ دنیا کے خوش نصیب ترین جوڑے ہیں۔”

وکیل کی ہدایت پر عائشہ نے اپنے بھیگے ہوئے دل اور لرزتی ہوئی روح پر مصنوعی مسکان کا ایک بدصورت لبادہ اوڑھ لیا۔

،منشی نے ریکارڈنگ شروع کی۔ وکیل نے کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے باقاعدہ ڈرامائی انداز میں بولنا شروع کیا
“…آج ہم نے عائشہ دختر کمال احمد اور نقیب ولد… کو نکاح کے مقدس بندھن میں باندھا ہے”
وہ بولتا جا رہا تھا اور بیچ بیچ میں عائشہ سے سوالات کر رہا تھا جن کے جواب عائشہ نے کسی روبوٹ کی طرح دیے۔ ویڈیو ریکارڈ کرواتے وقت عائشہ کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ وہی لڑکی ہے جو چند منٹ پہلے ندامت کے بوجھ سے دبی جا رہی تھی۔ اس کے اندر کی عورت نے شاید بقا کی خاطر خود کو اس نئے سچ میں ڈھالنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اسے یہ تو پتا تھا کہ اس کے والدین پر قیامت ٹوٹے گی، مگر یہ گمان بھی نہیں تھا کہ اس کے ابو اس وقت موت کی دہلیز پر زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہوں گے۔

وکیل خوش تھا کیونکہ اسے اس ایک کیس سے بھاری رقم مل گئی تھی۔ امام صاحب بھی راضی خوشی رخصت ہوئے تھے کہ انہوں نے ایک جائز کام میں مدد دی تھی اور بدلے میں اچھا خاصا ہدیہ سمیٹا تھا۔ نکاح رجسٹرار اور گواہوں کے لیے یہ کوئی جذباتی معاملہ نہیں بلکہ ایک روزانہ کا دھندہ تھا، جہاں محبت اور غیرت کے جنازوں سے ان کا رزق وابستہ تھا۔ وہ سب خود کو یہ کہہ کر تسلی دے رہے تھے کہ انہوں نے کچھ غیر شرعی نہیں کیا، مگر ان سب کے ضمیر اس وقت سوئے ہوئے تھے جب ایک بوڑھے باپ کی دستار گلیوں میں رول دی گئی تھی۔

دنیا کے لیے یہ ہزاروں فرار کی داستانوں میں سے ایک عام سی کہانی تھی۔ کچہری کے رجسٹروں میں عائشہ اور نقیب کا نام محض ایک اندراج بن کر رہ گیا تھا، مگر اس گھر کا کیا جو اجڑ گیا تھا؟ اس عزت کا کیا جو دہائیوں کی مشقت سے کمائی گئی تھی اور ایک رات میں خاک ہو گئی؟

عائشہ نے تو نقیب کو پا لیا تھا، مگر اس کی قیمت اس کے پورے خاندان نے چکانی تھی۔ اس کے بھائی اب کبھی محلے میں سر اٹھا کر نہیں چل پائیں گے۔ اس کی ماں اب کسی خوشی کی تقریب میں نظریں ملانے کے قابل نہیں رہی تھی۔ مگر سب سے بڑا ظلم ان معصوم بہنوں پر ہوا تھا جن کا کوئی قصور نہیں تھا۔

اب معاشرے کی زہریلی زبانیں انہیں بھگوڑی کی بہنیں کہہ کر پکاریں گی۔

“!جب کبھی ان کے رشتوں کی بات چلے گی، تو لوگ حقارت سے کہیں گے، “خون تو ایک ہی ہے، جو بڑی نے کیا، چھوٹی بھی وہی کرے گی

عائشہ کی اس ایک رات کی خطا نے اس کی بہنوں کے مستقبل پر ایسا سیاہ دھبہ لگا دیا تھا جو شاید تین نسلوں کی پاکبازی سے بھی نہ دھل پائے۔ وہ گھر جو کل تک ایک محترم قلعہ تھا، آج ایک ایسا سوالیہ نشان بن چکا تھا جس کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔ عائشہ ابھی اس خمار میں تھی کہ عشق کی ہر منزل آسان ہوتی ہے، وہ نہیں جانتی تھی کہ جب جذبات کی گرد بیٹھتی ہے اور حقیقت کی سنگلاخ زمین پاؤں تلے آتی ہے، تو انسان کو احساس ہوتا ہے کہ اس نے محض ایک سائے کے پیچھے اپنی پوری کائنات جلا دی ہے۔

