پیٹرول کی قیمتیں

یہ جو لوگ پیٹرول کی قیمتیں آسمان سے جا کر چھونے کا سبب بنتے ہیں، یہ بے درد اور بے حس افراد حقیقت میں خود تو آرام اور عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ ان کے لیے پیٹرول، بجلی، گیس اور دیگر سہولیات مفت میں میسر ہوتی ہیں، لیکن اس کا سارا بوجھ غریب عوام کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ لوگ سرکاری خزانے سے تنخواہیں تو وصول کرتے ہیں، لیکن ان کے لیے مہنگائی اور لوٹ کھسوٹ کا کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے عام شہریوں کی طرح تنخواہ کے محتاج نہیں ہیں، بلکہ ان کے پاس ہر سہولت موجود ہے۔ اس لیے انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ عوام پر کیا گزرتی ہے۔ ان کی نظر میں تو عوام محض ایک مشین ہے، جسے چلانا اور استعمال کرنا ان کا حق ہے۔

پچھلے کچھ دنوں سے ہمیں انڈیا، چائنا اور جاپان کی مثالیں دے کر یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ ان ممالک میں بھی پیٹرول اسی آبنائے ہرمز سے آتا ہے، لیکن وہاں قیمتیں راتوں رات نہیں بڑھتیں۔ ان ممالک میں عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ ہمارے ہاں جیسے ہی کوئی موقع ملتا ہے، مہنگائی کی آگ بھڑکا دی جاتی ہے۔ قدرتی آفات ہوں یا معاشی بحران، ہمارے ملک کی اشرافیہ ہر موقع پر عوام کی جیب کاٹنے کا کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈ ہی لیتی ہے۔ ان کے نزدیک عوام کی مجبوریاں ان کی اپنی خوشحالی کا ذریعہ ہیں۔

لیکن اس سب سے بڑھ کر جو چیز مجھے پریشان کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ اگر حالات کبھی معمول پر بھی آ جائیں، تو بھی ہمارے ملک میں پیٹرول کی قیمتیں کم نہیں ہوں گی۔ وہ ہمیشہ اونچی رہیں گی، کیونکہ یہ لوگ جانتے ہیں کہ عوام کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔ عوام کو ہر ظلم و ستم کو خاموشی سے برداشت کرنے کی عادت ڈال دی گئی ہے۔ وہ مہنگائی، لوٹ کھسوٹ اور استحصال کے خلاف آواز اٹھانے سے قاصر ہیں، کیونکہ ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بے حس عناصر ہر بار عوام کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور انہیں مزید محرومیوں کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔

ساجدہ اصغر آرائیں ✍🏼