وکیل نے ویڈیو پیغام ریکارڈ کرنے کے بعد اطمینان سے موبائل منشی کے حوالے کیا۔

“اب یہ ویڈیو آپ کے والدین تک پہنچے گی تو وہ خود ہی خاموش ہو جائیں گے۔”

اس نے نقیب کی طرف دیکھ کر ایک معنی خیز مسکراہٹ دی، جبکہ عائشہ اب بھی اسی کرسی پر بیٹھی اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں اپنی بربادی کا نقشہ تلاش کر رہی تھی۔

°°°°°°°°°°

ہسپتال کی راہداری میں پھیلی ہوئی فینائل اور جراثیم کش ادویات کی مخصوص، تیکھی بو فضا میں ایک عجیب سی گھٹن پیدا کر رہی تھی۔ دونوں بھائی فرحان اور کامران، بے تابی اور اضطراب کے عالم میں فرش کی ٹائلیں ناپ رہے تھے، ان کے قدموں کی چاپ خالی راہداری میں ایک بھاری بوجھ کی طرح گونج رہی تھی۔
تھوڑے فاصلے پر لگی دھاتی بینچ پر بلقیس بیگم اور رفعت کسی ساکت تصویر کی طرح بیٹھی تھیں۔ بلقیس بیگم کی آنکھیں، جو کبھی ممتا کی چمک سے بھری رہتی تھیں، اب بنجر ہو چکی تھیں۔ ان کا دوپٹہ سر سے ڈھلک کر شانوں پر آ گرا تھا، مگر انہیں ہوش نہیں تھا۔ رفعت نے ان کا ہاتھ تھام رکھا تھا، مگر اس کے اپنے وجود میں ایک کپکپاہٹ تھی جو رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ ایک طرف آئی سی یو کے اندر کمال صاحب زندگی اور موت کی اس لکیر پر کھڑے تھے جہاں سے واپسی کا راستہ دھندلا رہا تھا، اور دوسری طرف گھر کی دہلیز کے باہر اس خاندان کی عزت کا جنازہ دھوم دھام سے نکل چکا تھا۔

یہ وہ کربناک لمحہ تھا جہاں انسان کی سکت جواب دے جاتی ہے۔ خاندان کے ہر فرد کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ ابھی اسی لمحے گھٹنوں کے بل گریں، اپنا سر فرش پر پٹخیں اور دھاڑیں مار مار کر سب سے سے پوچھیں کہ ان کی پاکیزہ زندگیوں میں یہ ناپاک موڑ کیوں آیا؟ ان کا قصور کیا تھا؟ جس بیٹی کو آنکھوں کا تارا بنا کر پالا، اسی نے ان کی آنکھوں میں ذلت کی راکھ کیوں بھر دی؟ یہ درد کسی جسمانی چوٹ کا محتاج نہیں تھا، یہ روح کے اندر پیوست ہونے والا وہ زخم تھا جس کا مداوا شاید وقت کے پاس بھی نہیں تھا۔

وہ سب اذیت کی اس اتھاہ گہرائی میں غرق تھے کہ اچانک آئی سی یو کا بھاری دروازہ ایک چرچراہٹ کے ساتھ کھلا۔ ایک ڈاکٹر دو نرسوں کے ساتھ باہر نکلا۔ اس کے چہرے پر تھکن کے آثار تھے، مگر آنکھوں میں ایک پیشہ ورانہ اطمینان تھا۔ اس نے کچھ ہدایات نرسوں کو دیں اور پھر سیدھا کامران کی طرف بڑھا۔ نرسیں فائلوں سمیت رخصت ہو چکی تھیں، اب ڈاکٹر کامران اور فرحان کے عین سامنے کھڑا تھا۔

:ڈاکٹر نے پہلے کامران کو دیکھا، پھر اس کی نظریں فرحان پر ٹک گئیں۔ اس کے لہجے میں تحسین اور حیرت کا امتزاج تھا
“دیتے رہے۔(CPR)مجھے میرے اسٹاف نے بتایا کہ جب آپ کے والد صاحب کو ہارٹ اٹیک ہوا، تو آپ نے ایمبولینس کے انتظار میں وقت ضائع نہیں کیا بلکہ مسلسل انہیں سی پی آر”

،ڈاکٹر نے فرحان کے کندھے پر ہاتھ رکھا

مجھے واقعی خوشی ہے کہ اس ہولناک ہنگامی صورتحال میں بھی آپ نے اپنے حواس برقرار رکھے۔”

“سچ تو یہ ہے کہ اگر آپ بروقت اور درست طریقے سے انہیں سی پی آر نہ دیتے، تو ان کا دل دوبارہ دھڑکنے کے قابل نہ رہتا۔ ہم انہیں نہ بچا پاتے۔

فرحان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، مگر وہ خاموش رہا۔
،ڈاکٹر صاحب! اب ہمارے ابو کیسے ہیں؟” کامران نے پوچھا”

وہ اب خطرے سے باہر ہیں،” ڈاکٹر کے ان الفاظ نے فضا میں جمی برف کو جیسے پگھلا دیا۔”

“…اگلے چند گھنٹوں تک وہ گہری بے ہوشی میں رہیں گے۔ یہ ان کے دل کی صحت کے لیے ضروری ہے۔ جب وہ ہوش میں آئیں گے، تو آپ ان سے مل سکتے ہیں۔ لیکن”
،ڈاکٹر نے اچانک سنجیدہ ہو کر دونوں بھائیوں کو باری باری دیکھا
ایک بات پتھر پر لکیر سمجھ لیں۔ انہیں یہ دورہ کسی شدید صدمے کی وجہ سے پڑا ہے۔ ان کا دل اب بہت کمزور ہے۔”

اب سے ان کی زندگی میں کسی بھی قسم کے تناؤ یا صدمے کی گنجائش نہیں ہے۔

“اگر خدانخواستہ انہیں دوبارہ کسی ایسی بات کا علم ہوا جس سے ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچی، تو اگلی بار قدرت شاید ہمیں دوسرا موقع نہ دے۔

دونوں بھائیوں نے مشین کی طرح سر ہلا دیا۔ وہ ڈاکٹر کو یہ سچ کیسے بتاتے کہ جس صدمے نے کمال صاحب کو اس بستر تک پہنچایا ہے، وہ ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ اس کا زہر اب پورے خاندان کی رگوں میں دوڑ رہا ہے۔ جس رسوائی کی آگ میں وہ جل رہے تھے، اس سے ابو کو بچا کر رکھنا اب ان کے لیے زندگی کا مشکل ترین امتحان تھا۔

ڈاکٹر ایک ہمدردانہ مسکان کے ساتھ رخصت ہو گیا، مگر کامران اور فرحان وہاں کسی زندہ لاش کی طرح کھڑے رہ گئے۔ ان کے سامنے ہسپتال کی چمکتی ٹائلیں اب انہیں اپنی بربادی کا آئینہ دکھا رہی تھیں۔

،کافی دیر کی بوجھل خاموشی کے بعد، فرحان نے ہمت مجتمع کی اور نظریں زمین میں گاڑے ہی کامران سے پوچھا
“بھائی… کیا عائشہ کے بارے میں کوئی خبر ملی؟”

کامران نے ایک لمبی اور گرم سانس لی۔

میں نے اس لڑکے، نقیب کا مکمل ریکارڈ محلے کے چیئرمین صاحب کو دے دیا تھا۔ وہ پولیس اور اپنے ذرائع سے جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔”

“انہوں نے شام کو بلایا ہے، ہم یہاں سے سیدھا پھالیہ اس کے گاؤں جائیں گے۔

،ہممم…” فرحان نے مٹھیاں بھینچ لیں”

وہ لڑکا ایک شاطر اور عادی مجرم ہے۔ اسے معلوم ہے کہ میں اس کے ماضی سے واقف ہوں۔”

“وہ کبھی اپنے اصلی گھر نہیں جائے گا۔ وہ جانتا ہے کہ میں اسے زمین کھود کر بھی نکال لوں گا۔

اس کا خاندان تو وہیں ہوگا نا؟” کامران کے لہجے میں اب وہ درندگی آ گئی تھی جو ایک غیور بھائی میں پیدا ہوتی ہے۔”

“اگر ضرورت پڑی، تو اس حرام خور کے پورے خاندان کو تھانے کے لاک اپ میں گھسیٹ لائیں گے۔ تب دیکھتے ہیں وہ کہاں چھپتا ہے۔”

فرحان ابھی کچھ اور کہنے ہی والا تھا کہ اس کی جیب میں موجود موبائل نے دو بار لرز کر بیپ کی۔ اس نے بے خیالی میں موبائل نکالا، مگر لاک اسکرین پر موجود واٹس ایپ نوٹیفکیشن دیکھ کر اس کے سینے میں جیسے کوئی چیز ٹوٹ گئی۔ عائشہ کے نمبر سے دو ویڈیوز موصول ہوئی تھیں۔

فرحان کے ہاتھ لرزنے لگے۔ اس نے نوٹیفکیشن پر کلک کیا، تو سامنے دونوں ویڈیوز ڈاؤن لوڈ ہو رہی تھیں۔ ایک ویڈیو کا تھمب نیل بتا رہا تھا کہ پسِ منظر میں کچھ لوگ موجود ہیں اور عائشہ کے سر پر عروسی دوپٹہ ہے۔ یہ اس کے نکاح کی باقاعدہ دستاویز تھی۔ دوسری ویڈیو میں نقیب، عائشہ اور ایک شخص، جو وکیل معلوم ہوتا تھا، ایک ہی فریم میں تھے۔

بھائی… ایک منٹ، میں بس ابھی آیا۔” فرحان نے کامران سے نظریں چرا کر تھوڑی دوری اختیار کی۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی ماں یا بھائی اس تذلیل کو لائیو دیکھیں۔”
کافی دور جا کر، جہاں راہداری ختم ہوتی تھی، اس نے موبائل کی آواز بالکل دھیمی کی اور پہلی ویڈیو پلے کی۔ اس کے انگ انگ میں غصہ لاوے کی طرح دہکنے لگا۔ ویڈیو میں نکاح کی رسم چل رہی تھی۔ وہی عائشہ جو کل تک ابو کے پاؤں دبا رہی تھی، آج ایک اجنبی کے نام کا کلمہ پڑھ رہی تھی۔ فرحان نے ویڈیو تیزی سے آگے بڑھائی، اس کا جی چاہ رہا تھا کہ موبائل دیوار پر پٹخ دے۔
پھر اس نے دوسری ویڈیو کھولی۔ اس ویڈیو نے اس کے صبر کا آخری بندھن بھی توڑ دیا۔ اسکرین پر عائشہ کا چہرہ واضح تھا۔ اس کے چہرے پر پچھتاوے کا کوئی سایہ نہیں تھا، بلکہ ایک مصنوعی اور زہریلی مسکان رقص کر رہی تھی۔

،وہ بڑے فخر سے اقرار کر رہی تھی کہ اس نے اپنی مرضی اور ہوش و حواس میں نقیب سے نکاح کیا ہے، اور پھر اس نے وہ جملہ کہا جس نے فرحان کی روح کو چھلنی کر دیا
“اگر مجھے یا میرے شوہر نقیب کو کوئی بھی جانی یا مالی نقصان پہنچا، تو اس کے ذمہ دار میرے بھائی فرحان اور کامران ہوں گے۔”
فرحان کا پورا وجود کانپنے لگا۔ اس کے کان سرخ ہو گئے اور آنکھوں سے غصے کے آنسو بہنے لگے۔
،برداشت کی تمام حدیں پامال ہو چکی تھیں۔ فرحان نے وہیں واٹس ایپ کا مائیکروفون دبایا اور ریکارڈنگ شروع کی۔ اس کی آواز غصے، دکھ اور نفرت کا ملغوبہ تھی
عائشہ! لعنت ہے تم پر اور تمہارے پیدا ہونے پر! تم نے صرف ہماری غیرت کا جنازہ نہیں نکالا، اپنے بوڑھے باپ کو بھی موت کی دہلیز پر لا کھڑا کیا ہے۔”

تمہاری وجہ سے ابو کو ہارٹ اٹیک آیا ہے اور وہ اس وقت ایمرجنسی میں ہیں۔ اگر میرے ابو کو کچھ بھی ہوا، تو خدا کی قسم میں تم دونوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا۔

“!میں نقیب کے پورے خاندان کو نشانِ عبرت بنا دوں گا۔ تم نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا عائشہ… کہیں کا نہیں چھوڑا
بولتے بولتے فرحان کا لہجہ بھرّا گیا، اس کی آواز میں ایک ایسی کراہ تھی جو کسی مرد کے ٹوٹنے کی آواز ہوتی ہے۔ اس نے انگلی ہٹائی اور وائس نوٹ بھیج دیا۔

وہ چند لمحات وہیں دیوار سے ٹیک لگائے ساکت کھڑا رہا۔ ہسپتال کی وہ سفید دیوار اسے اپنی بے بسی کا طعنہ دے رہی تھی۔ اس نے ایک لمبا سانس لیا، آنکھیں صاف کیں اور دل پر پتھر کی پوری چٹان رکھتے ہوئے، وہ دوبارہ اپنے بھائی اور ماں کی طرف پلٹ گیا۔

°°°°°°°°°°

…جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *